99. Surah Az-Zalzala

الزلزلةThe Earthquake · 8 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 99:1–8

اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ Open ayah 99:1 in the Quran reader

جب زمین میں زور دار زلزلہ آجائے گا

وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ Open ayah 99:2 in the Quran reader

اور زمین اپنے بوجھوں کو نکال دے گی

وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ Open ayah 99:3 in the Quran reader

اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوا

یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ Open ayah 99:4 in the Quran reader

اس دن وہ اپنی خبریں بیان کردے گی

بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَاؕ Open ayah 99:5 in the Quran reader

اس وجہ سے بیشک تیرا رب اس کو حکم فرمادے گا

یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا١ۙ۬ لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ Open ayah 99:6 in the Quran reader

اس دن لوگ واپس ہوں گے مختلف جماعتیں بن کر تاکہ انہیں ان کے عمال دکھائے جائیں

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ Open ayah 99:7 in the Quran reader

سو جس نے ایک ذکر کے برابر خیر کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠ Open ayah 99:8 in the Quran reader

اور جس نے ایک ذرہ کے برابر شر کا کام کیا ہوگا وہ اس کو دیکھ لے گا

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة اذا زلزلت مدینہ میں نازل ہوئی 2۔ ابن مردویہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اذا زلزلت مدینہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ احمد وابوداوٗد والنسائی والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! مجھے کچھ پڑھا دیجیے آپ نے فرمایا ” المر “ والی تین سورتیں پڑھ۔ اس نے کہا میں بوڑھا ہوگیا ہوں دل بھی سخت ہوگیا ہے اور زبان بھی موٹی ہوگئی ہے یعنی سخت کلامی پر اتر آئی ہے۔ آپ نے فرمایا حم والی تین سورتیں پڑھ۔ اس نے پھر پہلے کی طرح کہا۔ آپ نے فرمایا تین سورتیں مسجلات میں سے پڑھ اس نے پھر اسی طرح کہا اور کہا یارسول اللہ ! مجھے کوئی سورة جامعہ پڑھا دیجیے آپ نے اس کو سورة اذا زلزلت الارض پڑھا دی۔ یہاں تک کہ آپ اس سے فارغ ہوگئے۔ تو اس آدمی نے کہا اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اس پر اضافہ نہیں کروں گا۔ پھر وہ واپس لوٹ گیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ آدمی کامیاب ہوگیا یہ آدمی کامیاب ہوگیا۔ 4۔ الترمذی وابن مردویہ والبیہقی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اذا زلزلت پڑھی تو یہ اس کے لیے آدھے قرآن کے برابر ہے۔ اور جس شخص نے قل ہوا اللہ احد پڑھی تو اسکے لیے ایک تہائی قرآن کے برابر ہے اور جس شخص نے قل یا ایہا الکفرون پڑھی اس کے لیے چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔ 5۔ الترمذی وابن الضریس ومحمد بن نصر والحاکم وصححہ والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا زلزلت الارض آدھے قرآن کے برابر ہے اور قل ہو اللہ احد ایک تہائی قرآن کے برابر ہے اور قل یا ایہالکفرون ایک چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔ 6۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے رات میں اذا زلزلت الارض پڑھی تو وہ اس کے لیے آدھے قرآن کے برابر ہے۔ 7۔ ابو داوٗد اور بیہقی نے اپنی سنن میں بنو جہینہ کے ایک آدمی سے روایت کیا کہ انہوں نے نبی ﷺ کو صبح کی نماز کی دو نوں رکعتوں میں اذا زلزلت الارض پڑھتے ہوئے سنا میں نہیں جانتا کہ آپ بھول گئے یا جان بوجھ کر پڑھی۔ 8۔ سعید بن منصور نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کو فجر کی نماز پڑھائی پہلی رکعت میں آیت اذازلزلت الارض پڑھی پھر اس کو دوسری رکعت میں بھی لوٹایا۔ 9۔ احمد بن محمد بن نصر والطبرانی اور بیہقی نے اپنی سنن میں ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے تھے اور ان دونوں رکعتوں میں اذا زلزلت الارض اور قل یا ایہا الکفرون پڑھتے تھے۔ 10۔ بیہقی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ پہلی رکعت میں سورة فاتحہ کے بعد اذا زلزلت الارض زلزالہا اور دوسری رکعت میں قل یا ایہا الکفرون پڑھتے تھے۔ 11۔ الخطیب نے اپنی تاریخ میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ جس شخص نے اذا زلزلت الارض زلزالہا پڑھی بیشک وہ قرآن کے چھٹے حصہ کے برابر ہے۔ سورة زلزال آدھا قرآن ہے 12۔ ابن الضریس نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ قل ہوا للہ احد قرآن کریم کا تیسرا حصہ ہے اور اذا زلزلت الارض زلزالہا آدھا قرآن ہے اور قل ایا ایہالکفرون چوتھائی قرآن ہے۔ 13۔ عبدبن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اذا زلزلت الارض زلزالہا جب زمین بڑے زور سے ہلا دی جائے گی۔ یعنی اپنے نیچے سے حرکت کرے گی۔ آیت اذا زلزلت الارض زلزالہا۔ اور زمین اپنے بوجھ نکال پھینکے گی۔ یعنی مردو کو باہر نکال دے گی۔ آیت وقال النسان مالہا اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوگیا۔ یعنی کافر کہتے گا اس کو کیا ہوگیا۔ آیت یومئذ تحدث اخبارہا اس دن وہ اپنی خبریں بیان کرے گی۔ یعنی تیرا رب اس کو کہے گا کہ تو بول تو وہ کہے گا کہ تو بول تو وہ کہے گی آیت بان ربک اوحی لہا اس لیے کہ آپ کا رب اس کو حکم دے گا۔ یعنی اس کی طرف وحی فرمائے گا آیت یومئذ یصدر الناس اشتاتا۔ اس دن لوگ مخلت حالتوں میں لوٹیں گے۔ یعنیہ ر اس دن لوگ ہر طرف سے لوٹ کر آئیں گے۔ 14۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واخرجت الارض اثقالہا یعنی زمین باہر نکال دے گی جو قبروں میں ہیں۔ آیت یومئذ تحدث اخبارہا یعنی لوگوں کو خبر دی جائے گی جو کچھ وہ عمل کرتے تھے آیت بان ربک اوحی لہا۔ یعنی آپ کا رب اسے حکم دے گا تو وہ باہر ڈالے دے گی جو اس کے اندر ہے۔ 15۔ ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واخرجت الارض اثقالہا یعنی جو کچھ اس کے اندر ہے خزانوں میں سے اور مردوں میں سے (وہ باہر ڈال دے گی) 16۔ م، سلم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زمین اپنے جگر کے ٹکڑے کو اگل دے گی۔ سونے اور چاندی کے ستونوں کی طرح۔ ایک قاتل آئے گا اور وہ کہے گا : میں نے اس کو قتل کیا۔ اور قطع رحمہ کرنے والا آئے اور کہے گا میں اس میں قطع رحمی کی۔ اور ایک چور آئے گا وہ کہے گا اس میں میرا ہاتھ کاٹا گیا وہ اسے بلائیں گے لیکن اس سے کوئی چیز نہیں لے سکیں گے۔ 17۔ احمد وعبد بن حمید والترمذی وصححہ وابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت یومئذ تحدث اخبارہا پڑھی۔ پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اس کی خبریں کیا ہیں ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ پھر فرمایا زمین کی خبریں یہ ہیں کہ یہ ہر اس عمل کے بارے میں گواہی دے گی جو کسی بندے یا بندی نے اس کی پشت پر کیا ہوگا زمی کہے گی کہ بندے نے یہ یہ عمل فلاں فلاں دن کیا تھا اور یہ اس کی خبریں ہوں گی۔ 18۔ ابن مردویہ ولابیہقی نے شعب الایمان میں انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک زمین البتہ قیامت کے دن ہر اس عمل کے بارے میں خبر دے گی جو اس کی پشت پر کیا گیا۔ اور رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت اذا زلزلت الارض زلزالہا پڑھی یہاں تک پہنچے آیت یومئذتحدث اخبارہا پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو اس کی خبر کیا ہوگی۔ میرے پاس جبریل (علیہ السلام) آئے اور فرمایا اس کی خبر یہ ہوگی کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو وہر ہر اس عمل کی خبر دے گی جو اسی پشت پر کیا گیا۔ 19۔ الطبرانی نے ربیعہ جرشی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زمین سے اپنی حفاظت کرو۔ کیونکہ وہ تمہاری ماں ہے کوئی تم میں سے ایسا نہیں ہے جو اس پر اچھا یا برا عمل کرے گا مگر وہ اس کی خبر دینے والی ہوگی۔ 20۔ عبد بن حمید نے حکم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابو امیہ ؓ کو مسجد حرام میں فرض نماز پڑھتے ہوئے دیکھا پھر آگے بڑھے اور متفرق مقامات پر جگہ جگہ نمازیں پڑھنے لگے۔ جب وہ فارغ ہوئے تو میں نے کہا یہ کیا ہے جو میں نے آپ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے تو انہوں نے یہ آیت اذا زلزلت الارض زلزالہا سے لے کر آیت یومئذ تحدث اخبار ہا تک پڑھی اور فرمایا کہ میں نے ارادہ کیا کہ یہ زمین میرے لیے قیامت کے دن گواہی دے۔ 21۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن المنذر وابن الانباری نے المصاحف میں اسماعیل بن عبداللہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے سعید بن جبیر (رح) کو عبداللہ بن مسعود ؓ کی قراءت کے مطابق یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا آیت یومئذ تنبء اخبارہا اور دوسری مرتبہ یوں پڑھا آیت یومئذ تحدث اخبارہا۔ 22۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے آیت کو مئذ یصدر الناس اشتاتا کے بارے میں روایت کیا کہ اس دن لوگ متفرق ہوجائیں گے۔ 23۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا آیت یومئذ یصدر الناس اس لوگ لوٹیں گے اس حال میں کہ ہو مترفق ہوجائیں گے اشتاتا یعنی سا کے بعد وہ آخرتک جمع نہیں ہوں گے جو ان پر ہوگا اور یہ کہا جاتا ہے کہ یہ سورة الفاذۃ الجامعہ ہے۔ 24۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی فی الاسط والحاکم فی تاریخہ وابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں انس ؓ سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ ابوبکر صدیق ؓ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کھا رہے تھے۔ اچانک آپ پر یہ آیت من یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ نازل ہوئی۔ پھر جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہے وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھربرائی کی ہے وہ بھی اس کو دیکھ لے گا۔ ابوبکر ؓ نے یہ سن کر اپنے ہاتھ کو اٹھایا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! بیشک یہ دیکھا رہا ہوں جو میں نے ایک ذرہ کے برابر برائی کی ہے آپ نے فرمایا اے ابوبکر تیرا کیا خیال ہے دنیا میں ان چیزوں میں سے جن کو تو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھ رہا ہے کہ وہ برائی کے ذرات ہیں وہ تیرے لیے خیر اور نیکی کے ذرات جمع کیے جاتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ قیامت یک دن تو اس خیر کو پوری طرح پالے گا۔ 25۔ اسحاق بن راہویہ وعبد بن حمید والحاکم وابن ابی مردویہ نے اسماء ؓ سے روایت کیا کہ اس درمیان کے ابوبکر صدیق ؓ ، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صبح کا کھانا کھا رہے تھے اچانک یہ آیت فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ۔ نازل ہوئی۔ ابوبکر ؓ رک گئے اور عرض کیا یارسول اللہ ! کیا کھانا ہمارا وہ برا عمل ہے جس کو ہم دیکھ لیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جن چیزوں کو تم ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہو یہ وہ چیزیں ہیں جن کے عوض تم کو جزا دی جائے گی اور آخرت میں ایسا کرنے والوں کے لیے خیر اور نیکی جمع کی جائے گی۔ 26۔ ابن ابی الدنیا نے کتاب البکاء وابن جریر والطبرانی وابن مردویہ اور بیہق نے شعب الایمان میں عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت کیا کہ یہ سورة اذا زلزلت الارض زلزالہا نازل ہوئی تو ابوبکر صدیق کھڑے ہوگئے اور رونے لگے رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا تجھے کونسی چیز رلا رہی ہے اے ابوبکر ! عرض کیا اس سورة نے مجھے رلا دیا۔ آپ نے فرمایا اگر تم خطائیں اور گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرماتے تو اللہ تعالیٰ ایک اور امت پیدا فرماتے ہیں جو گناہ اور خطائیں اور گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرماتے تو اللہ تعالیٰ ایک اور امت پیدا فرماتے جو گناہ اور خطائیں کرتی اور وہ ان کی مغفرت فرماتے۔ بداعمالی کی دنیوی سزا 27۔ ابن مردویہ نے ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے درمیان رسول اللہ ﷺ اور اور ابوبکر ؓ کھانا تناول فرما رہے تھے اسی دوران آپ پر یہ آیت فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ کو کھانے سے روک لیا۔ پھر فرمایا جس نے تم میں سے نیکی اور خیر کا عمل کیا تو اس کی جزا آخر میں ہے اور جس نے تم میں سے برائی کا عمل کیا وہ اس کو دنیا میں دیکھ لے گا مصیبتوں اور امراض کی صورت میں۔ اور جس شخص کا ایک ذرہ کے برابر نیک عمل ہوگا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ 28۔ ابن مردویہ نے ابو ادریس خولانی (رح) سے روایت کیا کہ ابوبکر صدیق ؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے۔ اچانک آپ پر یہ آیت فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ ہوئی تو ابوبکر ؓ نے اپنے ہاتھ کو روک لیا۔ اور عرض کیا یارسول اللہ ! کیا ہم دیکھیں گے جو ہم نے نیکی اور برائی کی عمل کیے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوبکر ! تیرا ان کے بارے میں کیا خیال ہے جس کو تم ناپسند کرتے ہو اور وہ شر کی مقادیر میں سے ہے وہ تیرے لیے خیر اور نیکی کی مقادیر کو جمع کر رہا ہے یہاں تک کہ تو اس کو قیامت کے دن پالے گا اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں ہے آیت وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعفوا عن کثیر۔ اور تم پر جو مصیبت آتی ہے تو وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں سے آتی ہے اور وہ بہت سے گناہ معاف کردیتا ہے۔ 29۔ ابن ابی حاتم نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت فن یعمل مثقال ذرۃ خیر ایرہ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ نازل ہوئی میں عرض کیا یارسول اللہ ! کیا میں اپنے عمل کو دیکھوں گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں میں نے عرض کیا کیا وہ بڑے بڑے عمل ؟ تو فرمایا ہاں پھر میں نے کہا چھوٹے چھوٹے عمل بھی ؟ فرمایا ہاں۔ میں نے کہا اے افسوس میری ماں مجھے روئے۔ پھر فرمایا اے ابو سعید ! خوش ہوجاؤ ایک نیکی کا بدلہ دس گناہ ہے بلکہ سات سو گناہ تک ہے اور اللہ تعالیٰ کئی گنا کرے گا جس کے لیے چاہے گا اور برائی کا بدلہ اسی کی مثل ہوگا۔ یا اللہ تعالیٰ اس کو معاف کردیں گے اور کوئی آدمی اپنے عمل کے ذریعہ ہرگز نجات نہیں پائے گا۔ میں نے کہا اور آپ بھی اے اللہ کے نبی آپ ﷺ نے فرمای اور میں بھی نجات نہیں پاؤں گا مگر اللہ اپنی رحمت کے ساتھ مجھے ڈھانک لیں گے۔ 30۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے آیت فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ کے بارے میں روایت کیا کہ جب یہ آیت ویطعمون الطعام علی حبہ اور اس کی حجت پر کھانا کھلاتے ہیں نازل ہوئی تو مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ تھوڑی چیز پر اجر نہیں دیا جائے گا۔ پس جب کوئی سائل ان کے دروازے پر آتا تو وہ اس کو پوری ایک کھجور یا ایک ٹکڑا دینے کو قلیل اور تھوڑا سمجھتے تھے تو وہ اس کو رد کردیتے اور کہتے تھے یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ ہما سے دین تو ہم کوئی اجر دیا جائے گا حالانکہ ہم تو اس کو پسند کرتے ہیں اور دوسرے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ہم تھوڑے گناہ پر ملامات نہیں کیے جائیں گے۔ جیسے جھوٹ بولنا اور بدنظری کرنا اور غیبت کرنا اور اس جیسے گناہ اور وہ کہتے تھے کہ اللہ تعالینے بڑے گناہوں پر جہنم کی وعید فرمائی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو چھوٹی نیکی میں بھی رغبت دلائی کہ ویہ عمل کیا کریں کیونکہ قریب ہے کہ وہ بڑھ جائیں۔ اور تھوڑی سی برائی سے بھی ڈرایا قریب ہے کہ وہ بڑھ جائے۔ تو فرمایا آیت فمن یعمل مثقال ذرۃ یعنی چھوٹی چیونٹی کے وزن کے برابر جس نے نیکی کا عمل کیا خیرا یرہ تو وہ اس کو اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا اور یہ اس کے لیے خوشی کا باعث ہوگا۔ اچھے برے اعمال کا ثمرہ ظاہر ہونا 31۔ ابن جریر وابن المنذر والبیہقی نے البعث میں ابن عباس ؓ سے آیت فمن یعمل مثقال ذرۃ الایۃ کے بارے میں روایت کیا کہ مومن یا کسی کافر نے جو نیک یا برا عمل کیا دنیا میں تو اللہ تعالیٰ ضرور اسے وہ عمل دکھائے گا۔ مومن کو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں اور اس کی برائیاں دکھائیں گے۔ پھر اس کی برائیوں کو بخش دیں گے۔ اور ان برائیوں کو اس کی نیکیوں کے برابر کردیں گے۔ اور کافر بھی اپنی نیکیوں اور برائیوں کو دیکھے گا پھر اس کو نیکیاں رد کردی جائیں گے گی اور اس کی برائیوں کے بدلے اس کو عذاب دیا جائے گا۔ 32۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے محمد بن کعب (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جو کافر کوئی ایک ذرہ کے برابر نیک عمل کرے گا تو اس کا ثواب دنیا میں اپنی ذات میں اور اپنے اہل و عیال میں اور اپنی اولاد میں دیکھے گا۔ یہاں تک کہ دنیا سے وہ اس حال میں نکلے گا کہ اس کے پاس کوئی نیکی نہ ہوگی آیت ومن یعمل مثقال ذریۃ شرا یرہ سے مراد ہے کہ مومن دنیا میں ہی اپنی سزا کو دیکھے گا اپنی ذت میں اپنے اہل و عیال میں، اپنے میں اپنی اولاد میں یہاں تک کہ وہ دنیا سے اس حال میں نکلے گا گا کہ اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔ 33۔ ابن المبارک فی الزہد واحمد وعبد بن حمید والنسائی والطبرانی وابن مردویہ نے صعصعہ بن معاویہ ؓ سے روایت کیا کہ جو فرزدق مشہور شاعر کے چچا تھے وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے ان پر یہ آیت پڑھی فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ۔ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ۔ تو اس نے کہا میرے لیے کافی ہے مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ اس کے علامہ قرآن مجید کو نہ سنوں۔ دیہاتی کے دل میں ایمان داخل ہوگیا۔ 34۔ سعید بن منصور نے مطلب بن عبداللہ بن حنطب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مجلس میں یہ آیت فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یر ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ پڑھی اور ان کے ساتھ ایک دیہاتی بیٹھا ہوا تھا اس نے کہا یارسول اللہ ! کیا ایک ذرہ کی مقدار بھی ؟ آپ نے فرمایا ہاں اس دیہاتی نے کہا ہائے افسوس پھر وہ اٹھ کھڑا ہوا اور یہی کلمہ کہنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یقینی طور پر دیہاتی کے دل میں ایمان داخل ہوگیا۔ 35۔ عبدالرزاق و سعید بن منصو روعبد بن حمید نے زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے یہ آیت فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ پڑھی تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور اپنا ہاتھ سر پر رکھ کر کہنے لگا ہائے افسوس یہ سن کر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا یہ آدمی یقینی طور پر ایمان لے آیا۔ 36۔ ابن المبارک نے زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جو ایک ذرہ کے برابر نیکی کو دیکھے گا۔ اور جس نے ایک ذرے کے برابر برائ کی تو اس کو بھی دیکھے گا آپ نے فرمایا ہاں تو وہ آدمی یہ کہتا ہوا چل دیا ہائے افسوس یہ سن کر نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ آدمی ایمان لے آیا۔ 37۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی کو ایک آدمی کی طرف بھیجا تاکہ اس کو تعیم دے۔ تو اس نے اس کو تعلیم دی یہاں تک کہ وہ اس آیت پر پہنچا آیت فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ۔ تو اس آدمی نے کہا مجھے کافی ہے دوسرے آدمی نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے بتائیے وہ آدمی جس کے بارے میں آپ نے مجھے حکم فرمایا تھا کہ اس کو سکھاؤ جب میں اس آیت فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ۔ پر پہنچا تو اس نے کہا مجھے کافی ہے۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اس کو چھوڑدو یقینی طور پر اس نے سمجھ لیا ہے۔ 38۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات بتائی گئی کہ ایک آدمی ایک مرتبہ گیا تاکہ وہ پڑھنا سیکھے جب اس نے یہ آیت سنی آیت فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ اس کے آخر تک تو اس نے کہا مجھے کافی ہے، مجھے کافی، ہے، اگر میں نے ایک ذرہ کے برابر نیکی کی تو میں اس کو دیکھ لوں گا، اگر میں ذرہ کے برابر برائی کی تو میں اس کو دیکھ لوں گا۔ راوی نے کہا یہ بات ذکر کی گئی تو نبی ﷺ فرمانے لگے۔ یہ ” الجامعۃ الفاذۃ “ ہے۔ 39۔ ابن المباک وعبدالرزاق نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ نازل ہوئی تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے کہا : مجھے کافی ہے، مجھے کافی ہے اگر میں نے ایک ذر کے برابر نیکی یا برائی کی تو میں اس کو دیکھ لوں گا نصیحت ختم ہوگئی۔ 40۔ ابن ابی شیبہ نے حارث بن سوید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں اذا زلزلت پڑھی اور جب اس آیت پر پہنچے آیت فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ تو کہنے لگا یہ شمار اور گنتی تو بہت سخت ہے (یعنی یہ معاملہ بہت سخت ہے ) ۔ 41۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے وہ کافر مراد ہے کہ اس کو اس کا اعمال نامہ قیامت کے دن دیا جائے گا تو وہ اس میں دنیا میں کی ہوئی اپنی ہر نیکی کو دیکھ لے گا اور اس پر اس کی نیکیاں لوٹا دی جائیں گے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت وقدمنا الی ما عملوا من عمل فجعلنہ ہباء منثورا (الفرقان آیت 22) اور جو عمل انہوں نے کیے تھے ہم ان کی طرف متوجہ ہوں گے پھر انہیں اڑتی ہوئی خاک کردیں گے پھر وہ مایوس ہوجائے گا اور اس کا چہرہ کالا ہوجائے گا اور مومون کو اس کا اعمال ناہ قیامت کے دن داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا۔ وہ اس میں ہر گناہ کو دیکھ لے گا۔ جو اس نے دنیا کے گھر میں کیا تھا پھر اس کو اس کے لیے معاف کردیا جائے گا۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کا قول آیت فاولئک یبدللہ سیاتہم حسنت (الفرقان آیت 70) یہی لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے گا۔ پھر اس دن چہرہ چمک اٹھے گا اور خوشی سے اس کا چہرہ کھل جائے گا۔ 42۔ ابن جریر نے سلیمان بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! میرا باپ صلہ رحمی کرتا تھا اور ذمہ داری کو پورا کرتا تھا اور مہمان کا اکرام کرتا تھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا کیا وہ اسلام سے پہلے مرگیا ؟ عرض کیا ہاں ! فرمایا اس کو یہ کام ہرگز نفع نہیں دیں گے۔ لیکن یہ اس کے پیچھے باقی رہیں گے۔ تم ہرگز رسوا نہ ہوگے اور تم ہرگز ذلیل نہیں ہوگے اور ہرگز محتاج نہیں ہوگے۔ تین باتیں زندگی کے سہارے 43۔ احمد فی الزہد وابن المنذر نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ اگر تین باتیں نہ ہوتیں تو میں اس بات کو پسند کرتا کہ میں دنیا میں باقی نہ رہو اور میں رات دن کے اختلاف میں اپنا چہرہ اپنے خالق حقیق کی رضا کے لیے سجد ہے میں رکھ کر اسے اپنی زندگی کے لیے آگے بھیجتا رہوں اور دوپہر کے وقت کی پیاس اور ایسی قوموں کی صحبت جو کلام اور گفتگو سے اس طرح محفوظ رہتے ہیں۔ جس طرح پھل کی حفاظت کی جاتی ہے۔ اور تقویٰ کی تکمیل اس میں ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے یہاں تک کہ ایک ذرہ کے برابر بھی اس کی نافرمانی سے ڈرے یہاں تک کہ بعض وہ چیزیں بھی چھوڑدے جس کو وہ خیال کرتا ہے کہ وہ حلال ہے اس ڈر سے کہ وہ حرام نہ ہو یہاں تک کہ وہ رکاوٹ ہوگی اس کے اور حرام کے درمیان۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے سب کچھ بیان کردیا ہے جو کچھ ان کے ساتھ ہوگا۔ اور فرمایا آیت فمن یعمل مثقال ذرۃ خیر ایرہ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ پس تم برائی میں سے ذرا بھی کسی چیز کو حقیر نہ جان کہ اس سے نہ بچتارہ اور برائی کے ارتکاب کو حقیر نہ سمجھ۔ 44۔ ابن مردویہ نے ابن عباس رضی الہ عنہما سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم جان لو کہ جنت اور دوزخ تم میں سے ہر ایک کے اس کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے جو شخص ایک ذرہ کے برابر بھی نیک عمل کرے گا وہ اس کو دیکھ لے گا اور جو شخص ایک ذرہ کے برابر بھی برا عمل کرے گا وہ اس کو دیکھ لے گا۔ 45۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا آگ سے بچو اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے کو صدقہ کرنے کے ساتھ کیوں نہ ہو۔ پھر یہ آیت فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا پڑھی۔ 46۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو بتایا گیا کہ عائشہ ؓ کے پاس ایک سائل آیا اور اس نے سوال کیا تو انہوں نے اس کے لیے ایک کھجور کا حکم دیا ایک کہنے والے نے ان سے کہا اے ام المومنین ! کہ تم ایک کھجور کا صدقہ کرتے ہو ؟ فرمایا ہاں ! اللہ کی قسم مخلوق بہت ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی ان کا پیٹ نہیں بھر سکتا۔ کیا اس میں بہت ذرات نہیں۔ 47۔ بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک سائل ان کے پاس آیا انہوں نے اپنی باندی سے فرمایا اس کو کچھ عطا کردو۔ اس نے ایک کھجور کو پایا۔ عائشہ ؓ نے فرمایا اس کو ایک کھجور ہی دے دو کیونکہ اس میں کئی ذرات ہیں اگر یہ قبول ہوگئی۔ 48۔ مالک وابن سعد وعبد بن حمید نے عائشہ صدیقہ ؓ کے طریق سے روایت کیا کہ ان کے پاس سائل آیا آپ کے پاس انگورو کی ایک چھوٹی ٹوکری تھی۔ انہوں نے اس میں سے انگور کا ایک دانہ لیا۔ اور اس کو دے دیا۔ آپ سے اس بارے میں کچھ بات کی گئی۔ تو آپ نے فرمایا یہ کثیر ذرات سے بہت بھاری ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی آیت فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ۔ 49۔ عبد بن حمید نے حضرت جعفر بن برقان (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو بتایا گیا کہ عمر بن خطاب ؓ کے پاس ایک مسکین آیا۔ اس وقت آپ کے ہاتھ میں انگوروں کے خوشے میں ایک خوشہ تھا۔ آپ نے اس میں سے ایک دانہ اس کو دیا اور فرمایا اس میں کثیر ذرات کے مثاقیل ہیں۔ 50۔ ابن ابی شیبہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک سائل نے عبداللہ بن عفرق سے سوال کیا ان کے آگے انگوروں کا ایک طبق رکھا ہوا تھا۔ انہوں نے ایک دانہ اس کو دے دیا۔ لوگوں نے آپ کے اس عمل کو ناپسند کیا۔ تو انہوں نے فرمایا اس میں کثیر ذرات کے مثاقیل ہیں۔ سائل کو ایک کھجور دینے کا واقعہ 51۔ سعد نے علا بن فروخ (رح) سے روایت کیا کہ سعد بن مالک ؓ کے پاس سائل آیا ان کے سامنے کھجوروں کا ایک طبق تھا۔ انہوں نے ایک کھجور اس کو دے دی۔ سائل نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ سعد ؓ سے فرمایا تجھ پر افسوس ہے اللہ تعالیٰ نے ہم سے ایک رائی اور ایک ذرے کے دانہ کی مقدار کو قبول فرمالیا ہے اور اس میں کو کتنے ذرات کی مقدار ہے۔ 52۔ ابن سعد نے شداد بن اوس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا۔ اور اللہ کی حمد وثنا بیان کر کے فرمایا اے لوگو ! خبردار ! بیشک دنیا میں موجودہ زمانہ ہے اس میں سے نیک اور بدکار سب کھا رہے ہیں۔ خبردار، بیشک آخرت اس کے بعد آنے والا زمانہ ہے۔ اس میں شہنشاہ قادر مطلب فیصلہ فرمائیں گے۔ خبردار بیشک ساری خیر اور نیکی جنت میں موجود ہے۔ خبردار بیشک ساری برائی جہنم میں موجود ہے۔ خبردار اور تم جان لو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ۔ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ۔ 53۔ الزجاجی نے امالیہ میں انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ ایک سائل نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا آپ ﷺ نے اس کو ایک کھجور عطا فرمائی۔ اس سائل نے کہا انبیاء میں سے ایک نبی ایک کھجور کے ساتھ صدقہ کر رہے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کیا تو نہیں جانتا کہ کثیر ذرات کے مثاقیل اس میں ہیں۔ 54۔ ہناد نے ابن عباس ؓ سے آیت مثقال ذرۃ کے بارے میں روایت کیا کہ انہوں نے اپنے ہاتھ کو مٹی میں داخل کیا پھر اس اس کو اوپر اٹھایا پھر اس میں پھونک ماری۔ اور فرمایا : ان میں سے ہر یک ایک ذرہ کے برابر ہے۔ 55۔ الحسین بن سفیان فی مسندہ وابو نعیم نے الحلیہ میں شداد بن اوس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اے لوگو ! دنیا حاضر سامان ہے اس میں نیک اور بدکار سب کھا رہے ہیں اور بیشک آخر سچا وعدہ ہے اس میں شہنشاہ قادر مطلق ہی فیصلہ کرے گا۔ اس میں حق ثابت رہے گا اور باطل، باطل ہوجائے گا۔ اے لوگو ! آخرت کے بیٹے بن جاؤ اور دنیا کے بیٹے نہ بنو بیشک ہر مال کے تابع اس کی اولاد ہوتی ہے تم عمل کرو اور تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور تم جان لو کہ تم اپنے اعمال پر پیش کیے جاؤ گے اور تم یقینی طور پر اللہ سے ملاقات کرو گے کیونکہ اس نے فرمایا ہے آیت فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ۔ 56۔ مالک والبخاری واحمد ومسلم والنسائی وابن ماجہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گھوڑا تین آدمیوں کے لیے ہے ایک آدمی کے لیے اجر ہے اور ایک آدمی کے لیے ستر یعنی پر ہے اور ایک آدمی کے لیے بوجھ ہے۔ راوی کا بیان ہے پھر آپ سے گدھے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا مجھ پرا سکے بارے میں کچھ نازل نہیں ہوا سوائے اس آیت الجامعۃ الفاذہ کے یعنی آتی فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ ومن یعمل مثقال ذرۃ شر ایرہ۔