Ayah 101:1القارعۃ . القارعۃ کی تفسیر الحاقۃ میں گزر چکی ہے۔ اس میں تاء یا تانیث کی ہے اور موصوف محذ وف ہے
یعنی کھٹ کھٹانے والی ساعت یا مبالغہ کی ہے۔
Ayah 101:3وما ادراک ما القارعۃ
Ayah 101:4یوم یکون الناس . یوم ظرف منصوب ہے ‘ اس کا فعل
محذوف مضمر ہے جس پر القارعۃ کا لفظ دلالت کر رہا ہے۔ یعنی وہ ساعت اس روز کھٹ کھٹائے گی جب لوگ اس طرح ہوں گے یا لفظ یوم کا نصب اس وجہ سے ہے کہ اس جگہ جملہ کی طرف مضاف ہے ‘ ورنہ اس کو مرفوع ہونا چاہیے کیونکہ مبتداء محذوف کی خبر ہے یعنی وہ ساعت ایسا دن ہوگا جس میں لوگ ہوں گے۔
کالفراش المبثوث . منتشر پتنگوں کی طرح جو ٹوٹ کر آگ میں گرتے ہیں۔ کثرت حقارت ‘ شدت ہول کے
سبب ایک کا دوسرے پر چڑھ جانا اور مجمع کا لہریں مارنا وصف مشترک ہے جس کی بناء پر آگ میں گرنے والے پتنگوں سے میدان حشر میں جمع ہونے والے آدمیوں کو تشبیہ دی ہے۔
Ayah 101:5و تکون الجبال کالعھن . العھن : رنگارنگ کا اون اور پہاڑ رنگ برنگ کے اون کی طرح ہوں گے۔ رنگا
رنگی وصف تشبیہ ہے۔
المنفوش . اون بھی دھنکی ہوئی ‘ پہاڑوں کے ذرّات پراگندہ ہوا میں اڑتے ہوں گے اور رنگ برنگ کے ہوں
گے گویا دھنکی ہوئی رنگ برنگ کی اون ہوا میں منتشر و پریشان ہوگی۔
Ayah 101:6فاما من ثقلت موازینہ . یوم یکون الناس میں انسانوں کی حالت مجمل بیان کی گئی تھی۔ یہاں سے تفصیل
شروع کردی۔ موازین ‘ موزون کی جمع ہے اس سے مراد وہ اعمال ہیں جن کو انسان کے سامنے تولا جائے گا اور اعمال سے مراد بھی اعمال صالحہ ہیں کیونکہ وجود اعمال کا اصل مقصد ہی اعمال صالحہ کا وجود ہے ‘ یا موازین میزان کی جمع ہے اور اس سے مراد ہے نیکیوں والا پلڑہ۔ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ میزان عدل کی زبان بھی ہوگی اور دو پلڑے بھی (جیسے عموماً ترازو کے ہوتے ہیں) ابن مردویہ نے حضرت عائشہ کی روایت سے اور ابن مبارک نے زبد میں اور ابو الشیخ نے تفسیر میں نیز اجری نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے کہ اللہ نے میزان کے دو پلڑے آسمان و زمین کی طرح پیدا کیے ہیں۔
موازین کو بصیغۂ جمع ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ من ثقلت میں مَنْ اگرچہ لفظاً مفرد ہے اور اسی وجہ سے مفرد کی ضمیر اس کی طرف راجع کی گئی ہے لیکن معنوی حیثیت سے یہ جمع ہے اور جمع کے مقابل جب جمع لائی جاتی ہے تو اس کا تقاضا ہوتا ہے کہ اکائیوں پر تقسیم کیا جائے۔ پس اس صورت میں ہر شخص کی ترازو جدا جدا ہونا لازم ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ (میزان عدل اگرچہ ایک ہی ہوگی لیکن) جن کے اعمال تولے جائیں گے چونکہ وہ متعدد ہوں گے اس لیے (گویا) ان کی ترازوئیں بھی متعدد ہوئیں۔
Ayah 101:7فھو فی عیشۃ راضیۃ . پس وہ پسند کرنے والی زندگی میں ہوگا۔ عیشۃ کی طرف پسند کرنے کی نسبت مجازی
ہے ‘ اصل میں پسند کرنے والا زندگی والا ہوتا ہے جیسے ناصیۃ کاذبۃ میں گزر گیا یا اسم فاعل بمعنی اسم مفعول ہے ‘ پسند کرنے والی یعنی پسندیدہ جس طرح کہ اسم مفعول بمعنی اسم فاعل وعدًا ماتیًّا میں آیا ہے یا فاعلی اور مفعولی کوئی حیثیت ملحوظ نہیں بلکہ صرف مصدر کی اسناد فاعل کی طرف مقصود ہے ‘ یعنی راضیہ سے مراد ہے رضا والی۔
Ayah 101:8واما من خفت موازینہ . یعنی جس کے اعمال حسنہ یا نیک اعمال کا پلڑہ ہلکا ہوگا ‘ اس آیت کے عموم میں کافر بھی
داخل ہے جس کے پاس ایمان نہ ہونے کی وجہ سے کوئی نیکی نہ ہوگی اور وہ فاسق مؤمن بھی داخل ہے جس کا گناہوں کا پلڑہ نیکیوں کے پلڑہ سے بھاری ہوگا لیکن من ثقلت موازینہ میں صرف وہ مؤمن داخل ہیں جو معصوم ہوں یا ان کے گناہ معاف کردیئے گئے ہوں ‘ یا ان کی نیکیاں گناہوں سے بھاری ہوں۔
قرطبی نے کہا : ہمارے علماء کا قول ہے کہ آخرت میں لوگوں کے تین فرقے ہوں گے ایک فرقہ متقیوں کا ہوگا جن کے کبیرہ گناہ نہ ہوں گے ‘ ان کی نیکیاں روشن پلڑہ میں رکھی جائیں گی اور وہ پلڑہ نہیں اٹھائے گا البتہ دوسرا تاریک پلڑہ (یعنی گناہوں کا پلڑہ) بالکل خالی پلڑہ کی طرح اوپر اٹھ جائے گا۔ دوسرا فرقہ کافروں کا ہوگا ‘ ان کے کفر اور گناہوں کا بار تاریک پلڑے میں رکھا جائے گا اور کوئی اچھا عمل ہوگا جیسے کنبہ پروری وغیرہ تو اس کو دوسرے پلڑہ میں رکھا جائے گا مگر یہ پلڑا پہلے پلڑہ کے برابر نہ ہو سکے گا اور خالی پلڑے کی طرح اوپر کو اٹھ جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن بعض موٹے لمبے چوڑے آدمی آئیں گے مگر اللہ کے نزدیک ان کا وزن مچھر کے پر کے برابر نہ ہوگا پھر حضور ﷺ نے آیت : لا یقیم لھم یوم القیٰمۃ وزنًا پڑھی۔ (متفق علیہ بروایت حضرت ابوہریرہ ؓ
تیسرا فرقہ مؤمن بدکاروں کا ہوگا ‘ ان کی نیکیاں روشن پلڑے میں اور برائیاں تاریک پلڑے میں رکھی جائیں گی۔ اگر نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگا تو جنت میں داخل ہوجائے گا اور بدیوں کا پلڑی بھاری ہوگا تو اس کا معاملہ مشیت الٰہی پر مووف ہوگا یعنی اگر اللہ چاہے گا تو دوزخ میں داخل کر دے گا اور چاہے گا تو گناہ بخش دے گا اور جنت میں بھیج دے گا اور اگر دونوں پلڑے برابر ہوئے تو اعراف والوں میں سے ہوجائے گا ‘ یہ حالت اس وقت ہوگی جب کبیرہ گناہ خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے والے ہوں لیکن اگر بندوں کے حقوق ہوں گے تو انہی حقوق کے موافق اس شخص کی نیکیاں صاحب حق کو دیدی جائیں گی۔ اس طرح اگر حقوق پورے ہوگئے تو خیر ورنہ حقوق والوں کے گناہ اس شخص پر بڑھا دیئے جائیں گے اور سب گناہوں کا عذاب اس پر ہوگا۔
احمد بن حارث ؓ نے کہا : قیامت کے دن لوگوں کے تین فرقے اٹھائے جائیں گے ‘ ایک فرقہ اعمال صالحہ کی وجہ سے غنی ہوگا۔ دوسرا فرقہ (اعمال صالحہ کم ہونے کی وجہ سے) محتاج ‘ تیسرا فرقہ وہ جو اپنے اعمال صالحہ کی وجہ سے (شروع میں) غنی ہوگا پھر (آخر میں) دوسروں کے حقوق (میں اعمال صالحہ چلے جانے) کی وجہ سے محتاج ہوجائے گا۔
سفیان ثوری نے کہا : اگر خدا کے ستّر گناہ لے کر تم خدا کے سامنے جاؤ تو وہ (ستّر گناہ کے ساتھ) پیشی اس سے آسان ہوگی کہ بندوں کا ایک گناہ لے کر خدا کے سامنے جاؤ۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کا حساب ہوگا جس کی ایک نیکی بھی گناہوں سے زائد ہوگی وہ جنت میں جائے گی اور جس کے گناہ نیکیوں سے زائد ہوں گے وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔ ترازو ایک دانہ کے وزن سے ہلکی ‘ بھاری ہوجائے گی اور جس کی نیکیاں ‘ بدیاں برابر ہوں گی وہ اعراف والوں میں سے ہوگا ‘ ایسے لوگ پل صراط پر رکے رہیں گے ‘ یہاں تک کہ جب بعض گناہوں کی سزا ان کو دیدی جائے گی اور نیکیاں بھاری ہوجائیں گی تو ان کو جنت میں داخلہ مل جائے گا۔
سیوطی نے کہا : جس متقی کا کوئی گناہ نہ ہوگا ‘ اس کے اعمال بھی تولے جائیں گے تاکہ اس کا شرف (لوگوں پر) ظاہر کردیا جائے اور کافر کے اعمال بھی اس کی ذلت کے (اظہار کے) لیے تولے جائیں گے ‘ میں کہتا ہوں کہ قرآن میں صالح مؤمنوں کے ثواب کے مقابلہ میں کافروں کی سزا کا ذکر اکثر جگہ آیا ہے لیکن جس مؤمن کے ایک نیک کام کے ساتھ ایک برا کام مخلوط ہو (کچھ نیکیاں اور کچھ بدیاں ہوں) ان کی طرف سے خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ من خفت موازینہ سے مراد کافر ہی ہیں ‘ انہی کی سزا کا بیان اگلی آیت میں ہے۔
Ayah 101:9فامہ ھاویۃ . یعنی اس کا مسکن دوزخ ہوگا ‘ مسکن کو ماں اس لیے کہا کہ اولاد کے سکون کا مقام ماں ہی ہوتی ہے۔
ہاویہ : جہنم کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ ہاویہ ایسا غار ہے جس کی گہرائی سے سوائے خدا کے کوئی واقف نہیں۔ قتادہ نے کہا : امہٗ ھاویۃٌ (اُس کی ماں گرنے والی ہے) عربی کا ایک محاورہ ہے ‘ جب کوئی شخص کسی سخت مصیبت میں پڑجاتا ہے تو کہتے ہیں : ھوت امہٗ : اس کی ماں گرگئی۔ بعض نے کہا کہ امّ سے مراد ہے سر یعنی وہ سر کے بل دوزخ میں گریں گے۔ بغوی نے کہا : اسی تفسیر کی جانب قتادہ اور ابوصالح گئے ہیں۔
میں کہتا ہوں کہ حضرت انس کی روایت کردہ حدیث میں متقیوں کے مقابلہ میں جن لوگوں کا ذکر آیا ہے ‘ ان سے مراد بھی کفار ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا تھا : آدمی کو پورا عوض ملے گا ‘ میزان کے دونوں پلڑوں کے درمیان ایک فرشتہ کھڑا ہوگا ‘ اگر اعمال بھاری نکلیں گے تو وہ فرشتہ ایسی آواز سے جس کو مخلوق سن لے گی ‘ کہے گا : فلاں آدمی خوش نصیب ہوگیا ‘ اس خوش نصیبی کے بعد کبھی بدنصیب نہیں ہوگا اور اگر تول ہلکی ہوجائے گی تو وہی فرشتہ ایسی آواز سے جس کو مخلوق سن لے گی ‘ پکارے گا کہ فلاں شخص بدنصیب ہوگیا اور اس بدنصیبی کے بعد کبھی اس کو خوش بختی نہیں ملے گی۔ اس حدیث میں بھی مخلوط الاعمال شخص کی حالت کی طرف سے خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ ظاہر یہی ہوتا ہے کہ فرشتہ اس کے لیے کسی طرح کی نداء نہیں دے گا۔
فائدہ قرطبی نے کہا کہ ہر شخص کے لیے میزان (حساب) نہیں ہوگی جو لوگ بلا حساب جنت میں جائیں گے ‘ ان کے اعمال تولنے کے لیے میزان نہیں لگائی جائیگی ‘ اسی طرح جو لوگ فی الفور بلا حساب دوزخ میں بھیج دیئے جائینگے ‘ انکے لیے بھی ترازو نہیں قائم کی جائیگی۔ مؤخر الذکر لوگوں کا ہی آیت اوّل میں ذکر کیا گیا ہے۔ یعرف المجرموں بسیماھم فیوخذ بالنواصی والاقدام۔
سیوطی نے کہا : احتمال ہے کہ جن کافروں کے اعمال وزن کشی کے وقت ہلکے نکلیں گے ‘ وہ وہی منافق ہوں گے جو دنیا میں دکھاوٹ اور شہرت کے لیے مؤمنوں کے ساتھ نمازیں پڑھتے اور روزے رکھتے تھے ‘ جب ہر شخص اپنے گروہ کے ساتھ اپنے معبود کے پیچھے چلا جائے گا تو یہ منافق مسلمانوں میں ملے جلے رہ جائیں گے ‘ اس وقت میزان کے ذریعے اللہ ‘ پاک سے ناپاک کو چھانٹ دیگا۔
غزالی نے لکھا ہے کہ ستّر ہزار بلا حساب جنت میں جائیں گے ‘ نہ ان کے اعمال کی وزن کشی کے لیے ترازو لگائی جائے گی ‘ نہ وہ اعمال نامے لیں گے بلکہ ایک براءت نامہ لکھا ہوا ان کو ملے گا ‘ جس میں لکھا ہوگا یہ فلاں بن فلاں کا براءت نامہ ہے۔ اصبہانی نے حضرت انس کی رو ایت بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میزانیں لگائی جائیں گی اور نمازیوں کو لایا جائے گا اور وزن کر کے ان کا ثواب پورا پورا دیا جائے گا اور حج والے لائے جائیں گے ‘ ان کو بھی وزن کشی کر کے پورا اجر دیا جائے گا اور اہل مصیبت کو لایا جائے گا لیکن ان کے اعمال تولنے کے لیے نہ ترازو لگائی جائے گی ‘ نہ ان کا رجسٹر کھولا جائے گا ‘ بلا حساب ان پر ثواب کی بارش ہوگی۔ یہ دیکھ کر وہ لوگ جو دنیا میں عافیت سے رہے تھے ‘ تمنا کریں گے کہ کاش دنیا میں ان کے بدن قینچیوں سے کاٹے جاتے ‘ یہ تمنا اس فضیلت کو دیکھ کر کریں گے جس کو اہل مصیبت لے جائیں گے۔ یہی مطلب ہے آیت : انما یوفی الصابرون اجرھم بغیر حسابٍ کا۔
طبرانی اور ابو یعلی نے مناسب سند سے حضرت انس کی روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن شہید کو لا کر حساب کے لیے کھڑا کیا جائے گا پھر صدقہ (خیرات ‘ زکوٰۃ) دینے والے کو لا کر حساب کے لیے کھڑا کیا جائے گا ‘ پھر دکھی لوگوں کو لایا جائے گا مگر ان کے اعمال تولنے کے لیے نہ ترازو لگائی جائے گی ‘ نہ ان کا رجسٹر کھولا جائے گا بلکہ ان پر ثواب کی ایسی بارش ہوگی کہ اس کو دیکھ کر دنیا میں سکھ سے رہنے والے لوگ موقف قیامت میں تمنا کریں گے کہ کاش ان کے بدن (دنیا میں) قینچیوں سے کاٹے جاتے۔
ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں کہ جنت میں بلا حساب جانے والے صوفیہ ہی ہوں گے تو شاید حدیث میں لفظ بلاء آیا ہے ‘ اس سے مراد عاشقان خدا کا دکھ ہو کیونکہ جس طرح وہ عطاء الٰہی پر راضی ہوتے ہیں ‘ اسی طرح اللہ کے بھیجے ہوئے دکھ پر بھی راضی ہوتے ہیں۔
بیہقی ؓ نے حضرت معقل بن یسار ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر چیز کا ایک اندازہ اور وزن ہے ‘ سوائے ایک آنسو کے کہ اس کے ذریعہ سے آگ کے سمندر بجھا دیئے جائیں گے (اس گریہ سے مراد بھی عاشقوں کا گریہ ہے۔ ورنہ عام) اہل بلاء کے اعمال کی وزن کشی کا ثبوت تو صحیح احادیث سے ہوتا ہے جیسا کہ نسائی ‘ حاکم ‘ ابن حبان ‘ بزار ‘ احمد اور طبرانی نے بروایت ثوبان وابو سلمیٰ بیان کیا ہے کہ حضور سرور کائنات ﷺ نے فرمایا : کیا کہنے پانچ (کلمات) کے میزان میں یہ کیسے بھاری ہیں : لا الٰہ الا اللہ اور سبحان اللہ اور الحمد اللہ اور اللہ اکبر اور جس مرد مسلم کا صالح بچہ مرجائے ‘ الخ۔ بچہ کی موت بلاشبہ مصیبت ہے اور میزان میں اس کے بھاری ہونے کی صراحت حدیث مذکور میں ہے اور وہ شہادت جس کا ذکر حضرت ابن عباس کی حدیث میں آیا ہے وہ بھی بلاء ہی ہے ‘ واللہ اعلم۔
ایک سوال امام احمد (رح) نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن میزانیں قائم کی جائیں گی پھر ایک آدمی کو لایا جائے گا اور ایک پلڑے میں اس کو (نیک عمل سمیت) رکھا جائے گا۔ بد اعمالی کا پلڑا جھک جائے گا تو اس شخص کو دوزخ کی طرف بھیج دیا جائیگا۔
جب وہ جانے کے لیے پشت موڑے گا تو رحمن کی طرف سے ایک منادی چیخ کر آواز دے گا ‘ جلدی نہ کرو۔ اس کی کوئی چیز (تولنے سے) رہ گئی ہے۔ چناچہ ایک پرچہ لایا جائے گا جس میں لا الٰہ الاّ اللہ لکھا ہوگا۔ اس پرچہ کو اس شخص کے ساتھ پلڑے میں رکھ دیا جائے گا۔ اب یہ پلڑہ جھک جائے گا۔ حاکم ابن حبان اور ترمذی نے بھی ایسی ہی حدیث حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابن عباس کی روایت سے نقل کی ہے جس سے مذکورہ حدیث کی تائید ہوتی ہے۔ اب قابل سوال یہ بات ہے کہ مؤمن کا پلڑہ ہلکا ہونا ممکن ہی کیسے ہے کیونکہ کوئی مؤمن لا الٰہ الاّ اللہ کے اقرار سے خالی نہیں ‘ خواہ عمر میں ایک ہی مرتبہ اس نے کیا ہو۔
لا الٰہ الا اللہ کا وزن تمام اعمال سے زیادہ ہے ‘ جیسا کہ حدیث مذکور سے ثابت ہو رہا ہے۔
جواب آخرت کے اکثر احکام (عمومی نہیں کہ کوئی فرد اس سے مستثنیٰ نہ ہو) کلیت اور جزئیت دونوں کا احتمال رکھتے ہیں (نہ ان میں کل کی صراحت ہے ‘ نہ بعض کی) عمومی کلی احکام بہت کم ہیں ‘ امر آخرت اللہ کے فضل سے وابستہ ہے۔ اعمال کا مدار خلوص پر ہے جتنا خلوص ہوگا اتنا ہی اس پر عمل کا درجہ ہوگا۔
Ayah 101:10وما ادراک . امر ھاویہ کو عظیم الشان سمجھنے کے لیے استفہام کیا گیا۔
ماھیۃ . حمزہ نے وصل کی حالت میں ھی بغیر ہ کے پڑھا ہے اور باقی قراء نے ہر حالت میں ھا کو سکتہ کے
ساتھ پڑھا ہے۔ ھی ضمیر ھاویہ کی طرف راجع ہے اور ما ھِیَ میں استفہام ھاویہ کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے ہے۔
Ayah 101:11نار حامیۃ . وہ انتہائی گرم ‘ تپتی ہوئی آگ ہے۔ نارٌ یا ھاویۃٌ سے بدل ہے ‘ یا اس کا بیان ہے یا مبتداء محذؤف
کی خبر ہے (ہم نے مبتداء محذوف کا ترجمہ کیا ہے) ۔ [ سورة القارعہ ختم ہوئی ‘ بعونہ و منہ تعالیٰ ]