101. Surah Al-Qaari'a

القارعةThe Calamity · 11 ayahsسراج البیان

Ayahs 101:1–11

اَلْقَارِعَةُۙ Open ayah 101:1 in the Quran reader

کھڑکھڑانے والی

مَا الْقَارِعَةُۚ Open ayah 101:2 in the Quran reader

کیا ہے کھڑکھڑانے والی

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ Open ayah 101:3 in the Quran reader

اور تو کیا سمجھا ہے ، کیا ہے کھڑکھڑانے والی ؟

یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ Open ayah 101:4 in the Quran reader

جن دن آدمی بکھرے ہوئے پتنگوں کی مانند ہونگے

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ Open ayah 101:5 in the Quran reader

اور پہاڑ دھنی ہوئی روئی کی مانند ہوں گے

فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗۙ Open ayah 101:6 in the Quran reader

سو جس کی تولیں بھاری ہوں گی

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍؕ Open ayah 101:7 in the Quran reader

وہ پسندیدہ زندگی میں ہوگا

وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗۙ Open ayah 101:8 in the Quran reader

اور جس کی تولیں ہلکی ہوں گی

فَاُمُّهٗ هَاوِیَةٌؕ Open ayah 101:9 in the Quran reader

اس کی ماں (یعنی ٹھکانا) ہاویہ ہوگی

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِیَهْؕ Open ayah 101:10 in the Quran reader

اور کیا سمجھا ہے وہ کیا ہے ؟

نَارٌ حَامِیَةٌ۠ Open ayah 101:11 in the Quran reader

دہکتی آگ ہے

سورة القارعۃ اس سورت میں قرآن حکیم نے جو نظریہ نجات کے متعلق پیش کیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی قرین عقل وثواب ہے ۔ قرآن کہتا ہے کہ فطرت کا مطالبہ تم سے یہ نہیں ہے کہ تم زندگی کے تمام شعبوں میں سوفی صدی نیک اور اطاعت شعار رہو اور تم سے کوئی فکر و خیال کی لغزش اور عمل کی کوتاہی سرز ہی نہ ہو ۔ بلکہ مطالبہ یہ ہے کہ حتی الامکان نیک اور صالح بننے کی کوشش کرو اور اس رطح ایمان دارانہ اور محتاط زندگی بسر کرو ۔ اور یہ کہ بحیثیت مجموعی تمہارے اعمال میں نیکی اور صبر وتقویٰ اور پاکیزگی کے عناصر زیادہ ہوں ۔ یہ معیار کم نہ ہونے پائے ۔ کیونکہ اگر دفتر اعمال میں بڑائیاں زیادہ ہیں اور نیکیاں کم تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم نے دنیا میں حق وصداقت پر عمل پیرا ہونے کی کوئی مخلصانہ جدوجہد نہیں کی ۔ اس لئے سزا ملے گی اور جہنم میں جاؤ گے ۔ قرآن حکیم چونکہ خدائے علیم وخبیر کی کتاب ہے ، اس لئے اس میں انسانی فطرت کی پوری کمزوریوں کو محلوظ رکھا گیا ہے ۔ خدا کو معلوم ہے کہ یہ تقاضائے بشری کے خلاف ہے کہ اس سے کلیتہً نیکی اور تقویٰ کا مطالبہ کیا جائے اور اسکو ایسی مشکل میں ڈال دیا جائے جس سے یہ کبھی عہدہ برآ نہیں ہوسکتا ۔ اسی لئے اس پر لایطاق بوجھ نہیں ڈالا گیا ۔ یہی وہ بات تھی جس کو عیسائیت نے نہیں سمجھا اور یہ قاعدہ وضع کیا کہ چونکہ انسان کا بالکل گناہوں سے پاک ہونا محال ہے ۔ اس لئے کفارہ کی ضرورت ہے ۔ حالانکہ کلیتہً پاکیزگی کا فطرت مطالبہ ہی نہیں کرتی ۔ تابہ کفارہ چہ گونہ رسد ۔ واضح رہے کہ ثقلت موازینہ کے معنی یہ نہیں ہیں کہ نیکیوں کی تعداد زیادہ ہو اور برائیوں کی تعداد کم ہو ۔ بلکہ جو شئے یہاں ملے گی وہ ثمنیت یا قیمت ہوگی ۔ جس کو اعمال سے مفتزر کیا جاتا ہے ۔ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ایک برائی تمام نیکیوں کو ضائع کردے اور اسی طرح ایک نیکی تمام دفتر گناہ دھوڈالے ۔ اصل مقصود وہ قدر و قیمت ہے جو اعمال کے ساتھ ان کی اہمیت کی وجہ سے وابستہ ہے ۔