Explained with ayahs 6–19
طالب علم اور طالب دنیا :
فرماتا ہے کہ انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اسکے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیے اور خیال رکھنا چاہیے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہوگا کہ لایا کہاں سے خرچ کہاں کیا ؟ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑافرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضامندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیاکا لالچی سرکشی اور خود پسندی میں بڑھتا رہتا ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر…
Read the full tafseer →سورة العلق 12
یعنی یہ شخص جو دھمکی دیتا ہے کہ اگر محمد ﷺ نماز پڑھیں گے تو وہ ان کی گردن کو پاؤں سے دبا دے گا، یہ ہرگز ایسا نہ کرسکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
لنسفعام بالنارصیتہ سفع مصدر سے مشتق ہے جس کے معنے سختی کے ساتھ کھینچنے کے ہیں اور ناصیتہ سر کے اگلے بالوں کو کہا جاتا ہے جو پیشانی کے اوپر ہوتے ہیں جس شخص کے پیشانی کے بال کسی کے ہاتھ میں آجائیں وہ اس کے ہاتھ میں مجبور و مقہور ہو کر رہ جاتا ہے۔
Read the full tafseer →سرکشوں کو تند الفاظ میں وعید: یہ اس قسم کے سرکشوں کو نہایت تند الفاظ میں وعید ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ ان حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کی چوٹی پکڑ کر گھسیٹیں گے۔ ’نَاصِیَۃٌ‘ پیشانی اور پیشانی پر بکھرے ہوئے بالوں کو کہتے ہیں۔ ’سَفْعٌ‘ کسی چیز کو مٹھی میں پکڑ کر کھینچنے اور گھسیٹنے کے معنی میں آتا ہے۔ سورۂ رحمان میں اسی طرح کے سرکشوں کے بارے میں فرمایا ہے:
’فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ وَالْأَقْدَامِ‘ (الرحمن ۵۵: ۴۱)
(پس وہ چوٹیوں اور ٹانگوں سے پکڑ کر جہنم میں پھینک دیے جائیں گے)۔
Read the full tafseer →15۔ 1 یعنی نبی ﷺ کی مخالفت اور دشمنی سے اور آپ ﷺ کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے، اس سے باز نہ آیا تو میں اس کی گردن پر پاؤں رکھ دونگا۔ (یعنی اسے روندوں گا اور یوں ذلیل کرونگا) نبی ﷺ کو یہ بات پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا۔ اگر وہ ایسا کرتا تو فرشتے اسے پکڑ لیتے (صحیح بخاری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
4: یعنی اپنے مال و دولت اور سرداری کی وجہ سے اپنے آپ کو بےنیاز اور بےپرواہ سمجھتا ہے کہ کوئی مجھے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا، اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ سب کو آخر کار اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹنا ہے، وہاں یہ ساری بےنیازی اور بےپروائی دھری رہ جائے گی۔
Read the full tafseer →یہ ایک واضح اور براہ راست دھمکی ہے اور ہے بھی شدید الفاظ میں۔
کلالئن ........................ بالنا صیة (15:96) “” ہرگز نہیں ! اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے “۔ یوں
لنسفعاکا تلفظ بھی شدید اور اس کی آواز بھی سختی اس کے مفہوم کی سختی پر دلالت کرتی ہے۔ سفع کے معنی سختی سے پکڑنے کے ہیں۔ ناصیہ کا مفہوم ہے پیشانی۔ پیشانی سرکشوں اور متکبرین کے اظہار کبر کے لئے اونچا مقام ہے۔ ایسے لوگ سر کو بلند رکھتے ہیں اور سر کی بلندی کے وقت پھر پیشانی سے بلند ہوتی ہے۔ لہٰذا ایسی پیشانی کو پکڑ کر گرانا ہی مناسب ہے۔ کیونکہ
Read the full tafseer →3 یعنی رہنے دو ! یہ سب کچھ جانتا ہے، پر اپنی شرارت سے باز نہیں آتا۔ اچھا اب کان کھول کر سن لے کہ اگر اپنی شرارت سے باز نہ آیا تو ہم اس کو جانوروں اور ذلیل قیدیوں کی طرح سر کے بل پکڑ کر گھسیٹیں گے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
آیت 19{ کَلَّاط لَا تُطِعْہُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ۔ } ”کوئی بات نہیں ! اے نبی ﷺ آپ اس کی بات نہ مانیے ‘ آپ سجدہ کیجیے اور اللہ سے اور قریب ہوجایئے !“
آپ ﷺ اس جھوٹے ‘ غلط کار شخص کی ایک نہ سنیے۔ یہ اگر آپ کو نماز پڑھنے سے منع کرتا ہے تو اس کی پروا نہ کیجیے۔ آپ اپنے پروردگار کی جناب میں سجدے کرتے رہیے اور کثرت سجود سے اس کا قرب حاصل کرتے رہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
10 یعنی ایک طرف تو اللہ کا ایک بندہ اللہ کی عبادت میں مصروف ہے، وہ خود بھی اللہ سے ڈرتا ہے۔ دوسروں کو بھی اللہ سے ڈر کر زندگی بسر کرنے کا حکم دیتا ہے۔ دوسری طرف اللہ کا باغی ہے دعوت حق کو ٹھکراتا ہے اور از راہ تکبر منہ پھیر کر چل دیتا ہے پھر وہ اپنے آپ کو حق پر بھی سمجھتا ہے۔ ذرا سوچو ! اس اللہ کے باغی کی عقل پر پتھر نہیں پڑگئے۔ اسے یہ بھی خیال نہیں آتا کہ کسی کے اعمال خواہ اسے ناپسند ہوں بہرحال اسے اللہ کی عبادت سے کبھی نہ روکنا چاہیے۔ پھر وہ یہ بھی نہیں سوچتا کہ اللہ اس کو بھی دیکھ رہا ہے اور اس اللہ کے باغی کو بھی۔ ان میں سے جو شخص جس سلوک کا مستحق ہوگا اللہ اس سے ویسا ہی سلوک کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
11۔ ہر زبان کے اسلوب بیان الگ الگ ہوتے ہیں۔ جس طرح اردو محاورہ میں ” سر پر غرور “ خرام ناز “ وغیرہ چلے ہوئے ہیں عربی محاورہ میں پیشانی کو خطا آلود ودروغ آلود کہنے کا رواج ہے۔ (آیت) ” لنسفعابالناصیۃ “۔ یہ پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹنا کنایہ ذلت و خواری سے ہے۔ (آیت) ” لئن لم ینتہ “۔ سے فقہاء مفسرین نے یہ نکتہ نکالا ہے کہ توبہ ہر حال میں مقبول اور موجب دفع عذاب ہے (آیت) ” خاطءۃ “۔ یعنی اپنے فہم اور اعمال میں خطاکار۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
دوسرے حصہ کا شان نزول :
کلا ان الانسان لیطغنی اس سورت کا یہ حصہ اس وقت نازل ہوا جب رسول اللہ ﷺ نے حرم میں اسلامی طریقہ پر نماز پڑھنی شروع کی، ابوجہل نے آپ ﷺ کو ڈرا دھمکا کر اس سے روکنا چاہا، حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ ابوجہل نے قریش کے لوگوں سے کہا کہ محمد (ﷺ) تمہارے سامنے زمین پر اپنا منہ ٹیکتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا ہاں، اس نے کہا لات وعزی کی قسم اگر میں نے حرم میں ان کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو ان کی گردن پر پائوں رکھ دوں گا اور ان کا منہ زمین میں رگڑ دوں گا، پھر ایک روز ایسا ہوا کہ آنحضرت ﷺ کو حرم میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر وہ آگے بڑھا، تاکہ آپ ﷺ کی گردن پر پائوں رکھے، مگر…
Read the full tafseer →کلا . نماز سے روکنے والے مکذب کو بازداشت ہے ‘ وہ ہرگز ایسا نہ کرے۔
لئن لم ینتہ . اگر وہ کار خیر کو روکنے اور تکذیب حق کرنے اور ایمان سے روگرداں ہونے سے باز نہ آئے گا۔
لنسفعا . تو ہم پکڑ کر کھینچیں گے ‘ یہ لفظاً جواب قسم ہے اور معنیً شرط کی جزاء نون تاکید ساکن (لَنَسْفَعَنْ ) کو بصورتِ
تنوین لکھا جاتا ہے (یہی اس جگہ رسم خط ہے) سفعٌ کا معنی ہے کسی چیز کو پکڑنا اور زور سے کھینچنا ‘ مطلب یہ ہے کہ ہم اس کو کھینچ کر دوزخ کی طرف لے جائیں گے۔
بالناصیۃ . اس کی پیشانی کے بالوں سے ‘ الف لام مضاف الیہ کے عوض ہے۔ الناصیۃ۔ سر کا اگلا حصہ یعنی پیشانی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
(14۔ 16) کیا ابو جہل کو خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی اس بےہودہ حرکت کو دیکھ رہے ہیں ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہیے اگر اب بھی ابوجہل نے حضور ﷺ کو تکلیف پہنچانے سے توبہ نہ کی تو ہم اس کے پیشانی کے بال پکڑ کر جو کہ جھوٹ اور شرک میں آلودہ ہیں جہنم کی طرف گھسیٹیں گے۔
شان نزول : اَرَاَیْتَ الَّذِیْ یَنْھٰہُ الخ
ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نماز پڑھ رہے تھے تو آپ کے پاس ابو جہل آیا اور آپ کو نماز پڑھنے سے روکا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی۔ ارَایت الَّذِیْ ینھی سے ناصیۃ کاذبۃ خاطئۃ تک۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
18(1) کلا لئن لم ینتہ ، لنسفعاً …:”لم ینتہ“ (وہ باز نہ آیا)”انتھی ینتھی انتھائ“ (افتعال) سے حجد معکم ہے۔ ”ینتہ“ اصل میں ”ینتھی“ تھا، حرف جزم ”لم“ کی وجہ سے یاء گرگئی۔ ”لنسفعاً“ اصل میں ”لنسفعن“ ہے، جو ”سفع یسفع“ (ف) (زور سے کھینچ کر گھسیٹنا) سے جمع متکلم مضارع معلوم بانون تاکید خفیہ ہے۔ چونکہ وقف کی حالت میں نون تاکید خفیفہ (الف) کے ساتھ بدل جاتا ہے، جیسا کہ نون تنوین (الف) کے ساتھ بدل جاتا ہے، اس لئے نون تنوین ”خبیراً“ اور ”بصیرات“ کی طرح اسے بھی ”لنستفعن“ کے بجائے ”لنسفعاً“ کی صورت میں لکھا گیا ہے اور اس میں مصحف عثمانی کی پیروی کی گئی ہے۔ ”ولیکونا من الصغرین“ بھی ایسے ہی ہے۔ تفصیل کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
کلا لئن لم ینتہ۔۔۔ تا۔۔۔ خاطئیہ۔
یعنی اے محمد اگر ابوجہل اس سے نہ رکا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑیں گے اور اسے ذلیل ورسوا کریں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ہم قیامت کے روز اس کی پیشانی پکڑیں گے اسے اس کے قدموں کے ساتھ لپیت دیا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، فیوخذ بالنواصی والاقدام۔ الرحمن) اسے پیشانی کے بالوں اور قدموں سے پکڑاجائے گا آیت اگر ابوجہل کے حق میں ہوتویہ لوگوں کے لیے نصیحت ہوگی اور جو طاعت سے خود رکتا ہے اور لوگوں کو روکتا ہے اس کے لیے دھمکی ہے، اہل لغت کہتے ہیں، سفعت بالشئی جب تو اس پر قبضہ کرلے اور اسختی سے اپنی طرف کھینچے یہ جملہ بولا جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
1۔ ابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے قرآن میں سے آیت اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی۔
2۔ ابن ابی شیبہ وابن الضریس وابن الانباری فی المصاحف والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ وابو نعیم فی الحلیہ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ آیت اقرا باسم ربک پہلی صورت ہے جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔
3۔ بیہقی نے الدلائل میں ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو محمد بن عباس بن جعفر المخزومی (رح) نے یہ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنے بعض علماء سے سنا کہ قرآن مجید میں سے سب سے پہلے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر نازل فرمایا وہ آیت اقرا باسم ربک سے مالم یعلم تھا اور…
Read the full tafseer →[كَلَّا لَىِنْ لَمْ يَنْتَهِ : ہرگز نہیں ! بیشک اگر وہ باز نہ آیا ][ لَنَسْفَعًۢا بِالنَاصِيَةِ : تو ہم ضرور پکڑ کر گھسیٹیں گے (اس کو) پیشانی کے بال سے ]
سع
[سَفْعًا : (ف) کسی کو پکڑ کر گھسیٹنا۔ کھینچنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 15 ۔]
(آیت۔ 15) یَنْتَہِ دراصل مضارع یَنْتَھِیْ ہے۔ اس کو لَمْ نے مجزوم کیا تو یا گرگئی۔ لَنَسْفَعًا دراصل مضارع نَسْفَعُ ہے۔ اس پر لام تاکید اور نون خفیفہ داخل ہوا تو یہ لَنَسْفَعَنْ ہوگیا اور عربی میں یہ اسی طرح لکھا جاتا ہے۔ یہ قرآن کا مخصوص املا ہے کہ نون خفیفہ کی جگہ تنوین لگا کر الف کا اضافہ کردیتے ہیں۔ ایسا قرآن میں صرف دو مرتبہ ہوا ہے۔ ایک اس جگہ اور دوسری سورة یوسف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
﴿كَلَّا لَىِٕنْ لَّمْ يَنْتَهِ 1ۙ۬ لَنَسْفَعًۢا بالنَّاصِيَةِۙ0015 نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍۚ0016﴾ (خبردار اگر یہ شخص اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کو پکڑ کر گھسیٹ لیں گے جو پیشانی جھوٹی ہے خطاکار ہے) ۔ ﴿ فَلْيَدْعُ نَادِيَهٗۙ0017﴾ (سو جب وہ عذاب میں مبتلا ہو اپنی مجلس والوں کو بلا لے) ﴿ سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَۙ0018﴾ (ہم عذاب کے فرشتوں کو بلا لیں گے) جن کے سامنے اس کا کوئی بس نہیں چل سکتا۔ معالم التنزیل میں زجاج سے نقل کیا ہے کہ زبانیۃ سے دوزخ کے فرشتے مراد ہیں جنہیں سورة التحریم میں ﴿غلاظ شداد﴾ فرمایا ہے۔ نیز حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ اگر ابو جہل اپنی مجلس والوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
آغاز وحی بامر قراۃ باسم رب العالمین ومذمت وتہدید برمخالفت رسول ﷺ خدا :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اقراباسم ربک الذی خلق ...... الی ...... واسجد واقترب “۔
یہ بات اجماع امت سے ثابت ہے کہ وحی الہی کا آغاز سورة اقرا کی پہلی پانچ آیات یعنی (آیت) ” اقرا باسم ربک سے علم الانسان مالم یعلم “۔ تک کے نزول سے ہوا جمہور صحابہ اور روایات صحیحہ سے بھی ثابت ہے پھر تعلیم سوال اور نماز میں پڑھنے کے لیے سورة فاتحہ نازل ہوئی تو سورتوں میں نازل ہونے والی یہ پہلی سورت ہوئی، اسی بناء پر حضرت علی ؓ سے ایک روایت میں سورة فاتحہ کی اولیت بیان کی گئی، ان پانچ آیات کے نازل ہونے کے بعد کچھ عرصہ سلسلہ وحی منقطع رہا، اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
ٖ 8:۔ ” کلا لئن “ تخویف اخروی ہے۔ اگر وہ ایذا اور شر انگیزی سے نیز تکذیب و انکار سے باز نہ آیا تو ہم قیامت کے دن اس کو پیشانی کے بالوں سے پکڑ لیں گے جو ایک جھوٹے اور مجرم کی پیشانی ہے پھر وہ اپنے تمام اہل مجلس اور تمام اعوان و انصار کو بلا لے اور ہم دوزخ کے فرشتوں کو بلائیں گے جو اسے گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دینگے، مگر اس کے اعوان و انصار کی وہاں ایک نہ چلے گی اور کوئی اس کو خدا کے عذاب سے بچا نہ سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
گزشتہ سے پیوستہ
سورۃ کی ابتدائی آیات میں انسان کا ذکر ہوا۔ اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تعلیم حاصل کرنے کا حکم دیا۔ جہالت کی تاریکی کو لفظ اقرا سے دور کیا۔ علم بالقلم سے قلم کی اہمیت واضح کی اور پھر علم الانسان مالم یعلم کے ذریعے انسان پر علم کی فضیلت بیان فرمائی کہ انسان میں کمال تعلیم کے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔ اگر تعلیم نہ ہو ، تو انسان بیکار محض ہے۔ اس کی مثال علقہ یعنی گوشت کے لوتھڑے کی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ بستہ خون کے لوتھڑے کو اپنی صفت تخلیق کے ساتھ اشرف المخلوقات انسان کی شکل میں پیدا فرماتا ہے اسی طرح وہ انسان کو جہالت اور نادانی کی تاریکیوں سے نکال کر علم کی روشنی سے منور کرتا ہے۔…
Read the full tafseer →كَلَّا لَىِٕنْ لَّمْ يَنْتَہِ 0ۥۙ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِيَۃِ 15 ۙ
كلا
كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] .
کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
ترکیب ¦ کلا۔ زجر للناہی عن الصلوٰۃ والخیرات۔ لئن شرطیۃ واللام مؤطۃ للقسم ای واللہ لئن لم ینتہ عما ھو علیہ شرط النسفعاء الخ جواب الشرط۔ واصلہ لنسفعن۔ صیغۃ جمع المتکلم مع لام التاکیدونون الخفیفۃ للتاکید۔ السفع القبض علی الشیء وجذبہ ‘ بشدۃ (کشیدن) یقال سفع یسفع (سفع موئے پیشانی گرفتن (عع بفجتھما) یقال بہ سفعۃ من الشیطان ای مس و سوختن آتش و سموم روی داد رنگ گردانیدن۔ (سفعہ بالضم سیاہی کہ بسرخی زند) صراح و قریٔ لنسفعن بنون مشددۃٍ ونون المخفۃ تبدل بالالف فی الوقف لسکونھا وانفتاح ماقبلھا۔ وکتبت فی المصحف بالا لف علی حکم الوقف۔ ولما علم انھا نا صیۃ المذکور اکتفٰی ابلام العہدء عن الاضافۃ فقیل بالناصیۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
کَلاَّ لَئِنْ لَّمْ یَنْتَہِ 5 لا لَنَسْفَعًا م بِالنَّاصِیَۃِ ۔ نَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ ۔ فَلْیَدْعُ نَادِیَہٗ ۔ سَنَدْعُ الزَّبَانِیَۃَ ۔ (العلق : 15 تا 18)
(ہرگز نہیں ! اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کو گھسیٹیں گے اس کی پیشانی کے بالوں سے۔ جھوٹی گنہگار پیشانی۔ پس وہ بلالے اپنے ہمنشینوں کو۔ ہم بھی عذاب کے فرشتوں کو بلائیں گے۔ )
مشکل الفاظ کی تشریح
لَنَسْفَعًا، اصل میں لَنَسْفَعَنْ ہے۔ یہ فعل مضارع جمع متکلم کا صیغہ ہے۔ اس کے آخر میں ” ن “ تاکید خفیفہ ہے۔ لیکن قرآن کریم کے رسم الخط کا اتباع کرتے ہوئے اسے لَنَسْفَعًاکی صورت میں لکھا گیا ہے۔ یہ سفع سے ماخوذ ہے۔ اس کا معنی ہے کسی چیز کو مٹھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
فہم القرآن
ربط کلام : باغی انسانوں میں ایک باغی کی مثال اور گھناؤنا کردار۔
مفسرین کی اکثریت نے اس آیت کا پہلا مصداق ابوجہل قرار دیا ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک دن ابوجہل قریشی سرداروں کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ جونہی محمد ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو اس کا سر کچل دوں گا۔ وہ یہ بات کررہا تھا کہ اچانک اللہ کے رسول ﷺ بیت اللہ میں داخل ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ اس کے ساتھیوں نے ابوجہل سے کہا کہ اٹھو اور اپنا وعدہ پورا کرو نبی ﷺ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوئے تو ابوجہل پتھر لے کر آگے بڑھا ابھی آپ سے چند قدم دور تھا کہ گھبرا کر اپنے ساتھیوں کی طرف مڑا۔ اس کے ساتھیوں نے…
Read the full tafseer →15 : کَلَّا ( ہرگز نہیں) اس میں ابو جہل کو عبادت الٰہی سے روکنے پر ڈانٹ پلائی گئی ہے۔ اور اس بات پر بھی کہ وہ دوسروں کو بتوں کی عبادت کا حکم دیتا ہے۔ لَپنْ لَّمْ یَنْتَہِ (اگر یہ شخص باز نہ آوے گا) اس حرکت سے جو وہ کر رہا ہے۔ لَنَسْفَعًام بِالنَّاصِیَۃِ (تو ہم پیشانی کے بال پکڑ کر اس کو گھسیٹیں گے) ہم اس کی پیشانی کے بالوں سے پکڑیں گے اور ضرور اس کو گھسیٹیں گے آگ کی طرف۔ السفعؔ کسی چیز کو ہاتھ سے پکڑنا اور زور سے کھینچنا۔
قراءت : اور اس کی کتابت قرآن مجید میں الف کے ساتھ حکم وقف کی بناء پر ہے۔
نحو : الناصیۃ کی الف لام عہد خارجی کی ہے جو لاکر اضافت سے مستغنی کردیا۔ اس لئے کہ یہ معلوم ہے کہ اس…
Read the full tafseer →15 ۔” کلا “ وہ یہ نہیں جانتا۔” لئن لم ینتہ “ محمد ﷺ کو تکلیف دینے اور آپ کی تکذیب کرنے سے۔ ” لنسفعا بالناصیۃ “ ہم اس کی پیشانی سے پکڑیں گے پھر اس کو کھینچ کر جہنم میں ڈال دیں گے۔ جیسا کہ فرمایا ” فیوخذ بالنواصی والاقدام “ کہا جاتا ہے ” سعفت بالشی “ جب تونے اس کو پکڑا اور سخت کھینچا اور ناصیۃ سر کے اگلے حصہ کے بال۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
6۔ 19۔ ان آیتوں کے شان نزول حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں جو ہے ان روایتوں کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل نے اپنے بتوں کی قسم کھا کر یہ کہا تھا کہ حرم شریف میں آنحضرت کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھے گا تو پیروں سے روند ڈالے گا ایک دن اس نے آپ ﷺ کو حرم میں نماز پڑھتے دیکھ کر قدم آگے بڑھایا کہ اپنی قسم پوری کرے لیکن پھر پیچھے ہٹ آیا لوگوں نے اس سے پیچھے ہٹ آنے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا مجھ کو ایک آگ کی خندق اور کچھ پر دار بازو نظر آئے۔ آنحضرت ﷺ نے اس کی یہ بات سن کر فرمایا کہ اگر ابوجہل ذرا میرے پاس اور اتا تو فرشتے اس کی بوٹیاں کر ڈالتے۔ اسی قصہ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اس طرح فرمایا کہ پہلے عام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
(اَلَمْ يَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى) کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھتا ہے جو عمل کرتا ہے وہ اور جو فعل وہ سرانجام دیتا ہے ؟ اگر وہ اپنے حال پر جما رہا تو اس کو وعید سنائی، پس فرمایا (كَلَّا لَىِٕنْ لَّمْ يَنْتَهِ ڏ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ ) جو کچھ وہ کہتا اور کرتا ہے اگر اس سے باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کو بڑی سختی سے پکڑیں گے اور یہ اسی کی مستحق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
13 ۔ اصلاح احوال کے لیے ایک انقلاب آفریں درس : سو منکر انسان کو تنبیہ و تذکیر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا یہ شخص جانتا نہیں اس حقیقت کو اللہ دیکھتا ہے سب کچھ ؟ وہ اپنے محبوب کی مظلومیت کو بھی دیکھ رہا ہے، اور ان ظالم و سرکش لوگوں کے ظلم و سرکشی کو بھی اور سی کے مطابق اس کے یہاں سے ہر ایک کو اس کے کیے کرائے کا بدلہ ملے گا، پس اس ظالم و سرکش کو چاہیے کہ وہ خود دیکھ لے کہ میں کدھر جارہا ہوں، اور کس برے انجام کی طرف بڑھ رہا ہوں، والعیاذ باللہ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ سرکشوں اور منکروں کی وہ ساری تعدیاں اور زیادتیاں دیکھ رہا ہے، جو وہ حق اور داعی حق کے بارے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
انسان کی سرکشی اور اس کا انجام
تشریح : ان آیات میں انسان کی غلط سوچ عمل اور خراب انجام کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کو دلیل کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے۔ کہ جو بھی ماحول ہو زمانہ ہو یا دنیا کا کوئی بھی علاقہ ہو وہاں یعنی ہمیشہ انسان کا یہی رویہ رہا ہے کہ کچھ تو اللہ کو اس کی رحمتوں سے پہچان کر اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اس کا شکر ادا کرتے ہیں جس کا بہترین طریقہ ہے اللہ کے حضور سجدہ کرنا اور کچھ ایسے خبیث فطرت ' ہٹ دھرم ' خود پسند اور نافرمان بیوقوف ہوتے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ خود ہی اللہ سے لاپرواہ اور نافرمان ہوجاتے ہیں بلکہ جو ان کے سامنے اللہ کی بات کرتے ہیں یا سجدہ کرتے ہیں وہ ان کو بھی برا بھلا کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة العلق۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
یہ پہلی پانچ آیات سب سے پہلی وحی ہیں جو غارحرا میں جبرائیل امین لائے تفصیل کتب میں دیکھی جاسکتی ہے مختصرا یہ کہ آپ غار حرا میں خلوت گیر ہوکرذات باری میں تفکر فرماتے اور ظہور کمال کی طلب بڑھتی کہ جبرائیل امین تشریف لائے پڑھنے کا حکم دیا جس پر آپ ﷺ نے فرمایا میں پڑھ نہیں سکتا تو انہوں نے تین بار بازوں میں لے کردبایا اور ہر بار پڑھنے کے لیے کہا اور یہ آیات نازل ہوئیں آپ پرہیبت وحی طاری ہوگئی کلام ذاتی تھا جس کے ساتھ ذاتی تجلیات بھی تھیں۔
حضرت خدیجہ پڑھی لکھی تھیں۔
آپ ﷺ گھرتشریف لائے حضرت خدیجہ سے فرمایا مجھے کمبل اوڑھا دیجئے انہوں نے صورت حال سنی تو عرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
ف 8 مطلب یہ ہے کہ ابوجہل مردود چاہے سیدھے راستہ پر ہو (جیسا کہ وہ اپنے آپ کو سمجھتا تھا اور چاہے دین حق کا منکر دونوں صورتوں میں اسے سمجھنا چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کی ہر حرکت کو دیکھ رہا ہے اور وہ یہ کبھی پسند نہیں کرتا کہ اس کے کسی بندے کو نماز پڑھنے سے روکا جائے۔
Read the full tafseer →(96:15) کلا۔ ہرگز نہیں ۔ یہ شخص جو دھمکی دیتا ہے کہ اگر محمد ﷺ نماز پڑھیں گے تو وہ ان کی گردن پاؤں سے دبا دوں گا۔ یہ ہرگز ایسا نہ کرسکے گا۔ ردع للنا ہی اللعین وزجر لہ۔ (روح المعانی)
منع کرنے والے لعین کی باز داشت اور ڈانٹ کے لئے ہے۔ یہاں لعین سے مراد ابو جہل ہے لئن لم ینتہ لام موطئۃ للقسیم ہے ای واللہ : ان شرطیہ۔ لم ینتہ مضارع نفی جحد بلم کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ انتھاء (افتعال) مصدر سے وہ نہیں رکا۔ وہ باز نہیں آیا۔ ینتہ اصل میں ینتھی تھا۔ عمل لم کی وجہ سے ی ساقط ہوگئی۔ خدا کی قسم اگر وہ باز نہ آیا۔
لنسفعا۔ اصل میں لنسفعن تھا۔ مضارع بلام تاکید جواب شرط کا ہے۔ ونون تاکید کا صیغہ جمع متکلم ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔
اقرا۔ پڑھ۔ علق۔ جما ہو اخون۔ الاکرم۔ زیادہ محترم۔ یطغی۔ وہ سرکشی کرتا ہے۔ ینھی۔ وہ روکتا ہے۔ لم ینتہ۔ باز نہ آیا۔ نسفع۔ ہم گھسیٹیں گے۔ الناصیۃ ۔ پیشانی۔ نادیہ۔ اپنی جماعت کو۔ سندع۔ ہم بلائیں گے۔ الزبانیۃ۔ پیادے۔ اقترب۔ تو قریب ہوجا۔
تشریح : شب قدر میں قرآن کریم کی سب سے پہلی وہ آیات جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئیں سورة العلق کی ابتدائی پانچ آیات ہیں۔ اس کے بعد سورة مدثر کی ابتدائی آیتیں اور کافی عرصہ بعد سورة علق کی بقیہ چوہ آیات نازل ہوئی۔ امام بخاری (رح) نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک روایت نقل کی ہے جس کے ذریعہ سب سے پہلی وحی کی کیفیات کی تفصیلات کا علم پوری امت کو حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
(ف 3) یعنی آپ اس کی ہرگز پرواہ نہ کیجئے اور اس کی کسی بات پر کان نہ دھریے جہاں چاہو شوق سے اس کی عبات کرو اس کی بارگاہ میں سجدے کرکے بیش از بیش قرب حاصل کرتے رہو، نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ بندہ سب حالتوں سے زیادہ سجدہ میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →[7] یعنی وہ ہرگز ایسا نہ کرسکے گا جس کی وہ دھمکی دے رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
ابوجہل کی گستاخی
1: ان آیتوں میں ایک خاص واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ جب عبدکامل اظہار عبودیت ونیامندی کے لئے اللہ کے حضور میں کھڑے ہوتے ہیں تو ایک بدبخت ازلی مضحکہ اڑاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں ان کو ان کے سامنے جھکنے نہیں دوں گا ۔ اور اگر اب کی جھکیں گے تو ان کی گردن ناپوں گا ۔ گویا نماز سے روکتا ہے ۔ عبادت سے منع کرتا ہے ۔ محض اس جرم میں کہ وہ راہ راست پر گامزن کیوں ہیں اور تقویٰ وپرہیزگاری کی کیوں تلقین کرتے ہیں ۔ یہ محروم وبدنصیب دلائل نبوت کو دیکھتا ہے اور تکذیب و روگردانی کرتا ہے ۔ کیا یہ نہیں جانتا کہ اللہ اس کی ان حرکات کو جانتا ہے ۔ یہ عبد کامل حضور ﷺ ہیں ۔ اور یہ بدبخت ازل ابوجہل ہے ۔
حل…
Read the full tafseer →(15) ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہیے اچھا اگر یہ شخص باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی یعنی پیشانی کے بال پکڑ کر اس کو گھسیٹیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–17
ف 4۔ یہ آیت ابوجہل کے متعلق نازل ہوئی تھی جس نے آنحضرت ﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا تھا۔
Read the full tafseer →ہرگز نہیں ، اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے
15 ؎ اس طرح کا بیان کیا حیثیت رکھتا ہے ؟ سب کو معلوم ہے کہ سر کشوں کی سر کشی کو دیکھ دیکھ کر اور برداشت کر کر کے انسان جب تنگ آجاتا ہے تو اس کے لہجہ میں درشتی اور سختی آ ہی جاتی ہے ۔ یہی بات اس جگہ ہوئی ہے کہ ایسوں کو جنہوں نے نبی اعظم و آخر ﷺ کی تکذیب کی ، آپ ﷺ کو صلوٰۃ جیسی عبادت سے منع کرنے میں سر توڑ کوشش کی بلکہ مزاحمت کردی پھر جب ان کو سمجھایا بجھایا گیا تو وہ اپنے اس رویہ سے باز نہ آئے بلکہ اس رویہ میں مزید سختی شروع کردی اس لیے ان کے جواب میں اب ذرا سخت الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اور وہ بھی ان کو تنبیہ کرتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
Verse [ 15 - concluding part ] لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ (...We will certainly drag [ him ] by forelock.) The nasfa'an is derived from the infinitive safuun which means 'to seize and drag' and the word nasiyah means 'forelock', that is, the front part of a person's hair that falls forward over the forehead. When a person's forelock is seized, he becomes helpless in the hands of the seizer.
Read the full tafseer →12 That is, the person who threatens that he would trample the neck of Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) down when he performed the Prayer, would never be able to do so.
Read the full tafseer →