Ayah 101:1’اَلْقَارِعَۃُ‘ میں ایک خاص تنبیہ مضمر ہے: یہ قیامت کے مختلف ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اس کے معنی ہیں ٹھونکنے والی، کھٹکھٹانے والی۔ ’قَرَعَ الْبَابَ‘ کے معنی ہیں اس نے دروازہ کو ٹھونکا یا کھٹکھٹایا؛ اس نام سے قیامت کے اس خاص پہلو کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ جس طرح کوئی رات میں آنے والا دروازے کو ٹھونکتا اور گھر کے تمام سونے والوں کو دفعۃً ہڑبڑا دیتا ہے، وہی حال قیامت کا بھی ہو گا۔ اس کا وقت کسی کو نہیں معلوم کہ کب آ دھمکے۔ اس کا ظہور اچانک ہو گا اور وہ بالکل دفعۃً سارے عالم میں ایک ہلچل برپا کر دے گی۔ اس کے اسی نام کے اندر یہ تنبیہ بھی مضمر ہے کہ جب یہ اس کائنات کی سب سے بڑی ہلچل ہے اور اس کا وقت کسی کو نہیں معلوم ہے تو سلامتی اسی میں ہے کہ اس کا کھٹکا ہر وقت لگا رہے۔
یہ اسلوب بیان جو یہاں اختیار فرمایا گیا ہے ایک الارم کی نوعیت کا ہے تاکہ تمام کان رکھنے والے اس مبتداء کی خبر سننے کے لیے تیار ہو جائیں۔ گویا قیامت جس نوعیت کی ہڑبڑاہٹ اس دنیا میں پیدا کرے گی اسی نوعیت کی ہڑبڑاہٹ یہاں اس کا نام پیدا کر رہا ہے۔ سورۂ حاقہ میں بھی یہی اسلوب کلام اختیار کیا گیا ہے اور اس کی بقدر ضرورت وضاحت ہم کر چکے ہیں۔۱
_____
۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن جلد ہفتم، صفحات: ۵۴۱-۵۴۲۔
Ayah 101:2اس سوال نے اس الارم کی سنگینی میں مزید اضافہ کر دیا کہ جو لوگ اس کو کوئی معمولی بات سمجھ کر اس سے بے پروا ہیں وہ چوکنے ہوں اور کان کھول کر اس کا حال سن لیں اور اس کے لیے جس تیاری کی ضرورت ہے، اس کی فکر کریں۔
Ayah 101:3لوگوں کی غفلت پر سرزنش: اس اسلوب کی وضاحت جگہ جگہ ہو چکی ہے۔ اس میں سوال کے ساتھ ساتھ مخاطب کی غفلت، بلادت اور ناعاقبت بینی پر افسوس اور حسرت کا اظہار بھی ہے کہ تم کیا جانو یا کیا سمجھے کہ وہ اچانک ٹوٹ پڑنے والی آفت کیا ہے اور ان لوگوں پر کیا گزرے گی جو باربار کی تنبیہ و تذکیر کے باوجود اس کا مذاق اڑائے جا رہے ہیں۔
Ayah 101:4اس دن کوئی کسی کا ساتھ نہیں دے گا: اس دن جس صورت حال سے سابقہ پیش آئے گا یہ اس کا بیان ہے کہ اس دن لوگ پراگندہ پتنگوں کے مانند ہوں گے۔ نہ کسی کے ساتھ اس دن اس کا خاندان و قبیلہ ہو گا، نہ کسی کی کوئی جماعت و جمعیت ہو گی اور نہ وہ شرکاء و شفعاء ہی ہوں گے جن کے اعتماد پر لوگ نچنت ہیں۔ بلکہ لوگ قبروں سے متفرق نکلیں گے اور ہر ایک کو سابقہ صرف اپنے اعمال سے پیش آئے گا۔ سورۂ زلزال میں فرمایا ہے:
یَوْمَئِذٍ یَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتًا لِّیُرَوْا أَعْمَالَہُمْ (الزلزال ۹۹: ۶)
’’اس دن لوگ قبروں سے متفرق ہو کر نکلیں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال دکھائے جائیں۔‘‘
سورۂ مومنون میں فرمایا ہے:
فَإِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَا أَنۡسَابَ بَیْنَہُمْ یَوْمَئِذٍ وَلَا یَتَسَآءَ لُوْنَ ۵ فَمَنۡ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۵ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْا أَنفُسَہُمْ فِیْ جَہَنَّمَ خَالِدُوْنَ (المومنون ۲۳: ۱۰۱-۱۰۳)
’’پس جب صور پھونکا جائے گا تو ان کے آپس کے نسبی رشتے اس دن ختم ہو جائیں گے اور وہ ایک دوسرے سے مدد کے طالب نہ ہو سکیں گے۔ پس جن کے نیکیوں کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پانے والے بنیں گے اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے تو وہی لوگ ہوں گے جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا، وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں پڑے۔‘‘
اس دن ہر شخص پر نفسی نفسی کی جو حالت طاری ہو گی اس کی تصویر سورۂ معارج میں یوں کھینچی گئی ہے:
وَلَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًا ۵ یُبَصَّرُوْنَہُمْ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍ بِبَنِیْہِ ۵ وَصَاحِبَتِہٖ وَأَخِیْہِ ۵ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُؤْویْہِ ۵ وَمَنۡ فِی الْأَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنۡجِیْہِ (المعارج ۷۰: ۱۰-۱۴)
’’اور اس دن کوئی دوست اپنے دوست کو نہ پوچھے گا باوجودیکہ وہ ان کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم چاہے گا کہ کاش! وہ اپنے بیٹوں، اپنی بیوی اور اپنے بھائی اور اس خاندان کو، جو اس کو پناہ دیتا رہا ہے، فدیہ میں دے کر اس دن کے عذاب سے اپنے کو چھڑا لے جائے۔‘‘
Ayah 101:5اس دن سارے استحکامات ٹوٹ پھوٹ جائیں گے: یعنی خاندانوں اور قبیلوں کی عصبیتوں کی طرح اس دن قلعوں، گڑھیوں اور عمارتوں کے سارے استحکامات بھی درہم برہم ہو کر رہ جائیں گے۔ اس دن پہاڑوں تک کا یہ حال ہو گا کہ وہ دھنکی ہوئی اون کی مانند ہو جائیں گے۔ یعنی جس طرح دھنکی ہوئی اون کا ریشہ ریشہ الگ ہو جاتا ہے اسی طرح پہاڑوں کا ذرہ ذرہ بھی پراگندہ ہو جائے گا۔
پہاڑوں کا ذکر خاص طور پر اس وجہ سے ہوا کہ قیامت کے منکرین پہاڑوں کو غیر فانی خیال کر کے بطور استہزاء آنحضرت ﷺ سے سوال کرتے تھے کہ کیا جب قیامت آئے گی تو وہ پہاڑوں کو بھی اکھاڑ پھینکے گی؟ ان کے اس سوال کا حوالہ اور اس کا جواب قرآن مجید میں مذکور ہے۔
’عِہْنٌ‘ اس اون کو کہتے ہیں جو دھنک کر اور رنگ کر کاتنے کے لیے تیار کی جا چکی ہو۔ اس طرح کی اون کا ریشہ ریشہ الگ ہوتا ہے اس وجہ سے یہاں اس کی تشبیہ استعمال ہوئی ہے۔ تشبیہ میں اصل مقصود اون کی پراگندگی کو نمایاں کرنا ہے نہ کہ اس کے رنگ کو۔
Ayah 101:6اس دن صرف نیک اعمال کام آئیں گے: اس دن واحد کام آنے والی چیز آدمی کے نیک اعمال ہوں گے۔ ہر شخص کے اعمال تولے جائیں گے۔ جس کی میزان بھاری ہو گی وہ تو فلاح پائے گا اور جس کی میزان ہلکی رہ جائے گی وہ نامراد ہو گا۔ اس دن جو میزان نصب ہو گی وہ خاص میزان ہو گی جو لوگوں کے اعمال ہی کے تولنے کے لیے نصب کی جائے گی۔ سورۂ انبیاء میں اس کا ذکر یوں آیا ہے:
وَنَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ (الانبیاء ۲۱: ۴۷)
’’اور ہم قیامت کے دن کے لیے خاص میزان عدل مقرر کریں گے۔‘‘
اس دن اور اس میزان کا خاص وصف سورۂ اعراف میں یہ بیان ہوا ہے کہ اس دن وزن صرف حق کے اندر ہو گا، باطل کے اندر سرے سے کوئی وزن ہی نہیں ہو گا۔ یہ میزان ہر شخص کے عمل کو تول کر بتا دے گی کہ کس کا عمل حق اور وزن دار ہے اور کس کے اعمال بالکل باطل اور پھوک ہیں۔ فرمایا ہے:
وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ فَأُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۵ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗ فَأُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْا أَنۡفُسَہُمۡ بِمَا کَانُوْا بِآیَاتِنَا یَظْلِمُوْنَ (الاعراف ۷: ۸-۹)
’’اس دن وزن صرف حق کا ہو گا تو جن کے پلڑے بھاری ہوئے وہ تو فلاح پانے والے ہوں گے اور جن کے پلڑے ہلکے رہے وہی ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا بوجہ اس کے کہ وہ ہماری آیات کی ناقدری کر کے اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے۔‘‘
Ayah 101:7’فَہُوَ فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ‘۔ یہاں ’مَنْ‘ کے لحاظ سے ضمیر اگرچہ واحد ہے لیکن اس سے مراد، جیسا کہ اوپر سورۂ اعراف کی آیات میں شہادت موجود ہے، جمع بھی لے سکتے ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ پسندیدہ عیش میں ہوں گے۔ یعنی جو کچھ یہ چاہیں گے وہ بھی انھیں ملے گا اور ان کا رب ان کو وہ کچھ بھی دے گا جس کا وہ تصور بھی نہ کر سکتے ہوں گے۔
Ayahs 101:8–11یہ ان لوگوں کا حشر بیان ہو رہا ہے جن کے پاس صرف باطل ہی باطل ہو گا۔ حق ان کے پاس ہو گا ہی نہیں یا ہو گا تو ان کے عقیدے اور ان کی نیت نے اس کو بھی بالکل بے وزن کر دیا ہو گا۔ فرمایا کہ ان کا ٹھکانا کھڈ ہو گا۔ اس کھڈ کی وضاحت آگے فرما دی کہ ’نَارٌ حَامِیَۃٌ‘ وہ دوزخ کا کھڈ ہو گا جس میں آگ بھڑک رہی ہو گی۔
’اُمٌّ‘ کے معنی ماں کے ہیں لیکن یہاں یہ ملجا اور ٹھکانے کے معنی میں ہے اور نہایت بلاغت کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔
’مَاھِیَہْ‘ میں ’ہ‘ سکتہ کی ہے جو قافیہ کی رعایت سے آئی ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے اس کتاب میں گزر چکی ہیں۔