101. Surah Al-Qaari'a

القارعةThe Calamity · 11 ayahsروح القرآن

Ayah 101:1

اَلْقَارِعَةُۙ Open ayah 101:1 in the Quran reader

کھٹکھٹانے والی

اَلْقَارِعَۃُ ۔ (القارعۃ : 1) (کھٹکھٹانے والی۔ ) یہ قیامت کے ناموں میں سے ہے، اس کی وضاحت قیامت کے مختلف ناموں میں سے، یہ بھی ایک نام ہے۔ اس کا معنی ہے ٹھونکنے والی، کھٹکھٹانے والی، کھڑکھڑا ڈالنے والی۔ یہ لفظ قرع سے بنا ہے۔ قرع الباب کا معنی ہوتا ہے، اس نے دروازے کو ٹھونکا یا کھٹکھٹایا۔ اس نام سے تین تصورات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔ 1 جس طرح اچانک آنے والا مہمان آکر دروازہ کھٹکھٹاتا ہے، اسی طرح قیامت اچانک آئے گی۔ اسی لیے اس کے آنے کا کوئی وقت نہیں بتایا گیا۔ کچھ معلوم نہیں کہ وہ کب آدھمکے۔ اس سے تنبیہ کی جارہی ہے کہ تمہاری سلامتی اسی میں ہے کہ ہر وقت تمہیں اس کا کھٹکا لگا رہے۔ 2 علامہ قرطبی لکھتے ہیں واھل اللغۃ یقولون تقول العرب قرعتھم القارعۃ وفقرتھم الفاقرۃ اذا وقع بھم امرفظیع ” علمائے لغت کہتے ہیں کہ جب کوئی قوم کسی حادثہ فاجعہ سے دوچار ہو اور کسی عظیم مصیبت میں مبتلا ہو تو عرب کہتے ہیں قرعتھم القارعۃ وفقرتھم الفاقرۃ “ یعنی فلاں قبیلے یا لوگوں پر سخت آفت آگئی ہے۔ قرآن کریم نے بعض دیگر مواقع پر بھی یہ لفظ کسی قوم پر بڑی مصیبت نازل ہونے کے لیے استعمال کیا ہے۔ قیامت کے لیے اس لفظ کو استعمال کرکے یہ بتایا گیا ہے کہ یوں تو وہ اچانک آئے گی جیسے کوئی مہمان آکر دروازے پر دستک دیتا ہے۔ لیکن اس کا اچانک آنا سارے عالم کے لیے ایک بہت بڑی آفت ثابت ہوگا۔ ایک عام ہلچل برپا ہوجائے گی، اجرامِ فلکی آپس میں ٹکرا کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے، فلک بوس پہاڑ ٹوٹ پھوٹ جائیں گے۔ پورے عالم کے تہ وبالا ہونے سے جو روح فرساء صورتحال پیدا ہوگی وہ ظاہر ہے کہ ایک ناقابلِ بیان آفت ہوگی۔ 3 ایک ایسی مصیبت اور آفت جس کی ہولناکی ناقابلِ بیان اور جس کی تباہ ناکی ناقابلِ تصور ہے پھر بیخبر ی کے عالم میں اس کا آنا اس مصیبت کی شدت میں اور اضافہ کر دے گا۔ کتنے بدنصیب ہیں وہ لوگ جو اتنی بڑی تباہی سے دوچار ہونے والے ہیں لیکن انھیں اس کا احساس تک نہیں۔ اگر وہ خودکشی کا فیصلہ نہیں کرچکے تو انھیں ابھی سے اس آفت سے بچنے کی سبیل کرنی چاہیے۔
Ayah 101:2

مَا الْقَارِعَةُۚ Open ayah 101:2 in the Quran reader

کیا ہے کھٹکھٹانے والی

مَا الْقَارِعَۃُ ۔ (القارعۃ : 2) (کیا ہے کھٹکھٹانے والی۔ ) ہیبت میں اضافہ الْقَارِعَۃُ کے نام سے دلوں میں جس خوف اور دہشت کو پیدا کیا گیا تھا اس سوال نے اس خوف اور دہشت میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ یعنی جو لوگ اسے معمولی بات سمجھ کر نظرانداز کیے ہوئے ہیں ان کے ذہنوں میں یہ بات آنی چاہیے کہ وہ کھٹکھٹانے والی کتنی بڑی آفت اور تباہی ہے جو اچانک تمہارے سروں پر آدھمکے گی۔
Ayah 101:3

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ Open ayah 101:3 in the Quran reader

اور تم کیا جانو کہ وہ کیا ہے کھٹکھٹانے والی

وَمَـآ اَدْرٰ کَ مَا الْقَارِعَۃُ ۔ (القارعۃ : 3) (اور تم کیا جانو کہ وہ کیا ہے کھٹکھٹانے والی۔ ) سامع کی غفلت پر چوٹ یہ قرآن کریم کا ایک مخصوص اسلوب ہے۔ اس میں بظاہر سوال کو دہرایا گیا ہے لیکن اصل میں زور سامع کی غفلت اور ناعاقبت اندیشی پر ہے کہ ایک طرف تو اس اچانک آنے والی مصیبت کی ہولناکی بےپناہ ہے اور دوسری طرف مخالفین کی غفلت اور بلادت پتھروں کی سنگینی کو مات کررہی ہے۔ ان میں سے ایک ایک کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ نادانو ! تمہیں کچھ خبر بھی ہے کہ کتنی بڑی مصیبت سے تم دوچار ہونے والے ہو۔ تمہاری بےنیازی اور تمہارا تمسخر تمہیں بہت بڑی مصیبت میں مبتلا کرنے والا ہے۔
Ayahs 101:4–5

یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ Open ayah 101:4 in the Quran reader

جس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ Open ayah 101:5 in the Quran reader

اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون کی طرح ہوں گے

یَوْمَ یَکُوْنُ النَّاسُ کَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ ۔ وَتَـکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِھْنِ الْمَنْفُوْشِ ۔ (القارعۃ : 4، 5) (جس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے۔ اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون کی طرح ہوں گے۔ ) وقوعِ قیامت کے پہلے مرحلے کی تصویر اس آیت میں وقوع قیامت کے پہلے مرحلے کا ذکر ہورہا ہے کہ جیسے ہی قیامت کے برپا ہونے کا آغاز ہوگا تو لوگ اس کی ہولناکی سے ہوش و حواس کھو بیٹھیں گے، دماغی توازن برقرار نہیں رہے گا، لوگ گھبراہٹ کی حالت میں اس طرح بھاگے بھاگے پھریں گے جس طرح بکھرے ہوئے پروانے سراسیمگی کی حالت میں ادھر ادھر پھر رہے ہوتے ہیں۔ اس دن کسی کے ساتھ نہ اس کا خاندان اور قبیلہ ہوگا نہ کسی کی کوئی جماعت۔ اور نہ وہ شرکاء و شفعاء ان کی پشت پر ہوں گے جن کے اعتماد پر یہ لوگ عجیب و غریب حرکتیں کرتے تھے۔ اس دن ہر شخص پر نفسی نفسی کی جو حالت طاری ہوگی اس کی تصویر سورة معارج میں یوں کھینچی گئی ہے۔ وَلاَ یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًا۔ یُّـبَـصَّرُوْنَھُمْ ط یَوَدُّالْمُجْرِمُ لَوْیَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍ م بِبَنِیْہِ ۔ وَصَاحِبَتِہٖ وَاَخِیْہِ ۔ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُئْوِیْہِ ۔ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا لا ثُمَّ یُنْجِیْہِ ۔ (المعارج۔ 70: 10۔ 14) ” اور اس دن کوئی دوست اپنے دوست کو نہ پوچھے گا باجودیکہ وہ ان کو دکھائے جائیں گے، مجرم چاہے گا کہ کاش ! وہ اپنے بیٹوں، اپنی بیوی اور اپنے بھائی اور اس خاندان کو، جو اس کو پناہ دیتا رہا ہے، فدیہ میں دے کر اس دن کے عذاب سے اپنے کو چھڑالے جائے۔ “ نظامِ عالم کی برہمی کا ذکر قیامت کے برپا ہونے سے نظام عالم کی برہمی کا ذکر کرتے ہوئے بطورِخاص پہاڑوں کا ذکر فرمایا کہ پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون کی طرح اڑتے پھریں گے۔ کیونکہ قیامت کے منکرین پہاڑوں کو غیرفانی خیال کرتے تھے۔ اس لیے جیسے ہی آنحضرت ﷺ قیامت آنے پر نظام عالم کے درہم برہم ہونے کا ذکر کرتے تو وہ لوگ مذاق اڑاتے ہوئے پوچھتے تھے کہ کیا پہاڑ بھی اس دن اکھاڑ پھینکے جائیں گے۔ یعنی آپ کی بات کے غلط ہونے کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ پہاڑ جن کے اکھڑنے اور ٹوٹنے پھوٹنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، آپ یہ کہتے ہیں کہ وہ بھی شکست و ریخت کا شکار ہوجائیں گے اور ان کا ذرہ ذرہ پراگندہ ہوجائے گا۔ الْعِھْنِ ، الصوف المصبوغ یعنی رنگی ہوئی اون۔ الْمَنْفُوْشِدھنی ہوئی اون۔ یعنی پہاڑوں کا ذرہ ذرہ جدا جدا ہوجائے گا اور وہ ہوا میں رنگدار دھنی ہوئی اون کی طرح اڑتے پھریں گے۔ پہاڑوں کے رنگ چونکہ مختلف ہوتے ہیں، اس لیے جب وہ ریزہ ریزہ ہو کر اڑتے ہوئے ایک دوسرے سے مل جائیں گے تو ایسا لگے گا جیسے اسے رنگ دیا گیا ہو۔
Ayahs 101:6–7

فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗۙ Open ayah 101:6 in the Quran reader

پھر جس شخص کے پلڑے بھاری ہوں گے

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍؕ Open ayah 101:7 in the Quran reader

وہ دلپسند عیش میں ہوگا

فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُـہٗ ۔ فَھُوَا فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ ۔ (القارعۃ : 6، 7) (پھر جس شخص کے پلڑے بھاری ہوں گے۔ وہ دلپسند عیش میں ہوگا۔ ) قیامت روزجزا بھی ہے اور روزعدل بھی آیتِ کریمہ میں مَوَازِیْنُ کا لفظ جمع ہے جس کا واحد موزون بھی ہوسکتا ہے اور میزان بھی۔ پہلی صورت میں مَوَازِیْنُسے مراد نیک اعمال ہوں گے۔ اور دوسری صورت میں مَوَازِیْنُ کا معنی ترازو کے دو پلڑے ہوں گے جن میں ایک میں نیکیاں رکھی جائیں گی اور دوسرے میں برائیاں۔ اور ایک قول یہ ہے کہ میزان کا لفظ وزن کے معنی میں ہے۔ تینوں صورتوں میں مدعا اور مفہوم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کہنا صرف یہ ہے کہ جس شخص کی نیکیاں زیادہ ہوں گی اور برائیاں کم ان کو ایسی زندگی عطا کی جائے گی کہ جس میں آرام و آسائش کے ہزاروں سامان ہوں گے۔ حزن و ملال کا نام و نشان تک نہ ہوگا۔ اسے جن نعمتوں سے نوازا جائے گا انھیں اپنی توقع سے بہت زیادہ پا کر وہ نہایت مسرور ہوگا۔
Ayah 101:8

وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗۙ Open ayah 101:8 in the Quran reader

اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے

وَاَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُـہٗ ۔ فَاُمُّہٗ ھَاوِیَۃٌ۔ (القارعۃ : 8، 9) (اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے۔ تو ان کا ٹھکانہ ہاویہ ہوگا۔ ) یعنی جن کی نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہوا یعنی برائیوں کے مقابلے میں اوپر اٹھ گیا اور برائیوں کا پلڑا جھک گیا، ایسے لوگوں کا ٹھکانہ ہاویہ ہوگا۔ دونوں آیتوں میں مَنْ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو لفظ کے اعتبار سے واحد ہے لیکن معنی کے اعتبار سے واحد اور جمع دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اور قرآن کریم نے دونوں معنوں میں استعمال کیا ہے۔ اس لحاظ سے ہم ترجمے میں واحد سے بھی ترجمہ کرسکتے اور جمع سے بھی۔ الھَاوِیَۃٌ دوزخ کے طبقات میں سے ایک طبقہ کا نام ہے جو اتنا گہرا ہوگا کہ اس کی گہرائی کا اندازہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں ہوگا۔ (مظہری) اس لیے بعض مترجمین نے اس کا ترجمہ گہری کھائی یا کھڈ کیا ہے۔ حضرت انس ( رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ترازو نصب کردیئے جائیں گے، پھر اہل صلوٰۃ کو بلایا جائے گا اور ان ترازوئوں پر تول کر ان کو اجر دیا جائے گا۔ اسی طرح حجاج کے ساتھ بھی یہی برتائو کیا جائے گا۔ لیکن جب اہل بلا کی باری آئے گی تو نہ ترازو نصب کیا جائے گا، نہ ان کے اعمال نامے کھولے جائیں گے بلکہ ان پر اپنی رحمتوں کی بغیر حساب بارش کی جائے گی، جس طرح قرآن مجید میں ہے اِنَّمَا یُوَفَّی الصَّابِرُوْنَ اَجْرَھُمْ بِغَیْرِحِسْابٍ ” صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بغیر حساب کے دیا جائے گا۔ “ علامہ پانی پتی یہ حدیث نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں لعل المراد باھل البلاء ھھنا ایضا بلاء العشاق المحبین للّٰہ تعالیٰ لرضائھم بالبلاء کر ضائھم بالعطاء ” شاید اہل بلا سے مراد اللہ تعالیٰ کے عاشق اور محب ہیں جو اس کی نازل کی ہوئی مصیبتوں پر بھی اسی طرح راضی رہتے ہیں جس طرح اس کی نعمتوں پر وہ راضی رہتے ہیں۔ “
Ayahs 101:9–11

فَاُمُّهٗ هَاوِیَةٌؕ Open ayah 101:9 in the Quran reader

تو ان کا ٹھکانہ ہاویہ ہوگا

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِیَهْؕ Open ayah 101:10 in the Quran reader

اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ ھاویہ کیا ہے

نَارٌ حَامِیَةٌ۠ Open ayah 101:11 in the Quran reader

دہکتی ہوئی آگ

وَمَـآ اَدْرٰ کَ مَاھِیَہْ ۔ نَارٌحَامِیَۃٌ۔ (القارعۃ : 10، 11) (اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ ھاویہ کیا ہے۔ دہکتی ہوئی آگ۔ ) ھاویہ میں عذاب کی شدت کو مزید واضح کرتے ہوئے سوال کی شکل دی گئی ہے۔ کیونکہ کسی ہولناک چیز کو بیان کرنے کے بعد جب اس کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو اس کی ہولناکی متشکل ہو کر آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔ تو پھر خود ہی اس کا جواب ارشاد فرمایا کہ وہ ایک دہکتی ہوئی اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔ یعنی ایک ایسی گہری کھائی ہے جو بھڑکتی ہوئی اور دہکتی ہوئی آگ سے بھری ہوئی ہے۔ مَاھِیَہْ میں ” ھ “ سکتہ کی ہے جو قافئے کی رعایت سے آئی ہے۔ اصل لفظ مَاھِیَ ہے۔