Ayah 102:1اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ ۔ (التکاثر : 1)
(تم کو کثرت مال کی خواہش نے غافل رکھا۔ )
لہو اور تکاثر کا مفہوم اور تکاثر سے مراد
اَلْھٰکُمُ لہو سے ہے۔ یوں تو اس کا معنی کھیل کود اور غفلت سے کیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ ایک اسلامی اصطلاح ہے۔ اس کا اطلاق ہر اس کام پر ہوتا ہے جس کی مشغولیت اور دلچسپی مقصد زندگی یا فرائض سے غافل کردے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کل لہوباطل اذا شغلہ عن طاعۃ اللہ ” یعنی ہر لہو جب انسان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے غافل کردے تو وہ باطل یعنی گناہ ہے۔ “ الھیٰ اسی سے فعل ماضی ہے۔ اس کا معنی ہے اس نے غافل کردیا۔ اور ” کم “ ضمیرمفعول ہے۔ التَّکَاثُرُ یہ اسم فاعل ہے۔ یعنی تمہیں تکاثر نے غفلت میں رکھا۔ تکاثر کا اطلاق تین چیزوں پر ہوتا ہے۔ 1 زیادہ سے زیادہ کثرت حاصل کرنے کی کوشش کرنا، 2 کثرت کے حصول میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا، 3 کثرت حاصل ہوجانے کی صورت میں دوسروں پر فخر جتانا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان صرف کثرت کا خواہش مند نہیں بلکہ وہ ایسی کثرت کا خواہش مند ہے جو اسے دوسروں پر بڑائی کا موقع دے دے۔ اور وہ اس کثرت سے دوسروں پر فخر جتا سکے۔ لیکن اس آیت کریمہ میں یہ تصریح نہیں فرمائی گئی کہ تکاثر میں کس چیز کی کثرت مراد ہے۔ اور نہ یہ بات واضح فرمائی گئی ہے کہ یہاں خطاب کن لوگوں سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تکاثر کے مفہوم میں بھی وسعت پائی جاتی ہے اور اَلْھٰکُمُ کے مخاطب بھی محدود نہیں بلکہ ہر زمانے کے لوگ اپنی انفرادی حیثیت سے بھی اور اجتماعی حیثیت سے بھی اس کے مخاطب ہیں۔ یعنی نہ تو کثرت کے متعلقات کی کوئی انتہا ہے اور نہ یہ بیماری نوع انسانی میں سے کسی خاص گروہ کو لاحق ہے بلکہ پوری نوع انسانی اس کی مریض ہے۔ اس کی تائید ایک چھوٹے سے واقعہ سے بھی ہوتی ہے۔ علامہ اسد ایک نومسلم ہیں جن کا اصل نام لیوپولڈ تھا۔ جرمن کے رہنے والے اور مذہباً یہودی تھے اور پیشہ ان کا صحافت تھا۔ انھیں اور ان کی بیوی کو بعض حالات کی بناء پر اسلام کے بارے میں تجسس ہوا۔ چناچہ انھوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ برصغیر کی تقسیم سے پہلے عرب ملکوں کے سفر کیے۔ ایک دن اچانک انھیں لوگوں سے ملنے ملانے کے بعد احساس ہوا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کی بہت بڑی اکثریت پریشانیوں کا شکار ہے۔ جسے دیکھئے محسوس ہوتا ہے اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار ہیں۔ انھوں نے اپنا یہ گمان اپنی بیوی کے سامنے رکھا۔ انھوں نے بھی انسانی چہروں کے مطالعے کے بعد اس کی تصدیق کی۔ اب دونوں نے تجسس شروع کیا کہ آخر اس کا سبب کیا ہے ؟ لیکن یہ عقدہ ان کے لیے روزبروز لاینحل ہوتا گیا۔ ایک دن اچانک لیوپولڈ نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے اس راز کو پا لیا ہے اور اس انکشاف کی وجہ سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور اسلام ایک سچا دین ہے۔ بیوی نے حیران ہو کر پوچھا کہ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ تو لیوپولڈ نے قرآن کریم کا ایک نسخہ اٹھایا اور قرآن کریم کی یہی سورة جو اس وفت ہمارے پیش نظر ہے اپنی بیوی کے سامنے رکھ دی۔ اس نے کہا ذرا غور سے دیکھو یہ کتاب آج سے صدیوں پہلے نازل ہوئی۔ اور جس عظیم شخصیت پر نازل ہوئی اس نے عرب کے باہر کی دنیا کو بہت کم دیکھا تھا۔ اسے یہ بات کیسے معلوم ہوگئی کہ صدیوں بعد بھی انسان ایک ایسی کیفیت کا شکار ہوگا جو اس کے لیے مستقبل میں پریشانی بن جائے گی اور وہ اسی کیفیت میں مبتلا ہونے کی حالت ہی میں موت کی نذر ہوجائے گا۔ لیکن کبھی وہ اس سے جان نہیں چھڑا سکے گا۔ اور وہ کیفیت کیا ہے کثرت کے حصول کی کوشش اور دوسروں سے اس کثرت میں آگے بڑھنے کی خواہش۔ اور پھر اس میں دوسروں پر فخر جتانے کی آرزو۔ یہی وہ چیز ہے جس نے آج کے انسان کو پریشان کر رکھا ہے۔ ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ میرے پاس مال و دولت کی نہ صرف فراوانی ہو بلکہ دوسروں سے بڑھ چڑھ کر مال میرے پاس ہو۔ اور وہ اسی کو اپنے لیے نام و نمود اور عزت و شہرت کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ اسی طرح وہ آئے روز بہتر سے بہتر منصب اور عزوجاہ کی تلاش میں رہتا ہے۔ اس کے نزدیک مال و دولت اور منصب و اقتدار ضرورت کی چیز نہیں۔ اور نہ کوئی ذمہ داری ہے۔ بلکہ بجائے خود یہ ایسا مقصد زندگی ہے جس کا زیادہ سے زیادہ حصول زندگی بھر ایک حقیقت بن کر اس کے دماغ پر سوار رہتا ہے۔ نزولِ قرآن کے وقت قبائلی زندگی میں جس طرح کثرت مال ان کا ہدف ہوتا تھا اسی طرح کثرت اولاد کے لیے بھی وہ کوشاں رہتے تھے۔ کیونکہ قبیلے کا سردار وہ شخص بنتا تھا جس کے نوجوان بیٹے اس کے قوت بازو ثابت ہوتے تھے۔ اور قبیلہ دوسرے قبائل پر تب فوقیت حاصل کرتا تھا جب ان کے پاس افراد کی بھی کثرت ہوتی اور مال کی بھی کثرت ہوتی۔ لیکن آج کثرت اولاد کو اجتماعی زندگی کے بدلے ہوئے نظام اور خاص طور پر خاندانی منصوبہ بندی کے تصور نے معیارِزندگی کے رجحان میں تبدیل کردیا ہے۔ آج ہر شخص معیارِزندگی اونچا کرنے کی دھن میں مصروف اور پریشان ہے۔ پھر اس معیارِزندگی کی بلندی کی کوئی انتہا نہیں۔ اور چونکہ اس کا سارا انحصار مال و دولت پر ہے اس لیے مال و دولت کی کثرت کی بھی کوئی حد نہیں۔ جیسے جیسے زندگی کا معیار اونچا ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے مال کی تونس بڑھتی جاتی ہے۔ اسی کو قرآن کریم نے تکاثر کے نام سے یاد کیا ہے۔ چناچہ اس تکاثر کی دھن نے انسان کو نہ صرف مقصدزندگی سے تہی دامن کیا بلکہ اخلاقی حدود اور اخلاقی پابندیوں سے بھی اسے بےتعلق کردیا۔ اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حوالے سے عائد ہونے والے فرائض مال و دولت کی ہوس کی نذر ہوگئے۔ اقدارِ انسانیت ہی پامال نہیں ہوئیں بلکہ قرابت کے تمام حقوق نظرانداز ہوگئے۔ دولت، طاقت اور عزت زندگی کی کامیابی کے عنوان بن گئے۔ حکومتوں اور ملکوں کی سطح پر زیادہ سے زیادہ طاقت کا حصول زیادہ سے زیادہ ہتھیار فراہم کرنے کی فکر، چھوٹے ملکوں کی تجارت پر غلبہ اور ان کے پاس قدرتی وسائل پر قبضہ ترقی کی علامت بن گیا۔ اور اس میں تخصیص غیرمسلم کی نہیں، امت مسلمہ بھی اسی کا شکار ہوگئی۔ جسے دیکھو معیارِ زندگی کے بت کی پرستش کر رہا ہے۔ حالانکہ حضور ﷺ نے فرمایا تھا : ازہد فی الدنیا یحبک اللہ وازہد فیما ایدی الناس یحبک الناس ” دنیا سے بےرغبت ہوجا، اللہ تجھ سے پیار کرے گا، جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بےنیاز ہوجا، لوگوں کے دلوں میں اللہ تیرا احترام پیدا کرے گا۔ “
Ayah 102:2حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ۔ (التکاثر : 2)
(یہاں تک کہ قبروں میں جا پہنچے۔ )
کثرت کی خواہش موت تک جاری رہتی ہے
یعنی کثرت مال کی کوشش، پھر دوسروں سے آگے بڑھنے کی ہوس اور دوسروں کے مقابلے میں فخر جتنانے کی خواہش میں تمہاری پوری زندگی گزر گئی۔ مثال کے طور پر تم میں سے ایک نے چاہا کہ میرے پاس ایک خوبصورت مکان ہونا چاہیے۔ مکان بن گیا۔ اور جب دوسرے نے بھی اسی خواہش کے تحت ویسا ہی مکان بنا لیا تو پھر بےچینی اور بڑھی تو اس کو نیچا دکھانے کے لیے دوسری منزل اٹھا لی گئی۔ اس نے بھی مقابلے میں دوسری منزل بنا لی۔ اس کی کثرت کی خواہش نے اسے تیسری منزل اٹھانے پر مجبور کیا۔ اور دوسرے کی تکاثر کی ہوس نے بھی تیسری منزل اٹھا لی۔ حتیٰ کہ دونوں مقابلے میں دوسرے کو نیچا دکھانے اور اپنے سر کی کلغی کو بلند کرنے کے لیے منزلوں پر منزلیں اٹھاتے رہے۔ آخر ایک وقت آیا کہ یہ منزلیں دونوں کو ساتھ لے کر زمین بوس ہوگئیں۔ اس ایک مثال سے زندگی کی تمام جہتوں کا تصور کیا جاسکتا ہے کہ کس طرح زندگی کی قدریں، زندگی کی صلاحیتیں، دل و دماغ کی رعنائیاں صرف ایک ہوس کی نذر ہوتی جارہی ہیں۔ اور نتیجہ کیا ہوتا ہے کہ لوگ قبروں میں پہنچ جاتے ہیں لیکن انھیں منزل نصیب نہیں ہوتی۔ ایک دوڑ ہے جس سے کوئی نکلنا پسند نہیں کرتا۔ اکبر نے ٹھیک کہا :
کیا کہیں احباب کیا کار نمایاں کرگئے
بی اے کیا، نوکر ہوئے، پنشن ملی پھر مر گئے
Ayahs 102:3–4کَلاَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۔ ثُمَّ کَلاَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۔ (التکاثر : 3، 4)
(ہرگز نہیں، تم عنقریب جان لو گے۔ پھر (سن لو کہ) ہرگز نہیں، تم عنقریب جان لو گے۔ )
تکاثر کی ہوس کامیابی نہیں
یعنی تم متاع دنیا کی کثرت اور اس میں دوسروں سے بڑھ جانے کو کامیابی اور ترقی سمجھتے ہو۔ حالانکہ یہ ہرگز ترقی اور کامیابی نہیں ہے۔ تمہیں عنقریب اندازہ ہوجائے گا۔
یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و پیوند
بتانِ وہم و گماں لا الہ الا اللہ
تم نے متاع دنیا میں اضافے کے لیے کارخانوں پہ کارخانے لگائے، ملوں پر ملیں لگائیں۔ اور اپنے بچوں کو دیکھنے کے لیے کبھی وقت نہ نکال سکے۔ بیوی کی دلجوئی کے لیے کبھی تمہارے پاس چند ساعتیں نہ نکل سکیں۔ تم اپنے رحمی رشتوں کا کبھی حق ادا نہ کرسکے۔ کیونکہ تمہارے پاس ان باتوں کے سوچنے کا وقت ہی نہیں ہے۔ لیکن تمہیں بہت جلد اندازہ ہوجائے گا کہ اس روش کا کیا انجام ہوگا۔ جب تمہاری بیوی تم سے متنفر ہوجائے گی۔ تمہاری اولاد جوان ہو کر نافرمان ہوجائے گی۔ اپنے بیگانے ہوجائیں گے اور تمہارا وجود عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ تمہارے لیے بوجھ بن جائے گا اور تمہیں سہارا دینے والا کوئی نہیں ہوگا۔ تمہاری تنہائیاں تمہیں کاٹیں گی۔ تب تمہیں اندازہ ہوگا کہ تکاثر کی ہوس ایک ایسی آگ تھی جس نے تمہارا سب کچھ جلا ڈالا۔
بعض اہل علم کے نزدیک عنقریب سے مراد آخرت بھی ہوسکتی ہے۔ کیونکہ جس ہستی کی نگاہ ازل سے ابد تک تمام زمانوں پر حاوی ہے اس کے لیے چند ہزار یا چند لاکھ سال بھی زمانے کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ اسی طرح سے مراد موت بھی ہوسکتی ہے۔ وہ تو ہر وقت انسان کے قریب ہے۔ موت کے وقت بھی اور آخرت میں بھی انسان کو اندازہ ہوجائے گا کہ جن مشاغل میں وہ اپنی ساری عمر کھو کے آیا ہے وہ آج اس کے لیے سعادت کا باعث بنتے ہیں یا بدبختی کا۔
Ayahs 102:5–8کَلاَّ لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِ ۔ لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَ ۔ ثُمَّ لَتَرَوُنَّھَا عَیْنَ الْیَقِیْنِ ۔ ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ ۔ (التکاثر : 5 تا 8)
(ہرگز نہیں ! اگر تم یقین کے ساتھ جانتے (تو تمہارا یہ طرزعمل نہ ہوتا) تم دوزخ دیکھ کر رہو گے۔ پھر تم آخرت میں دوزخ کو یقین کی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ پھر ضرور اس دن تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ )
غفلت کا اصل سبب
تمہارا یہ طرزعمل کہ تم نے زندگی کا اصل ہدف مال و دولت کی کثرت، عہدہ و منصب کی بہتات اور معیارِزندگی کو اونچا کرنے کی ہوس کو اس طرح بنایا ہے کہ ساری زندگی اسی کے حصول میں کھپ جاتی ہے حتیٰ کہ موت کا بلاوا آجاتا ہے، لیکن تمہیں کبھی اپنے طرزعمل پر نظرثانی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ اس کی حقیقی وجہ یہ ہے کہ (جو اس آیت کریمہ میں بیان کی گئی ہے) کہ تمہارے اندر یہ یقین پیدا نہیں ہورہا کہ کبھی آخرت بھی آئے گی۔ اور تمہیں اپنی زندگی کے ہر عمل کا حساب دینا ہوگا۔ جوابدہی کے تصور کی طرف سے بےیقینی نے تمہیں دنیا طلبی کا مریض بنادیا ہے۔ کاش تمہارے اندر یقین کی کچھ بھی رمق پیدا ہوتی تو تمہاری غفلت کے پردے اتنے دبیز نہ ہوتے۔ کیونکہ :
یقیں افراد کا سرمایہ تعمیر ملت ہے
یہی قوت ہے جو صورت گرتقدیرِ ملت ہے
لَوْتَعْلَمُوْنَ کا جواب محذوف ہے لَمَاتَکَاثَرْتُمْ اور عِلْمُ الْیَقِیْنکا معنی ہے عِلَمًاکَعِلْمِ الْاَمْرِ الْمُتَیَقِّنْ (مظہری) ” یعنی ایسا علم جو ایک یقینی بات کا ہوتا ہے۔ “
اس کے بعد کی آیات کا مفہوم دو طرح سے متعین کیا جاسکتا ہے۔ ایک تو یہ کہ لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَ کو لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِکے مفعول کے محل میں لیا جائے۔ یعنی اگر تم یقین کے ساتھ جانتے کہ تم جہنم کو لازماً دیکھو گے۔ اور پھر آخرت میں جہنم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے جو ظاہر ہے علم الیقین کا دوسرا درجہ ہے۔ اور پھر تمہیں یقین ہوتا کہ آخرت میں تمہیں ایک ایک نعمت کے بارے میں جوابدہی کرنا ہے تو یقینا تمہارا یہ طرزعمل نہ ہوتا، اور تم اپنے آپ کو اس طرح برباد نہ کرلیتے۔
اور مفہوم کو متعین کرنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَکو جملہ مستانفہ قرار دیا جائے۔ تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اقرار کرو یا انکار امرواقعہ یہ ہے کہ تم جہنم کو ایک نہ ایک دن دیکھ کے رہو گے۔ اور پھر قیامت کے دن تم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ مومن بھی اسے دیکھیں گے اور کافر بھی دیکھیں گے۔ لیکن دونوں کے دیکھنے میں بڑا فرق ہوگا۔ کفار تو اسے گھر کے طور پر دیکھیں گے اور وہیں ٹھہریں گے۔ اور مومنوں کے لیے محض گزرگاہ ہوگی۔ کچھ تو بجلی کی سرعت کے ساتھ گزر جائیں گے اور کوئی پرندوں کی طرح اپنے اپنے درجات کے مطابق ان کے گزرنے کی رفتار ہوگی۔ اور آج تم جن نعمتوں پر اترا رہے ہو اس دن ہر نعمت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ انسان کو جتنی صلاحیتیں اور قوتیں عطا کی گئی ہیں اور جو وسائل اور ذرائع بخشے گئے ہیں وہ سب نعیم میں داخل ہیں۔ آدمی ان میں سے ہر نعمت پر شکر ادا کرنے کا مکلف ٹھہرایا گیا ہے۔ اور ہر نعمت کے شکر کا مطلب یہ ہے کہ اس نعمت کو اس کے مقرر کردہ حدود کے اندر بتائے گئے طریقے کے مطابق صرف کیا جائے۔ اگر کسی نعمت کے استعمال میں حدود سے تجاوز کیا گیا یا اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں استعمال کیا گیا یا استعمال میں غلط طریقہ اختیار کیا گیا، تو اللہ تعالیٰ یقینا اس پر سزا دے گا۔ وہ جس بات کو چاہے گا معاف کردے گا اور جس پر چاہے گا گرفت فرمائے گا۔ لیکن اس کا اندازہ ایک حدیث سے کیا جاسکتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ( رض) کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور حضرت ابوبکر ( رض) اور حضرت عمر ( رض) سے ملاقات ہوگئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس وقت تم دونوں اپنے گھروں سے باہر کس مقصد سے نکلے ہو ؟ دونوں نے کہا، الجوع رسول اللہ۔ حضور سخت بھوک لگی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا بخدا میں بھی اسی وجہ سے باہر نکلا ہوں۔ حضور ﷺ دونوں کو ہمراہ لے کر ایک انصاری کے گھر تشریف لے گئے۔ دوسری روایت میں ان کا نام مالک بن التیہان درج ہے۔ لیکن وہ گھر میں موجود نہ تھے۔ ان کی بیوی نے جب حضوع ﷺ کو دیکھا تو بڑی گرمجوشی سے خوش آمدید کہا۔ حضور ﷺ نے پوچھا تمہارا شوہر کہاں ہے۔ اس نے کہا پانی لینے گیا ہے۔ تھوڑی دیر بعد وہ انصاری تشریف لے آئے۔ جب حضور اور آپ کے ساتھیوں کے دیکھا تو خوشی کی انتہا نہ رہی۔ اپنی باغ کی طرف گئے اور کھجوروں کا ایک خوشہ توڑ کرلے آئے۔ جس میں پختہ، نیم پختہ اور تر کھجوریں تھیں۔ خدمتِ اقدس میں رکھا اور تناول فرمانے کی التجا کی۔ پھر چھری پکڑی۔ حضور ﷺ نے فرمایا ایاک والحلوب یعنی شیردار بکری کو ذبح نہ کرنا۔ پس انھوں نے ایک بکری ذبح کی، اسے پکایا اور ان معزز مہمانوں نے اس کا گوشت بھی تناول فرمایا اور کھجوریں بھی کھائیں اور ٹھنڈا پانی بھی پیا۔ جب سیر ہوگئے تو آپ نے ان دونوں دوستوں سے فرمایا اس خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے روز قیامت تم سے آج کی نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ فاقہ نے تم کو اپنے گھروں سے نکالا اور تم ان نعمتوں سے شادکام ہو کر واپس جارہے ہو۔
اس حدیث سے اندازہ ہوتا ہے کہ پروردگار اپنی ان نعمتوں سے متعلق بھی بازپرس کرے گا جو شدید ضرورت کے بعد بھی میسر آئی ہوں۔ چہ جائیکہ وہ نعمتیں جو تکلفات اور تلذذات میں داخل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر طرح کی نعمت پر شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔