Al-Aadiyaat 100:7

Al-Aadiyaat · from ayah 7

100:7

وَاِنَّهٗ عَلٰی ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌ ۟ۚوَاِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِيۡدٌ

اور وہ اس سے آگاہ بھی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And indeed, he is to that a witness.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 25 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Aadiyaat

All translations of 100:7

اور وہ اس سے آگاہ بھی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یقیناً وه خود بھی اس پر گواه ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہ خود اس بات کا گواہ ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک وہ اس پر خود گواہ ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور یقیناً وہ اس (ناشکری) پر خود گواہ ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بیشک وہ اس بات پر یقینا (خود) گواہ ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اس بات کا یقینا وہ (خود بھی) گواہ ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ اپنے رویہ پر خود گواہ ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ خود اس پر گواہ بھی ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہ خود بھی اس پر گواہ ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ خود اس پر گواہ ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور وہ اس سے آگاہ بھی ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

and he himself is a witness to that,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and he himself is a witness to that fact,

— Muhammad Taqi Usmani

and he himself is a witness to that fact,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And to that He bears witness.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And indeed, he is to that a witness.

— Saheeh International

He himself knows this very well.

— Muhammad Sarwar

And most surely he is a witness of that.

— Muhammad Habib Shakir

And verily to that he is witness.

— Abdul Majid Daryabadi

And to that (fact) he bears witness (by his deeds);

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 100:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–11

انسان کا نفسیاتی تجزیہ : مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العدیات 5 یعنی اس کا ضمیر اس پر گواہ ہے، اس کے اعمال اس پر گواہ ہیں، اور بہت سے کافر انسان خود اپنی زبان سے علانیہ ناشکری کا اظہار کرتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک خدا ہی سرے سے موجود نہیں کجا کہ وہ اپنے اوپر اس کی کسی نعمت کا اعتراف کریں اور اس کا شکر اپنے ذمے لازم سمجھیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–7

فوسطن بہ جمعاً ، یعنی یہ دشمن کی صفوں میں بےخوف گھس جاتے ہیں۔ کنود کے معنی میں حضرت حسن بصریٰ نے فرمایا کہ وہ شخص جو مصائب کو یاد رکھے اور نعمتوں کو بھول جائے اس کو کنود کہا جاتا ہے۔ ابو بکر واسطی نے فرمایا جو اللہ کی نعمتوں کو اس کی معصیتوں میں صرف کرے وہ کنود ہے۔ اور ترمذی نے فرمایا کہ جو شخص نعمت کو دیکھے اور منعم یعنی نعمت دینے والے کو نہ دیکھے وہ کنود ہے۔ ان سب اقوال کا حاصل نعمت کی ناشکری کرنا ہے۔ اس لئے کنود کا ترجمہ ناشکر کا کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے: فرمایا کہ اس کے اس ناشکرے پن پر کوئی دلیل قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ خود اس پر سب سے بڑا گواہ ہے۔ یہ فقرہ اسی طرح کا ہے جس طرح سورۂ قیامہ میں فرمایا ہے: ’بَلِ الْإِنۡسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ ۵ وَلَوْ أَلْقٰی مَعَاذِیْرَہُ‘ (القیامہ ۷۵: ۱۴-۱۵) (بلکہ انسان خود اپنے اوپر حجت ہے اگرچہ وہ کتنے ہی عذرات تراشے)۔ جو باتیں انسان کی فطرت کے بدیہی مقتضیات میں سے ہیں وہ دلیل کی محتاج نہیں ہوتیں۔ ان کے حق میں سب سے بڑی گواہی خود انسان کی فطرت اور اس کے ضمیر کے اندر موجود ہوتی ہے۔ انسان اگر ان سے گریز اختیار کرتا ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ ان کے حق میں اس کو کوئی دلیل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

7۔ 1 یعنی انسان خود بھی اپنی ناشکری کی گواہی دیتا ہے۔ بعض لشہید کا فاعل اللہ کو قرار دیتے ہیں۔ لیکن امام شوکانی نے پہلے مفہوم کو راجح قرار دیا ہے، کیونکہ مابعد کی آیات میں ضمیر کا مرجع انسان ہی ہے۔ اس لیے یہاں بھی انسان ہی ہونا زیادہ صحیح ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 6–8

ان الانسان ............................ لشدید (6:100 تا 8) ” حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے ، اور وہ خود اس پر گواہ ہے ، اور وہ مال و دولت کی محبت میں بری طرح مبتلا ہے “۔ بیشک انسان اپنے رب کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے اور اللہ کے فضل وکرم کا عملی انکار کرتا ہے۔ اور اس کی یہ ناشکری اور کفران نعمت کئی شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے افعال سے اور اس کے اقوال سے ، چناچہ اس کے اعمال واقوال ہی اس کے اس جرم پر گواہ ہوتے ہیں۔ گویا آفتاب آمد دلیل آفتاب ، وہ اپنے اوپر خود گواہ بن جاتا ہے ، اور قیامت میں بھی ایسا ہی ہوگا۔ وانہ .................... ذلک لشھید (7:100) ” وہ خود اس پر گواہ ہے “۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی سرفروش مجاہدین کی اور ان کے گھوڑوں کی و فاشعاری اور شکر گذاری اس کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ پھر بھی بےحیا ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ (تنبیہ) ترجمہ کی رعایت سے ہم نے یہ مطلب لکھا ہے۔ ورنہ اکثر مفسرین اس جملہ کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ انسان خود اپنی ناشکری پر زبان حال سے گواہ ہے۔ ذرا اپنے ضمیر کی آواز کی طرف متوجہ ہو تو سن لے کہ اندر سے خود اس کا دل کہہ رہا ہے کہ تو بڑا ناشکرا ہے بعض سلف نے " انــہ " کی ضمیر رب کی طرف لوٹائی ہے۔ یعنی اس کا رب اس کی ناسپاسی اور کفران نعمت کو دیکھ رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7{ وَاِنَّہٗ عَلٰی ذٰلِکَ لَشَہِیْدٌ۔ } ”اور وہ خود اس پر گواہ ہے۔“ وہ اپنے اس طرزعمل سے خوب واقف ہے۔ جیسا کہ سورة القیامہ میں فرمایا گیا : { بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ۔ } کہ انسان اپنے خیالات ‘ جذبات اور کردار کے بارے میں خود سب کچھ جانتا ہے۔ چناچہ انسان خوب جانتا ہے کہ وہ قدم قدم پر اپنے رب کی ناشکری کا مرتکب ہو رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 دوسری بات جس پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی یہ ہے کہ انسان اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے کہ گھوڑا اپنے مالک کا اتنا وفادار ہوتا ہے کہ وہ اس کی خاطر لڑائی کے میدان میں جا گھستا ہے۔ جہاں ہر طرف قتل و غارت ہو رہی ہوتی ہے۔ اور بسا اوقات وہ اپنے مالک کی جان بچانے کی خاطر اپنی جان خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ مگر انسان ایسا نمک حرام واقع ہوا ہے کہ اپنے مالک اور رازق کے لیے جان و مال کی قربانی تو درکنار، وہ اپنے پروردگار کا شکر تک ادا نہیں کرتا بلکہ الٹا اس کے شکوے شکایت کرتا رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 6–7

2۔ (خواہ وہ گواہی زبان حال ہی سے کیوں نہ ہو) فالشھادۃ بلسان الحال الذی ھو افصح من لسان المقال (روح) (آیت) ” الانسان “۔ انسان سے مراد ایسے ہر سیاق میں کافر انسان سے ہوتی ہے۔ (آیت) ” انہ “۔ ضمیر ہ انسان کی طرف ہے، اے الانسان کماقال الحسن ومحمد بن کعب (روح) یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ انسان اپنے کفر پر قیامت میں ضرور گواہی دے گا۔ (آیت) ” علی ذلک “۔ یعنی اپنی اپنی ناشکری پر۔ اے علی کنوودہ (کشاف)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–11

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے ان گھوڑوں کی جو جہاد میں پھنکارتے ہوئے (ہانپتے ہوئے) دوڑتے ہیں، ضبح جوف (پیٹ) کی اس آواز کو کہتے ہیں جو دوڑتے وقت نکلتی ہے، پھر ان گھوڑوں کی جو ٹاپوں سے چنگاریاں جھاڑتے ہیں پھر ان گھوڑوں کی جو صبح سویرے دشمن پر شب خون مارتے ہیں، اپنے سوار کے شب خوب مارنے سے پھر اس موقع پر یعنی اپنے دوڑنے کی جگہ یا اس وقت اپنی شدید حرکت کی وجہ سے غبار اڑاتے ہیں پھر اسی غبار میں دشمن کے مجمع میں گھس جاتے ہیں یعی ان کے وسط تک پہنچ جاتے ہیں اور فعل کا عطف اسم پر اس لئے درست ہے کہ اسم فعل کی تاویل میں ہے، یعنی معنی میں واللاتی عدون،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانہ علی ذلک . ابن کیسان نے کہا کہ انہ کی ضمیر الانسان کی طرف راجع ہے اور ذلک سے اشارہ ناشکرا ہونے یا نافرمان ہونے یا بخیل ہونے کی جانب ہے۔ لشھید . یعنی اکثر انسان اپنے رب کی نعمتوں کے بڑے ناشکرے ہیں اور تھوڑے غور کے بعد وہ اپنی ناشکری یا نافرمانی یا کنجوسی پر شہادت بھی دیتے ہیں اور اس ناشکری پر شہادت دینے کی نشانیاں نمایاں ہوجاتی ہیں یا آخرت میں اپنے نفس کی شہادت دینگے ‘ اپنے گناہ کا اقرار کرینگے اور کہیں گے ہم نمازیوں میں سے نہیں تھے ‘ مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔ اکثر اہل تفسیر کے نزدیک وانہٗ کی ضمیر رب کی طرف راجع ہے یعنی انسان کے کنود ہونے پر اللہ واقف ہے ‘ اسکے علم سے کوئی چیز…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 3–8

(3۔ 8) پھر صبح کو اچانک حملہ کرتے ہیں پھر اس وقت غبار اڑاتے ہیں اور دشمنوں کی جماعتوں میں جا گھستے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ قسم ہے حاجیوں کے گھوروں اور ان کے اونٹوں کی جب وہ عرفات سے مزدلفہ کو آتے ہیں حالاں کہ ان کا سانس پھولا ہوا ہوتا ہے اور پھر وہاں آ کر آگ روشن کرتے ہیں اور علی الصباح پھر منی واپس جاتے ہیں آگے جواب قسم ہے کہ کافر آدمی یعنی قرط بن عبداللہ یا ابو حباب اپنے پروردگار کی نعمتوں کا بڑٓ ناشکر گزار ہے اور اس کو خود بھی اپنے اس فعل کی خبر ہے اور یہ شخص مال کثیر کی محبت میں مضبوط ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 6–7

(ان الانسان لربہ لکنود…:”کند یکند“ (ن)”کنودا“ (کاف کے ضمہ کے ساتھ ”النعمۃ“ نعمت کا انکار کرنا، ناشکری کرنا۔”کنود“ (کاف کے فتحہ کے ساتھ) بروزن ”فعرل“ بمعنی فاعل برائے مبالغہ ہے، بہت ناشکری کرنے والا۔ یہ مذکر و مونث دونوں کے لئے آتا ہے۔ اصل میں ”کنود“ اس زمین کو کہتے ہیں جو کوئی چیز نہ اگاتی ہو۔ اس سورت میں پہلی پانچ آیات میں قسمیں اٹھانے کے بعد چھٹی آیت میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ انسان یقیناً اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ یہ پانچوں قسمیں اس دعوے کی دلیل اور شاہد کے طور پر لائی گئی ہیں۔ اس کی تفصیل یہے کہ گھوڑے اپنے مالک کے ایسے وفادار اور شکر گزار ہیں کہ رات جب وہ انہیں لے کر نکلتے ہیں تو وہ بلا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اور وہ اس پر (خود) گواہ ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کے اس عمل پر گواہ ہے : منصور نے مجاہد سے یہی روایت کیا ہے ؛ یہی اکثر مفسرین کا قول ہے ؛ یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری، قتادہ اور محمد بن کعب نے کہا : انسان اپنے اعمال پر خود گواہ ہے ؛ مجاہد سے بھی یہی مروی ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة والعدیت مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ محمد بن نصر نے عطا بن ابی رباح کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا زلزلت الارض آدھے قرآن کے برابر ہے اور والعدیت آدھے قرآن کے برابر ہے۔ 3۔ محمد بن نصر نے عطا بن ابی رباح کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا زلزت آدھے قرآن کے برابر ہے آیت والعدیت آدھے قرآن کے برابر ہے اور قل ہوا للہ احد تہائی قرآن کے برابر ہے اور قل یا ایہا الکفرون چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔۔ 4۔ البزار وابن المنذر وابن ابی حاتم والدار قطنی فی الافراد وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَانهٗ عَلٰي ذٰلِكَ : حالانکہ بیشک وہ اس (بات) پر ][ لَشَهِيْدٌ: یقینا معائنہ کرنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِيْدٌۚ007﴾ (اور بلاشبہ انسان اس پر گواہ ہے) یعنی وہ اپنی ناشکری کے حال سے واقف ہے۔ وہ جانتا ہے میں کیسا ہوں اور کیا کیا کرتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

سرگرمی بہائم در اطاعت مالک ونافرمانی وناشکری انسان بآقاء رب العالمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والعدیت ضبحا ...... الی ........ ان ربھم بھم یومئذ لخبیر “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں مجازات اعمال کا قانون بیان کیا گیا تھا اور یہ کہ انسان اپنی زندگی میں جو بھی نیکی یا بدی کا عمل کرے گا روز قیامت قیامت کا اس بدلہ پاکر رہے گا، اب اس سورت میں انسان کی غفلت و لاپرواہی اور اپنے رب کی ناشکری کی مذموم خصلت بیان کی جارہی ہے اور یہ کہ دراصل اس روش کا منشاء حرص مال، لالچ اور نفس کی خواہش ہے، اس کے پیچھے پڑکر انسان اپنے رب کو بھلا دیتا ہے اور اس سے غافل ہوجاتا ہے کہ مرنے کے بعد اس کو دوبارہ زندہ ہونا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–7

2:۔ ” والعادیات ضبحا “ ہانپ ہانپ کر دوڑنے والے گھوڑے۔ ” فالموریات قدحا “ پتھریلی زمین پر دوڑتے وقت اپنے سموں سے چنگاریاں نکالنے والے۔ ” فالمغیرات صبحا “ پھر صبح صبح لوٹ مار کرنے والے۔ ” فاثرن بہ نقعا “ دوڑتے وقت گرد و غبار اڑاتے ہیں۔ ” فوسطن بہ جمعا “ پھر تیز رفتار کے ساتھ جماعتوں کے اندر گھس جاتے ہیں۔ ” ان الانسان لربہ لکنود “ یہ لوٹ مار کرنے والے گھوڑے اس پر شاہد ہیں کہ انسان اپنے پروردگار کا نہایت ہی ناشکر گذار ہے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ عامۃ المفسرین کے نزدیک یہ صفتیں مجاہدین کے گھوڑوں کی ہیں اور بعض کے نزدیک ان صفات سے فرشتے مراد ہیں۔ ” وانہ علی ذلک لشہید “ مذکورہ شواہد کے علاوہ انسان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–11

مکی زندگی میں نازل ہوئی ، تاہم حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت قتادہ اور امام مالک سے منقول ہے کہ یہ مدنی سورة ہے۔ اس کی گیارہ آیات ہیں۔ یہ سورة چالیس الفاظ اور ایک سو تریسٹھ حروف پر مشتمل ہے۔ گزشتہ سورة کے ساتھ ربط سابقہ سورة زلزال میں انسان کے جزائے عمل کا ذکر تھا کہ جزائے عمل کا واقع ہونا لازم ہے۔ اس سے پہلی سورة البینتہ میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہے ۔ انسان کو اللہ کی عبادت کرنی چاہئے اور حنیف بن کر رہنا چاہئے۔ بدنی اور مالی عبادات یعنی مال اور زکواۃ پر کاربند ہونا چاہئے۔ خدا کا خوف ہر وقت دل میں جاگزیں ہونا چاہئے۔ اس سورة مبارکہ میں ان بیماریوں کا ذکر ہے جو کہ مذکورہ بالا پروگرم پر عمل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 6–7

اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّہٖ لَكَنُوْدٌ۝ 6 ۚ إنس الإنس : خلاف الجن، والأنس : خلاف النفور، والإنسيّ منسوب إلى الإنس يقال ذلک لمن کثر أنسه، ولكلّ ما يؤنس به، ولهذا قيل :إنسيّ الدابة للجانب الذي يلي الراکب وإنسيّ القوس : للجانب الذي يقبل علی الرامي . والإنسيّ من کل شيء : ما يلي الإنسان، والوحشيّ : ما يلي الجانب الآخر له . وجمع الإنس أَناسيُّ ، قال اللہ تعالی: وَأَناسِيَّ كَثِيراً [ الفرقان/ 49] . وقیل ابن إنسک للنفس وقوله عزّ وجل : فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْداً [ النساء/ 6] أي : أبصرتم أنسا بهم، وآنَسْتُ ناراً [ طه/ 10] ، وقوله : حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا[ النور/ 27] أي : تجدوا إيناسا .…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–11

ترکیب ¦ وللقسم العادیات جمع عادیۃ من العدود ھوالمشی بسرعۃٍ فقلبت الواؤ یائً لکسرۃ ما قبلھا کا لغازیات من الغزو۔ والمراد بھا الخیل الجھادیۃ دقیل بعیر الحجاج ضبحا الضبح صوت اجواف الخیل اذا عدت وقیل السیر و نوع من العد و یقال ضبح الفرس اذا عد ابشدۃ من الضبح بمعنی الدفع وکان الحاء بدل من العین علی الاول منصوب علی الحال ای ضابحات وعلی الثانی مفعول مطلق موکد لاسم الفاعل و یجوزان یکون مصدر الفعل محدوف ای یضیح ضبحا۔ فالمو ریات قدحًا عطف العادیات من الایراء و ھوا اخراج النار جمع موریۃ والقدح الصک فجعل ضرب الخیل بحوا فرھا کالقدح بالزنا دوالکلام فی نصب قدحا کا لکالم ضبحا فالمغیرات ای التی تغیر علی العدو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 6–7

اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّہٖ لَـکَنُوْدٌ۔ وَاِنَّـہٗ عَلٰی ذٰلِکَ لَشَھِیْدٌ۔ (العٰدیٰت : 6، 7) (بیشک انسان اپنے رب کا نہایت ناشکرا ہے۔ اور وہ خود اپنے رویئے پر گواہ ہے۔ ) یہ ہے جوابِ قسم جس کے اثبات کے لیے قسمیں کھائی گئی ہیں یہ ہے وہ جوابِ قسم، یعنی وہ اصل بات جس پر گزشتہ قسمیں کھائی گئی ہیں۔ اور قسموں کے الفاظ گواہی دیتے ہیں کہ ان سے مراد اہل عرب کے وہ وفادار، جانثار اور فداکار گھوڑے ہیں جو اپنے مالک کا حقِ اطاعت و خدمت ادا کرتے ہوئے اس قدر تیز رفتاری کے ساتھ اپنے ہدف کی طرف بڑھتے ہیں کہ ان کے سینوں اور ان کے نتھنوں سے تیز سانس کی آوازیں نکلتی ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہایت تیز…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–8

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے گھوڑے اور بڑے بڑے جانوروں کو انسان کے تابع بنادیا ہے مگر انسان اپنے رب کا تابع فرمان ہونے کے لیے تیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین میں خلیفہ بنا کر ہر چیز کو اس کی خدمت پر لگا دیا ہے جن میں گھوڑا بھی اس کے خدام میں شامل ہے۔ گھوڑے پر غور فرمائیں کہ وہ اپنی جسامت اور طاقت کے اعتبار سے انسان سے کتنا طاقتور ہے اگر گھوڑا اپنے مالک سے سرکش ہو کر بھاگ نکلے تو مالک دوڑ کر اسے پکڑ نہیں سکتا، مالک سے جسامت اور طاقت میں بڑا ہونے کے باوجود نہ صرف گھوڑا سواری کے کام آتا ہے بلکہ جنگ کے موقع پر دشمن کی صفوں میں اس طرح آگے بڑھتا ہے جس طرح یہ اپنے دشمن کے خلاف کھڑا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

7 : وَاِنَّہٗ عَلٰی ذٰلِکَ لَشَھِیْدٌ (اور اس کو خود بھی اس کی خبر ہے) انہؔ بیشک انسان۔ ذلکؔ اپنی ناشکری پر۔ لشہید بذات خودگواہی دینے والا ہے۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ اس کی اس ناشکری کو دیکھنے والے ہیں۔ یہ بات بطور وعید فرمائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7 ۔” وانہ علی ذلک لشھید “ اکثر مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے ناشکرا ہونے پر گواہ ہیں اور ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں ھاء انسان کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی انسان اپنے نفس پر گواہ ہے اس پر جو وہ کررہا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–11

1۔ 11۔ اللہ تعالیٰ کا دین پھیلانے کے لئے جو لوگ گھوڑوں پر سوار ہو کر مخالف لوگوں پر حملہ کرتے تھے ان کے گھوڑوں کے دوڑنے اور دوڑنے میں ہانپنے اور پتھر پر دوڑتے وقت ان کے نعلوں میں سے آگ کے شعلے جھڑنے اور صبح کے وقت حملہ کرنے اور حملہ کے وقت گرد و غبار اٹھنے اور اس گرد و غبار میں سواروں کے دشمنوں میں گھس جانے کی ان سب باتوں کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا کہ انسان کی حالت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ بڑا ناشکرا ہے کیونکہ اللہ نے اس کو پیدا کیا۔ اس کی زیست بھر کے سب طرح کے آرام کا بندوست کیا۔ پھر یہ انسان اللہ کو چھوڑ کر اوروں کو اپنا معبود ٹھہراتا ہے اس سے بڑھ کر اور کون سی حالت ناشکری کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَاِنَّهٗ عَلٰي ذٰلِكَ لَشَهِيْدٌ) اور وہ اس پر گواہ ہے۔ یعنی انسان کے نفس کی طرف جو عدم سماحت اور ناشکری معروف ہے بیشک وہ بذات خود اس پر گواہ ہے وہ اس کو جھٹلا سکتا ہے نہ اس کا انکار کرسکتا ہے کیونکہ یہ بالکل ظاہر اور واضح ہے اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ کی طرف لوٹتی ہو یعنی بیشک بندہ اپنے رب کا ناشکرا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے وعید اور سخت تہدید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے جو اپنے رب کا ناشکرا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 6–7

(6) انسان کی بےانصافی اور ناشکری کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ انسان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔ کہ یہ اس کی ان طرح طرح کی بےحدو حساب نعمتوں سے ہر وقت اور ہر لحاظ سے مستفید و فیضیاب ہوتا ہے، اور اس قدر کہ ہر لمحہ و لحظہ میں اس کی جس قدر نعمتوں سے یہ فائدہ اٹھاتا ہے اس کا احصاء و شمار بھی کسی کے بس میں نہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر اسی کتاب عزیز و حکیم میں ارشاد فرمایا گیا ( آیت، ابراہیم 34 پ 13) مگر اس کے باجو ود یہ اس کا ناشکرا اور نافرمان اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ظلم یہ کہ یہ اس واہب مطلق کی بخشی ہوئی ان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–11

گھوڑے کی وفاداری سے بندہ سبق سیکھے تشریح : یہ سورت پوری کی پوری انسان کو راہ ہدایت دکھانے، آخرت، حساب کتاب اور اس سچی خبر کی تصدیق میں ہی نازل کی گئی ہے کہ دنیا کے عیش و آرام مال و دولت میں اس قدر مگن نہ ہوجاؤ کہ اپنے پیدا کرنے والے ' پرورش کرنے والے اور پھر اپنے آخری ٹھکانے سے ہی غافل ہوجاؤ۔ اس سچائیـ کو مزید تقویت دینے کے لیے اللہ تعالیٰ اس وفادار ' مضبوط اور انتہائی فرمانبردار پر خلوص جانور کی قسم کھا رہا ہے جو کہ تمام مفسرین کی رائے کے مطابق گھوڑا ہی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ تمام جانوروں میں سب سے زیادہ انسان کے کام آنے والا خاص طور سے جنگوں میں ' سفر میں اور بار برداری میں گھوڑا ہی ہے۔ یہ بڑا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–11

سورة العادیات۔ آیات 1 تا 11 اسرار ومعارف۔ قسم ہے جہاد میں دوڑنے والے گھوڑوں کی انکی مشقت کی ان کے نعلوں سے چنگاریاں نکلتی ہیں اور جب وہ علی الصبح کسی پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور پھر جب ہر طرف گرد اڑتی ہے اور دشمنوں کی فوج میں گھس پڑتے ہیں یعنی جہاد کا یہ سارامنظر اس بات پہ گواہ ہے انسان اپنے پروردگار کا سخت ناشکرا ہے کہ جو بات یعنی نظام اسلام اس کی بھلائی کے لیے تھا اس کے لیے روکاوٹ بن گیا اور اس کے نفاذ کے لیے جہاد کی ضرورت پیش آئی اللہ کو وہ جانور بھی پیارے ہیں جو اس کی راہ میں جہاد میں کام آئیں اور یہ انسان ہو کر اور خوب جانتے ہوئے کہ اسلام ہی سلامتی ہے اور یہ حق ہے پھر بھی اس کی مخالفت پہ کمربستہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 یعنی زبان حال سے خود گواہی دیتا ہے کہ میں بڑا ناشکرا ہوں۔ یہ مطلب اس صورت میں ہے جب ” انہ “ میں ’ ہ “ کی ضمیر انسان کے لئے ہو اور اگر یہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اس کی ناشکری کو دیکھ رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(100:7) وانہ علی ذلک لشھید۔ جملہ ھذا کا عطف ما قبل پر ہے۔ واؤ عاطفہ۔ ان حرف مشبہ بالفعل۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الانسان ہے۔ اسم ان۔ لشھید۔ لام تاکید کے لئے ہے شھید خبر ان : علی ذلک متعلق خبر، ذلک کا اشارہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں پر انسان کا بخل، جحود اور نافرمانی کی طرف ہے۔ اور وہ اپنے اس بخل کو دیکھ بھی رہا ہے۔ اس کے اپنے اعمال و اطوار اس کے بخل و ناشکری کے گواہ ہیں۔ یہ جملہ بھی جواب القسم میں ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–11

العدیت۔ دوڑنے والے گھوڑے۔ ضبح۔ ہانپتے ہوئے۔ الموریت۔ چنگاریاں نکالنے والے۔ قدح۔ آگ جھاڑ کر۔ المغیرات۔ وہ حملہ کرنے والے ہیں۔ اثرن۔ اٹھاتے ہیں۔ نقع۔ گردوغبار۔ وسطن۔ وہ بیچ میں گھس جاتے ہیں۔ کنود ۔ ناشکرا۔ شہید۔ گواہ۔ الخیر۔ مال و دولت۔ بعثر۔ باہر نکالا گیا۔ حصل۔ حاصل کیا گیا۔ تشریح : انسان کیچ اروں طرف اللہ نے اتنی نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے جنہیں شمار کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ یہ نعمتیں انسان سے اس بات کا مطالبہ کرتی نظر آتی ہیں کہ اسے ہر سانس میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں زندگی گزارنی چاہیے۔ اسے وہی کرنا چاہیے جس کے کرنے کا اس کو حکم دیا گیا ہے اور ہر اس بات سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–11

جہاد کی اہمیت وفضیلت۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ کا دین پھیلانے کے لیے جو لوگ گھوڑوں پر سوار ہوکر مخالف لوگوں پر حملہ کرتے ہیں ان کے گھوڑوں کے دوڑنے اور دوڑنے میں ہانپنے اور پتھر پر دوڑتے وقت ان کے نعلوں میں سے آگ کے شعلے جھڑنے اور صبح کے وقت حملہ کرنے اور حملہ کے وقت گردوغبار اٹھنے اور اس گردوغبار میں سواروں کے دشمنوں میں گھس جانے کی (حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں یہ جہاد والے سواروں کی ایک قسم ہے اس سے بڑا کون ساعمل ہوگا، کہ اللہ کے کام پر اپنی جان دینے کو حاضر ہیں اور یہ جہاد کرنے والے سواروں کی اللہ کی راہ میں سرفروشی وجانبازی بتلاتی ہے کہ وفادار وشکرگذار بندے ایسے ہوتے ہیں) ان سب باتوں کی اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[3] یعنی اس کا ضمیر اس پر گواہ ہے، اس کے اعمال اس پر گواہ ہیں اور بہت سے کافر انسان خود اپنی زبان سے بھی علانیہ ناشکری کا اظہار کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(7) اور بیشک وہ انسان اپنی ناسپاسی پر خود بھی گواہ ہے اور اس کو خود بھی اس کی خبر ہے - یا تو یہی مطلب ہے کہ جو ہم نے ابھی عرض کیا ہے کہ گھوڑوں کی وفاداری کو دیکھ کر بھی اس میں احسان مندی اور شکرگزاری کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا یا یہ مطلب ہے کہ تھوڑے سے تامل اور تھوڑی سی توجہ میں اس کو ناسپاسی کا یقین ہوسکتا ہے یعنی جو بات تھوڑے سے تامل سے معلوم ہوسکتی ہے وہ بمنزلہ معلوم ہونے کے ہی ہے اس علم بالقوۃ کو علم بالفعل کے مرتبے میں رکھ کر لفظ شہید فرمایا کہ اس کو خود بھی اس کی خبر ہے اور خود بھی جانتا ہے اور یہ انسان اپنی ناسپاسی پر خود بھی گواہ ہے گویا اس کی ناسپاسی اس کے سامنے ہے اور یہ اپنے کفران نعمت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–11

ف 4۔ اس سے مراد لڑائی کے گھوڑے ہیں جہاد ہو یا غیر جہاد اور عرب کو اس وجہ سے کہ وہ اہل رزم تھے ان قسموں سے نہایت مناسبت ہے، ہانپنا دوڑنے کے وقت ظاہر ہے اور نعل آہنی پتھریلی زمین پر لگنے سے آگ کا جھڑنا بھی ظاہر ہے اور عرب میں اکثر عادت دشمنوں پر صبح کے وقت تاخت کرنے کی تھی تاکہ رات کے وقت جانے میں دشمن کو خبر نہ ہو۔ صبح کو دفعة جا پڑیں اور رات کو حملہ نہ کرنے میں اظہار شجاعت سمجھتے تھے، غبار کا اڑنا گو ہر وقت ہوتا ہے مگر اس کو صبح کے ساتھ مقید کرنا شدت اسراع کی طرف اشارہ ہے کہ ٹھنڈے وقت غبار دبا ہوا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور بلا شبہ وہ خود بھی اپنے قول و فعل سے شہادت دے رہا ہے 7 ؎ فرمایا جا رہا ہے کہ انسان کے متعلق جو یہ کہا گیا ہے کہ وہ اکثر ناشکرگزار ہوتا ہے اس کے لیے خارجی شہادتوں کی ضرورت نہیں بلکہ ہر انسان خود بذاتہٖ اپنی ذات پر شہادت دے رہا ہے کہ وہ نا شکرا ہے کیونکہ جب اس نے نہ اور نہ ہی کو اپنی فطرت ثانیہ بنا لیا ہے اور سب کچھ ہونے کے باوجود وہ جہاں بیٹھتا ہے اس بات کا شکوہ کرتا ہے کہ یہ نہیں اور وہ نہیں ، اتنا ادھر خرچ ہو اور اتناادھر ۔ آنے والے وقت کی ہر وقت اس کو فکر ہے اور گزرنے والے اور گزرے ہوئے کا ذرا بھی خیال نہیں ۔ اگر پیسہ خرچ کرنا پڑے تو اس کی جان جاتی ہے اور اگر ہزاروں اور لاکھوں آجائے تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–7

Verse [ 100:5] فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا (then enter, at the same time, into the centre of the [ opposing ] host) In other words, they penetrate into the centre of the enemy forces without the least degree of fear. The word kanud, (100:6) according to Hasan Basri (رح) ، refers to the one who counts the calamities that befall him, and forgets Allah's favours. Abu Bakr Wasiti said that kanud is the one who spends the bounties of Allah for sinful purposes. Tirmidhi said that kanud is the one who looks at the bounty, and not at the Bounteous Lord. In short, all these interpretations lead to the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

5 That is his own conscience and his own deeds are a witness to it; then there are many disbelievers also who by their own tongue express their ingratitude openly 'for they do not even believe that God exists to say nothing of acknowledging His blessings for which they may have to render gratitude to Him.

Read the full tafseer →