Ayahs 99:1–8قیامت کا واقعہ اعمال کا اندراج اور گواہی
تشریح : یہاں قیامت کا ذکر کرتے ہوئے زمین کے حالات بتائے جا رہے ہیں کہ زمین میں شدید زلزلہ آئے گا، جیسے انڈہ توڑو تو اس کے اندر کا مال سفیدی زردی سب باہر نکل آتا ہے ایسے ہی زمین کا حال ہوگا۔ ہم زمین کے بارے میں کافی بحث کرچکے ہیں۔ مختصراً عرض ہے کہ زمین کی اوپر کی سطح نے اس کے اندر کے سارے مال کو محفوظ کر رکھا ہے۔ وہ مال ہے تیل گیس ' معدنیات ' کوئلہ ' ہیرے اور قیمتی پتھر یہ سب کچھ سمندر کی طرح موجیں مار رہا ہے۔ جس کی نشاندہی قرآن پاک میں کی گئی ہے۔ اور اس کی تصدیق ان آتش فشاں پہاڑوں سے نکلنے والے لاوے سے ہوتی رہتی ہے جو اکثر و بیشتر پہاڑ کی کسی نہ کسی دراڑ یا چوٹی سے نکلنے لگتا ہے۔
جیسا کہ حال ہی میں مائننگ انجینئر اعجاز حسین۔ (پاکستانی) نے بتایا کہ '' زمین کے اندر پگھلا ہوا معدنیات کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ جو کبھی کبھی آتش فشانی کے عمل سے زمین کے اوپر آجاتا ہے۔ اور یوں زمین سب کچھ نہیں اگلتی بلکہ اس کو۔ (کھٹی ڈکار) کہہ سکتے ہیں ایسے میں جو معدنیات باہر نہیں آتیں وہ پتھروں کی شکل میں پڑی رہتی ہیں پھر ان میں مختلف رنگ برنگ دھاتوں کی آمیزش ہوتی رہتی ہے اور یوں وہ رنگ برنگ کے قیمتی پتھر بن جاتے ہیں۔ چونے کا پتھر اگر زمین کے اندر بھٹی چڑھ جائے تو ماربل بن جاتا ہے۔ اس میں سبز رنگ کے کو بالٹ کی آمیزش ہوجائے تو اونکس کا قیمتی پتھر بن جاتا ہے۔ غرض کروڑوں سنٹی گریڈ حرارت والی قدرت کی بھٹی کسی پتھر کو چونا اور کسی کو ہیرا بنا دیتی ہے۔ (سنڈے میگزین جنگ)
یہ تو بات ہوگئی زمین کے اندر کے بوجھ کی جو قیامت کے دن ٹوٹ پھوٹ کے نتیجہ میں باہر آجائے گا۔ اب آتے ہیں قرآن کی آگاہی کی طرف کہ اس روزوہ۔ (زمین) اپنے حالات بیان کردے گی ''۔ (آیت 4)
اس کو بھی سائنس دان اس طرح ثابت کرچکے ہیں کہ زمین کا ذرہ ذرہ شعور اور یاد داشت رکھتا ہے۔ جو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جب انسان مدتوں زمین میں پانی میں ہوا میں زمین میں غرض کہیں دفن رہنے کے بعد ذرہ ذرہ ہو کر بکھر چکا ہوگا تو قیامت کے دن اللہ کے حکم پر تمام ذرات اپنے ساتھی ذرات کو پہچان لیں گے اور انسان اپنے جسم کے ساتھ مکمل اٹھ کھڑا ہوگا۔ اس حقیقت کو بھی سائنس ثبوت کے ساتھ مان چکی ہے۔ ''1993 ء میں فرانس کی ایک لیبارٹری میں پانی مالیکولوں پر تجربات کئے گئے تو ثابت ہوا کہ ان کی یادداشت ہے۔ ریکارڈ اور یادداشت کے سلسلے میں سائنسی اصول '' سبب اور اثر ''۔ (Cause and Effect) کا ہے۔ یعنی ہر اثر اپنے اندر اپنے سبب کی یادداشت محفوظ رکھتا ہے۔ فضا میں جو ایٹمی ذرات اور شعائیں ہیں۔ ان سے پندرہ بیس ارب سال پہلے ہونے والے کائنات کی تخلیق کے واقعات کا پتہ چل رہا ہے۔ (از قیامت اور حیات بعد الموت)
اسی طرح ہمارے اعمال ' سوچ اور ارادے کی فلم بھی زمین اپنے معجزاتی طریقہ سے بنا رہی ہے۔ کس قدر نازک اور پتے کی باتیں۔ قرآن چند الفاظ میں بیان کر رہا ہے۔ آج کے کیمرے ' ایکسریز مشینیں مقناطیسی شعاؤں سے ریکارڈ کرنے والی مشینیں کیا اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت نہیں ہے ؟ بالکل یہی حقیقی سچائی ہے جو قرآن میں عرصہ دراز پہلے انسانوں کو بتا دی گئی ہے۔
تو کیا ہمیں اس دنیا میں لاپرواہی اور نافرمانی کی زندگی بےفکری سے گزارنی چاہیے ؟ ہرگز نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور خبردار کیا کہ زمین سے ڈرو ' اپنے جسم سے ڈرو ' اپنے ماحول سے ڈرو یہ سب قیامت کو تمہارے خلاف گواہی دیں گے ''۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” آج ہم ان کے منہ بند کیے دیتے ہیں ان کے ہاتھ ہم سے بولیں گے اور ان کے پائوں گواہی دیں گے کہ یہ دنیا میں کیا کمائی کرتے رہے۔ ( سورة یس : آیت 65)
اب آخر میں روز جزا کا نقشہ اللہ جل شانہ یوں کھینچ رہے ہیں۔ جو کہ آیت 6 تا 8 تک وضاحت کرتا ہے۔ جس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ ہمیں اپنے کئے کی سزا بڑے انصاف سے دی جائے گی اور اسی طرح انعام بھی بڑے انصاف سے دیا جائے گا۔ کیونکہ اس جزا و سزا کے انصاف کے لیے اس نے ہمارے ارد گرد کائنات کا ایسا نظام بنا رکھا ہے کہ جس میں ہمارا کوئی عمل ' کوئی ارادہ اور کوئی منصوبہ ہرگز کسی صورت بھی چھپ نہیں سکتا۔ کیونکہ اللہ علیم وخبیر ہے۔ الحی القیوم ہے۔ تو کیوں نہ سکون ' نیکی ' پاکیزگی اور بھلائی کی زندگیاں گزار دیں کہ جو ہمارے لیے سدا کا سکھ پیدا کریں۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں اس کے لیے چند باتوں کا خیال رکھیں تو کمال انسانیت حاصل ہوسکتا ہے۔
پہلا بندگی ' فرمانبرداری ' اطاعت قانون ' دوسرا ضبط نفس یعنی خود کو ہر وقت قابو میں رکھنا۔ کیونکہ اسی سے انسان حیوان سے بلند درجہ رکھتا ہے۔ فرمان الٰہی ہے۔
'' ایک آئین شکن مشرک گویا آسمانی بلندیوں سے گر پڑتا ہے ' اسے راہ میں یا تو پرندے اچک لیتے ہیں یا تند آندھیاں اسے اڑا کر کسی دور دراز مقام پر پھینک دیتی ہیں ''۔۔ (سورۃ الحج آیت 31)
دوسرا ہے ضبط نفس :۔ بڑے موذی کو مارانفس امارہ کو گرما را۔
قرآن پاک میں سورة الفجر کی آیات 29-28-27 اور 30 ملاحظہ ہوں۔ '' اے اطمینان پانے والی روح۔ اپنے رب کی طرف لوٹ جا تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔ تو میرے ممتاز بندوں میں شامل ہوجا۔ اور میری بہشت میں داخل ہوجا ''۔ یہ صلہ ہے نفس مطمنہ رکھنے والے بندوں کا۔ کیا خوب صلہ ہے ! اللہ ہمیں نصیب کرے آمین۔
تیسرا ہے نیابتِ الٰہی کا خیال : پچھلے دونوں مراحل کو اگر ہم خوفِ الٰہی کے ساتھ مکمل کرلیتے ہیں تو نیابت الٰہی کے حق دار خودبخود ہوجاتے ہیں۔
کچھ اور ہی نظر آتا ہے کاروبار جہاں
نگاہ شوق اگر ہو شریک بینائی
اسی نگاہ میں ہے قاہری و جباری
اسی نگاہ میں ہے دلبری و رعنائی
نگاہ شوق میسر نہیں اگر تجھ کو
ترا وجود ہے قلب و نظر کی رسوائی