Al-Alaq 96:16

Al-Alaq · from ayah 16

96:16

نَاصِیَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ ۟ۚنَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ‌

یعنی اس جھوٹے خطاکار کی پیشانی کے بال

— Fateh Muhammad Jalandhari

A lying, sinning forelock.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Alaq

All translations of 96:16

اُس پیشانی کو جو جھوٹی اور سخت خطا کار ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یعنی اس جھوٹے خطاکار کی پیشانی کے بال

— مولانا فتح محمد جالندہری

ایسی پیشانی جو جھوٹی خطا کار ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس پیشانی کے بال جو جھوٹی ہے، گنہگار ہے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیسی پیشانی جھوٹی خطاکار،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ پیشانی جو جھوٹی (اور) خطا کار ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پیشانی کے ان بالوں کے ساتھ جو جھوٹے ہیں، خطا کار ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ پیشانی جو جھوٹی اور خطاکار ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جھوٹی نابکار، گنہگار چوٹی !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ایسی پیشانی (کے بالوں) سے جو کہ جھوٹی خطاکار ہے

— مولانا اسحاق مدنی

پیشانی (بھی کیسی ؟) دورغ وخطا میں آلودہ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ پیشانی کہ جو خطاکار ہے جھوٹی ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یعنی اس جھوٹے خطا کار کی پیشانی کے بال

— محترمہ رفعت اعجاز

by the lying forelock steeped in sin.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

a lying, sinful forelock.

— Muhammad Taqi Usmani

a lying, sinful forelock.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

A lying, sinful forehead!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

A lying, sinning forelock.

— Saheeh International

his lying sinful forelock.

— Muhammad Sarwar

A lying, sinful forehead.

— Muhammad Habib Shakir

A forelock, lying, sinning.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 96:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–19

طالب علم اور طالب دنیا : فرماتا ہے کہ انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اسکے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیے اور خیال رکھنا چاہیے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہوگا کہ لایا کہاں سے خرچ کہاں کیا ؟ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑافرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضامندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیاکا لالچی سرکشی اور خود پسندی میں بڑھتا رہتا ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–18

لنسفعام بالنارصیتہ سفع مصدر سے مشتق ہے جس کے معنے سختی کے ساتھ کھینچنے کے ہیں اور ناصیتہ سر کے اگلے بالوں کو کہا جاتا ہے جو پیشانی کے اوپر ہوتے ہیں جس شخص کے پیشانی کے بال کسی کے ہاتھ میں آجائیں وہ اس کے ہاتھ میں مجبور و مقہور ہو کر رہ جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ ’اَلنَّاصِیَۃِ‘ سے بدل ہے۔ اگرچہ دونوں میں معرفہ اور نکرہ کا فرق ہے لیکن نکرہ موصوف ہو تو معرفہ سے بدل پڑ سکتا ہے۔ یہاں اس جوش غضب پر خاص طور سے نگاہ رہے جو اس آیت کے ہر لفظ سے ابل رہا ہے۔ ان نابکاروں کی چوٹی کا ذکر انتہائی غضب آلود الفاظ میں فرمایا: ’نابکار اور گنہ گار چوٹی!!‘۔۔۔ چہرہ اور پیشانی آدمی کی ذات کے سب سے اشرف حصے ہیں اس وجہ سے ان سے بعض اوقات اس کی پوری شخصیت تعبیر کر دی جاتی ہے۔ یہاں یہی صورت ہے۔ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ آدمی کی پیشانی کے لیے سب سے بڑا شرف سجدوں کا نشان ہے۔ اگر کوئی شخص اتنا شقی ہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ خود سجدہ نہیں کرتا بلکہ دوسروں کو سجدہ کرنے سے روکتا بھی ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 16–17

(5) پیشانی کی یہ صفات بطور مجاز ہیں، جھوٹی ہے اپنی بات میں، خطاکار ہے اپنے فعل میں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–17

4: یعنی اپنے مال و دولت اور سرداری کی وجہ سے اپنے آپ کو بےنیاز اور بےپرواہ سمجھتا ہے کہ کوئی مجھے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا، اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ سب کو آخر کار اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹنا ہے، وہاں یہ ساری بےنیازی اور بےپروائی دھری رہ جائے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ناصیة کاذبة (16:96) ” یہ جھوٹی پیشانی ہے “۔ اور یہ چونکہ پکڑ دھکڑ کا مقام ہے اور ایسے مواقع پر لوگ یاروں مددگاروں کو بلاتے ہیں تو کہہ دیا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی جس سر پر یہ چوٹی ہے وہ جھوٹ اور گناہوں سے بھرا ہوا ہے گویا اس کا دروغ اور گناہ بال بال میں سرایت کر گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 13–19

آیت 19{ کَلَّاط لَا تُطِعْہُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ۔ } ”کوئی بات نہیں ! اے نبی ﷺ آپ اس کی بات نہ مانیے ‘ آپ سجدہ کیجیے اور اللہ سے اور قریب ہوجایئے !“ آپ ﷺ اس جھوٹے ‘ غلط کار شخص کی ایک نہ سنیے۔ یہ اگر آپ کو نماز پڑھنے سے منع کرتا ہے تو اس کی پروا نہ کیجیے۔ آپ اپنے پروردگار کی جناب میں سجدے کرتے رہیے اور کثرت سجود سے اس کا قرب حاصل کرتے رہیے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 16–17

11 یعنی اس کی پیشانی یا دماغ میں تکبر کا جو خناس سمایا ہوا ہے۔ اگر وہ اپنی ایسی حرکتوں سے باز نہ آیا تو ہم اس کی بدکردار اور بد طینت پیشانی کو ذلیل مجرموں کی طرح پیشانی کے بالوں سے گھسیٹ کر جہنم رسید کردیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 15–16

11۔ ہر زبان کے اسلوب بیان الگ الگ ہوتے ہیں۔ جس طرح اردو محاورہ میں ” سر پر غرور “ خرام ناز “ وغیرہ چلے ہوئے ہیں عربی محاورہ میں پیشانی کو خطا آلود ودروغ آلود کہنے کا رواج ہے۔ (آیت) ” لنسفعابالناصیۃ “۔ یہ پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹنا کنایہ ذلت و خواری سے ہے۔ (آیت) ” لئن لم ینتہ “۔ سے فقہاء مفسرین نے یہ نکتہ نکالا ہے کہ توبہ ہر حال میں مقبول اور موجب دفع عذاب ہے (آیت) ” خاطءۃ “۔ یعنی اپنے فہم اور اعمال میں خطاکار۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 6–19

دوسرے حصہ کا شان نزول : کلا ان الانسان لیطغنی اس سورت کا یہ حصہ اس وقت نازل ہوا جب رسول اللہ ﷺ نے حرم میں اسلامی طریقہ پر نماز پڑھنی شروع کی، ابوجہل نے آپ ﷺ کو ڈرا دھمکا کر اس سے روکنا چاہا، حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ ابوجہل نے قریش کے لوگوں سے کہا کہ محمد (ﷺ) تمہارے سامنے زمین پر اپنا منہ ٹیکتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا ہاں، اس نے کہا لات وعزی کی قسم اگر میں نے حرم میں ان کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو ان کی گردن پر پائوں رکھ دوں گا اور ان کا منہ زمین میں رگڑ دوں گا، پھر ایک روز ایسا ہوا کہ آنحضرت ﷺ کو حرم میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر وہ آگے بڑھا، تاکہ آپ ﷺ کی گردن پر پائوں رکھے، مگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ناصیۃ کاذبۃ خاطءۃ . جھوٹی گناہگار پیشانی۔ کاذبۃ اور خاطءۃ پیشانی کی صفت مجازاً ہے اور ناصیۃٍ ‘ الناصیۃ سے بدل ہے۔ ترمذی (رح) اور ابن جریر (رح) نے حضرت ابن عباس کی روایت نقل کی ہے اور ترمذی (رح) نے اس کو صحیح کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے ‘ ابوجہل آگیا اور کہنے لگا : کیا میں نے تجھے اس (نماز) سے منع نہیں کردیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو جھڑک دیا ‘ کہنے لگا تو خوب جانتا ہے کہ مکہ میں میری چوپال (نشست گاہ ‘ مجلس) سے بڑی کوئی چوپال نہیں (یعنی میرا جتھا بڑا ہے) تو مجھے جھڑکتا ہے۔ خدا کی قسم ! میں اس وادی کو تیرے خلاف اعلیٰ گھوڑوں کے سواروں اور نوجوان پیادوں سے بھر دوں گا ‘ اس پر مندرجہ ذیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 14–16

(14۔ 16) کیا ابو جہل کو خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی اس بےہودہ حرکت کو دیکھ رہے ہیں ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہیے اگر اب بھی ابوجہل نے حضور ﷺ کو تکلیف پہنچانے سے توبہ نہ کی تو ہم اس کے پیشانی کے بال پکڑ کر جو کہ جھوٹ اور شرک میں آلودہ ہیں جہنم کی طرف گھسیٹیں گے۔ شان نزول : اَرَاَیْتَ الَّذِیْ یَنْھٰہُ الخ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نماز پڑھ رہے تھے تو آپ کے پاس ابو جہل آیا اور آپ کو نماز پڑھنے سے روکا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی۔ ارَایت الَّذِیْ ینھی سے ناصیۃ کاذبۃ خاطئۃ تک۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 15–18

18(1) کلا لئن لم ینتہ ، لنسفعاً …:”لم ینتہ“ (وہ باز نہ آیا)”انتھی ینتھی انتھائ“ (افتعال) سے حجد معکم ہے۔ ”ینتہ“ اصل میں ”ینتھی“ تھا، حرف جزم ”لم“ کی وجہ سے یاء گرگئی۔ ”لنسفعاً“ اصل میں ”لنسفعن“ ہے، جو ”سفع یسفع“ (ف) (زور سے کھینچ کر گھسیٹنا) سے جمع متکلم مضارع معلوم بانون تاکید خفیہ ہے۔ چونکہ وقف کی حالت میں نون تاکید خفیفہ (الف) کے ساتھ بدل جاتا ہے، جیسا کہ نون تنوین (الف) کے ساتھ بدل جاتا ہے، اس لئے نون تنوین ”خبیراً“ اور ”بصیرات“ کی طرح اسے بھی ”لنستفعن“ کے بجائے ”لنسفعاً“ کی صورت میں لکھا گیا ہے اور اس میں مصحف عثمانی کی پیروی کی گئی ہے۔ ”ولیکونا من الصغرین“ بھی ایسے ہی ہے۔ تفصیل کے لئے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 15–16

کلا لئن لم ینتہ۔۔۔ تا۔۔۔ خاطئیہ۔ یعنی اے محمد اگر ابوجہل اس سے نہ رکا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑیں گے اور اسے ذلیل ورسوا کریں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ہم قیامت کے روز اس کی پیشانی پکڑیں گے اسے اس کے قدموں کے ساتھ لپیت دیا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، فیوخذ بالنواصی والاقدام۔ الرحمن) اسے پیشانی کے بالوں اور قدموں سے پکڑاجائے گا آیت اگر ابوجہل کے حق میں ہوتویہ لوگوں کے لیے نصیحت ہوگی اور جو طاعت سے خود رکتا ہے اور لوگوں کو روکتا ہے اس کے لیے دھمکی ہے، اہل لغت کہتے ہیں، سفعت بالشئی جب تو اس پر قبضہ کرلے اور اسختی سے اپنی طرف کھینچے یہ جملہ بولا جاتا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–19

1۔ ابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے قرآن میں سے آیت اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وابن الضریس وابن الانباری فی المصاحف والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ وابو نعیم فی الحلیہ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ آیت اقرا باسم ربک پہلی صورت ہے جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔ 3۔ بیہقی نے الدلائل میں ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو محمد بن عباس بن جعفر المخزومی (رح) نے یہ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنے بعض علماء سے سنا کہ قرآن مجید میں سے سب سے پہلے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر نازل فرمایا وہ آیت اقرا باسم ربک سے مالم یعلم تھا اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[نَاصِيَةٍ : ایک ایسی پیشانی سے جو ][ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ : جھوٹی خطاکار ہے۔] (آیت۔ 16) ۔ نَاصِیَۃٍ سابقہ آیت میں بِالنَّاصِیَۃِ کا بدل ہونے کی وجہ سے حالت جَر میں ہے اور یہ نکرہ موصوفہ ہے۔ حالانکہ بِالنَّاصِیَۃِ معرفہ ہے اور اس کا بدل نَاصِیَۃٍ نکرہ ہے۔ لیکن نکرہ موصوف ہو تو معرفہ سے بدل پڑ سکتا ہے۔ (تدبر قرآن) کَاذِبَۃٍ اور خَاطِئَۃٍ اس کی صفت ہونے کی وجہ سے حالت جَر میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–18

﴿كَلَّا لَىِٕنْ لَّمْ يَنْتَهِ 1ۙ۬ لَنَسْفَعًۢا بالنَّاصِيَةِۙ0015 نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍۚ0016﴾ (خبردار اگر یہ شخص اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کو پکڑ کر گھسیٹ لیں گے جو پیشانی جھوٹی ہے خطاکار ہے) ۔ ﴿ فَلْيَدْعُ نَادِيَهٗۙ0017﴾ (سو جب وہ عذاب میں مبتلا ہو اپنی مجلس والوں کو بلا لے) ﴿ سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَۙ0018﴾ (ہم عذاب کے فرشتوں کو بلا لیں گے) جن کے سامنے اس کا کوئی بس نہیں چل سکتا۔ معالم التنزیل میں زجاج سے نقل کیا ہے کہ زبانیۃ سے دوزخ کے فرشتے مراد ہیں جنہیں سورة التحریم میں ﴿غلاظ شداد﴾ فرمایا ہے۔ نیز حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ اگر ابو جہل اپنی مجلس والوں کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–19

آغاز وحی بامر قراۃ باسم رب العالمین ومذمت وتہدید برمخالفت رسول ﷺ خدا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اقراباسم ربک الذی خلق ...... الی ...... واسجد واقترب “۔ یہ بات اجماع امت سے ثابت ہے کہ وحی الہی کا آغاز سورة اقرا کی پہلی پانچ آیات یعنی (آیت) ” اقرا باسم ربک سے علم الانسان مالم یعلم “۔ تک کے نزول سے ہوا جمہور صحابہ اور روایات صحیحہ سے بھی ثابت ہے پھر تعلیم سوال اور نماز میں پڑھنے کے لیے سورة فاتحہ نازل ہوئی تو سورتوں میں نازل ہونے والی یہ پہلی سورت ہوئی، اسی بناء پر حضرت علی ؓ سے ایک روایت میں سورة فاتحہ کی اولیت بیان کی گئی، ان پانچ آیات کے نازل ہونے کے بعد کچھ عرصہ سلسلہ وحی منقطع رہا، اور اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 15–18

ٖ 8:۔ ” کلا لئن “ تخویف اخروی ہے۔ اگر وہ ایذا اور شر انگیزی سے نیز تکذیب و انکار سے باز نہ آیا تو ہم قیامت کے دن اس کو پیشانی کے بالوں سے پکڑ لیں گے جو ایک جھوٹے اور مجرم کی پیشانی ہے پھر وہ اپنے تمام اہل مجلس اور تمام اعوان و انصار کو بلا لے اور ہم دوزخ کے فرشتوں کو بلائیں گے جو اسے گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دینگے، مگر اس کے اعوان و انصار کی وہاں ایک نہ چلے گی اور کوئی اس کو خدا کے عذاب سے بچا نہ سکے گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–19

گزشتہ سے پیوستہ سورۃ کی ابتدائی آیات میں انسان کا ذکر ہوا۔ اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تعلیم حاصل کرنے کا حکم دیا۔ جہالت کی تاریکی کو لفظ اقرا سے دور کیا۔ علم بالقلم سے قلم کی اہمیت واضح کی اور پھر علم الانسان مالم یعلم کے ذریعے انسان پر علم کی فضیلت بیان فرمائی کہ انسان میں کمال تعلیم کے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔ اگر تعلیم نہ ہو ، تو انسان بیکار محض ہے۔ اس کی مثال علقہ یعنی گوشت کے لوتھڑے کی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ بستہ خون کے لوتھڑے کو اپنی صفت تخلیق کے ساتھ اشرف المخلوقات انسان کی شکل میں پیدا فرماتا ہے اسی طرح وہ انسان کو جہالت اور نادانی کی تاریکیوں سے نکال کر علم کی روشنی سے منور کرتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

نَاصِيَۃٍ كَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ۝ 16 ۭ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے خطأ الخَطَأ : العدول عن الجهة، وذلک أضرب : أحدها : أن ترید غير ما تحسن إرادته فتفعله، وهذا هو الخطأ التامّ المأخوذ به الإنسان، يقال : خَطِئَ يَخْطَأُ ، خِطْأً ، وخِطْأَةً ، قال تعالی: إِنَّ قَتْلَهُمْ كانَ خِطْأً كَبِيراً…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–19

ترکیب ¦ کلا۔ زجر للناہی عن الصلوٰۃ والخیرات۔ لئن شرطیۃ واللام مؤطۃ للقسم ای واللہ لئن لم ینتہ عما ھو علیہ شرط النسفعاء الخ جواب الشرط۔ واصلہ لنسفعن۔ صیغۃ جمع المتکلم مع لام التاکیدونون الخفیفۃ للتاکید۔ السفع القبض علی الشیء وجذبہ ‘ بشدۃ (کشیدن) یقال سفع یسفع (سفع موئے پیشانی گرفتن (عع بفجتھما) یقال بہ سفعۃ من الشیطان ای مس و سوختن آتش و سموم روی داد رنگ گردانیدن۔ (سفعہ بالضم سیاہی کہ بسرخی زند) صراح و قریٔ لنسفعن بنون مشددۃٍ ونون المخفۃ تبدل بالالف فی الوقف لسکونھا وانفتاح ماقبلھا۔ وکتبت فی المصحف بالا لف علی حکم الوقف۔ ولما علم انھا نا صیۃ المذکور اکتفٰی ابلام العہدء عن الاضافۃ فقیل بالناصیۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–18

کَلاَّ لَئِنْ لَّمْ یَنْتَہِ 5 لا لَنَسْفَعًا م بِالنَّاصِیَۃِ ۔ نَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ ۔ فَلْیَدْعُ نَادِیَہٗ ۔ سَنَدْعُ الزَّبَانِیَۃَ ۔ (العلق : 15 تا 18) (ہرگز نہیں ! اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کو گھسیٹیں گے اس کی پیشانی کے بالوں سے۔ جھوٹی گنہگار پیشانی۔ پس وہ بلالے اپنے ہمنشینوں کو۔ ہم بھی عذاب کے فرشتوں کو بلائیں گے۔ ) مشکل الفاظ کی تشریح لَنَسْفَعًا، اصل میں لَنَسْفَعَنْ ہے۔ یہ فعل مضارع جمع متکلم کا صیغہ ہے۔ اس کے آخر میں ” ن “ تاکید خفیفہ ہے۔ لیکن قرآن کریم کے رسم الخط کا اتباع کرتے ہوئے اسے لَنَسْفَعًاکی صورت میں لکھا گیا ہے۔ یہ سفع سے ماخوذ ہے۔ اس کا معنی ہے کسی چیز کو مٹھی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–19

فہم القرآن ربط کلام : باغی انسانوں میں ایک باغی کی مثال اور گھناؤنا کردار۔ مفسرین کی اکثریت نے اس آیت کا پہلا مصداق ابوجہل قرار دیا ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک دن ابوجہل قریشی سرداروں کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ جونہی محمد ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو اس کا سر کچل دوں گا۔ وہ یہ بات کررہا تھا کہ اچانک اللہ کے رسول ﷺ بیت اللہ میں داخل ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ اس کے ساتھیوں نے ابوجہل سے کہا کہ اٹھو اور اپنا وعدہ پورا کرو نبی ﷺ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوئے تو ابوجہل پتھر لے کر آگے بڑھا ابھی آپ سے چند قدم دور تھا کہ گھبرا کر اپنے ساتھیوں کی طرف مڑا۔ اس کے ساتھیوں نے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

16 : نَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ (جھوٹی خطأ میں آلودہ پیشانی) یہ الناصیہ سے بدل ہے کیونکہ اس کی صفت کا ذبہ آرہی ہے اور دوسری صفت خاطئہ ہے اس میں کذب و خطأ کی نسبت مجازی ہے۔ یہ دونوں صاحب ناصیہ کی صفتیں ہیں۔ اور اس میں جو حسن و عمدگی ہے حقیقت میں وہ اس طرح کہنے میں کہاں ہے۔ ناصیۃ کاذب خاطی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

16 ۔” پھر بدل پر فرمایا ” ناصیۃ کاذبۃ خاطئۃ “ یعنی اس پیشانی والا جھوٹا خطاکار ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جب ابوجہل نے رسول اللہ ﷺ کو نماز سے روکا تو آپ (علیہ السلام) نے اس کو جھڑکا تو ابوجہل کہنے لگا کیا آپ مجھے جھڑکتے ہیں ؟ پس اللہ کی قسم میں آپ پر اس وادی کو بھردوں گا۔ اگر میں چاہوں تیز رفتار گھوڑوں اور بےریش نوجوانوں سے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–19

6۔ 19۔ ان آیتوں کے شان نزول حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں جو ہے ان روایتوں کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل نے اپنے بتوں کی قسم کھا کر یہ کہا تھا کہ حرم شریف میں آنحضرت کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھے گا تو پیروں سے روند ڈالے گا ایک دن اس نے آپ ﷺ کو حرم میں نماز پڑھتے دیکھ کر قدم آگے بڑھایا کہ اپنی قسم پوری کرے لیکن پھر پیچھے ہٹ آیا لوگوں نے اس سے پیچھے ہٹ آنے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا مجھ کو ایک آگ کی خندق اور کچھ پر دار بازو نظر آئے۔ آنحضرت ﷺ نے اس کی یہ بات سن کر فرمایا کہ اگر ابوجہل ذرا میرے پاس اور اتا تو فرشتے اس کی بوٹیاں کر ڈالتے۔ اسی قصہ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اس طرح فرمایا کہ پہلے عام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ ) پیشانی اپنے قول میں جھوٹی اور اپنے فعل میں خطا کار ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 16–17

14 ۔ منکروں اور متکبروں کو ان کے ہولناک انجام سے آگہی : سو منکروں اور متکبروں کو ان کے ہولناک انجام سے آگہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ایسا شخص باز نہ آیا تو ہم ضرور اس کو گھسیٹیں گے اس کی پیشانی کے بالوں کو پکڑ کر، جس طرح کہ کسی جانور کو گھسیٹا جاتا ہے، یا کسی قیدی کے ساتھ اس کی تذلیل کے لیے کیا جاتا ہے۔ چناچہ اس کے کچھ ہی بعد یہ لعین ابو جہل بدر میں ذلت کے ساتھ قتل ہو کر اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہا، اور اس کو اسی طرح گھسیٹ کر دوسرے مردود و مقتول کفار کے ساتھ ایک گڑھے (قلیب بدر) میں ڈال دیا گیا، اور اس سے بھی بڑھ کر اس کی اصل اور کامل تذلیل آخرت میں ہوگی، جہاں پر اس کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–19

انسان کی سرکشی اور اس کا انجام تشریح : ان آیات میں انسان کی غلط سوچ عمل اور خراب انجام کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کو دلیل کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے۔ کہ جو بھی ماحول ہو زمانہ ہو یا دنیا کا کوئی بھی علاقہ ہو وہاں یعنی ہمیشہ انسان کا یہی رویہ رہا ہے کہ کچھ تو اللہ کو اس کی رحمتوں سے پہچان کر اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اس کا شکر ادا کرتے ہیں جس کا بہترین طریقہ ہے اللہ کے حضور سجدہ کرنا اور کچھ ایسے خبیث فطرت ' ہٹ دھرم ' خود پسند اور نافرمان بیوقوف ہوتے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ خود ہی اللہ سے لاپرواہ اور نافرمان ہوجاتے ہیں بلکہ جو ان کے سامنے اللہ کی بات کرتے ہیں یا سجدہ کرتے ہیں وہ ان کو بھی برا بھلا کہتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة العلق۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ یہ پہلی پانچ آیات سب سے پہلی وحی ہیں جو غارحرا میں جبرائیل امین لائے تفصیل کتب میں دیکھی جاسکتی ہے مختصرا یہ کہ آپ غار حرا میں خلوت گیر ہوکرذات باری میں تفکر فرماتے اور ظہور کمال کی طلب بڑھتی کہ جبرائیل امین تشریف لائے پڑھنے کا حکم دیا جس پر آپ ﷺ نے فرمایا میں پڑھ نہیں سکتا تو انہوں نے تین بار بازوں میں لے کردبایا اور ہر بار پڑھنے کے لیے کہا اور یہ آیات نازل ہوئیں آپ پرہیبت وحی طاری ہوگئی کلام ذاتی تھا جس کے ساتھ ذاتی تجلیات بھی تھیں۔ حضرت خدیجہ پڑھی لکھی تھیں۔ آپ ﷺ گھرتشریف لائے حضرت خدیجہ سے فرمایا مجھے کمبل اوڑھا دیجئے انہوں نے صورت حال سنی تو عرض…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(96:16) ناصیۃ کاذبۃ خاطئۃ : وہ پیشانی جو جھوٹی (اور) خطاکار ہے پیشانی پر جو بال ہوتے ہیں اس کو ناصیۃ کہا جاتا ہے لیکن مراد اس سے پورا شخص بھی لیا جاتا ہے۔ اس لئے آیت کا مطلب ہوگا :۔ یہ ناہنجار سراسر جھوٹا اور خطاکار ہے۔ کاذبۃ : کذب سے (باب ضرب) مصدر سے۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے جھوٹی۔ خاطئۃ : خطاء (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث۔ خطاکار گنہگار۔ ناصیۃ بدل ہے الناصیۃ (آیت 15 مذکورہ بالا) سے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–19

لغات القرآن۔ اقرا۔ پڑھ۔ علق۔ جما ہو اخون۔ الاکرم۔ زیادہ محترم۔ یطغی۔ وہ سرکشی کرتا ہے۔ ینھی۔ وہ روکتا ہے۔ لم ینتہ۔ باز نہ آیا۔ نسفع۔ ہم گھسیٹیں گے۔ الناصیۃ ۔ پیشانی۔ نادیہ۔ اپنی جماعت کو۔ سندع۔ ہم بلائیں گے۔ الزبانیۃ۔ پیادے۔ اقترب۔ تو قریب ہوجا۔ تشریح : شب قدر میں قرآن کریم کی سب سے پہلی وہ آیات جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئیں سورة العلق کی ابتدائی پانچ آیات ہیں۔ اس کے بعد سورة مدثر کی ابتدائی آیتیں اور کافی عرصہ بعد سورة علق کی بقیہ چوہ آیات نازل ہوئی۔ امام بخاری (رح) نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک روایت نقل کی ہے جس کے ذریعہ سب سے پہلی وحی کی کیفیات کی تفصیلات کا علم پوری امت کو حاصل…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–19

(ف 3) یعنی آپ اس کی ہرگز پرواہ نہ کیجئے اور اس کی کسی بات پر کان نہ دھریے جہاں چاہو شوق سے اس کی عبات کرو اس کی بارگاہ میں سجدے کرکے بیش از بیش قرب حاصل کرتے رہو، نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ بندہ سب حالتوں سے زیادہ سجدہ میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–16

ابوجہل کی گستاخی 1: ان آیتوں میں ایک خاص واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ جب عبدکامل اظہار عبودیت ونیامندی کے لئے اللہ کے حضور میں کھڑے ہوتے ہیں تو ایک بدبخت ازلی مضحکہ اڑاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں ان کو ان کے سامنے جھکنے نہیں دوں گا ۔ اور اگر اب کی جھکیں گے تو ان کی گردن ناپوں گا ۔ گویا نماز سے روکتا ہے ۔ عبادت سے منع کرتا ہے ۔ محض اس جرم میں کہ وہ راہ راست پر گامزن کیوں ہیں اور تقویٰ وپرہیزگاری کی کیوں تلقین کرتے ہیں ۔ یہ محروم وبدنصیب دلائل نبوت کو دیکھتا ہے اور تکذیب و روگردانی کرتا ہے ۔ کیا یہ نہیں جانتا کہ اللہ اس کی ان حرکات کو جانتا ہے ۔ یہ عبد کامل حضور ﷺ ہیں ۔ اور یہ بدبخت ازل ابوجہل ہے ۔ حل…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(16) وہ پیشانی جو جھوٹی اور خطاکار ہے - حضرت حق تعالیٰ کی طرف سے ابوجہل کو دھمکی اور جھڑکی ہے کہ اس کو ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہیے اور ہمارے پیغمبر کی عبادت میں خواہ وہ نماز ہو یا تبلیغ ہو اس کو مداخلت نہیں کرنا چاہیے اچھا اگر وہ اپنی ان حرکات ناشائستہ سے باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ گھسیٹیں گے۔ پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچنا انتہائی ذلت کی نشانی ہے یعنی جہنم میں ڈال دیں گے اس کی پیشانی جھوٹی اور خطاکار ہے ہوسکتا ہے کہ یہ تذلیل دنیا میں بھی ہو اور آخرت میں بھی ہو جیسا کہ بدر میں ہوا کہ اس کو قتل کرنے کے بعد اس کے کان میں رسی باندھ کر عبداللہ بن مسعود ؓ اس کو گھسیٹتے ہوئے حضور ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–17

ف 4۔ یہ آیت ابوجہل کے متعلق نازل ہوئی تھی جس نے آنحضرت ﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس پیشانی کو جو جھوٹی بھی ہے اور خطا کار بھی 16 ؎ ( ناصیۃ) اسم نکرہ مفرد پیشانی کو کہتے ہیں لیکن اس سے مراد پورا انسان ہی کیا جاتا ہے کسی ایک جزء کا نام لے کر پورا انسان یعنی کل مراد لیا جاتا ہے اور یہ ساری زبانوں میں مستعمل ہے ۔ انسان کی پیشانی ایک ہی ہوتی ہے اور یہ بھی کہ انسان کے جتنے اعضاء کو عزت و احترام والے سمجھا جاتا ہے ان سب سے پیشانی کو زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔ کسی شخص کو پیشانی سے پکڑنے سے مراد اس کو نہایت ذلیل کرنا مراد لیا جاتا ہے اور یہی مفہوم اس جگہ مراد ہے ۔ فرمایا جا رہا ہے کہ یہ پیشانی ایسے شخص کی ہے جو جھوٹا بھی ہے اور غلط کار بھی ہے اور اس قابل ہے کہ اس کو مٹی میں رگڑا جائے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–18

Verse [ 15 - concluding part ] لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ (...We will certainly drag [ him ] by forelock.) The nasfa'an is derived from the infinitive safuun which means 'to seize and drag' and the word nasiyah means 'forelock', that is, the front part of a person's hair that falls forward over the forehead. When a person's forelock is seized, he becomes helpless in the hands of the seizer.

Read the full tafseer →