103. Surah Al-Asr

العصرThe Declining Day, Epoch · 3 ayahsروح القرآن

Ayah 103:1

وَ الْعَصْرِۙ Open ayah 103:1 in the Quran reader

قسم ہے زمانے کی

وَالْعَصْرِ ۔ (العصر : 1) (قسم ہے زمانے کی۔ ) قسم کی وضاحت ہم اس سے پہلے بھی متعدد مواقع پر اس بات کی وضاحت کرچکے ہیں کہ جس لفظ یا جملے پر وائو قسمیہ آتی ہے اسے قسم کہتے ہیں اور اس کی حیثیت دلیل کی ہوتی ہے۔ اور اس کے بعد جو جملہ آتا ہے اسے جوابِ قسم کہتے ہیں اور اس کی حیثیت دعویٰ کی ہوتی ہے۔ گویا قسم دلیل بن کر اس دعوے کا اثبات کرتی ہے۔ اور کبھی اسی قسم کو شاہد یعنی گواہ کے لفظ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ اور یہ شاہد جوابِ قسم کے اثبات کے لیے گواہی دیتا ہے۔ عصر کا مفہوم یہاں زمانے کی قسم کھائی گئی ہے۔ زمانہ کا لفظ عام طور پر تین معنوں پر بولا جاتا ہے ماضی، حال اور مستقبل۔ زمانے کے مجموعے پر تو دہر کا لفظ بولا جاتا ہے۔ لیکن عصر زمانے کے اجزاء پر دلالت کرتا ہے۔ زمانے کا چونکہ غالب حصہ ماضی ہی ہے اس لیے جو آن کہنے کو اس وقت حال ہے وہ گزر کر ماضی بنتی جارہی ہے۔ اور جو مستقبل ہے اس کی ہر گزرتی ہوئی گھڑی حال بن کر ماضی میں اتر جاتی ہے۔ گویا زمانہ جس کو عصر کہا گیا ہے اور جس کی قسم کھائی گئی ہے اس کا غالب استعمال گزرے ہوئے زمانے پر ہی ہوتا ہے۔ چاہے وہ ماضی بن چکا ہو یا وہ حال کی شکل میں ماضی کی طرف بڑھ رہا ہو۔ اقبال نے اس کو ٹھیک تعبیر دی : جو تھا نہیں ہے جو ہے نہ ہوگا یہی ہے اک حرف محرمانہ قریب تر ہے نمود جس کی اسی کا مشتاق ہے زمانہ اور بعض اہل علم کے نزدیک مستقبل صرف امید کا نام ہے۔ زمانے درحقیقت دو ہیں۔ ایک وہ زمانہ جو ماضی بن چکا ہے اور ایک وہ جسے ہم حال سمجھتے ہیں لیکن وہ تیزی سے ماضی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہاں دونوں طرح کے زمانوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ گزرے ہوئے زمانے کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ انسان نے ہمیشہ ٹھوکر کھائی ہے اور وہ نقصان میں رہا ہے بجز ان لوگوں کے جنھوں نے اپنے اندر متذکرہ چار صفات پیدا کرلی ہیں۔ تاریخ نے ماضی میں نافذ ہونے والے ان فیصلوں کا ذکر کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے قانونِ مکافات کے تحت انسانوں کے اعمال و افعال پر صادر کیے گئے۔ وہ قومیں چاہے عاد وثمود ہوں یا قوم لوط، قوم نوح ہوں یا قوم ہود ہوں تاریخ نے ان کے اعمال پر ہونے والے فیصلوں کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ اور پھر اسی سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے گزرتے ہوئے زمانے کو دلیل بنایا گیا ہے جس میں ایک تو اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ زمانہ تیز رفتاری سے گزر رہا ہے اور یہ کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ افراد ہوں یا قومیں وہ زمانے کی تیز رفتاری میں عروج وزوال کی منزلیں طے کرتی ہیں۔ لیکن زمانے کی تیز رفتاری میں کہیں کمی نہیں آتی۔ ہم اس کی تیز رفتاری کا صحیح تعین تو نہیں کرسکتے البتہ کسی حد تک اندازہ کرنے کے لیے اپنی گھڑی میں سیکنڈ کی سوئی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھ کر کرسکتے ہیں۔ حالانکہ ایک سیکنڈ بھی وقت کی بہت بڑی مقدار ہے۔ اس میں روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل کا راستہ طے کرلیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ افراد اور قوموں کی قسمتوں میں ایک سیکنڈ میں کتنے تغیرات واقع ہوتے ہیں۔ لیکن گزرتے ہوئے زمانے سے انسان کو اپنی زندگی بنانے کے لیے جو وقت دیا گیا ہے وہ درحقیقت اس کی عمر ہے۔ ایک فرد بھی اپنی عمر میں جو بن سکتا ہے، سو بنتا ہے۔ اور قومیں بھی ایک عمر پاتی ہیں اور وہی ان کی اجل ہے اور اسی پر ان کے بقاء وزوال کا دارومدار ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے اس وقت کا تصور کیا جاسکتا ہے جو امتحان گاہ میں ایک طالب علم کو پر چہ حل کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ اس طالب علم کی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ وہ اس مہلت عمل اور اس مدت وقت سے کتنا فائدہ اٹھاتا ہے یا اسے ضائع کرتا ہے۔ اسے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت کی قسم ہے جو تمہیں پر چہ حل کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔ گھڑی کی سیکنڈ کی سوئی کو دیکھو کہ وہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اگر تم نے اسی تیزی سے کام نہ کیا تو تمہیں خسارے یعنی ناکامی سے کوئی نہ بچا سکے گا۔ اسی طرح انسان کو بھی زمانے اور اس کی تیز رفتاری کی طرف متوجہ کرکے کہا گیا ہے کہ تمہاری عمر یہی مہلت عمل ہے اور یہ اس طرح ڈھل رہی ہے جس طرح برف پگھلتی ہے۔ اگر اس کے پگھلنے سے پہلے تم نے اس سے صحیح فائدہ نہ اٹھایا تو تمہیں ناکامی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ ہو رہی ہے عمر مثل برف کم رفتہ رفتہ لحظہ لحظہ دم بدم سانس ہے اک رہ رو ملک عدم دفعتاً اک روز یہ جائے گا تھم
Ayah 103:2

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ Open ayah 103:2 in the Quran reader

بیشک انسان خسارے میں ہے

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ ۔ (العصر : 2) (بیشک انسان خسارے میں ہے۔ ) یہ ہے جوابِ قسم یہ ہے وہ جوابِ قسم جس کو ثابت کرنے کے لیے زمانہ کی قسم کھائی گئی ہے۔ یعنی عمر کی جو مدت انسان کو دی گئی ہے وہی زمانہ ہے جو تیزی سے گزر رہا ہے۔ اس کو اگر ضائع کردیا جائے اور صحیح صفات سے متصف کرنے کی بجائے اسے غلط کاموں میں صرف کر ڈالا جائے تو یہی انسان کا خسارہ ہے جس پر گزرتے ہوئے زمانے کی قسم کھائی گئی ہے۔ انسان کا لفظ اگرچہ واحد ہے لیکن اس سے مراد کوئی ایک انسان نہیں۔ کیونکہ اس کے بعد کی آیت میں ان لوگوں کو اس سے مستثنیٰ کیا گیا ہے جو چار صفات سے متصف ہیں۔ اور ان لوگوں کو بغیر کسی تحدید کے ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے یہ ماننا پڑے گا کہ یہاں انسان کا لفظ اسم جنس کے طور پر استعمال ہوا ہے اور اس کا اطلاق افراد، گروہوں، اقوام اور پوری نوع انسانی پر یکساں ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس انسان کے خسارے کی بات ہورہی ہے وہ کوئی ایک انسان نہیں، نہ کسی خاص قبیلے سے اس کا کوئی تعلق ہے نہ وہ کسی گروہ کا نام ہے نہ کسی خاص علاقے کا رہنے والا ہے بلکہ اس سے مراد نوع انسانی کا ہر فرد ہے۔ قطع نظر اس سے کہ وہ واحد ہو یا جمع۔ وہ اس وقت تک خسارے میں رہے گا جب تک وہ ان چار صفات کو اختیار نہیں کرلیتا جو آگے بیان کی جارہی ہیں۔ خسر کا مفہوم اس آیت میں جو ” خسر “ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا ترجمہ ہم نے خسارہ کیا ہے اس کا استعمال کسی محدود معنی میں نہیں ہوا۔ اس سے مراد نہ تجارتی خسارہ ہے نہ زرعی خسارہ نہ ملازمت کا نقصان نہ کسی اتفاقی حادثے سے پیش آنے والا نقصان، بلکہ یہ ایسا خسارہ ہے جو قرآن کریم فلاح کے مقابلے میں استعمال کرتا ہے اور یہ واضح ہے کہ قرآن کریم کا دیا ہوا تصورفلاح کسی دنیوی خوشحالی تک محدود نہیں بلکہ اس میں دنیوی اور اخروی دونوں کامیابیاں شامل ہیں۔ ایک شخص پرہیبت اقتدار کے تخت پر فائز ہے لیکن اس کی زندگی متذکرہ چار باتوں کے نور سے خالی ہے تو اس کی زندگی ایک ناکام زندگی ہے۔ لیکن ایک شخص جھونپڑے میں رہتا ہے، نانِ شبینہ کا محتاج ہے لیکن وہ ایمان و عمل صالح کی دولت سے مالامال ہے اور ہرحال میں حق پر استقامت اور دوسروں کی خیرخواہی اس کا وطیرہ ہے تو وہ ایک کامیاب انسان ہے۔
Ayah 103:3

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠ Open ayah 103:3 in the Quran reader

بجز ان کے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی

اِلاَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ 5 لا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ۔ (العصر : 3) (بجز ان کے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔ ) خسارے سے بچنے والوں کی چار صفات قرآن کریم کا یہ دعویٰ کہ ساری دنیا کے انسان خسارے میں پڑے ہوئے ہیں سوائے ان لوگوں کے جن میں آگے بیان کی جانے والے چار صفات موجود ہوں۔ ضروری ہے کہ ان چار صفات میں سے ایک ایک کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ ایمان کا مفہوم ان میں سب سے پہلی صفت ایمان ہے۔ ایمان کا لفظ اٰمَنَ سے بنا ہے۔ یہ لغت میں مختلف معنی کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس کا ابتدائی معنی اگرچہ زبانی اقرار ہے۔ اور قرآن کریم نے بھی بعض جگہ اسے اسی معنی میں استعمال کیا ہے۔ لیکن اس کی حقیقت کا تحقق اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک اس کے ان تمام معانی کا استقصاء نہ کیا جائے جن معانی میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔ اٰمَنَـہٗ ، ای اعطاہ امنًا ” اس کو امن دیا۔ “ اٰمَنَ لَـہٗ کے معنی ہیں صَدَّقَـہٗ وَاعْتَمَدَعَلَیْہِ ” اس کی تصدیق کی اور اس پر اعتماد کیا۔ “ اور اٰمَنَ بِہٖ اس کے معنی ہیں اَیْقَنَ بِہٖ ” اس پر یقین کیا۔ “ قرآن کریم انہی معنوں میں ایمان کے لفظ کو استعمال کرتا ہے اور اسی کو حقیقی ایمان قرار دیتا ہے۔ اور قرآن کریم میں جابجا انھیں معنوں میں اس لفظ کا استعمال ہوا ہے۔ مثلاً اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا۔ ” مومن تو حقیقت میں وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور پھر شک میں نہ پڑے۔ “ اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا۔ ” جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر اس پر ڈٹ گئے۔ “ فَلاَوَرَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَبَیْنَہُمْ ثُمَّ لاَ یَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَیْتَ ۔ ” پس نہیں، اے نبی ! آپ کے رب کی قسم وہ ہرگز مومن نہیں ہیں جب تک کہ اپنے باہمی اختلاف میں آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ بھی آپ فیصلہ کریں اس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں۔ “ قرآن کریم کی یہ آیات اور اس کی ہم معنی دیگر آیات کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ایمان کا آغاز اگرچہ زبانی اقرار سے ہوتا ہے لیکن اس میں حقیقت اس وقت تک پیدا نہیں ہوتی اور اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کا اعتبار نہیں ہوتا جب تک اس میں یقین کی قوت پیدا نہ ہو۔ یعنی ایک ایمان لانے والا دین اسلام کی جن باتوں کو قبول کرتا ہے دل سے ان کی تصدیق بھی کرے۔ اور اس کا اعتماد عقل یا تجربے پر نہیں بلکہ وحی الٰہی اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی ذات پر ہو۔ اس کا علم اور اس کی دانش اور وقت کا چلن چاہے اسے قبول کرنے سے انکار کردے لیکن اس کے دل میں انکار یا تشکک کی خراش بھی نہ آنے پائے۔ اور پھر یقین کے ساتھ خشیت الٰہی اور توکل علی اللہ کے تمام لوازم و شرائط بھی پائے جائیں۔ اور وہ ہرحال میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے فیصلوں پر راضی رہے تو یہ وہ ایمان ہے جس کی طرف اس آیت کریمہ میں اشارہ کیا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس سورة مبارکہ میں مطلق ایمان کا ذکر فرمایا گیا ہے لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ ایمان کن چیزوں پر لانا مراد ہے۔ لیکن قرآن و سنت کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہ کون کون سی چیزیں ہیں جن پر ایک مومن کو ایمان لانا ضروری ہے۔ 1 سب سے پہلے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ہے۔ کیونکہ ایمان باللہ تمام ایمانیات کی جڑ ہے۔ یہی بنیاد ہے جس پر باقی عمارت تعمیر ہوتی ہے۔ اور اس ایمان سے مراد محض اس کے وجود کو ماننا نہیں بلکہ اس طرح ماننا ہے جس کی تفصیل اوپر ایمان کے معنی میں گزر چکی ہے۔ حالی مرحوم نے نہایت خوبصورتی سے اجمالاً اس کا ذکر کیا ہے : کہ ہے ذات واحد عبادت کے لائق زباں اور دل کی شہادت کے لائق اسی کے ہیں فرماں اطاعت کے لائق اسی کی ہے سرکار خدمت کے لائق لگائو تو لو اپنی اس سے لگائو جھکائو تو سر اس کے آگے جھکائو اسی پر ہمیشہ بھروسہ کرو تم اسی کے سدا عشق کا دم بھرو تم اسی کے غضب سے ڈرو گر ڈرو تم اسی کی طلب میں مرو جب مرو تم مبرا ہے شرکت سے اس کی خدائی نہیں اس کے آگے کسی کو بڑائی 2 رسول کو ماننا، اس حیثیت سے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا مامور کیا ہوا ہادی و رہنما ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے معصوم بنایا ہے۔ اس کی زبان سے کبھی جھوٹ سرزد نہیں ہوتا۔ اس کا ہر قول و فعل اور تقریر حجت ہے، اسے چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ بھی لے کے آیا ہے وہ برحق اور واجب التسلیم ہے۔ اور وہ خاتم النبیین ہے کہ اس کے بعد کوئی تشریعی، ظلی یا بروزی نبی نہیں آئے گا۔ اسی ایمان بالرسالت میں ملائکہ، انبیاء، کتبِ الٰہیہ اور قرآن کریم پر بھی ایمان لانا شامل ہے۔ 3 آخرت کو ماننا، اس حیثیت سے کہ انسان کی موجودہ زندگی مکمل زندگی نہیں بلکہ مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندہ ہونا ہے۔ اور دنیا میں جو کچھ اس نے کیا اور جو کچھ کہا ہر قول و عمل کا حساب دینا ہے۔ نیک اعمال پر جزاء ملے گی اور برے اعمال پر سزا۔ آدمی جو کچھ کرتا ہے اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے فرشتے اسے محفوظ کرلیتے ہیں۔ پروردگار کی نگاہ ہمیشہ اس کے تعاقب میں رہتی ہے۔ وہ ہر وقت اسے دیکھتا ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو انسان کی سیرت و کردار کی تعمیر کرتا ہے۔ اور جس میں یہ عقیدہ سرے سے موجود نہ ہو یا کمزور ہو اس کے ایمان، اخلاق اور سیرت و کردار کے لیے کوئی مضبوط حصار نہیں۔ صالحات پر عمل دوسری چیز جو انسان کو خسارے سے بچانے کے لیے ضروری ہے وہ صالحات پر عمل کرنا ہے۔ اس میں دو لفظ ہیں، عمل اور صالحات۔ اسلام اگر محض ایک فلسفے کا نام ہوتا تو چند بنیادی حقائق کو تسلیم کرلینا اور ان پر یقین لے آنا کافی ہوتا۔ لیکن اسلام چونکہ ایک دین ہے، زندگی کا رویہ ہے، ایک طرزعمل ہے۔ اس لیے چند بنیادی حقائق کو تسلیم کرانے کے بعد وہ زندگی کے ہر شعبے کے بارے میں احکام دیتا ہے اور ان پر عمل کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ کیونکہ اس کے احکام کی اصل روح اللہ تعالیٰ کی بڑائی کو تسلیم کرنا اس کو مطاع مطلق جاننا اور اپنے آپ کو اس کی اطاعت کے حوالے کردینا ہے۔ اس روح کا تحقق ظاہر ہے اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک ان باتوں پر عمل کو لازم نہ کیا جائے جن کو صالحات کہا گیا ہے۔ ایمان درحقیقت ایک بیج ہے جو دلوں کی زمین میں کاشت کیا جاتا ہے اور اس سے پیدا ہونے والی پیداوار اعمالِ صالحہ ہیں۔ اگر کسی بیج سے کوئی پودا پیدا نہیں ہوتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بیج زمین میں دفن ہو کے رہ گیا ہے۔ بالکل اسی طرح جس ایمان کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا ظہور اعمالِ صالحہ کی شکل میں نہیں ہوتا تو وہ ایمان ایک مردہ بیج ہے جس کی تجدید ہونی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم بار بار عمل صالح کے ساتھ ایمان کا ذکر کرتا ہے۔ اور ایمان کے بعد عمل صالح کا بھی ذکر کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔ حقیقی ایمان کی تائید عمل صالح سے ہوتی ہے۔ جس طرح صالح بیج کی تائید اس سے نکلنے والے پودے سے ہوتی ہے۔ اسی طرح عمل صالح وہ ہے جس کی تہ میں ایمان کارفرما ہو۔ جس طرح خودرو پودوں پر اعتماد نہیں ہوتا، اسی طرح جو عمل ایمان سے وابستگی نہیں رکھتا اور اس کی جڑ میں ایمان موجود نہیں اور وہ اس ہدایت کی پیروی میں نہیں کیا جاتا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے دی ہے تو اسے عمل صالح نہیں کہا جاسکتا۔ دوسرا لفظ صالحات ہے، نیک کاموں کو کہتے ہیں۔ اس سے مراد وہ تمام نیکیاں ہیں جن کا حکم شریعت نے دیا ہے، جو شریعت کے مزاج نے پیدا کی ہیں، جنھیں شرعی احکام اور شرعی مزاج نے ناپسند نہیں کیا، جنھیں امت اسلامیہ کا معروف ہونے کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ ایمان کا ثمر بھی ہیں اور ایمان اور امت مسلمہ کی علامت اور شناخت بھی۔ اعمالِ حسنہ کی صالحات سے تعبیر اس بات کی طرف بھی رہنمائی کرتی ہے کہ انسان کی تمام ظاہری و باطنی، دینی و دنیوی، شخصی و اجتماعی، جسمانی و عقلی، صلاح و ترقی کا ذریعہ اعمالِ صالحہ ہی ہیں۔ اور یہ وہ اعمال ہیں جو ایک مومن کی زندگی اور نشو و نما کا سبب بن سکتے ہیں۔ اور جن کے ذریعے سے انسان ترقی کے ان اعلیٰ مدارج تک پہنچ سکتا ہے جو اس کی فطرت کے اندر ودیعت ہیں۔ ایمان و عمل جن کا تذکرہ ہم نے کیا ہے یہ وہ دو صفتیں ہیں جو ایک ایک فرد میں ہونی چاہئیں۔ ان دونوں صفات کے پیدا ہونے سے انفرادی طور پر ایک مومن تیار ہوجاتا ہے۔ اس کے اندر اسلام کی بنیادی صداقتوں کے ساتھ گہری وابستگی بھی پیدا ہوجاتی ہے اور اس کی سیرت و کردار کے لیے مضبوط بنیاد بھی فراہم ہوجاتی ہے۔ اور ان کے نتیجہ میں اس کے اندر حُسنِ سیرت اور کردار کی بلندی کا نور جگمگانے لگتا ہے۔ اس کے دل و دماغ بھی روشن ہوتے ہیں اور اس کی زندگی کا ہر شعبہ اور اس کے رویئے کا ہر پہلو طاہر اور مطہر ہوجاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجیے کہ ایک سپاہی تیار ہوجاتا ہے جو لادینی قوتوں کے مقابلے میں اور شیطانی ارادوں کے علی الرغم ہر محاذ پر استقامت کی تصویر بن کر کھڑا رہ سکتا ہے۔ وہ ایک ایسی مشعل نور کی صورت اختیار کرلیتا ہے کہ جس سے ماحول کی تاریکیاں دور کی جاسکتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اسلام صرف اچھے افراد تیار کرنے کے لیے تو نہیں آیا اس کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کی زمین کو ہر طاغوتی طاقت، ہر شیطانی استبداد اور ہر برائی اور گمراہی کو ختم کرکے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرنا تھا۔ بلاشبہ اسے صالح افراد بھی تیار کرنے ہیں کیونکہ وہ کشتی کبھی مضبوط نہیں ہوتی جس کے تختے دیمک زدہ ہوں۔ تختوں کی باہم پیوستگی اگرچہ ان کی طاقت کو بڑھا دیتی ہے لیکن اس کے لیے ہر تختے کا مضبوط ہونا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ : افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ لیکن افراد کو ملت بننے کے لیے ضروری ہے کہ اس مشعل کی روشنی دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کی جائے۔ اس دریا سے صحرائوں اور چٹیل میدانوں کو سیراب کرنے کا کام لیا جائے۔ اس سپاہی کو میدانِ عمل اور میدانِ حرب میں اتارا جائے۔ اسی سے ملت بھی وجود میں آئے گی اور اللہ تعالیٰ کی زمین غیر اللہ کی چیرہ دستی سے آزاد ہوجائے گی۔ فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں اس لیے مزید دو باتوں کا حکم دیا گیا۔ تواصی بالحق پہلا حکم وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ کہ وہ ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرتے ہیں۔ حق اصل میں اس فیصلہ کن امر کو کہتے ہیں جو اپنی ذات اور اپنی صداقت کی قوت سے قائم ہو۔ اس حقیقی معنی کے اعتبار سے وہ باطل کی ضد ہے۔ لیکن اس کا استعمال مختلف معنوں میں ہوتا ہے اور وہ سب اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں۔ 1 وہ بات جس کا واقع ہونا قطعی ہو۔ 2 جو عقل کے نزدیک مسلم ہو اور علم و دانش کے بدلتے ہوئے پیمانے اسے غلط ثابت کرنے سے عاجز ہوں۔ 3 ایک ایسی بات جو صحیح اور سچی اور عدل و انصاف کے مطابق اور حقیقت کے مطابق ہو۔ اس کا تعلق عقیدہ و ایمان سے ہو یا دنیا کے معاملات سے۔ 4 وہ بات جو اخلاقاً فرض ہو خدا کے حق کے طور پر یا بندوں کے حق کے طور پر یا نفس کے حق کے طور پر۔ اور بندوں کے حقوق میں فقراء اور مساکین کے وہ تمام حقوق داخل ہیں جو خوشحال لوگوں پر لازم ہیں۔ اس حق سے وابستگی ایمان و عمل کا لازمی تقاضا ہے۔ لیکن اس وابستگی میں شکست و ریخت سے بچائو کی صرف ایک صورت ہے کہ حق پر ایمان رکھنے والا اور اس سے گہری وابستگی رکھنے والا شخص اتنا حساس ہو کہ باطل کی پرچھائیں بھی اس پر نہ پڑ سکے۔ جس طرح آنکھ میں اگر غبار پڑجائے تو آنسو آکر اسے دھو ڈالتا ہے۔ اسی طرح اگر کبھی مومن پر پر اپیگنڈے کے نتیجے میں یا خواہشات کے ہجوم میں یا بگڑے ہوئے ماحول کے زیراثر کبھی کوئی گناہ کا چھینٹا ایمان پر پڑ ہی جائے تو اس وقت تک وہ بےقرار رہے جب تک اسے دھو نہ ڈالے۔ اور اگر کہیں دامن بھیگ جائے تو ہاتھوں میں ایسی قوت ہونی چاہیے کہ اسے نچوڑ ڈالے۔ اس گہرے احساس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک فرد دوسرے فرد کو جگائے رکھتا ہے اور ہر فرد دوسرے کی نگرانی کرتا ہے کہ کوئی غلط بات کسی مومن پر حملہ آور ہونے کی جرأت نہ کرے۔ اور اسلامی معاشرے کا ہر فرد حق پرستی اور راست بازی اور عدل و انصاف پر قائم رہنے اور حقداروں کے حقوق ادا کرنے پر اکتفا نہ کرے بلکہ دوسروں کو بھی اسی طرزعمل کی نصیحت کرتا رہے۔ یہ وہ چیز ہے جو معاشرے کو اخلاقی زوال کے انحطاط سے بچانے کی ضامن ہے۔ اور اگر اس کی طرف سے بےاعتنائی اور بےحسی پیدا ہوجائے تو پھر خسران سے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ اس سے تہی دامن لوگ اگر اپنی ذات میں حق پر قائم بھی رہیں مگر معاشرے کو حق پر قائم رکھنے کی کوشش نہ کریں اور لادینی قوتوں کے خلاف دیوار نہ بنیں تو ایسے پاکیزہ لوگ معاشرے کو غیراسلامی تصورات سے بچا نہیں سکتے۔ بلکہ جب لادینیت کا طوفان اٹھے گا تو یہ بھی اس میں بہہ جائیں گے۔ باپ اپنے بیٹے کی طغیانی کی نذر ہوجائے گا اور ماں اپنی بیٹی کی تہذیبی رعونت میں بہہ جائے گی۔ قرآن کریم میں جابجا ایسی قوموں پر تنقید کی گئی ہے کہ جن کے نیک اور اہل علم لوگ دوسروں کو برے افعال سے روکتے نہیں تھے۔ سورة المائدہ میں اسی جرم کے باعث بنی اسرائیل پر حضرت دائود اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کی زبان سے لعنت کی گئی ہے۔ اور سبت کے احکام کی خلاف ورزی کے نتیجے میں ان لوگوں پر بھی عذاب نازل کردیا گیا جو خود اس جرم میں شریک نہیں تھے لیکن دوسروں کو روکنے کی زحمت نہیں کرتے تھے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرض کیا گیا ہے۔ تواصی بالصبر آخری چیز جو اہل ایمان کے معاشرے کو خسارے سے بچانے کے لیے لازمی قرار دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس معاشرے کے افراد ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے رہیں۔ یعنی حق کی اطاعت میں اگر مشکلات پیش آئیں تو گھبرانے کی بجائے صبر و استقامت کی تصویر بن جائیں۔ اسلام نے جن باتوں کی پابندی کا حکم دیا ہے انھیں بجا لانے پر صبر کریں یعنی اطاعت میں کمزوری نہ آنے دیں اور اپنے طریقے پر جمے رہیں۔ ہرچند کہ معاشرہ گناہوں پر ہر ممکن طریقے سے آمادہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ مگر اس کی ترغیبات اور اس کے پریشرز پر صبر کریں یعنی گناہوں سے اجتناب کریں۔ اور اگر نیکی پر عمل کرتے ہوئے کسی نقصان یا سزا کا سامنا کرنا پڑے تو اس پر صبر کریں یعنی اسے برداشت کریں۔ یعنی صبرعلی المصائب، صبرعلی الطاعات اور صبر عن المعصیات کا پیکر بن جائیں۔ جب ایک امت ان صفات سے متصف ہو کر میدانِ عمل میں نکلے گی تو باطل ان کا راستہ روک نہیں سکے گا۔ اور جب تک وہ ان صفات سے متصف رہے گی تو حق کا پرچم سربلند رہے گا اور کوئی طوفان ان کو سرنگوں نہ کرسکے گا اور کوئی آندھی ان کی روشن کی ہوئی شمع کو بجھا نہ سکے گی۔ عہدِنبوت اور عہد صحابہ کے شب و روز اس کی زندہ گواہی ہیں۔ اور تاریخ کبھی اس سے انکار نہیں کرسکتی۔ مختصر یہ کہ زمانہ اس بات کا گواہ ہے کہ عہدماضی میں وہ قومیں ہمیشہ شکست و ریخت کا شکار ہوئیں جنھوں نے ایمان و عمل، ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور راہ حق میں آنے والی مشکلات میں صبر سے کنارہ کشی کی۔ اور گزرتا ہوا زمانہ بھی اس بات پر شاہد ہے کہ امت مسلمہ جو کبھی اس دھرتی کی سب سے بڑی قوت تھی اور جس نے زندگی کے ہر میدان میں سچائی اور راستی کی شمع روشن کی تھی اور اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اطاعت کے چراغ جلائے تھے اور اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا عنوان بن کر رہی تھی آج وہ زوال کے انتہائی دور سے گزر رہی ہے۔ لادینی قوتیں اس طرح اس پر حملہ آور ہیں جیسے بھوکے دسترخوان پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ اور وہ اپنی افرادی قوت کی بےپناہی کے باوجود اپنا دفاع کرنے پر قادر نہیں۔ وجہ اس کی صرف ایک ہی ہے کہ ان کے ایمان اور عمل میں خرابیوں کی ہر قسم در آئی ہو۔ وہ ایمان کی بجائے تشکک اور ارتیاب کی تصویر بن گئے ہیں۔ ان کا علم اور دانش غیروں کے ایجنٹ اور اپنوں کے دشمن بن گئے ہیں۔ ان کی قوت حاکمہ لادینی قوتوں کی آلہ کار بن کر رہ گئی ہیں۔ انھیں نہ آخرت کا یقین ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر بھروسہ ہے۔ ان کے اعمال بدترین قسم کی بداعمالیوں کی تصویر بن گئے ہیں۔ بدعملی اور بےعملی کا ہر روگ ان میں پایا جاتا ہے۔ مسجدیں نمازیوں کی کمی پر مرثیہ خواں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے راستے پر چلنے والے اپنوں کے ہاتھوں سے ادھیڑے کھدھیڑے جارہے ہیں۔ تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کا ایک ایک ٹانکا ٹوٹ کر رہ گیا ہے۔ لیکن پیش نظر سورة مبارکہ کا سبق یہ ہے کہ ہم جب تک عہد رفتہ کی طرف نہیں لوٹیں گے اور اس صورت میں بیان کردہ حقائق کو مشعل راہ نہیں بنائیں گے اس وقت تک خسارے سے بچ نکلنے کی کوئی صورت نہیں۔ ہم جیسے جیسے اندھیروں کی طرف بڑھتے جارہے ہیں ویسے ویسے روشنی کی ضرورت فراواں ہوتی جارہی ہے۔ یہ بزم آب و گل جتنی کہ برہم ہوتی جاتی ہے محمد ﷺ کی شریعت اور محکم ہوتی جاتی ہے