100. Surah Al-Aadiyaat

العادياتThe Chargers · 11 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 100:1–2

وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًاۙ Open ayah 100:1 in the Quran reader

قسم ہے ان گھوڑوں کی جو دوڑنے والے ہیں ہانپتے ہوئے

فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًاۙ Open ayah 100:2 in the Quran reader

پھر ٹاپ مار کر آگ جلانے والے ہیں

یہ سورة العادیات کا ترجمہ ہے اس میں گھوڑوں کی پانچ حالتوں کی قسم کھا کر انسان کا ناشکرا ہونا بتایا ہے۔ عادیات سے دوڑنے والے گھوڑے۔ ضبحا سے وہ گھوڑے مراد ہیں جو دوڑتے وقت ہانپتے ہیں یہ لفظ فعل محذوف تضح کا مفعول مطلق ہے، اور الموریات اور ی یوری سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جس کا معنی آگ جلانے کا ہے اور قدحا اس کا مفعول ہے چقماق کو ایک دوسرے پر مار کر آگ لگانے کو قدح کہا جاتا ہے۔ دونوں آیتوں کا مطلب یہ ہوا کہ قسم ہے ان گھوڑوں کی جو دوڑتے ہوئے ہانپنے والے ہیں اور جو چلتے ہوئے آگ جلانے والے ہیں یعنی جس طرح چقماق سے آگ نکلتی ہے اسی طرح ان کے پاؤں مارنے سے آگ نکلتی ہے (خاص کر جن میں لوہے کے نعل لگے ہوئے ہوتے ہیں) ۔
Ayahs 100:3–4

فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًاۙ Open ayah 100:3 in the Quran reader

پھر صبح کے وقت غارت گری کرنے والے ہیں

فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًاۙ Open ayah 100:4 in the Quran reader

پھر اس وقت غبار اڑاتے ہیں

﴿ فَالْمُغِيْرٰتِ صُبْحًاۙ003 فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًاۙ004﴾ (پھر یہ گھوڑے صبح صبح غارت گری ڈالنے والے ہیں پھر اپنے کھروں سے غبار اڑانے والے ہیں۔ اثرن اثار یثیر سے ماضی معروف جمع مونث کا صیغہ ہے اور نقعا اس کا مفعول ہے مطلب یہ ہے کہ گھوڑے دوڑتے ہوئے جاتے ہیں تو ان کے پاؤں سے غبار اڑتا ہے۔
Ayah 100:5

فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًاۙ Open ayah 100:5 in the Quran reader

پھر اس وقت جماعت کے درمیان گھس جاتے ہیں،

﴿ فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًاۙ005﴾ (پھر یہ گھوڑے کسی جگہ پہنچتے ہیں تو اس وقت جماعت کے درمیان گھس جاتے ہیں) اہل عرب کے نزدیک گھوڑوں کی بڑی اہمیت تھی ان کا تو کام ہی یہی تھا کہ باہم لڑتے رہتے تھے اور بڑے قبیلے چھوٹے قبیلوں پر صبح صبح کو غارت گری ڈالتے تھے یعنی رات کو رکے رہتے تھے اور جب صبح ہوتی تھی تو جہاں حملہ کرنا ہوتا وہاں حملہ کردیتے تھے اموال لوٹ لیتے تھے اور جو کوئی سامنے آتا اسے قتل کردیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کی قسم کھائی اور انہیں یاد دلایا کہ دیکھو ہم نے تم کو جو نعمتیں دی ہیں ان میں ایسے جاندار، جاندار جگوں میں کام آنے والے گھوڑے بھی دیئے ہیں دوسری نعمتوں کی طرح ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا بھی لازم ہے اس شکر میں یہ بھی لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو نبی ﷺ کو بھیجا ہے اس پر ایمان لاؤ (آپ پر ایمان لانے سے پہلے گھوڑوں کو غلط استعمال کرتے رہے ہو، اب اس کا رخ بھی بدل جائے گا اور یہ گھوڑے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں استعمال ہونے لگیں گے) ۔ ھذا ما سنح فی قلبی فی ربط القسم بہ والمقسم بہ واللہ تعالیٰ اعلم باسرار کتابہ۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ان سے جہاد فی سبیل اللہ کے گھوڑے مراد ہیں (كما فی روح المعانی) اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ان سے حج میں کام آنے والے گھوڑے مراد ہیں جو عرفات سے مزدلفہ اور مزدلفہ سے منیٰ لے جاتے تھے۔ (واعترض علٰی ھذین القولین بان السورة مکیہ ولم یکن فی ذلک الحین جھاد ولا حج فلم یفرض ای واحد منھما فی مكة المکرمہ۔
Ayah 100:6

اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ Open ayah 100:6 in the Quran reader

بیشک انسان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے

﴿اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ006﴾ (بلاشبہ انسان اپنے رب کا واقعی بڑا ناشکرا ہے۔ لفظ کنود کا ترجمہ کفور (یعنی بہت ناشکرا کیا) گیا ہے اس کے علاوہ اور بھی بعض تفسیریں کی گئی ہیں ابو عبیدہ نے اس کا مطلب قتیل الخیر بتایا ہے اور حضرت حسن (رح) نے فرمایا کہ کنود وہ شخص ہے جو مصیبتوں کو شمار کرتا ہے نعمتوں کو بھول جاتا ہے۔ (من معالم تنزیل صفحہ 518: ج 4)
Ayah 100:7

وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌۚ Open ayah 100:7 in the Quran reader

اور بیشک وہ اس بات پر گواہ ہے

﴿ وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِيْدٌۚ007﴾ (اور بلاشبہ انسان اس پر گواہ ہے) یعنی وہ اپنی ناشکری کے حال سے واقف ہے۔ وہ جانتا ہے میں کیسا ہوں اور کیا کیا کرتا ہوں۔
Ayah 100:8

وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 100:8 in the Quran reader

اور بیشک وہ خیر کی محبت میں بہت سخت ہے

﴿وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيْدٌؕ008﴾ (اور بیشک وہ حب الخیر یعنی مال کی محبت میں بڑا سخت اور مضبوط ہے) مال دینے سے اور خرچ کرنے سے اس کا دل دکھتا ہے ہاتھ ہاتھ کا ایک ہونے کے لیے بڑھتا ہی نہیں ہے اور مال جمع کرنے میں بہت تیز اور آگے آگے ہے۔
Ayah 100:9

اَفَلَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِۙ Open ayah 100:9 in the Quran reader

کیا وہ نہیں جانتا جب وہ اٹھائے جائیں گے جو قبروں میں ہیں

﴿اَفَلَا يَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُوْرِۙ009﴾ (کیا انسان کو اس وقت کا علم ہے جب قبروں والے اٹھائے جائیں گے) ۔ یعنی مردے زندہ ہو کر باہر نکلیں گے ﴿يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا ﴾ اور دلوں میں جو کچھ ہے وہ ظاہر کردیا جائے گا انسان کو یہ وقت جان لینا چاہیے اور نہیں جانتا تو اب جان لے اور یہ سمجھ لے کہ مالک کے بارے میں خالق کائنات جل مجدہ نے بہت سے احکامات عطا فرمائے اور ان کی خلاف ورزی پر پکڑ ہوگی۔
Ayahs 100:10–11

وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِۙ Open ayah 100:10 in the Quran reader

اور جو کچھ سینوں میں ہے اسے ظاہر کیا جائے گا،

اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۠ Open ayah 100:11 in the Quran reader

بیشک ان کا رب ان سے اس دن پوری طرح ضرور باخبر ہوگا۔

﴿وَ حُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوْرِۙ0010﴾ اور سینوں میں جو کچھ چھپا رکھا ہے وہ سب ظاہر کردیا جائے گا جو کوئی گناہ بری نیت مال کی محبت، دنیا کی الفت دل میں چھپائے ہوئے تھے قیامت کے دن سب کو ظاہر کردیا جائے گا، یوں تو آج بھی اسی دنیا میں ہر ایک کے احوال اور اعمال اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں اور وہ پوری طرح سب حالات سے باخبر ہے چونکہ وہ حساب کا دن ہوگا اس لیے خصوصیت کے ساتھ اس کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شانہ کو اس دن پوری طرح بندوں کے حالات کی خبر ہوگی۔ نیز بندوں پر بھی ان کے اعمال واضح ہوجائیں گے جسے گزشتہ سورت کے آخر میں واضح فرما دیا ہے۔ والحمد للہ تعالیٰ علی ما انعم واکرم من الآ لاء والنعم