Ayahs 101:1–111۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة القارعۃ مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت القارعۃ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ہے۔
3۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم یکون الناس کالفراش المبثوث۔ جس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے سے مراد وہ پروانہ ہے جو تم آگ میں گرتے ہوئے دیکھتے ہو آیت وتکون الجبال کالعہن المنفوش اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی طرح ہوں گ۔ یعنی اون کی طرح آیت فاما من ثقلت موازینہ آیت فہوفی عیشۃ راضیہ تو جس کے نیک اعمال تول میں زیادہ ہوں گے تو وہ خاطر خواہ عیش میں ۃ وگا۔ یعنی جنت میں آیت واما من خفت موازینہ فامہ ہاویہ۔ اور جس کے نیک اعمال تول میں کم ہوں گے تو اس کا ٹھکانہ ہاویہ ہوگا میں ہاویہ سے مراد جہنم ہے۔ یعنی جہنم ان کی پناہ گاہ۔ ان کا ٹھکانہ ان کے لوٹنے کی جگہ اور اس کی مددگار اور دوست ہے۔
4۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت فامہ ہاویہ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کہ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ ” الہاویہ “ ہے۔
5۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فامہ ہاویہ ایسے ہے جیسے تیرا کہنا آیت ہاویت امہ۔ یعنی اس کی ماں مرگئی۔
6۔ قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ یہ عربی کلمہ ہے جب کوئی آدمی سخت معاملہ میں مبتلا ہوجائے تو کہتے ہیں ہاویت امہ یعنی اس کی ماں مرگئی۔
7۔ ابن ابی حاتم نے ابو خالد الوالبی (رح) سے روایت کیا کہ آیت فامہ ہاویۃ سے مراد ہے ام راسہ
8۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ام راسہ جہنم میں ہاویہ ہے۔
9۔ ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ وہ لوگ آگ میں اپنے سر کے بل گریں گے
10۔ ابن جریر نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ الہاویہ سے مراد ہے آگ اور یہ ان کا ٹھکانہ ہے کہ اس کی طرف وہ لوٹے گا اور اس کی طرف ٹھکانہ پکڑے گا۔
11۔ عبدالرزاق وابن جریر نے اشعث بن عبداللہ الاعمی (رح) سے روایت کیا کہ جب مومن مرتا ہے تو اس کی روح مومنین کی روحوں کے پاس لے جائیں جاتی ہے تو وہ کہتی ہے کہ اپنے بھائی کو راحت پہنچاؤ کیو کہ دنیا کے غم میں تھا پھر وہ اس سے سوال کرتے ہیں فلاں کا کیا حال ہے ؟ فلاں کا کیا حال ہے ؟ وہ ان کے بارے میں خبردیتا ہے۔ ار کہتا ہے وہ صالح اور نیک ہے یہاں تک کہ وہ اس سے سوال کرتے ہیں کہ فلاں کا کیا ہوا ؟ وہ کہتا ہے وہ مرگیا کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا تو وہ روحیں جواب دیتی ہیں یقیناً اسے لے جایا گیا ہے اس کے ٹھکانہ ہاویہ کی طرف۔
میت کی روح سے دوسری روحوں کی ملاقات
12۔ الحاکم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب انسان مرجاتا ہے تو اس کی روح مومنین کی روحوں کو ملتی ہے تو وہ اسے کہتی ہیں فلاں کا کیا حال ہے ؟ جب وہ جواب دیتی ہے کہ وہ تو مرگیا ہے تو وہ کہتے ہیں اس کے اس کے ٹھکانے ہاویہ کی طرف لے جایا گیا ہے جو بہت برا ٹھکانہ ہے اور بہت بری رہائش گاہ ہے۔
13۔ ابن مردویہ نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب مومن مرجاتا ہے تو مومنین کی روحیں اس سے ملاقات کرتی ہیں۔ اور ا سے پوچھتی ہیں فلاں کا کیا حال ہے اور فلاں عورت کی کیا حالت ہے ؟ اگر وہ مرچکا ہو اور ان کے پاس نہ پہنچا ہو تو وہ کہتے ہیں کہ اس کو اس کے ٹھکانے ہاویہ کی طرف لے جایا گیا ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے اور بری رہائش گاہ ہے۔ یہاں تک کہ وہ یہ بھی پوچھتے ہیں فلاں کا کیا ہوا ؟ کیا اس نے شادی کی ہے اور فلاں لڑکی کا کیا ہوا ؟ کیا اس نے شادی کی ہے پھر آخر میں وہ کہتے ہیں کہ اس کو چھوڑ دو تاکہ یہ آرام کرے یہ دنیا کی مشقتوں اور مصیبتوں سے نکل کر آیا ہے۔
14۔ ابن رمدویہ نے ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی روح جب قبض کی جاتی ہے تو اللہ کے بندوں میں سے رحمت والے اس سے ملاقات کرتے ہیں جیسے کہ دنیا والوں میں سے کسی کو مبارک باد دینے کے لیے ملاقت کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں اپنے ساتھی کا خیال رکھو اس کو آرام کرنے دو کیونکہ وہ شدید تکلیف میں تھا۔ پھر اس سے پوچھتے ہیں کہ فلاں آدمی اور فلاں عورت کا کا کیا ہے حال ہے ؟ کیا اس نے شادی کی ہے ؟ جب وہ کسی آدمی کے بارے میں سوال کرتے ہیں حالانکہ وہ اس سے پہلے مرچکا ہوتا ہے تو وہ جواب دیتا ہے کافی زمانہ گذر چکا ہے کہ وہ مجھ سے پہلے مرچکا تھا۔ اور وہ کہتے ہیں آیت انا للہ وانا الیہ راجعون اسے لے جایا گیا ہے اپنے ٹھکانہ ہاویہ کی طرف وہ کتنا برا ٹھکانہ ہے اور کتنی بری جگہ ہے رہنے کی۔
15۔ ابن المبارک نے ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت کیا کہ جب کسی بندے کی روح قبض کی جاتی ہے تو اللہ کے بندوں میں سے رحمت والے اس سے ملاقات کرتے ہی جیسے کہ دنیا میں مبارک باد دینے والے ملتے ہیں۔ اس کا استقبال کرتے ہیں اور اسے پوچھتے ہیں تو ان کا بعض، بعض سے کہتا ہے اپنے بھائی کو مہلت دو تاکہ وہ آرام کرلے کیونکہ انتہائی تکلیف میں تھا پھر اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں۔ فلاں آدمی کا اور فلاں عورت کا کیا حال تھا کیا اس نے شادی کی ہے جب وہ کسی آدمی کے بارے میں پوچھتے ہیں جو اس سے پہلے مرچکا تھا تو وہ ان کو کہتا ہے کہ وہ تو فوت ہوگیا ہے اور وہ کہتے ہیں انا للہ وانا الیہ راجعون کہ اس کو اس کے ٹھکانہ ہاویہ کی طرف لے جایا گیا ہے کہ وہ برا ٹھکانہ ہے اور وہ بری جگہ رہنے کی۔ ان پر اعمال کو پیش کیا جاتا ہے جب وہ نیک کاموں کو دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تیرا اپنے بندے پر احسان ہے پس اس کو پورا کرنا اور قائم رکھنا اور جب وہ برے اعمال کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں اے اللہ ! اپنے بندے پر رجوع فرما۔ یعنین اس کی طرف رحمت کی نظر فرما۔ ابن المبارک نے کہا ہے اس سلام الطویل نے ثور سے روایت کیا اور اس کو مرفوع قرار دیا ہے۔
16۔ ابن المبارک نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کیا مردے زندوں کی خبریں لاتے ہیں فرمایا ہاں ! جس کا کوئی دوست ہو تو وہ یقیناً اس کے اقارب اور رشتہ داروں کی خبریں لاتا ہے پس وہ اگر نیکی اور خیر کی خبر ہو تو وہ اس سے خوش ہوتا ہے۔ اور اگر وہ بری خبر ہو تو وہ بری خبر ہو تو وہ اس سے ناخوش اور غمگین ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ایک آدمی کے بارے میں پوچھتے ہیں جو مرچکا ہوتا ہے تو ان کو کہا جاتا ہے کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا ؟ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ اس کو اس کے ٹھکانے ہاویہ کی طرف لے جایا گیا ہے۔
17۔ ابو نعیم نے الحلیہ میں وہب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ایک بستی سے گزرے۔ اس کے رہنے والے انسان جنات، حشرات الارض، جانور اور پرندے سب مرچکے تھے وہ کھڑے ہو کر کچھ دیر اس کی طرف غور وفکر کرتے رہے۔ پھر اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا یہ سب اللہ کے عذاب سے مرچکے ہیں اگر یہ اس کے بغیر مرتے تو متفرق ہو کر مرتے پھر ان کو آواز دی اے بستی والو ! تو جواب دینے والے نے جواب دیا اے روح اللہ میں حاضر ہوا پھر ان سے پوچھا تمہارا کیا گناہ تھا ؟ انہوں نے کہا بتوں کی عبادت کرنا اور دنیا کی محبت۔ پوچھا تمہاری شیطان کی کیا عبادت تھی۔ کہا اللہ کی نافرمانی کرنے والوں کی اطاعت پھر پوچھا تمہاری دنیا کی محبت کیا تھی ؟ تو انہوں نے کہا جیسے بچے کی محبت اپنی ماں سے ہوتی ہے جب وہ دنیا آتی تو ہم ہوتے پھر پوچھا تمہارا کیا حال تھا ؟ کہنے لگے ہم نے عافیت میں رات گذاردی اور ہم نے سبح کی ہاویہ میں تو عیسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا ہایہ کیا ہے ؟ کہا وہ سجین ہے پوچھا سجین کیا ہے ؟ کہا آگ کا ایک انگارہ ہے دنیا کی طشتریوں کی طرح۔ جس میں ہم سب کی روحیں رکھ دی گئیں۔ پوچھا تیرے ساتھیوں کو کیا ہوا کہ وہ بات نہیں کرتے کہا کہ وہ بات کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ان کو آگ کی لگامیں پہنادی گئی ہیں۔ پوچھا تو نے ان کے درمیان سے مجھ سے کیسے بات کی ؟ کہا بیشک میں ان میں سے تھا لیکن میں ان کی حالت پر نہیں تھا۔ جب عذاب آیا تو وہ ان کے ساتھ مجھے بھی آپہنچا اور میں ہایہ میں ایک بال کے ساتھ لٹکا ہوا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ مجھے جہنم میں جکڑ دیا جائے گا یا میں نجات پاؤں گا تو عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا میں حق کی قسم کھا کر تم سے کہتا ہوں کہ جو کی روٹی کھانا۔ اور خالص پانی پینا اور کتوں کے ساتھ کوڑے پر سونے کے سبب بہت سے لوگ دنیا وآخرت میں عافیت کے ساتھ ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کا صحابہ کرام کا خیال رکھنا
18۔ ابو یعلی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول مبارک تھا کہ جب آپ کے اصحاب میں سے کوئی تین تک گم رہتا تو آپ ﷺ اس کے بارے میں پوچھتے تھے۔ اگر وہ غائب ہوتا تو اس کے لیے دعا کرتے اگر وہ حاضر ہوتا تو اس سے ملا قات کرتے۔ اگر وہ بیمار ہوتا تو اس کی عادت کرتے۔ انصار میں سے ایک آدمی تین دن تک حاضر نہ ہوا۔ تو آپ ﷺ نے اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا ہم نے اس کو چوزے کی طرح چھوڑا ہے وہ جو چیز بھی منہ کے راستے سے کھاتا ہے تو وہ اس کے پیچھے سے نکل جاتی ہے۔ آپ نے فرمایا اپنے بھائی کی عیادت کے لیے چلو۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے اور ہم اس کے پاس پہنچے تو آپ ﷺ نے اسے فرمایا تو نے اپنے آپ کو کیسے پایا ؟ اس نے کہا جو چیز بھی منہ میں داخل کرتا ہوں تو وہ میرے پیچھے سے نکل جاتی ہے۔ فرمایا ایسا کیوں ہوا ؟ اس نے عرض کیا یارسول اللہ ! میں آپ کے پاس سے گذرا اور آپ مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے میں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ نے یہ سورة القارعۃ ما القارعۃ سے لے کر نار حامیۃ تک پڑھی میں نے یہ دعا مانگی اے اللہ کہ جس گناہ پر آپ مجھے آخرت میں عذاب دینے والے ہیں تو اس کی سزا مجھے دنیا میں پہلے دے دیں۔ تو اس وقت سے میری یہ حالت ہوگئی۔ جو آپ دیکھ رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو نے بہت برا کیا۔ خبردار تو اللہ سے سوال کر کہ وہ تجھ کو دنیا میں بھلائی دے اور آخر میں بھی بھلائی دے۔ اور تجھ کو دوزخ کے عذاب سے بچائے پھر نبی ﷺ نے حکم فرمایا تو اس نے اس طرح دعا مانگی اور نبی اکرم ﷺ نے حکم فرمایا تو اس نے اس طرح دعا مانگی اور نبی اکرم ﷺ نے بھی اس کے لیے دعا فرمائی تو وہ کھڑا ہوگیا۔ گویا کہ وہ بیڑیوں سے آزاد ہوگیا۔