Ayah 101:1ایک شدید مصیبت آنے والی ہے
1 ؎ (القارعۃ) قارعۃ کا اصل مادہ ق ر ع ہے ۔ یہ اسم فاعل واحد مؤنث ہے قارعات قوارع اس کی جمع ہے اس کے معنی مصیبت ، بلا ، حادثہ یا اچانک آنے والے مصیبت قارعۃ الدار مکان کا صحن قارعۃ وسط راہ قوارع القران وہ آیات جن کے پڑھنے سے خبیث چیزوں سے محفوظ رہتا ہے اور یہ لوگوں کی اختراع ہے نہ کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ۔ اس کے معنی ہیں کھٹکھٹانا مثلاً قرع الباب دوازہ کھٹکھٹایابہر حال اس کے جتنے معنی ہوں گے سب کے معنی ہیں کھٹکھٹانا اور کھڑک کرنا ضرور ہوگا ۔ چونکہ قیامت بھی ایک نا گہاں آجانے والی مصیبت ہے جس سے ہر طرف کھڑکھڑاہٹ شروع ہوجائے گی اور یہ ایک حادثہ عظیم ہے اس لیے اس کو ( القارعۃ) کہا گیا ہے اور قیامت کے ناموں میں سے یہ ایک نام ہے۔
Ayah 101:2وہ شدید مصیبت کیا چیز ہے ؟
2 ؎ یہ پہلی بات کو دہرا کر بیان کیا گیا ہے اور اس کا انداز بیان سوالہ ہے اور اس طرح سوال کرنے سے مراد یہ ہوتی ہے کہ جس چیز کے متعلق یہ انداز سوال اختیار کیا گیا ہے وہ بہت ہی اہم ہے اور کوئی معمولی بات یا کوئی معمولی چیز نہیں ہے اگرچہ لوگوں نے اس کو معمولی سمجھ لیا ہے اس لیے اس سوال کو اس طرح دھرایا گیا ہے کہ سامعین اچھی طرح سمجھ لیں کہ اس بارے میں ان کی غفلت کوئی اچھا شگون نہیں رکھتی اور اس کا نتیجہ ان کا حق میں نہایت خطرناک بھی نکل سکتا ہے اگر انہوں نے اسکی پروانہ کی اس طرح یہ سوال بھی دھرایا گیا ہے وہ اہمیت ظاہر کرنے کے لیے دھرایا گیا ہے جیسے سورة الحاقہ میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔
Ayah 101:3تجھے کیا معلوم کہ وہ شدید مصیبت کیا چیز ہے ؟
3 ؎ اس کا مخاطب ہر وہ شخص ہے جو قیامت کا انکاری ہے یا قیامت کی طرف سے غفلت میں مبتلا ہے اور اس کی پرواہ نہیں کرتا اس لیے کہ اس طرح کا سوال قرآن کریم میں جہاں بھی کیا گیا ہے مخالف کی عا نا قبت اندیشی پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ تم کیا جانو اور تم کیا سمجھو ، تم کو کیا معلوم کہ اس کی حقیقت کیا ہے ؟ تم کو تو اس وقت ہوش آئے گا جب تم پر یہ اچانک ٹوٹ پڑے گی۔ ( ادراک) کا مادہ د ر ی ہے اور یہ انداز بیان سورة الحاقہ سے شروع ہوا ہے کیونکہ الحاقہ کی تیسری آیت میں یہ لفظ آیا ہے اور اس کے بعد المدثر کی آیت 27 ، المرسلات کی آیت 14 ، الانفطار کی آیت 17 ، 18 المطففین کی آیت 8 ، 19 سورة الطارق کی آیت 2 ، البلد کی آیت 12 ، القدر کی آیت 2 ، القارعہ کی آیت 3 ، 10 اور اس کے بعد سورة الھمزہ کی آیت 5 میں آیا ہے۔
جب کوئی قوم کسی سخت حادثہ سے دو چار ہوتی ہے یا کسی عظیم مصیبت میں مبتلا ہوتی ہے تو عرب کہتے ہیں قرعتھم الارعہ و ففر تھم الفاقرۃ اور ظاہر ہے کہ قیامت کا حادثہ کتنا عظیم اور کتنا خطرناک ہوگا اس لیے اس سے مراد وقوع قیامت کے وقت جو دل دہلا دینے والی آوازیں پیدا ہوں گی ۔ جب اجرام فلکی آپس میں ٹکرا کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ جب فلک بوس پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑائے جائیں گے اس وقت جو زہرہ گداز گڑ گڑاہٹ اور روح فرسا کڑک پیدا ہوگی اس کا اندازہ کیونکر کیا جاسکتا ہے ۔ کس بڑی توپ کا گولہ پھٹنے سے کانوں کے پردے پھٹ جاتے ہیں اور بعض دماغ بالکل مائوف ہوجاتے ہیں آپ اس وقت کا ذرا تصور تو کریں جب عطارد ، مشتری ، زحل اور مریخ جیسے قوی ہیکل سیارے بہم ٹکرا جائیں گے تو کتنا خوفناک دھماکہ پیدا ہوگا ۔ بس اسی وقت کے لیے ( ما ادراک م القارعۃ) کا سوال کیا جا رہا ہے جس کی مثال اس وقت سے پہلے کسی حادثہ کے ساتھ نہیں دی جاسکتی ۔ دو ریل گاڑیاں آپس میں ٹکرا جائیں تو جو قیامت خیز دھماکہ ہوتا ہے وہ کتنے لوگوں کو حواس باختہ کر کے رکھ دیتا ہے اور اگر ہماری اس زمین سے کوئی سیارہ ٹکرا جائے تو پھر اس کا نتیجہ کیا ہوگا غور کرلو اگر کیا جاسکتا ہے ؟ اور فضا میں کتنے ہی سیارے ہیں جو ہماری اس زمین سے بڑے یا اس کے برابر ہیں اور سب کا آپس میں ٹکرا ٹکرا کر گرنا اور پھر ناذکر کیا گیا ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا : (واذا الکواکب انتشرت) (الانفطار : 2) (واذا النجوم انکدرت) (التکویر : 2)
Ayah 101:4اس وقت لوگ پریشان پر وانوں کی طرح ہوجائیں گے
4 ؎ ( الفراش) جمع فراشۃ واحد ۔ پروانے ۔ پر دار چیونٹیاں ۔ چشت اور سبک آدمی ۔ اس جگہ مرا پر وانے ہیں اور زیر نظر آیت میں الفراش کو بطور اسم جنس استعمال کیا گیا ہے اور بجائے المبثوتۃ کے ( المبثوت) فرمایا جس طرح السحاب اگرچہ السحابۃ کی جمع ہے لیکن اسم جنس بھی ہے اس لیے سحاب مرکوم کہا جاتا ہے۔ ( المبثوث) اسم مفعول واحد مذکر منتشر پراگندہ ہے ، پھیلے ہوئے بث مصدر ( نصر و ضرب ) اس کا مادہ ب ت ث ہے۔ اس مادہ کے الفاظ قرآن کریم میں اور بھی استعمال ہوئے ہیں جیسے بث ، مبثوثۃ ، منبثا اور بثی وغیرہ ۔ پیچھے کھڑے کھڑانے ، کھٹکھٹانے کا ذکر تھا یعنی وقوع قیامت کے پہلے مرحلہ کا ۔ زیر نظر آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ اس وقت کے ہولناک واقعات سے انسان ہوش و حواس کھو بیٹھے گا اور طرح دماغی توازن بھی صحیح نہیں رہے گا جس طرح بکھرے ہوئے پروانے سراسیمگی کی حالت میں ادھر ادھر ، اوپر نیچے گر رہے ہوتے ہیں اسی طرح انسانوں کی حالت ہوگی کوئی ہوش و حواس باختہ یہاں گرا پڑا ہوگا اور کوئی وہاں گرا پڑا ہوگا ۔ اس وقت انسانوں کا سارا نشہ ہرن ہوجائے گا اور تکبر و غرور کا فور ہوچکا ہوگا ۔ لفظ ( المبثوث) کے اندر اس طرح کا مفہوم مخفی ہے جس کو یہاں واضح کیا گیا ہے۔
Ayah 101:5اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی طرح ہوں گے
5 ؎ ( العھن) عھن لغت میں رنگین اون کو کہتے ہیں جو مختلف رنگوں میں رنگی ہو۔ ( المنفوش) اسم مفعول واحد مذکر جس کے معنی ہیں دھنا ہوا ۔ اس کا مادہ نش ہے ۔ نفیش پراگندہ سامان کو کہتے ہیں جو ادھر ادھر بکھرا پڑا ہے۔ نفش اون یا روئی کا دھنکنا ۔ انگلیوں سے کسی چزے کو بکھیر دینا ۔ رات کے وقت جانوروں کے چرنے کے لیے چھوڑ دینا ہے۔ روئی یا اون کے دھنکنے پر اس کا استعمال ہوتا ہے۔ اس مادہ کے صرف دو الفاظ قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں وہ بھی ایک ایک بار ۔ ایک زیر نظر آت میں ( المنفوش) اور دوسرا سورة الانبیاء کی آیت 78 میں ( نفثت) کا لفظ ۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے حادثہ فاجعہ سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے اکھیڑ دیئے جائیں گے اور وہ روئی یا اون کے گالوں کی طرح اڑتے ہوں گے جب کہ وہ کئی رنگوں میں رنگ کر دھن گئی ہو اور روئی اور اون کو کام میں لانے کے لیے دھستا پڑتا ہے۔
Ayah 101:6اس وقت جس کے نیک اعمال کا پلڑا بھاری ہوگا
6 ؎ (موازینہ) مازین جمع مضاف ہے اور واحد اس کی میزان اور موذون ہے ۔ ہٗ ضمیر مضاف الیہ ۔ ترازو یا وزن کیے جانے والے اعمال ۔ مختلف اعمال ہونے کے باعث جمع کا صیغہ لایا گیا ہے۔ وزن کسی چیز کا مقدار کی پہچان ہے۔ عوام کے نزدیک کسی چیز کو ترازو سے تولنے کو وزن کرنا کہتے ہیں ۔ ( راغب) اور حقیقت میں وزن کے معنی تولنا ہے اور تولنے سے چیز کی صحیح مقدار معلوم ہوجاتی ہے اور یہی وزن کی اصل غرض وغایت ہے اس لیے وزن کے معنی جانچنے اور مقدار کے پہنچاننے کے ہوگئے۔ موزون چیز تو وہی ہوتی ہے جس کی کوئی جسمانیت ہو لیکن اکثر غیر جسمانی چیزوں کے لیے بھی وزن کا استعمال کیا جاتا ہے جیسے بات کا وزن کرنا ۔ انسانی حیثیت کو تولنا اور وزن کرنا وغیرہ ۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے روز انسان کے اعمال دیکھے جائیں گے کہ ان کی پوزیشن کیا ہے ، اس کی نیکیاں زیادہ ہیں یا بدیاں ۔ اس جگہ وزن کے بھاری ہونے کا مطلب نیکیاں زیادہ ہونے سے ہے یعنی وہ لوگ جن کی نیکیاں برائیوں کے مقابلہ میں زیادہ ہوں گی ۔ بات بالکل صاف اور مفہوم واضح ہے لیکن ہمارے مفسرین نے اس میں بڑی پیچیدگیاں پیدا کردی ہیں اور فرضی جواب وسوال کا سلسلہ شروع کر کے وہ کہاں سے کہاں نکل گئے ہیں کہ اعمال تو لے جائیں گے ، اعمال کے وہ رجسٹر تو لے جائیں گے جو کراما ً کاتبین تحریر کرتے ہیں لیکن یہ سب سوال و جواب بےمعنی اور بےمقصد ہیں جن کے ذکر کی چنداں ضرورت نہیں ہے اور اس طرح کی لا یعنی بحثیں صاحب علم لوگوں کو زیب نہیں دیتیں۔
Ayah 101:7وہ پسندیدہ حالت میں ہو گا
7 ؎ ( عیشیۃ) زندگانی ، گزران یہ عاش یعیش کا مصد ہے جو باب ضرب سے آتا ہے اور جس کے معنی جینے کے ہیں ۔ امام راغب کہتے ہیں کہ عیش اس زندگی کو کہتے ہیں جو حیوان کے ساتھ مخصوص ہے اور یہ حیاۃ سے اخص ہے اور اچھی گزران کو ( غشیۃ) کہتے ہیں ۔ ( راضیۃ) پسندیدہ ، خوش ، من بھاتی ، راضی رضی سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث اور پھر جب ( غشیۃ) کے ساتھ ( راضیۃ) کا لفظ بھی آگیا تو اس کی اچھائی اور خوبی میں کیا شک رہ گیا ؟ مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کی نیکیوں کے پلڑے ہوں گے ان کو اچھی زندگی بخشی جائے گی جس میں آرام و آسائش کے ہزاروں سامان ہوں گے اور حزن و ملال کا وہاں نام و نشان بھی نہ ہوگا ۔ زندگی گزارنے والے ایسی مطمئن زندگی گزاریں گے کہ وہ اس زندگی پر خوش اور مسرور ہوں گے اور جس قدر وہ شاداں وفرحاں ہوں گے اس کا تصور آپ اس زندگی میں نہیں کرسکتے اس لیے کہ وہ مشاہدہ میں نہیں ہے اور نہ ہی اس کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 101:8اور اس وقت جس کے نیک اعمال کا پلڑا ہلکا ہو گا
8 ؎ یہ بات قبل ازیں بہت دفعہ عرض کی جا چکی ہے قرآن کریم نے جہاں بھی اچھے لوگوں کا ذکر کیا ساتھ بروں کا بھی ذکر کردیا اور جہاں بروں کا ذکر کیا وہاں اچھوں کا بھی کر یا گویا ہر جگہ یہ تقابل پایا جاتا ہے ، کیوں ہے ؟ اس لیے کہ صحیح پہچان اور شناخت دو مخالفت چیزوں کو سامنے رکھنے ہی سے ہو سکتی ہے۔ گزشتہ آیت میں ان لوگوں کا ذکر تھا جن کی نیکیاں زیادہ تھیں اور وہ آخرت میں کامیاب قرار دیئے گئے تھے پھر ان کی عیش و عشرت کی زندگی کا ذکر فرمایا گیا اور اب ان بد بختوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جن کی نیکیوں کے پلڑے ہلکے ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے کفر و نفاق کے باعث ان کے وہ اعمال جو بظاہر بڑے نیک اور صالح تھے لیکن چونکہ وہ نبی اعظم و آخر ﷺ کی سنت کے خلاف ہوں گے اور ان پر آپ ﷺ کی مہر ثبت نہ ہوگی اس لیے وہ رب العزت کے ہاں بےوزن ہو کر رہ جائیں گے اور ان بد نصیبوں کا ٹھکانہ بھی ہاویہ ہوگا جیسا کہ آگے ذکر آنے والا ہے۔ اس جگہ ایک حدیث سن لیں اور اس کو یاد رکھیں : ( قال رسول اللہ ﷺ انہ لیاتی الرجل العظیم السیمین یوم القیامۃ لا تزن عند اللہ جناح بعوضۃ ثم قد افلا نقیم لھم یوم القیامۃ وزنا) ” رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن ایک بہت موٹا تازہ آدمی پیش کیا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر سے بھی وہ ہلکا ہوگا پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : ( فلا نقیم لھمیوم القیامہ ورنا) (17 : 105)
Ayah 101:9اس کا ٹھکانہ ہاویہ ہوگا
9 ؎ ( امہ) ام ماں کو کہتے ہیں خواہ وہ حقیقی ماں ہو یعنی والدہ یا دور کی ماں ہو یعنی ماں ۔ ماں کی ماں یا باپ کی ماں اور باپ کے باپ کی ماں سب کو ام کہتے ہیں یہاں تک کہ حضرت حواعلیہا السلام کو بھی ماں کہتے ہیں ۔ دراصل کسی شے کی اصل یا اس کی تربیت و اصلاح کے ذریعے اور سبب کے لیے بھی ام کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور ہر وہ شے ام سے موسوم کی جاسکتی ہے جس کی طرف اس سے تمام متعلق چیزیں ملا دیں جائیں یہی وجہ ہے کہ اس جگہ بد کاروں اور بد بختوں کے لیے دوزخ کو ان کی ماں قرار دیا گیا ہے کیونکہ وہ اس قابل تھے کہ دوزخ کے ساتھ ملا دیئے جائیں ۔ ( ھاویۃ) دوزخ کے ایک حصہ کا نام ہے۔ اس کا اصل مادہ ھوی ہے اور اس مادہ کے الفاظ قرآن کریم میں اکثر استعمال ہوئے ہیں کیونکہ ھوی ۔ تھوی ۔ تھوی۔ الھوی ۔ ھواہ ۔ اھواء ۔ اھواء ۔ کم ۔ اھواء ھم ۔ باھوائھم ۔ اھواء ۔ اھوی اور ستھوتہ سب کا مادہ ییز ہے لیکن ( ھاویۃ ) کا لفظ اس جگہ ہی بیان ہوا ہے اور اس کے علاوہ قرآن کریم میں یہ لفظ نہیں آیا ۔ اور ھوی ہو یا ھوۃ گڑھے اور نشینی زمین کو کہتے ہیں اور آسمان و زمین کا درمیان خلا ھواء کہلاتا ہے اور ہر خالی چیز پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ ھاوی ٹڈی دل کو کہا جاتا ہے۔ اور ھوی خواہش ، میلان اور عشق کو کہا جاتا ہے۔ ھیا ھیا کلمہ زجر و توبیخ ہے اور ھویۃ بہت گہرے کنویں کو کہتے ہیں ۔ ھواھی جھوٹی بیہودہ باتوں کو کہتے ہیں اور ھاء ھاء کلمہ تعجب ہے اور کلمہ افسوس ہے اور اس جگہ فرمایا جا رہا ہے کہ وہ جن کی ترازو ہلکی ہوگی یعنی ان کے اچھے اعمال نہیں ہوں گے بلکہ برے اعمال ہوں گے ، ان کو دوزخ کے سپرد کردیا جائے گا کیونکہ وہ اس قابل ہیں کہ ان کو دوزخ کے ساتھ ملایا جائے اس طرح گویا جو انہوں نے چاہا وہی ان کے ساتھ ہوگیا ۔
Ayah 101:10اور تجھے کیا معلوم کہ وہ ہایہ کیا چیز ہے ؟
10 ؎ اس طرح کے سوال کی اہمیت ہم پیچھے بیان کرتے چلے آ رہے ہیں اور اس سورة کی آیت تین میں بھی اس کی وضاحت کردی گئی ہے اس لیے جو مطلب آیت تین میں ہے وہی اس جگہ بھی مان لیا جائے۔ ( ماھیہ) ما ما الگ ہے ھی الگ ہے وہ ضمیر الگ ہے۔ مخاطب منکرین و معاندین ہیں جو قیامت کے آنے کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے یا وہ لوگ جو منہ سے تو نام لیتے ہیں لیکن ان کے اعمال اس بات کا ثبوت پیش نہیں کرتے کہ یہ لوگ قیامت کے ماننے والے ہیں بلکہ ان سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ قیامت کے منکر ہیں اور اس طرح کے سب لوگ مخاطب ہیں تو آپ لوگوں کو کیا معلوم کہ وہ جس کو ہاویہ کہا جا رہا ہے وہ کیا ہے ؟ اور پھر ان کو مختصر اشارہ کر کے بات سمجھائی گئی ہے۔
Ayah 101:11وہ دھکتی ہوئی آگ ہی تو ہے
11 ؎ (حامیۃ) دھکتی ہوئی ، جلتی ہوئی ۔ حمی سے جس کے معنی دھکنے اور گرم ہونے کے ہیں ۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ۔ دھکتی آگ وہ ہے جو لکڑی جل کر خوب انگاروں کی صورت اختیار کرگئی ہو ( حامیۃ) کا اصل مادہ ح م ی ہے اور ( حامیۃ) کا لفظ قرآن کریم میں صرف دو جگہ آیا ہے ایک اس جگہ اور دوسرا سورة الغاشیہ کی آیت 4 میں اور اس مادہ کے تین الفاظ مزید قرآن کریم میں آئے ہیں ۔ یحمیٰ ۔ حام اور حمیۃ یعنی ان بد بختوں اور شقی المزاج لوگوں کے لیے وہ آگ تایر کر رکھی ہے جو حرارت اور تپش میں تمام حدود سے تجاوز کرگئی ہے ۔ اور اسی جگہ ہم سورة القارعہ کو ختم کر رہے ہیں ۔ ربنا وقنا عذاب النار ۔ انک انت الغفار۔ واحشر نامع الابرار ۔ انک انت الستار۔