Al-Aadiyaat 100:10

Al-Aadiyaat · from ayah 10

100:10

وَحُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِ ۟ۙوَحُصِّلَ مَا فِى الصُّدُوۡرِۙ

اور جو (بھید) دلوں میں ہیں وہ ظاہر کر دیئے جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And that within the breasts is obtained,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 25 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Aadiyaat

All translations of 100:10

اور سینوں میں جو کچھ (مخفی) ہے اُسے برآمد کر کے اس کی جانچ پڑتال کی جائے گی؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو (بھید) دلوں میں ہیں وہ ظاہر کر دیئے جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور سینوں کی پوشیده باتیں ﻇاہر کر دی جائیں گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور سینوں میں جو کچھ ہے اسے ظاہر کردیا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کھول دی جائے گی جو سینوں میں ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (راز) ظاہر کر دیئے جائیں گے جو سینوں میں ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جو کچھ سینوں میں ہے ظاہر کردیا جائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو کچھ سینوں میں (چھپے ہوئے راز) ہیں انہیں ظاہر کردیا جائے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور دلوں کے بھید نکلوائے جائیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کھول کر رکھ دیا جائے گا وہ سب کچھ جو کہ (مخفی و مستور) ہوگا سینوں میں

— مولانا اسحاق مدنی

اور آشکارا ہوجائے گا جو کچھ دلوں میں ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ظاہر کردیا جائے گا جو کچھ سینوں میں ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور دلوں کے بھید ظاہر کردئیے جائیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

and the secrets of the hearts are laid bare (and examined)?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and all that is contained in the hearts will be exposed.

— Muhammad Taqi Usmani

and all that is contained in the hearts will be exposed.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And that which is in the breasts shall be made known

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the secrets of the breasts are made known,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And that within the breasts is obtained,

— Saheeh International

and all that is in the hearts is made public,

— Muhammad Sarwar

And what is in the breasts is made apparent?

— Muhammad Habib Shakir

And there shall be brounht to light that which is in the breasts?

— Abdul Majid Daryabadi

And that which is (locked up) in (human) breasts is made manifest-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 100:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–11

انسان کا نفسیاتی تجزیہ : مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العدیات 8 یعنی دلوں میں جو ارادے اور نیتیں، جو اغراض و مقاصد، جو خیالات و افکار، اور ظاہری افعال کے پیچھے جو باطنی محرکات (Motives) چھپے ہوئے ہیں وہ سب کھول کر رکھ دیے جائیں گے اور ان کی جانچ پڑتال کر کے اچھائی کو الگ اور برائی کو الگ چھانٹ دیا جائے گا۔ بالفاظ دیگر فیصلہ صرف ظاہر ہی کو دیکھ کر نہیں کیا جائے گا کہ انسان نے عملا کس غرض سے کیے۔ اس بات پر اگر انسان غور کرے تو وہ یہ تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اصل اور مکمل انصاف خدا کی عدالت کے سوا اور کہیں نہیں ہوسکتا۔ دنیا کے لا دینی قوانین بھی اصولی حیثیت سے یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ کسی شخص کے محض ظاہری فعل کی بنا پر اسے سزا نہ دی جائے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–11

افلایعلم اذا بعثر ما فی القبور الآیتہ، کیا اس غافل انسان کو اس کی خبر نہیں کہ قیامت کے روز جبکہ مردے قبروں سے زندہ کر کے اٹھا لئے جاویں گے اور دلوں میں چھپی ہوئی باتیں بھی سب کھل کر سامنے آجاوینگی اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ رب العالمین ان سب کے سب حالات سے باخبر ہیں تو اس کے مطابق جزاء سزا دیں گے اس لئے عقلمند کا کام یہ ہے کہ ناشکری سے باز آئے اور مال کی محبت میں ایسا مغلوب نہ ہو کہ اچھے برے کی تمیز نہ رہے۔ فائدہ۔ اس آیت میں یہ دو مذموم خصلتیں مطلق انسان کی بیان کی گئی ہیں حالانکہ انسان میں انبیاء و اولیاء اور بہت سے صلحاء عباد ایسے ہیں، جو ان مذموم خصلتوں سے پاک اور شکر گزار بندے ہوتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اعمال کے ریکارڈ کے ساتھ محرکات اعمال کا ریکارڈ بھی خدا کے سامنے ہو گا: ’وَحُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِ‘۔ یعنی دفینوں کی طرح سینوں کے سارے راز بھی اکٹھے کر لیے جائیں گے تاکہ ہر شخص پر حجت قائم کی جا سکے کہ کس نے کون سا عمل کس محرک کے تحت کیا ہے۔ یہ امر واضح رہے کہ کوئی شخص کتنا ہی غلط کام کرے لیکن وہ اس کو جائز ثابت کرنے کے لیے کوئی اچھا محرک تلاش کرنے کی ضرور کوشش کرتا ہے تاکہ اپنے ضمیر کو بھی چپ کر سکے اور دوسروں کی تنقید و تحقیر سے بھی اپنے کو بچا سکے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو اپنے کو مذہبی روپ میں پیش کرتے یا قیادت کے مقام پر فائز ہوتے یا ہونے کے متمنی ہوتے ہیں وہ تو اس کے بغیر کوئی کام کر ہی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–11

4: یعنی مردوں کو قبروں سے نکال دیا جائے گا، اور لوگوں کے سینوں میں چھپے راز کھل جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–10

یہ ایک شدید اور موثر منظر ہے۔ قبروں سے انسانوں کا نکالا جانا ، اس عمل کے لئے ” بعثرہ “ کا شدید لفظ لایا گیا ہے اور پھر اس منظر میں ان رازوں کو کھینچ کھینچ کر باہر نکالا جارہا ہے جن کو نفوس انسانی نے دبائے اور چھپائے رکھا تھا۔ حصلت کا لفظ اس کے لئے استعمال ہوا کہ گویا سرکاری کارندے زبردستی حاصل کررہے ہیں۔ سرکاری تحصیل دار پہنچے ہوتے ہیں اور نہایت شدید پکڑ دھکڑ کا منظر ہے۔ کیا انسان نہیں جانتا کہ اسے اس قسم کے منظر سے گزرنا ہے۔ اسے کچھ یاد ہے ان حقائق کے بارے میں ، یہ حقائق تو ہر انسان کی فطرت میں ہیں۔ اگر اسے علم ہے اور یاد ہے تو بس اس کی اصلاح کے لئے تو یہی کافی ہے۔ اس علم کا جواب نہیں دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 9–10

8 یعنی وہ وقت بھی آنے والا ہے جب مردہ جسم قبروں سے نکال کر زندہ کئے جائیں گے اور دلوں میں جو چیزیں چھپی ہوئی ہیں سب کھول کر رکھ دی جائیں گی اس وقت دیکھیں یہ مال کہاں تک کام دے گا اور نالائق ناشکرے لوگ کہاں چھوٹ کردکھائیں گے۔ اگر یہ بےحیا اس بات کو بھی سمجھ لیتے تو ہرگز مال کی محبت میں غرق ہو کر ایسی حرکتیں نہ کرتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 9–11

آیت 1 1{ اِنَّ رَبَّہُمْ بِہِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۔ } ”یقینا ان کا رب اس دن ان سے پوری طرح باخبر ہوگا۔“ اللہ تعالیٰ کو ان کے تمام اعمال و افعال کا علم ہے اور اس دن وہ ان سے ایک ایک چیز کا حساب لے لے گا۔ اَللّٰھُمَّ حَاسِبْنَا حِسَابًا یَّسِیْرًا۔ آمین ! انذارِ آخرت کے مضمون کی حامل ان سورتوں میں سے ہر سورت کی تلاوت کے بعد یہ دعا ضرور کرنی چاہیے کہ اے اللہ ! تو ہم سے آسان حساب لینا اور اپنی خصوصی رحمت سے ہمارے گناہوں کو معاف کردینا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

10 اس کی تشریح سورة الطارق کی آیت ( يَوْمَ تُبْلَى السَّرَاۗىِٕرُ ۝ ۙ ) 86 ۔ الطارق :9) کے تحت حاشیہ نمبر 7 میں گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 9–10

4۔ (کہ ان چیزوں کا استحضار اسے متنبہ اور ہوشیار کردینے کے لئے کافی ہے) (آیت) ” مافی القبور “۔ مایہاں بھی من کے مرادف ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–11

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے ان گھوڑوں کی جو جہاد میں پھنکارتے ہوئے (ہانپتے ہوئے) دوڑتے ہیں، ضبح جوف (پیٹ) کی اس آواز کو کہتے ہیں جو دوڑتے وقت نکلتی ہے، پھر ان گھوڑوں کی جو ٹاپوں سے چنگاریاں جھاڑتے ہیں پھر ان گھوڑوں کی جو صبح سویرے دشمن پر شب خون مارتے ہیں، اپنے سوار کے شب خوب مارنے سے پھر اس موقع پر یعنی اپنے دوڑنے کی جگہ یا اس وقت اپنی شدید حرکت کی وجہ سے غبار اڑاتے ہیں پھر اسی غبار میں دشمن کے مجمع میں گھس جاتے ہیں یعی ان کے وسط تک پہنچ جاتے ہیں اور فعل کا عطف اسم پر اس لئے درست ہے کہ اسم فعل کی تاویل میں ہے، یعنی معنی میں واللاتی عدون،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و حصل . اور صحیفوں میں جمع کردیا جائے گا یا الگ کردیا جائے گا اور ظاہر کردیا جائے گا۔ ما فی الصدور . جو کچھ سینوں میں ہوگا یعنی خیر و شر جو کچھ جنس انسان کے سینوں میں ہوگی ‘ وہ ظاہر کردی جائیگی۔ ہاتھ پاؤں کے اعمال (کو ظاہر کرنے) کا ذکر آیت میں نہیں بلکہ دل کے (اسرار و) عقائد کے اظہار کا ذکر کیا کیونکہ قلبی افکار و عقائد ہی اصل ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 9–11

(9۔ 11) کیا اس کو وہ وقت معلوم نہیں کہ جب مردوں کو زندہ کیا جائے گا اور دلوں میں جو کچھ نیکی اور برائی بخل اور سخاوت ہے وہ سب ظاہر ہوجائے گی ان کا پروردگار قیامت کے دن اسے اور ان کے اعمال سے پورا پورا باخبر ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وحصل ما فی الصدور : دوسرے اعمال تو پہلے ہی ظاہر ہوچکے تھے، مگر دل کی نیت اور ارادے کے متعلق خیال ہوسکتا تھا کہ اسے کون جانتا ہے، تو اس وقت وہ بھی ظاہر کردیئے جائیں گے، جیسا کہ فرمایا :(یوم ثبلی السرآئر) (الطارق : 9)”جس دن پوشیدہ راز ظاہر کئے جائیں گے۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 9–11

کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا جب نکال لیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے اور ظاہر کردیا جائے گا جو سینوں میں (پوشیدہ) ہے یقینا ان کا رب ان سے اس روز خوب باخبر ہوگا۔ کیا انسان نہیں جانتا جب قبروں میں جو کچھ ہے اسے الٹ دیا جائے گا اور ان میں جو کچھ ہے اسے نکال لیا جائے گا۔ ابو عبیدہ نے کہا : بعثرت المتاع یہ جملہ اس وقت بولا جاتا ہے جب تو سامان کے نیچے والے حصے کو اوپر کردے۔ محمد بن کعب سے مروی ہے، کہا : یہ اس وقت ہوگا جب انہیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ فراء نے کہا : میں نے بنی اسد کے بعض بدوؤں کو پڑھتے ہوئے سنا، بحثر یعنی عین کی جگہ حاء کو پڑھا۔ ماوردی نے حضرت ابن مسعود سے یہی روایت کیا ہے۔ دونوں کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة والعدیت مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ محمد بن نصر نے عطا بن ابی رباح کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا زلزلت الارض آدھے قرآن کے برابر ہے اور والعدیت آدھے قرآن کے برابر ہے۔ 3۔ محمد بن نصر نے عطا بن ابی رباح کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا زلزت آدھے قرآن کے برابر ہے آیت والعدیت آدھے قرآن کے برابر ہے اور قل ہوا للہ احد تہائی قرآن کے برابر ہے اور قل یا ایہا الکفرون چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔۔ 4۔ البزار وابن المنذر وابن ابی حاتم والدار قطنی فی الافراد وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَحُصِّلَ مَا : اور حاصل کرلیا جائے گا اس کو جو ][ فِي الصُّدُوْرِ : سینوں میں ہے ] ح ص ل [حُصُوْلاً : (ن) حاصل ہونا۔ باقی رہنا۔] (تفعیل) تحصیلاً حاصل کرنا، ظاہر کرنا، کان سے سونا، چاندی یا دوسری معدنیات نکالنا۔ کسی چیز کا چھلکا اتار کر گودہ نکالنا۔ (زیر مطالعہ آیت۔ 10) نوٹ 3: آیت۔ 10 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ ظاہری افعال کے پیچھے جو باطنی محرکات (Motives) چھپے ہوئے ہیں وہ سب کھول کر رکھ دئیے جائیں گے اور ان کی جانچ پڑتال کر کے اچھائی برائی کو الگ الگ کردیا جائے گا۔ یعنی فیصلہ صرف ظاہر ہی کو دیکھ کر نہیں کیا جائے گا کہ انسان نے عملاً کیا کچھ کیا۔ بلکہ دلوں میں چھپے ہوئے رازوں کو نکال کر دیکھا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–11

﴿وَ حُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوْرِۙ0010﴾ اور سینوں میں جو کچھ چھپا رکھا ہے وہ سب ظاہر کردیا جائے گا جو کوئی گناہ بری نیت مال کی محبت، دنیا کی الفت دل میں چھپائے ہوئے تھے قیامت کے دن سب کو ظاہر کردیا جائے گا، یوں تو آج بھی اسی دنیا میں ہر ایک کے احوال اور اعمال اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں اور وہ پوری طرح سب حالات سے باخبر ہے چونکہ وہ حساب کا دن ہوگا اس لیے خصوصیت کے ساتھ اس کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شانہ کو اس دن پوری طرح بندوں کے حالات کی خبر ہوگی۔ نیز بندوں پر بھی ان کے اعمال واضح ہوجائیں گے جسے گزشتہ سورت کے آخر میں واضح فرما دیا ہے۔ والحمد للہ تعالیٰ علی ما انعم واکرم من الآ لاء والنعم

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

سرگرمی بہائم در اطاعت مالک ونافرمانی وناشکری انسان بآقاء رب العالمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والعدیت ضبحا ...... الی ........ ان ربھم بھم یومئذ لخبیر “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں مجازات اعمال کا قانون بیان کیا گیا تھا اور یہ کہ انسان اپنی زندگی میں جو بھی نیکی یا بدی کا عمل کرے گا روز قیامت قیامت کا اس بدلہ پاکر رہے گا، اب اس سورت میں انسان کی غفلت و لاپرواہی اور اپنے رب کی ناشکری کی مذموم خصلت بیان کی جارہی ہے اور یہ کہ دراصل اس روش کا منشاء حرص مال، لالچ اور نفس کی خواہش ہے، اس کے پیچھے پڑکر انسان اپنے رب کو بھلا دیتا ہے اور اس سے غافل ہوجاتا ہے کہ مرنے کے بعد اس کو دوبارہ زندہ ہونا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 9–11

4:۔ ” افلا یعلم “ یہ علاج مرض کا بیان ہے بصورت تخویف اخروی کیا انسان یہ نہیں جانتا کہ جب قبروں سے مردے اٹھائے جائیں گے یعنی قیامت کے دن اور دلوں کی تمام باتیں ظاہر کردی جائیں گی اس دن ان کا پروردگار ان کے اعمال خیر و شر سے باخبر ہوگا اور ان کو پوری پوری جزاء دے گا ای عالم لایخفی علیہ منہم خافیۃ وھو عالم بہم فی ذلک الیوم وفی غیرہ ولکن المعنی انہ یجازیہم فی ذلک الیوم (قرطبی ج 20 ص 163) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–11

مکی زندگی میں نازل ہوئی ، تاہم حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت قتادہ اور امام مالک سے منقول ہے کہ یہ مدنی سورة ہے۔ اس کی گیارہ آیات ہیں۔ یہ سورة چالیس الفاظ اور ایک سو تریسٹھ حروف پر مشتمل ہے۔ گزشتہ سورة کے ساتھ ربط سابقہ سورة زلزال میں انسان کے جزائے عمل کا ذکر تھا کہ جزائے عمل کا واقع ہونا لازم ہے۔ اس سے پہلی سورة البینتہ میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہے ۔ انسان کو اللہ کی عبادت کرنی چاہئے اور حنیف بن کر رہنا چاہئے۔ بدنی اور مالی عبادات یعنی مال اور زکواۃ پر کاربند ہونا چاہئے۔ خدا کا خوف ہر وقت دل میں جاگزیں ہونا چاہئے۔ اس سورة مبارکہ میں ان بیماریوں کا ذکر ہے جو کہ مذکورہ بالا پروگرم پر عمل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوْرِ۝ 10 ۙ حصل التحصیل : إخراج اللبّ من القشور، كإخراج الذهب من حجر المعدن، والبرّ من التّبن . قال اللہ تعالی: وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] ، أي : أظهر ما فيها وجمع، كإظهار اللبّ من القشر وجمعه، أو كإظهار الحاصل من الحساب، وقیل للحثالة : الحصیل، وحَصِلَ الفرس : إذا اشتکی بطنه عن أكله ، وحوصلة الطیر : ما يحصل فيه الغذاء . ( ح ص ل ) التحصیل ( تفعیل ) کے معنی چھلکے سے گو دہ اور مغز نکالنے کے ہیں مثلا معدن کے پتھروں سے سونا نکالنا بھوسے گندم کے دانوں کو الگ الگ کرنا ۔ پس آیت کریمہ : ۔ وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] کے معنی یہ ہیں کہ جو بھید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–11

ترکیب ¦ وللقسم العادیات جمع عادیۃ من العدود ھوالمشی بسرعۃٍ فقلبت الواؤ یائً لکسرۃ ما قبلھا کا لغازیات من الغزو۔ والمراد بھا الخیل الجھادیۃ دقیل بعیر الحجاج ضبحا الضبح صوت اجواف الخیل اذا عدت وقیل السیر و نوع من العد و یقال ضبح الفرس اذا عد ابشدۃ من الضبح بمعنی الدفع وکان الحاء بدل من العین علی الاول منصوب علی الحال ای ضابحات وعلی الثانی مفعول مطلق موکد لاسم الفاعل و یجوزان یکون مصدر الفعل محدوف ای یضیح ضبحا۔ فالمو ریات قدحًا عطف العادیات من الایراء و ھوا اخراج النار جمع موریۃ والقدح الصک فجعل ضرب الخیل بحوا فرھا کالقدح بالزنا دوالکلام فی نصب قدحا کا لکالم ضبحا فالمغیرات ای التی تغیر علی العدو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 9–10

اَفَلاَ یَعْلَمُ اِذْا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِ ۔ وَحُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِ ۔ (العٰدیٰت : 9، 10) (تو کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا جب نکال لیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے۔ اور ظاہر کردیا جائے گا جو کچھ سینوں میں ہے۔ ) سیم و زر سے محبت کرنے والوں کو تنبیہ سیم و زر کی حد سے بڑھی ہوئی محبت کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنے انجام کو بھول جاتا ہے۔ اسے فکر ہر وقت اپنے سیم و زر اور درہم و دینار کی رہتی ہے۔ اسے لوگوں سے اور بعض دفعہ خدا سے بھی چھپانے کے لیے زمین کے نیچے دفن کردیتا ہے اور کبھی اور کسی طرح کے پردوں میں چھپا کر رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسے یہ ہرگز گمان تک نہیں ہوتا کہ میں جو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–11

فہم القرآن ربط کلام : ناشکری اور بخل سے بچنے کے لیے انسان کو ہمیشہ اپنا انجام ذہن میں رکھنا چاہیے۔ بے شک انسان ہفت اقلیم کا بادشاہ اور پوری دنیا کے خزانوں کا مالک بن جائے، مگر موت کے وقت اس نے خالی ہاتھ جانا ہے، قبر میں کفن کے سوا کوئی چیز اس کے ساتھ نہیں جاتی۔ قیامت کے دن اسے اٹھایا جائے گا تو اس کے وجود پر کوئی لباس نہیں ہوگا، نیکی اور برائی کے سوا کوئی چیز اس کے ساتھ نہیں ہوگی۔ قیامت کے دن اسے قبر سے اٹھاکر محشر کے میدان میں کھڑا کیا جائے گا تو صرف اس کا اعمال نامہ اس کے سامنے پیش نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کے ہر عمل کے ساتھ اس کی نیت اور خیالات بھی لف (Attache) ہوں گے۔ انسان اپنے رب سے کوئی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

10 : وَحُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِ (اور آشکاراہو جائے گا۔ جو کچھ دلوں میں ہے) جو خیرو شر دلوں میں ہے۔ اس کو الگ کردیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–11

1۔ 11۔ اللہ تعالیٰ کا دین پھیلانے کے لئے جو لوگ گھوڑوں پر سوار ہو کر مخالف لوگوں پر حملہ کرتے تھے ان کے گھوڑوں کے دوڑنے اور دوڑنے میں ہانپنے اور پتھر پر دوڑتے وقت ان کے نعلوں میں سے آگ کے شعلے جھڑنے اور صبح کے وقت حملہ کرنے اور حملہ کے وقت گرد و غبار اٹھنے اور اس گرد و غبار میں سواروں کے دشمنوں میں گھس جانے کی ان سب باتوں کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا کہ انسان کی حالت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ بڑا ناشکرا ہے کیونکہ اللہ نے اس کو پیدا کیا۔ اس کی زیست بھر کے سب طرح کے آرام کا بندوست کیا۔ پھر یہ انسان اللہ کو چھوڑ کر اوروں کو اپنا معبود ٹھہراتا ہے اس سے بڑھ کر اور کون سی حالت ناشکری کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 9–10

(وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوْرِ ) اور جو کچھ سینوں میں ہے وہ ظاہر اور واضح ہوجائے گا سینوں کے اندر جو بھلائی یا برائی ہے وہ چھپی نہ رہے گی، ہر بھید کھل جائے گا اور باطل ظاہر ہوجائے اور ان کے اعمال کا نتیجہ تمام مخلوق کے سامنے آجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(10) سینوں کے احوال کی جانچ بھٹک کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز نکال باہر کیا جائے گا وہ سب کچھ جو کہ چھپا تھا سینوں کے اندر اور اچھی بری نیتیں اور ارادے ایمان کا نور اور کفر و شرک اور نفاق کی ظلمتیں وغیرہ سب کچھ سامنے آجائے گا، سب کو کھول کر رکھ دیا جائے گا، تاکہ اس کے مطابق آخری اور حقیقی فیصلہ کردیا جائے اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہر کوئی اپنا صلہ و بدلہ کامل شکل میں پاس کے، سو زمینوں کے دفینوں کی طرح سینوں کے رازوں کو بھی نکال باہر کیا جائے گا تاکہ اس طرح ہر کسی پر حجت قائم کی جاس کے۔ سو اس روز صرف اعمال کے ریکارڈ ہی کو نہیں دیکھا جائے گا اور ان کے ظواہر و اشکال…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–11

گھوڑے کی وفاداری سے بندہ سبق سیکھے تشریح : یہ سورت پوری کی پوری انسان کو راہ ہدایت دکھانے، آخرت، حساب کتاب اور اس سچی خبر کی تصدیق میں ہی نازل کی گئی ہے کہ دنیا کے عیش و آرام مال و دولت میں اس قدر مگن نہ ہوجاؤ کہ اپنے پیدا کرنے والے ' پرورش کرنے والے اور پھر اپنے آخری ٹھکانے سے ہی غافل ہوجاؤ۔ اس سچائیـ کو مزید تقویت دینے کے لیے اللہ تعالیٰ اس وفادار ' مضبوط اور انتہائی فرمانبردار پر خلوص جانور کی قسم کھا رہا ہے جو کہ تمام مفسرین کی رائے کے مطابق گھوڑا ہی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ تمام جانوروں میں سب سے زیادہ انسان کے کام آنے والا خاص طور سے جنگوں میں ' سفر میں اور بار برداری میں گھوڑا ہی ہے۔ یہ بڑا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–11

سورة العادیات۔ آیات 1 تا 11 اسرار ومعارف۔ قسم ہے جہاد میں دوڑنے والے گھوڑوں کی انکی مشقت کی ان کے نعلوں سے چنگاریاں نکلتی ہیں اور جب وہ علی الصبح کسی پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور پھر جب ہر طرف گرد اڑتی ہے اور دشمنوں کی فوج میں گھس پڑتے ہیں یعنی جہاد کا یہ سارامنظر اس بات پہ گواہ ہے انسان اپنے پروردگار کا سخت ناشکرا ہے کہ جو بات یعنی نظام اسلام اس کی بھلائی کے لیے تھا اس کے لیے روکاوٹ بن گیا اور اس کے نفاذ کے لیے جہاد کی ضرورت پیش آئی اللہ کو وہ جانور بھی پیارے ہیں جو اس کی راہ میں جہاد میں کام آئیں اور یہ انسان ہو کر اور خوب جانتے ہوئے کہ اسلام ہی سلامتی ہے اور یہ حق ہے پھر بھی اس کی مخالفت پہ کمربستہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 10–11

ف 14 لفظی ترجمہ یہ ہے ” بیشک ان کا رب ان سے اس دن خوب باخبر ہوگا۔ “ لیکن مطلب یہی ہے کہ ان کی خوب خبر لے گا۔ اس کی مثال دوسرے مقام پر یہ ہے : اولئک الذین یعلم اللہ مافی قلوبھم۔ “ (نساء 63) اس کا بھی نقشی ترجمہ یہ ہے کہ ’ داللہ ان کے دلوں کی باتوں کو جانتا ہے۔ “ لیکن مطلب یہی ہے کہ انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دیئے بغیر نہ چھوڑے گا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(100:10) وحصل ما فی الصدور۔ اس کا عطف بھی جملہ سابقہ پر ہے۔ حصل ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب تحصیل (تفعیل) مصدر سے۔ جس کے معنی چھلکے سے گودا نکالنے کے ہیں۔ ما موصولہ فی الصدور اس کا صلہ، موصول و صلہ مل کر حصل کا مفعول مالم یسم فاعلہ۔ وہ حاصل کیا گیا۔ وہ ظاہر کیا گیا۔ اور جو کچھ سینوں میں ہے اسے ظاہر کیا جائے گا۔ سینوں کے راز ّشکارا کر دئیے جائیں گے۔ (لوگوں کے پوشیدہ افعال، خگیہ ارادے، مخفی نیتیں، سربستہ راز، قلبی جذبات، باطنی کیفیات سب ظاہر کر دئیے جائیں گے) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–11

العدیت۔ دوڑنے والے گھوڑے۔ ضبح۔ ہانپتے ہوئے۔ الموریت۔ چنگاریاں نکالنے والے۔ قدح۔ آگ جھاڑ کر۔ المغیرات۔ وہ حملہ کرنے والے ہیں۔ اثرن۔ اٹھاتے ہیں۔ نقع۔ گردوغبار۔ وسطن۔ وہ بیچ میں گھس جاتے ہیں۔ کنود ۔ ناشکرا۔ شہید۔ گواہ۔ الخیر۔ مال و دولت۔ بعثر۔ باہر نکالا گیا۔ حصل۔ حاصل کیا گیا۔ تشریح : انسان کیچ اروں طرف اللہ نے اتنی نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے جنہیں شمار کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ یہ نعمتیں انسان سے اس بات کا مطالبہ کرتی نظر آتی ہیں کہ اسے ہر سانس میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں زندگی گزارنی چاہیے۔ اسے وہی کرنا چاہیے جس کے کرنے کا اس کو حکم دیا گیا ہے اور ہر اس بات سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–11

جہاد کی اہمیت وفضیلت۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ کا دین پھیلانے کے لیے جو لوگ گھوڑوں پر سوار ہوکر مخالف لوگوں پر حملہ کرتے ہیں ان کے گھوڑوں کے دوڑنے اور دوڑنے میں ہانپنے اور پتھر پر دوڑتے وقت ان کے نعلوں میں سے آگ کے شعلے جھڑنے اور صبح کے وقت حملہ کرنے اور حملہ کے وقت گردوغبار اٹھنے اور اس گردوغبار میں سواروں کے دشمنوں میں گھس جانے کی (حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں یہ جہاد والے سواروں کی ایک قسم ہے اس سے بڑا کون ساعمل ہوگا، کہ اللہ کے کام پر اپنی جان دینے کو حاضر ہیں اور یہ جہاد کرنے والے سواروں کی اللہ کی راہ میں سرفروشی وجانبازی بتلاتی ہے کہ وفادار وشکرگذار بندے ایسے ہوتے ہیں) ان سب باتوں کی اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 9–11

[5] یعنی اللہ تعالیٰ کو ہر شخص کے بارے میں خوب معلوم ہوگا کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتا رہا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–11

سورة العدیت 1: ان آیتوں میں نہایت ہی لطیف پیرایہ میں یہ بیان فرمایا ہے کہ انسان انپے رب کی رحمتوں اور بخششوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا ۔ اسے تو چاہیے تھا کہ جس طرح اس نے اس کو عدم سے وجود بخشا ہے ۔ گویائی کی قوت عطافرمائی ہے ۔ سمجھ دی ہے اور سارے عالم کائنات کو اس کیلئے مسخر کردیا ۔ ہر آن اس کے سامنے جھکارہتا ہے اور کبھی اس کے حکموں کی تعمیل سے انحراف نہیں کرتا ۔ اللہ کی نعمتیں اور انعامات اس درجہ زیادہ ہیں کہ ان کا احصار ہی ناممکن ہے اور اگر انسان چاہے بھی کہ ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرے ۔ جو اس پر واجب ہے تو کبھی اس فرض کو ادا نہ کرسکے ۔ اگرچہ ہر بن ، مو ، زبان سپاس بن جائے اور ہر زبان وقف حمدو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(10) جور جو کچھ سینوں میں پوشیدہ ہے وہ سب آشکارا کردیا جائے گا - یعنی دلوں کی تمام مخفی باتیں اور سینوں کے تمام راز ظاہر ہوجائیں گے خواہ وہ خیر ہوں یا شر ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–11

ف 4۔ اس سے مراد لڑائی کے گھوڑے ہیں جہاد ہو یا غیر جہاد اور عرب کو اس وجہ سے کہ وہ اہل رزم تھے ان قسموں سے نہایت مناسبت ہے، ہانپنا دوڑنے کے وقت ظاہر ہے اور نعل آہنی پتھریلی زمین پر لگنے سے آگ کا جھڑنا بھی ظاہر ہے اور عرب میں اکثر عادت دشمنوں پر صبح کے وقت تاخت کرنے کی تھی تاکہ رات کے وقت جانے میں دشمن کو خبر نہ ہو۔ صبح کو دفعة جا پڑیں اور رات کو حملہ نہ کرنے میں اظہار شجاعت سمجھتے تھے، غبار کا اڑنا گو ہر وقت ہوتا ہے مگر اس کو صبح کے ساتھ مقید کرنا شدت اسراع کی طرف اشارہ ہے کہ ٹھنڈے وقت غبار دبا ہوا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور سینوں کے سارے راز ظاہر کردیئے جائیں گے 10 ؎ ( حصل) کا اصل مادہ ح ص ل ہے اور اس مادہ کا صرف یہ ایک لفظ قرآن کریم میں آیا ہے دوسرا کوئی لفظ اس مادہ کا قرآن کریم میں و نہیں آیا ۔ وہ حاصل کیا گیا ہے ۔ وہ ظاہر کیا گیا تحصیل سے جس کے معنی چھلکے میں سے گودا نکالنے کے ہیں جیسے کان (Mine) میں سے سونا نکالنا یا نمک کی کان سے نمک اور اسی طرح خوشہ میں سے گندم نکالنے پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے انسانوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ قیامت کے روز صرف اس کے ظاہری اعمال کی ہی جانچ پڑتال نہیں ہوگی بلکہ اسکے ارادوں ، نیتوں اور اسکے قلبی جذبات اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–11

Verses [ 100:9-11] وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ‌ ﴿10﴾ إِنَّ رَ‌بَّهُم بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّخَبِيرٌ‌ ﴿11﴾ أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ‌ مَا فِي الْقُبُورِ‌ ﴿9﴾ (Does he not then know [ what will happen ] when all that is contained in the graves will be overturned, and all that is contained in the hearts will be exposed. Surely your Lord, that day, is fully aware of them.) Divine retribution will be meted out, in the Hereafter, to each person commensurate with his deeds, good or bad, as Allah is well-aware of them. Therefore, it would be wise for man to abstain from ingratitude, and he…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

8 That is all the intentions aims and objects, ideas and thoughts and the motives behind acts and deeds that lie hidden in the hearts will be exposed and examined in .order to sort out the good from the evil. In other words judgement will not be passed only on the apparent and superficial as to what a man practically did but the secrets hidden in the hearts also will be brought out to see what were the intentions and motives under which _ a man did what he did. If man only considers this he cannot help admitting that real and complete justice cannot be done anywhere except in the Court of…

Read the full tafseer →