فَلْیَدْعُ نَادِیَهٗ ۟ۙفَلۡيَدۡعُ نَادِيَهٗ
تو وہ اپنے یاروں کی مجلس کو بلالے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Then let him call his associates;
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
فَلْیَدْعُ نَادِیَهٗ ۟ۙفَلۡيَدۡعُ نَادِيَهٗ
تو وہ اپنے یاروں کی مجلس کو بلالے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Then let him call his associates;
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Alaq
وہ بلا لے اپنے حامیوں کی ٹولی کو
تو وہ اپنے یاروں کی مجلس کو بلالے
یہ اپنی مجلس والوں کو بلالے
اب وہ بلالے اپنی مجلس والوں کو۔
اب پکارے اپنی مجلس کو
پس وہ اپنے ہم نشینوں کو (مدد کے لئے) بلا لے،
پس وہ اپنی مجلس کو بلا لے۔
سو وہ اپنے اہل مجلس کو بلالے
پس وہ بلاوے اپنی پارٹی کو ،
سو (اس موقع پر) وہ ضرور بلالے اپنے حامیوں کی ٹولی کو
اچھا تو یہ اپنے ہم جلسہ لوگوں کو بلالے
تو وہ بلا لے اپنی مجلس کے لوگوں کو۔
تو وہ اپنے دوستوں کو بلا لے
So let him summon his helpmates;
So let him call the men of his council,
So let him call the men of his council,
Then let him call upon his council.
Then let him call upon his henchmen!
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Then let him call his associates;
Let him call on his associates for help
Then let him summon his council,
Then, let him call his assembly,
Then, let him call (for help) to his council (of comrades):
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 6–19
طالب علم اور طالب دنیا : فرماتا ہے کہ انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اسکے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیے اور خیال رکھنا چاہیے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہوگا کہ لایا کہاں سے خرچ کہاں کیا ؟ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑافرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضامندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیاکا لالچی سرکشی اور خود پسندی میں بڑھتا رہتا ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر…
Read the full tafseer →سورة العلق 14 جیسا کہ ہم نے دیباچہ میں بیان کیا ہے ابو جہل کے دھمکی دینے پر جب رسول اللہ ﷺ نے اس کو جھڑک دیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ اے محمد، تم کس بل پر مجھے ڈراتے ہو، خدا کی قسم اس وادی میں میرے حمایتی سب سے زیادہ ہیں۔ اس پر فرمایا جارہا ہے کہ یہ بلا لے اپنے حمایتیوں کو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
لنسفعام بالنارصیتہ سفع مصدر سے مشتق ہے جس کے معنے سختی کے ساتھ کھینچنے کے ہیں اور ناصیتہ سر کے اگلے بالوں کو کہا جاتا ہے جو پیشانی کے اوپر ہوتے ہیں جس شخص کے پیشانی کے بال کسی کے ہاتھ میں آجائیں وہ اس کے ہاتھ میں مجبور و مقہور ہو کر رہ جاتا ہے۔
Read the full tafseer →سرکشوں کو چیلنج: یہ ان سرکشوں کو چیلنج ہے کہ اگر کسی کو اپنی قوت و جمعیت پر بڑا ناز ہے تو وہ اپنی ٹولی کو بلائے، ہم بھی اپنے سرہنگوں کو بلائیں گے اور دیکھیں گے کہ ان کے اندر کتنا زور ہے!۔۔۔ اس چیلنج کا عملی امتحان بعد کے دور میں سب سے پہلے بدر کے معرکہ میں ہوا اور دنیا نے دیکھ لیا کہ خدا کے سرہنگوں کے آگے قریش کی پوری قوت و جمعیت کس طرح غبار بن کر اڑ گئی۔ ’نَادِی‘ کے اصل معنی مجلس اور سوسائٹی کے ہیں۔ یہاں مراد وہ افراد ہیں جو کسی رشتۂ عصبیت کے تحت باہم دگر وابستہ ہیں۔ موقع و محل کا لحاظ کر کے اس کا ترجمہ ’ٹولی‘ یا پارٹی ہو سکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
(5) پیشانی کی یہ صفات بطور مجاز ہیں، جھوٹی ہے اپنی بات میں، خطاکار ہے اپنے فعل میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
4: یعنی اپنے مال و دولت اور سرداری کی وجہ سے اپنے آپ کو بےنیاز اور بےپرواہ سمجھتا ہے کہ کوئی مجھے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا، اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ سب کو آخر کار اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹنا ہے، وہاں یہ ساری بےنیازی اور بےپروائی دھری رہ جائے گی۔
Read the full tafseer →فلیدع نادیہ (17:96) ” وہ بلائے اپنے حامیوں کے ٹولے کو “۔ ہم بھی انتظام کرلیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
5 ابوجہل نے ایک مرتبہ حضرت محمد ﷺ کو نماز سے روکنا چاہا۔ آپ ﷺ نے سختی سے جواب دیا۔ کہنے لگا کہ کیا آپ ﷺ جانتے نہیں کہ مکہ میں سب سے بڑی مجلس میری ہے۔ اس پر فرماتے ہیں کہ اب وہ مجلس والے ساتھیوں کو بلالے۔ ہم بھی اس کی گو شمالی کے لئے اپنے سپاہی بلاتے ہیں۔ دیکھیں کون غالب رہتا ہے۔ چند روز بعد " بدر " کے میدان میں دیکھ لیا کہ اسلام کے سپاہیوں نے اسے گھسیٹا اور آخرت میں جب دوزخ کے فرشتے اس کو نہایت ذلت کے ساتھ جہنم رسید کریں گے۔ روایات میں ہے کہ ایک مرتبہ ابو جہل حضرت کو نماز میں دیکھ کر چلا کہ بےادبی کرے، وہاں پہنچانہ تھا کہ گھبرا کر پیچھے ہٹا اور لوگوں کے دریافت کرنے پر کہا کہ مجھے اپنے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
آیت 19{ کَلَّاط لَا تُطِعْہُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ۔ } ”کوئی بات نہیں ! اے نبی ﷺ آپ اس کی بات نہ مانیے ‘ آپ سجدہ کیجیے اور اللہ سے اور قریب ہوجایئے !“ آپ ﷺ اس جھوٹے ‘ غلط کار شخص کی ایک نہ سنیے۔ یہ اگر آپ کو نماز پڑھنے سے منع کرتا ہے تو اس کی پروا نہ کیجیے۔ آپ اپنے پروردگار کی جناب میں سجدے کرتے رہیے اور کثرت سجود سے اس کا قرب حاصل کرتے رہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
11 یعنی اس کی پیشانی یا دماغ میں تکبر کا جو خناس سمایا ہوا ہے۔ اگر وہ اپنی ایسی حرکتوں سے باز نہ آیا تو ہم اس کی بدکردار اور بد طینت پیشانی کو ذلیل مجرموں کی طرح پیشانی کے بالوں سے گھسیٹ کر جہنم رسید کردیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
12۔ (تو یہ مجرم اپنے دل کا حوصلہ نکال دیکھے اور معلوم کرلے کہ وہ کتنے پانی میں ہے) ابوجہل وغیرہ کو بڑا اپنے جتھے پر تھا۔ انہیں سے کہا جارہا ہے کہ اپنے جتھے والوں کو بلادیکھیں۔ (آیت) ” الزبانیۃ “۔ لفظی معنی پیادوں یا سپاہیوں کے ہیں۔ مراد دوزخ کے ملائکہ عذاب سے لی گئی ہے۔ والزبانیۃ ھم الشرط فی کلام العرب .... والمراد ملائکۃ العذاب (کشاف)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
دوسرے حصہ کا شان نزول : کلا ان الانسان لیطغنی اس سورت کا یہ حصہ اس وقت نازل ہوا جب رسول اللہ ﷺ نے حرم میں اسلامی طریقہ پر نماز پڑھنی شروع کی، ابوجہل نے آپ ﷺ کو ڈرا دھمکا کر اس سے روکنا چاہا، حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ ابوجہل نے قریش کے لوگوں سے کہا کہ محمد (ﷺ) تمہارے سامنے زمین پر اپنا منہ ٹیکتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا ہاں، اس نے کہا لات وعزی کی قسم اگر میں نے حرم میں ان کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو ان کی گردن پر پائوں رکھ دوں گا اور ان کا منہ زمین میں رگڑ دوں گا، پھر ایک روز ایسا ہوا کہ آنحضرت ﷺ کو حرم میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر وہ آگے بڑھا، تاکہ آپ ﷺ کی گردن پر پائوں رکھے، مگر…
Read the full tafseer →فلیدع نادیہ . نادی وہ اونچا مقام جہاں قوم والے جمع ہوتے ہیں۔ اس جگہ مراد ہیں نادی والے یعنی قوم ‘ قبیلہ ‘ نادی سے پہلے یا لفظ اہل محذوف ہے یعنی اہل نادی (اس وقت مجاز بالحذوف ہوگا) یا نادی کی طرف نسبت مجازاً ہے (اس وقت مجاز بالاسناد ہوگا) مطلب یہ ہے کہ (جب اس کو اپنے جتھے پر غرور ہے تو) اپنے کنبے ‘ قبیلے کو بلا لے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
(17۔ 19)۔ سو یہ ابوجہل اپنی قوم اور اپنے ساتھیوں کو بلالے ہم بھی دوزخ کے پیادوں کو بلالیں گے۔ آپ کو ابوجہل جو نماز سے روکتا ہے آپ اس کا کہنا نہ مانیے اور نماز پڑھیے اور سجدہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے رہیے۔ شان نزول فلیدع نادیہ الخ۔ اور ترمذی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک بار حضور ﷺ نماز پڑھ رہے تھے تو ابوجہل آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا میں نے آپ کو اس سے منع نہیں کیا تھا حضور نے اس کو جھڑک دیا تو کہنے لگا کہ آپ کو معلوم ہے کہ میرے سے بڑا مجمع اور کسی کے ساتھ نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی۔ فلیدع نادیہ الخ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
18(1) کلا لئن لم ینتہ ، لنسفعاً …:”لم ینتہ“ (وہ باز نہ آیا)”انتھی ینتھی انتھائ“ (افتعال) سے حجد معکم ہے۔ ”ینتہ“ اصل میں ”ینتھی“ تھا، حرف جزم ”لم“ کی وجہ سے یاء گرگئی۔ ”لنسفعاً“ اصل میں ”لنسفعن“ ہے، جو ”سفع یسفع“ (ف) (زور سے کھینچ کر گھسیٹنا) سے جمع متکلم مضارع معلوم بانون تاکید خفیہ ہے۔ چونکہ وقف کی حالت میں نون تاکید خفیفہ (الف) کے ساتھ بدل جاتا ہے، جیسا کہ نون تنوین (الف) کے ساتھ بدل جاتا ہے، اس لئے نون تنوین ”خبیراً“ اور ”بصیرات“ کی طرح اسے بھی ”لنستفعن“ کے بجائے ”لنسفعاً“ کی صورت میں لکھا گیا ہے اور اس میں مصحف عثمانی کی پیروی کی گئی ہے۔ ”ولیکونا من الصغرین“ بھی ایسے ہی ہے۔ تفصیل کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
فلیدع نادیہ، سندع الزبانیہ۔ یعنی وہ اپنے ہم مجلسوں اور قبیلہ والوں کو بلاکر ان سے مدد لے ہم بھی سخت مضبوط فرشتوں کو بلالیں گے یہ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء سے مروی ہے کسائی نے کہا، اس کا واحد زبنیہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اصل میں یہ زبان تھا، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ اسم جمع ہے جس طرح ابابیل اور عبادیا اسم جمع ہے قتادہ نے کہا، کلام عرب میں اس کا معنی سپاہی ہے یہ زبن سے ماخوذ ہے جس کا معنی دھکیلنا ہے اسی سے خریدوفروخت میں ایک قسم مزابنہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، انہیں زبانیہ کا نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ اپنے پاؤں سے اسی طرح عمل کریں گے جس طرح وہ اپنے ہاتھوں سے عمل کرت ہیں ابولیث ثمرقندی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
1۔ ابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے قرآن میں سے آیت اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وابن الضریس وابن الانباری فی المصاحف والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ وابو نعیم فی الحلیہ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ آیت اقرا باسم ربک پہلی صورت ہے جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔ 3۔ بیہقی نے الدلائل میں ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو محمد بن عباس بن جعفر المخزومی (رح) نے یہ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنے بعض علماء سے سنا کہ قرآن مجید میں سے سب سے پہلے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر نازل فرمایا وہ آیت اقرا باسم ربک سے مالم یعلم تھا اور…
Read the full tafseer →[فَلْيَدْعُ نَادِيَهٗ : پس اسے چاہیے کہ وہ بلا لے اپنے اہل مجلس کو ] نوٹ 1: ان آیات میں آخر سورة تک ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے نماز پڑھنا شروع کی تو ابوجہل نے آپ ﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا اور دھمکی دی کہ آئندہ نماز پڑھیں گے تو وہ معاذ اللہ آپ ﷺ کی گردن کو پائوں سے کچل دے گا۔ (معارف القرآن) ۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ مقام ابراہیم پر نماز پڑھ رہے تھے۔ ابوجہل کا ادھر سے گزر ہوا تو اس نے کہا کہ میں نے تم کو اس سے منع نہیں کیا تھا۔ اور اس نے آپ ﷺ کو دھمکیاں دیں۔ جواب میں آپ ﷺ نے اس کو جھڑک دیا۔ اس پر اس نے کہا کہ تم کس بل بوتے پر مجھے ڈراتے ہو۔ خدا کی قسم اس وادی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
﴿كَلَّا لَىِٕنْ لَّمْ يَنْتَهِ 1ۙ۬ لَنَسْفَعًۢا بالنَّاصِيَةِۙ0015 نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍۚ0016﴾ (خبردار اگر یہ شخص اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کو پکڑ کر گھسیٹ لیں گے جو پیشانی جھوٹی ہے خطاکار ہے) ۔ ﴿ فَلْيَدْعُ نَادِيَهٗۙ0017﴾ (سو جب وہ عذاب میں مبتلا ہو اپنی مجلس والوں کو بلا لے) ﴿ سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَۙ0018﴾ (ہم عذاب کے فرشتوں کو بلا لیں گے) جن کے سامنے اس کا کوئی بس نہیں چل سکتا۔ معالم التنزیل میں زجاج سے نقل کیا ہے کہ زبانیۃ سے دوزخ کے فرشتے مراد ہیں جنہیں سورة التحریم میں ﴿غلاظ شداد﴾ فرمایا ہے۔ نیز حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ اگر ابو جہل اپنی مجلس والوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
آغاز وحی بامر قراۃ باسم رب العالمین ومذمت وتہدید برمخالفت رسول ﷺ خدا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اقراباسم ربک الذی خلق ...... الی ...... واسجد واقترب “۔ یہ بات اجماع امت سے ثابت ہے کہ وحی الہی کا آغاز سورة اقرا کی پہلی پانچ آیات یعنی (آیت) ” اقرا باسم ربک سے علم الانسان مالم یعلم “۔ تک کے نزول سے ہوا جمہور صحابہ اور روایات صحیحہ سے بھی ثابت ہے پھر تعلیم سوال اور نماز میں پڑھنے کے لیے سورة فاتحہ نازل ہوئی تو سورتوں میں نازل ہونے والی یہ پہلی سورت ہوئی، اسی بناء پر حضرت علی ؓ سے ایک روایت میں سورة فاتحہ کی اولیت بیان کی گئی، ان پانچ آیات کے نازل ہونے کے بعد کچھ عرصہ سلسلہ وحی منقطع رہا، اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
ٖ 8:۔ ” کلا لئن “ تخویف اخروی ہے۔ اگر وہ ایذا اور شر انگیزی سے نیز تکذیب و انکار سے باز نہ آیا تو ہم قیامت کے دن اس کو پیشانی کے بالوں سے پکڑ لیں گے جو ایک جھوٹے اور مجرم کی پیشانی ہے پھر وہ اپنے تمام اہل مجلس اور تمام اعوان و انصار کو بلا لے اور ہم دوزخ کے فرشتوں کو بلائیں گے جو اسے گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دینگے، مگر اس کے اعوان و انصار کی وہاں ایک نہ چلے گی اور کوئی اس کو خدا کے عذاب سے بچا نہ سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
گزشتہ سے پیوستہ سورۃ کی ابتدائی آیات میں انسان کا ذکر ہوا۔ اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تعلیم حاصل کرنے کا حکم دیا۔ جہالت کی تاریکی کو لفظ اقرا سے دور کیا۔ علم بالقلم سے قلم کی اہمیت واضح کی اور پھر علم الانسان مالم یعلم کے ذریعے انسان پر علم کی فضیلت بیان فرمائی کہ انسان میں کمال تعلیم کے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔ اگر تعلیم نہ ہو ، تو انسان بیکار محض ہے۔ اس کی مثال علقہ یعنی گوشت کے لوتھڑے کی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ بستہ خون کے لوتھڑے کو اپنی صفت تخلیق کے ساتھ اشرف المخلوقات انسان کی شکل میں پیدا فرماتا ہے اسی طرح وہ انسان کو جہالت اور نادانی کی تاریکیوں سے نکال کر علم کی روشنی سے منور کرتا ہے۔…
Read the full tafseer →فَلْيَدْعُ نَادِيَہٗ 17 ۙ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
ترکیب ¦ کلا۔ زجر للناہی عن الصلوٰۃ والخیرات۔ لئن شرطیۃ واللام مؤطۃ للقسم ای واللہ لئن لم ینتہ عما ھو علیہ شرط النسفعاء الخ جواب الشرط۔ واصلہ لنسفعن۔ صیغۃ جمع المتکلم مع لام التاکیدونون الخفیفۃ للتاکید۔ السفع القبض علی الشیء وجذبہ ‘ بشدۃ (کشیدن) یقال سفع یسفع (سفع موئے پیشانی گرفتن (عع بفجتھما) یقال بہ سفعۃ من الشیطان ای مس و سوختن آتش و سموم روی داد رنگ گردانیدن۔ (سفعہ بالضم سیاہی کہ بسرخی زند) صراح و قریٔ لنسفعن بنون مشددۃٍ ونون المخفۃ تبدل بالالف فی الوقف لسکونھا وانفتاح ماقبلھا۔ وکتبت فی المصحف بالا لف علی حکم الوقف۔ ولما علم انھا نا صیۃ المذکور اکتفٰی ابلام العہدء عن الاضافۃ فقیل بالناصیۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
کَلاَّ لَئِنْ لَّمْ یَنْتَہِ 5 لا لَنَسْفَعًا م بِالنَّاصِیَۃِ ۔ نَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ ۔ فَلْیَدْعُ نَادِیَہٗ ۔ سَنَدْعُ الزَّبَانِیَۃَ ۔ (العلق : 15 تا 18) (ہرگز نہیں ! اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کو گھسیٹیں گے اس کی پیشانی کے بالوں سے۔ جھوٹی گنہگار پیشانی۔ پس وہ بلالے اپنے ہمنشینوں کو۔ ہم بھی عذاب کے فرشتوں کو بلائیں گے۔ ) مشکل الفاظ کی تشریح لَنَسْفَعًا، اصل میں لَنَسْفَعَنْ ہے۔ یہ فعل مضارع جمع متکلم کا صیغہ ہے۔ اس کے آخر میں ” ن “ تاکید خفیفہ ہے۔ لیکن قرآن کریم کے رسم الخط کا اتباع کرتے ہوئے اسے لَنَسْفَعًاکی صورت میں لکھا گیا ہے۔ یہ سفع سے ماخوذ ہے۔ اس کا معنی ہے کسی چیز کو مٹھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
فہم القرآن ربط کلام : باغی انسانوں میں ایک باغی کی مثال اور گھناؤنا کردار۔ مفسرین کی اکثریت نے اس آیت کا پہلا مصداق ابوجہل قرار دیا ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک دن ابوجہل قریشی سرداروں کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ جونہی محمد ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو اس کا سر کچل دوں گا۔ وہ یہ بات کررہا تھا کہ اچانک اللہ کے رسول ﷺ بیت اللہ میں داخل ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ اس کے ساتھیوں نے ابوجہل سے کہا کہ اٹھو اور اپنا وعدہ پورا کرو نبی ﷺ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوئے تو ابوجہل پتھر لے کر آگے بڑھا ابھی آپ سے چند قدم دور تھا کہ گھبرا کر اپنے ساتھیوں کی طرف مڑا۔ اس کے ساتھیوں نے…
Read the full tafseer →17 : فَلْیَدْعُ نَادِیَہٗ (پس وہ اپنے ہم مجلسوں کو بلالے)
Read the full tafseer →17 ۔” اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” فلیدع نادیہ “ یعنی اپنی قوم اور قبیلہ کو یعنی پس چاہیے کہ ان سے مدد طلب کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
6۔ 19۔ ان آیتوں کے شان نزول حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں جو ہے ان روایتوں کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل نے اپنے بتوں کی قسم کھا کر یہ کہا تھا کہ حرم شریف میں آنحضرت کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھے گا تو پیروں سے روند ڈالے گا ایک دن اس نے آپ ﷺ کو حرم میں نماز پڑھتے دیکھ کر قدم آگے بڑھایا کہ اپنی قسم پوری کرے لیکن پھر پیچھے ہٹ آیا لوگوں نے اس سے پیچھے ہٹ آنے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا مجھ کو ایک آگ کی خندق اور کچھ پر دار بازو نظر آئے۔ آنحضرت ﷺ نے اس کی یہ بات سن کر فرمایا کہ اگر ابوجہل ذرا میرے پاس اور اتا تو فرشتے اس کی بوٹیاں کر ڈالتے۔ اسی قصہ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اس طرح فرمایا کہ پہلے عام…
Read the full tafseer →(فَلْيَدْعُ نَادِيَهٗ ) یعنی یہ شخص جس پر عذاب واجب ہوچک ہے اپنے اہل مجلس، اپنے ساتھیوں اور ان لوگوں کو بلا لے جو اس کے اردگر ہیں تاکہ وہ اس عزاب کے خلاف اس کی مدد کریں جو اس پر نازل ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
14 ۔ منکروں اور متکبروں کو ان کے ہولناک انجام سے آگہی : سو منکروں اور متکبروں کو ان کے ہولناک انجام سے آگہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ایسا شخص باز نہ آیا تو ہم ضرور اس کو گھسیٹیں گے اس کی پیشانی کے بالوں کو پکڑ کر، جس طرح کہ کسی جانور کو گھسیٹا جاتا ہے، یا کسی قیدی کے ساتھ اس کی تذلیل کے لیے کیا جاتا ہے۔ چناچہ اس کے کچھ ہی بعد یہ لعین ابو جہل بدر میں ذلت کے ساتھ قتل ہو کر اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہا، اور اس کو اسی طرح گھسیٹ کر دوسرے مردود و مقتول کفار کے ساتھ ایک گڑھے (قلیب بدر) میں ڈال دیا گیا، اور اس سے بھی بڑھ کر اس کی اصل اور کامل تذلیل آخرت میں ہوگی، جہاں پر اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
انسان کی سرکشی اور اس کا انجام تشریح : ان آیات میں انسان کی غلط سوچ عمل اور خراب انجام کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کو دلیل کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے۔ کہ جو بھی ماحول ہو زمانہ ہو یا دنیا کا کوئی بھی علاقہ ہو وہاں یعنی ہمیشہ انسان کا یہی رویہ رہا ہے کہ کچھ تو اللہ کو اس کی رحمتوں سے پہچان کر اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اس کا شکر ادا کرتے ہیں جس کا بہترین طریقہ ہے اللہ کے حضور سجدہ کرنا اور کچھ ایسے خبیث فطرت ' ہٹ دھرم ' خود پسند اور نافرمان بیوقوف ہوتے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ خود ہی اللہ سے لاپرواہ اور نافرمان ہوجاتے ہیں بلکہ جو ان کے سامنے اللہ کی بات کرتے ہیں یا سجدہ کرتے ہیں وہ ان کو بھی برا بھلا کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة العلق۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ یہ پہلی پانچ آیات سب سے پہلی وحی ہیں جو غارحرا میں جبرائیل امین لائے تفصیل کتب میں دیکھی جاسکتی ہے مختصرا یہ کہ آپ غار حرا میں خلوت گیر ہوکرذات باری میں تفکر فرماتے اور ظہور کمال کی طلب بڑھتی کہ جبرائیل امین تشریف لائے پڑھنے کا حکم دیا جس پر آپ ﷺ نے فرمایا میں پڑھ نہیں سکتا تو انہوں نے تین بار بازوں میں لے کردبایا اور ہر بار پڑھنے کے لیے کہا اور یہ آیات نازل ہوئیں آپ پرہیبت وحی طاری ہوگئی کلام ذاتی تھا جس کے ساتھ ذاتی تجلیات بھی تھیں۔ حضرت خدیجہ پڑھی لکھی تھیں۔ آپ ﷺ گھرتشریف لائے حضرت خدیجہ سے فرمایا مجھے کمبل اوڑھا دیجئے انہوں نے صورت حال سنی تو عرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
ف 9 یعنی میرے مقابلہ کے لئے اپنے حمایتوں کو بلا لے۔
Read the full tafseer →(96:17) فلیدع نادیۃ : فلیدع میںمحذوف عبارت پر دلالت کرتا ہے ۔ ترمذی اور ابن حریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے اور ترمذی نے اس کو صحیح کہا ہے :۔ کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے کہ ابو جہل آگیا۔ اور کہنے لگا کہ کیا میں نے اس (نماز) سے منع نہیں کردیا تھا ۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو جھڑک دیا۔ وہ کہنے لگا کہ تو خوب جانتا ہے کہ مکہ میں میری چوپال (نشست گاہ، مجلس) سے بڑی کوئی چوپال نہیں (یعنی میرا جتھا بڑا ہے) تو مجھے جھڑکتا ہے۔ خدا کی قسم ! میں اس وادی کو تیرے خلاف اعلیٰ گھوڑوں کے سواروں اور نوجوان پیادوں سے بھر دوں گا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ (تفسیر مظہری) روح المعانی میں ہے :۔ ومر ابوجھل برسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔ اقرا۔ پڑھ۔ علق۔ جما ہو اخون۔ الاکرم۔ زیادہ محترم۔ یطغی۔ وہ سرکشی کرتا ہے۔ ینھی۔ وہ روکتا ہے۔ لم ینتہ۔ باز نہ آیا۔ نسفع۔ ہم گھسیٹیں گے۔ الناصیۃ ۔ پیشانی۔ نادیہ۔ اپنی جماعت کو۔ سندع۔ ہم بلائیں گے۔ الزبانیۃ۔ پیادے۔ اقترب۔ تو قریب ہوجا۔ تشریح : شب قدر میں قرآن کریم کی سب سے پہلی وہ آیات جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئیں سورة العلق کی ابتدائی پانچ آیات ہیں۔ اس کے بعد سورة مدثر کی ابتدائی آیتیں اور کافی عرصہ بعد سورة علق کی بقیہ چوہ آیات نازل ہوئی۔ امام بخاری (رح) نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک روایت نقل کی ہے جس کے ذریعہ سب سے پہلی وحی کی کیفیات کی تفصیلات کا علم پوری امت کو حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
(ف 3) یعنی آپ اس کی ہرگز پرواہ نہ کیجئے اور اس کی کسی بات پر کان نہ دھریے جہاں چاہو شوق سے اس کی عبات کرو اس کی بارگاہ میں سجدے کرکے بیش از بیش قرب حاصل کرتے رہو، نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ بندہ سب حالتوں سے زیادہ سجدہ میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
[8] یعنی جس سر پر چوٹی ہے وہ جھوٹ اور گناہوں سے بھرا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
ف 1: فرمایا کہ اس معاند کو بغض وعداوت کے جذبات سے باز آجانا چاہیے ۔ مال وجاہ کے غرور میں شان محمدی ﷺ کے متعلق اس درجہ گستاخانہ کلمات کا اظہار نہ کرنا چاہیے کہ اس کو اس کی پر فخار پیشانی سے جو کذب وخطا سے آلودہ ہے ۔ پکڑ کر گھسیٹا جائے گا اور ذلیل کیا جائے گا ۔ یہ اللہ کی اٹل وعید ہے ۔ جس کے واقع ہونے میں کوئی شبہ نہیں ۔ یہ جائے اور ہمنشینوں کو حمایت کے لئے بلالے ۔ ہم بھی اپنے فرشتوں کو بلا رہے ہیں ۔ ہم کہے دیتے ہیں کہ یہ اپنی تمام مساعی تحقیر میں ناکام رہے گا اور آپ بدستور اطاعت و سجدہ میں قرب خداوندی کے حصول میں کوشاں رہیں گے ۔ چناچہ بالکل یہی ہوا اور حضور ﷺ کا مشن کامیاب ہوا ۔ سینکڑوں جبینیں…
Read the full tafseer →(17) اس سے کہو یہ اپنی مجلس کے ہم نشینوں کو بلالے - یعنی جن پر گھمنڈ کرتا ہے ان کو پکار کر بلالے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–17
ف 4۔ یہ آیت ابوجہل کے متعلق نازل ہوئی تھی جس نے آنحضرت ﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا تھا۔
Read the full tafseer →پس چاہیے کہ وہ اپنی مجلس کے لوگوں کو حق کے مقابلہ میں بلا لے 17 ؎ ( فلیدع) یدع واحد مذکر غائب امر دعاء مصدر اس کو دعا کرنی چاہیے ۔ امر غائب اس کو پکارنا چاہیے ۔ اس کو بلانا چاہیے۔ ( نادیہ) نادیٰ اسم مضاف منصوب ہٗ ضمیر مضاف الیہ اپنی مجلس اور اپنی مجلس کے ساتھیوں کو ۔ مطلب یہ یہ کہ ہمارے بندے کو نماز سے روکنے والا اگر اتنا زیادہ بڑھ گیا ہے کہ نہ تو اس نے رسول کا خیال کیا جو انسانوں سے ایک نہایت ہی بہترین انسان ہے اور نہ ہی اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا خیال کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف ہے پھر ان ساری باتوں کے باوجود اس نے ہمارے رسول ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کو نماز سے روکنے کی کوشش کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
Verse [ 15 - concluding part ] لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ (...We will certainly drag [ him ] by forelock.) The nasfa'an is derived from the infinitive safuun which means 'to seize and drag' and the word nasiyah means 'forelock', that is, the front part of a person's hair that falls forward over the forehead. When a person's forelock is seized, he becomes helpless in the hands of the seizer.
Read the full tafseer →14 As we have explained in the Introduction, when the Holy Prophet (upon whom be peace) rebuked Abu Jahl on his foolish behaviour, he had retorted: "O Muhammad, on what strength do you threaten me? By God, my supporters in this valley far exceed yours in number." At this it is being said: "Let him call his band of supporters."
Read the full tafseer →