سَنَدْعُ الزَّبَانِیَةَ ۟ۙسَنَدۡعُ الزَّبَانِيَةَ
ہم بھی اپنے موکلانِ دوزخ کو بلا لیں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
We will call the angels of Hell.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
سَنَدْعُ الزَّبَانِیَةَ ۟ۙسَنَدۡعُ الزَّبَانِيَةَ
ہم بھی اپنے موکلانِ دوزخ کو بلا لیں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
We will call the angels of Hell.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Alaq
ہم بھی عذاب کے فرشتوں کو بلا لیں گے
ہم بھی اپنے موکلانِ دوزخ کو بلا لیں گے
ہم بھی (دوزخ کے) پیادوں کو بلالیں گے
ہم دوزخ کے فرشتوں کو بلا لیں گے۔
ابھی ہم سپاہیوں کو بلاتے ہیں
ہم بھی عنقریب (اپنے) سپاہیوں (یعنی دوزخ کے عذاب پر مقرر فرشتوں) کو بلا لیں گے،
ہم عنقریب جہنم کے فرشتوں کو بلا لیں گے۔
ہم عذاب کے فرشتوں کو بلائیں گے
ہم بھی بلائیں گے سرہنگوں کو
ہم بھی بلا لیں گے عذاب کے فرشتوں کو
ہم بھی دوزخ کے پیادوں کو بلاتے ہیں۔
ہم بھی بلا لیں گے جہنم کے فرشتوں کو۔
ہم بھی عذاب کے فرشتوں کو بلا لیں گے
We too shall summon the guards of Hell.
We will call the soldiers of the Hell.
We will call the soldiers of the Hell.
We will call out the guards of Hell!
We will call the guards of hell.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
We will call the angels of Hell.
and We too will call the stern and angry keepers of hell.
We too would summon the braves of the army.
We also shall call the infernal guards.
We will call on the angels of punishment (to deal with him)!
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 6–19
طالب علم اور طالب دنیا : فرماتا ہے کہ انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اسکے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیے اور خیال رکھنا چاہیے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہوگا کہ لایا کہاں سے خرچ کہاں کیا ؟ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑافرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضامندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیاکا لالچی سرکشی اور خود پسندی میں بڑھتا رہتا ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر…
Read the full tafseer →سورة العلق 15 اصل میں زبانیہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو قتادہ کی تشریح کے مطابق کلام عرب میں پولیس کے لیے بولا جاتا ہے۔ اور زبن کے اصل معنی دھکا دینے کے ہیں۔ بادشاہوں کے ہاں چوبدار بھی اسی غرض کے لیے ہوتے تھے کہ جس پر بادشاہ ناراض ہو اسے وہ دھکے دے کر نکال دیں۔ پس اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ اپنے حمایتیوں کو بلا لے، ہم اپنی پولیس، یعنی ملائکہ عذاب کو بلا لیں گے کہ وہ اس کی اور اس کے حمایتیوں کی خبر لیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
لنسفعام بالنارصیتہ سفع مصدر سے مشتق ہے جس کے معنے سختی کے ساتھ کھینچنے کے ہیں اور ناصیتہ سر کے اگلے بالوں کو کہا جاتا ہے جو پیشانی کے اوپر ہوتے ہیں جس شخص کے پیشانی کے بال کسی کے ہاتھ میں آجائیں وہ اس کے ہاتھ میں مجبور و مقہور ہو کر رہ جاتا ہے۔
Read the full tafseer →’زَبَانِیَۃٌ‘ جمع ہے ’زبنیۃ‘ کی جس کے معنی تو دفاع کرنے والے کے ہیں لیکن یہ پولیس اور پیادوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ میں نے موقع و محل کا لحاظ کر کے اس کا ترجمہ ’سرہنگوں‘ کیا ہے۔ گویا یہ خدائی ٹاسک فورس کے وہ کروبی ہیں جو خاص نوعیت کی وقتی مہمات پر بھیجے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
(6) حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔ ابو جہل گزرا تو کہ اے محمد ! ﷺ میں نے تجھے نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا تھا ؟ اور آپ ﷺ سے سخت دھمکی آمیز باتیں کیں، آپ ﷺ نے کڑا جواب دیا تو کہنے لگا اے محمد ! ﷺ تو مجھے کس چیز سے ڈراتا ہے ؟ اللہ کی قسم، اس وادی میں سب سے زیادہ میرے حمایتی اور مجسل والے ہیں، جس پر یہ آیت نازل ہوئی حضرت ابن عباس ؓ عنھما فرماتے ہیں، اگر وہ اپنے حمایتیوں کو بلاتا تو اسی وقت ملائکہ عذاب اسے پکڑ لیتے۔ (ترمذی، تفسیر سورة اقرأ مسند أحمد 329/1 و تفسیر ابن جریر) اور صحیح مسلم کے الفاظ ہیں کہ اس نے آگے بڑھ کر آپ ﷺ کی گردن پر پیر رکھنے کا رادہ کیا کہ ایک دم…
Read the full tafseer →5: شروع میں ابوجہل نے آنحضرت ﷺ کو نماز سے روکا تھا تو آپ نے اسے جھڑک دیا تھا، اس پر ابوجہل نے کہا تھا کہ مکہ میں میری مجلس میں بڑا مجمع ہوتا ہے، وہ سب میرے ساتھ ہیں، اسکے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ اگر وہ آنحضرت ﷺ کو تکلیف پہنچانے کے لئے اپنی مجلس والوں کو بلائے گا تو ہم دوزخ کے فرشتوں کو بلالیں گے، بعض روایتوں میں ہے کہ ابوجہل آپ کو تکلیف پہنچانے کے لئے بڑھا تو تھا لیکن پھر رک گیا ورنہ فرشتے اسکی بوٹیاں بوٹیاں نوچ ڈالتے (الدرلمنثور)
Read the full tafseer →سندع الزبانیة (18:96) ” ہم بھی فرشتوں کو بلالیں گے “۔ جو بہت سخت خو اور سخت گرفت والے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے معرکے کا انجام ان کی خواری ہی ہوگا۔ یہ سورة ایسے متوقع اور خوفناک منظر پر ختم ہوتی ہے۔ اس منظر پر اہل ایمان کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ایمان اور اسلام پر ثابت قدم رہیں اور اللہ کے احکام کی اطاعت کرتے رہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
5 ابوجہل نے ایک مرتبہ حضرت محمد ﷺ کو نماز سے روکنا چاہا۔ آپ ﷺ نے سختی سے جواب دیا۔ کہنے لگا کہ کیا آپ ﷺ جانتے نہیں کہ مکہ میں سب سے بڑی مجلس میری ہے۔ اس پر فرماتے ہیں کہ اب وہ مجلس والے ساتھیوں کو بلالے۔ ہم بھی اس کی گو شمالی کے لئے اپنے سپاہی بلاتے ہیں۔ دیکھیں کون غالب رہتا ہے۔ چند روز بعد " بدر " کے میدان میں دیکھ لیا کہ اسلام کے سپاہیوں نے اسے گھسیٹا اور آخرت میں جب دوزخ کے فرشتے اس کو نہایت ذلت کے ساتھ جہنم رسید کریں گے۔ روایات میں ہے کہ ایک مرتبہ ابو جہل حضرت کو نماز میں دیکھ کر چلا کہ بےادبی کرے، وہاں پہنچانہ تھا کہ گھبرا کر پیچھے ہٹا اور لوگوں کے دریافت کرنے پر کہا کہ مجھے اپنے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
آیت 19{ کَلَّاط لَا تُطِعْہُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ۔ } ”کوئی بات نہیں ! اے نبی ﷺ آپ اس کی بات نہ مانیے ‘ آپ سجدہ کیجیے اور اللہ سے اور قریب ہوجایئے !“ آپ ﷺ اس جھوٹے ‘ غلط کار شخص کی ایک نہ سنیے۔ یہ اگر آپ کو نماز پڑھنے سے منع کرتا ہے تو اس کی پروا نہ کیجیے۔ آپ اپنے پروردگار کی جناب میں سجدے کرتے رہیے اور کثرت سجود سے اس کا قرب حاصل کرتے رہیے۔
Read the full tafseer →12 اس آیت کا سبب نزول درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ (کعبہ میں) نماز پڑھا کرتے تھے۔ ابو جہل آیا اور کہنے لگا : کیا میں تمہیں اس کام سے منع نہیں کرچکا۔ تین بار اس نے یہ الفاظ دہرائے۔ نبی اکرم ﷺ جب نماز سے فارغ ہوئے تو اسے سخت سست کہا۔ ابو جہل کہنے لگا : یہ تو تم جانتے ہو کہ کسی کے ہم نشین مجھ سے زیادہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ وہ اپنے ہم نشین بلا لے، ہم دوزخ کے فرشتے بلاتے ہیں۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! اگر وہ اپنے ہم نشین بلاتا تو اللہ کے فرشتے اسے پکڑ لیتے (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) خ زبانیہ کا لغوی مفہوم :۔ الزبانیۃ۔ زبانیہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
12۔ (تو یہ مجرم اپنے دل کا حوصلہ نکال دیکھے اور معلوم کرلے کہ وہ کتنے پانی میں ہے) ابوجہل وغیرہ کو بڑا اپنے جتھے پر تھا۔ انہیں سے کہا جارہا ہے کہ اپنے جتھے والوں کو بلادیکھیں۔ (آیت) ” الزبانیۃ “۔ لفظی معنی پیادوں یا سپاہیوں کے ہیں۔ مراد دوزخ کے ملائکہ عذاب سے لی گئی ہے۔ والزبانیۃ ھم الشرط فی کلام العرب .... والمراد ملائکۃ العذاب (کشاف)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
دوسرے حصہ کا شان نزول : کلا ان الانسان لیطغنی اس سورت کا یہ حصہ اس وقت نازل ہوا جب رسول اللہ ﷺ نے حرم میں اسلامی طریقہ پر نماز پڑھنی شروع کی، ابوجہل نے آپ ﷺ کو ڈرا دھمکا کر اس سے روکنا چاہا، حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ ابوجہل نے قریش کے لوگوں سے کہا کہ محمد (ﷺ) تمہارے سامنے زمین پر اپنا منہ ٹیکتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا ہاں، اس نے کہا لات وعزی کی قسم اگر میں نے حرم میں ان کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو ان کی گردن پر پائوں رکھ دوں گا اور ان کا منہ زمین میں رگڑ دوں گا، پھر ایک روز ایسا ہوا کہ آنحضرت ﷺ کو حرم میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر وہ آگے بڑھا، تاکہ آپ ﷺ کی گردن پر پائوں رکھے، مگر…
Read the full tafseer →سنع الزبانیۃ . ہم زبانیہ کو بلا لیں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : زبانیہ سے مراد ہیں جہنم کے زبانیہ (کارندے) زجاج نے کہا : وہ درشت خو ‘ سخت مزاج ملائکہ ہیں۔ زبانیہ زبنٰی کی یا زبنیۃ بروزن عفریۃ کی جمع ہے ‘ اس کا مادہ زبن ہے۔ زبنٌ کا معنی ہے دفع کرنا۔ کلام میں شرط محذوف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اگر وہ اپنے کنبے ‘ قبیلے والوں کو بلا لیتا تو جہنم کے کارندے علی الاعلان آنکھوں دیکھتے ‘ اس کو پکڑ لیتے۔ محلی نے اس قول کو حدیث مرفوع کہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
(17۔ 19)۔ سو یہ ابوجہل اپنی قوم اور اپنے ساتھیوں کو بلالے ہم بھی دوزخ کے پیادوں کو بلالیں گے۔ آپ کو ابوجہل جو نماز سے روکتا ہے آپ اس کا کہنا نہ مانیے اور نماز پڑھیے اور سجدہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے رہیے۔ شان نزول فلیدع نادیہ الخ۔ اور ترمذی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک بار حضور ﷺ نماز پڑھ رہے تھے تو ابوجہل آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا میں نے آپ کو اس سے منع نہیں کیا تھا حضور نے اس کو جھڑک دیا تو کہنے لگا کہ آپ کو معلوم ہے کہ میرے سے بڑا مجمع اور کسی کے ساتھ نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی۔ فلیدع نادیہ الخ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
18(1) کلا لئن لم ینتہ ، لنسفعاً …:”لم ینتہ“ (وہ باز نہ آیا)”انتھی ینتھی انتھائ“ (افتعال) سے حجد معکم ہے۔ ”ینتہ“ اصل میں ”ینتھی“ تھا، حرف جزم ”لم“ کی وجہ سے یاء گرگئی۔ ”لنسفعاً“ اصل میں ”لنسفعن“ ہے، جو ”سفع یسفع“ (ف) (زور سے کھینچ کر گھسیٹنا) سے جمع متکلم مضارع معلوم بانون تاکید خفیہ ہے۔ چونکہ وقف کی حالت میں نون تاکید خفیفہ (الف) کے ساتھ بدل جاتا ہے، جیسا کہ نون تنوین (الف) کے ساتھ بدل جاتا ہے، اس لئے نون تنوین ”خبیراً“ اور ”بصیرات“ کی طرح اسے بھی ”لنستفعن“ کے بجائے ”لنسفعاً“ کی صورت میں لکھا گیا ہے اور اس میں مصحف عثمانی کی پیروی کی گئی ہے۔ ”ولیکونا من الصغرین“ بھی ایسے ہی ہے۔ تفصیل کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
فلیدع نادیہ، سندع الزبانیہ۔ یعنی وہ اپنے ہم مجلسوں اور قبیلہ والوں کو بلاکر ان سے مدد لے ہم بھی سخت مضبوط فرشتوں کو بلالیں گے یہ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء سے مروی ہے کسائی نے کہا، اس کا واحد زبنیہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اصل میں یہ زبان تھا، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ اسم جمع ہے جس طرح ابابیل اور عبادیا اسم جمع ہے قتادہ نے کہا، کلام عرب میں اس کا معنی سپاہی ہے یہ زبن سے ماخوذ ہے جس کا معنی دھکیلنا ہے اسی سے خریدوفروخت میں ایک قسم مزابنہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، انہیں زبانیہ کا نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ اپنے پاؤں سے اسی طرح عمل کریں گے جس طرح وہ اپنے ہاتھوں سے عمل کرت ہیں ابولیث ثمرقندی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
1۔ ابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے قرآن میں سے آیت اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وابن الضریس وابن الانباری فی المصاحف والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ وابو نعیم فی الحلیہ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ آیت اقرا باسم ربک پہلی صورت ہے جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔ 3۔ بیہقی نے الدلائل میں ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو محمد بن عباس بن جعفر المخزومی (رح) نے یہ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنے بعض علماء سے سنا کہ قرآن مجید میں سے سب سے پہلے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر نازل فرمایا وہ آیت اقرا باسم ربک سے مالم یعلم تھا اور…
Read the full tafseer →[سَـنَدْعُ الزَّبَانيَةَ : ہم بلائیں گے سپاہیوں (فرشتوں ) کو ] زب ن [زَبْنًا : (ض) ٹکر لگانا۔ دھکے دینا۔] زِبْنِیَِۃٌ ج زبا نِیَۃٌ۔ سخت انسان یا جن۔ سپاہی۔ زیر مطالعہ آیت۔ 18 ۔ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
﴿كَلَّا لَىِٕنْ لَّمْ يَنْتَهِ 1ۙ۬ لَنَسْفَعًۢا بالنَّاصِيَةِۙ0015 نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍۚ0016﴾ (خبردار اگر یہ شخص اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کو پکڑ کر گھسیٹ لیں گے جو پیشانی جھوٹی ہے خطاکار ہے) ۔ ﴿ فَلْيَدْعُ نَادِيَهٗۙ0017﴾ (سو جب وہ عذاب میں مبتلا ہو اپنی مجلس والوں کو بلا لے) ﴿ سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَۙ0018﴾ (ہم عذاب کے فرشتوں کو بلا لیں گے) جن کے سامنے اس کا کوئی بس نہیں چل سکتا۔ معالم التنزیل میں زجاج سے نقل کیا ہے کہ زبانیۃ سے دوزخ کے فرشتے مراد ہیں جنہیں سورة التحریم میں ﴿غلاظ شداد﴾ فرمایا ہے۔ نیز حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ اگر ابو جہل اپنی مجلس والوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
آغاز وحی بامر قراۃ باسم رب العالمین ومذمت وتہدید برمخالفت رسول ﷺ خدا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اقراباسم ربک الذی خلق ...... الی ...... واسجد واقترب “۔ یہ بات اجماع امت سے ثابت ہے کہ وحی الہی کا آغاز سورة اقرا کی پہلی پانچ آیات یعنی (آیت) ” اقرا باسم ربک سے علم الانسان مالم یعلم “۔ تک کے نزول سے ہوا جمہور صحابہ اور روایات صحیحہ سے بھی ثابت ہے پھر تعلیم سوال اور نماز میں پڑھنے کے لیے سورة فاتحہ نازل ہوئی تو سورتوں میں نازل ہونے والی یہ پہلی سورت ہوئی، اسی بناء پر حضرت علی ؓ سے ایک روایت میں سورة فاتحہ کی اولیت بیان کی گئی، ان پانچ آیات کے نازل ہونے کے بعد کچھ عرصہ سلسلہ وحی منقطع رہا، اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
ٖ 8:۔ ” کلا لئن “ تخویف اخروی ہے۔ اگر وہ ایذا اور شر انگیزی سے نیز تکذیب و انکار سے باز نہ آیا تو ہم قیامت کے دن اس کو پیشانی کے بالوں سے پکڑ لیں گے جو ایک جھوٹے اور مجرم کی پیشانی ہے پھر وہ اپنے تمام اہل مجلس اور تمام اعوان و انصار کو بلا لے اور ہم دوزخ کے فرشتوں کو بلائیں گے جو اسے گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دینگے، مگر اس کے اعوان و انصار کی وہاں ایک نہ چلے گی اور کوئی اس کو خدا کے عذاب سے بچا نہ سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
گزشتہ سے پیوستہ سورۃ کی ابتدائی آیات میں انسان کا ذکر ہوا۔ اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تعلیم حاصل کرنے کا حکم دیا۔ جہالت کی تاریکی کو لفظ اقرا سے دور کیا۔ علم بالقلم سے قلم کی اہمیت واضح کی اور پھر علم الانسان مالم یعلم کے ذریعے انسان پر علم کی فضیلت بیان فرمائی کہ انسان میں کمال تعلیم کے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔ اگر تعلیم نہ ہو ، تو انسان بیکار محض ہے۔ اس کی مثال علقہ یعنی گوشت کے لوتھڑے کی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ بستہ خون کے لوتھڑے کو اپنی صفت تخلیق کے ساتھ اشرف المخلوقات انسان کی شکل میں پیدا فرماتا ہے اسی طرح وہ انسان کو جہالت اور نادانی کی تاریکیوں سے نکال کر علم کی روشنی سے منور کرتا ہے۔…
Read the full tafseer →سَـنَدْعُ الزَّبَانِيَۃَ 18 ۙ سندع : حذف منه حرف العلّة۔ لام الفعل۔ من رسم المصحف بسبب قراءة الوصل ( الزبانية) ، جمع زبنية، بکسر أوّله وسکون ثانيه وکسر ثالثة وتخفیف الیاء، وهو من الزبن أي الدفع أو هو جمع زبنيّ علی النسب وأصله زبانيّ بتشدید الیاء ثمّ جاءت التاء عوضا من الیاء .. وجاء في القاموس : الزبنية كهبرية، متمرّد الجنّ والإنس والشدید والشرطيّ ، جمعه زبانية أو واحدها زبنيّ.( اعراب القرآن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
ترکیب ¦ کلا۔ زجر للناہی عن الصلوٰۃ والخیرات۔ لئن شرطیۃ واللام مؤطۃ للقسم ای واللہ لئن لم ینتہ عما ھو علیہ شرط النسفعاء الخ جواب الشرط۔ واصلہ لنسفعن۔ صیغۃ جمع المتکلم مع لام التاکیدونون الخفیفۃ للتاکید۔ السفع القبض علی الشیء وجذبہ ‘ بشدۃ (کشیدن) یقال سفع یسفع (سفع موئے پیشانی گرفتن (عع بفجتھما) یقال بہ سفعۃ من الشیطان ای مس و سوختن آتش و سموم روی داد رنگ گردانیدن۔ (سفعہ بالضم سیاہی کہ بسرخی زند) صراح و قریٔ لنسفعن بنون مشددۃٍ ونون المخفۃ تبدل بالالف فی الوقف لسکونھا وانفتاح ماقبلھا۔ وکتبت فی المصحف بالا لف علی حکم الوقف۔ ولما علم انھا نا صیۃ المذکور اکتفٰی ابلام العہدء عن الاضافۃ فقیل بالناصیۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
کَلاَّ لَئِنْ لَّمْ یَنْتَہِ 5 لا لَنَسْفَعًا م بِالنَّاصِیَۃِ ۔ نَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ ۔ فَلْیَدْعُ نَادِیَہٗ ۔ سَنَدْعُ الزَّبَانِیَۃَ ۔ (العلق : 15 تا 18) (ہرگز نہیں ! اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کو گھسیٹیں گے اس کی پیشانی کے بالوں سے۔ جھوٹی گنہگار پیشانی۔ پس وہ بلالے اپنے ہمنشینوں کو۔ ہم بھی عذاب کے فرشتوں کو بلائیں گے۔ ) مشکل الفاظ کی تشریح لَنَسْفَعًا، اصل میں لَنَسْفَعَنْ ہے۔ یہ فعل مضارع جمع متکلم کا صیغہ ہے۔ اس کے آخر میں ” ن “ تاکید خفیفہ ہے۔ لیکن قرآن کریم کے رسم الخط کا اتباع کرتے ہوئے اسے لَنَسْفَعًاکی صورت میں لکھا گیا ہے۔ یہ سفع سے ماخوذ ہے۔ اس کا معنی ہے کسی چیز کو مٹھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
فہم القرآن ربط کلام : باغی انسانوں میں ایک باغی کی مثال اور گھناؤنا کردار۔ مفسرین کی اکثریت نے اس آیت کا پہلا مصداق ابوجہل قرار دیا ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک دن ابوجہل قریشی سرداروں کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ جونہی محمد ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو اس کا سر کچل دوں گا۔ وہ یہ بات کررہا تھا کہ اچانک اللہ کے رسول ﷺ بیت اللہ میں داخل ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ اس کے ساتھیوں نے ابوجہل سے کہا کہ اٹھو اور اپنا وعدہ پورا کرو نبی ﷺ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوئے تو ابوجہل پتھر لے کر آگے بڑھا ابھی آپ سے چند قدم دور تھا کہ گھبرا کر اپنے ساتھیوں کی طرف مڑا۔ اس کے ساتھیوں نے…
Read the full tafseer →18 : سَنَدْعُ الزَّبَانِیَۃَ (ہم بھی دوزخ کے پیادوں کو بلا لیں گے) النادی ؔ وہ مجلس جہاں لوگ اکٹھے ہوں مراد اہل مجلس ہوتے ہیں۔ ابوجہل کا نماز سے روکنا اور اس کا جواب : روایت میں وارد ہے کہ ابو جہل کا گزر نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ہوا جبکہ آپ نماز ادا فرما رہے تھے۔ تو کہنے لگا کیا میں نے تمہیں نہیں روکا ؟ آپ ﷺ نے سختی سے اس کا جواب دیا۔ تو کہنے لگا کیا تم مجھے دھمکی دیتے ہو۔ میں تو اس وادی میں سب سے بڑے گروپ والا ہوں۔ پس یہ آیت نازل ہوئی۔ ] الترمذی : 3349[ الزبانیہؔ لغت میں سپاہیوں کو کہتے ہیں۔ اس کا واحد زبنیۃ ہے یہ الزبن سے نکلا ہے جس کا معنی دفع کرنا۔ دھکیلنا۔ مراد یہاں ملائکہ عذاب ہیں۔ اگر ابو…
Read the full tafseer →18 ۔” سندع الزبانیۃ “ زبنی کی جمع ہے زبن سے لیا گیا ہے اور وہ دھکیلنا ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جہنم کے زبانیہ مراد ہیں اس کے ساتھ نام رکھا گیا ہے۔ اس لئے کہ وہ اہل نار جہنم کو دھکیلیں گے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں وہ فرشتے سخت رو سخت مزاج۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اگر وہ اپنے قبیلہ کو بلاتا تو اس کو اللہ کے زبانیہ پکڑ لیتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
6۔ 19۔ ان آیتوں کے شان نزول حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں جو ہے ان روایتوں کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل نے اپنے بتوں کی قسم کھا کر یہ کہا تھا کہ حرم شریف میں آنحضرت کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھے گا تو پیروں سے روند ڈالے گا ایک دن اس نے آپ ﷺ کو حرم میں نماز پڑھتے دیکھ کر قدم آگے بڑھایا کہ اپنی قسم پوری کرے لیکن پھر پیچھے ہٹ آیا لوگوں نے اس سے پیچھے ہٹ آنے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا مجھ کو ایک آگ کی خندق اور کچھ پر دار بازو نظر آئے۔ آنحضرت ﷺ نے اس کی یہ بات سن کر فرمایا کہ اگر ابوجہل ذرا میرے پاس اور اتا تو فرشتے اس کی بوٹیاں کر ڈالتے۔ اسی قصہ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اس طرح فرمایا کہ پہلے عام…
Read the full tafseer →(سَـنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ ) ہم بھی اس کو پکڑنے اور اس کی سزا دینے کے لیے جہنم کے دارغوں کو بلالیں گے پھر وہ دیکھے گا کہ کون سافریق زیادہ طاقتور اور زیادہ قدرت والا ہے۔
Read the full tafseer →16 ۔ منکر و متکبر انسان کو ایک چیلنج : سو منکر و متکبر انسان کے بت پندار پر چوٹ لگاتے ہوئے اس کو چیلنج کے طور پر ارشاد فرماما گیا کہ اس موقع پر وہ بلالے اپنے حامیوں کی ٹولی کو جس پر اس کو بڑا گھمنڈ اور ناز تھا، صحیح احادیث اور تفسیری روایات میں وارد ہے کہ ایک مرتبہ جب ابو جہل لعین نے آنحضرت ﷺ کو نماز سے روکا تو آپ نے اس کو فورا جھڑک دیا تو اس پر اس لعین نے بپھر کر آپ سے کہا محمد ﷺ تم کس برتے پر مجھ سے اس طرح بات کرتے ہو ؟ میں تو اس وادی کا سب سے بڑا جتھے دار ہوں، اور اپنے اسی کبر و غرور کی بنا پر اس نے ایک مرتبہ قسم کھا کر کہا اگر میں نے محمد کو زمین پر سجدہ کرتے دیکھا تو میں اس کی گردن پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
انسان کی سرکشی اور اس کا انجام تشریح : ان آیات میں انسان کی غلط سوچ عمل اور خراب انجام کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کو دلیل کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے۔ کہ جو بھی ماحول ہو زمانہ ہو یا دنیا کا کوئی بھی علاقہ ہو وہاں یعنی ہمیشہ انسان کا یہی رویہ رہا ہے کہ کچھ تو اللہ کو اس کی رحمتوں سے پہچان کر اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اس کا شکر ادا کرتے ہیں جس کا بہترین طریقہ ہے اللہ کے حضور سجدہ کرنا اور کچھ ایسے خبیث فطرت ' ہٹ دھرم ' خود پسند اور نافرمان بیوقوف ہوتے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ خود ہی اللہ سے لاپرواہ اور نافرمان ہوجاتے ہیں بلکہ جو ان کے سامنے اللہ کی بات کرتے ہیں یا سجدہ کرتے ہیں وہ ان کو بھی برا بھلا کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة العلق۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ یہ پہلی پانچ آیات سب سے پہلی وحی ہیں جو غارحرا میں جبرائیل امین لائے تفصیل کتب میں دیکھی جاسکتی ہے مختصرا یہ کہ آپ غار حرا میں خلوت گیر ہوکرذات باری میں تفکر فرماتے اور ظہور کمال کی طلب بڑھتی کہ جبرائیل امین تشریف لائے پڑھنے کا حکم دیا جس پر آپ ﷺ نے فرمایا میں پڑھ نہیں سکتا تو انہوں نے تین بار بازوں میں لے کردبایا اور ہر بار پڑھنے کے لیے کہا اور یہ آیات نازل ہوئیں آپ پرہیبت وحی طاری ہوگئی کلام ذاتی تھا جس کے ساتھ ذاتی تجلیات بھی تھیں۔ حضرت خدیجہ پڑھی لکھی تھیں۔ آپ ﷺ گھرتشریف لائے حضرت خدیجہ سے فرمایا مجھے کمبل اوڑھا دیجئے انہوں نے صورت حال سنی تو عرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
ف 9 یعنی میرے مقابلہ کے لئے اپنے حمایتوں کو بلا لے۔
Read the full tafseer →(96:18) سندع الزبانیۃ۔ شرط محذوف کا جواب ہے۔ س جب مضارع پر داخل ہوتا ہے تو اسے مستقبل قریب کے معنی میں کردیتا ہے ندع مضارع جمع متکلم دعوۃ (باب نصر) مصدر سے۔ ہم بلالیں ” یا “ ہم بلالیں گے۔ الزبانیۃ : سیاست کے پیارے۔ دوزخ کے فرشتے زبانیۃ۔ عربی زبان میں سیاست کے پیارے ۔ یعنی پولیس کے سپاہی کو کہتے ہیں۔ یہ زبنی کی جمع ہے جو زین (باب ضرب) مصدر سے ماخوذ ہے جس کے معنی دفع کرنا۔ ہٹا نا کے ہیں۔ ترجمہ ہوگا :۔ ہم بھی دوزخ کے فرشتوں کو بلالیں گے۔ زبانیۃ، قہر الٰہی کے وہ فرشتے ہیں جن کے مقابلہ کی کسی کو بھی طاقت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔ اقرا۔ پڑھ۔ علق۔ جما ہو اخون۔ الاکرم۔ زیادہ محترم۔ یطغی۔ وہ سرکشی کرتا ہے۔ ینھی۔ وہ روکتا ہے۔ لم ینتہ۔ باز نہ آیا۔ نسفع۔ ہم گھسیٹیں گے۔ الناصیۃ ۔ پیشانی۔ نادیہ۔ اپنی جماعت کو۔ سندع۔ ہم بلائیں گے۔ الزبانیۃ۔ پیادے۔ اقترب۔ تو قریب ہوجا۔ تشریح : شب قدر میں قرآن کریم کی سب سے پہلی وہ آیات جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئیں سورة العلق کی ابتدائی پانچ آیات ہیں۔ اس کے بعد سورة مدثر کی ابتدائی آیتیں اور کافی عرصہ بعد سورة علق کی بقیہ چوہ آیات نازل ہوئی۔ امام بخاری (رح) نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک روایت نقل کی ہے جس کے ذریعہ سب سے پہلی وحی کی کیفیات کی تفصیلات کا علم پوری امت کو حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
(ف 3) یعنی آپ اس کی ہرگز پرواہ نہ کیجئے اور اس کی کسی بات پر کان نہ دھریے جہاں چاہو شوق سے اس کی عبات کرو اس کی بارگاہ میں سجدے کرکے بیش از بیش قرب حاصل کرتے رہو، نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ بندہ سب حالتوں سے زیادہ سجدہ میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →[9] مراد دوزخ کے ملائکہ عذاب ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
ف 1: فرمایا کہ اس معاند کو بغض وعداوت کے جذبات سے باز آجانا چاہیے ۔ مال وجاہ کے غرور میں شان محمدی ﷺ کے متعلق اس درجہ گستاخانہ کلمات کا اظہار نہ کرنا چاہیے کہ اس کو اس کی پر فخار پیشانی سے جو کذب وخطا سے آلودہ ہے ۔ پکڑ کر گھسیٹا جائے گا اور ذلیل کیا جائے گا ۔ یہ اللہ کی اٹل وعید ہے ۔ جس کے واقع ہونے میں کوئی شبہ نہیں ۔ یہ جائے اور ہمنشینوں کو حمایت کے لئے بلالے ۔ ہم بھی اپنے فرشتوں کو بلا رہے ہیں ۔ ہم کہے دیتے ہیں کہ یہ اپنی تمام مساعی تحقیر میں ناکام رہے گا اور آپ بدستور اطاعت و سجدہ میں قرب خداوندی کے حصول میں کوشاں رہیں گے ۔ چناچہ بالکل یہی ہوا اور حضور ﷺ کا مشن کامیاب ہوا ۔ سینکڑوں جبینیں…
Read the full tafseer →(18) ہم بھی دوزخ کے فرشتوں کو بلالیں گے - یعنی یہ اپنی مجلس کے دوستوں اور حمائیتوں کو بلالے اور ہم دوزخ کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ لودعانادیہ لاخذتہ زبانیۃ اللہ عن قتادۃ مرسلاً یا وہ فرشتے مراد ہیں جن کا ذکر سورة تحریمہ میں گزرا ہے۔ غلاظ شداد۔ زبانیہ زبن سے مشتق ہے جس کے معنی دفع کرنے کے ہیں یعنی اہل جہنم کو جہنم میں دھکیلتے ہوئے لے جائیں گے یا جو جہنم سے نکلنے کی کوشش کرے گا اس کو دفع کرکے واپس کردیں گے آگے نبی کریم ﷺ کو خطاب فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ف 5۔ چونکہ یہ بلانا اس کے بلانے پر مشروط تھا شرط کے نہ پائے جانے سے مشروط نہیں پایا گیا، طبری نے قتادہ سے مرسلا روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر ابوجہل ایسی حرکت کرتا تو ملائکہ عیانا اس کو پکڑ کر تہس نہس کردیتے۔
Read the full tafseer →عنقریب ہم ہی اپنے پیادوں کو بلاتے ہیں 18 ؎ (الزبانیۃ) سیاست کے پیادے ۔ دوزخ کے فرشتے ۔ زبانیہ عربی زبان میں پولیس کے سپاہیوں کو کہا جاتا ہے جو پاپیادہ ہوتے ہیں ۔ فریابی نے مجاہد سے اور ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے فرشگان دوزخ کے معنی نقل کیے ہیں۔ ( فتح الباری کتاب التفسیر سورة العلق) بغوی نے لکھا ہے کہ یہ ذبنتی کی جمع ہے جو زین سے مآخوذ ہے جس کے معنی دفع کرنے کے ہیں ۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان سے ” زبانیہ “ مراد ہیں یہ اس نام سے اس لیے موسوم ہوئے ہیں کہ دوزخیوں کو دوزخ کی طرف دھکیلیں گے ۔ ( معالم التنزیل) بعض کے نزدیک اس کا واحد ذبنیۃ ہے۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
Verse [ 15 - concluding part ] لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ (...We will certainly drag [ him ] by forelock.) The nasfa'an is derived from the infinitive safuun which means 'to seize and drag' and the word nasiyah means 'forelock', that is, the front part of a person's hair that falls forward over the forehead. When a person's forelock is seized, he becomes helpless in the hands of the seizer.
Read the full tafseer →15 According to the explanation given by Qatadah, the word zabaniyah in the original, is used for the police in Arabic idiom, and zaban actually means to push away. The kings too kept armed attendants who would push out the one with whom the king was annoyed and angry. Therefore, what Allah means is: "Let him call his supporters; We too shall summon Our Police, i.e. the angels of torment, to deal with him and his supporters."
Read the full tafseer →