99. Surah Az-Zalzala

الزلزلةThe Earthquake · 8 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 99:1–8

اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ Open ayah 99:1 in the Quran reader

جب زمین بھونچال سے ہلا دی جائے گی

وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ Open ayah 99:2 in the Quran reader

اور زمین اپنے (اندر) کے بوجھ نکال ڈالے گی

وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ Open ayah 99:3 in the Quran reader

اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوا ہے

یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ Open ayah 99:4 in the Quran reader

اس روز وہ اپنے حالات بیان کر دے گی

بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَاؕ Open ayah 99:5 in the Quran reader

کیونکہ تمہارے پروردگار نے اس کو حکم بھیجا (ہوگا)

یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا١ۙ۬ لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ Open ayah 99:6 in the Quran reader

اس دن لوگ گروہ در گروہ ہو کر آئیں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال دکھائے جائیں

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ Open ayah 99:7 in the Quran reader

تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠ Open ayah 99:8 in the Quran reader

اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا

1۔ 8۔ دجال کا پیدا ہونا سورج کا مغرب سے نکلنا۔ لال آندھی کا آنا۔ جس طرح یہ چیزیں دنیا کی مدت اخیر ہونے کی علامتیں ہیں اسی طرح اس وقت ایک زلزلہ بھی لال آندھی کے آنے کے بعد آئے گا جس کا ذکر ترمذی 1 ؎ وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ وغیرہ کی روایت سے آیا ہے اور ایک زلزلہ دوسرا صور پھونکا جائے گا جس آئے گا جس کا ذکر قرآن شریف میں کئی جگہ آیا ہے اس آیت میں جو زلزلہ کا ذکر ہے بعض مفسر کہتے ہیں کہ اس سے پہلا زلزلہ مراد ہے اور بعض کہتے ہیں دوسرا زلزلہ مراد ہے۔ اس زلزلہ کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے حساب و کتاب اور زمین کی شہادت کا ذکر فرمایا ہے اور یہ باتیں تو ضرور دوسرے صور کے بعد کی ہیں اس لئے اس زلزلہ سے دوسرا زلزلہ مراد لینا زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے اگر اس زلزلہ سے پہلا زلزلہ مراد لیاجائے گا تو نکال ڈالے زمین اپنے بوجھ کا مطلب زمین کے خزانوں کے باہر آجانے کا ہوگا۔ جس کا ذکر صحیح 2 ؎ مسلم کی حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں ہے اور اگر زلزلہ سے دوسرا زلزلہ مراد لیا جائے تو زمین کے بوجھ باہر آنے سے مردوں کا باہر آجانا مراد لیا جائے گا جس کا ذکر قرآن میں کئی جگہ ہے۔ مسند امام احمد ترمذی 3 ؎ نسائی وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ زمین پر ذرہ ذرہ جو لوگ کرتے ہیں اس سب کی گواہی قیامت کے دن زمین ادا کرے گی۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے جس وقت زمین ذرہ ذرہ نیک و بد عمل کی گواہی دے گی اس وقت لوگ کہیں گے کہ زمین کو کیا ہوگیا کہ یہ اس طرح کی گواہی پر مستعد ہوگئی۔ غرض اچھے لوگ شکر کے طور پر اور برے لوگ خوف سے اس کا چرچا کریں گے جو عمل اکارت ہوجائیں گے ان کو بھی اس طرح دیکھ لے گا کہ مثلاً فلاں وقت کی نماز یا فلاں وقت کا روزہ یا صدقہ فلاں ریا کاری کے سبب سے اکارت ہوگئے ان کا کچھ اجر نہ ملے گا۔ ترمذی 1 ؎ وغیرہ کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص اس سورة کو ایک دفعہ پڑھے اس کو آدھے قرآن کی تلاوت کا ثواب ملتا ہے آدھے قرآن کے ثواب کی حدیث کو حاکم نے صحیح 2 ؎ کہا ہے لیکن پاؤ قرآن کے ثواب کے باب میں چند حدثیں آئی ہیں۔ (1 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی اشراط الساعۃ ص 54 ج 2۔ ) (2 ؎ صحیح مسلم باب حسر الفرات عن جبل من ذھب ص 391 ج 2) (3 ؎ جامع ترمذی۔ تفسیر سورة زلزلت ص 193 ج 2۔ ) 1 ؎ جامع ترمذی۔ باب ماجاء فی اذا زلزلت ص 132 ج 2۔ 2 ؎ الترغیب و الترہیب۔ الترغیب فی قرأۃ اذا ازلزلت ص 641 ج 2