100. Surah Al-Aadiyaat

العادياتThe Chargers · 11 ayahsروح القرآن

Ayahs 100:1–5

وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًاۙ Open ayah 100:1 in the Quran reader

قسم ہے تیز دوڑنے والے گھوڑوں کی، جب وہ سینہ سے آواز نکالتے ہیں

فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًاۙ Open ayah 100:2 in the Quran reader

پھر ٹاپوں کی ٹھوکر سے چنگاریاں نکالتے ہیں

فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًاۙ Open ayah 100:3 in the Quran reader

پھر اچانک صبح کے وقت حملہ کرتے ہیں

فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًاۙ Open ayah 100:4 in the Quran reader

پھر اس موقع پر گردوغبار اڑاتے ہیں

فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًاۙ Open ayah 100:5 in the Quran reader

پھر اسی حالت میں دشمن کے لشکر میں جا گھستے ہیں

وَالْعٰدِیٰتِ ضَبْحًا۔ فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًا۔ فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًا۔ فَاَثَرْنَ بِہٖ نَقْعًا۔ فَوَسَطْنَ بِہٖ جَمْعًا۔ (العٰدیٰت : 1 تا 5) (قسم ہے تیز دوڑنے والے گھوڑوں کی، جب وہ سینہ سے آواز نکالتے ہیں۔ پھر ٹاپوں کی ٹھوکر سے چنگاریاں نکالتے ہیں۔ پھر اچانک صبح کے وقت حملہ کرتے ہیں۔ پھر اس موقع پر گردوغبار اڑاتے ہیں۔ پھر اسی حالت میں دشمن کے لشکر میں جا گھستے ہیں۔ ) پانچ قسموں کا مفہوم آیات میں صفات کا ذکر کیا گیا ہے، موصوف کا نہیں۔ یعنی یہ بات واضح نہیں کی گئی کہ یہ صفات کن کی ہے۔ گھوڑوں کی ہیں یا اونٹوں کی۔ اس لیے مفسرین کے درمیان اختلاف ہوا ہے کہ ان صفات کے موصوف کون ہیں۔ صحابہ اور تابعین میں سے ایک گروہ نے اس سے گھوڑے مراد لیے ہیں۔ جبکہ ایک دوسرا گروہ اس سے اونٹ مراد لیتا ہے۔ لیکن آیات کے الفاظ اس بات پر دلالت نہیں کرتے کہ اس سے اونٹ مراد لیے جائیں۔ کیونکہ پہلی ہی آیت میں عادیات کی جس خوبی کو ذکر کیا گیا ہے اسے ضَبْحٌ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور ضبحاس خاص آواز نکالنے کو کہتے ہیں جو گھوڑے ہانپتے ہوئے اپنے نتھنوں سے نکالتے ہیں۔ یہ آواز ہنہنانے وغیرہ سے بالکل جدا ہوتی ہے۔ ہانپنے کا یہ خاص انداز گھوڑوں کا ہے، اونٹوں کا نہیں۔ اس لیے ابن جریر نے کہا کہ دونوں اقوال میں سے یہ قول ہی قابل ترجیح ہے کہ دوڑنے والوں سے مراد گھوڑے ہیں کیونکہ اونٹ ضبح نہیں کرتا، گھوڑا ہی ضبح کیا کرتا ہے۔ اور امام رازی فرماتے ہیں کہ ان آیات کے الفاظ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ مراد گھوڑے ہیں کیونکہ ضبح کی آواز گھوڑے کے سوا کسی سے نہیں نکلتی۔ فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًا … مُوْرِیَتِ ، اِیْرَاء سے ہے۔ پتھر سے آگ نکالنے کو ایراء کہتے ہیں۔ قَدْحٌ … دو سخت چیزوں کا آپس میں ٹکرانا، جس سے چنگاریاں جھڑتی ہیں۔ گھوڑے جب رات کے وقت دوڑتے ہیں، گھوڑوں کے چونکہ آہنی نعل ہوتے ہیں تو ان کی سموں کی ٹھوکر سے چنگاریاں جھڑتی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ اپنے مالکوں کی رضاجوئی میں آگ کے انگاروں پر دوڑ رہے ہیں۔ فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًا … مُغِیْرٰتِ ، اَغَارَ سے ہے۔ کسی پر اچانک حملہ کردینا۔ اہل عرب کا قاعدہ تھا کہ جب کسی بستی پر انھیں چھاپہ مارنا ہوتا تو وہ رات کے اندھیرے میں چل کر جاتے تاکہ دشمن خبردار نہ ہوسکے۔ صُبْحًاکی قید سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ وہ لوگ رات بھر دشمن قبیلے کی طرف سفر کرتے اور پھر صبح کے وقت شب خون مارتے، تاکہ صبح کی روشنی میں ہر چیز نظر آسکے۔ اور ویسے بھی صبح کے وقت کی نیند گہری ہوتی ہے، اچانک حملہ صبح کے وقت زیادہ تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ فَاَثَرْنَ بِہٖ نَقْعًا … یہ اثارۃ سے ہے۔ اس کا معنی ہے اٹھانا اور ابھارنا۔ نَقْعًا غبار کو کہتے ہیں۔ بِہٖ میں ضمیر کا مرجع صُبْحًا کو قرار دیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جب وہ صبح کو غارت گری کرتے ہیں تو اس وقت وہ گردوغبار کا طوفان اٹھا دیتے ہیں۔ فَوَسَطْنَ بِہٖ جَمْعًا … جَمْعٌ کا معنی ہے جتھہ، انبوہ، لشکر۔ اس میں ضمیر کا مرجع نَقْعًا ہے۔ یعنی وہ اسی آندھی اور طوفان کے ساتھ دشمن کے انبوہ اور لشکر میں گھس جاتے ہیں۔ انھیں نہ دشمن کی افرادی قوت کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ ان کے اسلحہ کی۔ وہ اپنے مالک کی خوشنودی کے لیے ہر خطرے سے لڑ جاتے ہیں۔
Ayahs 100:6–7

اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ Open ayah 100:6 in the Quran reader

بیشک انسان اپنے رب کا نہایت ناشکرا ہے

وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌۚ Open ayah 100:7 in the Quran reader

اور وہ خود اپنے رویئے پر گواہ ہے

اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّہٖ لَـکَنُوْدٌ۔ وَاِنَّـہٗ عَلٰی ذٰلِکَ لَشَھِیْدٌ۔ (العٰدیٰت : 6، 7) (بیشک انسان اپنے رب کا نہایت ناشکرا ہے۔ اور وہ خود اپنے رویئے پر گواہ ہے۔ ) یہ ہے جوابِ قسم جس کے اثبات کے لیے قسمیں کھائی گئی ہیں یہ ہے وہ جوابِ قسم، یعنی وہ اصل بات جس پر گزشتہ قسمیں کھائی گئی ہیں۔ اور قسموں کے الفاظ گواہی دیتے ہیں کہ ان سے مراد اہل عرب کے وہ وفادار، جانثار اور فداکار گھوڑے ہیں جو اپنے مالک کا حقِ اطاعت و خدمت ادا کرتے ہوئے اس قدر تیز رفتاری کے ساتھ اپنے ہدف کی طرف بڑھتے ہیں کہ ان کے سینوں اور ان کے نتھنوں سے تیز سانس کی آوازیں نکلتی ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہایت تیز رفتاری کے ساتھ ہانپتے ہوئے جان دے دیں گے لیکن مقصد کو پورا کیے بغیر ٹلیں گے نہیں۔ اور اس تیز رفتاری میں نہایت تیزی سے جب ان کے قدم پتھریلی زمین پر پڑتے ہیں تو ان کے سموں کی ٹھوکر سے چنگاریاں جھڑتی ہیں۔ اور غارت گری کا چونکہ سب سے موزوں وقت صبح کا وقت ہوتا ہے تو وہ بغیر کہیں سستائے صبح کے وقت دشمن پر دھاوا بول دیتے ہیں۔ ان کی اس تیز رفتاری سے اس قدر غبار اڑتا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ غبار کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے اور ساری فضاء گردوغبار میں اٹ گئی ہے۔ اور وہ بےخوف و خطر دشمن کی صفوں میں گھس جاتے ہیں اور ان کو تہ وبالا کر کے رکھ دیتے ہیں۔ گھوڑوں کی اپنے مالک کے لیے ان وفاداریوں، جانثاریوں اور فداکاریوں کو بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ انسان اپنے رب کا بہت ناشکرا ہے۔ سوال یہ ہے کہ گھوڑوں کی ان صفات سے یہ بات کیسے ثابت ہوجاتی ہے کہ انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ سرسری نگاہ میں تو یہ بات شاید ذہن میں نہ آئے۔ لیکن اگر آپ تدبر کی نگاہ سے دیکھیں تو آپ محسوس کریں گے کہ انسان کو نہایت عملی انداز میں ایک بات سمجھائی جارہی ہے کہ جن مالکوں کی خاطر گھوڑے نہ اپنی جان کی پرواہ کرتے ہیں اور نہ اپنی صحت کی۔ نہ انھیں اپنی نیند عزیز ہے اور نہ آرام۔ وہ اپنے مالکوں کی مخلوق نہیں۔ انھیں اپنے مالکوں سے صرف بھوسہ اور دانہ کھانے کو ملتا ہے اور پانی کے چند گھونٹ پینے کو۔ اور وہ اس کے بدلے میں اظہارِتشکر اور اظہارِ ممنونیت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردیتے ہیں۔ لیکن انسان جو اپنے اللہ کی مخلوق بھی ہے اور مملوک بھی۔ اور وہ اس کا مربوب بھی ہے اور ممنون بھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر وہ عنایات کی ہیں جو کسی اور مخلوق پر نہیں کیں۔ اور اسے ان نعمتوں سے نوازا ہے کہ دوسری مخلوقات جن کا تصور بھی نہیں کرسکتیں۔ باایں ہمہ اس کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے ساتھ نہ جانے کس کس کو شریک کرتا ہے۔ وہ اس سے نعمتیں حاصل کرتا ہے لیکن اس کا حق ادا کرنے کے بارے میں سوچنے کی بھی زحمت نہیں کرتا۔ نعمتوں کی ناقدری اور احسانات کی طرف سے بےنیازی اس کا معمول ہے۔ اس نے بیشمار آستانے بنا رکھے ہیں جہاں وہ اس سر کو جھکاتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے عظمت دے رکھی ہے۔ وہ اپنے جیسے انسانوں کی اطاعت کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے جی بھی چراتا ہے اور انکار بھی کرتا ہے۔ ایسے انسان کے بارے میں مذکورہ قسموں سے استشہاد کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ انسان اپنے رب کا بہت ناشکرا ہے۔ سر اس کو کسی نے دیا ہے، جھکتا کسی کے سامنے ہے۔ عقل کسی اور کی دین ہے لیکن خدمت کسی اور کی بجالاتی ہے۔ اسے جسمانی توانائیاں اور ذہنی رعنائیاں کسی اور نے بخشی ہیں، لیکن صرف کسی اور کی خدمت میں ہورہی ہیں۔ اور اس کے لیے کہیں سے دلیل لانے کی ضرورت نہیں، انسان اگر خود اپنا مراقبہ اور احتساب کرے تو خود اس کا اپنا وجود، اپنا چلن اور اپنا رویہ اس بات کی گواہی کے لیے کافی ہے کہ وہ اپنے رب کا ناشکرا ہے۔
Ayah 100:8

وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 100:8 in the Quran reader

اور بیشک وہ مال و دولت کی محبت میں بڑا سخت ہے

وَاِنَّـہٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ۔ (العٰدیٰت : 8) (اور بیشک وہ مال و دولت کی محبت میں بڑا سخت ہے۔ ) انسان کی اصل بیماری کا ذکر اس آیت کریمہ میں انسان کی اصل بیماری کی نشاندہی فرمائی گئی ہے۔ اور انسان کی ناشکرگزاری پر دلیل بھی قائم کی گئی ہے کہ انسان کی اصل بیماری یہ ہے کہ وہ خیر کی محبت میں بری طرح مبتلا ہے۔ خیر سے مراد یہاں نیکی اور بھلائی نہیں بلکہ مال و دولت ہے۔ یہ لفظ ان دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ البتہ اس بات کا تعین کہ کب وہ کس معنی میں استعمال ہوتا ہے سیاق وسباق سے کیا جاتا ہے۔ اس آیت کے سیاق وسباق سے خود ہی ظاہر ہورہا ہے کہ اس میں خیر مال و دولت کے معنی میں ہے، نیکی اور بھلائی کے معنی میں نہیں۔ اور بلاشبہ یہی ناشکرگزار انسان کی اصل بیماری ہے۔ آپ گناہوں کے اسباب تلاش کریں یا مظالم کی وجوہ ڈھونڈیں بندہ و آقا کی کشمکش کا سبب معلوم کریں یا ملک اور قوموں کے بگاڑ کے اسباب کا کھوج لگائیں۔ یا دین اور ضمیر کے کاروبار کا احوال معلوم کریں تو آپ کو ہر ایک کے پیچھے درہم و دینار کی محبت کارفرما دکھائی دے گی۔ اس کے مقابلے میں نہ دوستی ٹھہرتی ہے، نہ اخوت کا رشتہ باقی رہتا ہے۔ تمام تعلقات تمام دوستیاں تمام رشتہ داریاں دولت کے طلسم ہوشربا کے سامنے بےمعنی ہو کر رہ جاتی ہیں۔ جب تک انسان کے دل میں مال و دولت کی محبت کم نہیں ہوتی اور اس کا اصل مقام اسے نہیں ملتا اور اس کی اصل حیثیت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی جاتی اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی کبریائی، رسول سے محبت، دین کی حرمت اور انسانی اقدار کی بقاء کا سامان ممکن نہیں۔ انسان جسے اشرف المخلوقات بنایا گیا ہے اور جسے جو ہر عقل سے نوازا گیا ہے اس کے اندر جنگی گھوڑوں جیسی خوبیاں پیدا نہیں کی جاسکتیں، جب تک اس کے محبت کے رشتوں میں فرقِ مراتب قائم نہیں کیا جائے گا۔ اور اس بات کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا کہ کون سا وہ اصل رشتہ ہے جس کی گہری مناسبت اور جس کی حرمت ہمیشہ کے لیے باقی رہنے والی ہے۔ وہ کون سا آستانہ ہے جس پر سب رشتوں کو جھکنا اور سب کو قربان ہونا ہے۔ تو جو لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے ناشکرگزار ہیں ان کی ناشکرگزاری کا سبب اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ سیم و زر اور درہم و دینا رکی محبت میں حدود سے گزر گئے ہیں۔
Ayahs 100:9–10

اَفَلَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِۙ Open ayah 100:9 in the Quran reader

تو کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا جب نکال لیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے

وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِۙ Open ayah 100:10 in the Quran reader

اور ظاہر کردیا جائے گا جو کچھ سینوں میں ہے

اَفَلاَ یَعْلَمُ اِذْا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِ ۔ وَحُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِ ۔ (العٰدیٰت : 9، 10) (تو کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا جب نکال لیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے۔ اور ظاہر کردیا جائے گا جو کچھ سینوں میں ہے۔ ) سیم و زر سے محبت کرنے والوں کو تنبیہ سیم و زر کی حد سے بڑھی ہوئی محبت کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنے انجام کو بھول جاتا ہے۔ اسے فکر ہر وقت اپنے سیم و زر اور درہم و دینار کی رہتی ہے۔ اسے لوگوں سے اور بعض دفعہ خدا سے بھی چھپانے کے لیے زمین کے نیچے دفن کردیتا ہے اور کبھی اور کسی طرح کے پردوں میں چھپا کر رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسے یہ ہرگز گمان تک نہیں ہوتا کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں اسے کوئی جانتا بھی ہے۔ اور وہ دولت کی محبت میں ایسا اندھا ہوتا ہے کہ اسے یہ کبھی خیال نہیں گزرتا کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ جو کچھ قبروں میں ہے سب کچھ اگلوا لیا جائے گا۔ یعنی مرے ہوئے انسان جہاں جس حالت میں بھی پڑے ہوں گے ان کو زندہ انسانوں کی شکل میں نکالا جائے گا۔ لیکن اس سے پہلے مال و دولت سے گہری محبت پر تنقید کی گئی ہے اس سیاق کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس سے دفینے بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ یعنی جس طرح مردوں کو زندہ کرکے قبروں سے نکالا جائے گا اسی طرح دفینوں کو بھی زمین سے نکالا جائے گا۔ پھر ان دفینوں کا جائزہ لے کر واضح کردیا جائے گا کہ اس میں کن کن لوگوں کے حقوق دفن کیے گئے تھے۔ اعمال کے محرکات کا بھی حساب ہوگا اور دوسری آیت میں مزید فرمایا گیا کہ دفینوں کی طرح سینوں کے سارے راز بھی اگلوائے جائیں گے۔ انسانوں کے اعمال بھی اکٹھے کیے جائیں گے اور ان کے باطنی محرکات کو بھی جانچ پڑتال کے لیے کھول دیا جائے گا۔ دلوں میں جو برے ارادے پلتے رہے، فاسد نیتیں پروان چڑھتی رہیں اور خیالات و افکار کا بگاڑ پنپتا رہا، ہر چیز کھول کر سامنے رکھ دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ صرف ظاہر کو دیکھ کر نہیں کیا جائے گا بلکہ ہر عمل کے پیچھے اور ہر ارادے کے پس منظر میں اور خیالات و افکار کے بگاڑ کے اسباب میں گہری نظر سے جانچ پڑتال کی جائے گی۔ تب پروردگار کی طرف سے فیصلہ صادر ہوگا، جس میں اعمال کے ظاہر پر گرفت باطن کے تجزیئے کے بعد ہوگی۔ اور یہ تجزیاتی قوت جسے تحصیل کہا گیا ہے صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے۔ کسی انسان اور کسی عدالت کے بس کی بات نہیں۔ لادینی قوانین اگرچہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کسی شخص کو اس کے ظاہری فعل کی بنا پر سزا نہ دی جائے بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ اس نے کس نیت سے وہ فعل کیا ہے۔ لیکن دنیا کی کسی عدالت کے پاس وہ ذرائع نہیں ہیں جن سے وہ نیت کی ٹھیک ٹھیک تحقیق کرسکیں۔ انسان کی کمزوری یہ ہے کہ وہ اپنے ہر عمل کا جواز پیدا کرنے کے لیے بہتر سے بہتر محرک کی تلاش میں رہتا ہے جس سے وہ اپنے ضمیر کو بھی مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے اور دوسروں کی رائے کو اپنے خلاف ہونے سے روکتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں انسان کی اسی کمزوری اور ہوشیاری کی طرف توجہ دلاتے ہوئے شاطر انسانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے اعمال کے ریکارڈ کے ساتھ ساتھ ان کے محرکات کا سارا ریکارڈ بھی ان کے اور ان کے رب کے سامنے ہوگا۔
Ayah 100:11

اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۠ Open ayah 100:11 in the Quran reader

بیشک ان کا رب اس روز ان سے خوب باخبر ہوگا

اِنَّ رَبَّھُمْ بِھِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۔ (العٰدیٰت : 11) (بیشک ان کا رب اس روز ان سے خوب باخبر ہوگا۔ ) اللہ تعالیٰ کا علم حدودوقیود سے ماوراء ہے اعمال اور محرکات کے ریکارڈ کے سلسلے میں کسی کو یہ خیال نہ گزرے کہ محرکات کا دارومدار عموماً اندازوں پر ہوتا ہے، اور اندازوں میں غلطی کا ہر وقت امکان رہتا ہے۔ ممکن ہے قیامت کے دن بھی کوئی شخص اندازوں کی غلطی سے کسی برے انجام سے دوچار ہوجائے۔ اس پر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ قیامت کے دن ایسی کسی غلطی کا امکان نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ آج بھی لوگوں کے اعمال اور ان کے محرکات سے پوری طرح باخبر ہے اور قیامت کے دن بھی باخبر ہوگا۔ اس لیے وہاں محرکات کی تحقیق اندازوں کی بنیاد پر نہیں، علم کی بنیاد پر ہوگی۔ البتہ آج اور قیامت میں فرق یہ ہے کہ آج یعنی دنیا میں ہر چیز کو آشکارا کرنا اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے۔ اور قیامت کے دن اس کی حکمت اور عدل کا تقاضا ہوگا کہ ہر چیز کو نمایاں کرکے سامنے رکھ دیا جائے، تاکہ عمل کرنے والا اور دوسرے لوگ بھی جان لیں کہ ان کے بارے میں جو فیصلہ کیا جارہا ہے وہ انصاف کے مطابق اور مبنی برحق ہے۔