97. Surah Al-Qadr
القدرThe Power, Fate · 5 ayahsتفسیر القرطبی
اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِۚۖ Open ayah 97:1 in the Quran reader
ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل (کرنا شروع) کیا
اناانزلناہ فی الیلۃ القدر
انا انزلناہ میں ضمیر غائب ہے اس سے مراد قرآن حکیم ہے اگرچہ اس صورت میں اس کا ذکر نہیں ہوا کیونکہ معنی معلوم ہے پورے کا پورا قران حکیم ایک سورت کی طرح ہے۔ ارشاد فرمایا، شھر رمضان الذی انزل فی القرآن (البقرہ 185) رمضان شریف کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا ہے، ارشاد فرمایا، حم۔ والکتاب المبین، اناانزلناہ فی لیلۃ مبرکۃ (الدخان) حائ، میم، کتاب مبین کی قسم ! ہم نے اسے مبارک رات میں نازل کیا ہے اس سے مراد لیلۃ القدر ہے۔ شعبی نے کہا، اس کا معنی ہے ہم نے اس کے نازل کرنے کو لیلۃ القدر میں شروع کیا ایک قول یہ کیا گیا ہے، بلکہ جبرائیل امین نے لیلۃ القدر میں ایک ہی بار اسے نازل کیا لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر بیت العزت کی طرف۔ حضرت جبرائیل امین نے اسے سفرہ پر املا کرایا پھر جبرائیل امین نبی کریم پر اسے تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کرتے رہے اس کے آغاز اور اختتام کے درمیان تئیس سال کا عرصہ تھا، یہ حضرت ابن عباس نے کہا، سورة بقرہ میں یہ بات پہلے گزرچکی ہے ماوردی نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ قران حکیم رمضان شریف کے مہینہ میں، لیلۃ القدر میں، لیلۃ مبارکہ میں ایک ہی بار اللہ تعالیٰ کے پاس لوح محفوظ سے آسمان دنیا میں سفرہ کراما کاتبین پر نازل ہوا۔ سفرہ کراما کاتبین نے حضرت جبرائیل امین پر بیس سالوں میں تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا، جبرائیل امین بیس سالوں میں تھوڑا تھوڑا لاتے رہے، ابن عربی نے کہا، یہ سب باطلی ہے، حضرت جبرائیل امین اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی واسطہ نہیں اور نہ ہی جبرائیل امین اور حضرت محمد ﷺ کے درمیان کوئی واسطہ ہے۔
مجاہد نے کہا : لیلہ قدر سے مراد حکم کی رات ہے اس کا معنی تقدیر کی رات بھی ہے، اس رات کو لیلۃ القدر اس لیے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس رات میں جو امر چاہتا ہے مقدر فرماتا ہے یعنی اگلے سال تک معاملات کی تقدیر فرماتا ہے۔ یعنی موت رزق وغیرہ، پھر اسے مدبرات امر کے سپرد کردیتا ہے وہ چار فرشتے ہیں حضرت اسرافئیل، حضرت میکائیل، حضرت عزرائیل، اور حضرت جبرائیل علیہم السلام۔ حضرت ابن عباس سے یہ مروی ہے، سال میں جو کچھ ہوتا ہے اسے ام الکتاب سے لکھ لیا جاتا ہے، رزق، بارش، زندگی اور موت یہاں تک کہ جو لوگ حج کریں گے عکرمہ نے کہا، لیلۃ القدر میں بیت اللہ شریف کا حج کرنے والے کا نام اور ان کے آباء کے نام لکھے جاتے ہیں ان می سے کوئی رہتا نہیں اور نہ ہی اس میں کوئی زائل ہوتا ہے یہ سعید بن جبیر کا قول ہے، سورة الدخان کے آغاز میں یہ بحث گزرچکی ہے۔
حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات کو فیصلہ فرماتا ہے اور لیلۃ القدر کو ان کے متعلقہ افراد کے سپرد کردیتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اسے یہ نام دیا گیا ہے کیونکہ یہ رات بڑی عظمت، شان اور شرف والی ہے جس طرح ان کا قول ہے لفلان قدر یعنی اس کا بڑا مقام و مرتبہ ہے یہ زہری اور دوسرے علماء کی رائے ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اسے یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ اس رات میں طاعات کی عظیم قدر ومنزلت ہوتی ہے اور عظیم ثواب ہوتا ہے، ابوبکر وراق نے کہا، اس رات کو یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ جس کی کوئی قدرمنزلت نہیں ہوتی جب وہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے تو وہ قدرومنزل تو الا ہوجاتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اسے یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ اس میں قدر وشان والی کتاب، عظمت و رفعت والے رسول اور شان والی امت پر نازل کی گئی ہے ایک قول کیا گیا ہے اسے یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ اس میں قدرومنزلت فرشتے نازل ہوتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے اسے یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ اس میں خیر و برکت اور مغفرت نازل ہوتی ہے۔ سہیلی نے کہا : اسے یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس رات میں مومنین کے حق میں رحمت کو مقدر کیا۔ خلیل نے کہا، کیونکہ اس رات زمین فرشتوں کی وجہ سے تنگ پڑجاتی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ومن قدر علیہ رزقہ (الطلاق 7) جس پر اس کا رزق تنگ کردیا گیا۔
وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِؕ Open ayah 97:2 in the Quran reader
اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے ؟
لَیْلَةُ الْقَدْرِ١ۙ۬ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ Open ayah 97:3 in the Quran reader
شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے
وما ادراک ما لیلۃ القدر۔۔ تا۔۔۔ الف شھر۔
فراء نے کہا : قرآن حکیم میں جہاں بھی وما ادراک کے الفاظ ہیں، اس کے بارے میں آپ کو آگاہ کردیا گیا ہے اور جہاں کہیں بھی ومایدریک کے الفاظ ہیں اس کے بارے میں آپ کو آگاہ نہیں کیا گیا ہے یہی سفیان کا قول ہے، یہ بحث پہلے گزرچکی ہے۔ لیلۃ القدر کی فضیلت کو بیان یا ہے زمانہ کی فضیلت ان فضائل کی کثرت کی وجہ سے ہوتی ہے جو اس میں واقع ہوتے ہیں اس رات میں اس خیر کثیر کی تقسیم کی جاتی ہے جس کی مثل ہزار مہینوں میں بھی نہیں پائی جاتی۔ واللہ اعلم۔ اکثر مفسرین نے کہا : اس ایک رات میں عمل ان ہزار مہینوں کے اعمال سے بہتر ہے جن میں لیلۃ القدر نہ ہو۔ ابوالعالیہ نے کہا، لیلۃ القدر ان ہزار مہینوں سے بہتر ہے جن میں لیلۃ القدر نہ ہو، ایک قول یہ کیا گیا ہے ہزار مہینوں سے مراد سارازمانہ ہے کیونکہ عرب ہزار کا لفظ اشیاء کی انتہا کو بیان کرنے کے لیے ذکر کرتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، یود احدھم لو یعمر الف سنہ (بقرہ 96) یعنی وہ ہمیشہ زندہ رہنا چاہتا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، زمانہ گزشتہ میں کوئی آدمی اس وقت تک عابد نہ کہلاتا ہے جب تک وہ ہزار ماہ اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کرتا، یہ تراسی سال اور چار ماہ کا عرصہ بنتا ہے، اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کی امت کے لیے ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں سے بہتر بنادی جس میں وہ لوگ عبادت کیا کرتے تھے۔ ابوبکر ورق نے کہا، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت پانچ سو ماہ تھی اور ذوالقرنین کی حکومت پانچ سو مہینے تھی دونوں کی حکومت ایک ہزار مہینے ہوگئی اللہ تعالیٰ نے اس ایک رات کے عمل کو جو اس رات کو پائے ان دونوں کی حکومتوں سے بہتر بنادیا۔
حضرت ابن مسعود نے کہا : نبی کریم ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک آدمی کا ذکر کیا جس نے ایک ہزار مہینے تک جہاد کیا تھا مسلمان اس پر متعجب ہوئے تو یہ آیات نازل ہوئیں یعنی ایک رات ان ہزار مہینوں سے افضل ہے جن میں اس آدمی نے جہاد کیا تھا اس کی مثل حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ وہب بن منبہ نے کہا، وہ آدمی مسلمان تھا اس کی ماں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر یہ نذرمانی تھی وہ ایسی بستی میں رہتا تھا جو بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے وہ ان کے قریب ہی رہتا ہے اس نے اکیلے ہی جہاد کرنا شروع کردیا وہ قتل کرتا، گرفتار کرتا اور جہاد کرتا وہ ان کے ساتھ اونٹ کے جبڑے سے جہاد کیا کرتا تھا جب وہ ان سے جنگ کرتا اور وہ اس کے ساتھ جنگ کرتے اور اسے پیاس لگتی تو دونوں جبڑوں کے درمیان سے میٹھا پانی نکلتا جسے وہ پی لیتا اسے بطش کی قوت دی گئی تھی اسے لوہاوغیرہ درد نہیں دے سکتا تھا اس کا نام شمسون تھا۔
کعب الاحبار نے کہا : وہ آدمی بنی اسرائیل کا ایک بادشاہ تھا اس نے کوئی اچھا کام کیا اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کے نبی کی طرف وحی کی فلاں کو کہو وہ کوئی آرزو کرے۔ اس نے یہ عرض کی، اے میرے رب میں آرزو کرتا ہوں کہ میں اپنے مال اولاد اور جان کے ساتھ جہاد کروں اللہ تعالیٰ نے اسے ایک ہزار بچے دیے وہ اپنے مال کے ساتھ لشکر میں بچے کو تیار کرتا اور اسے مجاہد کے طور پر اللہ کی راہ میں بھیج دیتا وہ ایک ماہ تک اسی طرح رہتا وہ بچہ شہید ہوجاتا پھر وہ دوسرے لشکر میں تیار کرتا اس کا ہر بچہ ایک ماہ میں قتل ہوجاتا اور وہ بادشاہ اس کے ساتھ رات کو عبادت کرتا اور دن کو روزے رکھا کرتا اس کے ہزار بچھے ہزار ماہ میں شہید ہوگئے پھر وہ خود آگے بڑھا اس نے جہاد کیا اور شہید کردیا، لوگوں نے کہا، کوئی آدمی بھی اس بادشاہ کے مقام و مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتا، تو اللہ تعالیٰ نے اس سورت کو نازل فرمایا یعنی یہ ایک رات اس بادشاہ کے ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو اس نے عبادت کرتے ہوئے روزے رکھتے ہوئے نفس، مال اور اولاد کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے گزارے۔
حضرت علی شیر خدا اور حضرت عروہ نے کہا : نبی کریم نے بنی اسرائیل کے چارآدمیوں کا ذکر کیا فرمایا، انہوں نے اسی سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور آنکھ جھپکنے کے برابر اس کی نافرمانی نہ کی۔ حضور ﷺ نے حضرت ایوب، حضرت زکریا، حضرت حزقیل بن عجوز اور حضرت یوشع بن نون کا ذکر کیا نبی کریم ﷺ کے اصحاب اس سے متعجب ہوئے، حضرت جبرائیل امین تشریف لائے عرض کی، اے محمد ﷺ آپ کی امت ان لوگوں کی اسی سال کی تک کی عبادت سے متعجب ہوئی جنہوں نے آنکھ جھپکنے کے برابر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کی اللہ تعالیٰ نے آپ پر اس سے بہتر چیز نازل فرمائی پھر اس سورت کو پڑھا، رسول اللہ اس سے بہت خوش ہوئے۔
امام مالک نے موطا میں ابن قاسم اور دوسرے علماء سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے اسے کہتے ہوئے سنا جس پر مجھے اعتماد ہے کہ رسول اللہ کو سابقہ امتوں کی عمریں دکھائی گئیں گویا آپ نے اپنی امت کی عمروں کو قلیل جانا اور یہ خیال کیا کہ یہ لوگ عمل کی اس سطح تک نہ پہنچ پائیں گے جہاں دوسری امتوں کے لوگ اپنی لمبی عمروں کی وجہ سے پہنچے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں لیلۃ القدر سے نوازا اور اسے ہزار مہینوں سے بہتر بنایا۔ ترمذی میں حضرت حسن بن علی سے مروی ہے کہ بنی امیہ کو آپ کے منبر پر خواب میں دکھایا گیا تو یہ چیز آپ ﷺ کو بری لگی توانا اعطیناک الکوثر۔ کوثر) کوثر سے مراد جنت میں نہر ہے اور یہ سورت نازل ہوئی، یعنی بنوامیہ آپ کے بعد ایک ہزار ماہ تک حاکم رہیں گے، قاسم بن فضل حدانی نے کہا، ہم نے ان کے دور حکومت کو شمار کیا تو وہ ایک ہزار مہینے تھا نہ ایک دن زائد اور نہ ایک دن کم کہا یہ حدیث غریب ہے۔
تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ۚ مِنْ كُلِّ اَمْرٍۙۛ Open ayah 97:4 in the Quran reader
اس میں روح (الامین) اور فرشتے ہر کام کے (انتظام) کے لئے اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں
تنزل الملئکۃ والروح فیھا باذن ربھم، من کل امر۔
یعنی فرشتے ہر آسمان سے، سدرۃ المنتہی سے اور جبرائیل امین کے مسکن سے اس کے وسط پر اترتے ہیں پھر وہ زمین کی طرف اترتے ہیں اور فجر کے طلوع ہونے تک لوگوں کی دعاؤں پر آمین کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا فرمان، تنزل الملئکۃ، سے یہی مراد ہے روح سے مراد جبرائیل امین ہے قشیری نے بیان کیا ہے کہ روح ملائکہ کی ایک صفت ہے جنہیں باقی پر نگہبان بنایا گیا ہے ملائکہ انہیں نہیں دیکھ سکتے جس طرح ہم فرشتوں کو نہیں دیکھ سکتے، مقاتل نے کہا، یہ ملائکہ میں سے معزز ترین اور اللہ تعالیٰ کے سب سے مقرب ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ ملائکہ کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے لشکروں میں سے لشکر ہیں مجاہد نے حضرت ابن عباس سے مرفوع روایت کی ہے یہ ماوردی نے ذکر کیا اور قشیری نے حکایت بیان کی ہے کہ یہ قول کیا گیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ایک صنف ہے جوکھاناکھاتے ہیں ان کے ہاتھ اور پاؤں ہوتے ہیں وہ ملائکہ نہیں ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے روح ایک عظیم مخلوق ہے وہ ایک صف میں کھڑے ہوں گے اور ملائکہ تمام ایک صف میں کھڑے ہوں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے روح سے مراد رحمت ہے جبرائیل امین اس رات فرشتوں کے ساتھ اس کے مستحق افراد پر اترتے ہیں اس کی دلیل، ینزل الملئکۃ باالروح من امرہ علی من یشاء من عبادہ۔ النحل 2) یہاں روح سے مراد رحمت ہے۔
فیھا، میں ضمیر سے مراد لیلۃ القدر ہے اذن سے مراد امر ہے من کل امر سے مراد بکل امر ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اگلے سال تک کے لیے جو امر مقدر کیا ہے اور فیصلہ کیا یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، یحفوظنہ من امر اللہ۔ الرعد 11) یہاں بھی من باء کے معنی میں ہے۔ عام قرات تتنزل ہے مگر بزی نے تاء کو مشدد قرار دیا ہے طلحہ بن مصرف اور ابن سمیقع نے فعل مجہول کی بنا پر تاء پر ضمہ پڑھا ہے حضرت علی شیر خدا، عکرمہ اور کلبی نے اسے من کل امری پڑھا ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے، اس کا معنی ہے ہر فرشتہ، کلبی نے یہ تاویل کی ہے کہ حضرت جبرائیل امین فرشتوں کے ساتھ نازل ہوتے ہیں اور ہر مسلمان کو سلام پیش کرتے ہیں یہاں، من علی کے معنی ہے، حضرت انس سے مروی ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا، اذا کان لیلۃ القدر نزل جبرائیل امین فی کبکبۃ من الملائکۃ یصلوک ویسلمون علی کل عبد قائم او قاعد یذکر اللہ تعالی۔ جب لیلۃ القدر ہوتی ہے تو جبرائیل امین کی ایک جماعت میں اترتے ہیں وہ ہر اس بندے پر درود سلام پیش کرتے ہیں جو کھڑے یابیٹھے اللہ تعالیٰ کا ذکر کررہا ہوتا ہے۔
سَلٰمٌ١ۛ۫ هِیَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ۠ Open ayah 97:5 in the Quran reader
(یہ رات) طلوع صبح تک (امان اور) سلامتی ہے
سلام، ھی حتی مطلع الفجر۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلام کی تکمیل سلام پر ہوتی ہے، یہ نافع اور دوسرے علماء سے مروی ہے یعنی لیلۃ القدر سراپا سلامت اور خیر ہے اسمیں کوئی شر نہیں۔ مطلع الفجر سے مراد طلوع فجر ہے۔ ضحاک نے کہا، اللہ تعالیٰ اس رات میں سلامتی ہی مقدر فرماتا ہے باقی راتوں میں آزمائش اور سلامتی دونوں کا فیصلہ کرتا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ اس سے سلامت ہے کہ رات میں کوئی شیطان، مومن مرد یا عورت میں موثر ہوسکے، مجاہد نے بھی اسی طرح کہا ہے یہ سلامتی والی رات ہے شیطان اس میں طاقت نہیں رکھتا کہ اسمیں کوئی براعمل کرے۔ ایک مرفوع روایت بھی اس بارے میں ہے امام شعبی نے کہا، اس سے مراد ہے کہ فرشتے اہل مساجد کو سلام پیش کرتے ہیں یہ سلسلہ سورج کے غروب ہونے سے لے کر فجر صادق کے طلوع ہونے تک رہتا ہے وہ جس مومن کے پاس سے گزرتے ہیں وہ کہتے ہیں، السلام علیک اے مومن ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد ہے فرشتے ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں، قتادہ نے کہا، سلام ھی کا معنی خیر ہی خیر ہے۔ حتی مطلع الفجر، کسائی اور ابن محیصن نے اسے مطلع پڑھا ہے مصدر میں لام کا فتحہ اور کسرہ دونوں لغتیں ہیں فعل، یفعل میں فتحہ اصل ہے جس طرح مقتل، مخرج، ایسے ابواب میں کسرہ شاذ ہے، جس طرح مشرق، مغرب، جنت، منسک، محشر، مسقط اور مجزر۔ ان سب میں فتحہ اور کسرہ دونوں حکایت کیے گئے ہیں اور شرط یہ ہے کہ اس سے مراد مصدر ہو نہ کی اسم۔
یہاں تین مسائل ہیں۔
لیلۃ القدر کون سی رات ہے ؟
مسئلہ نمبر 1۔ لیلۃ القدر کی تعیین میں اختلاف ہے جس کے بارے میں اکثر علماء کی رائے ہے وہ ستائیسویں کی رات ہے کیونکہ حضرت ذر بن جیش کا نقطہ نظر ہے کہ میں نے حضرت ابی بن کعب سے کہا، آپ کے بھائی حضرت ابن مسعود کہتے ہیں جو پورا سال قیام کرتا ہے وہ لیلۃ القدر کو پالیتا ہے۔ تو حضررت ابی بن کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن کو بخشے تحقیق وہ جانتا ہے کہ یہ رمضان شریف کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے اور وہ ستائیسویں رات ہوتی ہے لیکن انہوں نے ارادہ کیا کہ لوگ بھروسہ ہی نہ کرلیں، پھر انہوں نے بغیر استثناء کے قسم اٹھائی وہ ستائیسویں کی رات ہے میں نے پوچھا، اے ابا منذر، آپ کس وجہ سے یہ بات کرتے ہیں ؟ جواب دیا اس نشانی کی وجہ سے جس کی خبر ہمیں رسول اللہ نے دی یا اس علامت کی وجہ سے کہ اس روزسورج بغیر شعاع کے طلوع ہوگا۔ یہ رات سارے سال کی بجائے رمضان شریف کے مہینے میں ہوتی ہے یہ حضرت ابوہریرہ اور دوسرے علماء کی رائے ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ سال کی تمام راتوں میں ہوتی ہے جس نے اپنی بیوی کی طلاق یا اپنے غلام کی آزادی کو لیلۃ القدر کے ساتھ مشروط کیا تو اسے طلاق یا آزادی واقع نہ ہوگی مگر جب اس دن سے ایک سال گزرجائے گا کیونکہ شک کی بنا پر طلاق واقع نہیں کی جائے گی، اور اس کا اختصاص کسی وقت کے ساتھ خاص نہیں اور طلاق سال کے گزرے بغیر واقع ہونا مناسب نہیں اس طرح آزادی قسم وغیرہ ہیں۔
حضرت ابن مسعود نے کہا : جو سارا سال قیام کرے تو وہ اسے پالے گا یہ چیز حضرت ابن عمر کو پہنچتی تو انہوں نے کہا، اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن پر رحم فرمائے خبردار، وہ خوب جانتا ہے کہ یہ رات رمضان شریف کے آخرہ عشرہ میں ہوتی ہے لیکن انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ لوگ اس ایک رات پر بھروسہ نہ کریں امام ابوحنیفہ اس قول کی طرف گئے ہیں یہ سال بھر میں ایک رات ہوتی ہے ان سے ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ لیلۃ القدر اٹھالی گئی یہ صرف ایک موقع ہے جب کہ صحیح یہ ہے کہ یہ باقی ہے۔ حضرت ابن مسعود سے یہ قول بھی مروی ہے کہ جب وہ سال کے ایک دن میں ہوتی ہے تواگلے سال وہ کسی اور دن میں ہوگی۔ جمہور علماء کا نقطہ نطر ہے کہ وہ ہر سال رمضان میں ہوتی ہے پھر یہ قول کیا گیا کہ ہر مہینے کی پہلی رات ہوتی ہے۔ یہ ابورزین عقیلی کا قول ہے، حسن بصری، ابن اسحاق اور حضرت عبداللہ بن زبیر نے کہا، یہ رمضان شریف کی سترہویں رات ہوتی ہے یہ وہی رات ہے جس کے اگلے روز غزوہ بدر ہوا تھا گویا انہوں نے اس آیت کریمہ سے استدلال کیا ہے، وماانزلنا علی عبدنا یوم الفرقان یوم التقی الجمعن۔ الانفال 41) یہ سترھویں رات تھی ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ انیسویں کی رات ہے صحیح ومشہور یہ ہے کہ رمضان شریف کے آخری عشرہ کی رات تھی، یہ امام مالک، امام شافعی، اوزاعی، ابوذر اور امام احمد کا نقطہ نظر ہے۔
ایک قوم کا نقطہ نطر ہے : یہ اکیسویں کی رات ہے امام شافعی کا جھکاؤ اسی طرف ہے اس کی دلیل مٹی اور پانی والی روایت ہے یہ روایت حضرت ابوسعید خدری نے روایت کی، اسے امام مالک اور دوسرے علماء نے نقل کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ تیسویں رات ہے جب حضرت ابن عمر نے اسے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا، یارسول اللہ، میں نے لیلۃ القدر دیکھی جب کہ رمضان کے سات دن باقی تھے نبی کریم نے ارشاد فرمایا، میں دیکھتا ہوں، تمہاری خوابیں تیئسویں پر متفق ہوگئی ہیں جو آدمی مہینے کے کسی رات قیام کرنا چاہے تو وہ تئیسویں کی رات کا قیام ہے۔ معمر نے کہا، حضرت ایوب تئیسویں کی رات غسل کیا کرتے تھے اور خوشبو لگایا کرتے تھے صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا میں نے دیکھا کہ اس کی صبح پانی اور مٹی میں سجدہ کررہا ہوں۔ عبداللہ بن انیس نے کہا، میں نے آپ کو تیئسویں کی رات کی صبح میں پانی اور مٹی میں دیکھا جس طرح رسول اللہ نے خبر دی۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ پچیسویں کی رات ہے کیونکہ حضرت ابوسعید خدری کی روایت کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، اے آخری راتوں میں تلاش کرو جب نودن باقی ہوں، سات دن باقی ہوں، اور پانچ دن باقی ہوں۔ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے امام مالک نے کہا، نو سے مراد اکیسویں کی رات ہے، سات سے مراد تئیسویں کی رات ہے اور پانچ سے مراد پچیسویں کی رات ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ ستائیسویں کی رات ہے اس کی دلیل گزرچکی ہے۔ یہ حضرت علی شیر خدا، حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت معاویہ اور حضرت ابی بن کعب سے مروی ہے۔
حضرت ابن عمر نے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا، جو آدمی لیلۃ القدر کی تلاش میں ہے تو وہ اسے ستائیسویں کی رات میں تلاش کرے۔ ابوبکروراق نے کہا، اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کی راتوں کو اس سورت کے کلمات پر تقسیم کردیا ہے جب ستائیسویں کلمہ تک پہنچا تو فرمایا، ھی۔ دوسری دلیل یہ ہے لیلۃ القدر کے لفظ کو مکرر ذکر کیا اسے تین دفعہ ذکر کیا ہے یہ نوحرف ہیں تو مجموعی ستائیس ہوئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ انتیسویں رات ہے کیونکہ نبی کریم کا فرمان، لیلۃ القدر انتیسویں یاستائیسویں کی رات ہے اس رات میں فرشتے کنکریوں کی مقدار میں ہوتے ہیں۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ جفت راتوں میں سے ہوتی ہے، حضرت حسن بصری نے کہا، میں بیس سال تک چوبیسویں رات کے سورج کو تاڑتا رہا تو میں نے اسے دیکھا کہ وہ سفید طلوع ہوتا ہے اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی کیونکہ اس رات بہت زیادہ انوار ہوتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ پورے سال میں مستور ہوتی ہے تاکہ انسان تمام سال راتوں کو زندہ کرے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اسے رمضان شریف کے تمام مہینے میں مخفی رکھا تاکہ وہ رمضان شریف کی راتوں میں عمل اور عبادت میں کوشاں رہیں تاکہ اسے پالیں جس طرح نمازوں میں سے درمیانی نماز کو، اسمائ، حسنی میں سے اسم اعظم کو، جمعہ کی ساعتوں میں سے قبولیت کی گھڑ لو، نافرمانیوں میں غضب کو، طاعات میں رضا کو، اوقات میں قیام قیامت کو، بندوں میں سے صالح بندوں کو اور اپنی رحمت و حکمت کو مخفی رکھا۔
لیلۃ القدر کی علامات۔
مسئلہ نمبر 2۔ اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے سورج اس کی صبح سفید طلوع ہوتا ہے اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی۔ حضرت حسن بصری نے کہا، نبی کریم نے لیلۃ القدر کے بارے میں فرمایا، ان من اماراتھا انھا لیلۃ سمحۃ بلجہ لاحارۃ ولابردۃ تطلع الشمس صبیح تھا لیس لھا شعاع۔ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ رات نہ گرم اور نہ ٹھنڈی اس کی صبح سورج طلوع ہوتا ہے جس کی شعاع نہیں ہوتی، عبید بن عمیر نے کہا، میں ستائیسویں رات کو سمندر میں تھا میں نے اس کا پانی پیا تو میں سے اسے میٹھا خوشگوار پایا۔
شب قدر کے فضائل۔
مسئلہ نمبر 3۔ اس کے فضائل۔ تیرے لیے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان، لیلۃ القدر، وما ادراک ما لیلۃ القدر، لیلۃ القدر خیر من الف شھر، تنزل الملائکۃ والروح فیھا۔ کافی ہے۔ صحیحین میں ہے، من قام لیلۃ القدر ایمان واحتسابا غفر اللہ لہ ما تقدم من ذنبہ۔ جس نے لیلۃ القدر کو ایمان کی حالت میں اور ثواب کے ارادہ سے عبادت کی اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ گناہ بخش دیتا ہے اسے حضرت ابوہریرہ نے روایت کیا ہے۔
حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب لیلۃ القدر ہوتی ہے تو وہ فرشتے نازل ہوتے ہیں جو سدرۃ المنتہی کے مکین ہوتے ہیں ان میں حضرت جبرائیل امین ہوتے ہیں ان کے ساتھ جھنڈے ہوتے ہیں ان میں سے ایک جھنڈا میری قبر پر ایک جھنڈا بیت المقدس پر، ایک جھنڈا مسجد حرام پر، ایک جھنڈا طور سینا پر لگا دیا جاتا ہے وہ کسی مومن مرد اور عورت کو نہیں چھوڑتے مگر وہ اسے سلام کرتے ہیں مگر جو ہمیشہ شراب نوشی کرتا ہے، خنزیر کھاتا ہے اور زعفران میں لتھڑا رہتا ہے۔ حدیث طیبہ میں ہے : شیطان اس رات میں نہیں نکلتا یہاں تک کہ اس کی فجر روشن ہوجاتی ہے وہ طاقت نہیں رکھتا کہ کسی کو فتنہ و فساد میں ڈالے اور اس میں کسی جادوگر کا جادو اثر نہیں کرتا۔
امام شعبی نے کہا : اس کی رات اس کے دن کی طرح ہے اس کا دن اس کی رات کی طرح ہے، فراء نے کہا، اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر میں سعادت اور نعمتوں کو مقدر کرتا ہے اور باقی راتوں میں آزمائشوں اور مصائب کو مقدر کرتا ہے ضحاک کا اس بارے میں قول پہلے گزرچکا ہے اس قسم کی بات اپنی جانب سے نہیں کہی جاتی یہ مرفوع ہے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ سعید بن مسیب سے موطا میں قول منقول ہے، جس نے لیلۃ القدر کو عشاء کی نماز پڑھی تو اس نے اس رات میں حصہ لے لیا۔ اس قسم کی چیز رائے سے حاصل نہیں کی جاسکتی۔
عبیداللہ بن عامر بن ربیعہ نے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا، من صلی صلاۃ المغرب والعشاء الاخر من لیلۃ القدر فی جماعۃ فقد اخذ بحظہ من لیلۃ القدر۔ جس نے لیلۃ القدر کو مغرب اور عشاء کی نماز باجماعت پڑھی تو اس نے لیلۃ القدر کا بڑا حصہ لے لیا۔ ثعلبی نے اسے اپنی تفسیر میں ذکر کیا ہے۔ حضرت عائشہ نے کہا : میں نے عرض کی، یارسول اللہ اگر میں لیلۃ القدر کو پالوں تو میں کیا دعا کروں۔ فرمایا تو کہہ اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی۔ اے اللہ تعالیٰ تو معاف کرنے والا ہے معاف کرنے کو پسند کرتا ہے مجھے معاف فرمادے۔