105. Surah Al-Fil
الفيلThe Elephant · 5 ayahsروح القرآن
اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ Open ayah 105:1 in the Quran reader
کیا تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ؟
اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّـکَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِ ۔ (الفیل : 1)
(کیا تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ؟ )
خطاب کی نوعیت
اس آیت کریمہ میں سب سے پہلی بات اس کا اسلوبِ خطاب ہے۔ خطاب صیغہ ٔ واحد سے کیا گیا ہے جس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ اس کے مخاطب ہیں۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں، کیونکہ جس بات کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے اس کا ہدف آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی نہیں بلکہ وہ تمام لوگ ہیں جو آنحضرت ﷺ کی دعوت کو قبول کرنے سے گریزاں ہیں۔ رہی یہ بات کہ خطاب کے الفاظ واحد کا مفہوم ادا کرتے ہیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ خطاب کسی ایک ذات کو کیا جارہا ہے، لیکن مضمون کو دیکھتے ہوئے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خطاب لفظاً واحد ہے لیکن معنی کے اعتبار سے جمع ہے۔ اور یہ طرزخطاب قرآن کریم نے اور بھی متعدد مواقع پر استعمال کیا ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ خطاب تو سب کو کیا جارہا ہے لیکن واحد کا لفظ لا کر یہ بتانا مقصود ہے کہ اس سے مخاطب گروہ کے ایک ایک فرد کو فرداً فرداً متوجہ کرنا ہے۔ دوسری بات جس کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ کیا تم نے نہیں دیکھا۔ دیکھنے سے مراد کسی واقعہ کے یقینی ہونے کی طرف اشارہ ہوتا ہے اور مراد اس کی وہ شہرت عام ہوتی ہے جس نے لوگوں نے اندر یقین کی کیفیت پیدا کی ہوتی ہے۔ یہاں بھی یہی کہا جارہا ہے کہ جس واقعہ کی طرف ہم اشارہ کررہے ہیں وہ واقعہ اس قدر مشہورومعروف ہے کہ عرب کے عام لوگ بھی اس سے آگاہ ہیں اور ان میں بہت سے ایسے لوگ زندہ موجود ہیں جنھوں نے اپنی آنکھوں سے ابرھہ اور اس کے لشکر کی تباہی دیکھی۔ پھر ان کی متواتر روایات سے ان لوگوں تک یقین کی دولت پہنچی جنھوں نے بچشم سر اس واقعہ کو دیکھا تھا۔ اور ہم اس سے پہلے خلاصہ میں بھی عرض کرچکے ہیں کہ اس واقعہ کے 50 دن کے بعد آنحضرت ﷺ کی ولادت ہوئی اور عہد نبوت کے ابتدائی سالوں میں یہ سورة نازل ہورہی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سورة کے نزول کے وقت اس واقعہ کو بیتے ہوئے چوالیس پینتالیس سال سے زیادہ عرصہ نہیں گزر تھا۔
اصحابُ الفیل کون تھے ؟
یہ عظیم واقعہ جن لوگوں کے ساتھ پیش آیا قرآن کریم نے ان کی تفصیل بیان کرنے کی بجائے اصحابُ الفیل کہہ کر ان کی طرف اشارہ کردیا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ لوگ اصحابُ الفیل ہی کے نام سے پہچانے جاتے تھے اور اس سال کو عام الفیل کہا جاتا تھا جس سال میں یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ اور لوگ ان ہی حوالوں سے اس واقعہ کی ایک ایک خبر کو ذہنوں میں محفوظ رکھے ہوئے تھے۔ اس لیے جیسے ہی قرآن کریم نے اصحابُ الفیل کی طرف توجہ دلائی تو کسی کے لیے یہ کہنے کا موقع نہ رہا کہ یہ لوگ کون تھے۔ کیونکہ مشاہدہ کرنے والوں کی اتنی بڑی تعداد ابھی تک موجود تھی جن کی روایت در روایت نے پورے ملک کو اس واقعہ سے آگاہ کر رکھا تھا۔
اصحابُ الفیل کے نام سے یہ بات تو معلوم ہوجاتی ہے کہ اس لشکر کے ساتھ ہاتھی بھی تھے۔ اور عربوں کے لیے یہ پہلا موقع تھا کہ انھوں نے کسی لشکر کے ساتھ ہاتھیوں کو بھی دیکھا تھا۔ ورنہ وہ اس جانور کے نام سے واقف تو تھے لیکن اس کے اس کردار سے واقف نہ تھے۔ لیکن اس سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ ان کی تعداد کیا تھی۔ ہاتھی ایک تھا یا زیادہ۔ لیکن جتنی روایات ہم تک پہنچی ہیں ان میں 9 یا 13 ہاتھیوں کا ذکر ہے۔ اور اصحاب کے لفظ سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ ہاتھی کو چلانے والا ایک ہی ہوتا ہے۔ اور جب ایک سے زیادہ لوگوں کا تذکرہ ہوگا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہاتھی ایک سے زیادہ تھے۔ اس لیے جن مؤرخین نے 9 یا 13 کی تعداد کا ذکر کیا ہے وہ زیادہ قرین صواب معلوم ہوتا ہے۔
اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ Open ayah 105:2 in the Quran reader
کیا اس نے ان کی تدبیر کو اکارت نہیں کردیا
اَلَمْ یَجْعَلْ کَیْدَھُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍ ۔ (الفیل : 2)
(کیا اس نے ان کی تدبیر کو اکارت نہیں کردیا۔ )
اللہ تعالیٰ نے ابرھہ کی تدبیروں کو ناکام کردیا
کَید کا لفظ کسی شخص کو نقصان پہنچانے کے لیے ظاہر تدبیر پر بھی بولا جاتا ہے اور خفیہ تدبیر پر بھی۔ یہاں دونوں ہی معنی مراد معلوم ہوتے ہیں۔ ابرھہ کی ظاہر تدبیر تو یہ تھی کہ وہ 60 ہزار کا عظیم لشکر کئی ہاتھیوں کے ساتھ لے کر مکہ پر حملہ آور ہوا۔ اور اس نے روانہ ہونے سے پہلے صاف صاف اعلان کیا کہ وہ کعبہ کو ڈھانے جارہا ہے اور کسی قیمت پر بھی اسے مسمار کیے بغیر نہیں چھوڑے گا۔ البتہ جس چیز کو اس نے اس کا محرک قرار دیا وہ ظاہر نہیں بلکہ خفیہ تھی۔ اس کے اشتعال کی ظاہر وجہ تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس نے صنعاء میں جو کلیسا بنایا تھا عرب کے چند نوجوانوں نے اسے آگ لگا دی تھی۔ لیکن عربوں کے مزاج اور ان کی روایات کو دیکھتے ہوئے یہ بات قرین قیاس معلوم نہیں ہوتی۔ کیونکہ عرب چھپ کر وار کرنا نہیں بلکہ مردانہ وار لڑنا جانتے تھے۔ وہ تلوار کے دھنی تھے اس لیے بزدلوں والی حرکتیں ان سے بہت بعید معلوم ہوتی ہیں۔ صحیح بات یہ ہے اور جو قرین قیاس بھی معلوم ہوتی ہے کہ ابرھہ نے یہ حرکت اپنے آدمیوں سے کروائی اور پھر اسے بہانہ بنا کر عربوں پر حملہ آور ہوگیا۔ اور دوسری خفیہ تدبیر جس کا اس نے اظہار تک نہیں ہونے دیا وہ یہ تھی کہ وہ کعبہ کو ڈھا کر قریش کو کچل کر اور تمام اہل عرب کو مرعوب کرکے تجارت کا وہ راستہ عربوں سے چھین لینا چاہتا تھا جو جنوبِ عرب سے شام و مصر کی طرف جاتا تھا۔ حبشہ کی حکومت اور رومی حکومت کی سابقہ تاریخ بھی اس کی تائید کرتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ تمام تدبیریں ناکام اور اکارت کردیں۔ یہ لوگ طاقت کے بل بوتے پر کعبہ کو ڈھانے کے لیے آگے بڑھے اور بظاہر ان کے سامنے کوئی طاقت نہ تھی جو ان کو روک سکے۔ قریش ان کی طاقت سے مرعوب ہو کر پہاڑوں پر جا چڑھے تھے۔ دور دور تک کوئی قوت ان کے راستے میں حائل ہونے والی نہ تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام تدبیروں کو اس طرح ناکام بنایا کہ خود ان کا وجود بھی اس میں تحلیل ہو کر رہ گیا۔ سارا لشکر تباہ ہوگیا اور تین چار سال میں حبشی اقتدار کا یمن سے ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوگیا۔
وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ Open ayah 105:3 in the Quran reader
اور ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیجے
وَّاَرْسَلَ عَلَیْھِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَ ۔ (الفیل : 3)
(اور ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیجے۔ )
ابابیل کا مفہوم
ابرھہ کا لشکر جیسے ہی آگے بڑھا تو سب سے پہلے تو ان کے سب سے اگلے ہاتھی جس کا نام محمود تھا نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔ جب بھی اسے آگے بڑھانے کی کوشش کرتے، وہ زمین پر بیٹھ جاتا۔ اور جب کسی دوسری طرف جانے کا اشارہ کرتے تو وہ اٹھ کر بھاگنے لگتا۔ ابھی اسی کشمکش میں تھے کہ مختلف سمتوں سے ان کی طرف پرندوں کے لشکر بڑھے۔ ابابیل لفظ جمع کا ہے، مگر اس کا کوئی مفرد مستعمل نہیں ہے۔ یہ کسی خاص جانور کا نام نہیں۔ اردو زبان میں جس خاص قسم کی چڑیا کو ابابیل کہتے ہیں یہاں وہ مراد نہیں۔ عربی زبان میں ابابیل کے معنی ہیں بہت سے متفرق گروہ جو پے در پے مختلف سمتوں سے آئیں۔ عکرمہ اور قتادہ کہتے ہیں یہ جھنڈ کے جھنڈ پرندے بحراحمر کی طرف سے آئے تھے۔ قدیم مفسرین کہتے ہیں کہ اس طرح کے پرندے نہ کبھی پہلے دیکھے گئے اور نہ بعد میں دیکھے گئے۔ یہ نہ نجد کے پرندے تھے، نہ حجاز کے اور نہ تہامہ کے۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ یہ پرندے کبوتر سے کسی قدر چھوٹے تھے اور کوئی ایسی جنس تھی جو کبھی پہلے نہ دیکھی گئی۔ ابن عباس ( رض) کا کہنا ہے کہ ان کی چونچیں پرندوں جیسی تھیں اور پنجے کتوں جیسے تھے۔ ہر پرندے کی چونچ میں ایک ایک کنکر تھا اور پنجوں میں دو دو کنکر تھے۔
تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۪ۙ Open ayah 105:4 in the Quran reader
جو پھینکتے تھے ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر
تَرْمِیْہِمْ بِحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ ۔ (الفیل : 4)
(جو پھینکتے تھے ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر۔ )
سِجِّیْل سے مراد اور اس کی تفصیل
سِجِّیْلٍ یہ لفظ دراصل فارسی کے لفظ سنگ اور گل کا معرب ہے۔ اس سے مراد ایسی کنکریاں ہیں جو مٹی کو آگ میں پکانے سے بنتی ہیں۔ یعنی ان پرندوں کے پنجوں میں جو پتھر تھے وہ بظاہر تو پکی ہوئی مٹی کے تھے جن میں بظاہر کوئی طاقت والی بات نہ تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ان میں یہ تأثیر پیدا کردی گئی تھی کہ کسی طاقتور بندوق کی گولی بھی اس قدر تباہی نہیں مچاتی جس طرح ایک ایک کنکر ہلاکت کا پیغام بن کر رہ گیا تھا۔
فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠ Open ayah 105:5 in the Quran reader
پھر اللہ نے ان کو کھائے ہوئے بھس کی طرح کردیا
فَجَعَلَھُمْ کَعَصْفٍ مَّاکُوْلٍ ۔ (الفیل : 5)
(پھر اللہ نے ان کو کھائے ہوئے بھس کی طرح کردیا۔ )
عصف کا مفہوم اور ابرھہ کے لشکر کا انجام
عصف بھوسہ کو کہتے ہیں۔ اول تو خود بھوسہ ہی منتشر تنکے ہوتے ہیں پھر جبکہ اس کو کسی جانور نے جبا بھی لیا ہو، تو وہ تنکے بھی اپنے حال پر نہیں رہتے۔ ابرھہ کے لشکر میں جس پر یہ کنکر پڑی تھی اس کا یہی حال ہوگیا تھا کہ پہلے ان کی کھال جھڑتی تھی، پھر گوشت پگھلتا تھا اور پھر ہڈیاں ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگتی تھیں۔ اس طرح انسانی جسم بکھر کر رہ جاتا تھا اور بالکل ایسا لگتا تھا جسے جانوروں کا کھایا ہوا بھوسہ ہوتا ہے جو ان کے منہ سے گرگیا ہو۔ یہ انجام تھا ان لوگوں کا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے گھر کو مسمار کرنا چاہا۔ قریش تاریخ کے اس آئینہ میں اپنے ساتھ ہونے والے انجام کو دیکھ سکتے ہیں کہ اگر انھوں نے دعوت حق کو قبول نہ کیا اور ہر ممکن مخالفت سے اس دعوت کا راستہ روکا اور اللہ تعالیٰ کے رسول امین کو قتل کرنے کے منصوبے باندھے تو کوئی بڑی بات نہیں کہ ایک دن وہ بھی اسی انجام سے دوچار ہوں جس سے ابرھہ کا لشکر دوچار ہوا تھا۔