101. Surah Al-Qaari'a

القارعةThe Calamity · 11 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 101:1–3

اَلْقَارِعَةُۙ Open ayah 101:1 in the Quran reader

عظیم حادثہ !

مَا الْقَارِعَةُۚ Open ayah 101:2 in the Quran reader

کیا ہے وہ عظیم حادثہ ؟

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ Open ayah 101:3 in the Quran reader

تم کیا جانو کہ وہ عظیم حادثہ کیا ہے

بات کا آغاز ایک منفرد لفظ سے ہوتا ہے القارعہ۔ گویا یہ ایک گولہ ہے جو آکر گرتا ہے اس کی کوئی صفت یا کوئی خبر سیاق کلام میں نہیں ہے۔ یہ اس لئے تاکہ یہ لفظ اپنی آواز ، اپنے اثر اور اپنی شدت سے فضا میں ایک گونج پیدا کردے ، جس کا ایک طویل اشارہ ہے۔ اس کے فوراً بعد پھر ایک سوال آتا ہے : ما القارعة (2:101) ” کیا ہے وہ کھٹکھٹانے والی ؟ “ گویا وہ ایک نامعلوم ، پوشیدہ اور خوفناک بات ہے جو کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اس کے بعد پھر ایک سوال کے ذریعہ پہلے سوال کا جواب دیا جاتا ہے کہ تم نہیں جانتے کہ وہ کیا ہے ؟ وما ادرک ................ القارعة (3:101) ” تم کیا جانو کہ وہ عظیم حادثہ کیا ہے ؟ “ یہ اس قدر عظیم حادثہ ہوگا کہ تمہارے قیاس وادراک کے دائرہ سے باہر ہے۔ تمہارا تصور اسے نہیں چھوسکتا۔ اب اس عظیم حادثہ کے کچھ واقعات بتاکر اس کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے۔ اس کی تعریف اور حقیقت بیان نہیں کی جاتی۔ کیونکہ اس کی حقیقت کا ادراک ممکن ہی نہیں ہے جیسا کہ پہلے کہہ دیا گیا اور واقعات یہ ہیں :
Ayahs 101:4–5

یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ Open ayah 101:4 in the Quran reader

” وہ دن جب لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ Open ayah 101:5 in the Quran reader

اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون کی طرح ہوں گے “۔

یہ تو تھا اس کھٹکھٹانے والی اور عظیم حادثے کا پہلا منظر۔ اس کو دیکھتے ہی دل ٹکڑے ٹکڑے ہوکر اڑنے لگتا ہے۔ انسان پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے اور وہ یوں محسوس کرنے لگتا ہے کہ اس دنیا کی ہر وہ چیز جس کا سہارا وہ لے سکتا تھا ، اڑی اڑی سی جارہی ہے۔ وہ ہوا میں اس طرح اڑتی ہے جس طرح ذرے اڑ رہے ہوتے ہیں اور اچانک آخری اور مکمل خاتمہ سامنے آجاتا ہے۔
Ayah 101:6

فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗۙ Open ayah 101:6 in the Quran reader

پھر جس کے پلڑے بھاری ہوں گے ،

ترازو کے پلڑوں کے بھاری ہونے اور خفیف ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ پیمانے جن کا اللہ کے ہاں اعتبار ہے اور وہ پیمانے جن کا اللہ کے ہاں کوئی وزن نہیں ہے ، یہی بات قرآن کریم کے مجموعی انداز بیان سے معلوم ہوتی ہے۔ واللہ اعلم ! رہے وہ عقلی اور لفظی مباحث جو ان امور کے بارے میں مفسرین ومتکلمین کرتے ہی۔ یہ قرآن کریم کے ساتھ ناانصافی ہے۔ یہ مباحث وہی لوگ کرتے ہیں جو قرآن کریم کی حقیقی ترجیحات اور اہتمامات سے واقف نہیں ہوتے۔ فاما من ................ موازینہ (6:101) ” پھر جس کی قدریں اہم ہوں گی “ اور اللہ کے ہاں وہ درست ہوں گی۔
Ayah 101:7

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍؕ Open ayah 101:7 in the Quran reader

وہ دل پسند عیش میں ہوگا ،

فھو فی .................... راضیة (7:101) ” وہ دل پسند عیش میں ہوگا “ اور عیش کی تفصیلات مجمل چھوڑ دی گئی ہیں۔ یعنی ایسا عیش ہوگا جس پر وہ راضی ہوگا ، بہترین نعمت یہ ہے کہ کسی حالت پر انسان راضی ہو۔
Ayah 101:8

وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗۙ Open ayah 101:8 in the Quran reader

اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے

فامامن ................ موازینہ (8:101) ” جس کے پیمانے ہلکے ہوئے “۔ اللہ کے اعتبار اور معیار کے مطابق۔
Ayah 101:9

فَاُمُّهٗ هَاوِیَةٌؕ Open ayah 101:9 in the Quran reader

اس کی جائے قرار گہری کھائی ہوگی

فامہ ھاویة (9:101) ” تو اس کی ماں گہرائی کھائی ہے “۔ ماں دراصل بچے کی جائے پناہ ہوتی ہے ، تو ایسے لوگوں کی جائے پناہ جہنم کی گہری کھائی ہوگی اس لئے یہ ان کی ماں ہوئی۔ کیا ہی خوب انداز تعبیر ہے جو موقع ومقام کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے۔ یہاں عذاب کو مجمل رکھا گیا ہے تاکہ آیت مابعد میں اس کی وضاحت ایسے انداز میں کی جائے جو بہت ہی موثر ہو۔
Ayah 101:10

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِیَهْؕ Open ayah 101:10 in the Quran reader

اور تمہیں کیا خبر کہ وہ کیا چیز ہے ؟

وما ادرک ماھیہ (10:101) ” اور آپ کو کیا خبر کہ وہ کیا چیز ہے “۔ یہ قرآن کریم کا معروف انداز بیان ہے کہ کسی چیز کو ہولناک بنانے کے لئے یہ کہ دینا کہ تمہیں کیا معلوم کہ وہ کیا ہے ؟ اور پھر اس کے بعد ایک جواب آتا ہے اور یہ آخری نچ ہوتا ہے۔
Ayah 101:11

نَارٌ حَامِیَةٌ۠ Open ayah 101:11 in the Quran reader

بھڑکتی ہوئی آگ “۔

نارحامیة (11:101) ” یہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے “۔ اور جن لوگوں کے پیمانے ہلکے اور ناقابل اعتبار ہوئے ، یہ گرم آگ ان کی ماں ہوگی ۔ اس ماں کی جھولی میں وہ آرام کریں گے اور وہاں آرام و راحت پائیں گے یا تم سمجھ گئے کہ اس ماں کے ہاں وہ کیا آرام پائیں گے جو گہری کھائی ہے اور جس کے اندر گرم آگ ہے۔ یہ اچانک طنزیہ انداز اس قدری حقیقی ہے اور اس قدر تلخ ہے جس کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔