101. Surah Al-Qaari'a

القارعةThe Calamity · 11 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 101:1–4

اَلْقَارِعَةُۙ Open ayah 101:1 in the Quran reader

کھڑکھڑانے والی

مَا الْقَارِعَةُۚ Open ayah 101:2 in the Quran reader

کھڑکھڑانے والی کیا ہے ؟

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ Open ayah 101:3 in the Quran reader

اور تم کیا جانو کہ کھڑکھڑانے والی کیا ہے ؟ (وہ قیامت ہے)

یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ Open ayah 101:4 in the Quran reader

جس دن لوگ ایسے ہوں گے جیسے بکھرے ہوئے پتنگے

(اَلْقَارِعَةُ ) قیامت کے دن کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کو اس نام سے اس لیے موسوم کیا گیا ہے کہ یہ لوگوں پر اچانک ٹوٹ پڑے گی اور اپنی ہولناکیوں سے ان کو دہشت زدہ کردے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے معاملے کی عظمت اور اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا (اَلْقَارِعَةُ ۝ۙمَا الْقَارِعَةُ ۝ۚوَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُ ۝ۭيَوْمَ يَكُوْنُ النَّاسُ ) کھڑ کھڑا دینے والی۔ کیا ہے کھڑ کھڑا دینے والی ؟ تجھے کیا معلوم کہ وہ کھڑا کھڑا دینے والی کیا ہے ؟ جس دن ہوجائیں گے لوگ سخت گھبراہٹ اور ہولناکی کی وجہ سے ( كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ ) بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح۔ یعنی بکھرے ہوئے ٹڈی دل کی طرح ہوں گے جو ایک دوسرے میں موجزن ہوگا۔ الفراش۔ یہ وہ حیوانات ہیں جو رات کے وقت روشنی میں ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر موج بن کر آتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ وہ کہاں کا رخ کریں جب ان کے سامنے آگ روشن کی جائے تو اپنے ضعف ادراک کی بنا پر ہجوم کرکے اس میں آ گرتے ہیں یہ تو حال ہوگا خرد مند لوگوں کا۔
Ayah 101:5

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ Open ayah 101:5 in the Quran reader

اور پہاڑ ایسے ہوجائیں گے جسے دھنکی ہوئی رنگ برنگ کی اون

رہے بڑے ٹھوس اور سخت پہاڑ تو وہ (كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ ) دھنکی ہوئی اون کی مانند ہوجائیں گے جو نہایت کمزورر ہوگئی جسے معمولی سی ہوا بھی اڑائے پھرتی ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وتری الجبال تحسبھا جامدۃ وھی تمرمرالسحاب۔ النمل 88) اور تو پہاڑوں کو دیکھے گا اور سمجھے گا کہ یہ جامد ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی چال چل رہے ہوں گے پھر اس کے بعد بکھرا ہوا غبار بن کر ختم ہوجائیں گے اور ان میں سے کچھ باقی نہیں بچے جس کو دیکھا جائے گا۔
Ayah 101:6

فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗۙ Open ayah 101:6 in the Quran reader

تو جس (کے اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے

اس وقت ترازو نصب کردی جائیں گی اور لوگو دو قسموں میں منقسم ہوجائیں گے خوش بخت لوگ اور بدبخت لوگ (فَاَمَّا مَنْ ثَــقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗ ) پس جس کے اعمال کے وزن بھاری نکلیں گے۔ یعنی جس کی نیکیاں برائیوں کی نسبت جھک جائیں گی۔
Ayah 101:7

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍؕ Open ayah 101:7 in the Quran reader

وہ دل پسند عیش میں ہوگا

(فَهُوَ فِيْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ ) وہ نعمتوں والی جنت میں ہوگا۔
Ayah 101:8

وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗۙ Open ayah 101:8 in the Quran reader

اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے

(وَاَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ ) اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے۔ یعنی اس کی نیکیاں اتنی نہ ہوں گی جو اس کی برائیوں کے برابر ہوں۔
Ayah 101:9

فَاُمُّهٗ هَاوِیَةٌؕ Open ayah 101:9 in the Quran reader

اس کا مرجع ہاویہ ہے

(فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ) تو اس کا ٹھکانا اور مسکن جہنم ہوگا۔ جس کے ناموں میں سے ایک نام الھاویہ ہے جہنم اس کے لیے بمنزلہ ماں کے ہوگا جو اپنے بیٹے کو ساتھ ساتھ رکھتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ان عذابھا کان غراما) الفرقان 65) بیشک جہنم کا عذاب تو چمٹ جانے والا ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا دماغ جہنم میں گرے گا یعنی اس کو سر کے بل جہنم میں گرایاجائے گا۔
Ayahs 101:10–11

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِیَهْؕ Open ayah 101:10 in the Quran reader

اور تم کیا سمجھے کہ ہاویہ کیا چیز ہے ؟

نَارٌ حَامِیَةٌ۠ Open ayah 101:11 in the Quran reader

(وہ) دہکتی ہوئی آگ ہے

(وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا هِيَهْ ) اور تم کیا سمجھو کہ وہ ھاویہ کیا ہے۔ یہ سوال اس کے معاملے کو بڑا ہولناک کر کے دکھاتا ہے پھر اپنے ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی (نَارٌ حَامِيَةٌ) سخت حرارت والی آگ، اس کی حرارت دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ ہوگی ہم اس آگ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔