Al-Qaari'a 101:1

101. Al-Qaari'aالقارعة

The Calamity · Meccan · 11 ayahs · 1 ruku

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

101:1

اَلْقَارِعَةُ ۟ۙاَلۡقَارِعَةُ

کھڑ کھڑانے والی

— Fateh Muhammad Jalandhari

The Striking Calamity -

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 26 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qaari'a

All translations of 101:1

کھڑ کھڑانے والی

— مولانا فتح محمد جالندہری

کھڑکھڑا دینے والی

— مولانا محمد جوناگڑہی

(یاد کرو) وہ واقعہ جو دل دہلا کر رکھ دے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

(زمین و آسمان کی ساری کائنات کو) کھڑکھڑا دینے والا شدید جھٹکا اور کڑک،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ کھٹکھٹانے والی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ (دلوں کو) دہلا دینے والا واقعہ

— مولانا اسحاق مدنی

وہ کھٹکھٹانے والی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کھڑ کھڑ انے والی۔ (القارعہ کا لفظی مطلب ہے ٹھونکنے والی

— محترمہ رفعت اعجاز

The Striking Event!

— Muhammad Taqi Usmani

The Striking Event!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The Striking Calamity -

— Saheeh International

The (unprecedented) crash!

— Muhammad Sarwar

The terrible calamity!

— Muhammad Habib Shakir

The Striking!

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 101:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–11

اعمال کا ترازو : قارعہ بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے حآقہ طآمہ صآخہ غاشیہ وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے ؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہوسکتا پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے جس طرح پروانے ہوتے ہیں اور جگہ فرمایا ہے کانھم جراد منتشر گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں پھر فرمایا پہاڑوں کا یہ حال ہوگا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہوجائیگا نیکوں پر چھا گئیں بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہوگا وہ جہنمی ہوجائیگا وہ منہ کے بل…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–4

سورة القارعہ 1 اصل میں لفظ قارعہ استعمال ہوا ہے جس کا لفظی ترجمہ ہے " ٹھونکنے والی " قرع کے معنی کسی چیز کو کسی چیز پر زور سے مارنے کے ہیں جس سے سخت آواز نکلے۔ اس لغوی معنی کی مناسبت سے قارعہ کا لفظ ہولناک حادثے اور بڑی بھاری آفت کے لیے بولا جاتا ہے۔ مثلا عرب کہتے ہیں قرعتہم القارعہ یعنی فلاں قبیلے یا قوم کے لوگوں پر سخت آفت آگئی ہے۔ قرآن مجید میں بھی ایک جگہ یہ لفظ کسی قوم پر بڑی مصیبت نازل ہونے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ سورة رعد میں ہے وَلَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا تُصِيْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ۔ " جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان پر ان کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی آفت نازل ہوتی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

خلاصہ تفسیر وہ کھڑ کھڑانے والی، چیز کیسی ہے وہ کھڑکھڑانے والی چیز اور آپ کو کچھ معلوم ہے کیسی کچھ ہی وہ کھڑکھڑانے والی چیز (مراد قیامت ہے جو دلوں کو گھبراہٹ سے اور انوں کو سخت آوازوں سے کھڑکھڑائے گی اور یہ اس روز ہوگا) جس روز آدمی پریشان پروانوں کی طرح ہوجاویں گے (پروانوں سے تشبیہ چند چیزوں کی وجہ سے دی گئی، ایک کثرت سے ہونا کہ سارے اولین و آخرین انسان ایک میدان میں جمع ہوجاویں گے، دوسرے کمزور ہونا کہ سب انسان اس وقت کمزوری میں پروانے جیسے ضعیف و عاجز ہوں گے یہ دونوں وصف تو تمام اہل محشر انسانوں میں عام ہوں گے، تیسرے بیتاب اور بےچین ادھر ادھر پھرنا جو پروانوں میں مشاہدہ کیا جاتا ہے یہ صورت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’اَلْقَارِعَۃُ‘ میں ایک خاص تنبیہ مضمر ہے: یہ قیامت کے مختلف ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اس کے معنی ہیں ٹھونکنے والی، کھٹکھٹانے والی۔ ’قَرَعَ الْبَابَ‘ کے معنی ہیں اس نے دروازہ کو ٹھونکا یا کھٹکھٹایا؛ اس نام سے قیامت کے اس خاص پہلو کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ جس طرح کوئی رات میں آنے والا دروازے کو ٹھونکتا اور گھر کے تمام سونے والوں کو دفعۃً ہڑبڑا دیتا ہے، وہی حال قیامت کا بھی ہو گا۔ اس کا وقت کسی کو نہیں معلوم کہ کب آ دھمکے۔ اس کا ظہور اچانک ہو گا اور وہ بالکل دفعۃً سارے عالم میں ایک ہلچل برپا کر دے گی۔ اس کے اسی نام کے اندر یہ تنبیہ بھی مضمر ہے کہ جب یہ اس کائنات کی سب سے بڑی ہلچل ہے اور اس کا وقت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–2

2۔ 1 یہ بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے جسے اس سے قبل متعدد نام گزر چکے ہیں مثلاً اَ لْحاقَّۃُ ، الطَّاَمَّۃُ ، صَّاَخَّہُ ، اَلْغَاشِیَۃُ ، الْسَّاعَہُ ، الْوَاقِعَۃُ وغیرہ، اسے الْقَارِعَۃُ اس لئے کہتے ہیں کہ یہ اپنی ہولناکیوں سے دلوں کو بیدار اور اللہ کے دشمنوں کو عذاب سے خبردار کر دے گی، جیسے دروازہ کھٹکھٹانے والا کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–3

بات کا آغاز ایک منفرد لفظ سے ہوتا ہے القارعہ۔ گویا یہ ایک گولہ ہے جو آکر گرتا ہے اس کی کوئی صفت یا کوئی خبر سیاق کلام میں نہیں ہے۔ یہ اس لئے تاکہ یہ لفظ اپنی آواز ، اپنے اثر اور اپنی شدت سے فضا میں ایک گونج پیدا کردے ، جس کا ایک طویل اشارہ ہے۔ اس کے فوراً بعد پھر ایک سوال آتا ہے : ما القارعة (2:101) ” کیا ہے وہ کھٹکھٹانے والی ؟ “ گویا وہ ایک نامعلوم ، پوشیدہ اور خوفناک بات ہے جو کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اس کے بعد پھر ایک سوال کے ذریعہ پہلے سوال کا جواب دیا جاتا ہے کہ تم نہیں جانتے کہ وہ کیا ہے ؟ وما ادرک ................ القارعة (3:101) ” تم کیا جانو کہ وہ عظیم حادثہ کیا ہے ؟ “ یہ اس قدر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–3

10 مراد قیامت ہے جو قلوب کو سخت فزع اور گھبراہٹ سے اور کانوں کو صوت شدید سے کھڑ کھڑا ڈالے گی۔ مطلب یہ ہے کہ حادثہ قیامت کے اس ہولناک منظر کا کیا بیان ہو۔ بس اس کے بعض آثار آگے بیان کردیے جاتے ہیں جن سے اس کی سختی اور شدت کا قدرے اندازہ ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–2

1 الْقَارِعَۃُ ۔ قرع بمعنی ایک چیز کو دوسری چیز پر اس طرح مارنا کہ آواز پیدا ہو اور قَرَعَ الْبَاب بمعنی اس نے دروازہ کھٹکھٹایا اور قارِعَۃٌ بمعنی کھڑکھڑانے والی اور ابن الفارس کے نزدیک ہر وہ چیز جو انسان پر شدت کے ساتھ نازل ہو وہ قارِعَۃٌ ہے (مقاییس اللغۃ) یعنی کوئی عظیم حادثہ یا بھاری آفت جو انسان کو گھبراہٹ میں ڈال دے اور اس سے مراد قیامت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–3

1۔ سوالات اور پھر پہیم سوالات، خطبات عرب کے دستور کے مطابق، کلام میں زور واثرپیدا کرنے کے لئے، اور مخاطبین کے جلب توجہ کے لئے ہے۔ (آیت) ” القارعۃ “۔ سے مراد صور قیامت کے نفخہ اول سے ہے جس کی مہیب آواز دلوں اور کانوں دونوں کو کھڑ کھڑا کر رکھ دے گی عموما اہل جاہلیت کی طرح عرب جاہلیت کے بھی کفر واعراض کی اصل بنیاد آخرت فراموشی پر تھی، آغاز وحی میں سب سے زیادہ زور عین ترتیب حکیمانہ کے مطابق اسی موضوع پر دیا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–5

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، وہ کھڑا کھڑانے والی یعنی قیامت جو کہ دلوں کو اپنی ہولناکی سے کھڑ کھڑا دے گی کیا ہے وہ کھڑ کھڑا دینے والی ؟ (یہ استفہام) قیامت کی ہولناکی کی شان کو بیان کرنے کے لئے ہے، (مالاقارعۃ) م بتداء خبر ہیں اور مبتداء خبر سے مل کر القارعۃ کی خبر ہے اور تم کیا جانو کہ وہ کھڑ کھڑا دینے والی کیا ہے ؟ یہ قیامت کی مزد ہولناکی کا بیان ہے، (ما ادرک ما القارعۃ مبتداء خبر سے مل کر مفعول ثانی ہے، جس دن انسان پریشان پر وانوں کی طرح ہوجائیں گے یوم کا ناصب وہ ہے جس پر القارعۃ دلالت کرتا ہے یعنی تقرع یعنی ٹٹڈی کے منتشر بچے جو حیرانی کی وجہ سے ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

القارعۃ . القارعۃ کی تفسیر الحاقۃ میں گزر چکی ہے۔ اس میں تاء یا تانیث کی ہے اور موصوف محذ وف ہے یعنی کھٹ کھٹانے والی ساعت یا مبالغہ کی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–5

(1۔ 5) قیامت کیسی کچھ قیامت ہے اور کیوں کہ دلوں کو ہلا دے گی اس لیے اس کو قارعہ بولا گیا جس روز آدمی پریشان پروانوں کی طرح ہوجائیں گے اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین روئی کی طرح ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(القارعۃ :”فرع یفرع قرعاً) (ف) شدت کے ساتھ دروازہ کھکھٹانا۔”القارعۃ“ ”الطآمۃ، الصآختہ ، الحآقۃ، الغاشیۃ“ اور ”الواقعۃ“ کی طرح قیامت کا ایک نام ہے، کیونکہ صدور کی آواز کانوں اور دلوں بلکہ ہر چیز کے ساتھ شدت سے ٹکرائے گئی، حتیٰ کہ اس آواز کی وجہ سے زمین اور پہاڑ بھی ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں گے، جیسا کہ فرمایا :(وحیلت الارض والجبال فدکتا دکتہ واحدۃ) (الحاقۃ : 13)”اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھایا جائے، پس دونوں ٹکرا دیئے جائیں گے، ایک بار ٹکرا دینا۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–3

(دل ہلا دینے والی) کڑک، یہ (زہرہ گداز) کڑک کیا ہے ؟ اور آپ کو کیا معلوم کہ یہ کڑک کیا ہے۔ قارعہ سے مراد قیامت ہے ؛ عام مفسرین نے یہی کہا ہے، اس نام کی وجہ یہ ہے کہ کیونکہ یہ مخلوقات کو اپنی ہولناکیوں کے ساتھ کھٹکھٹائے گی، اہل لغت کہتے ہیں : عرب کہتے ہیں قرعتھم القارعۃ وفقرتھم الفاقرۃ یہ جملے اس وقت کہے جاتے ہیں جب ان پر کوئی عظیم مصیبت آپڑے ؛ ابن احمر اور دوسرے شاعر نے یہی معنی لیا ہے : و قارعۃ من الایام لو لا۔۔۔ سبیلھم لزاحت عنک حینا متی تقرع بمردتکم نسوکم۔۔۔ ولم توقد لنا فی القدر نار اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لا یزال الذین کفروا تصیبھم بما صنعوا قارعۃ۔ (الرعد : 31) ما القارعۃ یہ جملہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة القارعۃ مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت القارعۃ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ہے۔ 3۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم یکون الناس کالفراش المبثوث۔ جس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے سے مراد وہ پروانہ ہے جو تم آگ میں گرتے ہوئے دیکھتے ہو آیت وتکون الجبال کالعہن المنفوش اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی طرح ہوں گ۔ یعنی اون کی طرح آیت فاما من ثقلت موازینہ آیت فہوفی عیشۃ راضیہ تو جس کے نیک اعمال تول میں زیادہ ہوں گے تو وہ خاطر خواہ عیش میں ۃ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَلْقَارِعَةُ : کھٹکھٹانے والی ] نوٹ 1: قَارِعَۃٌ کا لفظی ترجمہ ہے ٹھونکنے والی۔ یہ لفظ ہولناک حادثہ اور بڑی بھاری آفت کے لیے بولا جاتا ہے۔ یہاں یہ لفظ قیامت کے لیے استعمال کیا گیا ہے اور ان آیات میں قیامت کے پہلے مرحلے سے لے کر عذاب و ثواب کے آخری مرحلے تک کو یک جا کردیا گیا ہے۔ پہلی پانچ آیات میں قیامت کے پہلے مرحلے کا ذکر ہے جب وہ حادثۂ عظیم (اَلْقَارِعَۃُ ) برپا ہوگا جس کے نتیجے میں دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ اس وقت لوگ گھبراہٹ کے عالم میں اس طرح بھاگے بھاگے پھریں گے جیسے روشنی پر آنے والے پروانے ہر طرف پراگندہ ومنتشر ہوتے ہیں اور پہاڑ دھنکے ہوئے اُون کی طرح ہوں گے۔ پھر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–5

یہ سورة القارعة کا ترجمہ ہے، القارعیہ قرع یقرع اسم فاعل کا صیغہ ہے جس کا ترجمہ ہے کھڑکھڑانے والی چیز، جب قیامت قائم ہوگی تو لوگ اپنے اپنے مشغولوں میں کاروباری دھندوں میں لگے ہوں گے۔ کوئی سور ہا ہوگا، کوئی جاگ رہا ہوگا وہ بغتة یعنی اچانک آجائے گی۔ ساری زمین میں جو زندہ لوگ ہوں گے اور زمین کے اندر جو مردے ہوں گے سب ہی کو کھڑا کر دے گی، ذہنوں میں اس کی اہمیت بڑھانے کے لیے اول فرمایا : ﴿اَلْقَارِعَةُۙ001﴾ (کھڑکھڑانے والی) اس میں بظاہر خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور حقیقت میں سب انسان اس کی مخاطب ہیں۔ قیامت کی کھڑکھڑاہٹ بیان کرتے ہوئے انسانوں کے اور پہاڑوں کے بعض حالات بیان فرمائے ارشاد فرمایا ﴿…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

حوادث زمان وقوارع دہربروز محشر وتنبیہ برائے بیداری از خواب غفلت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” القارعۃ ما القارعۃ ............. الی ......... نار حامیۃ “۔ حاشیہ (حافظ عماد الدین ابن کثیر (رح) بیان کرتے ہیں کہ القارعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے اسماء قیامت میں القاریہ۔ الحاقہ ،۔ الطامہ۔ الصاخہ۔ اور الغاشیہ وغیرہ کلمات قرآن کریم نے استعمال کئے ہیں۔ 12) (ربط) گزشتہ سورت میں انسانی فطرت میں رچی ہوئی تین بنیادی خرابیوں کا بیان تھا، ناشکری مال و دولت کا حرص اور غفلت و لاپرواہی از منعم ومالک حقیقی، اب اس سورت میں روز محشر برپا ہونے والے ہولناک واقعات کا ذکر ہے تاکہ انسان اپنی غفلت سے باز آئے،…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–3

2:۔ ” القارعۃ “ یہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ واتفقوا علی ان القارعۃ اسم من اسماء القیامۃ (کبیر) قیامت کے دن نفخ صور کی شدید آواز کے علاوہ اجرام علویہ اور سفلیہ کے تصادم سے بھی نہایت ہولناک شور بپا ہوگا اس لیے اسے القارعۃ کہا گیا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–11

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة القارعتہ ہے اس کی پہلی آیت میں قارعہ کا لفظ مذکور ہے۔ اسی سے سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی گیارہ آیتیں ہیں اور یہ چھتیس الفاظ اور ایک سو پچاس حروف پر مشتمل ہے۔ موضوع پہلی سورة کی طرح یہ سورة بھی جزائے عمل سے تعلق رکھتی ہے۔ اس سے پہلی سورة میں بھی یہی مضمون تھا۔ اس سورة میں بتایا گیا ہے کہ بعض انسانوں کے اعمال وزنی ہوں گے اور بعض کے ہلکے ہوں گے۔ دونوں ق سم کے لوگوں کو ان کے اعمال کی حیثیت کے مطابق بدلہ ملے گا۔ گویا یہ سورة بھی جزائے عمل کو بیان کرنے والی سورتوں میں سے ہے۔ قیامت کے مختلف نام قرآن پاک میں قیامت کے مختلف نام…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 1–3

اَلْقَارِعَۃُ۝ 1 ۙمَا الْقَارِعَۃُ۝ 2 ۚوَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَۃُ۝ 3 قرع القَرْعُ : ضرب شيء علی شيء، ومنه : قَرَعْتُهُ بِالْمِقْرَعَةِ. قال تعالی: كَذَّبَتْ ثَمُودُ وَعادٌ بِالْقارِعَةِ [ الحاقة/ 4] ، الْقارِعَةُ مَا الْقارِعَةُ [ القارعة/ 1-2 ] ( ق ر ع ) القرع کے اصل معنی ایک چیز کو دوسری چیز ہر مارنے کے ہیں اسی سے قرعیتہ بالمقر عۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی کورے سے سر زنش کرنے کے ہیں اور قیامت کے حادثہ کو قارعۃ کہا گیا ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ كَذَّبَتْ ثَمُودُ وَعادٌ بِالْقارِعَةِ [ الحاقة/ 4]( وہی ) کھڑ کھڑا نے والی ( جس کو ثمود اور عاد ( دونوں نے جھٹلا یا ۔ الْقارِعَةُ مَا الْقارِعَةُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–11

ترکیب ¦ القارعۃ مبتدء ما القارعۃ خبر۔ قرء الجہور بالرفع والقرع الصوت الشدید و منہ قوارع الدھر والمراد بھا القیامۃ وانھا من اسماء القیامۃ کا لحاقۃ وانما سمیت بھا لا نھا تقرع قلوب الانسان وتقرع اعداء اللہ بالعذاب والعرب تقول قرعتھم القارعۃ اذا وقع بھم امر قطیع وما الاسفتھامیۃ مبتداء ادراک خبر ما القارعۃ مبتدء و خبر والجملۃ مفعول ثانی لا دراک ای وای شیء اعلمک ماشان القارعۃ۔ ثم ھو سبحانہ بین بعض شیونھا فقال یوم یکون والناصب فی یوم القارعۃ ای تقرعھم یوم یکون الخ وقیل اذکر وقیل خبر مبتداء محذوف وانما نصب لا ضافۃ الی الفعل فانفتحۃ بناء لا نصب اعراب۔ والفراش جمع فراشتہ وھی الطیور التی تتساقط فی النار…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَلْقَارِعَۃُ ۔ (القارعۃ : 1) (کھٹکھٹانے والی۔ ) یہ قیامت کے ناموں میں سے ہے، اس کی وضاحت قیامت کے مختلف ناموں میں سے، یہ بھی ایک نام ہے۔ اس کا معنی ہے ٹھونکنے والی، کھٹکھٹانے والی، کھڑکھڑا ڈالنے والی۔ یہ لفظ قرع سے بنا ہے۔ قرع الباب کا معنی ہوتا ہے، اس نے دروازے کو ٹھونکا یا کھٹکھٹایا۔ اس نام سے تین تصورات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔ 1 جس طرح اچانک آنے والا مہمان آکر دروازہ کھٹکھٹاتا ہے، اسی طرح قیامت اچانک آئے گی۔ اسی لیے اس کے آنے کا کوئی وقت نہیں بتایا گیا۔ کچھ معلوم نہیں کہ وہ کب آدھمکے۔ اس سے تنبیہ کی جارہی ہے کہ تمہاری سلامتی اسی میں ہے کہ ہر وقت تمہیں اس کا کھٹکا لگا رہے۔ 2 علامہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–11

فہم القرآن ربط سورت : العادیات اس فرمان پر ختم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بھی ہر کسی کے اعمال سے باخبر ہوگا۔ القارعہ میں قیامت کی حولناکیوں کا ذکر کرنے کے بعد واضح فرمایا ہے کہ نیک لوگ عیش کی زندگی میں ہوں گے اور برے لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دئیے جائیں گے۔ عربوں کے ہاں جب زور کے ساتھ دروازہ کھٹکھٹایا جائے تو وہ اس کے لیے ” قرع الباب “ کے الفاظ بولتے ہیں کہ اس نے زور کے ساتھ دروازہ کھٹکھٹایا۔ اسرافیل کے پہلی دفعہ صورپھونکنے کے بعد جو آواز پیدا ہوگی وہ اس قدر تیز اور دھماکہ خیز ہوگی کہ اس کی وجہ سے ہر چیز آپس میں ٹکر اکر ختم ہوجائے گی۔ سیارے آپس میں ٹکرا جائیں گے اور پہاڑ ٹکرا کر ریزہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

1 ۔” القارعۃ “ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اس لئے کہ یہ دلوں کو گھبراہٹ کی وجہ سے کھٹکھٹاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–11

1۔ 11۔ قارعہ سخت آواز کو کہتے ہیں صور کی آواز اس دن بہت سخت ہوگی اس لئے قیامت کا نام قارعہ رکھا گیا ہے بعض مفسروں نے امہ ھاویہ کے معنی یہ لکھے ہیں کہ ام دماغ کو کہتے ہیں اس لئے حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ دوزخی لوگ میں سر کے بل ڈالے جائیں گے لیکن صحیح معنی یہ ہیں کہ ھاویہ دوزخ کا نام ہے اور جس طرح بچہ کا ٹھکانا بچہ کی ماں ہوتی ہے اسی طرح دوزخ کی آگ کی گرمی ایک کم ستر حصے دنیا کی آگ سے بڑھ کر ہے اور تین ہزار برس تک دوزخ کی آگ دہکائی گئی ہے 1 ؎۔ اسی واسطے دوزخ کی آگ کو فقط آگ نہیں فرمایا دہکتی آگ فرمایا ہے جن لوگوں کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں گی۔ ان لوگوں کا ذکر اس سورة میں نہیں ہے حضرت عبد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–4

(اَلْقَارِعَةُ ) قیامت کے دن کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کو اس نام سے اس لیے موسوم کیا گیا ہے کہ یہ لوگوں پر اچانک ٹوٹ پڑے گی اور اپنی ہولناکیوں سے ان کو دہشت زدہ کردے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے معاملے کی عظمت اور اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا (اَلْقَارِعَةُ ۝ۙمَا الْقَارِعَةُ ۝ۚوَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُ ۝ۭيَوْمَ يَكُوْنُ النَّاسُ ) کھڑ کھڑا دینے والی۔ کیا ہے کھڑ کھڑا دینے والی ؟ تجھے کیا معلوم کہ وہ کھڑا کھڑا دینے والی کیا ہے ؟ جس دن ہوجائیں گے لوگ سخت گھبراہٹ اور ہولناکی کی وجہ سے ( كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ ) بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح۔ یعنی بکھرے ہوئے ٹڈی دل کی طرح ہوں گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(1) " القارعہ " سے مقصود و مراد ؟ " سو ارشاد فرمایا گیا وہ دلوں کو ہلا دینے والا واقعہ یعنی جس کی ہولناکی کی وجہ سے دل دہل جائیں گے، دیدے پتھرا جائیں گے اور ہوش اڑ چکے ہوں گے، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ( ایت، الحج 2 پ 17) یعنی " اس روز تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے "۔ لیکن اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہوگا، نیز ایک مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، ابراہیم 43 پ 13) یعنی " اس روز وہ سر اٹھائے ایسے بھاگے جارہے ہوں گے کہ ان کی نگاہیں مڑ بھی نہیں سکیں گے اور ان کے دل ( خوف سے) اڑے جارہے ہوں گے، والعیاذ باللہ جل وعلا۔ واضح رہے کہ قرع کے اصل میں معنی ٹھونکنے کھٹکھٹانے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–11

عظیم حادثہ کیا ہے ؟ تشریح : سورت کا نام ہی اس کے متن کا اظہار کررہا ہے '' القارعہ '' یعنی دو چیزوں کا اس طرح ٹکرانا کہ خوفناک آواز پیدا ہو۔ واقعی اس خوفناک آواز اور خوفناک منظر کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے اندازہ کرسکتے ہیں اور وہ بھی معمولی سا وہ اس طرح کہ کبھی ہماری زندگی میں اس قسم کا کوئی ہلکا سا واقعہ پیش آیا ہو۔ مثلاً زلزلہ ' آندھی یا طوفان یا سیلاب یا سمندری طوفان۔ نہیں مگر یہ سب تو قیامت کی تباہی کا عشر عشیر بھی نہیں۔ بس آپ قرآن کی بات سن لیجئے کہ اس دن کی سختی اتنی زیادہ ہوگی کہ یہ دیو ہیکل شاندار بلند وبالا مضبوط پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ کر یوں اڑنے لگیں گے جیسے روئی کے رنگ برنگ گالے اڑنے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–11

سورة القارعہ۔ آیات 1 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ وہ روز حشر کو کھڑاکھڑا کر رکھ دے گا سارے نظاموں کو ختم کردے گا اور ہر شے آپس میں ٹکرا کر برباد ہوجائے گی اور پھر جب دوسرانفخہ ہوگاتوٹڈی دل کی طرح جمع ہونے لگیں گے جب ہر طرف چٹیل میدان ہوگا اور پہاڑ دھنکی ہوئی روئی کی طرح اڑچکے ہوں گے اور سب نشیب و فراز برابر ہوچکے ہوں گے تب اعمال کو تولاجائے گا یعنی محض شمار نہ کیا جائے گا بلکہ اعمال کا وزن ہوگا جو خلوص قلب سے عمل میں پیدا ہوتا ہے تو جس کا وزن بھاری ہوا یعنی خطا سے نیکی کا پلڑا زیادہ وزنی نکلا تو وہ موج کرے گا اور جس کا وزن کم پڑا اور برائیاں زیادہ ہوں گی مراد کافر ہے کہ نیکی کرے بھی تو اللہ اور آخرت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–11

لغات القرآن : القارعۃ۔ کھڑکھڑانے والی۔ کالفراش المبثوث۔ جیسے بکھرے پرندے۔ کالعھن المنفوش۔ جیسے دھنکی ہوئی اون۔ ثقلت۔ بھاری ہوئے۔ موازین۔ وزن۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند عیش و آرام۔ خفت۔ ہلکے ہوئے۔ امہ۔ اس کا ٹھکانا۔ نارحامیۃ ۔ دھکتی آگ تشریح : قارعہ کے معنی عظیم ، ہولناک حادثہ اور بڑی آفت ومصیبت کے آتے ہیں۔ قارعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ کائنات کا یہ عظیم اور ہیت ناک حادثہ جب پیش آئے گا تو سارا نظام کائنات درہم برہم ہوکررہ جائے گا۔ زمین و آسمان، چاند، سورج، ستارے، انسان اور جن اور ساری مخلوق سب کے سب اس عظیم اور اچانک حادثہ میں ختم ہوجائیں گے۔ جب صور پھونکا جائے گا اور زمین زبردست جھٹکے اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–11

حالات قیامت ۔ (ف 1) وہ قیامت جس کے ہول وہیبت سے دل دہلیں گے اور جہان کو زیروزبر کردے گی اس کی کیفیت کیا ہے اور تمہیں کیا خبر ہے کہ اس کی حقیقت کیا ہے کیونکہ ہر چیز کا پہچاننا اسباب کے پہچاننے پر موقوف ہے اور اسباب قیامت کسی بشر کو معلوم نہیں پھر اس کی حقیقت آدمی کیونکر سمجھے اس کی بعض تاثیرات سن لو کہ جب وہ حادثہ واقع ہوگا، اس روز آدمی ایسے پر یشان پھیریں گے جیسے پروانے چاروں طرف دوڑتے ہیں کوئی کدھر جاتا ہے کوئی کدھر ، اور پہاڑ اس طرح سے اڑیں گے جیسا دھنیا اون یاروء کوئی دھنک کر ایک ایک پھاہا کرکے اڑادیتا ہے اسی طرح پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہوجائیں گے پس قیامت میں جس شخص کی نیکی کا پلہ بھاری ہوگا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–8

[1] اصل میں لفظ قارعہ استعمال ہوا ہے جو بڑی بھاری آفت کے لئے بولا جاتا ہے، لیکن یہاں القارعہ کا لفظ قیامت کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–11

سورة القارعۃ اس سورت میں قرآن حکیم نے جو نظریہ نجات کے متعلق پیش کیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی قرین عقل وثواب ہے ۔ قرآن کہتا ہے کہ فطرت کا مطالبہ تم سے یہ نہیں ہے کہ تم زندگی کے تمام شعبوں میں سوفی صدی نیک اور اطاعت شعار رہو اور تم سے کوئی فکر و خیال کی لغزش اور عمل کی کوتاہی سرز ہی نہ ہو ۔ بلکہ مطالبہ یہ ہے کہ حتی الامکان نیک اور صالح بننے کی کوشش کرو اور اس رطح ایمان دارانہ اور محتاط زندگی بسر کرو ۔ اور یہ کہ بحیثیت مجموعی تمہارے اعمال میں نیکی اور صبر وتقویٰ اور پاکیزگی کے عناصر زیادہ ہوں ۔ یہ معیار کم نہ ہونے پائے ۔ کیونکہ اگر دفتر اعمال میں بڑائیاں زیادہ ہیں اور نیکیاں کم تو اس کے معنی یہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایک شدید مصیبت آنے والی ہے 1 ؎ (القارعۃ) قارعۃ کا اصل مادہ ق ر ع ہے ۔ یہ اسم فاعل واحد مؤنث ہے قارعات قوارع اس کی جمع ہے اس کے معنی مصیبت ، بلا ، حادثہ یا اچانک آنے والے مصیبت قارعۃ الدار مکان کا صحن قارعۃ وسط راہ قوارع القران وہ آیات جن کے پڑھنے سے خبیث چیزوں سے محفوظ رہتا ہے اور یہ لوگوں کی اختراع ہے نہ کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ۔ اس کے معنی ہیں کھٹکھٹانا مثلاً قرع الباب دوازہ کھٹکھٹایابہر حال اس کے جتنے معنی ہوں گے سب کے معنی ہیں کھٹکھٹانا اور کھڑک کرنا ضرور ہوگا ۔ چونکہ قیامت بھی ایک نا گہاں آجانے والی مصیبت ہے جس سے ہر طرف کھڑکھڑاہٹ شروع ہوجائے گی اور یہ ایک حادثہ عظیم ہے اس لیے اس کو (…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–11

Human Deeds, Good or Bad, will be Weighed This Surah mentions the weighing of human deeds. He whose scales are heavy will be led to Paradise, and he whose scales are light will be led to Hell. Please see Ma’ ariful Qur'an, Vol. 3/ pp 539-547, for a full and complete analysis of the Weighing of human deeds. The analysis also allays the doubts raised against the concept of weighing of deeds. We have also explained there that it appears from reconciliation of conflicting narrations and Qur'anic verses that the weighing on Plain of Resurrection will take place twice. The first weighing will be…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–4

1 "Qari'ah " literally means the "striking one" . Qar `is to strike one thing upon another so severely as to produce a noise. In view of this literal meaning, the word qari'ah is used for a dreadful disaster and a great calamity. At another place in the Qur'an this word has been used for a great affliction befalling a nation. In Surah Ar-Ra`d 31, it has been said: "As for the disbelievers, because of their misdeeds, one affliction or the other dces not cease to visit them every now and then." But, here the word al-Qari'ah has been for the Resurrection and in Surah AI-Haaqqah too the…

Read the full tafseer →