101. Surah Al-Qaari'a

القارعةThe Calamity · 11 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 101:1

اَلْقَارِعَةُۙ Open ayah 101:1 in the Quran reader

وہ (دلوں کو) دہلا دینے والا واقعہ

(1) " القارعہ " سے مقصود و مراد ؟ " سو ارشاد فرمایا گیا وہ دلوں کو ہلا دینے والا واقعہ یعنی جس کی ہولناکی کی وجہ سے دل دہل جائیں گے، دیدے پتھرا جائیں گے اور ہوش اڑ چکے ہوں گے، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ( ایت، الحج 2 پ 17) یعنی " اس روز تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے "۔ لیکن اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہوگا، نیز ایک مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، ابراہیم 43 پ 13) یعنی " اس روز وہ سر اٹھائے ایسے بھاگے جارہے ہوں گے کہ ان کی نگاہیں مڑ بھی نہیں سکیں گے اور ان کے دل ( خوف سے) اڑے جارہے ہوں گے، والعیاذ باللہ جل وعلا۔ واضح رہے کہ قرع کے اصل میں معنی ٹھونکنے کھٹکھٹانے وغیرہ کے ہیں، لیکن اس لفظ کے ان معروف لفظی معنی سے قیامت کی اس ہولناکی کی عکاسی نہیں ہوتی اس لیے ہم نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا تاکہ کسی حد تک اس کی ہولناکی کا تصور سامنے آسکے، اور یقینا قیامت کا وہ انتہائی ہولناک حادثہ ہوگا بھی ایسا کہ اس سے لوگوں کے دل دہل جائیں گے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، النازعات 8 پ 30) یعنی کتنے ہی دل اس روز کانپ رہے ہوں گے اور وہ مارے خوف و دہشت دھک دھک کر رہے ہوں گے، البتہ قرع کے اس لفظ میں ایک اور معنی پایا جاتا ہے کہ قیامت کا وہ ہولناک حادثہ اس طرح اچانک آجائے گا جس طرح کہ کوئی مہمان رات کو اچانک آکر دروازہ کھٹکھٹا تا ہے، سو اسی طرح قیامت کا وہ حادثہ کبری اسی طرح اچانک اور یکایک رونما ہوگا کہ کسی کو اس کا کوئی سامان و گمان بھی نہیں ہوگا، اور امر واقع بھی یہی ہے کہ وہ حادثہ قیامت بالکل اچانک رونما ہوگا، جیسا کہ قرآن و سنت کی مختلف نصوص کریمہ سے اس کو اس طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ہے۔ مثلا ایک مقام پر ارشاد فرمایا اور حصر و قصر کے انداز اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا " لا تاتیکم الا بغتۃ " یعنی وہ حادثہ کبری تم لوگوں پر اچانک آدھمکے گا۔ بہرحال " القارعہ " قیامت کے مختلف ناموں میں سے ایک ہے جس میں اس یوم عظیم کی ہڑا بڑاہٹ اور ہولناک گھبراہٹ کا اظہار ہے۔ سو وہ بڑا ہی ہولناک دن ہوگا، والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و ضلال وسواء و انحراف من کل سواء و شر۔
Ayah 101:2

مَا الْقَارِعَةُۚ Open ayah 101:2 in the Quran reader

کیا ہے وہ دلوں کو دہلا دینے والا واقعہ ؟

(2) حادثہ قیامت کی ہولناکی کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور قیامت کے اس ہولناک حادثے کی ہولناکی کی تصوریر کے طور پر اس کے بارے میں بطور استفہام فرمایا گیا کہ " کیا ہے وہ دلوں کو ہلا دینے والا واقعہ " استفہام یہاں پر تفخیم اور تھویل کے لیے ہے، کہ وہ بڑا ہی ہولناک واقعہ ہوگا۔ والعیاذ باللہ۔ پس جو لوگ اس کو کوئی معمولی بات سمجھ کر اس سے بےفکر و لاپرواہ ہیں، وہ بڑے سخت دھوکے اور خسارے میں ہیں، اس لیے یہاں پر اول تو " القارعہ " کے لفظ سے اس کی سنگینی کو واضح فرمایا گیا اور پھر " ما القارعہ " کے سوال و استفہام سے اس کی سنگینی مزید اضافہ کردیا گیا، تاکہ لوگ چوکنے ہوں اور کان کھول کر اس کا حال سنیں، اور اس کے لیے جس تیاری کی ضرورت ہے اس کے لیے فکر و کوشش کریں قبل اس سے کہ اس کے لیے دی گئی فرصت ان کے ہاتھ سے نکل جائے اور ان کو ہمیشہ ہمیش کے لیے پچھتانا پڑے، مگر وہ پچھتانا بےسود اور لا حاصل ہو، پس اس کے لیے ہمیشہ تیار اور مستعد رہنا چاہیے، کہ وہ پتہ نہیں کب آدھمکے جیسا کہ ابھی اوپر والے حاشیے میں گزرا ہے، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب ملھم الصدق والصواب، جل وعلا۔
Ayah 101:3

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ Open ayah 101:3 in the Quran reader

اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ (دلوں کو) دہلا دینے والا واقعہ ؟

(3) حادثہ قیامت کی ہولناکی کی تاکید مزید کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور قیامت کے اس حادثہ کبری کی ہولناکی مزید کے اظہار کے طور پر بطور استفہام ارشاد فرمایا گیا اور تم کیا جانو کیا ہے وہ " القارعہ " یعنی انسان از خود اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ اس کی کوئی نظیر و مثال نہ کبھی اس دنیا میں پائی گئی اور نہ اس کا یہاں پایا جانا ممکن ہی ہوسکتا ہے، کہ دنیا کے اس تنگ ظرف و محل میں اس کی نہ کوئی گنجائش ہے نہ امکان کہ اس کا کوئی نمونہ اس میں پایا جاس کے، سو اس میں بڑی سخت تنبیہ اور تذکیر ہے اس کا مذاق اڑانے والوں کے لیے، سو کائنات کی اس سب سے بڑی ہلچل کے اس طرح ذکر میں یہ درس عظیم ہے کہ انسان اس کے بارے میں چوکنا رہے اور اس کا کھٹکا اس کو ہر وقت لگا رہے کہ اس کے آنے کا وقت کسی کو معلوم نہیں، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ وھو الھادی الی سواء السبیل، فعلیہ نتوکل و بہ نستعین۔
Ayah 101:4

یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ Open ayah 101:4 in the Quran reader

جس دن ہوجائیں گے لوگ بکھرے ہوئے (پتنگوں اور) پروانوں کی طرح

(4) قیامت کے روز لوگوں کے حال کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس دن لوگ بکھرے ہوئے پتنگوں کی طرح ہوجائیں گے، یعنی کثرت تعداد کی بناء پر اور وہاں کی ہولناکی و نفسا نفسی اور فزع اکبر ( بڑا گھبراہٹ) کی وجہ سے والعیاذ باللہ جل وعلا،۔ سو اس روز نہ کسی کے ساتھ اس کا قبیلہ و خاندان ہوگا، اور نہ کوئی جمعیت اور جماعت اور نہ ان کے ا شرکاء و شفاء میں سے کوئی ہوگا، جن کے سہارے پر آج دنیا کے اسا دار الغرور میں یہ لوگ نچنت اور بےفکر بیٹھے ہیں، بلکہ اس روز یہ سب اپنی قبروں سے متفرق نکلیں گے، ہر ایک یکا و تنہا پیش ہوگا، اور ہر کسی کو خود اپنے ہی اعمال اور کیے کرائے سے سابقہ اور واسطہ پیش آئے گا، نفسی نفسی کا سماح ہوگا اور ہر کسی کو اپنی ہی پڑی ہوگی، کسی دوسرے کا کوئی ہوش نہ ہوگا۔ ( آیت، عبس 37 پ 30) یعنی اس روز ہر کسی کو اپنی ہی ایسی پڑی ہوگی کہ اور کسی کا ہوش اس کو بھی نہیں رہے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیغ و ضلال جل وعلا،
Ayahs 101:5–6

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ Open ayah 101:5 in the Quran reader

اور ہوجائیں گے (یہ دیوہیکل و فلک بوس) پہاڑ رنگ برنگی دھنکی ہوئی اون (کے گالوں) کی طرح

فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗۙ Open ayah 101:6 in the Quran reader

پھر جس کے (نیک اعمال کے) پلڑے بھاری ہوں گے

(5) قیامت کے روز پہاڑوں کے حال کو ذکرو بیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس روز اکھڑ جائیں گے یہ دیوہیکل اور فلک بوس پہاڑ اپنی اپنی جگہوں سے جو آج اس قدر پختگی اور مضبوطی سے زمین میں گڑھے ہوئے ہیں، اور انہوں نے عظیم الشان میخیں بن کر زمین کے اس عظیم الشان کرے کو قابو کر رکھا ہے، یہ اس روز روئی کے بےوزن گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے، سو اس دن خاندانوں اور قبیلوں کی عصبیتوں کی طرح یہ دیوہیکل اور فلک بوس پہاڑ بھی اکھڑ جائیں گے، جن کو منکر لوگ غیر فانی اور اٹل سمجھ کر آج پیغمبر سے استہزاء کے طور پر سوال کرتے ہیں کہ قیامت کے روز ان کا کیا بنے گا ؟ اور جب پہاڑوں کا حال یہ ہوگا تو پھر لوگوں کی اپنی بنائی ہوئی بلڈنگوں، عمارتوں، قلعوں اور گڑھیوں کی حقیقت اور حیثیت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ سو یہ سب کچھ اس روز ملیا میٹ اور نیست و نابود ہوجائے گا، ( آیت، انفطار 19 پ 30) یعنی معاملہ اس روز سب کا سب اللہ ہی کے لیے اور اس کے اختیار میں ہوگا، سبحانہ وتعالی سو اس روز پہاڑو روئی کی گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ اس روز رنگ برنگ دھنکی ہوئی اون کی طرح ہوجائیں گے۔ اور رنگ برنگ اون سے ان کی یہ تشبیہ بھی اس لیے دی گئی ہے کہ پہاڑوں کے رنگ مختلف ہیں، جیسا کہ سورة فاطر میں ارشاد فرمایا گیا ( آیت، فاطر 27 پ 22) عھن اصل میں اس اون کو کہا جاتا ہے جس کو دھنک کر رنگ کر کے کا تنے کے لیے تیار کیا جا چکا ہو، اس طرح اون کا ریشہ ریشہ الگ ہوجاتا ہے، سو اس تشبیہ سے ان رنگ برنگے پہاڑوں کی پراگندگی کو نمایاں کیا گیا ہے، یہاں تک قیامت کے پہلے مرحلے کا بیان ہوگیا، اب آگے اس کے بعد دوسرے مرحلے کا ذکر آتا ہے، جب ایک نیا جہاں نئے قوانین و نوامیس کے تحت وجود میں آئے گا۔ والحمدللہ جل وعلا بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب۔
Ayah 101:7

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍؕ Open ayah 101:7 in the Quran reader

وہ ایک عظیم الشان پسندیدہ گزران میں ہوگا

( 6) کامیاب لوگوں اور ان کے عظیم الشان انعام کا ذکرو بیان : سو اس سے فائز المرام خوش نصیبوں کی نشاندہی بھی فرما دی گئی کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیوں کے پلڑے بھاری ہوں گے، اور ان کے لیے پسندیدہ گزران کے مژدہ جانفزا اور عظیم الشان انعام کا ذکر فرمایا گیا کہ ان کو پسندیدہ گزران سے سرفرازی نصیب ہوگی۔ جس سے یہ ہر طرح سے راضی اور خوش ہوں گے، کیونکہ یہ ایک ایسا عظیم الشان عطیہ اور احسان ہوگا کہ جس کی کوئی نظیر و مثال اس نے نہ کبھی دیکھی ہوگی نہ تصور ہی کیا ہوگا، اور وہاں پر جنتیوں کے لیے وہ کچھ ہوگا جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہوگا اور نہ کسی آنکھ نے سنا ہوگا، اور نہ کسی دل پر سا کا کبھی گزر ہی ہوا ہوگا، اللہ نصیب فرمائے، اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے، آمین۔ ان کو وہاں پر وہ کچھ ملے گا جو یہ چاہیں گے اور جس کی یہ خواہش کریں گے، اور ان کا رب ان کو وہ اس کے علاوہ بھی اپنے کرم سے وہ کچھ عطا فرمائے گا جس کا یہ تصور بھی نہیں کرسکیں گے، اللہ نصیب فرمائے۔ اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین واکرم الاکرمین۔
Ayah 101:8

وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗۙ Open ayah 101:8 in the Quran reader

اور جس کے (نیک اعمال) کے پلڑے ہلکے ہوں گے

(7) ناکام و نامراد لوگوں کا ذکرو بیان : سو یہ وہ بدبخت لوگ ہیں جن کے نیکیوں کے پلڑے ہلکے ہوں گے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جس کے ترازو ہلکے ہوں گے، یعنی ایمان و اخلاص کے فقدان اور نقصان کی بناء پر، والعیاذ باللہ العظیم، سو اس سے ان لوگوں کا حال اور ان کا انجام بیان فرما دیا گیا جن کے پاس صرف باطل ہی باطل ہوگا، حق ان کے پاس ہوگا ہی نہیں، یا اگر کچھ ہوگا بھی تو ان کی نیتوں کی خرابی نے ان کو بھی برباد اور بالکل بےوزن کردیا ہوگا، والعیاذ باللہ۔ بہرکیف کامیاب اور فائز المرام لوگوں کے انجام کے ذکر وبیان کے بعد اس سے ناکام و نامراد لوگوں کا ذکرو فرمایا گیا ہے، اور اس سے یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ اس دن کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار انسان کے اپنے ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار پر ہوگا، اور بس۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید۔
Ayahs 101:9–10

فَاُمُّهٗ هَاوِیَةٌؕ Open ayah 101:9 in the Quran reader

تو اس کا ٹھکانہ ہاویہ ہوگا

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِیَهْؕ Open ayah 101:10 in the Quran reader

اور تم کیا جانو کہ کیا چیز ہے وہ (ہاویہ) ؟

(8) ناکام لوگوں کے ہولناک انجام کا ذکرو بیان : سو ناکام لوگوں کے انجام کے بارے میں ذکر فرمایا گیا کہ ایسوں کی ماں دوزخ ہوگی، والعیاذ باللہ۔ دوزخ کے اس ٹھکانے کو ام ( ماں) کے لفظ سے تعبیر کرنے میں یہ بلاغت و استعارہ ہے کہ جس طرح ایک بچے کو اپنی ماں کی گود میں ہی پناہ ملتی ہے، اسی طرح ان دوزخیوں کو دوزخ کے اس ہولناک گڑھے کے سوا اور کہیں پناہ نہیں ملے گی، اور اس کے سوا کوئی اور جگہ ان کو میسر نہیں آئے گی، والعیاذ باللہ العزیز الرحمن۔ بہرکیف ایسے بدبختوں کا ماوی وملجا اور دائمی ٹھکانہ دوزخ ہوگا جس سے نہ یہ کبھی چھٹکارا پاس کیں گے، اور نہ ان کی وہ ماں ان کو کبھی چھوڑے گی۔ پس یہ کبھی چھٹکارا نہیں پاس کیں گے، بلکہ ان کو اپنے کفر و انکار کی پاداش میں ہمیشہ اسی میں رہنا ہوگا، والعیاذ باللہ۔ واضح رہے کہ " ھاویہ ھوی یھوی " سے ماخوذ ہے، جس کے معنی اوپر سے گرنے کے ہیں، اور دوزخ کا وہ گڑھا ( ھاویہ) اتنا بڑا اور اس قدر ہولناک ہوگا کہ اس دنیا میں اس کا تصور بھی کسی کے لیے ممکن نہیں، اور قرآن و سنت کی مختلف نصوص کریمہ میں اس کو طرح طرح سے واضح فرمایا گیا، مثلا ایک حدیث میں اس کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اتنا بڑا ہوگا کہ اگر ایک پتھر کو اس کے کنارے سے چھوڑا جائے تو وہ ستر برس تک لگاتار نیچے گرتا جائے گا، تب کہیں جاکر اس کی تہہ تک پہنچ سکے گا، جس کو اتنے دور اور اتنے اوپر سے نیچے پھینکا جائے گا اس کا جو کچھ حال اور اس انجام وہ احاطہ زبان وبیان سے باہر ہے، سو جس کافر و بےایمان کا انجام یہ ہونے والا ہو اس کو اگر دنیا کی اس چند روزہ زندگی میں دنیا بھر کی سب دولت مل بھی جائے تو بھی اس کو کیا ملا، کہ اس کے مال کا انجام اسقدر ہولناک ہوگا، والعیاذ باللہ۔ اس کے برعکس جو خوش نصیب اپنے ایمان و عمل کی بناء پر اپنے خالق ومالک کے فضل و کرم سے اس ہولناک انجام سے بچا لیا گیا، اور اس کو جنت سے سرفرازی نصیب ہوگئی وہ کتنا خوش نصیب انسان ہے اگرچہ اس کو دنیا میں نان جویں بھی میسر نہ آتی ہو، سو اصل دولت ایمان و یقین کی دولت ہے، اور اصل اور حقیقی کامیابی آخرت ہی کی کامیابی ہے، سو شکر و احسان اس خالق ومالک کا ہے جس نے ہمیں محض اپنے فضل و کرم سے ایمان و یقین کی اس دولت سے نوازا، اور محض اپنے فضل و کرم سے نوازا، فلہ الحمد ولہ الشکر علی ما کرمنا وشرفنا بنعمۃ الایمان اللھم فزدنا منہ وثبتنا علیہ بکل حال من الاحوا، یا من بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ سبحانہ و تعالیٰ
Ayah 101:11

نَارٌ حَامِیَةٌ۠ Open ayah 101:11 in the Quran reader

وہ ایک بڑی ہی ہولناک دہکتی (بھڑکتی) آگ ہوگی

(9) ھاویہ جہنم کی ہولناکی کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور " ھاویہ " جہنم کی ہولناکی کے ذکرو بیان کے سلسلے میں بطور استفہام ارشاد فرمایا گیا کہ تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ ھاویہ ؟ یہ استفہام تہویل و تخویف کے لیے ہے یعنی وہ اس قدر ہولناک گڑھا ہوگا کہ کوئی اس کا تصور بھی نہیں کرستا، اور اس کی اس شدت اور ہولناکی کا کچھ اندازہ ان نصوص قرآن و سنت سے ہوسکتا ہے جو اس بارے میں وارد و منقول ہیں۔ مثلا ایک حدیث میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ آگ دنیاوی آگ سے ستر گنا زیادہ سخت ہوگی، اور مسند احمد کی ایک روایت کے مطابق سو گنا زیادہ سخت ہوگی ( ابن جریر، ابن کثیر وغیرہ) عرض کیا گیا کہ حضرت ہمیں تو یہی دنیاوی آگ ہی کافی تھی، تو ارشاد فرمایا کہ اس کے باوجود اس کو اس پر ستر درجے بڑھا دیا گیا ہوگا اور ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا گیا کہ دوزخ کی اس آگ کو ایک ہزار برس تک دہکایا بھڑکایا گیا، یہاں تک کہ وہ سرخ ہوگئی، پھر ایک ہزار برس تک اس کو دہکایا بھڑکایا گیا یہاں تک کہ وہ سفید ہوگئی، پھر اس کو ایک ہزار برس تک دہکایا بھڑکایا گیا یہاں تک کہ وہ سیاہ ہوگئی۔ " فھی سوداء مظلمۃ لا یطفھا لھیبھا " سو اب وہ بالکل سیاہ اور ایسی کہ اس کی گرمی اور لپٹ بھی کم نہیں ہوگی، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور حال میں اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین۔ بہرکیف یہاں پر " ھاویہ " کی تفسیر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ایک بڑی ہی ہولناک دہکتی بھڑکتی آگ ہوگی، یعنی صرف یہی نہیں کہ دوزخ کا وہ گڑھا ایک نہایت ہی گہرا اور ہولناک گڑھا ہوگا اور بس، نہیں بلکہ اس پر مستزاد یہ بھی ہوگا اس میں بھڑی دہکتی ایک نہایت ہی ہولناک قسم کی آگ بھی ہوگی جو اس میں گرتے ہی انسان کو ریزہ ریزہ اور چورا چورا کردے گی، جیسا کہ دوسرے مقام پر اس ہولناک آگ کی صفت " الحطمہ " بتائی گئی ہے، جس کے معنی ہیں " ریزہ ریزہ کردینے والی " اور حدیث میں فرمایا گیا کہ تمہاری یہ دنیاوی آگ دوزخ کی اس آگ کا سترہواں حصہ ہے، اور اس کے باوجود اس کو دو مرتبہ سمندر میں دھویا گیا ہے، اور اگر یہ بات نہ ہوتی تو اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکتا، نیز حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ دوزخ کی آگ کو ایک ہزار برس تک دہکایا گیا یہاں تک کہ وہ سیاہ ہوگئی، پھر اس کو ایک ہزار برس تک دہکایا گیا یہاں تک کہ وہ سفید ہوگئی، پھر اس کو ایک ہزار برس تک دہکایا گیا یہاں تک کہ وہ سیاہ ہوگئی، سو اب وہ ایسی سیاہ اور اندھیری آگ ہے جو کبھی بجھے گی نہیں، اور اس کی لپٹ کبھی بھی کم نہیں ہوگی، والعیاذ باللہ العظیم۔ پس جو آج حیات کی اس فرصت محدود میں اس سے بچنے کا سامان نہیں کرے گا وہ بڑے ہی سخت خسارے میں ہوگا، والعیاذ باللہ العظیم، اور اتنے ہولناک خسارے میں کہ اس کا یہاں اس دنیا میں رہتے ہوئے کہ اس کا تصور اور احاطہ بیان بھی کسی کے لیے ممکن نہیں ہے، اور یہ خسارہ ایسا ہولناک خسارہ ہوگا کہ پھر اس کی تلافی وتدارک کی بھی کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی، والعیاذ باللہ الذی لا الہ الا ھو جل جلالہ، وعم نوالہ، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، وفی کل ان وحین جل وعلا۔