101. Surah Al-Qaari'a

القارعةThe Calamity · 11 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 101:1–11

اَلْقَارِعَةُۙ Open ayah 101:1 in the Quran reader

وہ کھڑ کھڑا ڈالنے والی

مَا الْقَارِعَةُۚ Open ayah 101:2 in the Quran reader

کیا ہے وہ کھڑ کھڑا ڈالنے والی

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ Open ayah 101:3 in the Quran reader

اور تو کیا سمجھا کیا ہے وہ کھڑ کھڑا ڈالنے والی

یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ Open ayah 101:4 in the Quran reader

جس دن ہو ویں لوگ جیسے پتنگے بکھرے ہوئے

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ Open ayah 101:5 in the Quran reader

اور ہو ویں پہاڑ جیسے رنگی ہوئی اون ڈھنی ہوئی

فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗۙ Open ayah 101:6 in the Quran reader

سو جس کی بھاری ہوئی تولیں

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍؕ Open ayah 101:7 in the Quran reader

تو وہ رہے گا من مانتے گزران میں

وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗۙ Open ayah 101:8 in the Quran reader

اور جس کی ہلکی ہوئیں تولیں

فَاُمُّهٗ هَاوِیَةٌؕ Open ayah 101:9 in the Quran reader

تو اس کا ٹھکانا گڑھا ہے

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِیَهْؕ Open ayah 101:10 in the Quran reader

اور تو کیا سمجھا وہ کیا ہے

نَارٌ حَامِیَةٌ۠ Open ayah 101:11 in the Quran reader

آگ ہے دہکتی ہوئی۔

خلاصہ تفسیر وہ کھڑ کھڑانے والی، چیز کیسی ہے وہ کھڑکھڑانے والی چیز اور آپ کو کچھ معلوم ہے کیسی کچھ ہی وہ کھڑکھڑانے والی چیز (مراد قیامت ہے جو دلوں کو گھبراہٹ سے اور انوں کو سخت آوازوں سے کھڑکھڑائے گی اور یہ اس روز ہوگا) جس روز آدمی پریشان پروانوں کی طرح ہوجاویں گے (پروانوں سے تشبیہ چند چیزوں کی وجہ سے دی گئی، ایک کثرت سے ہونا کہ سارے اولین و آخرین انسان ایک میدان میں جمع ہوجاویں گے، دوسرے کمزور ہونا کہ سب انسان اس وقت کمزوری میں پروانے جیسے ضعیف و عاجز ہوں گے یہ دونوں وصف تو تمام اہل محشر انسانوں میں عام ہوں گے، تیسرے بیتاب اور بےچین ادھر ادھر پھرنا جو پروانوں میں مشاہدہ کیا جاتا ہے یہ صورت خاص مومنین میں نہیں ہوگی وہ اپنی قبروں سے مطمئن اٹھیں گے) اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین اون کی طرح ہوجاویں گے (عہن رنگین اون کو کہا جاتا ہے، پہاڑوں کے رنگ چونکہ مختلف ہیں وہ سب اڑتے پھریں گے جن کی مثال اس اون کی ہوگی جس میں مختلف رنگ کے بال ملے ہوئے ہوں اس روز اعمال انسانی تولے جائینگے) پھر جس شخص کا پلہ (ایمان کا) بھاری ہوگا (یعنی جو مومن ہوگا) وہ تو خاصر خواہ آرام میں ہوگا (یعنی نجات پاکر جنت میں جائے گا) اور جس شخص کا پلہ (ایمان کا) ہلکا ہوگا (یعنی کافر) اس کا ٹھکانا ہاویہ ہوگا اور آپ کو کچھ معلوم ہے کہ وہ (2 اویہ) کیا چیز ہے (وہ) ایک دہکتی ہوئی آگ ہے۔ معارف و مسائل اس سورت میں اعمال کے وزن ہونے اور ان کے ہلکے بھاری ہونے پر دوزخ یا جنت ملنے کا ذکر ہے۔ وزن اعمال کی پوری تحقیق اور شبہات کا جواب سورة اعراف کے شروع میں گزر چکا ہے (معارف جلد سوم ص 526 تا 532) وہاں دیکھ لیا جائے اس میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ روایات حدیث اور آیات کی تطبیق سے معلوم ہوتا ہے کہ وزن اعمال غالباً دو مرتبہ ہوگا، ایک مرتبہ کے وزن سے مومن اور کافر کا امتیاز کردیا جائے گا ہر مومن کا پلہ بھاری اور کافر کا ہلکا رہے گا، پھر مؤمنین میں اعمال حسنہ اور سیسہ کا امتیاز کرنے کے لئے دوسرا وزن ہوگا، اس سورت میں بظاہر وہ پہلا وزن مراد ہے جس میں ہر مومن کا پلہ ایمان کی وجہ سے بھاری رہے گا خواہ اس کا عمل کیسا بھی ہو اور کافر کا پلہ ایمان نہ ہونے کے سبب ہلکا رہے گا خواہ اس نے کچھ نیک کام بھی کئے ہوں۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ قرآن کریم میں عام طور پر جزا و سزا میں تقابل کفار کا مؤمنین صالحین کیساتھ کیا گیا کہ اصلی مؤمنین کا ملین وہی ہیں، باقی رہے وہ مومنین جنہوں نے اعمال صالحہ اور سیسہ مخلوط کئے ہیں قرآن میں عام طور پر ان سے سکوت کیا گیا اور ان سب آیات میں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ یا مت میں انسانوں کے اعمال تو لے جائیں گے گنے نہیں جائیں گے اور عمل کا وزن بقدر اخلاص اور مطابقت سنت کے بڑھتا ہے جس شخص کے عمل میں اخلاص بھی کامل ہو اور سنت کی مطابقت بھی مکمل ہو اگرچہ اس کے عمل تعداد میں کم ہوں اس کا وزن بہ نسبت اس شخص کے بڑھ جائے گا جس نے تعداد میں تو نماز روزے، صدقہ خیرات، حج عمرے بہت کئے مگر اخلاص میں کمی رہی یا سنت کی مطابقت میں کمی رہی۔ واللہ اعلم تمت سورة القارعہ بحمد اللہ تعالیٰ