Explained with ayahs 1–11
انسان کا نفسیاتی تجزیہ :
مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہاتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ وبالا کرنا آنحضرت ﷺ کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کام لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آگئی تو آپ رک جاتے نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر…
Read the full tafseer →سورة العدیات 9
یعنی اس کو خوب معلوم ہوگا کہ کون کیا ہے اور کس سزا یا جزا کا مستحق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
افلایعلم اذا بعثر ما فی القبور الآیتہ، کیا اس غافل انسان کو اس کی خبر نہیں کہ قیامت کے روز جبکہ مردے قبروں سے زندہ کر کے اٹھا لئے جاویں گے اور دلوں میں چھپی ہوئی باتیں بھی سب کھل کر سامنے آجاوینگی اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ رب العالمین ان سب کے سب حالات سے باخبر ہیں تو اس کے مطابق جزاء سزا دیں گے اس لئے عقلمند کا کام یہ ہے کہ ناشکری سے باز آئے اور مال کی محبت میں ایسا مغلوب نہ ہو کہ اچھے برے کی تمیز نہ رہے۔
فائدہ۔ اس آیت میں یہ دو مذموم خصلتیں مطلق انسان کی بیان کی گئی ہیں حالانکہ انسان میں انبیاء و اولیاء اور بہت سے صلحاء عباد ایسے ہیں، جو ان مذموم خصلتوں سے پاک اور شکر گزار بندے ہوتے ہیں…
Read the full tafseer →یہ بات اوپر والی تنبیہ ہی کو مؤکد کرنے کے لیے فرمائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اعمال اور ان کے محرکات سے اچھی طرح باخبر تو آج بھی ہے، لیکن آج ہر چیز کو آشکارا کرنا اس کی حکمت کے خلاف ہے۔ البتہ وہ دن اسی لیے ہو گا کہ سارا ریکارڈ ہر شخص کے سامنے رکھ دیا جائے۔ چنانچہ جب وہ رکھ دیا جائے گا تو دوسرے بھی جان لیں گے کہ ان کا رب ان کے ظاہر و باطن دونوں سے کتنا آگاہ ہے۔
Read the full tafseer →11۔ 1 یعنی جو رب ان کو قبروں سے نکال لے گا ان کے سینوں کے رازوں کو ظاہر کر دے گا اس کے متعلق ہر شخص جان سکتا ہے کہ وہ کتنا باخبر ہے ؟ اور اس سے کوئی چیز مخفی نہیں پھر وہ ہر ایک کو اس کے عملوں کے مطابق اچھی یا بری جزا دے گا۔ یہ گویا ان اشخاص کو تنبیہ ہے جو رب کی نعمتیں تو استعمال کرتے ہیں لیکن اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے، اسکی ناشکری کرتے ہیں۔ اسی طرح مال کی محبت میں گرفتار ہو کر مال کے وہ حقوق ادا نہیں کرتے جو اللہ نے اس میں دوسرے لوگوں کے رکھے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
4: یعنی مردوں کو قبروں سے نکال دیا جائے گا، اور لوگوں کے سینوں میں چھپے راز کھل جائیں گے۔
Read the full tafseer →سب لوگ رب کی طرف لوٹنے والے ہیں اور اس دن ان کے امور ، ان کے رازوں اور ان کے حالات سے اللہ نہایت ہی اچھی طرح خبردار ہوگا۔ اس دن کی قید نہیں ہے ، اللہ تو ہر وقت اور ہر دن ان حالات سے خبردار ہے۔ لیکن یہاں ” یومئذ “ کا لفظ نہایت موثر ہے۔ اور اس کے آثار انسان کو اس دن کے بارے میں چوکنا کردیتے ہی۔ یہ کہ اللہ اس دن خبردار ہوگا یعنی کوئی سزا سے نہ بچ سکے گا۔ حساب و کتاب نہایت علم وخبرداری پر مبنی ہوگا۔ یہی ضمنی مفہم ہی یہاں اہمیت رکھتا ہے۔ غرض یہ پوری سورت ایک مسلسل منظر ہے۔ ایک خوفناک وہیبت ناک منظر ، معانی ، الفاظ اور انداز بیان سب کچھ بدل جاتا ہے اور یہ منظر اختتام پذیر ہوتا ہے اور یہ قرآن کے…
Read the full tafseer →9 یعنی ہرچند کہ اللہ کا علم ہر وقت بندے کے ظاہر و باطن پر محیط ہے۔ لیکن اس روز اس کا علم ہر شخص پر ظاہر ہوجائے گا۔ اور کسی کو گنجائش انکار کی نہ رہے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
آیت 1 1{ اِنَّ رَبَّہُمْ بِہِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۔ } ”یقینا ان کا رب اس دن ان سے پوری طرح باخبر ہوگا۔“
اللہ تعالیٰ کو ان کے تمام اعمال و افعال کا علم ہے اور اس دن وہ ان سے ایک ایک چیز کا حساب لے لے گا۔ اَللّٰھُمَّ حَاسِبْنَا حِسَابًا یَّسِیْرًا۔ آمین ! انذارِ آخرت کے مضمون کی حامل ان سورتوں میں سے ہر سورت کی تلاوت کے بعد یہ دعا ضرور کرنی چاہیے کہ اے اللہ ! تو ہم سے آسان حساب لینا اور اپنی خصوصی رحمت سے ہمارے گناہوں کو معاف کردینا۔
Read the full tafseer →11 اللہ تو آج بھی، پہلے بھی اور اس وقت بھی یعنی ہر وقت بندوں کے اعمال سے پوری طرح واقف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دن تمام لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ اللہ دنیا کی زندگی میں بھی ان کے احوال سے پوری طرح باخبر تھا اور آج بھی پوری طرح باخبر ہے۔ لہذا کسی شخص کو انکار کی گنجائش نہ رہے گی۔
Read the full tafseer →5۔ (چنانچہ ان کی ناشکرگزاری سے بھی اور اس کی موجبات ومحرکات سے بھی آگاہ ہوگا) (آیت) ” ربھم “۔ بھم جمع غائب کی یہ ضمیریں آیت 6 کے (آیت) ” الانسان “ کی جانب ہیں، جو معنی جمع تھا۔ والانسان علی معنی الجمع (کبیر) ضمیر مبعوثین کی جانب بھی سمجھی جاسکتی ہے۔ (آیت) ” بھم .... لخبیر “۔ یعنی ان لوگوں کے اعمال، اقوال، احوال سب کی ایک ایک تفصیل سے آگا ہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے ان گھوڑوں کی جو جہاد میں پھنکارتے ہوئے (ہانپتے ہوئے) دوڑتے ہیں، ضبح جوف (پیٹ) کی اس آواز کو کہتے ہیں جو دوڑتے وقت نکلتی ہے، پھر ان گھوڑوں کی جو ٹاپوں سے چنگاریاں جھاڑتے ہیں پھر ان گھوڑوں کی جو صبح سویرے دشمن پر شب خون مارتے ہیں، اپنے سوار کے شب خوب مارنے سے پھر اس موقع پر یعنی اپنے دوڑنے کی جگہ یا اس وقت اپنی شدید حرکت کی وجہ سے غبار اڑاتے ہیں پھر اسی غبار میں دشمن کے مجمع میں گھس جاتے ہیں یعی ان کے وسط تک پہنچ جاتے ہیں اور فعل کا عطف اسم پر اس لئے درست ہے کہ اسم فعل کی تاویل میں ہے، یعنی معنی میں واللاتی عدون،…
Read the full tafseer →ان ربھم بھم یومئذ لخبیر انکا رب اس روز ان سے باخبر ہوگا اللہ تو ہر وقت باخبر ہے اس روز باخبر ہونے کی خصوصیت اس لیے بیان کی کہ سزا و جزا اس روز ظاہر ہوگی پس اللہ کا باخبر ہونا اس روز ظاہر ہوجائیگا یا یوں کہا خبیر سے مراد ہے بدلہ دینے والا مطلب یہ ہے کہ ان کا رب اس روز بدلہ دیگا۔ زجاج نے یہی بیان کیا سورة العادیات ختم ہوئی ‘ بعونہٖ و منہٖ تعال
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
(9۔ 11) کیا اس کو وہ وقت معلوم نہیں کہ جب مردوں کو زندہ کیا جائے گا اور دلوں میں جو کچھ نیکی اور برائی بخل اور سخاوت ہے وہ سب ظاہر ہوجائے گی ان کا پروردگار قیامت کے دن اسے اور ان کے اعمال سے پورا پورا باخبر ہوگا۔
Read the full tafseer →ان ربھم بھم یومئذ لخیر : اس آیت پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ رب تعالیٰ تو ہمیشہ ہی بندوں کے حالات سے باخبر ہے، پھر اس دن کو خاص کیوں فرمایا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس دن جب ظاہری اعضا سے سر زد ہونے والے اعمال کے علاوہ دلوں کے اعمال ظاہر کر کے ان کی بھی جزا و سزا دی جائے گی، تو اگر پہلے کسی کو شک تھا تو اس دن وہ بھی والے اعمال کے علاوہ دلوں کے اعمال ظاہر کر کے ان کی بھی جزا و سزا دی جائے گی، تو اگر پہلے کسی کو شک تھا تو اس دن وہ بھی دور ہوجائے گا کہ یقیناً ان کا رب ان کے متعلق خوب خبر رکھنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا جب نکال لیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے اور ظاہر کردیا جائے گا جو سینوں میں (پوشیدہ) ہے یقینا ان کا رب ان سے اس روز خوب باخبر ہوگا۔
کیا انسان نہیں جانتا جب قبروں میں جو کچھ ہے اسے الٹ دیا جائے گا اور ان میں جو کچھ ہے اسے نکال لیا جائے گا۔ ابو عبیدہ نے کہا : بعثرت المتاع یہ جملہ اس وقت بولا جاتا ہے جب تو سامان کے نیچے والے حصے کو اوپر کردے۔ محمد بن کعب سے مروی ہے، کہا : یہ اس وقت ہوگا جب انہیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ فراء نے کہا : میں نے بنی اسد کے بعض بدوؤں کو پڑھتے ہوئے سنا، بحثر یعنی عین کی جگہ حاء کو پڑھا۔ ماوردی نے حضرت ابن مسعود سے یہی روایت کیا ہے۔ دونوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة والعدیت مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ محمد بن نصر نے عطا بن ابی رباح کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا زلزلت الارض آدھے قرآن کے برابر ہے اور والعدیت آدھے قرآن کے برابر ہے۔
3۔ محمد بن نصر نے عطا بن ابی رباح کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا زلزت آدھے قرآن کے برابر ہے آیت والعدیت آدھے قرآن کے برابر ہے اور قل ہوا للہ احد تہائی قرآن کے برابر ہے اور قل یا ایہا الکفرون چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔۔
4۔ البزار وابن المنذر وابن ابی حاتم والدار قطنی فی الافراد وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول…
Read the full tafseer →[ان رَبَّهُمْ بِهِمْ : بیشک ان کا رب ان کے بارے میں ][ يَوْمَىِٕذٍ لَّخَبِيْرٌ: اس دن یقینا خبررکھنے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
﴿وَ حُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوْرِۙ0010﴾ اور سینوں میں جو کچھ چھپا رکھا ہے وہ سب ظاہر کردیا جائے گا جو کوئی گناہ بری نیت مال کی محبت، دنیا کی الفت دل میں چھپائے ہوئے تھے قیامت کے دن سب کو ظاہر کردیا جائے گا، یوں تو آج بھی اسی دنیا میں ہر ایک کے احوال اور اعمال اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں اور وہ پوری طرح سب حالات سے باخبر ہے چونکہ وہ حساب کا دن ہوگا اس لیے خصوصیت کے ساتھ اس کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شانہ کو اس دن پوری طرح بندوں کے حالات کی خبر ہوگی۔ نیز بندوں پر بھی ان کے اعمال واضح ہوجائیں گے جسے گزشتہ سورت کے آخر میں واضح فرما دیا ہے۔
والحمد للہ تعالیٰ علی ما انعم واکرم من الآ لاء والنعم
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سرگرمی بہائم در اطاعت مالک ونافرمانی وناشکری انسان بآقاء رب العالمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والعدیت ضبحا ...... الی ........ ان ربھم بھم یومئذ لخبیر “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں مجازات اعمال کا قانون بیان کیا گیا تھا اور یہ کہ انسان اپنی زندگی میں جو بھی نیکی یا بدی کا عمل کرے گا روز قیامت قیامت کا اس بدلہ پاکر رہے گا، اب اس سورت میں انسان کی غفلت و لاپرواہی اور اپنے رب کی ناشکری کی مذموم خصلت بیان کی جارہی ہے اور یہ کہ دراصل اس روش کا منشاء حرص مال، لالچ اور نفس کی خواہش ہے، اس کے پیچھے پڑکر انسان اپنے رب کو بھلا دیتا ہے اور اس سے غافل ہوجاتا ہے کہ مرنے کے بعد اس کو دوبارہ زندہ ہونا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
4:۔ ” افلا یعلم “ یہ علاج مرض کا بیان ہے بصورت تخویف اخروی کیا انسان یہ نہیں جانتا کہ جب قبروں سے مردے اٹھائے جائیں گے یعنی قیامت کے دن اور دلوں کی تمام باتیں ظاہر کردی جائیں گی اس دن ان کا پروردگار ان کے اعمال خیر و شر سے باخبر ہوگا اور ان کو پوری پوری جزاء دے گا ای عالم لایخفی علیہ منہم خافیۃ وھو عالم بہم فی ذلک الیوم وفی غیرہ ولکن المعنی انہ یجازیہم فی ذلک الیوم (قرطبی ج 20 ص 163) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
مکی زندگی میں نازل ہوئی ، تاہم حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت قتادہ اور امام مالک سے منقول ہے کہ یہ مدنی سورة ہے۔ اس کی گیارہ آیات ہیں۔ یہ سورة چالیس الفاظ اور ایک سو تریسٹھ حروف پر مشتمل ہے۔
گزشتہ سورة کے ساتھ ربط
سابقہ سورة زلزال میں انسان کے جزائے عمل کا ذکر تھا کہ جزائے عمل کا واقع ہونا لازم ہے۔ اس سے پہلی سورة البینتہ میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہے ۔ انسان کو اللہ کی عبادت کرنی چاہئے اور حنیف بن کر رہنا چاہئے۔ بدنی اور مالی عبادات یعنی مال اور زکواۃ پر کاربند ہونا چاہئے۔ خدا کا خوف ہر وقت دل میں جاگزیں ہونا چاہئے۔
اس سورة مبارکہ میں ان بیماریوں کا ذکر ہے جو کہ مذکورہ بالا پروگرم پر عمل…
Read the full tafseer →اِنَّ رَبَّہُمْ بِہِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّخَبِيْرٌ 11 ۧ
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
ترکیب ¦ وللقسم العادیات جمع عادیۃ من العدود ھوالمشی بسرعۃٍ فقلبت الواؤ یائً لکسرۃ ما قبلھا کا لغازیات من الغزو۔ والمراد بھا الخیل الجھادیۃ دقیل بعیر الحجاج ضبحا الضبح صوت اجواف الخیل اذا عدت وقیل السیر و نوع من العد و یقال ضبح الفرس اذا عد ابشدۃ من الضبح بمعنی الدفع وکان الحاء بدل من العین علی الاول منصوب علی الحال ای ضابحات وعلی الثانی مفعول مطلق موکد لاسم الفاعل و یجوزان یکون مصدر الفعل محدوف ای یضیح ضبحا۔ فالمو ریات قدحًا عطف العادیات من الایراء و ھوا اخراج النار جمع موریۃ والقدح الصک فجعل ضرب الخیل بحوا فرھا کالقدح بالزنا دوالکلام فی نصب قدحا کا لکالم ضبحا فالمغیرات ای التی تغیر علی العدو…
Read the full tafseer →اِنَّ رَبَّھُمْ بِھِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۔ (العٰدیٰت : 11)
(بیشک ان کا رب اس روز ان سے خوب باخبر ہوگا۔ )
اللہ تعالیٰ کا علم حدودوقیود سے ماوراء ہے
اعمال اور محرکات کے ریکارڈ کے سلسلے میں کسی کو یہ خیال نہ گزرے کہ محرکات کا دارومدار عموماً اندازوں پر ہوتا ہے، اور اندازوں میں غلطی کا ہر وقت امکان رہتا ہے۔ ممکن ہے قیامت کے دن بھی کوئی شخص اندازوں کی غلطی سے کسی برے انجام سے دوچار ہوجائے۔ اس پر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ قیامت کے دن ایسی کسی غلطی کا امکان نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ آج بھی لوگوں کے اعمال اور ان کے محرکات سے پوری طرح باخبر ہے اور قیامت کے دن بھی باخبر ہوگا۔ اس لیے وہاں محرکات کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
فہم القرآن
ربط کلام : ناشکری اور بخل سے بچنے کے لیے انسان کو ہمیشہ اپنا انجام ذہن میں رکھنا چاہیے۔
بے شک انسان ہفت اقلیم کا بادشاہ اور پوری دنیا کے خزانوں کا مالک بن جائے، مگر موت کے وقت اس نے خالی ہاتھ جانا ہے، قبر میں کفن کے سوا کوئی چیز اس کے ساتھ نہیں جاتی۔ قیامت کے دن اسے اٹھایا جائے گا تو اس کے وجود پر کوئی لباس نہیں ہوگا، نیکی اور برائی کے سوا کوئی چیز اس کے ساتھ نہیں ہوگی۔ قیامت کے دن اسے قبر سے اٹھاکر محشر کے میدان میں کھڑا کیا جائے گا تو صرف اس کا اعمال نامہ اس کے سامنے پیش نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کے ہر عمل کے ساتھ اس کی نیت اور خیالات بھی لف (Attache) ہوں گے۔ انسان اپنے رب سے کوئی…
Read the full tafseer →11 : اِنَّ رَبَّھُمْ بِھِمْ یَوْمَپذٍ لَّخَبِیْرٌ (بیشک ان کا پروردگار ان کے حال سے پورا آگاہ ہے) وہ ان کے بارے میں جاننے والا ہے پس خیر و شر میں سے جس قسم کے ان کے اعمال ہونگے ان پر بدلہ دے گا۔
سوال : یومئذؔ کو خاص کیا گیا۔ حالانکہ باری تعالیٰ تمام ازمنہ میں جاننے والے ہیں۔
جواب : اس دن چونکہ بدلہ ملے گا۔ اس لئے اس دن کی تخصیص کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →11 ۔” ان ربھم بھم “ ضمیر کو جمع ذکر کیا ہے اس لئے کہ انسان اسم جنس ہے ۔ ” یومئذ لخیر “ جاننے والا ہے۔ زجاج (رح) علیہ فرماتے ہیں ان سے اس دن میں باخبر ہے اور اس کے علاوہ میں بھی لیکن معنی یہ ہے کہ وہ ان کو ان کے کفر پر اس دن میں بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ 11۔ اللہ تعالیٰ کا دین پھیلانے کے لئے جو لوگ گھوڑوں پر سوار ہو کر مخالف لوگوں پر حملہ کرتے تھے ان کے گھوڑوں کے دوڑنے اور دوڑنے میں ہانپنے اور پتھر پر دوڑتے وقت ان کے نعلوں میں سے آگ کے شعلے جھڑنے اور صبح کے وقت حملہ کرنے اور حملہ کے وقت گرد و غبار اٹھنے اور اس گرد و غبار میں سواروں کے دشمنوں میں گھس جانے کی ان سب باتوں کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا کہ انسان کی حالت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ بڑا ناشکرا ہے کیونکہ اللہ نے اس کو پیدا کیا۔ اس کی زیست بھر کے سب طرح کے آرام کا بندوست کیا۔ پھر یہ انسان اللہ کو چھوڑ کر اوروں کو اپنا معبود ٹھہراتا ہے اس سے بڑھ کر اور کون سی حالت ناشکری کی…
Read the full tafseer →(اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّخَبِيْرٌ) بیشک ان کا رب ان کے ظاہری اور باطنی جلی، اور خفی اعمال سے خبردار ہے اور وہ ان کے اعمال کی جزا دے گا اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کو اس دن کے ساتھ خاص طور پر ذکر کیا ہے حالانکہ وہ ان کے بارے میں ہر وقت خبر رکھنے والا ہے کیونکہ اس سے مراد اعمال کی جزا ہے جس کا باعث اللہ تعالیٰ کا علم اور اس کی اطلاع ہے۔
Read the full tafseer →(11) اللہ سب کے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ انکا رب ان سے اس دن پوری طرح باخبر ہوگا، اور آگاہ و باخبر تو وہ آج بھی ہے اور پوری طرح سے ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ لیکن آج اس نے اپنی حکمت سے ان پر پردہ ڈالا ہوا ہے، اور چھوٹ دے رکھی ہے، مگر اس دن چونکہ یہ سب پردے ہٹا دیے جائیں گے کہ وہ دن ہوگا ہی کشف حقائق کا دن، اور صلے و بدلے کا وقت، اس لیے فرمایا گیا کہ اس دن ان کا رب ان سے پوری طرح باخبر، آگاہ ہوگا، سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو کوئی بھی اپنے کسب و عمل اور زندگی بھر کے کیے کرائے کا بدلہ و پھل پانے سے اس دن محروم نہیں رہے گا۔ اللہ اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
گھوڑے کی وفاداری سے بندہ سبق سیکھے
تشریح : یہ سورت پوری کی پوری انسان کو راہ ہدایت دکھانے، آخرت، حساب کتاب اور اس سچی خبر کی تصدیق میں ہی نازل کی گئی ہے کہ دنیا کے عیش و آرام مال و دولت میں اس قدر مگن نہ ہوجاؤ کہ اپنے پیدا کرنے والے ' پرورش کرنے والے اور پھر اپنے آخری ٹھکانے سے ہی غافل ہوجاؤ۔ اس سچائیـ کو مزید تقویت دینے کے لیے اللہ تعالیٰ اس وفادار ' مضبوط اور انتہائی فرمانبردار پر خلوص جانور کی قسم کھا رہا ہے جو کہ تمام مفسرین کی رائے کے مطابق گھوڑا ہی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ تمام جانوروں میں سب سے زیادہ انسان کے کام آنے والا خاص طور سے جنگوں میں ' سفر میں اور بار برداری میں گھوڑا ہی ہے۔ یہ بڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سورة العادیات۔
آیات 1 تا 11
اسرار ومعارف۔
قسم ہے جہاد میں دوڑنے والے گھوڑوں کی انکی مشقت کی ان کے نعلوں سے چنگاریاں نکلتی ہیں اور جب وہ علی الصبح کسی پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور پھر جب ہر طرف گرد اڑتی ہے اور دشمنوں کی فوج میں گھس پڑتے ہیں یعنی جہاد کا یہ سارامنظر اس بات پہ گواہ ہے انسان اپنے پروردگار کا سخت ناشکرا ہے کہ جو بات یعنی نظام اسلام اس کی بھلائی کے لیے تھا اس کے لیے روکاوٹ بن گیا اور اس کے نفاذ کے لیے جہاد کی ضرورت پیش آئی اللہ کو وہ جانور بھی پیارے ہیں جو اس کی راہ میں جہاد میں کام آئیں اور یہ انسان ہو کر اور خوب جانتے ہوئے کہ اسلام ہی سلامتی ہے اور یہ حق ہے پھر بھی اس کی مخالفت پہ کمربستہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
ف 14 لفظی ترجمہ یہ ہے ” بیشک ان کا رب ان سے اس دن خوب باخبر ہوگا۔ “ لیکن مطلب یہی ہے کہ ان کی خوب خبر لے گا۔ اس کی مثال دوسرے مقام پر یہ ہے : اولئک الذین یعلم اللہ مافی قلوبھم۔ “ (نساء 63) اس کا بھی نقشی ترجمہ یہ ہے کہ ’ داللہ ان کے دلوں کی باتوں کو جانتا ہے۔ “ لیکن مطلب یہی ہے کہ انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دیئے بغیر نہ چھوڑے گا۔
Read the full tafseer →(100:11) ان ربھم بھم یومئذ لخبیر : ان حرف تحقیق، حرف مشبہ بالفعل، ربھم مضاف مضاف الیہ مل کر اسم ان : لخبیر اس کی خبر باقی کلام متعلق خبر۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اذا بعثر تا فی الصدور جملہ شرطیہ ہو اور ان ربھم بھم یومئذ لخبیر۔ واجب شرط۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ شرط اور جواب شرط فعل یعلم کا مفعول ہو۔
ترجمہ ہوگا :۔ یقینا ان کا رب ان سے اس دن خوب باخبر ہوگا۔ (اگرچہ اللہ تعالیٰ آج بھی ان کے حالات سے اچھی طرح واقف ہے لیکن اس روز کی آگاہی اور باخبری کی کیفیت اس روز جداگانہ ہوگی۔ (ضیاء القرآن)
زجاج کا بیان ہے کہ :۔ خبیر سے مراد ہے بدلہ دینے والا۔ سو مطلب یہ ہے کہ ان کا رب اس دن بدلہ دے گا۔ (تفسیر مظہری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
العدیت۔ دوڑنے والے گھوڑے۔ ضبح۔ ہانپتے ہوئے۔ الموریت۔ چنگاریاں نکالنے والے۔ قدح۔ آگ جھاڑ کر۔ المغیرات۔ وہ حملہ کرنے والے ہیں۔ اثرن۔ اٹھاتے ہیں۔ نقع۔ گردوغبار۔ وسطن۔ وہ بیچ میں گھس جاتے ہیں۔ کنود ۔ ناشکرا۔ شہید۔ گواہ۔ الخیر۔ مال و دولت۔ بعثر۔ باہر نکالا گیا۔ حصل۔ حاصل کیا گیا۔
تشریح : انسان کیچ اروں طرف اللہ نے اتنی نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے جنہیں شمار کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ یہ نعمتیں انسان سے اس بات کا مطالبہ کرتی نظر آتی ہیں کہ اسے ہر سانس میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں زندگی گزارنی چاہیے۔ اسے وہی کرنا چاہیے جس کے کرنے کا اس کو حکم دیا گیا ہے اور ہر اس بات سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
جہاد کی اہمیت وفضیلت۔
(ف 1) اللہ تعالیٰ کا دین پھیلانے کے لیے جو لوگ گھوڑوں پر سوار ہوکر مخالف لوگوں پر حملہ کرتے ہیں ان کے گھوڑوں کے دوڑنے اور دوڑنے میں ہانپنے اور پتھر پر دوڑتے وقت ان کے نعلوں میں سے آگ کے شعلے جھڑنے اور صبح کے وقت حملہ کرنے اور حملہ کے وقت گردوغبار اٹھنے اور اس گردوغبار میں سواروں کے دشمنوں میں گھس جانے کی (حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں یہ جہاد والے سواروں کی ایک قسم ہے اس سے بڑا کون ساعمل ہوگا، کہ اللہ کے کام پر اپنی جان دینے کو حاضر ہیں اور یہ جہاد کرنے والے سواروں کی اللہ کی راہ میں سرفروشی وجانبازی بتلاتی ہے کہ وفادار وشکرگذار بندے ایسے ہوتے ہیں) ان سب باتوں کی اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
[5] یعنی اللہ تعالیٰ کو ہر شخص کے بارے میں خوب معلوم ہوگا کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتا رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
سورة العدیت
1: ان آیتوں میں نہایت ہی لطیف پیرایہ میں یہ بیان فرمایا ہے کہ انسان انپے رب کی رحمتوں اور بخششوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا ۔ اسے تو چاہیے تھا کہ جس طرح اس نے اس کو عدم سے وجود بخشا ہے ۔ گویائی کی قوت عطافرمائی ہے ۔ سمجھ دی ہے اور سارے عالم کائنات کو اس کیلئے مسخر کردیا ۔ ہر آن اس کے سامنے جھکارہتا ہے اور کبھی اس کے حکموں کی تعمیل سے انحراف نہیں کرتا ۔ اللہ کی نعمتیں اور انعامات اس درجہ زیادہ ہیں کہ ان کا احصار ہی ناممکن ہے اور اگر انسان چاہے بھی کہ ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرے ۔ جو اس پر واجب ہے تو کبھی اس فرض کو ادا نہ کرسکے ۔ اگرچہ ہر بن ، مو ، زبان سپاس بن جائے اور ہر زبان وقف حمدو…
Read the full tafseer →(11) بے شک اس دن ان کا پروردگار ان کے تمام احوال سے باخبر اور آگاہ ہے۔ یعنی یوں تو ہر وقت بندے کے ظاہر اور پوشیدہ حال سے اللہ تعالیٰ آگاہ ہے اور اس کا علم بندے کے ظاہر و باطن کو محیط ہے لیکن اس دن اس کا علم سب پر ظاہر ہوجائے گا جبکہ وہ ہر ایک کو اس کے کئے کی پاداش دے گا یا صلہ عطا فرمائے گا۔ اگر انسان اس دن یقین کرتا تو اپنی کنودیت یعنی کفران نعمت اور حب مال اور اپنی بخیلی سے باز آجاتا اور اللہ تعالیٰ کافرماں بردار اور شکرگزار ہوجاتا۔
تم تفسیر سورة العادیات
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
ف 4۔ اس سے مراد لڑائی کے گھوڑے ہیں جہاد ہو یا غیر جہاد اور عرب کو اس وجہ سے کہ وہ اہل رزم تھے ان قسموں سے نہایت مناسبت ہے، ہانپنا دوڑنے کے وقت ظاہر ہے اور نعل آہنی پتھریلی زمین پر لگنے سے آگ کا جھڑنا بھی ظاہر ہے اور عرب میں اکثر عادت دشمنوں پر صبح کے وقت تاخت کرنے کی تھی تاکہ رات کے وقت جانے میں دشمن کو خبر نہ ہو۔ صبح کو دفعة جا پڑیں اور رات کو حملہ نہ کرنے میں اظہار شجاعت سمجھتے تھے، غبار کا اڑنا گو ہر وقت ہوتا ہے مگر اس کو صبح کے ساتھ مقید کرنا شدت اسراع کی طرف اشارہ ہے کہ ٹھنڈے وقت غبار دبا ہوا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →بلا شبہ ان کا رب ان کی حالت سے خوب خبردار ہے
11 ؎ یہ بات گزشتہ مضمون کو مؤکد کرنے کے لیے کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک بندے کے بارے میں ہر آن واقف ہے۔ کوئی بات کسی انسان کی کسی حال میں بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے لیکن اس روز چونکہ فیصلہ ہوگا اس لیے کہ وہ دن فیصلہ کے لیے مقرر کیا گیا ہے اس لیے اس روز کا آگاہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ جو فیصلہ وہاں سے ہو کر آئے گا وہ ہر لحاظ سے عدل و انصاف پر مبنی ہوگا کیونکہ فیصلہ کرنے والا وہ ہوگا جو ان لوگوں کے دلوں کے رازوں سے بھی واقف ہے جو اس طرح کی بداعتدالیاں کرتے رہے۔ یہ بات اپنی جگہ محقق ہے کہ اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے دل میں کچھ ہوتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
Verses [ 100:9-11] وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ ﴿10﴾ إِنَّ رَبَّهُم بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّخَبِيرٌ ﴿11﴾ أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ ﴿9﴾ (Does he not then know [ what will happen ] when all that is contained in the graves will be overturned, and all that is contained in the hearts will be exposed. Surely your Lord, that day, is fully aware of them.) Divine retribution will be meted out, in the Hereafter, to each person commensurate with his deeds, good or bad, as Allah is well-aware of them. Therefore, it would be wise for man to abstain from ingratitude, and he…
Read the full tafseer →9 That is, He will be knowing full well who is who, and what punishment or reward he deserves.
Read the full tafseer →