101. Surah Al-Qaari'a

القارعةThe Calamity · 11 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 101:1–5

اَلْقَارِعَةُۙ Open ayah 101:1 in the Quran reader

وہ کھڑکھڑانے والی چیز کیا ہے،

مَا الْقَارِعَةُۚ Open ayah 101:2 in the Quran reader

وہ کھڑکھڑانے والی چیز ؟

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ Open ayah 101:3 in the Quran reader

اور آپ کو کچھ معلوم ہے کیسی کچھ ہے وہ کھڑکھڑانے والی چیز،

یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ Open ayah 101:4 in the Quran reader

جس روز آدمی پریشان پروانوں کی طرح ہوں جائیں گے

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ Open ayah 101:5 in the Quran reader

اور پہاڑ دھنی ہوئی رنگین اون کی طرح ہوجائیں گے،

یہ سورة القارعة کا ترجمہ ہے، القارعیہ قرع یقرع اسم فاعل کا صیغہ ہے جس کا ترجمہ ہے کھڑکھڑانے والی چیز، جب قیامت قائم ہوگی تو لوگ اپنے اپنے مشغولوں میں کاروباری دھندوں میں لگے ہوں گے۔ کوئی سور ہا ہوگا، کوئی جاگ رہا ہوگا وہ بغتة یعنی اچانک آجائے گی۔ ساری زمین میں جو زندہ لوگ ہوں گے اور زمین کے اندر جو مردے ہوں گے سب ہی کو کھڑا کر دے گی، ذہنوں میں اس کی اہمیت بڑھانے کے لیے اول فرمایا : ﴿اَلْقَارِعَةُۙ001﴾ (کھڑکھڑانے والی) اس میں بظاہر خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور حقیقت میں سب انسان اس کی مخاطب ہیں۔ قیامت کی کھڑکھڑاہٹ بیان کرتے ہوئے انسانوں کے اور پہاڑوں کے بعض حالات بیان فرمائے ارشاد فرمایا ﴿ يَوْمَ يَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ004 ﴾ یعنی قیامت کا ایسا ہولناک منظر ہوگا کہ انسان حیرانی اور پریشانی کی وجہ سے ایسے بکھرے ہوئے نظر آئیں گے جیسے پروانے روشنی کے آس پاس منتشر نظر آتے ہیں، ان میں کوئی ٹھہراو اور جماؤ نہیں ہوتا، یہاں سورة القارعہ میں ﴿ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ004 ﴾ اور سورة القمر میں ﴿جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ007﴾ اور پہاڑ جو زمین پر سب سے بڑی اور بوجھل اور بھاری چیز سمجھے جاتے ہیں قیامت کے دن ان کا یہ حال ہوگا کہ وہ اون کی طرح اڑتے ہوئے پھریں گے۔ اور اون بھی وہ جسے کسی دھننے والے نے دھن دیا ہو، جب پہاڑوں کا یہ حال ہوگا تو زمین پر بسنے والی دوسری مخلوق کا کیا حال ہوگا اسی کو سورة الواقعہ میں فرمایا ﴿وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ005 فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ006﴾ (اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے وہ پھیلا ہوا غبار بن جائیں گے) اور سورة التکویر میں فرمایا ہے ﴿وَ اِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ۪ۙ003﴾ (اور جبکہ پہاڑوں کو چلا دیا جائے گا) ۔ لفظ العھن رنگین اون کے لیے بولا جاتا ہے یہ قید احترازی نہیں ہے بلکہ پہاڑوں کے حسب حال یہ لفظ لایا گیا ہے کیونکہ وہ عموماً رنگین ہوتے ہیں اور یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ اون جانوروں کے پشتوں سے کاٹ کر حاصل کیا جاتا ہے اور وہ عموماً کالے یا لال یا کتھئی رنگ کے ہوتے ہیں اس لیے جانب مشبہ بہ کی حالت کے مطابق لفظ العھن (رنگین اون) لایا گیا انسانوں اور پہاڑوں کی حالت بیان کرنے کے بعد (جو قیامت کے دن ہوگی) میدان حشر میں حاضر ہونے والوں کے حساب کتاب اور حساب کتاب کے نتائج کا تذکرہ فرمایا۔
Ayahs 101:6–7

فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗۙ Open ayah 101:6 in the Quran reader

پھر جس شخص کا پلہ بھاری ہوگا

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍؕ Open ayah 101:7 in the Quran reader

وہ خوشی والی زندگی میں ہوگا

ارشاد فرمایا :﴿فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗۙ006 فَهُوَ فِيْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍؕ007﴾ (پھر جس شخص کا پلہ بھاری ہوگا وہ خاطر خواہ آرام میں ہوگا یعنی جنت میں جائے گا) ایسے حضرات کو ایسی زندگی ملے گی جس سے راضی اور خوش ہوں گے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ راضیۃ بمعنی مرضیۃ ہے جیسا کہ ورضواعنہ کی تفسیر میں بیان کیا گیا کہ اہل جنت اپنی نعمتوں سے پوری طرح دل و جان سے راضی ہوں گے اور وہ اپنی زندگی کو بہت ہی عمدہ طیبہ جانتے اور مانتے ہوں گے کسی قسم کی کوئی بھی تکلیف اور ناگواری انہیں محسوس نہ ہوگی اپنے احوال اور نعمتوں میں خوش اور مگن ہوں گے۔
Ayah 101:8

وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗۙ Open ayah 101:8 in the Quran reader

جس شخص کا پلہ ہلکا ہوگا

﴿وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗۙ008 فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌؕ009﴾ (اور جن لوگوں کے وزن ہلکے پڑگئے یعنی برائیاں نیکیوں پر بھاری ہوگئیں ان کا ٹھکانہ ہاویہ ہوگا) ۔ ہاویہ کے بارے میں سوال فرمایا اور فرمایا ﴿ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِيَهْؕ0010﴾ (اور اے مخاطب تجھے کیا معلوم ہے ہاویہ کیا ہے ؟ یہ سوال دوزخ کی عظیم مصیبت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا، پھر خود ہی جواب میں فرمایا ﴿ نَارٌ حَامِيَةٌ (رح) 0011﴾ (کہ یہ وہ آگ ہے خوب گرم تیز) وزن اعمال کے بارے میں سورة الاعراف کی آیت ﴿وَ الْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِ ا۟لْحَقُّ 1ۚ ﴾ کے ذیل میں ہم پوری تفصیل لکھ چکے ہیں (انوار البیان، ج 1) ۔ مختلف علمائے تفسیر کے اقوال بھی وہاں لکھ دیئے ہیں مطالعہ کرلیا جائے۔ سورة ٴ کہف کی آیت ﴿فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا 00105﴾ اور سورة المومنون کی آیت ﴿فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗ﴾ کی بھی مراجعت کرلی جائے۔ سورة القارعہ میں جو وزن اعمال کا ذکر ہے اگر اس سے ایمان اور کفر کا وزن مراد لیا جائے (جیسا کہ بعض مشائخ نے فرمایا ہے) کہ پہلے ایمان اور کفر کو تو لایا جائے گا۔ پھر جب مومن اور کفار کا امتیاز ہوجائے گا تو خاص مومنین کے اعمال کا وزن ہوگا۔ تو اس صورت میں ﴿ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ ﴾ والوں سے اہل ایمان اور ﴿فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ ﴾ والوں سے اہل کفر مراد ہوں گے۔ بظاہر آیت سے یہی متبادر ہوتا ہے یہ ان حضرات کے قول کے مطابق ہے جنہوں نے ﴿ فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا 00105﴾ کا یہ مطلب لیا ہے کہ کفار کے اعمال بالکل تو لے ہی نہ جائیں گے اور اگر اہل ایمان کے اوزان مراد لیے جائیں تو مطلب یہ ہوگا جن مومنین کے اعمال صالحہ بھاری ہوں گے۔ گناہوں کا پلہ ہلکا رہ جائے گا وہ امن اور چین کی زندگی میں ہوں گے اور جن کی نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہوجائے گا (اور برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے مقابلے میں بھاری ہوجائے گا) وہ دوزخ میں جائیں گے۔ پھر اللہ کی مشیت کے مطابق سزا بھگت کر جنت میں چلے جائیں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جس کی نیکیاں غالب ہوں گی وہ جنت میں داخل ہوگا اگرچہ برائیوں کے مقابلہ میں ایک ہی نیکی زیادہ ہو اور جس کی برائیاں زیادہ ہوں گی وہ دوزخ میں جائے گا اگرچہ ایک ہی گناہ زیادہ نکلے اس کے بعد انہوں نے سورة الاعراف کی دونوں آیتیں ﴿فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ 00102﴾ (آخر تک) تلاوت کیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ ترازو ایک حبہ کے برابر بوجھ کے ذریعہ بھی بھاری اور ہلکی ہوجائے گی پھر فرمایا جس کی نیکیاں اور برائیں برابر ہوں وہ اصحاب اعراف میں سے ہوگا ان کو اعراف میں روک دیا جائے گا (پھر یہ اعراف والے بھی بعد میں جنت میں چلے جائیں گے) اور جو لوگ گناہوں کی زیادتی کی وجہ سے دوزخ میں چلے جائیں گے وہ بھی شفاعت سے یا سزا بھگت کر یا محض اللہ کے فضل سے جنت میں داخل کردیئے جائیں گے کیونکہ کوئی مومن ہمیشہ نہ دوزخ میں رہے گا نہ اعراف میں۔ كما ھو المقرر عند اھل السنة والجماعة
Ayah 101:9

فَاُمُّهٗ هَاوِیَةٌؕ Open ayah 101:9 in the Quran reader

اس کا ٹھکانہ ہاویہ ہوگا

اہل دوزخ کے لیے ﴿ فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ ﴾ فرمایا یعنی ان کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا ﴿ام﴾ عربی میں ماں کو کہتے ہیں اس میں یہ بتادیا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ذوق رکھنے والے دنیا میں گناہوں سے ہی چپکے رہتے ہیں جیسے ماں اپنے بچوں سے چمٹی رہتی ہے اسی طرح دوزخ ان سے چمٹ جائے گی لفظ ھاویہ ھویٰ یھوی سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جس کا معنی ہے گہرائی میں گرنے والی چیز دوزخ کی گہرائی میں تو انسان گریں گے لیکن دوزخ کو ہاویہ سے تعبیر فرمایا یہ استعمال مجازی ہے جو ظرف کے معنی میں ہے۔ حضرت عتبہ بن غزوان ؓ نے بیان فرمایا کہ ہمیں یہ بتلایا گیا ہے کہ پتھر کو دوزخ کے منہ سے اندر پھینکا جائے گا تو وہ ستر سال تک گرتا رہے گا پھر بھی اس کی آخری گہرائی کو نہ پہنچے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح 497 از مسلم)
Ayahs 101:10–11

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِیَهْؕ Open ayah 101:10 in the Quran reader

اور آپ کو کچھ معلوم ہے کہ ہاویہ کیا چیز ہے

نَارٌ حَامِیَةٌ۠ Open ayah 101:11 in the Quran reader

وہ ایک دہکتی ہوئی آگ ہے۔

﴿وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِيَهْؕ0010﴾ یہ اسم فاعل کا صیغہ نہیں ہے بلکہ ماھی میں ہائے سکتہ ملحق کردی گئی ہے اور ﴿ نَارٌ حَامِيَةٌ (رح) 0011﴾ جو فرمایا ہے یہ ﴿حمی یحمی﴾ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جو سخت گرمی پر دلالت کرتا ہے۔ ادخلنا اللہ تعالیٰ جنتہ واعاذنا من نارہ