Ayahs 101:1–4(اَلْقَارِعَةُ ) قیامت کے دن کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کو اس نام سے اس لیے موسوم کیا گیا ہے کہ یہ لوگوں پر اچانک ٹوٹ پڑے گی اور اپنی ہولناکیوں سے ان کو دہشت زدہ کردے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے معاملے کی عظمت اور اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا (اَلْقَارِعَةُ ۙمَا الْقَارِعَةُ ۚوَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُ ۭيَوْمَ يَكُوْنُ النَّاسُ ) کھڑ کھڑا دینے والی۔ کیا ہے کھڑ کھڑا دینے والی ؟ تجھے کیا معلوم کہ وہ کھڑا کھڑا دینے والی کیا ہے ؟ جس دن ہوجائیں گے لوگ سخت گھبراہٹ اور ہولناکی کی وجہ سے ( كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ ) بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح۔ یعنی بکھرے ہوئے ٹڈی دل کی طرح ہوں گے جو ایک دوسرے میں موجزن ہوگا۔ الفراش۔ یہ وہ حیوانات ہیں جو رات کے وقت روشنی میں ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر موج بن کر آتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ وہ کہاں کا رخ کریں جب ان کے سامنے آگ روشن کی جائے تو اپنے ضعف ادراک کی بنا پر ہجوم کرکے اس میں آ گرتے ہیں یہ تو حال ہوگا خرد مند لوگوں کا۔
Ayah 101:5رہے بڑے ٹھوس اور سخت پہاڑ تو وہ (كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ ) دھنکی ہوئی اون کی مانند ہوجائیں گے جو نہایت کمزورر ہوگئی جسے معمولی سی ہوا بھی اڑائے پھرتی ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وتری الجبال تحسبھا جامدۃ وھی تمرمرالسحاب۔ النمل 88) اور تو پہاڑوں کو دیکھے گا اور سمجھے گا کہ یہ جامد ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی چال چل رہے ہوں گے پھر اس کے بعد بکھرا ہوا غبار بن کر ختم ہوجائیں گے اور ان میں سے کچھ باقی نہیں بچے جس کو دیکھا جائے گا۔
Ayah 101:6اس وقت ترازو نصب کردی جائیں گی اور لوگو دو قسموں میں منقسم ہوجائیں گے خوش بخت لوگ اور بدبخت لوگ (فَاَمَّا مَنْ ثَــقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗ ) پس جس کے اعمال کے وزن بھاری نکلیں گے۔ یعنی جس کی نیکیاں برائیوں کی نسبت جھک جائیں گی۔
Ayah 101:7(فَهُوَ فِيْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ ) وہ نعمتوں والی جنت میں ہوگا۔
Ayah 101:8(وَاَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ ) اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے۔ یعنی اس کی نیکیاں اتنی نہ ہوں گی جو اس کی برائیوں کے برابر ہوں۔
Ayah 101:9(فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ) تو اس کا ٹھکانا اور مسکن جہنم ہوگا۔ جس کے ناموں میں سے ایک نام الھاویہ ہے جہنم اس کے لیے بمنزلہ ماں کے ہوگا جو اپنے بیٹے کو ساتھ ساتھ رکھتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ان عذابھا کان غراما) الفرقان 65) بیشک جہنم کا عذاب تو چمٹ جانے والا ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا دماغ جہنم میں گرے گا یعنی اس کو سر کے بل جہنم میں گرایاجائے گا۔
Ayahs 101:10–11(وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا هِيَهْ ) اور تم کیا سمجھو کہ وہ ھاویہ کیا ہے۔ یہ سوال اس کے معاملے کو بڑا ہولناک کر کے دکھاتا ہے پھر اپنے ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی (نَارٌ حَامِيَةٌ) سخت حرارت والی آگ، اس کی حرارت دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ ہوگی ہم اس آگ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔