Ayah 104:1وَیْلٌ لِّـکُلِّ ھُمَزَۃٍ لُّمَزَۃِ نِ ۔ (الہمزۃ : 1)
(ہلاکت ہے ہر اس شخص کے لیے جو (روبرو) طعنے دیتا ہے اور پیٹھ پیچھے عیب جوئی کرتا ہے۔ )
ھُمَزَۃٍ اور لُمَزَۃِ کا مفہوم
ھُمَزَۃٍاور لُمَزَۃِ دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں ھُمَزَۃٍ کا معنی ہے اشارہ باز، اور لُمَزَۃِ کا معنی ہے عیب جو اور عیب چیں۔ یہ دونوں معنی کے اعتبار سے ایک دوسرے کے اتنے قریب ہیں کہ کبھی دونوں کو ایک ہی معنی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی دونوں ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ یعنی ھُمَزَۃٍ کا معنی عیب جو اور لُمَزَۃِ کا معنی اشارہ باز کیا جاتا ہے۔ یعنی دونوں کے معنی میں گہری مناسبت ہے۔ اشارہ بازی کا تعلق زیادہ تر حرکتوں اور ادائوں سے ہے۔ اور عیب جوئی کا تعلق زبان سے۔ جہاں کسی غریب یا کمزور سے آمنا سامنا ہو تو اس کے منہ پر ایسی حرکتیں کی جاتی ہیں کہ جس سے اشاروں ہی اشاروں میں اس کی توہین کی جاتی ہے۔ اور جہاں یہ اندیشہ ہو کہ اگر میں نے اس شخص کے سامنے کوئی ایسی ویسی بات کہی تو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تو پھر سامنے یا تو خاموشی اختیار کی جاتی ہے اور یا تعریف کی جاتی ہے۔ اور اس کے چلے جانے کے بعد اس کے عیب تلاش کیے جاتے ہیں اور اس کی غیبت کی جاتی ہے۔ ایسی صورت میں چونکہ کسی ردعمل کا اندیشہ نہیں ہوتا اس لیے یہ سلسلہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ امرِ واقعہ یہ ہے کہ معنی کے اعتبار سے دونوں میں فرق بھی ہو جب بھی یہ دونوں ایک ہی کردار کے دو پہلو ہیں اور دونوں کا الگ الگ استعمال کم کم ہی ہوتا ہے۔ عموماً ایک سے بات شروع ہوتی ہے تو دوسرے سے بات آگے بڑھتی ہے۔ اور پھر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جو شخص اس طرح کی حرکتیں کرتا ہے وہ عام طور پر اس کا عادی ہوتا چلا جاتا ہے اور پھر معاملہ اشارہ بازی اور عیب جوئی تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایسے شخص میں وہ تمام خرابیاں جمع ہوجاتی ہیں جو اس وقت مکہ کے چھوٹے بڑے لوگوں میں عمومی طور پر اور طبقہ امراء میں خصوصی طور پر عام ہوچکی تھیں جس کا ذکر قرآن کریم نے مسلمانوں کو ان برائیوں سے بچانے کے لیے ایک ہی آیت میں کیا ہے جس کے مصداق بظاہر الگ الگ معلوم ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ ایک ہی کردار کے مختلف اظہار ہیں۔ سورة القلم میں ارشاد فرمایا گیا :
وَلاَ تُطِعْ کُلَّ حَلاَّفٍ مَّھِیْنٍ ۔ ھَمَّازٍمَّشَآئٍ م بِنَمِیْمٍ ۔ مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ ۔ عُتُلٍم بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ ۔ اَنْ کَانَ ذَا مَالٍ وَّبَنِیْنَ ۔
(اور تم ہر لپاٹیے ذلیل کی بات کا دھیان نہ کرو، اشارہ باز اور لگانے بجھانے والے کا، بھلائی سے روکنے والا، حدود سے تجاوز کرنے والا اور حق کو تلف کرنے والا، اجڈ مزید برآں چاپلوس، بوجہ اس کے کہ و مال و اولاد والا ہوا)
جس طرح ہر نیکی کے بطن سے کئی نیکیاں جنم لیتی ہیں، اسی طرح آیت میں مذکور دو برائیوں سے وہ ساری برائیاں پیدا ہوتی ہیں جن کا ذکر سورة القلم میں کیا گیا ہے۔ اور آنحضرت ﷺ نے بھی اسی طرح کی بعض برائیوں کی مذمت فرمائی ہے جو ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ارشاد فرمایا : شرارعباد اللہ تعالیٰ المشاء ون بِالْـنَّمِیْمَۃِ المفرقون بین الاحبۃ الباعون البراء العنت ” اللہ کے بندوں میں بدترین وہ لوگ ہیں جو چغل خوری کرتے ہیں اور دوستوں کے درمیان فساد ڈلواتے ہیں اور بےگناہ لوگوں کے عیب تلاش کرتے ہیں۔ “
قریش اور دیگر مخالفین کا معمول یہ تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ اور دیگر مسلمانوں کا مذاق اڑانے، توہین و تذلیل کرنے اور دوسروں کی نگاہوں سے انھیں گرانے کے لیے کبھی سامنے رودررو مختلف حرکتوں اور اشاروں سے کام لیتے تھے۔ اور کبھی پیٹھ پیچھے ان کی عیب جوئی کرتے۔ قرآن کریم نے ان کی اخلاقی برائیوں کو ذکر فرما کر ان کے پر اپیگنڈے کو کمزور کرنے کی کوشش فرمائی۔ اور ان میں سے جن لوگوں نے بظاہر حُسنِ اخلاق کا نقاب پہن رکھا تھا ان کے چہرے سے ان کا نقاب اتار دیا ہے۔ اور یہ بھی اشارہ کردیا ہے کہ ان کی اخلاقی خرابیاں صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ ان کا سلسلہ دور تک پھیلا ہوا ہے۔
Ayah 104:2الَّذِیْ جَمَعَ مَالاً وَّعَدَّدَہٗ ۔ (الہمزۃ : 2)
(جس نے مال جمع کیا اور اس کو گنتا رہا۔ )
متذکرہ بالا اخلاقی خرابیوں کا اصل سبب
اس آیت میں ان کی اخلاقی خرابیوں کے اصل سبب سے پردہ اٹھایا ہے یعنی جو لوگ مسلمانوں کے ساتھ توہین و تذلیل کا رویہ اختیار کرتے ہیں اس کا حقیقی سبب یہ ہے کہ انھیں اپنی مالداری کا غرور ہے۔ وہ مال کو حقیقی طاقت سمجھ کر اس کی محبت میں اس طرح ڈوبے رہتے ہیں کہ انھیں سوائے دولت کے جمع کرنے کے اور کسی بات کا ہوش نہیں رہتا۔ اور اسے چونکہ طاقت کا حقیقی سبب سمجھتے ہیں اس لیے جن لوگوں کے پاس مال و دولت نہیں اور وہ بظاہر اسبابِ دنیا سے تہی دامن نظر آتے ہیں تو یہ دولت کی طاقت کے زعم میں ان کی تذلیل کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اور مال و دولت کے بارے میں ان کا گمان یہ ہے کہ یہ شاید انسان کو دوام بخش دیتی ہے۔ اس لیے وہ ہر وقت اس کو گنتے رہتے ہیں۔ یعنی ان کے سر پر یہ دھن سوار رہتی ہے کہ میری دولت میں وقت کے ساتھ ساتھ کتنا اضافہ ہوا ہے۔ اور یہ فکر رہتی ہے کہ میرے کسی کاروبار میں کہیں ایسی کمزوری پیدا تو نہیں ہورہی جس میں مال کے کم ہوجانے کا اندیشہ ہو۔ مال میں یہی کمی بیشی کا تصور ان کی زندگی بن کر رہ جاتا ہے۔ وہ اسی کے لیے جیتے اور اسی کے لیے مرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان کے اندر ایسی خست پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ ایک پائی بھی کسی غریب و یتیم کی امداد کے لیے خرچ کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔
Ayah 104:3یَحْسَبُ اَنَّ مَالَـہٗٓ اَخْلَدَہٗ ۔ (الہمزۃ : 3)
(وہ سمجھتا ہے کہ اس کے مال نے اسے لافانی بنادیا ہے۔ )
مال و دولت میں گہرے انہماک کا سبب
اس کے مال و دولت میں گہرے انہماک کا اصل سبب یہ ہے کہ اس کا گمان یہ ہے کہ یہ مال اسے کبھی مرنے نہیں دے گا بلکہ اسے زندہ وجاوید رکھے گا۔ یعنی مال کی محبت ایک ایسا دھوکہ یا ایسا نشہ ہے جو موت جیسی حقیقت کو بھی آنکھوں سے اوجھل کردیتا ہے۔ وہ دوسروں کے جنازے اٹھتے ہوئے دیکھتا ہے لیکن اپنی موت اسے کبھی یاد نہیں آتی۔ ٹھیک کہا کسی نے :
جہاں میں ہیں عبرت کے ہر سو نمونے
مگر تجھ کو اندھا کیا رنگ و بو نے
قومیں جب بگڑتی ہیں تو ان کے بگاڑ کا حقیقی سبب یہی مال و دولت میں استغراق ہوتا ہے۔ وہ دولت دنیا میں اپنے لیے دوام دیکھنے لگتے ہیں۔ سورة شعراء میں اسی ذہنیت کی عکاسی فرمائی گئی ہے۔ ارشاد فرمایا :
اَتَبْنُوْنَ بِکِلِّ رِیْعٍ آیٰـۃً تَعَبَثُوْنَ ۔ وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّـکُمْ تَخْلُدُوْنَ ۔
” کیا تم ہر بلندی پر بیکار یادگاریں تعمیر کرتے رہو گے اور شاندار محل تعمیر کرتے رہو گے گویا تمہیں ہمیشہ یہیں رہنا ہے “
یعنی جن لوگوں کی زندگی کا عمومی رویہ یہ ہو کہ وہ ہر معاملے میں دولت دنیا کو ترجیح دیتے اور دنیا ہی کو اپنی منزل سمجھتے ہوں تو ان کے بارے میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ وہ زبان سے کیا کہتے ہیں بلکہ ان کے طرزعمل سے ان کی زندگی کی تصویرکشی کی جاتی ہے۔ جو شخص آخرت کا قائل ہوگا اسے تجوریوں کی فکر نہیں ہوگی بلکہ اس کے پیش نظر کردارسازی کے محل کی تعمیر رہے گی۔ یہی وہ پیمانہ ہے جس سے کسی قوم کی حقیقت سامنے آتی ہے۔
Ayah 104:4کَلاَّ لَـیُنْبَذَنَّ فِی الْحُطَمَۃِ ۔ (الہمزۃ : 4)
(ہرگز نہیں ! وہ چور چور کردینے والی میں پھینک دیا جائے گا۔ )
بخیلوں کو تنبیہ
لَـیُنْبَذَنّ … نبذ سے ہے۔ کسی چیز کو حقیر اور بےقیمت سمجھ کر پھینک دینے کے لیے بولا جاتا ہے۔ کافر چونکہ یہ گمان کرتا ہے کہ مال و دولت نے اسے عمردوام عطا کردی اور اس کے اندر صفت خلود پیدا کردی ہے۔ اسی وجہ سے وہ اپنے آپ کو دوسروں سے برتر اور بیش قیمت سمجھتا ہے۔ اس کے اس تصور پر چوٹ لگاتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اسے اس طرح پھینک دیا جائے گا جس طرح بےقیمت چیز کو بوجھ سمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے۔
حُطَمَۃِ ، حَطَمَکے مادہ سے ہے جس کے معنی چور چور کردینے کے ہیں۔ اس کے اندر مبالغہ کا معنی پایا جاتا ہے۔ یہ جہنم کی آگ ہے یا کوئی خاص وادی ہے کہ جو اتنی گہری ہے اور اس کی آگ اتنی شدید ہے کہ جو چیز بھی اس میں اوپر سے پھینکی جاتی ہے اسے وہ توڑ پھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ ایسے مالدار لوگ جو مال و دولت کے گھمنڈ میں اپنے تئیں دوسروں سے بالاتر اور بیش قیمت سمجھتے تھے انھیں اس وادی میں پھینکا جائے گا۔ جو انھیں بھی اور ان کے مال و دولت کو بھی چور چور کر کے رکھ دے گی۔ اس لفظ میں توہین اور خفت کا پہلو بھی ہے، اور عذاب کی شدت کا بھی۔ اور یہ آگ اور یہ جگہ بخیل مالداروں کے لیے اس لیے منتخب کی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بخیل سرمایہ دار اپنی دولت سونے چاندی کی اینٹوں، زیورات، ظروف اور جواہرات وغیرہ کی شکل میں محفوظ کرتے تھے۔ ایسی دولت کا انجام یہی ہونا چاہیے تھا کہ اسے جلا کر اور چور چور کرکے پراگندہ کردیا جائے اور ان کے مالک جو اپنے تئیں حیاتِ جاوداں کا حامل سمجھتے تھے وہ بھی اس ہولناک عذاب کی نذر کردیئے جاتے۔
Ayahs 104:5–7وَمَـآ اَدْرٰ کَ مَاالْحُطَمَۃُ ۔ نَارُاللّٰہِ الْمُوْقَدَۃُ ۔ الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْئِدَۃِ ۔ (الہمزۃ : 5 تا 7)
(اور تم کیا جانو کہ چور چور کردینے والی کیا ہے۔ وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔ جو دلوں پر جا چڑھے گی۔ )
الْحُطَمَۃُ کی خصوصیت
اس چور چور کردینے والی آگ کی ہولناکی کو نمایاں کرنے کے لیے فرمایا کہ تم کیا جانو وہ چور چور کردینے والی کیا ہے اور کیسی ہے۔ ظاہر ہے کہ خالق کے سوا اس کا جواب اور کون دے سکتا ہے۔ اس لیے پروردگار نے خود ہی فرمایا کہ وہ ایسی آگ ہے جس میں دو صفتیں پائی جاتی ہیں۔ پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آگ ہے۔ جہنم کی کسی وادی کی آگ کو اللہ تعالیٰ کی آگ سے تعبیر نہیں کیا گیا۔ صرف اس آگ کی اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت اس کی ہولناکی، شدت اور تباہ ناکی کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ اور دوسری صفت اس میں یہ ہے کہ وہ صرف جسموں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ براہ راست دلوں پر حملہ کرے گی۔ کیونکہ اطلاع کے لفظ میں جہاں دلوں پر جا چڑھنے کا مفہوم شامل ہے وہیں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ وہ دلوں کے حالات سے باخبر ہوگی۔ جب وہ یہ جانے گی کہ ان دلوں میں مال کی محبت ایسی راسخ ہوگئی ہے کہ خدا اور آخرت کی یاد کے لیے کوئی جگہ ان میں باقی نہیں رہی۔ اور اس محبت اور تعلق کے زیراثر ان کے دل برے خیالات، فاسد عقائد، ناپاک خواہشات اور خبیث نیتوں اور ارادوں کا مرکز بن گئے ہیں۔ بنا بریں ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس جگہ پر حملہ کیا جائے جو اصل جرائم کی جگہ ہے اور جس کے بگاڑ کی وجہ سے انسانی زندگی اس صورتحال سے دوچار ہوئی ہے۔ دل بظاہر سینے میں دھڑکنے والا ایک لوتھڑا ہے جو خون کو پمپ کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ قرآن و سنت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر یا اس کے قرب میں کوئی ایسا مقام بھی ہے جو انسانی اعضاء کے ساتھ ساتھ انسانی شعور و ادراک اور عقائد و افکار کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔ انسانی اصلاح بھی ہمیشہ اسی کی اصلاح سے وابستہ رہی ہے اور انسانی بگاڑ بھی اسی کے بگاڑ کا نتیجہ ہے۔ تو یہ بات نہایت فطری ہے کہ سزا دینے کے لیے بھی سب سے پہلے اسی جگہ کا انتخاب کیا جائے جو جرائم کی آماجگاہ اور پرورش کی جگہ ہے۔ اور اس کے اندر قدرت نے یہ صلاحیت بھی رکھی ہے کہ وہ جہاں مجرموں کو پہچانتی ہے وہاں جرائم کی نوعیت کو بھی سمجھتی ہے۔
Ayahs 104:8–9اِنَّھَا عَلَیْہِمْ مُّؤْصَدَۃٌ۔ فِیْ عَمَدٍمُّمَدَّدَۃٍ ۔ (الہمزۃ : 8، 9)
(بیشک وہ آگ ان پر بند کردی جائے گی۔ اس حالت میں کہ وہ اونچے اونچے ستونوں میں جکڑے ہوئے ہوں گے۔ )
مجرموں کی بےبسی
گزشتہ آیات سے ایک تو آگ کی شدت اور اس کی ہولناکی سے دل سہم سہم جاتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مجرموں کی بےبسی بھی دید کے قابل ہوگی کہ انھیں اس وادی میں پھینک کر اوپر سے اس وادی کو ڈھانک کر بند کردیا جائے گا تاکہ اس کی تپش اندر سے باہر نکلنے نہ پائے۔ اور مزید ان کی بےبسی کا حال یہ ہوگا کہ وہ لمبے لمبے ستونوں اور بڑی بڑی زنجیروں میں بندھے ہوئے ہوں گے۔ اور حضرت ابن عباس ( رض) کہتے ہیں کہ آگ کی لپٹیں اور اس کے منہ زور شعلے لمبے لمبے ستونوں جیسے ہوں گے۔
مقصود صرف یہ ہے کہ انسان کو جس چیز نے سب سے زیادہ تباہ کیا ہے وہ اس کی زبان کا بگاڑ اور اس کے اخلاق کی پستی ہے۔ اور جس چیز نے انسانیت کو نہ صرف خطرات کی نذر کیا بلکہ حیوانوں سے بھی نیچے گرایا، وہ اس کی مال و دولت سے حد سے بڑھی ہوئی محبت ہے۔ اور انسان عجیب واقع ہوا ہے کہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ نے اسے علم و دانش کا سرمایہ بخشا ہے اور اس کے دل کو عشق کے گداز سے معمور فرمایا ہے اور دوسری طرف اس کی پستی کا عالم یہ ہے کہ مال و دولت کی محبت کا اسیر ہو کر وہ انسانی اقدار تک کو بھول جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ دنیا میں رشتوں ناتوں کی شکست و ریخت، رحم و مروت کے جذبات کی تباہی، اخوت و محبت کا فقدان۔ اور آخرت میں وہ ہولناک انجام ہے جس کا نقشہ اوپر کی آیات میں کھینچا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس تباہی سے محفوظ رکھے۔