Ayah 102:1’اِلْھَاءٌ‘ کے معنی غافل اور مبتلائے فریب رکھنے کے ہیں۔
’تَکَاثُرٌ‘ کے معنی ہیں مال و اولاد کی کثرت میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی تگ و دو۔
میعار زندگی اونچا کرنے کا خبط: عرب جاہلیت میں حفاظت و مدافعت کی ذمہ داری چونکہ خاندان اور قبیلہ ہی پر ہوتی تھی اس وجہ سے قبیلہ میں سرداری کا مقام اسی خاندان کو حاصل ہوتا جس کے افراد زیادہ ہوں۔ اس چیز نے قدرتی طور پر ان کے ہاں مال کے تکاثر کے ساتھ ساتھ اولاد کے تکاثر کے جذبہ کو بھی بہت قوی کر دیا تھا۔ چنانچہ ان کے لٹریچر پر جن کی نظر ہے، وہ جانتے ہیں کہ جس طرح وہ اپنے مال کی کثرت پر فخر کرتے اسی طرح بلکہ اس سے کچھ زیادہ ہی اولاد کی کثرت پر بھی فخر کرتے۔ اب موجودہ دور میں اجتماعی زندگی کے بدلے ہوئے نظام اور خاص طور پر خاندانی منصوبہ بندی کے تصور نے اولاد کی کثرت کے رجحان کو دبا کر اس کی جگہ معیار زندگی کے رجحان کو غالب کر دیا ہے۔ اس دور کی عام بیماری یہی ہے۔ مشکل ہی سے اس زمانے میں کوئی شخص اس وبا کے اثر سے محفوظ ملے گا۔ ہر شخص رات دن معیار زندگی اونچا کرنے کی دھن میں ہے اور چونکہ اس کی کوئی حد معین نہیں ہے اس وجہ سے جو اس میدان میں گامزن ہیں ان کو اپنا ہر قدم پہلا قدم معلوم ہوتا ہے، آخری منزل نگاہوں سے اوجھل ہے، کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہے، کب آئے گی اور کبھی آئے گی بھی یا نہیں۔ ظاہر ہے کہ معیار زندگی کی بلندی کا سارا انحصار مال پر ہے تو جب معیار کی کوئی حد معین نہیں ہے تو مال کی حرص میں بھی کسی کمی کا امکان نہیں ہے۔ چنانچہ جس رفتار سے زندگی کا معیار اونچا ہو رہا ہے اس سے زیادہ شدت کے ساتھ مال کی تونس بڑھتی جا رہی ہے۔ یہی چیز ہے جس کو قرآن نے ’تَکَاثُرٌ‘ سے تعبیر کیا ہے اور اس کا اثر یہ بتایا ہے کہ اس نے ہر شخص کو اس طرح اپنے دام فریب میں گرفتار کر لیا ہے کہ اسی میں عمر بیت جاتی ہے اور کسی کو اس سوال پر غور کرنے کی توفیق ہی نہیں ہوتی کہ اس زندگی کے بعد بھی کوئی زندگی ہے یا نہیں اور ہے تو اس کے لیے بھی کچھ کرنا ہے یا نہیں۔
Ayah 102:2یعنی اسی تگ و دو میں زندگی گزرتی ہے یہاں تک کہ عمر تمام ہو جاتی ہے اور قبروں میں جا پہنچتے ہو۔ لفظ ’زُرْتُمْ‘ عربی میں بالکل سادہ معنوں میں آتا ہے۔ اردو کے لفظ ’زیارت‘ کی طرح اس کے اندر کسی شرف و تقدس کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ ’زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ‘ کے معنی بس یہ ہوں گے کہ تم نے قبروں کو دیکھا یعنی ان کے حوالے ہوئے۔ کسی حماسی کا شعر ہے:
اذا زرت ارضًا بعد طول الجتنابھا
فقدت صدیقی والبلاد کما ھیا
(جب میں کسی سرزمین کو، عرصہ تک اس سے جدا رہنے کے بعد، دیکھتا ہوں تو نظر آتا ہے کہ احباب تو میں نے سارے کھو دیے لیکن زمین اسی طرح ہے جس طرح تھی)
سرگشتگان دنیا کی حالت پر اظہار افسوس: اگرچہ عربوں میں یہ روایت بھی رہی ہے کہ اپنے قبیلہ کے نام وروں اور مقتولوں کی قبروں کا شمار رکھتے اور مفاخرت کی مجلسوں میں ان کا ذکر بھی کرتے لیکن یہ چیز یہاں مراد نہیں ہے اور یہ کوئی ایسی بات بھی نہیں ہے کہ اس کا یوں ذکر آئے، البتہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلوب ’حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ‘ کا کیوں اختیار کیا گیا۔ سیدھے لفظوں میں یوں کیوں نہیں کہا گیا کہ ’یہاں تک کہ تمہاری موت آ گئی، یا یہاں تک کہ تم نے جان، جان آفرین کے حوالہ کی‘۔ اس کا جواب ہمارے نزدیک یہ ہے کہ اول تو قافیہ کی رعایت یہ اسلوب اختیار کرنے کی مقتضی ہوئی دوسرے اس سے سرگشتگان دنیا کی محرومی و بے نصیبی پر اظہار افسوس کا مضمون آیت میں پیدا ہو گیا۔ گویا مطلب یہ ہوا کہ اسی تکاثر کی بھاگ دوڑ میں لگے رہے یہاں تک کہ قبروں سے دوچار ہوئے یا قبرستانوں میں جا براجے۔
Ayahs 102:3–4یہ ان غفلت کے ماتوں کو تنبیہ اور نہایت زور دار و مؤثر تنبیہ ہے کہ سب کچھ سمجھا دینے کے بعد بھی اگر تم آنکھیں کھولنے کے لیے تیار نہیں ہو تو سن رکھو کہ زندگی یہی نہیں ہے جو تمہیں نظر آ رہی ہے اور جس کے عشق نے تمہیں فریب میں مبتلا کر رکھا ہے بلکہ اس کا اصل چہرہ تمہاری نظروں سے اوجھل ہے جس کو تم جلد دیکھو گے اور پھر سن لو کہ اس کو تم عنقریب دیکھو گے!!
یہ تاکید در تاکید انداز کو مؤثر بنانے کے لیے بھی ہے اور اس حقیقت کے اظہار کے لیے بھی کہ جس قوم کو اللہ کا رسول انذار کرتا ہے وہ اس کی تکذیب کے نتیجہ میں اس دنیا میں بھی گرفتار عذاب ہوتی ہے اور آخرت میں بھی اس کے آگے وہ سب کچھ آئے گا جس سے رسول نے آگاہ کیا۔ مطلب یہ ہوا کہ اگر تم نے اپنی روش نہ بدلی تو اس دنیا میں بھی دیکھو گے اور آخرت میں بھی دیکھو گے اور اس میں زیادہ دیر نہیں ہے۔ تمہارے لیے عدالت قائم ہو چکی ہے اور فیصلہ ہوا ہی چاہتا ہے۔ لفظ ’تَعْلَمُوْنَ‘ کے ابہام کے اندر جو وعید مضمر ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔
Ayah 102:5غفلت کا اصل سبب: یہ ان غافلوں کی اس غفلت کے اصل سبب سے پردہ اٹھایا ہے کہ تمہاری یہ حالت اس وجہ سے ہے کہ تم کو یہ یقین نہیں آ رہا ہے کہ فی الواقع ایک ایسا دن بھی آنے والا ہے جس دن جہنم کو یقین کی آنکھوں سے دیکھو گے، پھر تم سے ان تمام نعمتوں کی بابت پرسش ہونی ہے جو تمہارے رب نے تم کو بخشیں لیکن تم نے ان کو اس کی مرضی کے خلاف استعمال کیا۔ اگر ان باتوں کا یقین ہوتا تو تم اپنی زندگیاں اس طرح دنیا کے پیچھے نہ گزارتے بلکہ لمحہ لمحہ اس آنے والے دن کی تیاریوں میں صرف کرتے۔
کلام کی تالیف: کلام کی تالیف پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ یہاں ’لَوْ‘ کا جواب محذوف ہے۔ جواب کو محذوف تو سب مانتے ہیں لیکن ’لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَ‘ اور بعد کی آیات کو ’لَوْ‘ کے تحت نہیں مانتے، لیکن میرے نزدیک یہ تینوں آیتیں ’لَوْ‘ کے تحت ہی ہیں۔ یعنی اگر تم یہ یہ باتیں یقین کے ساتھ جانتے ہوتے تو اپنے آپ کو اس طرح نہ کھو بیٹھتے۔
Ayah 102:6’لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَ‘ سے کلام کا پھر آغاز نہیں ہو رہا ہے، جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے خیال کیا ہے، بلکہ یہ ’لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِ‘ کے مفعول کے محل میں ہے یعنی اگر تم یقین کے ساتھ جانتے کہ جہنم کو لازماً دیکھو گے۔ ’لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَ‘ پر ’ل‘ اس یقین کی تعبیر کے لیے ہے جس کا ہونا مطلوب ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ یہ علم یقین جو ان باتوں کو ماننے کے لیے مطلوب ہے اس کے وسائل اللہ تعالیٰ نے آفاق و انفس کے شواہد اور قرآن کی آیات بینات میں رکھ دیے ہیں۔ اس وجہ سے ہر عاقل مکلف ہے کہ ان کو سمجھے اور مانے۔ جو ان سے گریز کرتا ہے، خواہ سمجھنے سے گریز کرتا ہے یا اس کے قبول کرنے سے وہ اپنی بدبختی کا ذمہ دار خود ہے۔ عند اللہ وہ اپنے اس گریز کی سزا بھگتے گا۔
Ayah 102:7اس دنیا میں صرف علم یقین حاصل ہوتا ہے: اس سے یہ بات بھی نکلی کہ ایک عاقل کو اس دنیا میں غیب کے حقائق کا علم یقین تو حاصل ہو سکتا ہے۔ اس لیے کہ علم یقین دلائل سے حاصل ہوتا ہے جو آفاق و انفس اور قرآن میں بیان کر دیے گئے ہیں لیکن عین الیقین کا درجہ اس کو آخرت ہی میں حاصل ہو گا اس لیے کہ اس کا تعلق معائنہ و مشاہدہ سے ہے۔ جن لوگوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ چیز اس دنیا میں بھی حاصل ہوتی ہے ان کا دعویٰ ہمارے نزدیک بے بنیاد ہے۔ اس دنیا میں عین الیقین نہیں حاصل ہوتا بلکہ اس بات کا علم یقین حاصل ہوتا ہے کہ قرآن جو کچھ ہمیں بتا رہا ہے وہ ایک دن ہم آنکھوں سے بھی دیکھیں گے۔ عین الیقین اس دن حاصل ہو گا جس دن تمام حقائق کا آنکھوں سے مشاہدہ کر لیں گے۔
Ayah 102:8نعمتوں کا حق: ’ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ‘۔ یہ بات بھی ’لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِ‘ کے تحت ہی ہے، یعنی اگر تمہیں اس بات کا علم ہوتا کہ اس دن تم سے تمام نعمتوں کی پرسش ہونی ہے۔ پرسش سے مراد، ظاہر ہے کہ، وہ سزا ہے جو ان کی ناشکری، ناقدری اور ان کے سوء استعمال کے نتیجہ میں بھگتنی پڑے گی۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جتنی قوتیں و صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں اور جو وسائل و ذرائع بھی بخشے ہیں وہ سب ’نعیم‘ میں داخل ہیں۔ ان کا فطری حق یہ ہے کہ ان کے لیے خدا کا شکرگزار رہا جائے اور ان کو اس کے مقرر کردہ حدود کے اندر ان کاموں میں استعمال کیا جائے جن کے لیے وہ عطا ہوئے ہیں۔ کوئی نعمت اگر ضائع کی گئی یا وہ خالق کی پسند کے خلاف استعمال ہوئی تو لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی سزا دے۔ انسان کے کان، آنکھ، دل، دماغ اور تمام اعضاء و جوارح نعمت ہیں، اسی طرح اس کو جو ظاہری و باطنی قوتیں اور صلاحیتیں عطا ہوئی ہیں وہ بھی نعمت ہیں، علیٰ ہذا القیاس اس دنیا میں زندگی کے جو اسباب و وسائل اس کو عطا ہوئے ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی نعمت ہیں۔ ان کا فطری حق، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہی ہے کہ انسان ان کو برتے اور اپنے رب کا شکرگزار رہے۔ اس ناشکرگزاری کا بدیہی تقاضا یہ ہے کہ ان کے برتنے میں نہ خدا کے مقرر کیے ہوئے حدود سے تجاوز کرے اور نہ ان میں سے کسی کے عشق میں اس طرح مبتلا ہو جائے کہ اسی کو معبود بنا بیٹھے اور خدا کو بھول جائے۔ جو لوگ اس طرح کے کسی تجاوز میں مبتلا ہوں گے وہ قیامت کے دن لازماً اس کی سزا بھگتیں گے۔
اس سورہ میں چونکہ تکاثر اموال کے فتنہ سے آگاہ فرمایا گیا ہے اس وجہ سے وہ یہاں خاص طور پر پیش نظر رہے۔ ہر صاحب مال سے یہ سوال ہو گا کہ اس نے اپنا مال کن راستوں سے حاصل کیا اور کن کاموں میں صرف کیا۔ جنھوں نے نہ اس کے حاصل کرنے میں حرام و حلال کی پروا کی اور نہ اس کے صرف کرنے میں اصل مالک کی مرضی پیش نظر رکھی بلکہ مال ہی کو انھوں نے معبود بنا لیا اور اسی کے حاصل کرنے میں ساری زندگی کھپا دی ان کو اس انجام سے سابقہ پیش آئے گا جو سورۂ ہمزہ میں بیان ہوا ہے:
وَیْْلٌ لِّکُلِّ ہُمَزَۃٍ لُّمَزَۃٍ ۵ الَّذِیْ جَمَعَ مَالاً وَعَدَّدَہُ ۵ یَحْسَبُ أَنَّ مَالَہٗٓ أَخْلَدَہُ ۵ کَلَّا لَیُنبَذَنَّ فِی الْحُطَمَۃِ ۵ وَمَا أَدْرَاکَ مَا الْحُطَمَۃُ ۵ نَارُ اللہِ الْمُوۡقَدَۃُ ۵ الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَی الْأَفْئِدَۃِ ۵ إِنَّہَا عَلَیْہِم مُّؤْصَدَۃٌ ۵ فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَۃٍ (الہمزہ ۱۰۴: ۱-۹)
’’ہلاکی ہے ہر اس اشارہ باز، عیب جو کے لیے جس نے مال سمیٹا اور اس کو گن گن کر رکھا۔ یہ گمان کرتے ہوئے کہ اس کے مال نے اس کو زندہ جاوید کر دیا۔ ہرگز نہیں وہ چُور چُور کر دینے والی میں پھینکا جائے گا۔ اور کیا سمجھے کہ چُور چُور کر دینے والی کیا ہے! خدا کی بھڑکتی آگ جو دلوں پر چڑھ جائے گی۔ وہ اس میں بند ہوں گے لمبے ستونوں میں جکڑے۔‘‘
آخر میں ’لو‘ کا جواب، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، محذوف ہے۔ شرط کا جواب ان مواقع میں حذف کر دیا جاتا ہے جہاں وہ اظہار کے بغیر واضح ہو۔ اس کی متعدد مثالیں اس کتاب میں گزر چکی ہیں۔ اس حذف سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ ساری بات محذوف مانی جا سکتی ہے جس کے لیے موقع کلام مقتضی ہو۔ اس میں یہ بلاغت بھی ہے کہ مخاطب کو گویا یہ موقع دیا جاتا ہے کہ وہ خود ٹھنڈے دل سے اپنے رویہ کا جائزہ لے اور فیصلہ کرے کہ اگر یہ باتیں صحیح ہیں (اور ان کے صحیح ہونے سے اس کے لیے انکار کی گنجائش نہیں ہے) تو اس کا رویہ کیا ہونا چاہیے اور اس نے اب تک جو زندگی گزاری ہے وہ کتنی غلط، حقائق سے کتنی بعید اور انجام کے اعتبار سے کتنی ناعاقبت اندیشانہ اور لاابالیانہ زندگی گزاری ہے۔ یہاں اس حذف سے یہ سارا مضمون پیدا ہو رہا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اگر تم ان بدیہی حقائق پر سنجیدگی سے غور کرتے تو اپنی قیمتی زندگی یوں برباد نہ کرتے۔ اب بھی اگر بھلائی چاہتے ہو تو عقل سے کام لو اور جس زندگی کے بدلے ابدی بادشاہی حاصل کر سکتے ہو اس کو اس دنیائے فانی کے حقیر خزف ریزوں کو جمع کر نے میں برباد نہ کرو۔