Al-Aadiyaat 100:8

Al-Aadiyaat · from ayah 8

100:8

وَاِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ ۟ؕوَاِنَّهٗ لِحُبِّ الۡخَيۡرِ لَشَدِيۡدٌ ؕ‏

وہ تو مال سے سخت محبت کرنے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And indeed he is, in love of wealth, intense.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 25 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Aadiyaat

All translations of 100:8

اور وہ مال و دولت کی محبت میں بری طرح مبتلا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ تو مال سے سخت محبت کرنے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ مال کی محنت میں بھی بڑا سخت ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور حقیقت یہ ہے کہ وہ مال کی محبت میں بہت پکا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک وہ مال کی چاہت میں ضرور کرّا (تیز) ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک وہ مال کی محبت میں بہت سخت ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بیشک وہ مال کی محبت میں یقینا بہت سخت ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور وہ مال کی محبت میں بری طرح مبتلا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ دولت کا رسیا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یقینا یہ مال کی محبت میں بڑا سخت ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہ مال کی محبت میں بہت سخت ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ مال و دولت کی محبت میں بہت شدید ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ تو مال سے سخت محبت کرنے والا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

and surely he loves riches with a passionate loving.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and in his love for wealth, he is very intense.

— Muhammad Taqi Usmani

and in his love for wealth, he is very intense.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And verily, he is violent in the love of wealth.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And lo! in the love of wealth he is violent.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And indeed he is, in love of wealth, intense.

— Saheeh International

He certainly has a strong love for wealth and riches.

— Muhammad Sarwar

And most surely he is tenacious in the love of wealth.

— Muhammad Habib Shakir

And verily in the love of wealth he is vehement,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 100:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–11

انسان کا نفسیاتی تجزیہ : مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العدیات 6 اصل الفاظ ہیں وَاِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيْدٌ اس فقرے کا لفظی ترجمہ یہ ہوگا کہ " وہ خیر کی محبت میں بہت سخت ہے "۔ لیکن عربی زبان میں خیر کا لفظ نیکی اور بھلائی کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ مال و دولت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ چناچہ سورة بقرہ آیت 180 میں خیر بمعنی مال و دولت ہی استعمال ہوا ہے۔ یہ بات کلام کے موقع و محل سے معلوم ہوتی ہے کہ کہاں خیر کا لفظ نیکی کے معنی میں ہے اور کہاں مال و دولت کے معنی میں۔ اس آیت کے سیاق وسباق سے خود ہی یہ ظاہر ہورہا ہے کہ اس میں خیر مال و دولت کے معنی میں ہے نہ کہ بھلائی اور نیکی کے معنی میں، کیونکہ جو انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے اور اپنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

انہ لحب الخیر لشدید، خیر کے لفظی معنی ہر بھلائی کے ہیں۔ عرب میں مال کو بھی لفظ خیر سے تعبیر کرتے تھے، گویا مال بھلائی ہی بھلائی اور فائدہ ہی فائدہ ہے حالانکہ درحقیقت بعض مال انسان کو ہزاروں مصیبتوں میں بھی مبتلا کردیتے ہیں۔ آخرت میں تو ہر مال حرام کا یہی انجام ہے کبھی کبھی دنیا میں بھی مال انسان کے لئے وبال بن جاتا ہے مگر عرب کے محاورہ کے مطابق اس آیت میں مال کو لفظ خیر سے تعبیر کردیا ہے جیسا ایک دوسری آیت میں فرمایا ان ترک خیرا، یعنی یہاں بھی خیر سے مراد مال ہے۔ آیت مذکور میں گھوڑوں کی قسم کھا کر انسان کے متعلق دو باتیں کہی گئیں، ایک یہ کہ وہ ناشکر ہے۔ مصیبتوں تکلیفوں کو یادرکھتا ہے نعمتوں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

کردار کی گواہی: یہ اس کے ناشکرے پن پر اس کے کردار سے دلیل پیش کی ہے کہ وہ مال کی محبت میں غرق ہے۔ وہ اپنے گھوڑوں کو تو دیکھتا ہے کہ وہ جان کی بازی لگا کر اور نیزوں کے مقابل میں سینہ سپر ہو کر جو کچھ حاصل کرتے ہیں سب مالک کے حوالے کرتے ہیں، اپنے کسی حق کا مطالبہ نہیں کرتے، مالک جو کچھ ان کے آگے ڈال دیتا ہے اس پر قانع رہتے ہیں، لیکن اس کا حال یہ ہے کہ یہ جو کچھ اپنے رب کی بخشش و عنایات سے پاتا ہے اس کو اپنی تدبیر و قابلیت کا کرشمہ سمجھتا ہے اور اس پر مار گنج بن کر بیٹھ رہتا ہے، اس میں مالک کا کوئی حق تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوتا اور اگر کوئی اس کے لیے اس کو یاددہانی کرے تو اس کو جواب دیتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8۔ 1 خَیْر، ُ سے مراد مال ہے، اور ایک دوسرا مفہوم یہ ہے کہ نہایت حریص اور بخیل ہے جو مال کی شدید محبت کا لازمی نتیجہ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–9

3: اس سے مراد مال کی وہ محبت ہے جو انسان کو اپنے دینی فرائض سے غافل کردے، یا گناہوں میں مبتلا کردے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 6–8

ان الانسان ............................ لشدید (6:100 تا 8) ” حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے ، اور وہ خود اس پر گواہ ہے ، اور وہ مال و دولت کی محبت میں بری طرح مبتلا ہے “۔ بیشک انسان اپنے رب کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے اور اللہ کے فضل وکرم کا عملی انکار کرتا ہے۔ اور اس کی یہ ناشکری اور کفران نعمت کئی شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے افعال سے اور اس کے اقوال سے ، چناچہ اس کے اعمال واقوال ہی اس کے اس جرم پر گواہ ہوتے ہیں۔ گویا آفتاب آمد دلیل آفتاب ، وہ اپنے اوپر خود گواہ بن جاتا ہے ، اور قیامت میں بھی ایسا ہی ہوگا۔ وانہ .................... ذلک لشھید (7:100) ” وہ خود اس پر گواہ ہے “۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی حرص و طمع اور بخل و امساک نے اس کو اندھا بنا رکھا ہے۔ دنیا کے زرومال کی محبت میں اس قدر غرق ہے کہ منعم حقیقی کو بھی فراموش کر بیٹھا، نہیں سمجھتا کہ آگے چل کر اس کا کیا انجام ہونے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8{ وَاِنَّہٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ۔ } ”اور وہ مال و دولت کی محبت میں بہت شدید ہے۔“ مال و دولت کی محبت میں انسان اکثر اوقات حلال و حرام کی تمیز تک بھلا دیتا ہے۔ حتیٰ کہ حرام کھاتے ہوئے وہ اپنے نفس ِلوامہ بحوالہ سورة القیامہ ‘ آیت 2 اور ضمیر کی ملامت کی بھی پروا نہیں کرتا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 مال ودولت سے انسان کی بےپناہ محبت :۔ تیسری بات جس پر قسم کھائی گئی ہے یہ ہے کہ انسان مال کی محبت میں بری طرح پھنسا ہوا ہے۔ پیسہ ہی اس کا دین و ایمان ہے۔ مال و دولت کے حصول کی خاطر ہی وہ حلال و حرام میں تمیز نہیں کرتا۔ لوگوں سے فریب اور جھگڑے کرتا اور اللہ کی نافرمانی پر اتر آتا ہے اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں انتہائی بخیل واقع ہوا ہے۔ مال و دولت سے جس قدر انسان کو محبت ہوتی ہے وہ ہر انسان بذات خود مشاہدہ کرسکتا ہے۔ نیز درج ذیل حدیث بھی اسی بات کی وضاحت کر رہی ہے : سیدنا انس فرماتے ہیں کہ بحرین (بصرے اور عمان کے درمیان ایک شہر) سے آپ ﷺ کے پاس بہت سی رقم آئی۔ اور یہ رقم ان سب رقوم سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

3۔ (اور کفر اور ناشکری کی علت اکثر یہی ہوتی ہے) (آیت) ” الخیر “۔ خیر۔ یہاں مال کے معنی میں ہے، جیسا کہ قرآن مجید کی بعض اور آیتوں میں بھی آیا ہے۔ الخیر المال من قولہ تعالیٰ ان ترک خیرا (کشاف) اے المال الکثیر۔ (راغب) وقال قتادۃ الخیر من حیث وقع فی القران ھو المال (بحر) یہ بھی جائز ہے کہ یہاں خیر دنیوی مراد لی جائے، اس مفہوم میں جو آخرت فراموش اس کا سمجھتے ہیں، اور اس کے تحت میں مال، جاہ، صحت وغیرہ تمام مقاصد دنیوی لے لئے جائیں، قال ابن عطیۃ یحتمل ان یراد ھذا الخیر الدنیوی من مال وصحۃ وجاہ عندالملوک ونحوہ لان الکفار والجھال لایعرفون غیر ذلک (بحر) (آیت) ” الحب الخیر “ میں ل اگر تعلیل کا مانا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–11

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے ان گھوڑوں کی جو جہاد میں پھنکارتے ہوئے (ہانپتے ہوئے) دوڑتے ہیں، ضبح جوف (پیٹ) کی اس آواز کو کہتے ہیں جو دوڑتے وقت نکلتی ہے، پھر ان گھوڑوں کی جو ٹاپوں سے چنگاریاں جھاڑتے ہیں پھر ان گھوڑوں کی جو صبح سویرے دشمن پر شب خون مارتے ہیں، اپنے سوار کے شب خوب مارنے سے پھر اس موقع پر یعنی اپنے دوڑنے کی جگہ یا اس وقت اپنی شدید حرکت کی وجہ سے غبار اڑاتے ہیں پھر اسی غبار میں دشمن کے مجمع میں گھس جاتے ہیں یعی ان کے وسط تک پہنچ جاتے ہیں اور فعل کا عطف اسم پر اس لئے درست ہے کہ اسم فعل کی تاویل میں ہے، یعنی معنی میں واللاتی عدون،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانہ لحب الخیر . انہٗ کی ضمیر الانسان کی طرف راجع ہے اور الخیر سے مراد مال ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے ان ترک خیرا۔ اگر میت نے مال چھوڑا ہو۔ لشدید . بڑا سخت اور قوی ہے اگر کنود کا معنی ناشکرا ہو تو لحب الخیر میں لام ‘ محض صلہ کیلئے ہوگا یعنی انسان مال کی محبت میں بڑا شدید ہے محسن کی راہ میں خرچ نہیں کرتا اور اگر کنود کا معنی بخیل لیا جائے تو لام تعلیل کا ہوگا یعنی انسان محبت مال کی وجہ سے بڑا کنجوس ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 3–8

(3۔ 8) پھر صبح کو اچانک حملہ کرتے ہیں پھر اس وقت غبار اڑاتے ہیں اور دشمنوں کی جماعتوں میں جا گھستے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ قسم ہے حاجیوں کے گھوروں اور ان کے اونٹوں کی جب وہ عرفات سے مزدلفہ کو آتے ہیں حالاں کہ ان کا سانس پھولا ہوا ہوتا ہے اور پھر وہاں آ کر آگ روشن کرتے ہیں اور علی الصباح پھر منی واپس جاتے ہیں آگے جواب قسم ہے کہ کافر آدمی یعنی قرط بن عبداللہ یا ابو حباب اپنے پروردگار کی نعمتوں کا بڑٓ ناشکر گزار ہے اور اس کو خود بھی اپنے اس فعل کی خبر ہے اور یہ شخص مال کثیر کی محبت میں مضبوط ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وانہ لحب الخیر لشدید : یعنی اس ناشکری کا سبب مال کی شدید محبت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی حرص، طمع اور بخل کی بد دعاتیں ہیں جن کی وجہ سے یہ اپنے منعم حقیقی کو بھلا بیٹھا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اور بلاشبہ وہ مال کی محبت میں بڑا سخت ہے۔ انہ کی ضمیر سے مراد انسان ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ خیر سے مراد مال ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان ترک خیرا (البقرہ) ہے اگر وہ مال چھوڑے۔ عدی نے کہا : ماذا ترجی النفوس من طلب۔۔۔ الخیر وحب الحیاۃ کاربھا نفوس مال کی طلب سے کس چیز کی امید رکھتے ہیں جب کہ زندگی کی محبت ان پر بہت شدید ہے۔ وہ مال کی محبت میں بہت ہی قوی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لشدید سے مراد بخیل ہے بخیل کو شدید اور متشدد کہتے ہیں۔ طرفہ نے کہا : اری الموت یعتام الکرام و یصطفی۔۔۔ عقیلۃ مال الفاحش المتشدد میں موت کو دیکھتا ہوں وہ معزز ترین کو پسند کرتی ہے اور بخیل کو عمدہ مال…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة والعدیت مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ محمد بن نصر نے عطا بن ابی رباح کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا زلزلت الارض آدھے قرآن کے برابر ہے اور والعدیت آدھے قرآن کے برابر ہے۔ 3۔ محمد بن نصر نے عطا بن ابی رباح کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا زلزت آدھے قرآن کے برابر ہے آیت والعدیت آدھے قرآن کے برابر ہے اور قل ہوا للہ احد تہائی قرآن کے برابر ہے اور قل یا ایہا الکفرون چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔۔ 4۔ البزار وابن المنذر وابن ابی حاتم والدار قطنی فی الافراد وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَانهٗ لِحُبِ الْخَيْرِ : اور بیشک وہ مال کی محبت کے لیے ][ لَشَدِيْدٌ: یقینا بہت سخت ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيْدٌؕ008﴾ (اور بیشک وہ حب الخیر یعنی مال کی محبت میں بڑا سخت اور مضبوط ہے) مال دینے سے اور خرچ کرنے سے اس کا دل دکھتا ہے ہاتھ ہاتھ کا ایک ہونے کے لیے بڑھتا ہی نہیں ہے اور مال جمع کرنے میں بہت تیز اور آگے آگے ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

سرگرمی بہائم در اطاعت مالک ونافرمانی وناشکری انسان بآقاء رب العالمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والعدیت ضبحا ...... الی ........ ان ربھم بھم یومئذ لخبیر “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں مجازات اعمال کا قانون بیان کیا گیا تھا اور یہ کہ انسان اپنی زندگی میں جو بھی نیکی یا بدی کا عمل کرے گا روز قیامت قیامت کا اس بدلہ پاکر رہے گا، اب اس سورت میں انسان کی غفلت و لاپرواہی اور اپنے رب کی ناشکری کی مذموم خصلت بیان کی جارہی ہے اور یہ کہ دراصل اس روش کا منشاء حرص مال، لالچ اور نفس کی خواہش ہے، اس کے پیچھے پڑکر انسان اپنے رب کو بھلا دیتا ہے اور اس سے غافل ہوجاتا ہے کہ مرنے کے بعد اس کو دوبارہ زندہ ہونا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

3:۔ ” وانہ لحب “ یہ سبب مرض کا بیان ہے۔ انسان کے ناشکر گذارہونے کا سبب یہ ہے کہ دولت دنیا کی محبت میں بہت متشدد ہے حب مال اسے بخل وامساک پر اکساتی ہے اور اللہ کی راہ میں خرچ کر کے اس کا شکر گزار کرنے سے روکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–11

مکی زندگی میں نازل ہوئی ، تاہم حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت قتادہ اور امام مالک سے منقول ہے کہ یہ مدنی سورة ہے۔ اس کی گیارہ آیات ہیں۔ یہ سورة چالیس الفاظ اور ایک سو تریسٹھ حروف پر مشتمل ہے۔ گزشتہ سورة کے ساتھ ربط سابقہ سورة زلزال میں انسان کے جزائے عمل کا ذکر تھا کہ جزائے عمل کا واقع ہونا لازم ہے۔ اس سے پہلی سورة البینتہ میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہے ۔ انسان کو اللہ کی عبادت کرنی چاہئے اور حنیف بن کر رہنا چاہئے۔ بدنی اور مالی عبادات یعنی مال اور زکواۃ پر کاربند ہونا چاہئے۔ خدا کا خوف ہر وقت دل میں جاگزیں ہونا چاہئے۔ اس سورة مبارکہ میں ان بیماریوں کا ذکر ہے جو کہ مذکورہ بالا پروگرم پر عمل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنَّہٗ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيْدٌ۝ 8 ۭ إِنَّ وأَنَ إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه عمّا عداه، نحو : إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ [ التوبة/ 28] تنبيها علی أنّ النجاسة التامة هي حاصلة للمختص بالشرک، وقوله عزّ وجل : إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ [ البقرة/ 173] أي : ما حرّم ذلك إلا تنبيها علی أنّ أعظم المحرمات من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–11

ترکیب ¦ وللقسم العادیات جمع عادیۃ من العدود ھوالمشی بسرعۃٍ فقلبت الواؤ یائً لکسرۃ ما قبلھا کا لغازیات من الغزو۔ والمراد بھا الخیل الجھادیۃ دقیل بعیر الحجاج ضبحا الضبح صوت اجواف الخیل اذا عدت وقیل السیر و نوع من العد و یقال ضبح الفرس اذا عد ابشدۃ من الضبح بمعنی الدفع وکان الحاء بدل من العین علی الاول منصوب علی الحال ای ضابحات وعلی الثانی مفعول مطلق موکد لاسم الفاعل و یجوزان یکون مصدر الفعل محدوف ای یضیح ضبحا۔ فالمو ریات قدحًا عطف العادیات من الایراء و ھوا اخراج النار جمع موریۃ والقدح الصک فجعل ضرب الخیل بحوا فرھا کالقدح بالزنا دوالکلام فی نصب قدحا کا لکالم ضبحا فالمغیرات ای التی تغیر علی العدو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِنَّـہٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ۔ (العٰدیٰت : 8) (اور بیشک وہ مال و دولت کی محبت میں بڑا سخت ہے۔ ) انسان کی اصل بیماری کا ذکر اس آیت کریمہ میں انسان کی اصل بیماری کی نشاندہی فرمائی گئی ہے۔ اور انسان کی ناشکرگزاری پر دلیل بھی قائم کی گئی ہے کہ انسان کی اصل بیماری یہ ہے کہ وہ خیر کی محبت میں بری طرح مبتلا ہے۔ خیر سے مراد یہاں نیکی اور بھلائی نہیں بلکہ مال و دولت ہے۔ یہ لفظ ان دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ البتہ اس بات کا تعین کہ کب وہ کس معنی میں استعمال ہوتا ہے سیاق وسباق سے کیا جاتا ہے۔ اس آیت کے سیاق وسباق سے خود ہی ظاہر ہورہا ہے کہ اس میں خیر مال و دولت کے معنی میں ہے، نیکی اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–8

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے گھوڑے اور بڑے بڑے جانوروں کو انسان کے تابع بنادیا ہے مگر انسان اپنے رب کا تابع فرمان ہونے کے لیے تیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین میں خلیفہ بنا کر ہر چیز کو اس کی خدمت پر لگا دیا ہے جن میں گھوڑا بھی اس کے خدام میں شامل ہے۔ گھوڑے پر غور فرمائیں کہ وہ اپنی جسامت اور طاقت کے اعتبار سے انسان سے کتنا طاقتور ہے اگر گھوڑا اپنے مالک سے سرکش ہو کر بھاگ نکلے تو مالک دوڑ کر اسے پکڑ نہیں سکتا، مالک سے جسامت اور طاقت میں بڑا ہونے کے باوجود نہ صرف گھوڑا سواری کے کام آتا ہے بلکہ جنگ کے موقع پر دشمن کی صفوں میں اس طرح آگے بڑھتا ہے جس طرح یہ اپنے دشمن کے خلاف کھڑا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

انسان مال کی محبت میں سخت : 8 : وَاِنَّہٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ (وہ مال کی محبت میں بڑا مضبوط ہے) بیشک وہ حب مال کیلئے بخل کرنے والا اور روک کر رکھنے والا ہے۔ نمبر 2۔ بلاشبہ وہ مال کی محبت میں بڑا مضبوط ہے۔ اور عبادت الٰہی کی محبت میں کمزور واقع ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

8 ۔” وانہ “ یعنی انسان ” لحب الخیر “ یعنی مال کی محبت میں ” شدید “ یعنی بخیل ہے یعنی وہ مال کی محبت کی وجہ سے بخیل ہے۔ بخیل کو شدید اور متشدد کہا جاتا ہے اور کہا گیا ہے اس کا معنی ” وانہ لحب الخیر لقوی “ یعنی مال کی سخت محبت رکھنے والے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–11

1۔ 11۔ اللہ تعالیٰ کا دین پھیلانے کے لئے جو لوگ گھوڑوں پر سوار ہو کر مخالف لوگوں پر حملہ کرتے تھے ان کے گھوڑوں کے دوڑنے اور دوڑنے میں ہانپنے اور پتھر پر دوڑتے وقت ان کے نعلوں میں سے آگ کے شعلے جھڑنے اور صبح کے وقت حملہ کرنے اور حملہ کے وقت گرد و غبار اٹھنے اور اس گرد و غبار میں سواروں کے دشمنوں میں گھس جانے کی ان سب باتوں کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا کہ انسان کی حالت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ بڑا ناشکرا ہے کیونکہ اللہ نے اس کو پیدا کیا۔ اس کی زیست بھر کے سب طرح کے آرام کا بندوست کیا۔ پھر یہ انسان اللہ کو چھوڑ کر اوروں کو اپنا معبود ٹھہراتا ہے اس سے بڑھ کر اور کون سی حالت ناشکری کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَاِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيْدٌ) اور بلاشبہ انسان مال کی محبت میں بہت سخت ہے۔ یعنی مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اور مال کی محبت ہی اس کے لیے حقوق واجبہ کو ترک کرنے کی موجب بنی اور یوں اس نے اپنی شہوت نفس کو اپنے رب کی رضا پر ترجیح دی۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اس نے اپنی نظر کو صرف اسی دنیا پر مرکوز رکھا اور آخرت سے غافل رہا اس لیے اللہ تعالیٰ نے یوم وعید کا خوف دلاتے ہوئے فرمایا (اَفَلَا يَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُوْرِ ) جب اللہ تعالیٰ قبروں میں سے مردوں کو ان کے حشر ونشر کے لیے نکالے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(8) ناشکرا انسان مال کی محبت میں گرفتار، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یقینا یہ مال کی محبت میں بہت سخت ہے کہ اس کے نزدیک دنیا دوں کا متاع حقیر اور حطام فانی و زائل ہی سب کچھ ہوتا ہے، یہ اسی کے لی جیتا اور اسی کے لیے مرتا ہے، اور بس۔ ذلک مبلغھم من العلم، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس کی ناشکری اور کج فکری کا حال یہ ہے کہ اپنے گھوڑوں میں سے انہی کی قدر کرتا ہے جو اس کے لیے کوئی قابل قدر خدمت انجام دیتے ہیں، لیکن اپنے خالق ومالک رب رحمن کے بارے میں یہ گمان کرتا ہے کہ اس کے یہاں نیکوکار اور بدکار کے درمیان کوئی فرق نہیں، یہ اپنے گھوڑوں کو دیکھتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–11

گھوڑے کی وفاداری سے بندہ سبق سیکھے تشریح : یہ سورت پوری کی پوری انسان کو راہ ہدایت دکھانے، آخرت، حساب کتاب اور اس سچی خبر کی تصدیق میں ہی نازل کی گئی ہے کہ دنیا کے عیش و آرام مال و دولت میں اس قدر مگن نہ ہوجاؤ کہ اپنے پیدا کرنے والے ' پرورش کرنے والے اور پھر اپنے آخری ٹھکانے سے ہی غافل ہوجاؤ۔ اس سچائیـ کو مزید تقویت دینے کے لیے اللہ تعالیٰ اس وفادار ' مضبوط اور انتہائی فرمانبردار پر خلوص جانور کی قسم کھا رہا ہے جو کہ تمام مفسرین کی رائے کے مطابق گھوڑا ہی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ تمام جانوروں میں سب سے زیادہ انسان کے کام آنے والا خاص طور سے جنگوں میں ' سفر میں اور بار برداری میں گھوڑا ہی ہے۔ یہ بڑا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–11

سورة العادیات۔ آیات 1 تا 11 اسرار ومعارف۔ قسم ہے جہاد میں دوڑنے والے گھوڑوں کی انکی مشقت کی ان کے نعلوں سے چنگاریاں نکلتی ہیں اور جب وہ علی الصبح کسی پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور پھر جب ہر طرف گرد اڑتی ہے اور دشمنوں کی فوج میں گھس پڑتے ہیں یعنی جہاد کا یہ سارامنظر اس بات پہ گواہ ہے انسان اپنے پروردگار کا سخت ناشکرا ہے کہ جو بات یعنی نظام اسلام اس کی بھلائی کے لیے تھا اس کے لیے روکاوٹ بن گیا اور اس کے نفاذ کے لیے جہاد کی ضرورت پیش آئی اللہ کو وہ جانور بھی پیارے ہیں جو اس کی راہ میں جہاد میں کام آئیں اور یہ انسان ہو کر اور خوب جانتے ہوئے کہ اسلام ہی سلامتی ہے اور یہ حق ہے پھر بھی اس کی مخالفت پہ کمربستہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 یعنی حرص و طمع اور بخل نے اسے اندھا کردیا ہے یہاں تک کہ اپنے منعم حقیقی کو بھی بھلا بیٹھا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(100:8) وانہ لحب الخیر لشدید : (ترکیب نحوی کے لئے ملاحظہ ہو آیت سابقہ) الخیر سے یہاں مراد مال و دولت ہے اور مال و دولت سے انسان کی محبت اظہر من الشمس ہے۔ گناہوں کا یہ سیل بےپناہ۔ مظالم کی یہ آندھیاں۔ مزدور اور سرمایہ دار کے درمیان یہ خونریز تصادم، سب کے پس پردہ دولت کی یہی بےپناہ محبت اور لالچ کار فرما ہے۔ ترجمہ :۔ اور بیشک وہ (یعنی انسان) مال کی محبت میں بہت پکا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–11

العدیت۔ دوڑنے والے گھوڑے۔ ضبح۔ ہانپتے ہوئے۔ الموریت۔ چنگاریاں نکالنے والے۔ قدح۔ آگ جھاڑ کر۔ المغیرات۔ وہ حملہ کرنے والے ہیں۔ اثرن۔ اٹھاتے ہیں۔ نقع۔ گردوغبار۔ وسطن۔ وہ بیچ میں گھس جاتے ہیں۔ کنود ۔ ناشکرا۔ شہید۔ گواہ۔ الخیر۔ مال و دولت۔ بعثر۔ باہر نکالا گیا۔ حصل۔ حاصل کیا گیا۔ تشریح : انسان کیچ اروں طرف اللہ نے اتنی نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے جنہیں شمار کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ یہ نعمتیں انسان سے اس بات کا مطالبہ کرتی نظر آتی ہیں کہ اسے ہر سانس میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں زندگی گزارنی چاہیے۔ اسے وہی کرنا چاہیے جس کے کرنے کا اس کو حکم دیا گیا ہے اور ہر اس بات سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–11

جہاد کی اہمیت وفضیلت۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ کا دین پھیلانے کے لیے جو لوگ گھوڑوں پر سوار ہوکر مخالف لوگوں پر حملہ کرتے ہیں ان کے گھوڑوں کے دوڑنے اور دوڑنے میں ہانپنے اور پتھر پر دوڑتے وقت ان کے نعلوں میں سے آگ کے شعلے جھڑنے اور صبح کے وقت حملہ کرنے اور حملہ کے وقت گردوغبار اٹھنے اور اس گردوغبار میں سواروں کے دشمنوں میں گھس جانے کی (حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں یہ جہاد والے سواروں کی ایک قسم ہے اس سے بڑا کون ساعمل ہوگا، کہ اللہ کے کام پر اپنی جان دینے کو حاضر ہیں اور یہ جہاد کرنے والے سواروں کی اللہ کی راہ میں سرفروشی وجانبازی بتلاتی ہے کہ وفادار وشکرگذار بندے ایسے ہوتے ہیں) ان سب باتوں کی اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[4] یعنی وہ مال کی محبت میں غرق ہے۔ وہ جو کچھ اپنے رب کی بخشش و عنایات سے پاتا ہے اس کو اپنی تدبیر و قابلیت کا کرشمہ سمجھتا ہے اور اس میں مالک حقیقی کا کوئی حق تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–11

سورة العدیت 1: ان آیتوں میں نہایت ہی لطیف پیرایہ میں یہ بیان فرمایا ہے کہ انسان انپے رب کی رحمتوں اور بخششوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا ۔ اسے تو چاہیے تھا کہ جس طرح اس نے اس کو عدم سے وجود بخشا ہے ۔ گویائی کی قوت عطافرمائی ہے ۔ سمجھ دی ہے اور سارے عالم کائنات کو اس کیلئے مسخر کردیا ۔ ہر آن اس کے سامنے جھکارہتا ہے اور کبھی اس کے حکموں کی تعمیل سے انحراف نہیں کرتا ۔ اللہ کی نعمتیں اور انعامات اس درجہ زیادہ ہیں کہ ان کا احصار ہی ناممکن ہے اور اگر انسان چاہے بھی کہ ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرے ۔ جو اس پر واجب ہے تو کبھی اس فرض کو ادا نہ کرسکے ۔ اگرچہ ہر بن ، مو ، زبان سپاس بن جائے اور ہر زبان وقف حمدو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(8) اور بیشک انسان مال کی محبت میں بڑا قوی اور بڑا سخت ہے۔ یعنی مال کی محبت میں اندھا ہورہا ہے اور یہ نہیں جانتا کہ اس مال کا انجام کیا ہونے والا ہے یا شدید کے معنی بخیل کے ہیں جیسا کہ بعض نے کہا ہے کہ یہ مال کی محبت میں بڑا بخیل ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے جان چراتا ہے۔ اوپر چونکہ جنگ کا ذکر فرمایا تھا اس لئے شاید اس آیت میں اس کا سبب بیان فرمایا ہو کہ انسان کی کنودیت اور مال کی محبت تمام جھگڑوں کی جڑ ہے آگے اس حالت پر وعید کے طور پر ارشاد فرماتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–11

ف 4۔ اس سے مراد لڑائی کے گھوڑے ہیں جہاد ہو یا غیر جہاد اور عرب کو اس وجہ سے کہ وہ اہل رزم تھے ان قسموں سے نہایت مناسبت ہے، ہانپنا دوڑنے کے وقت ظاہر ہے اور نعل آہنی پتھریلی زمین پر لگنے سے آگ کا جھڑنا بھی ظاہر ہے اور عرب میں اکثر عادت دشمنوں پر صبح کے وقت تاخت کرنے کی تھی تاکہ رات کے وقت جانے میں دشمن کو خبر نہ ہو۔ صبح کو دفعة جا پڑیں اور رات کو حملہ نہ کرنے میں اظہار شجاعت سمجھتے تھے، غبار کا اڑنا گو ہر وقت ہوتا ہے مگر اس کو صبح کے ساتھ مقید کرنا شدت اسراع کی طرف اشارہ ہے کہ ٹھنڈے وقت غبار دبا ہوا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلا شبہ وہ مال کی محبت میں بڑا ہی سخت ہے 8 ؎ مال کی محبت سے اس جگہ جمع کرنا مراد ہے کہ اس کے ہاتھ اگر کوئی پیسہ آجاتا ہے تو وہ اس کو خوب مٹھی میں بند کرتا ہے کہ کہیں اس کو ہوا نہ لگ جائے اور مزید آنے کی خواہش اس کے اندر گھر کرچکی ہے پیسہ جمع کرسکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اس کی یہ امید اس دنیا کے متعلق ہونا ضروری ہے ، آخرت کا تو وہ نام ہی نہیں سننا چاہتا ۔ اگر تم غور کرو گے تو معلوم ہوگا کہ گناہوں کا یہ سیل بےپناہ ، مظالم کی یہ آندھیاں ، مزدوروں اور سرمایہ داروں کے درمیان یہ خونریز تصادم سب کے پس پردہ کیا ہے ؟ بلا شبہ وہ یہی دولت ہے اور اس دولت کی محبت ہے کہ دوست دوست کو لوٹ رہا ہے ، بھائی بھائی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Verse [ 100:8] وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ‌ لَشَدِيدٌ (and in his love for wealth, he is very intense.) Literally, the word khair means 'any good thing'. Idiomatically, the word khair, in Arabic, means 'wealth' implying that 'wealth' is an embodiment of goodness and benefit. However, some type of wealth can involve man in untold misery. In the Hereafter, this will be the position of all wealth acquired through unlawful means. Sometimes, wealth in this world too can prove to be nuisance and disaster. Nonetheless, according to Arabic idiom, worldly goods in this verse have been described as…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

6 Literally "He is most ardent in the love of khair". But the word khair is not only used for goodness and virtue in Arabic but also for worldly wealth. In Surah Baqarah: 180, khair has been used in the meaning of worldly wealth. The context itself shows where khair has been used in the sense of goodness and where in that of worldly goods. The context of this verse clearly shows that here khair means worldly wealth and not virtue and goodness. For about the man who is ungrateful to his Lord and who by his conduct is himself testifying to his ingratitude it cannot be said that he is very…

Read the full tafseer →