101. Surah Al-Qaari'a

القارعةThe Calamity · 11 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 101:1–3

اَلْقَارِعَةُۙ Open ayah 101:1 in the Quran reader

کھڑکھڑانے والی

مَا الْقَارِعَةُۚ Open ayah 101:2 in the Quran reader

کھڑکھڑانے والی کیا ہے ؟

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ Open ayah 101:3 in the Quran reader

اور تم کیا جانو کہ کھڑکھڑانے والی کیا ہے ؟ (وہ قیامت ہے)

(دل ہلا دینے والی) کڑک، یہ (زہرہ گداز) کڑک کیا ہے ؟ اور آپ کو کیا معلوم کہ یہ کڑک کیا ہے۔ قارعہ سے مراد قیامت ہے ؛ عام مفسرین نے یہی کہا ہے، اس نام کی وجہ یہ ہے کہ کیونکہ یہ مخلوقات کو اپنی ہولناکیوں کے ساتھ کھٹکھٹائے گی، اہل لغت کہتے ہیں : عرب کہتے ہیں قرعتھم القارعۃ وفقرتھم الفاقرۃ یہ جملے اس وقت کہے جاتے ہیں جب ان پر کوئی عظیم مصیبت آپڑے ؛ ابن احمر اور دوسرے شاعر نے یہی معنی لیا ہے : و قارعۃ من الایام لو لا۔۔۔ سبیلھم لزاحت عنک حینا متی تقرع بمردتکم نسوکم۔۔۔ ولم توقد لنا فی القدر نار اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لا یزال الذین کفروا تصیبھم بما صنعوا قارعۃ۔ (الرعد : 31) ما القارعۃ یہ جملہ استفہامیہ ہے یعنی قارعۃ کیا چیز ہے اسی طرح وما ادرک ما القارعۃ۔ جملہ استفہامیہ ہے یہ تعظیم اور عظمت شان بیان کرنے کے لیے ہے، جس طرح ارشاد فرمایا : الحاقۃ۔ ما الحاقۃ۔ وما ادرک ما الحاقۃ۔ (الحاقہ)
Ayah 101:4

یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ Open ayah 101:4 in the Quran reader

جس دن لوگ ایسے ہوں گے جیسے بکھرے ہوئے پتنگے

جس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے۔ یوم یہ ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے تقدیر کلام یوں ہوگی : تکون القارعۃ یوم یکون الناس کالفراش المبثوث۔ قتادہ نے کہا : فراش سے مراد وہ پتنگ ہے جو آگ اور دیئے میں گرتا ہے اس کا واحد فراشہ ہے ؛ یہ ابو عبیدہ کا قول ہے۔ فراء نے کہا : اس سے مراد مچھر وغیرہ ہے اسی معنی میں مکڑی ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے ؛ ھو اطیش من فراشۃ وہ پتنگ سے بھی زیادہ بےعقل ہے۔ ایک شاعر نے کہا : وقد کان اقوام رددت قلوبھم۔۔۔ الیھم وکانوا کالفراش من الجھل وہ ایسے لوگ تھے تو نے جن کے دلوں کو ان کی طرف پھیر دیا جبکہ وہ جہالت کی وجہ سے پتنگوں کی مانند تھے۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر سے روایت مروی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : مثلی و مثلکم کمچل رجل اوقد نارا جفعل الجنادب والفراش یقعن فیھا وھو یذبھن ونا اخذ بحزجکم عن النار وانتم تفلتون من یدی۔ میری اور تمہاری مثال اس آدمی جیسی ہے جو آگ روشن کرے تو ٹڈیاں اور پتنگ اس میں گرنے لگیں جبکہ وہ انہیں روک رہا ہو میں تمہیں کمروں سے پکڑوں کر جہنم میں گرنے سے روک رہا ہو جبکہ تم میرے ہاتھ سے نکلے جارہے ہو۔ اس بات میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ مبثوث کا معنی متفرق ہے ایک اور جگہ فرمایا : کا نھم جراد منتشر۔ (القمر) گویا وہ منتشر مکڑیاں ہیں۔ پہلے ان کی حالت کو فراش سے تشبیہ دی جن کی کوئی سمت نہیں ہوتی جو ہر سمت سرگرداں ہوتے ہیں پھر ٹڈی دل کی طرح ہوجاتے ہیں، کیونکہ ان کی کوئی سمت ہوتی ہے جس کا وہ قصد کر رہا ہوتا ہے۔ مبثوث کا معنی متفرق اور منتشر ہے، یہاں لفظ کا اعتبار کرتے ہوئے لمبثوث مذکر کا صیغہ ذکر کیا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اعجاز نخل منقعر۔ (القمر) اگر المبثوثہ کا لفظ ہوتا تو وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہوتا : اعجاز نخل خاویہ۔ (الحاقہ) حضرت ابن عباس اور فراء نے کہا : کالفراش المبثوث اسی طرح ہے غوغا الجراد ہوتا ہے وہ ایک دوسرے پر سوار ہوتے ہیں یہی حال لوگوں کا ہوگا جب انہیں دوبارہ اٹھایا جائے گا وہ ایک دوسرے میں گردش کر رہے ہوں گے۔
Ayah 101:5

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ Open ayah 101:5 in the Quran reader

اور پہاڑ ایسے ہوجائیں گے جسے دھنکی ہوئی رنگ برنگ کی اون

اور پہاڑ رنگ برنگی دھنکی ہوئی اون کی مانند ہوں گے۔ ایسی اون جسے ہاتھ سے دھنکا جائے، یعنی پہاڑ باریک ذرات ہوجائیں گے اور اپنی جگہ چھوڑ دیں گے، جس طرح اللہ نے ایک اور موقع پر فرمایا : ھباء منبثا۔ (الواقعہ) اہل لغت کہتے ہیں : العھن سے مراد رنگ دار اون ہے۔ سورة سأل سائل میں یہ بات گزر چکی ہے۔
Ayahs 101:6–11

فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗۙ Open ayah 101:6 in the Quran reader

تو جس (کے اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍؕ Open ayah 101:7 in the Quran reader

وہ دل پسند عیش میں ہوگا

وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗۙ Open ayah 101:8 in the Quran reader

اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے

فَاُمُّهٗ هَاوِیَةٌؕ Open ayah 101:9 in the Quran reader

اس کا مرجع ہاویہ ہے

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِیَهْؕ Open ayah 101:10 in the Quran reader

اور تم کیا سمجھے کہ ہاویہ کیا چیز ہے ؟

نَارٌ حَامِیَةٌ۠ Open ayah 101:11 in the Quran reader

(وہ) دہکتی ہوئی آگ ہے

پھر جس کے (نیکیوں کے) پلڑے بھاری ہوں گے تو وہ دل پسند عیش (و مسرت) میں ہوگا اور جس کے (نیکیوں کے) پلڑے ہلکے ہوں گے تو اس کا ٹھکانہ ہاویہ ہوگا اور آپ کو کیا معلوم کہ وہ ہاویہ کیا ہے۔ ایک دہکتی ہوئی آگ۔ میزان کے بارے میں گفتگو سورة اعراف، کہف اور انبیاء میں گزر چکی ہے اس کا پلڑا اور لسان ہوگی جس میں ان صحیفوں کا وزن کیا جائے گا جس میں نیکیاں اور برائیاں لکھی ہوں گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ایک ترازو ہے جو حضرت جبریل کے ہاتھ میں ہوگا وہ انسانوں کے اعمال کا وزن کریں گے۔ اس ایک ترازو کو جمع کے صیغہ کے ساتھ تعبیر کیا اور موازین کہا جس طرح یہ کہا : لکل حادثہ لھا میزان ہر حادثہ کے لیے ایک ترازو ہے، ہم اس سے قبل بحث میں اس کا ذکر کرچکے ہیں ہم نے اس کا ذکر کتاب تذکرہ میں کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : موزین سے مراد حجج اور دلائل ہیں ؛ یہ قول عبدالعزیز بن یحییٰ کا ہے اس نے شاعر کے قول سے استدلال کیا ہے۔ قد کنت قبل لقائکم ذا مرۃ۔۔۔ عندی لکل مخاصم میزانہ۔ میں تمہاری ملاقات سے قبل طاقتور تھا میرے پاس ہر جھگڑا کرنے والے کے لیے دلائل موجود تھے۔ عیشۃ راضیۃ۔ کا معنی ہے ایسی زندگی جو پسندیدہ ہو جس پر زندگی گزارنے والا راضی ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : عیشۃ راضیۃ سے مراد یہ ہے ایسی زندگی جو راضی کرنے والی ہو، اس سے مراد نرم اور اطاعت شعار ہے۔ فعل عیشۃ کی طرف منصوب ہے کیونکہ اس زندگی نے ہی رضا عطا کی ہے، جس کا معنی نرمی اور اطاعت ہے۔ عیشۃ ایسا کلمہ جو جنت میں موجود تمام نعمتوں کو جامع ہے جو خوش اور راضی کرنے والی ہیں، جس طرح الفرش المرفوعۃ ہے ان کی اونچائی ایک سو سال کی مسافت جتنی ہے جب اللہ کا ولی اس کے قریب ہوتا ہے تو وہ پلنگ پست ہوجاتا ہے یہاں تک کہ جنتی اس پر بیٹھ جاتا ہے پھر وہ اپنی اصلی حالت میں بلند ہوجاتا ہے جس طرح درخت کی شاخیں ہیں، اسی طرح ان کی بلندی ہوتی ہے جب اللہ تعالیٰ کا ولی اس کا پھل چاہتا ہے تو وہ شاخیں جھک جاتی ہیں یہاں تک کہ اللہ کا ولی بیٹھے یا کھڑے اس پھل کو لے لیتا ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان : قطوفھا دانیۃ۔ (الحاقۃ) کا یہی معنی ہے۔ جہاں کہیں وہ چلے گا یا وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوگا تو نہر اس کے ساتھ چلے گی جہاں وہ چاہے گا بلندی کی جانب یا پستی کی جانب، اس بارے میں اللہ کا فرمان ہے : یفجرنھا تفجیرا۔ (الانسان) حدیث طیبہ میں ہے ؛ وہ اپنی چھڑی کے ساتھ اشارہ کرے گا تو وہ پانی بغیر کسی نالی کے چلا آئے گا جہاں وہ چاہے گا محلات اور مجالس میں۔ یہ سب اشیا ایسی زندگی ہیں جو اپنی جانب سے خوشنودگی عطا کریں گی۔ یہ رضا کا عمل کرنے والی ہیں۔ یہ خوشدلی سے اطاعت کریں گی۔ ھاویہ۔ سے مراد جہنم ہے اس کو امکا نام دیا کیونکہ وہ اس کی اسی طرح پناہ لے گا جس طرح وہ اپنی ماں کی پناہ لے گا ؛ یہ ابن زید کا قول ہے۔ اسی معنی میں امیہ بن ابی صلت کا قول ہے : فالارض معقلنا و کا نت امنا۔۔ ،۔ فیھا مقابرنا و فیھا نولد زمین میں ہمارے پڑاؤ کی جگہ اور جائے پناہ ہے اس میں ہماری قبریں ہیں اسی میں ہماری پیدائش ہوئی۔ جہنم کو ہاویہ کا نام دیا کیونکہ وہ اس میں گرجا جائے گا جبکہ اس میں بہت زیادہ گہرائی ہے۔ یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ ہاویہ جہنم کے سب سے نچلے دروازے کا نام ہے۔ قتادہ نے کہا : فامہ ھاویہ۔ کا معنی ہے اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ عکرمہ نے کہا : اس کو یہ نام اس لیے دیا کیونکہ وہ اس میں اپنے سر کے بل گرے گا۔ اخفش نے کہا : امہ سے مراد ہے اس کی قرار گاہ۔ معنی قریب قریب ہے۔ شاعر نے کہا : یا عمرو لو نالتک ارماحنا۔۔۔ کنت لمن تھوی بہ الھاویۃ۔ اے عمرو ! اگر ہمارے نیزے تجھ تک جا پہنچیں تو تو اس آدمی کی طرح ہوجائے گا جسے ہاویہ پناہ دیتی ہے۔ یہاں ہاویہ کا معنی مھواۃ ہے۔ تو کہتا ہے : ھوت امہ فھی ھاویۃ یعنی اس پر رو رہی ہے۔ کعب بن اسد غنوی نے کہا : ھوت امہ ما یبعث الصبح غادیا۔۔۔ و ما ذا یودی اللیل حین یئوب مھوی اور مھواۃ دو پہاڑوں کے درمیان کا راستہ ہے اس کی مچل تمہاری القوم فی المھواۃ، جب وہ ایک دوسرے کے پیچھے گر پڑے۔ وما ادراک ماھیہ۔ اصل میں ماھی تھا آخری ھا سکتہ کے لیے داخل ہوئی۔ ، حمزہ، کسائی، یعقوب اور ابن محیصن نے وصل میں ھاء سکتہ کے بغیر پڑھی ہے۔ ماھی اور اس پر وقف کیا ہے اس کی وضاحت سورة الحاقہ میں گزر چکی ہے۔ نار حامیہ۔ سخت گرم، صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا ؛ نارکم ھذہ یقوم ابن آدم جزء من سبعین جزا من حر جھنم، تمہاری یہ آگ جسے انسان جلاتا ہے یہ جہنم کی آگ کا سترھواں حصہ ہے۔ صحابہ نے عرض کی : یا رسرول اللہ یہ تو کافی ہے۔ فرمایا ؛ جہنم کی آگ کو اس دنیا کی آگ پر بہتر گنا فضیلت دی گئی ہے ہر ایک اس کی مثل گرم ہوگی۔ حضرت ابوبکر سے مروی ہے فرمایا : بیشک پلڑا بھاری ہوگا جس کا پلڑا بھاری ہوگا کیونکہ اس میں حق رکھا گیا ہے جس پلڑے میں حق ہو اس کے لیے موزوں ہے کہ وہ بھاری ہو۔ بیشک پلڑا ہلکا ہوگا جس کا پلڑا ہلکا ہوگا کیونکہ اس میں باطل رکھا گیا ہے اور جس پلڑے میں باطل ہو اس کے لیے موزوں ہے کہ وہ ہلکا ہو۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت مروی ہے وہ نبی کریم سے روایت نقل کرتے ہیں کہ مردے اپنے پاس آنے والے ایک آدمی سے اس آدمی کے بارے میں سوال کریں گے جو اس سے قبل فوت ہوچکا ہوگا وہ بتائے گا وہ تو مجھ سے پہلے مرگیا تھا کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا ؟ وہ مردے کہیں گے : اللہ کی قسم ! نہیں، تو وہ کہے گا : انا للہ وانا الیہ راجعون اسے امہ ھاویہ کی طرف لے جایا گیا وہ کتنی ہی بری الام ہے وہ کتنی ہی بری المریہ ہے، ہم نے اس کا مکمل ذکر کتاب التذکرہ میں کیا ہے۔ الحمدللہ