Ayahs 102:1–2اے حالت مدہوشی میں سرپٹ دوڑنے والو ، اے لاپرواہی کی حالت میں مال اور اولاد کی کثرت اور دنیا کے سازو سامان کی بہتات کے لئے جدوجہد کرنے والو ، تم تو ان سب چیزوں کو اسی جہاں میں چھوڑ کر جانے والے ہو ، اے دنیا کی مشغولیتوں میں دھوکہ کھانے والو ، اے مال واولاد کو چھوڑ کر جانے والو ، ایک ایسے چھوٹے سے گڑھے ، قبر میں جانے والو ، قبر میں تو نہ مال ہوگا ، نہ اولاد ہوگی اور نہ وہاں کوئی فخر ہوگا اور اظہار برتری ہوگا ، جاگو ، اور دیکھو ، غورکرو۔
الھکم .................... المقابر (2:102) ” تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی دھن نے غفلت میں ڈال رکھا ہے یہاں تک کہ (اسی فکر میں) تم لب گور تک پہنچ جاتے ہو “۔ لیکن قبر کی سیر کے بعد وہاں تمہارے لئے ایک خوفناک منظر ہے ، نہایت سخت اور زور دار انداز میں ان کے دلوں کو یوں کھڑکھڑایا جاتا ہے۔
Ayahs 102:3–5ان خوفناک الفاظ کو مکرر کہا جاتا ہے اور اس تکرار کے بعد جو بھاری بات آتی ہے اس کی وجہ سے یہ تاکید نہایت گہری اور خوفناک ہوجاتی ہے اور یہ لوگ اس ہولناک امر کی حقیقت کو نہیں جانتے کیونکہ یہ مدہوشی میں ہیں اور رات دن دولت جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
Ayah 102:6اب اس خوفناک حقیقت کو بیان کیا جاتا ہے۔
اس کے بعد اس حقیقت کی تاکید کی جاتی تاکہ دلوں پر اس کا خوف طاری ہو۔
Ayah 102:7اور اب آخری ضرب ایسی سخت لگائی جاتی ہے کہ ایک غافل سے غافل انسان بھی بیدار ہوکر رہ جاتا ہے ، چوکنا ہوجاتا ہے اور جو منہ کے رخ سرپٹ دوڑرہا ہے وہ بھی ذرا رک کر اس طرف متوجہ کرتا ہے اور بڑے سے بڑے مالدار کا عیش بھی مکدر ہوجاتا ہے ، وہ کانپنے لگتا ہے اور اس کے دل پر ان نعمتوں کے حوالے سے خوف طاری ہوجاتا ہے۔
Ayah 102:8تم سے پوچھا جائے گا کہ یہ نعمتیں تم نے کہاں سے حاصل کیں۔ کہاں ان کو خرچ کیا۔ کیا اللہ کی اطاعت کرکے حاصل کیا اور اللہ کی اطاعت میں خرچ کیا یا اللہ کی معصیت کرکے حاصل کیا اور معصیت میں خرچ کیا۔ حلال راستہ سے کمایا اور حلال راہ میں خرچ کیا یا حرام راستہ سے کمایا اور حرام میں خرچ کیا۔ کیا تم نے ان نعمتوں کا شکر ادا کیا ؟ کیا ان کا حق ادا کیا۔ کیا اس میں دوسروں کو شر کی کیا یا خود ہی استعمال کرتے رہے۔
یہ سوالات لازماً تم سے ہوں گے کہ یہ دولت کس طرح اکھٹی کی اور کس طرح تم نے اس پر تفاخر کیا۔ یہ دولت اور یہ انعامات تمہیں اپنی مدہوشی اور غفلت کی وجہ سے ہلکی نظر آتی ہیں۔ اور کھیل نظر آتی ہیں لیکن ان کے پیچھے تو ایک بھاری ذمہ داری ہے اور ایک سخت جوابدہی ہے۔
یہ سورت نہایت ہی مختصر سورت اپنی تفسیر آپ ہے۔ یہ انسانی احساس پر چھاجاتی ہے ، اسے اپنی گرفت میں لے لیتی ہے اور انسانی قلب ونظر اس کی گرفت میں بوجھل نظر آتے ہیں۔ انسان یکدم دنیا کی حقیقت پاکر ، اس کی حقیر لذتوں اور کم قیمت ترجیحات کو چھوڑ کر فکر آخرت میں مشغول ہوجاتا ہے جبکہ عام لوگ جن کے دل ان حقائق اور اثرات سے فارغ ہوتے ہیں وہ ان حقیر چیزوں کے لئے مرمٹ رہے ہوتے ہیں۔
یہ سورت اس دنیا کو اس طرح پیش کرتی ہے جس طرح ایک طویل فلم میں ایک سیکنڈ کی ایک جھلک۔
الھکم ................ المقابر (2:102) ” تم کو تکاثر کی دھن نے قبرستان پہنچایا “۔ ان چند الفاظ میں پوری دنیاوی زندگی کی جھلک دکھا کر اسے لپیٹ لیا جاتا ہے۔ پھر دائمی اور حیات جاوداں کی فلم چلتی ہے۔ طویل زمانے میں اور مجرمین ابدالا باد تک بوجھ اٹھاتے پھریں گے۔ یہ تصور نہایت ہی خوبصورت انداز تعبیر میں دیا جاتا ہے اور اصل حقیقت اور انداز بیان یکساں ہوجاتے ہیں۔
ایک عظیم خوفناک اور گہرے معانی رکھنے والی سورت جو شخص بھی سمجھ کر پڑے گا ، جس کے اثرات زمین سے طوفان کی شکل میں اٹھ کر فضاﺅں میں جاکر دور بلند مطالع پر نمودار ہوتے ہیں ، جس کے معانی نہایت ٹھوس ہیں اور دل و دماغ کے سمندر میں نہایت ہی گہرائیوں میں جاکر قرارپکڑتے ہیں تو اس کا دل بوجھل ہوجاتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کرہ ارض پر زندگی کی ایک جھلک اور چمک ، اپنے نتائج واثرات کے لحاظ سے کس قدر طویل ہے۔ تو ہر باشعور شخص اخروی زندگی کی طویل تیاری کی راہ پر چل نکلتا ہے۔ اور اس راہ میں پھر وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کے حوالے سے بھی حساس ہوجاتا ہے۔