Al-Aadiyaat 100:9

Al-Aadiyaat · from ayah 9

100:9

اَفَلَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِ ۟ۙاَفَلَا يَعۡلَمُ اِذَا بُعۡثِرَ مَا فِى الۡقُبُوۡرِۙ

کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا کہ جو (مردے) قبروں میں ہیں وہ باہر نکال لیے جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But does he not know that when the contents of the graves are scattered

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 25 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Aadiyaat

All translations of 100:9

تو کیا وہ اُس حقیقت کو نہیں جانتا جب قبروں میں جو کچھ (مدفون) ہے اُسے نکال لیا جائے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا کہ جو (مردے) قبروں میں ہیں وہ باہر نکال لیے جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا اسے وه وقت معلوم نہیں جب قبروں میں جو (کچھ) ہے نکال لیا جائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا کیا وہ وقت اسے معلوم نہیں ہے جب قبروں میں جو کچھ ہے اسے باہر بکھیر دیا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کیا نہیں جانتا جب اٹھائے جائیں گے جو قبروں میں ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تو کیا اسے معلوم نہیں جب وہ (مُردے) اٹھائے جائیں گے جو قبروں میں ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو کیا وہ نہیں جانتاجب قبروں میں جو کچھ ہے باہر نکال پھینکا جائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا وہ جانتا نہیں کہ قبروں میں جو کچھ ہے جب وہ باہر نکال لیا جائے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا جب قبریں اگلوائی جائیں گی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو کیا اس کو معلوم نہیں (ہولناکی اس وقت کی) کہ جب نکال باہر کیا جائے گا ان (مردوں) کو جو (پڑے ہیں) قبروں میں

— مولانا اسحاق مدنی

اس کو وہ وقت کیا معلوم نہیں جب زندہ کئے جائیں گے جتنے (مردے) قبروں میں ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا جب نکال لیا جائے گا وہ سب کچھ جو قبروں میں ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا کہ جب۔ (مُردے) قبروں سے نکال لیے جائیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Is he not aware that when whatever lies (buried) in the graves is overthrown;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Does he not then know (what will happen) when all that is contained in the graves will be overturned,

— Muhammad Taqi Usmani

Does he not then know (what will happen) when all that is contained in the graves will be overturned,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Knows he not that when the contents of the graves are poured forth

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Knoweth he not that, when the contents of the graves are poured forth

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But does he not know that when the contents of the graves are scattered

— Saheeh International

Does he not know that on the day when those in the graves are resurrected

— Muhammad Sarwar

Does he not then know when what is in the graves is raised,

— Muhammad Habib Shakir

Knoweth he not - when that which is in the graves, shall be ransacked?

— Abdul Majid Daryabadi

Does he not know,- when that which is in the graves is scattered abroad

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 100:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–11

انسان کا نفسیاتی تجزیہ : مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العدیات 7 یعنی مرے ہوئے انسان جہاں جس حالت میں بھی پڑے ہوں گے وہاں سے ان کو نکال کر زندہ انسانوں کی شکل میں اٹھایا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–11

افلایعلم اذا بعثر ما فی القبور الآیتہ، کیا اس غافل انسان کو اس کی خبر نہیں کہ قیامت کے روز جبکہ مردے قبروں سے زندہ کر کے اٹھا لئے جاویں گے اور دلوں میں چھپی ہوئی باتیں بھی سب کھل کر سامنے آجاوینگی اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ رب العالمین ان سب کے سب حالات سے باخبر ہیں تو اس کے مطابق جزاء سزا دیں گے اس لئے عقلمند کا کام یہ ہے کہ ناشکری سے باز آئے اور مال کی محبت میں ایسا مغلوب نہ ہو کہ اچھے برے کی تمیز نہ رہے۔ فائدہ۔ اس آیت میں یہ دو مذموم خصلتیں مطلق انسان کی بیان کی گئی ہیں حالانکہ انسان میں انبیاء و اولیاء اور بہت سے صلحاء عباد ایسے ہیں، جو ان مذموم خصلتوں سے پاک اور شکر گزار بندے ہوتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

زرپرست ناشکروں کو تنبیہ: یہ ناشکرے اور زرپرست انسانوں کو تنبیہ ہے کہ کیا وہ اس دن کو نہیں جانتے جب وہ سب کچھ جو قبروں میں ہے اگلوا لیا جائے گا اور جو کچھ لوگوں کے سینوں میں ہے وہ نکلوا لیا جائے گا۔ قبروں کے اندر سے مردوں کو نکلوانا تو بالکل واضح ہے لیکن یہاں یہ بات زرپرستوں کی تنبیہ کے سیاق میں فرمائی گئی ہے اس وجہ سے قرینہ دلیل ہے کہ اس سے وہ دفینے بھی مراد ہیں جو بخیل مال دار، خدا اور اس کے بندوں کے حقوق مار کر، زمینوں میں دفن کر چھوڑتے ہیں۔ ’بُعْثِرَ‘ کے معنی ہیں کسی جمع کی ہوئی چیز کو جائزہ لینے کے لیے پراگندہ اور متفرق کر دینا۔ یعنی اس دن کوئی چیز ڈھکی چھپی نہیں رہ جائے گی بلکہ ہر چیز سب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

9۔ 1 بعثر، نثر وبعث یعنی قبروں کے مردوں کو زندہ کر کے اٹھا کھڑا کردیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–9

3: اس سے مراد مال کی وہ محبت ہے جو انسان کو اپنے دینی فرائض سے غافل کردے، یا گناہوں میں مبتلا کردے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–10

یہ ایک شدید اور موثر منظر ہے۔ قبروں سے انسانوں کا نکالا جانا ، اس عمل کے لئے ” بعثرہ “ کا شدید لفظ لایا گیا ہے اور پھر اس منظر میں ان رازوں کو کھینچ کھینچ کر باہر نکالا جارہا ہے جن کو نفوس انسانی نے دبائے اور چھپائے رکھا تھا۔ حصلت کا لفظ اس کے لئے استعمال ہوا کہ گویا سرکاری کارندے زبردستی حاصل کررہے ہیں۔ سرکاری تحصیل دار پہنچے ہوتے ہیں اور نہایت شدید پکڑ دھکڑ کا منظر ہے۔ کیا انسان نہیں جانتا کہ اسے اس قسم کے منظر سے گزرنا ہے۔ اسے کچھ یاد ہے ان حقائق کے بارے میں ، یہ حقائق تو ہر انسان کی فطرت میں ہیں۔ اگر اسے علم ہے اور یاد ہے تو بس اس کی اصلاح کے لئے تو یہی کافی ہے۔ اس علم کا جواب نہیں دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 9–10

8 یعنی وہ وقت بھی آنے والا ہے جب مردہ جسم قبروں سے نکال کر زندہ کئے جائیں گے اور دلوں میں جو چیزیں چھپی ہوئی ہیں سب کھول کر رکھ دی جائیں گی اس وقت دیکھیں یہ مال کہاں تک کام دے گا اور نالائق ناشکرے لوگ کہاں چھوٹ کردکھائیں گے۔ اگر یہ بےحیا اس بات کو بھی سمجھ لیتے تو ہرگز مال کی محبت میں غرق ہو کر ایسی حرکتیں نہ کرتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 9–11

آیت 1 1{ اِنَّ رَبَّہُمْ بِہِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۔ } ”یقینا ان کا رب اس دن ان سے پوری طرح باخبر ہوگا۔“ اللہ تعالیٰ کو ان کے تمام اعمال و افعال کا علم ہے اور اس دن وہ ان سے ایک ایک چیز کا حساب لے لے گا۔ اَللّٰھُمَّ حَاسِبْنَا حِسَابًا یَّسِیْرًا۔ آمین ! انذارِ آخرت کے مضمون کی حامل ان سورتوں میں سے ہر سورت کی تلاوت کے بعد یہ دعا ضرور کرنی چاہیے کہ اے اللہ ! تو ہم سے آسان حساب لینا اور اپنی خصوصی رحمت سے ہمارے گناہوں کو معاف کردینا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

9 قبروں سے مراد قبرستان میں موجود قبریں ہی نہیں بلکہ ہر انسان کا مدفن ہے خواہ یہ سمندر کی تہ میں چلا جائے یا کسی درندہ کے پیٹ میں چلا جائے یا آگ میں جل کر راکھ بن جائے جو بھی صورت ہو بالآخر وہ زمین کے ذرات میں مل جائے گا اور اللہ کے ان ذرات کو جمع کرنے اور زمین سے باہر نکال لانے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 9–10

4۔ (کہ ان چیزوں کا استحضار اسے متنبہ اور ہوشیار کردینے کے لئے کافی ہے) (آیت) ” مافی القبور “۔ مایہاں بھی من کے مرادف ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–11

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے ان گھوڑوں کی جو جہاد میں پھنکارتے ہوئے (ہانپتے ہوئے) دوڑتے ہیں، ضبح جوف (پیٹ) کی اس آواز کو کہتے ہیں جو دوڑتے وقت نکلتی ہے، پھر ان گھوڑوں کی جو ٹاپوں سے چنگاریاں جھاڑتے ہیں پھر ان گھوڑوں کی جو صبح سویرے دشمن پر شب خون مارتے ہیں، اپنے سوار کے شب خوب مارنے سے پھر اس موقع پر یعنی اپنے دوڑنے کی جگہ یا اس وقت اپنی شدید حرکت کی وجہ سے غبار اڑاتے ہیں پھر اسی غبار میں دشمن کے مجمع میں گھس جاتے ہیں یعی ان کے وسط تک پہنچ جاتے ہیں اور فعل کا عطف اسم پر اس لئے درست ہے کہ اسم فعل کی تاویل میں ہے، یعنی معنی میں واللاتی عدون،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

افلا یعلم . ہمزۂ استفہامیہ تعجب کے لیے ہے۔ فاء حرف عطف ہے لا یعلم کا عطف فعل محذوف پر ہے یعنی الا ینظر فلا یعلم۔ مطلب یہ ہے کہ تعجب ہے انسان کیوں نہیں دیکھتا اور ابھی اس بات کو کیوں نہیں جان لیتا جو کل کو جان لے گا کہ اسکا رب اس سے باخبر ہے اسکے کرتوت کا اس روز بدلہ دیگا جب کہ مردوں کو قبروں سے اٹھایا جائیگا اور سینوں کے اندر کی باتیں کھول دی جائینگی۔ اذا بعثر ما فی القبور . جب قبروں کے اندر کے مرد اٹھائے جائیں گے (مَا موصولہ بےعقل چیزوں کے لیے آتا ہے اور مَنْ موصولہ عقل والی مخلوق کے لیے جیسے آدمی فرشتہ وغیرہ) اس جگہ مَا سے مردہ انسان مراد ہیں (اس لیے مَن ہونا چاہیے لیکن) مَا کو مَنْ کی جگہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 9–11

(9۔ 11) کیا اس کو وہ وقت معلوم نہیں کہ جب مردوں کو زندہ کیا جائے گا اور دلوں میں جو کچھ نیکی اور برائی بخل اور سخاوت ہے وہ سب ظاہر ہوجائے گی ان کا پروردگار قیامت کے دن اسے اور ان کے اعمال سے پورا پورا باخبر ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

افلا یعلم اذا بغثر ما فی القبور : یعنی انسان اپنے رب کی ناشکری کرتا ہے اور مال سے شدید محبت کی و سے اپنے مالک کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا ہے، تو کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا جب وہ سب کچھ نکال باہر پھینکا جائے گا جو قبروں میں ہے اور ان میں موجود تمام مردوں کو زندہ کر کے قبروں سے نکال باہر کیا جائے گا ؟”افلا یعلم“ (تو کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا) کا مطلب یہ یہ کہ کیا وہ اس وقت سے نہیں ڈرتا کہ اپنے مالک کو کیا جواب دے گا ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 9–11

کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا جب نکال لیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے اور ظاہر کردیا جائے گا جو سینوں میں (پوشیدہ) ہے یقینا ان کا رب ان سے اس روز خوب باخبر ہوگا۔ کیا انسان نہیں جانتا جب قبروں میں جو کچھ ہے اسے الٹ دیا جائے گا اور ان میں جو کچھ ہے اسے نکال لیا جائے گا۔ ابو عبیدہ نے کہا : بعثرت المتاع یہ جملہ اس وقت بولا جاتا ہے جب تو سامان کے نیچے والے حصے کو اوپر کردے۔ محمد بن کعب سے مروی ہے، کہا : یہ اس وقت ہوگا جب انہیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ فراء نے کہا : میں نے بنی اسد کے بعض بدوؤں کو پڑھتے ہوئے سنا، بحثر یعنی عین کی جگہ حاء کو پڑھا۔ ماوردی نے حضرت ابن مسعود سے یہی روایت کیا ہے۔ دونوں کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة والعدیت مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ محمد بن نصر نے عطا بن ابی رباح کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا زلزلت الارض آدھے قرآن کے برابر ہے اور والعدیت آدھے قرآن کے برابر ہے۔ 3۔ محمد بن نصر نے عطا بن ابی رباح کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا زلزت آدھے قرآن کے برابر ہے آیت والعدیت آدھے قرآن کے برابر ہے اور قل ہوا للہ احد تہائی قرآن کے برابر ہے اور قل یا ایہا الکفرون چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔۔ 4۔ البزار وابن المنذر وابن ابی حاتم والدار قطنی فی الافراد وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَفَلَا يَعْلَمُ : تو کیا وہ جانتا نہیں (اس وقت کو)][ اِذَا بُعْثِرَ : جب کریدا جائے گا ][ مَا فِي الْقُبُوْرِ : اس کو جو قبروں میں ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿اَفَلَا يَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُوْرِۙ009﴾ (کیا انسان کو اس وقت کا علم ہے جب قبروں والے اٹھائے جائیں گے) ۔ یعنی مردے زندہ ہو کر باہر نکلیں گے ﴿يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا ﴾ اور دلوں میں جو کچھ ہے وہ ظاہر کردیا جائے گا انسان کو یہ وقت جان لینا چاہیے اور نہیں جانتا تو اب جان لے اور یہ سمجھ لے کہ مالک کے بارے میں خالق کائنات جل مجدہ نے بہت سے احکامات عطا فرمائے اور ان کی خلاف ورزی پر پکڑ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

سرگرمی بہائم در اطاعت مالک ونافرمانی وناشکری انسان بآقاء رب العالمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والعدیت ضبحا ...... الی ........ ان ربھم بھم یومئذ لخبیر “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں مجازات اعمال کا قانون بیان کیا گیا تھا اور یہ کہ انسان اپنی زندگی میں جو بھی نیکی یا بدی کا عمل کرے گا روز قیامت قیامت کا اس بدلہ پاکر رہے گا، اب اس سورت میں انسان کی غفلت و لاپرواہی اور اپنے رب کی ناشکری کی مذموم خصلت بیان کی جارہی ہے اور یہ کہ دراصل اس روش کا منشاء حرص مال، لالچ اور نفس کی خواہش ہے، اس کے پیچھے پڑکر انسان اپنے رب کو بھلا دیتا ہے اور اس سے غافل ہوجاتا ہے کہ مرنے کے بعد اس کو دوبارہ زندہ ہونا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 9–11

4:۔ ” افلا یعلم “ یہ علاج مرض کا بیان ہے بصورت تخویف اخروی کیا انسان یہ نہیں جانتا کہ جب قبروں سے مردے اٹھائے جائیں گے یعنی قیامت کے دن اور دلوں کی تمام باتیں ظاہر کردی جائیں گی اس دن ان کا پروردگار ان کے اعمال خیر و شر سے باخبر ہوگا اور ان کو پوری پوری جزاء دے گا ای عالم لایخفی علیہ منہم خافیۃ وھو عالم بہم فی ذلک الیوم وفی غیرہ ولکن المعنی انہ یجازیہم فی ذلک الیوم (قرطبی ج 20 ص 163) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–11

مکی زندگی میں نازل ہوئی ، تاہم حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت قتادہ اور امام مالک سے منقول ہے کہ یہ مدنی سورة ہے۔ اس کی گیارہ آیات ہیں۔ یہ سورة چالیس الفاظ اور ایک سو تریسٹھ حروف پر مشتمل ہے۔ گزشتہ سورة کے ساتھ ربط سابقہ سورة زلزال میں انسان کے جزائے عمل کا ذکر تھا کہ جزائے عمل کا واقع ہونا لازم ہے۔ اس سے پہلی سورة البینتہ میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہے ۔ انسان کو اللہ کی عبادت کرنی چاہئے اور حنیف بن کر رہنا چاہئے۔ بدنی اور مالی عبادات یعنی مال اور زکواۃ پر کاربند ہونا چاہئے۔ خدا کا خوف ہر وقت دل میں جاگزیں ہونا چاہئے۔ اس سورة مبارکہ میں ان بیماریوں کا ذکر ہے جو کہ مذکورہ بالا پروگرم پر عمل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَفَلَا يَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُوْرِ۝ 9 ۙ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–11

ترکیب ¦ وللقسم العادیات جمع عادیۃ من العدود ھوالمشی بسرعۃٍ فقلبت الواؤ یائً لکسرۃ ما قبلھا کا لغازیات من الغزو۔ والمراد بھا الخیل الجھادیۃ دقیل بعیر الحجاج ضبحا الضبح صوت اجواف الخیل اذا عدت وقیل السیر و نوع من العد و یقال ضبح الفرس اذا عد ابشدۃ من الضبح بمعنی الدفع وکان الحاء بدل من العین علی الاول منصوب علی الحال ای ضابحات وعلی الثانی مفعول مطلق موکد لاسم الفاعل و یجوزان یکون مصدر الفعل محدوف ای یضیح ضبحا۔ فالمو ریات قدحًا عطف العادیات من الایراء و ھوا اخراج النار جمع موریۃ والقدح الصک فجعل ضرب الخیل بحوا فرھا کالقدح بالزنا دوالکلام فی نصب قدحا کا لکالم ضبحا فالمغیرات ای التی تغیر علی العدو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 9–10

اَفَلاَ یَعْلَمُ اِذْا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِ ۔ وَحُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِ ۔ (العٰدیٰت : 9، 10) (تو کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا جب نکال لیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے۔ اور ظاہر کردیا جائے گا جو کچھ سینوں میں ہے۔ ) سیم و زر سے محبت کرنے والوں کو تنبیہ سیم و زر کی حد سے بڑھی ہوئی محبت کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنے انجام کو بھول جاتا ہے۔ اسے فکر ہر وقت اپنے سیم و زر اور درہم و دینار کی رہتی ہے۔ اسے لوگوں سے اور بعض دفعہ خدا سے بھی چھپانے کے لیے زمین کے نیچے دفن کردیتا ہے اور کبھی اور کسی طرح کے پردوں میں چھپا کر رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسے یہ ہرگز گمان تک نہیں ہوتا کہ میں جو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–11

فہم القرآن ربط کلام : ناشکری اور بخل سے بچنے کے لیے انسان کو ہمیشہ اپنا انجام ذہن میں رکھنا چاہیے۔ بے شک انسان ہفت اقلیم کا بادشاہ اور پوری دنیا کے خزانوں کا مالک بن جائے، مگر موت کے وقت اس نے خالی ہاتھ جانا ہے، قبر میں کفن کے سوا کوئی چیز اس کے ساتھ نہیں جاتی۔ قیامت کے دن اسے اٹھایا جائے گا تو اس کے وجود پر کوئی لباس نہیں ہوگا، نیکی اور برائی کے سوا کوئی چیز اس کے ساتھ نہیں ہوگی۔ قیامت کے دن اسے قبر سے اٹھاکر محشر کے میدان میں کھڑا کیا جائے گا تو صرف اس کا اعمال نامہ اس کے سامنے پیش نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کے ہر عمل کے ساتھ اس کی نیت اور خیالات بھی لف (Attache) ہوں گے۔ انسان اپنے رب سے کوئی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

9 : اَفَلاَ یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِ (کیا اس کو وہ وقت معلوم نہیں جب زندہ کیے جائیں گے۔ جتنے مردے قبروں میں ہیں) افلا یعلم (کیا وہ انسان نہیں جانتا) ۔ بعثرؔ جب اٹھایا جائے گا۔ مافی القبورؔ سے مراد مردے ہیں۔ ماؔ یہاں مَنْ کے معنی میں ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–11

1۔ 11۔ اللہ تعالیٰ کا دین پھیلانے کے لئے جو لوگ گھوڑوں پر سوار ہو کر مخالف لوگوں پر حملہ کرتے تھے ان کے گھوڑوں کے دوڑنے اور دوڑنے میں ہانپنے اور پتھر پر دوڑتے وقت ان کے نعلوں میں سے آگ کے شعلے جھڑنے اور صبح کے وقت حملہ کرنے اور حملہ کے وقت گرد و غبار اٹھنے اور اس گرد و غبار میں سواروں کے دشمنوں میں گھس جانے کی ان سب باتوں کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا کہ انسان کی حالت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ بڑا ناشکرا ہے کیونکہ اللہ نے اس کو پیدا کیا۔ اس کی زیست بھر کے سب طرح کے آرام کا بندوست کیا۔ پھر یہ انسان اللہ کو چھوڑ کر اوروں کو اپنا معبود ٹھہراتا ہے اس سے بڑھ کر اور کون سی حالت ناشکری کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 9–10

(وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوْرِ ) اور جو کچھ سینوں میں ہے وہ ظاہر اور واضح ہوجائے گا سینوں کے اندر جو بھلائی یا برائی ہے وہ چھپی نہ رہے گی، ہر بھید کھل جائے گا اور باطل ظاہر ہوجائے اور ان کے اعمال کا نتیجہ تمام مخلوق کے سامنے آجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(9) زرپرست ناشکروں کو تنبیہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور ایسے زرپرست ناشکروں کی تنبیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا اس کو معلوم نہیں کہ جب نکال باہر کیا جائے گا وہ سب کچھ جو کہ قبروں میں ہے، یعنی ان مردوں کو جو کہ قبروں میں پڑے ہیں تاکہ اس طرح وہ اپنی زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پورا حساب دیں اور اس کا بھر پور صلہ و بدلہ پاس کیں، سو وہ جہاں بھی ہوں گے اور جس حال میں بھی ہوں گے ان کو اٹھا کھڑا کیا جائے گا، اور اس قادر مطلق کے لیے ایسا کرنا کچھ بھی مشکل نہیں، بلکہ محض اس کے حکم و ارشاد کی دیر ہوگی، بس وہ محض ایک ڈانٹ اور جھڑکی ہوگی جس کے نتیجے میں یہ سب کے سب میدان میں آموجود ہوں گے، جیسا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–11

گھوڑے کی وفاداری سے بندہ سبق سیکھے تشریح : یہ سورت پوری کی پوری انسان کو راہ ہدایت دکھانے، آخرت، حساب کتاب اور اس سچی خبر کی تصدیق میں ہی نازل کی گئی ہے کہ دنیا کے عیش و آرام مال و دولت میں اس قدر مگن نہ ہوجاؤ کہ اپنے پیدا کرنے والے ' پرورش کرنے والے اور پھر اپنے آخری ٹھکانے سے ہی غافل ہوجاؤ۔ اس سچائیـ کو مزید تقویت دینے کے لیے اللہ تعالیٰ اس وفادار ' مضبوط اور انتہائی فرمانبردار پر خلوص جانور کی قسم کھا رہا ہے جو کہ تمام مفسرین کی رائے کے مطابق گھوڑا ہی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ تمام جانوروں میں سب سے زیادہ انسان کے کام آنے والا خاص طور سے جنگوں میں ' سفر میں اور بار برداری میں گھوڑا ہی ہے۔ یہ بڑا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–11

سورة العادیات۔ آیات 1 تا 11 اسرار ومعارف۔ قسم ہے جہاد میں دوڑنے والے گھوڑوں کی انکی مشقت کی ان کے نعلوں سے چنگاریاں نکلتی ہیں اور جب وہ علی الصبح کسی پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور پھر جب ہر طرف گرد اڑتی ہے اور دشمنوں کی فوج میں گھس پڑتے ہیں یعنی جہاد کا یہ سارامنظر اس بات پہ گواہ ہے انسان اپنے پروردگار کا سخت ناشکرا ہے کہ جو بات یعنی نظام اسلام اس کی بھلائی کے لیے تھا اس کے لیے روکاوٹ بن گیا اور اس کے نفاذ کے لیے جہاد کی ضرورت پیش آئی اللہ کو وہ جانور بھی پیارے ہیں جو اس کی راہ میں جہاد میں کام آئیں اور یہ انسان ہو کر اور خوب جانتے ہوئے کہ اسلام ہی سلامتی ہے اور یہ حق ہے پھر بھی اس کی مخالفت پہ کمربستہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(100:9) افلا یعلم اذا بعثر ما فی القبور۔ أ ہمزہ استفہامیہ ہے۔کا عطف محذوف پر ہے۔ ای الا ینظر فلا یعلم : یعلم کا مفعول محذوف ہے ۔ ای الوقت۔ تقدیر عبارت ہوگی :۔ الا ینظر فلا یعلم الوقت۔ کیا وہ نہیں دیکھتا ہے پھر نہیں جانتا ہے اس وقت کو (کہ جب ۔۔ ) اذا بعثر ما فی القبور : اذا ظرفیہ ہے بمعنی جب۔ بعثر ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب بعثرہ مصدر سے بمعنی کریدکر نکالا جانے والا۔ الٹ پلٹ کرنا کے ہیں۔ ما موصولہ فی القبور اس کا صلہ۔ موصول و صلہ مل کر بعثر کا مفعول مالم یسم فاعلہ۔ یہاں ما موصولہ بمعنی من ہے جس سے مراد مردہ انسان ہیں جو قبروں میں مدفون ہیں۔ جب جو کچھ قبروں میں ہے کریدکر نکال لیا جائے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–11

العدیت۔ دوڑنے والے گھوڑے۔ ضبح۔ ہانپتے ہوئے۔ الموریت۔ چنگاریاں نکالنے والے۔ قدح۔ آگ جھاڑ کر۔ المغیرات۔ وہ حملہ کرنے والے ہیں۔ اثرن۔ اٹھاتے ہیں۔ نقع۔ گردوغبار۔ وسطن۔ وہ بیچ میں گھس جاتے ہیں۔ کنود ۔ ناشکرا۔ شہید۔ گواہ۔ الخیر۔ مال و دولت۔ بعثر۔ باہر نکالا گیا۔ حصل۔ حاصل کیا گیا۔ تشریح : انسان کیچ اروں طرف اللہ نے اتنی نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے جنہیں شمار کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ یہ نعمتیں انسان سے اس بات کا مطالبہ کرتی نظر آتی ہیں کہ اسے ہر سانس میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں زندگی گزارنی چاہیے۔ اسے وہی کرنا چاہیے جس کے کرنے کا اس کو حکم دیا گیا ہے اور ہر اس بات سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–11

جہاد کی اہمیت وفضیلت۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ کا دین پھیلانے کے لیے جو لوگ گھوڑوں پر سوار ہوکر مخالف لوگوں پر حملہ کرتے ہیں ان کے گھوڑوں کے دوڑنے اور دوڑنے میں ہانپنے اور پتھر پر دوڑتے وقت ان کے نعلوں میں سے آگ کے شعلے جھڑنے اور صبح کے وقت حملہ کرنے اور حملہ کے وقت گردوغبار اٹھنے اور اس گردوغبار میں سواروں کے دشمنوں میں گھس جانے کی (حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں یہ جہاد والے سواروں کی ایک قسم ہے اس سے بڑا کون ساعمل ہوگا، کہ اللہ کے کام پر اپنی جان دینے کو حاضر ہیں اور یہ جہاد کرنے والے سواروں کی اللہ کی راہ میں سرفروشی وجانبازی بتلاتی ہے کہ وفادار وشکرگذار بندے ایسے ہوتے ہیں) ان سب باتوں کی اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 9–11

[5] یعنی اللہ تعالیٰ کو ہر شخص کے بارے میں خوب معلوم ہوگا کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتا رہا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–11

سورة العدیت 1: ان آیتوں میں نہایت ہی لطیف پیرایہ میں یہ بیان فرمایا ہے کہ انسان انپے رب کی رحمتوں اور بخششوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا ۔ اسے تو چاہیے تھا کہ جس طرح اس نے اس کو عدم سے وجود بخشا ہے ۔ گویائی کی قوت عطافرمائی ہے ۔ سمجھ دی ہے اور سارے عالم کائنات کو اس کیلئے مسخر کردیا ۔ ہر آن اس کے سامنے جھکارہتا ہے اور کبھی اس کے حکموں کی تعمیل سے انحراف نہیں کرتا ۔ اللہ کی نعمتیں اور انعامات اس درجہ زیادہ ہیں کہ ان کا احصار ہی ناممکن ہے اور اگر انسان چاہے بھی کہ ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرے ۔ جو اس پر واجب ہے تو کبھی اس فرض کو ادا نہ کرسکے ۔ اگرچہ ہر بن ، مو ، زبان سپاس بن جائے اور ہر زبان وقف حمدو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(9) کیا انسان کو وہ قت معلوم نہیں کہ جب وہ مردے جو قبروں میں ہیں زندہ کرکے اٹھا کھڑے کئے جائیں گے - یعنی جو قبروں میں مدفون ہیں اور خاک میں ملے ہوئے ہیں وہ سب زندہ کر لئے جائیں گے اور وہ خاک میں سے نکال لئے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–11

ف 4۔ اس سے مراد لڑائی کے گھوڑے ہیں جہاد ہو یا غیر جہاد اور عرب کو اس وجہ سے کہ وہ اہل رزم تھے ان قسموں سے نہایت مناسبت ہے، ہانپنا دوڑنے کے وقت ظاہر ہے اور نعل آہنی پتھریلی زمین پر لگنے سے آگ کا جھڑنا بھی ظاہر ہے اور عرب میں اکثر عادت دشمنوں پر صبح کے وقت تاخت کرنے کی تھی تاکہ رات کے وقت جانے میں دشمن کو خبر نہ ہو۔ صبح کو دفعة جا پڑیں اور رات کو حملہ نہ کرنے میں اظہار شجاعت سمجھتے تھے، غبار کا اڑنا گو ہر وقت ہوتا ہے مگر اس کو صبح کے ساتھ مقید کرنا شدت اسراع کی طرف اشارہ ہے کہ ٹھنڈے وقت غبار دبا ہوا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا وہ نہیں جانتا اس وقت کو جبقبروں سے مردے اٹھائیں جائیں گے 9 ؎ (بعثر) وہ اٹھایا گیا ۔ وہ کریدا گیا۔ وہ الٹ پلٹ کیا گیا ۔ اس کا مادہ ب ع ث ر ہے بعثرۃ سے جس کے معنی الٹ پلٹ کرنے کے ہیں ۔ ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ یہ رباعی ہے اور اس مادہ کے صرف دو لفظ قرآن کریم میں آئے ہیں ایک اس جگہ ایک ( بعثرب) سورة الانفطار میں ۔ مقصود بیان یہ ہے کہ جو لوگ آج مال کے جنون میں تمام اقدار کو بڑی بےدردی سے پا مال کر رہے ہیں اپنے رب کو بھی بھولے ہوئے ہیں اور اس کی مخلوق کو بھی طرح طرح کی تکلیفیں پہنچا رہے ہیں کیا ان نادانوں کو اتنی بھی خبر نہیں ہے کہ ایک دن ایسا بھی آنے والا ہے جب ان کو قبروں سے نکال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–11

Verses [ 100:9-11] وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ‌ ﴿10﴾ إِنَّ رَ‌بَّهُم بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّخَبِيرٌ‌ ﴿11﴾ أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ‌ مَا فِي الْقُبُورِ‌ ﴿9﴾ (Does he not then know [ what will happen ] when all that is contained in the graves will be overturned, and all that is contained in the hearts will be exposed. Surely your Lord, that day, is fully aware of them.) Divine retribution will be meted out, in the Hereafter, to each person commensurate with his deeds, good or bad, as Allah is well-aware of them. Therefore, it would be wise for man to abstain from ingratitude, and he…

Read the full tafseer →