97. Surah Al-Qadr
القدرThe Power, Fate · 5 ayahsانوار البیان
اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِۚۖ Open ayah 97:1 in the Quran reader
ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل (کرنا شروع) کیا
(97:1) انا انزلنا فی لیلۃ القدر : انا۔ ان حرف مشبہ بالفعل اور ضمیر متکلم نا سے مرکب ہے۔ بےشک۔
انزلنا : انزلنا ماضی جمع متکلم انزال (افعال) مصدر سے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر جس کا مرجع القران ہے اگرچہ معہود اور معلوم ہونے کی وجہ سے اس سے قبل مذکور نہیں ہے (سورۃ کے نازل ہونے کے وقت قرآن کا عام چرچا تھا اور مکہ میں غلغلہ مچا ہوا تھا) فی متعلق بانزلنا ہے۔
لیلۃ القدر۔ مضاف مضاف الیہ ہے۔ مل کر اسم ظرف زمان (قدر کی روات کے دوران)
یہ سارا جملہ انزلنہ فی الیلۃ القدر۔ خبر ہے مبتداء کی۔ تحقیق ہم نے اس کو (یعنی قرآن مجید کو) شب قدر میں اتارا۔
لیلۃ القدر کیا ہے۔ قدر مصدر ہے بمعنی قدرت ، قدر (دال کے سکون کے ساتھ) مصدر ہے اور قدر (دال کی حرکت کے ساتھ) یہ اسم ہے۔ معنی دونوں کے ایک ہی ہیں۔ قدر کے معنی ہیں اندازہ کرنا۔ اور قدر (اسم ) کے معنی ہیں شرف و منزلت۔
چناچہ کہتے ہیں : لفلان قدر عند فلان۔ یعنی فلاں شخص کی فلاں شخص کے نزدیک قدر یعنی عزت ہے۔ سورة میں قدر دال کی حرکت کے ساتھ آیا ہے لہٰذا بمعنی قدرو منزلت ہے۔ لیلۃ القدر کا مطلب ہوا۔ قدرو منزلت والی رات۔
حضرت ابن عباس ؓ علیہ فرماتے ہیں :۔ اس رات کو لیلۃ القدر اس لئے کہتے ہیں کہ اس رات میں برس بھر کی آنے والی باتیں عالم بالا میں مقدر و معین کی جاتی ہیں ۔ کسی کا مرنا۔ بیمار ہونا۔ رزق کی فراخی ، عزت و ذلت جو کچھ سال بھر میں اس جہاں میں ظاہر ہوگا وہ سب اس رات کو عالم بالا میں مشہور کو دیا جاتا ہے اور ہر کام بر ملائکہ معین کر دئیے جاتے ہیں ۔
زہری فرماتے ہیں کہ :۔ اس رات کو لیلۃ القدر اس لئے کہتے ہیں کہ اس رات نیک بندوں کی خدا تعالیٰ اور عالم بالا کے لوگوں کے نزدیک نہایت قدرومنزلت ہوتی ہے۔
زہری فرماتے ہیں کہ :۔ اس رات کو لیلۃ القدر اس لئے کہتے ہیں کہ اس رات نیک بندوں کی خدا تعالیٰ اور عالم بالا کے لوگوں کے نزدیک نہایت قدرومنزلت ہوتی ہے۔
یہ رات ماہ رمضان کے تیسرے عشرہ کی طاق راتوں میں آتی ہے بعض کے نزدیک یہ ستائیسویں کی رات ہے۔ اس ایک رات کی عبادت دوسرے دنوں کی ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر درجہ پاتی ہے۔
وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِؕ Open ayah 97:2 in the Quran reader
اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے ؟
(97:2) وما ادرک ما لیلۃ القدر جملہ استفہامیہ ہے۔ ما استفہامیہ ۔ کون ۔ کیا چیز۔
ادرک : ادری۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ادراء (افعال) مصدر سے ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ اور کیا چیز تمہیں بتائے۔ واقف کرے۔ یا خبر دار کرے۔ ما استفہامیہ بمعنی کیا ہے۔ تو کیا جانے۔
لفظی ترجمہ ہوگا :۔ تجھے کیا چیز خبردار کرے۔ کیا چیز تمہیں بتائے۔ کہ شب قدر کیا ہے ؟
لَیْلَةُ الْقَدْرِ١ۙ۬ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ Open ayah 97:3 in the Quran reader
شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے
(97:3) لیلۃ القدر خیر من الف شہر۔ مکمل جملہ مذکورہ بالا استفہام کا جواب ہے۔
لیلۃ القدر مضاف مضاف الیہ۔ مل کر مبتدائ۔ باقی جملہ مبتداء کی خبر۔ لیلۃ القدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے یعنی اس رات کی عبادت ایک ہزار ماہ سے بہتر ہے۔
تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ۚ مِنْ كُلِّ اَمْرٍۙۛ Open ayah 97:4 in the Quran reader
اس میں روح (الامین) اور فرشتے ہر کام کے (انتظام) کے لئے اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں
(97:4) تنزل الملئکۃ والروض فیہا باذن ربھم : تنزل اصل میں تتنزل تھا۔ ایک تاء حذف ہوگئی۔
تنزل (تفعل) مصدر سے مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب (بمعنی جمع) وہ اترتے ہیں۔
والروح کا عطف الملئکۃ پر ہے (خاص کا عطف عام پر) ۔
فیہا میں ضمیر ھا واحد مؤنث غائب کا مرجع لیلۃ القدر ہے۔ اترتے ہیں فرشتے اور روح اس (رات) میں۔
الروح سے کیا مراد ہے ؟ بعض مفسرین کہتے ہیں الروح سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں جو گروہ ملائکہ کے سردار ہیں۔ اس لئے ان کا ذکر خاص کیا گیا ورنہ ملائکہ میں یہ بھی شامل تھے۔
بعض کے نزدیک روح ایک اور فرشتے کا نام ہے جس کو روح القدس کہتے ہیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ روح سے ایمان داروں کی روحیں مراد ہیں۔
باذن ربھم : ای بامر ربھم۔ اپنے رب کے حکم سے یہ جملہ تنزل سے متعلق ہے۔ من کل امر۔ ای من اجل کل امر (بیضاوی، کشاف) یعنی ہر اس کام کی غرض سے جو اس رات اگلے سال کے لئے مقدر ہوتا ہے۔
سلام : معانقہ کی وجہ سے اس کی دو صورتیں جائز ہیں :۔
(1) وقف سلام سے قبل من کل امر پر کیا جاوے۔ اس صورت میں اگلے جملہ کے ہی کے ساتھ ملا کر سلام ہی پڑھا جائے گا۔ سلام خبر مقدم اور ہی مبتدا مؤخر ہوگا۔ بیضاوی اور زمخشری نے اسی کو اختیار کیا ہے۔
(2) وقف دلام کے بعد کیا جاوے۔ اور سلام سے قبل ہی محذوف متصور ہو۔ اس صورت میں ہی سلام میں ہی مبتدا محذوف اور سلام اس کی خبر ہوگی۔ اس کو بیان القران اور بیضاوی میں اختیار کیا گیا ہے۔
یعنی یہ رات سلامتی کی ہے شیطانی آفات اور اس کے مکرو زور کے مصائب جو ابن آدم کے لئے تیار رہتے ہیں۔ اس رات نیک ایمانداروں کے لئے ان سے سلامتی اور امن ہوتا ہے۔ مفسرین نے سلام کے اور بھی کئی وجوہات لکھے ہیں۔
سَلٰمٌ١ۛ۫ هِیَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ۠ Open ayah 97:5 in the Quran reader
(یہ رات) طلوع صبح تک (امان اور) سلامتی ہے
(97:5) ہی حتی مطلع الفجر : ہی مبتدا۔ حتی مطلع الفجر اس کی خبر، ہی ای لیلۃ القدر۔ یہ رات غروب آفتاب سے لے کر طلوع فجر تک رہتی ہے۔ (ایسر التفاسیر)