102. Surah At-Takaathur

التكاثرCompetition · 8 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 102:1

اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ Open ayah 102:1 in the Quran reader

(اے لوگو ! ) تم کو کثرت مال کی طلب نے غفلت میں ڈال دیا

لوگو ! تم کو کثرت مال کی طلب نے غفلت میں ڈال دیا 1 ؎ ( الھکم) اصل مادہ ل ہ و ہے اور اس مادہ کے جتنے لفظ قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں ان میں یہ چیزپائی جاتی ہے کہ وہ شخص جو سنجدوگی چھوڑ کر مزاح کی طرف میلان اور جھکائوکر کے اس کے اس فعل کو لھو کہتے ہیں گویا معقول بات سے غفلت میں مبتلا ہونا اور بےکار اور غیرسنجیدہ بات کی طرف پھرجانا ہے۔ ( التکائر) کے معنی ہیں مال جمع کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے باعث تم غفلت میں مبتلا ہوگئے اور سنجیدہ کاموں کو چھوڑ کر غیر سنجیدہ کاموں کی طرف تمہاری رغبت ہوگئی ۔ لوگو ! تم مال جمع کرنے میں اس قدر منہمک ہوگئے کہ قیامت اور آخرت کے معاملہ میں تم غفلت کرنے لگے اور اس معاملہ میں تمہاری مصروفیت اس حد تک بڑھ گئی کہ تم نے آخرت کے بارے میں کبھی بھول کر بھی خیال نہ کیا کہ ہم کو مرنا بھی ہے اور اپنے رب کریم کے سامنے جوابدہی کے لیے پیش ہونا ہے۔ تم مال و دولت کی محبت میں اس قدر ڈوب گئے کہ آخرت اور قیامت کے متعلق تم کو کبھی خیال تک بھی نہ آیا اور دنیا کی لا یعنی باتوں میں تمہاری مصروفیت اس قدر بڑھ گئی کہ کام کی باتوں کی طرف سے تم بالکل غافل ہوگئے اور بلا شبہ یہ حقیقت ہے کہ جو لوگ زیادہ سے زیادہ مال و دولت جمع کرنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں ان کو بڑی اہم اور ضروری سے ضروری چیزیں فراموش ہوجاتی ہیں اور دولت سمیٹنے کی خواہش جنون کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ اس وقت ان کو نہ تو اللہ تعالیٰ یاد رہتا ہے اور نہ ہی ان کو کبھی موت یاد آتی ہے اور نہ ہی قبر کا وہ تاریک گڑھا جس میں انہوں نے ایک نہ ایک دن آ کر فروکش ہونا ہے۔ یہ ایک ہی خیال میں بس مگن رہتے ہیں کہ جیسے بن پڑے زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرلی جائے۔ ان کی زندہ وجاوید شخصیتیں دیکھنا چاہو تو اپنے ملک کے وزیراعلیٰ ، وزیراعظم اور دوسرے سارے وزراء اور ملک عزیز کی کرسی صدارت و فروکش صاحب نیز دوسرے سارے وزراء ، صوبائی اسمبلیوں کے ممبر حضرات ، قومی اسمبلی کے ممبر اور سینیٹر سب کے سب اس میں داخل ہیں اور ان میں سے اکثر تو اسے ہیں جو تاجر طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں لہٰذا ساری تاجر برادری جو اس ملک کی اہم تجارت ہو قابض ہے اور ان کو دیکھا دیکھی ہر صاحب مال اپنے اپنے مال اور دولت کے انبار کے بڑھانے کے چکر میں ہے اور سب کے سب اس آیت کریمہ کی زد میں ہیں اور ان سب کو مخاطب کر کے قرآن کریم بات کر رہا ہے اور ان کو بتایا جا رہا ہے کہ تم میں سے جو اللہ تعالیٰ کا نام لینے کے دعویدار ہیں وہ بھی اپنے دعویٰ میں مخلص نہیں ، ان کی زبانیں کچھ کہہ رہی ہیں اور ان کے اعمال کچھ واضح کر رہے ہیں ۔ زیر نظر آیت ان سے مطالبہ کر رہی ہے کہ تم وہ لوگ ہو کہ سنبھلنے کی بجائے پھسلتے ہی چلے جا رہے ہو تم اور تمہارا یہ سب مال فانی ہے اس لیے اس مال و دولت کی کثرت چاہتے ہوئے آخت سے غافل مت ہو جائو آنے والے کل نہ تم ہو گے اور نہ تمہاری یہ دولت ہوگی ۔ اس غفلت کا پردہ چاک کرو اور حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرو ورنہ عنقریب تمہاری غفلت کا پردہ خود بخود چاک ہوجائے گا اور تم کو لائن حاضر کرلیا جائے گا اور پھر تم ہو گے اور عذاب دزخ ہوگا اور قریب ہی سے آوازیں بلند ہو رہی ہوں گی ( ذوق انک انت العزیز الکریم) (44 : 49)
Ayah 102:2

حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ Open ayah 102:2 in the Quran reader

یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پہنچے

یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پہنچے 2 ؎ (زرتم) تم نے جا دیکھا۔ تم نے زیارت کی ۔ زیارۃ سے جس کے معنی زیارت کرنے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر اصل میں زور سینہ کے بالائی حصہ کو کہتے ہیں اور اسی اعتبار سے زیارۃ کے معنی سینہ سے کسی کے سامنے ہونے یا کسی کے سنہ کی طرف رخ کرنے کے ہوتے ہیں اور زیارت میں سینہ بہر حال ایک دوسرے کے سامنے آتا ہے۔ ( المقابر) صیغہ منتہیٰ المجموع ظرف مکان المبقرۃ اور المبقرۃ واحد اور اس کے معنی قبرستان کے صحیح ہیں ۔ فرمایا جا رہا ہے کہ تم یہ مال کی کثرت اور ایک دوسرے سے مال میں سبقت لے جانے کی خواہش و آرزو کرتے ہی رہو گے۔ اللہ ناراض ہوتا ہے تو ہو ۔ قوم سے خیانت ہوتی ہو ۔ ملک سے غداری ہوتی ہے تو ہو ۔ اپنے فرائض کی ادائیگی میں بد دیانتی ہوتی ہے تو ہوجائے اگر تم غور کرو گے تو اوپر جن لوگوں کا ذکر ہم نے کیا ہے وہ سب کے سب اس میں بخوشی شریک ہیں اور قرآن کریم کی نظر میں یہ ایسے بد نصیب لوگ ہیں جو صرف اللہ کی ذات اور آخرت ہی کو بھول نہیں گئے بلکہ وہ اپنے آپ کو بھی ساتھ ہی بھول گئے ہیں اس لیے انہوں نے اپنے عہدے اور منصب ، اپنی عزت اور آبرو ، اپنی شخصیت اور شہرت سب کچھ دائو پر لگا دیا ہے اور ہرچیز کو فراموش کر بیٹھتے ہیں۔ ان کی یادداشت میں اگر کچھ ہے تو صرف اور صرف مال و دولت ، عہدہ و اقتدار ہے اور یہ وہی لوگ ہیں جن کے متعلق رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ : ( لو ان لا بن ادم وادیا ً من ذھب لا حب ان یکون لہ ٗ وادیان ولن یملا فاہ ٗ الا التراب ویتوب اللہ علی من تاب) ( بخاری ) ” اگر کسی شخص کے پاس سونے سے بھری ہوئی ایک وادی ہو تو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ کاش اس کے پاس ایک کی بجائے سونے سے بھری ہوئی دو وادیاں ہوتیں۔ اس کے منہ کو صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے وہ اپنے قانون کے مطابق لوٹ آتا ہے “۔ اور ایک دوسری حدیث میں اس فرمایا گیا کہ : ( مطرف عن ابیہ اتیت ﷺ و ھو یقرا (الھا کم التکاثر) الا بۃ قال یقول ابن ادم مالی مالی ۔ ھل لک یا بن ادم من مالک الا ما اکلت فافنیت والبست فابلیت وتصدقت فامضیت وما سوی ذلک فذاھب و تارک اللناس) (مسلم) ” مطرف کے والد کہتے ہیں کہ میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ اس وقت ( الھا کم التکاثر) پڑھ رہے تھے۔ فرمایا کہ انسان میرا مال ، میرا مال کہتا ہے۔ اے فرزند آدم کیا تمہارا مال کچھ ہے سوائے اس کے جو تم نے کھالیا اور فنا کردیا یا پہنا اور بوسیدہ کردیا یا صدقہ کیا اور اس مال کو اپنے لیے آگے بھیج دیا تاکہ قیامت کے روز کام آئے اس کے سوا جو کچھ ہے تو اسے لوگوں کے لیے چھوڑ کر چلا جائے گا “۔ اچھا ذرا غور کرو کہ ہمارے یہ زرداری ، مزاری ، لغاری ، دریشک ، کھو سے ، نواب ، نوابزدے ، گورمانی ، دولتانے ، قریشی ، گیلانی ، گردیزی ، دا ہے ، ممدوٹ ، موکل ، قزلباش ، کلاس شیخ ، بخاری فقیر ، مرزائی ، چٹھے ، کھرل ، رجوعے ، ٹوانے ، نون ، کھوکھر ، راجے ، گگھڑ ، گوندل ، جو دھرے ، کھبے ، مکھڈ ، اعوان ، نیازی ، بچھر اور میاں کو تو یہ دنیا چھوڑ کر نہیں جانا ہے یا اگر چھوڑنا ہے تو یہ ساری سرداریاں ساتھ ہی لے جانی ہیں ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارے مفسرین نے قریش کے قبیلے تو گنوائے لیکن موجودہ نا خدائوں کا نام کیوں نہ لیا جب کہ یہ سب ان کے اپنے دور کے ہیں ۔ کیا سید مودودی ، امین احسن اصلاحی ، عبد الماجددریا بادی ، شبیر احمد عثمانی ، احمد علی لاہوری ، پیر کرم شاہ بھیروی ، مفتی محمد شفیع (رح) غلام مرتضیٰ ملک سب کے سب اس دور کے مفسر نہیں ہیں ؟ اوپر کے ان سارے سردروں اور وڈیروں کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ تم اسی دھن میں مست رہتے ہو کہ ہم بہت بڑے آدمی ہیں یہاں تک کہ تمہاری حیات مستعار کا سورج ڈوب جاتا ہے ، موت کا فرشتہ آ کر تمہاری روح قبض کرلیتا ہے اور تم ہمیشہ کے لیے قبر کے گڑھے میں لٹا دیئے جاتے ہو اور حقیقت کا انکشاف تم پر اس وقت ہوگا جب میدان حشر میں تم کو لا کر ایسی حالت میں کھڑا کر دیا جائے گا جیسی حالت میں تم پہلی بار دایہ کے ہاتھوں چیخ چلا رہے تھے لیکن اس وقت تمہاری چیخنے کی کوئی قیمت تھی اور اب تمہارا رونا اور چیخنا بھی بےکار ہوگا اور سرداروں کی سرداری کا بھی کوئی خیال نہیں کرے گا ۔ سب کو اپنی اپنی پڑی ہوگی۔ ” تجھے کیا پڑی ہے پرائی اپنی نبی ڑ تو “ کے مصداق ہو گے۔
Ayah 102:3

كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 102:3 in the Quran reader

ہرگز نہیں ، عنقریب تم جان لوگ گے

ہرگز نہیں ، عنقریب تم جان لو گے 3 ؎ (کلا) کی وضاحت ہم پیچھے کرچکے ہیں کہ یہ اس سارے مضمون کی نفی کر رہا ہے جو مخالفین و معاندین کے ذہن و دماغ میں تھی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انکے لیے زجر و توبیخ کا کام بھی دے رہا ہے اور ان سارے بدبختوں کو زور دار جھڑک دے کر کہا جا رہا ہے کہ یہ جو نادانی کا وطیرا تم نے اختیار کیا ہوا ہے ہرگز ہرگز درست نہیں اور اگر تم اس سے باز نہ آئے اور اپنی آنکھوں سے تعصب کی پٹی نہ اتاری اور تم اس بیہودہ شغل سے دستبردارنہ ہوئے اور ذکر الٰہی اور احکام الٰہی کی بجا آوری کی طرف متوجہ نہ ہونے اور اسی غفلت کی حالت میں موت کے فرشتہ نے آدبوچا تو اس وقت تم کو معلوم ہوجائے گا کہ تم کتنے غلط کار اور زیاں کار تھے تم کتنے خسارے کے کاروبار میں مصروف رہے اور تمہاری عیاری اور مکاری نے تم کو ذرا فائدہ نہ دیا بلکہ سراسر نقصان ہی کیا لیکن اگر اس وقت تمہاری آنکھیں کھل بھی گئیں تو کیا حاصل ؟ جب فرصت کی گھڑیاں تم نے خود بربا کردیں اور اب تمہارا جاننا نہ جاننا دونوں برابر ہوگئے۔
Ayah 102:4

ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 102:4 in the Quran reader

پھر ہرگز نہیں ، عنقریب تم جان لو گے

پھر ہرگز نہیں ، عنقریب تم جان لو گے ؟ 4 ؎ ان لوگوں کو قبل از وقت متنبہ کرنے کے لیے دوبارہ ایک زور دار آواز سے جھڑک کر ان کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ایک بار کان کھول کر سن لو ہم تم کو اس وقت سنا رہے ہیں جب تم کو سنانا تمہارے لیے مفید ہے اور ہم جانتے ہیں کہ تم بھی ہر سنی ان سنی کرنے میں بہت مہارت رکھتے ہو لیکن تمہارا کام ہے ہر سنی کو ان سنی کرنا اور ہمارے رسول کا کام ہے ہمارے حکم سے تمہارے کانوں تک بات پہنچانا پھر جب تمہاری اولاد اور اولاد آئے گی تو ہمارے نبی و رسول ﷺ کی بھی روحانی اولاد در اولاد جو سچے دل سے ایمان لانے والی ہوگی تمہارے کانوں کی کھڑکیاں کھولتی رہے گی۔ تم اکڑتے اور اتراتے رہو گے اور اللہ کے بندے تم کو جھنجوڑتے رہیں گے۔ اللہ قادر مطلق ہے جب وہ اپنا کام لینا چاہتا ہے تو ان پرندوں سے بھی لے لیتا ہے جن کی چونچ میں مسور کی دال کے برابر ایٹم آسکتا ہے اور اپنے بچوں میں وہ چاول کے برابر میزائل پکڑ سکتے ہیں اور یہ منظر دیکھنے والے حربان و ششدر رہ جاتے ہیں اور ان کی زبانوں پر بےساختہ جاری ہوجاتا ہے۔ سبحان اللہ وبحمدہ ٗ سبحان اللہ العظیم پھر کوئی اس کو معجزہ کہتا ہے اور کوئی اس کا نام جادو رکھتا ہے اور ہم اس کو شان کریمی تصور کرتے ہیں۔
Ayah 102:5

كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِؕ Open ayah 102:5 in the Quran reader

ہرگز نہیں ، کاش ! کہ تم یقنی علم رکھتے ہوتے

ہرگز نہیں ، کاش کہ تم یقینی علم رکھتے ہوتے 5 ؎ فطرت انسانی ہے کہ بات جتنی اہم ہوتی ہے انسان کو اس کو اتنے ہی اہم طریقہ سے کرتا ہے اور پھر جب کرلیتا ہے تو پھر تاکید پر تاکید کیے جاتا ہے۔ اشاروں اور استعاروں میں تاکہ جس کے ساتھ بات کی گئی ہے وہ اس کے اشارہ ، استعارہ اور رمز کو سمجھے اور دوسروں کو اس میں کچھ بھی حاصل نہ ہوتا تاکہ راز بھی قائم رہے اور بات بھی جاری ہے اور تاکید در تاکید بھی ہوتی رہے۔ قرآن کریم چونکہ انسانوں ہی کی زبان میں نازل کیا گیا ہے اس لیے اس نے وہی پیرا یہ بیان اختیار کیا ہے اور یہی صورت اس جگہ پیش آرہی ہے۔ بات کی ہے اور بات پر اس کی تاکید انداز بدل کر کی جا رہی ہے اور پھر اشارہ اور استعارہ میں بات کو بار بار کیا جا رہا ہے گویا بات ہوتی نظر بھی نہیں آتی اور بات بھی بار بار دہرائی جا رہی ہے تاکہ اگر کسی کا بھلا ہو سکتا ہے تو ضرور ہوجائے۔ اس لیے فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم کو اس بات کا یقینی علم ہوتا تو تم فانی لذتوں ، ناپائیدار عزتوں اور فانی دولت و ثروت کے لیے اپنے قیمتی اوقات کا خزانہ اس بےدردی سے کیوں لٹاتے ؟ اسوقت تو تمہارا ہر سانس ، ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی ، ابدی نعمتوں اور لا فانی راحتوں کے حصول کے لیے وقف رہتا ۔ ( علم) علم ، دانش ، جانتا یہ علم یعلم کا مصدر ہے اور علم کہتے ہیں ۔ یقین چناچہ علم یعلم کا استعمال کسی بات کو قین کرنے کے لیے ہوا کرتا ہے نیز علم کے معنی معرفت کے اور معرفت کے معنی علم کے بھی آیا کرتے ہیں چونکہ علم اور معرفت دونوں مسبوق بالجہل ہونے میں باہم شریک ہیں اس لیے ان میں سے ہر ایک دوسرے کے معنی پر متضمن ہے اور علم کا حصول اگرچہ کسب کی بنا پر ہوتا ہے مگر یہ کسب جہالت کے بعد بھی ہوتا ہے۔ چناچہ قرآن کریم میں ( مما عرفوا من الحق) (5 : 83) ” اس وجہ سے کہ انہوں نے حق بات کو یقین کرلیا “ سے مراد یہی ہے ۔ یعنی ایسا علم جو ایک یقینی بات کا ہوتا ہے۔ اگر ایسی بات ہوتی تو انسان سے آخر بد اعتدالیاں ہی کیوں ہوتیں ۔ ایک آدمی جب کوئی کام کرنے لگتا ہے تو اپنے چاروں کی طرف دیکھتا ہے کہ کوئی ادھر ادھر سے دیکھ تو نہیں رہا پھر جب اس کو تین چار سال کا بچہ قریب کونے میں کھڑا دیکھ رہا ہوتا ہے تو وہ اس کام کے کرنے سے باز رہتا ہے اور اگر وہ بچہ وہاں نہ ہو تو اس کام کو کرجاتا ہے کیا اس شخص کو اس عمل کی سزا ماننے پر یقین ہے ، کیا اس شخص نے اللہ تعالیٰ کی ذات پر اپنے سارے یقین کی کلی خود نہیں کھول دی اور کیا اس نے تین چار سال کے بچے کے برابر بھی اللہ تعالیٰ کی حیثیت کو سمجھا ہے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر آپ اس کو ( علم الیقین) کی بجائے صرف علم کے نام سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں ؟ اس لیے زیر نظر آیت میں ( علم الیقین) یعنی مکمل یقین رکھنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ اللہ کرے کہ ہم مسلمانوں کو اس پر یقین آجائے۔
Ayah 102:6

لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَۙ Open ayah 102:6 in the Quran reader

تم (اس حرص دنیا کو) دوزخ ( کی صورت میں) دیکھ لو گے

تم اس حرص دنیا کو دوزخ کی صورت میں دیکھ لو گے 6 ؎ گزشتہ آیت میں ( علم الیقین) کی بات کی جا رہی تھی جس کے متعلق ہر ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ علم کے ذریعہ تو میں نے یقین حاصل کرلیا ہے۔ اب فرمایا جا رہا ہے کہ یہ بات کہ علم کے ذریعہ یقین حاصل کرلیا ہے کیسے درست تسلیم کی جاسکتی ہے جب کہ وہ مطلوب حاصل نہیں ہو رہا جو علم کے ذریعہ دوزخ کے یقینی ہونے کو حاصل ہے اور جب تک مطلوب حاصل نہ ہو حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہی سمجھا جائے گا کہ ابھی تو دال میں کچھ کالا ہے خواہ وہ شک و شبہ ہے جو زائل نہیں ہوا مثلاً آپ یوں سمجھ لیں کہ آپ کو پیاس لگی ہے ، پیاس کا ازالہ کیا ہے ؟ یہی کہ پانی پیا جائے کیوں پیا جائے ؟ اس لیے کہ پیاس باقی نہ رہے لیکن اگر کوئی شخص پیئے اور اپنی طرف سے سرس ہو کر پیئے لیکن پیاس مزید بڑھ جائے تو پھر یہی ہوگا کہ چونکہ مطلوب حاصل ہیں ہو لہٰذا اس بات کی تلاش کی جائے گی کہ وہ کیوں حاصل نہیں ہوا ؟ صرف پانی پی کر اس کی طرف سے غفلت نہیں برتی جائے گی اور جب تک مطلوب حاصل نہیں ہوگا اس کا پیچھا نہیں چھوڑا جائے گا ۔ دوزخ کے متعلق علم یقین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اگر آدمی برائیوں سے باز آجائے کیونکہ دوزخ برائیوں کا مآل ہے لیکن اگر کوئی شخص برائیوں سے باز بھی نہ آئے اور دوزخ کے متعلق علم یقین ہونے کا دعویٰ بھی کرے تو اس کی بات پر یقین نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یقین حاصل کرنے کے لیے اس کا برائیوں سے باز آنا لازم ہے۔ یہی بات اس جگہ سمجھائی جا رہی ہے کہ اگر اس طرح علم یقین حاصل نہیں ہو رہا تو پھر یقینی ہے کہ تم حقیقت میں دوزخ کو دیکھ لو اور وہ اس وقت ہوگا جب تم کو اٹھا کر اس میں پھینک دیا جائے گا اور اگر صورت حال یہی رہی تو وہ وقت بھی یقینا آئے گا اور تم دوزخ کو اس طرح دیکھ لو گے کہ اب تم کو یقین آجائے گا ۔ اب سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ یقین نہ آئے کیونکہ گولی لگ جانے کے بعد گولی لگنے میں کبھی شک و شبہ نہیں ہو سکتا کہ گولی لگی ہے یا نہیں ؟ کیونکہ اب اس کو علم الیقین حاصل ہوگیا ہے جو گولی لگنے تک محدود ہے۔
Ayah 102:7

ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَیْنَ الْیَقِیْۙنِ Open ayah 102:7 in the Quran reader

پھر اس کے بعد تم اسے یقین کی آنکھ سے بھی (آخرت میں) دیکھ لو گے

پھر اس کے بعد تم اسے یقین کی آنکھ سے بھی آخرت میں دیکھ لو گے 7 ؎ جیسا کہ قرآن کریم کے بیان سے واضح ہے کہ یقین کے تین مراتب ہیں : (1) علمی دلائل کی وجہ سے یقین کا حاصل ہونا جس کو علم الیقین کا نام دیا گیا (2) یقین کا مشاہدہ سے حاصل ہونا جس کو اس جگہ عین الیقین کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ (3) جس چیز کا یقین حاصل کرنا ہو اس کے اندر داخل ہونا یا ان حالات کا اپنے اوپر وارد ہوجانا جس سے یقین حاصل ہوتا ہے اس کو حق الیقن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اگرچہ اس حق الیقین کا اس جگہ ذکر نہیں کیا گیا لیکن دوسری جگہ اس کا ذکر بھی آئے گا اور یقین کے تینوں مراتب کو سمجھنے کیلئے آگ کی مثال بہت خوب ہے مثلاً کسی دور جگہ پر اگر دھواں اٹھ رہا ہو تو وہ دھواں دلیل ہے اس بات کی کہ وہاں آگ ہے کیونکہ دھواں دیکھنے والے کے علم میں آیا ہے اس لئے اس کا نام علم الیقین ہوگا ۔ پھر انسان اگر اس جگہ پہنچ جائے اور آگ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے تو یہ عین الیقین کہلائے گا ۔ پھر اگر خود اسکے اندر داخل ہوجائے تو وہ حالت جو آگ میں داخل ہونے سے وارد ہوتی ہے وارد ہوجائے تو یہ حق الیقین ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس جگہ بات عین الیقین تک لا کر ختم کردی ہے اور اللہ کرے کہ اس طرح کا حق الیقین پیدا ہونے سے پہلے انسان کو علم الیقین یا زیادہ سے زیادہ عین الیقین سے وہ مطلوب حاصل ہوجائے کہ وہ دوزخ کی آگ سے بچ جائے ورنہ تو ہم تک حق الیقین کی بات پہنچ گئی تو حق الیقین اس کے لیے مفید ثابت نہیں ہوگا ۔ قرآن کریم نے اعمال کی جزا و سزا پر اس قدر دلائل جمع کردیئے ہیں کہ اس کے لیے ( علم الیقین) پیدا کردیا ہے۔ گویا دوزخ کی آگ کا دھواں اس دنیا میں ہی آنکھوں والوں کو دکھائی دینے لگتا ہے تاکہ صاحب عقل و فکر اس آگ سے بچ جائیں ۔ اگر انسان اس ( علم الیقین) سے فائدہ اٹھائے تو اس کو تکاثر ، تکاثر اور تکاثر کی کبھی ضرورت ہی پیش نہ آئے اور وہ لوگ جو اس بیماری میں مبتلا ہیں وہ فی الحقیقت ان کو بیمار سمجھے اور خود اس بیماری سے ہر ممکن دور رہنے کی کوشش کرے اگر ایسا ہو تو انسان کے دنیا کے کام بھی بحمد اللہ چلتے رہیں اور اس کی آخرت بھی برباد نہ ہو لیکن دولت کے خزانے اس کو بالکل میسر نہ آئیں خواہ وہ کوئی ہو ، کہاں ہو اور کیسا ہو ؟ لیکن دنیا کا وقت اس کا بخوبی پاس ہوتا رہے پھر اس کے ساتھ ساتھ اس کی آخرت اس طرح سنور جائے کہ وہ جب اس دنیا کی زندگی کو گزار کر آخرت کی راہ لیتا تو اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس کا استقبال کرتے مگر جو شخص اس ( علم الیقین) سے فائدہ نہیں اٹھاتا اور اس تکاثر اور غفلت میں پڑا ہوا دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے تو پھر لازمی بات ہے کہ وہ آگے چل کر اس جہنم کی اپنی آنکھوں سے دیکھے گا اور اس کی یہ حالت عین الیقین کی حالت ہوگی مگر اس وقت اس کا جہنم کو دیکھنا اس کے لیے کچھ فائدہ نہ دے گا کیونکہ عین الیقین کے بعد تو اعمال کی جوابدہی ہے۔ عمل کرنے کا موقع کوئی نہیں ہے۔ ( علم الیقین) جو قرآن کریم کے ذریعہ تمہیں اس دنیا میں دیا جا رہا ہے یہ اصلاح کے لیے ہے تاکہ انسان اس علم اور یقین سے فائدہ اٹھا کر سنبھل جائے اور اپنی اصلاح کرے لیکن جس نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا اور اس تکاثر اور غفلت میں دنیا سے رخصت ہوگیا تو وہ اس جہنم کو جسے قرآن کریم دنیا میں اسے ( علم الیقین) کے نگ میں دکھا رہا تھا اور انسان نے اس کی پروا نہ کی تھی آگے چل کر ( عین الیقین) کے رنگ میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا لیکن اس وقت کا دیکھنا اور یقین کرنا اس کا کچھ فائدہ نہ دے گا کیونکہ وہ وقت عمل کی اصلاح کا نہیں بلکہ جوابدہی کا ہے جس میں اگر کامیابی نہ ہوئی تو جہنم میں داخلہ یقین الیقین کے مقام پر پہنچا دے گا اور یہ یقین اس کو جلنے سے نہیں بچا سکے گا۔
Ayah 102:8

ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠ Open ayah 102:8 in the Quran reader

پھر (یاد رکھو) تم اس روز (ہر) نعمت کے متعلق سوال کیے جاؤ گے

پھر تم اس روز ہر نعمت کے متعلق سوال کیے جائو گے 8 ؎ فرمایا جا رہا ہے کہ عین الیقین حاصل ہونے کے بعد تم سے ضرور اللہ تعالیٰ اپنے کیے گئے احسانات کے بارے میں پوچھے گا اور یقینا تم سوال کیے جائو گے اس لیے ضروری ہے کہ حق الیقین کے رنگ میں وارد ہونے یعنی اس میں داخل ہونے سے پہلے پہلے ضروری ہے کہ انسان سے ان نعمتوں کی نسبت باز پرس ہو جو اسے دنیا میں اس لیے دی گئی تھیں کہ ان کا صحیح استعمال کر کے ان سے اپنے لیے آنے والے زندگی کے واسطے جنت تیار کرلے اور اس میں وہ تمام قویٰ اور استعدادیں ، اخلاق اور علم عقل اور فراست ، احساسات اور جذبات ، دولت اور حکومت ، ضمیر اور الہامی کتب ہیں جو انسان کی ہدایت ، ترقیات اور کمالات کے لیے اسے دنیا میں عطا ہوئی تھیں اور یہ سب نغمائے الٰہیہ تھیں جن سے اگر اللہ تعالیٰ کی رضا کے ماتحت اگر انسان کام لتا تو یہی نعمتیں اسکے لیے جنت کے درازے تھے جن سے وہ اپنی جنت میں داخل ہوتا ۔ یہی اس کے قویٰ جو غلط استعمال سے جہنم بناتے رہے صحیح استعمال سے جنت بناتے۔ یہی دولت و حکومت جس کے تکاثر سے غفلت کا پردہ ڈالے رکھا اگر اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کمائی اور خرچ کی جاتی تو انسان کو کمالات اور ترقیات ظاہری و باطنی کا وارث بنا دیتی ۔ یہی عقل و فراست جو اپنے غلط استعمال سے نفسانی جذبات کی خاطر مخلوق کو تکلیف اور ذلت کا نشانہ بنانے میں مشغول رہی اگر صحیح راستہ پر پڑتی اور مخلوق کو نفع پہنچانے میں صرف ہوتی تو جنت کے دروازے کھول دیتی ۔ یہی حواس خمسہ جو اپنے غلط استعمال سے جہنم کے انگارے سمیٹتے رہے اگر ان سے اللہ رب کریم کی مرضی کے ماتحت کام لیا جاتا تو جنت کے پھول چنتے۔ غور کرتے جائو تو تمہاری عقل و فکر تمہاری رہنمائی کرتی جائے گی ہم اس وقت جو کچھ کھا رہے ہیں ، پی رہے ہیں ، لباس کے لیے استعمال کر رہے ہیں یہ سب کچھ کیا ہے لاریب یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہی تو ہیں پھر ان کو استعمال کر کے ان سے شاد کام ہو کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کریں تو سراسر ظلم نہیں ۔ بہر حال اس آیت سے تمام انسانوں کو اس بات کی طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو ان پر انعام فرمائے ہیں وہ ان کا شکر ادا کرنے کی کوشش کریں اور اس بات کو کبھی فراموش نہ کریں کہ ان کے با رے میں ان سے باز پرس ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی ہر قسم کی نعمتوں سے بہرہ ور فرمائے اور ہمیں اس کا حق ادا کرنے کی بھی توفیق مرحمت فرمائے تاکہ جب قیامت کے روز باز پرس ہو تو ہمیں ندامت نہ ہو بلکہ ہم کو انکا حق ادا کرنے کے باعث اللہ تعالیٰ اپنی جنت کی نعمت سے نواز دے ۔ بس اسی مضمون پر ہم سورة التکاثر کی تفسیر کو ختم کرتے ہیں۔ اللہ اکبر کبیرا والحمد للہ کثیرا۔