101. Surah Al-Qaari'a

القارعةThe Calamity · 11 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف : قیامت اور آخرت پر ایمان و یقین دین اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے جسے دلوں میں جمانے اور بٹھانے کے لیے قرآن کریم میں جگہ جگہ اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس سورت میں قیامت اور آخرت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وہ اچانک ایک زبردست اور ہولناک حادثہ ہوگا۔ اس دن کی شدت کو ذہنوں میں بٹھانے کے لیے سوالیہ انداز اختیار کرتے ہوئے پوچھا ہے کیا آپ کو معلوم ہے وہ عظیم حادثہ کیا ہوگا ؟ جواب عنایت فرمایا کہ وہ ایسا ہولناک حادثہ ہوگا جب لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ایک دوسرے پر گرتے پڑتے ہوں گے۔ وہ عظیم الشان پہاڑ جن کی وجہ سے زمین اپنے تو ازن کو قائم رکھے ہوئے ہے وہ پہاڑ رنگ برنگ کی دھنکی ہوئی اون کی طرح فضاؤں میں اڑتے پھریں گے۔ ظاہر ہے کہ جب زمین بےوزن ہوجائے گی تو اس پر ہر چیز اور بڑی سے بڑی بلڈنگیں بھی تنکوں کی طرح ٹوٹ پھوٹ کر بکھر جائیں گی۔ جو اہل ایمان ہوں گے وہ نہایت اطمینان و سکون سے اپنی قبروں سے اٹھیں گے اور کفار و مشرکین پر زبردست گھبراہٹ طاری ہوگی۔ اس کے بعد میدان حشر قائم کیا جائیگا۔ جو لوگ ابتداء سے قیامت تک پیدا ہوئے اور مرگئے ان کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا پھر اس میدان میں ” میزان عدل “ قائم کی جائے گی تاکہ ہر شخص کے ساتھ اس کے اعمال کے مطابق عدل و انصاف کیا جاسکے۔ ہر ایک کے اعمال کو اس ترازہ پر تول کر دیکھا جائے گا۔ جس کے اعمال میں اخلاص کی برکت سے وزن ہوگا اس کو من پسند جنت کی راحتوں میں داخل کیا جائے گا۔ اور جن لوگوں کے اعمال بےوزن اور ہلکے ہوں گے ان کو آگے سے بھرے گڑھے یعنی جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ اصل میں ہمیشہ سے دنیا میں ماپ تول کا رواج رہا ہے۔ پہلے صرف ترازو اور بٹے ہوئے ہوتے تھے جن کے ذریعہ چیزوں کو تولا جاتا تھا۔ پھر سائنسی ترقی کا دور آیا تو اس میں ہوا، بارش، پانی، سردی، گرمی ، برف تک تولنے کے آلات ایجاد کئے گئے لیکن اللہ کی میزان عدل یعنی انصاف کی ترازو میں ایمان و کفر، اچھے برے اخلاق، ثواب اور گناہ، شہیدوں کا لہو اور علماء کی لکھنے والی روشنائی تک کو تول کر دیکھا جائے گا۔ اس سلسلہ میں قرآن کریم اور احادیث میں بہت سی تفصیلات اور ارشاد فرمائی گئی ہیں ان میں سے چند یہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ! ہم قیامت کے دن میزان عدل (انصاف کی ترازو) قائم کریں گے ۔ اس لیے کسی پر ادنی سا بھی ظلم نہ ہوگا۔ جو بھلائی اور برائی رائی کے دانے کے برابر بھی ہوگی وہ بھی میزان عدل میں رکھی جائے گی اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور حساب لینے کے لیے تو ہم ہی کافی ہیں۔ فرمایا ! جس کی نیکیوں کا پلہ بھاری ہوگا وہ من پسند عیش و آرام میں ہوگا اور جس کی نیکیوں کا پلہ ہلکا ہوگا تو اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ (القارعہ) حضرت ابوذر غفاری (رض) سے روایت ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں تمہیں ایسے کام بتاتا ہوں جن پر عمل کرنا انسان کے لیے کچھ بھاری نہیں ہے لیکن میزان عدل میں وہ سب سے بھاری ہوں گے ایک حسن اخلاق اور دوسرے زیادہ تر خاموش رہنا یعنی بلاضرورت کوئی کلام نہ کرنا۔ (ابودائود۔ ترمذی) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن علماء ( کے قلم) کی روشنائی جس سے انہوں نے علم دین اور احکام دین لکھے تھے ان کو اور شہیدوں کے لہو کو تولا جائے گا تو علماء کی روشنائی کا وزن شہیدوں کے خون کے وزن سے بڑھ جائے گا۔ (امام ذہبی) حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص حاضر ہوگا جب اس کا نامہ اعمال سامنے آئے گا تو وہ نیک اعمال کم پاکر گھبرا جائے گا۔ اچانک ایک چیز بادل کی طرح اٹھ کر آئے گی اور اس کے نیک اعمال کے پہلے میں گرجائے گی اس کو بتایا جائے گا کہ یہ تیرے ان اعمال کا ثمرہ ہے جو تو دنیا میں لوگوں کو دین کے احکام و مسائل بتاتا اور سکھاتا تھا۔ یہ تیری تعلیم کا سلسلہ جب آگے چلا تو جس شخص نے اس پر عمل کیا ان سب کے اعمال میں تیرا حصہ بھی لگایا گیا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اللہ کے خوف سے روتا ہے تو اس کا عمل تو لانہ جائے گا بلکہ اس کا ایک آنسو جہنم کی بڑی سے بڑی آگ کو بجھانے کے لے کافی ہوگا۔ حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انسان کے میزان عدل میں سب سے پہلے جو عمل رکھا جائے گا وہ ہوگا جو اس نے اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے اور ان کی ضروریات پوری کرنے کا عمل کیا ہوگا۔ (عبرانی) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے میدان حشر کی ” میزان عدل “ میں سے زیادہ وزن دار چیز کلمہ طیبہ ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ ہوگا۔ میزان کے جس پلے میں یہ کلمہ آگیا وہ سب سے بھاری ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں اور رحمن کو بہت محبوب ہیں مگر میزان عدل میں بہت بھاری ہوں گے۔ وہ دو کلمے یہ ہیں۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔ ۔ (بخاری شریف)

Ayahs 101:1–11

اَلْقَارِعَةُۙ Open ayah 101:1 in the Quran reader

وہ زبردست حادثہ

مَا الْقَارِعَةُۚ Open ayah 101:2 in the Quran reader

اور کیا ہے وہ حادثہ

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ Open ayah 101:3 in the Quran reader

اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ حادثہ کیا ہے ؟

یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ Open ayah 101:4 in the Quran reader

جس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوجائیں گے

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ Open ayah 101:5 in the Quran reader

اور پہاڑدھن کی ہوئی رنگین اون جیسے ہوجائیں گے

فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗۙ Open ayah 101:6 in the Quran reader

پھر جس کے اعمال بھاری ہوں گے

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍؕ Open ayah 101:7 in the Quran reader

تو وہ اپنی پسندیدہ زندگی میں ہوگا

وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗۙ Open ayah 101:8 in the Quran reader

اور جس کے اعمال ہلکے ہوں گے

فَاُمُّهٗ هَاوِیَةٌؕ Open ayah 101:9 in the Quran reader

تو اس کا ٹھکانا ” ہاویہ “ میں ہوگا

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِیَهْؕ Open ayah 101:10 in the Quran reader

اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ ” ہاویہ “ کیا ہے ؟

نَارٌ حَامِیَةٌ۠ Open ayah 101:11 in the Quran reader

وہ دھکتی ہوئی ایک آگ ہے۔

لغات القرآن : القارعۃ۔ کھڑکھڑانے والی۔ کالفراش المبثوث۔ جیسے بکھرے پرندے۔ کالعھن المنفوش۔ جیسے دھنکی ہوئی اون۔ ثقلت۔ بھاری ہوئے۔ موازین۔ وزن۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند عیش و آرام۔ خفت۔ ہلکے ہوئے۔ امہ۔ اس کا ٹھکانا۔ نارحامیۃ ۔ دھکتی آگ تشریح : قارعہ کے معنی عظیم ، ہولناک حادثہ اور بڑی آفت ومصیبت کے آتے ہیں۔ قارعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ کائنات کا یہ عظیم اور ہیت ناک حادثہ جب پیش آئے گا تو سارا نظام کائنات درہم برہم ہوکررہ جائے گا۔ زمین و آسمان، چاند، سورج، ستارے، انسان اور جن اور ساری مخلوق سب کے سب اس عظیم اور اچانک حادثہ میں ختم ہوجائیں گے۔ جب صور پھونکا جائے گا اور زمین زبردست جھٹکے اور زلزلوں سے ہلنا شروع وہگی تو ہر شخص ایک دوسرے پر اس طرح گرتے پڑتے دوڑ رہے ہوں گے جس طرح چھوٹے چھوٹے پروانے کسی روشنی کو دیکھ کر ایک دوسرے پر گرتے پڑتے نظر آتے ہیں۔ زبردست اور مضبوط پہاڑ رنگ برنگ کے اون کی طرح اور دھنکی ہوئی روئی کی طرح اڑتے پھریں گے۔ اس طرح زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی ہر مخلوق پر فنا کی کیفیات طاری کردی جائیں گی۔ دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو اللہ کی ساری مخلوق زندہ ہوجائیگی۔ اب ایک نئی زمین اور ایک نیا آسمان ہوگا یہ میدان حشر ہوگا جس میں ابتدائے کائنات سے قیامت تک آنے والے تمام لوگ حاضر کردئیے جائیں گے۔ ہر شخص کے ساتھ اس کے اعمال کی جزا کے لیے اللہ کی عدالت قائم کی ہوگی۔ میزان عدل رکھ دی جائے گی۔ یہ میزان عدل ( انصاف کی ترازو) ایسی ہوگی جس میں چیزیں نہیں بلکہ انسان یا عمال اور اس کے خلوص کو تولا جائے گا۔ جس کے اعمال ایمان پر مضبوطی اور خلوص اور عمل صالح کی وجہ سے وزن دار اور بھاری ہوں گے اس کو راحتوں اور آرام و سکون کے لیے ایسی جنت میں د اخل کیا جائے گا جو اس کی امیدوں اور تمناؤں سے بھی زیادہ خوبصورت، حسین اور پرسکون ہوگی لیکن جن لوگوں کے اعمال بےوزن اور ہلکے ہوں گے جو زندگی بھر کفر و شرک اور ناشکری میں مبتلا رہے ہوں گے ان کو ” ھاویہ “ میں جھونک دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم ہے وہ ” ھاویہ “ کیا ہوگی ؟ فرمایا وہ آگ سے بھرپور خندق ہوگی جس میں انہیں اوپر سے اس کے اندر پھینکا جائے گا۔ وزن دار اور ہلکے اعمال کے ہوں گے اس کے لیے ہمیں قرآن کریم سے جو رہنمائی ملتی ہے وہ یہ ہے کہ قیامت کے دن انسانی اعمال کا وزن بندے کے ایمان، خلوص اور حق وصداقت پر چلنے کی وجہ سے پیدا ہوگا جو لوگ زندگی بھر بھٹکتے رہنے کے باوجود اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہونے کو تیار نہ تھے اپنے آپ کو صحیح اور دوسروں کو غلط سمجھتے رہے وہ اس دن شدید نقصان اٹھائیں گے اور ان کے اعمال بےوزن ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے۔ ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو رکھ دیں گے۔ کسی کے ساتھ بےانصافی نہ ہوگی اور اگر کسی کارائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا وہ ہم اس سے کے سامنے لے آئیں گے اور حساب لینے کے لیے تو ہم ہی کافی ہیں۔ (سورۃ الانبیاء آیت نمبر 47) ایک جگہ ارشاد فرمایا اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے کہ کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے کون لوگ ہوں گے ؟ وہ لوگ جن کی کوششیں دنیا کی زندگی ہی میں ضائع ہوگئیں جو یہ سمجھتے رہے کہ وہ جو کام کرر ہیں بہت اچھے کام ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیات کا اور اس کے ملنے سے انکار کیا تھا۔ ان کا کیا کرایا سب برباد ہوجائے گا اور قیامت کے دن ہم ان کو کوئی وزن نہ دیں گے۔ جہنم (ان کے اعمال کا) بدلہ ہے جس کے لیے انہوں نے کفر کیا تھا۔ میری نشانیوں کا انکار کیا تھا اور میرے رسولوں کا مذاق اڑایا تھا۔ (سورۃ الکہف آیت نمبر 104 تا 105) خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں ہر چیز کا وزن اس کے ظاہر کے اعتبار سے ہوتا ہے جب کہ قیامت کے دن یہ دیکھا جائے گا کہ کون شخص ایمان کے ساتھ پرخلوص عمل صالح لے کر آیا ہے۔ جو عمل ایمان و اخلاص سے خالی ہوگا وہ دنیا والوں کی نظر میں کتنا بھی خوبصورت اور وزن دار ہو اللہ کے ہاں وہ بےوزن ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قیامت میں ہر طرح کی رسوائیوں اور اعمال کی بےوزنی سے محفوظ فرمائے۔ آمین