Al-Alaq 96:14

Al-Alaq · from ayah 14

96:14

اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ یَرٰی ۟ؕاَلَمۡ يَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰىؕ

کیااس کو معلوم نہیں کہ خدا دیکھ رہا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Does he not know that Allah sees?

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 21 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Alaq

All translations of 96:14

کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیااس کو معلوم نہیں کہ خدا دیکھ رہا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا اس نے نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ اسے خوب دیکھ رہا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کیا حال ہوگا کیا نہ جانا کہ اللہ دیکھ رہا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا وہ نہیں جانتا کہ اﷲ (اس کے سارے کردار کو) دیکھ رہا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو کیا اس نے یہ نہ جانا کہ یقینا اللہ دیکھ رہا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تو کیا وہ یہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا اس نے نہیں جانا کہ اللہ دیکھ رہا ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا اسے یہ خبر نہیں کہ بیشک اللہ (سب کچھ جانتا) دیکھتا ہے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کیا اسے خبر نہیں کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا یہ جانتا نہیں کہ اللہ دیکھ رہا ہے !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا اس کو معلوم نہیں کہ اللہ دیکھتا ہے۔ (دیکھ رہا ہے)

— محترمہ رفعت اعجاز

Does he not know that Allah sees everything?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

does he not know that Allah is watching (him) ?

— Muhammad Taqi Usmani

does he not know that Allah is watching (him) ?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Knows he not that Allah sees

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Does he not know that Allah sees?

— Saheeh International

Does he not realize that God sees him?

— Muhammad Sarwar

Does he not know that Allah does see?

— Muhammad Habib Shakir

Knoweth he not that Allah beholdeth?

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 96:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–19

طالب علم اور طالب دنیا : فرماتا ہے کہ انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اسکے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیے اور خیال رکھنا چاہیے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہوگا کہ لایا کہاں سے خرچ کہاں کیا ؟ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑافرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضامندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیاکا لالچی سرکشی اور خود پسندی میں بڑھتا رہتا ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العلق 11 بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ہر انصاف پسند شخص مخاطب ہے۔ اس سے پوچھا جارہا ہے کہ تم نے دیکھی اس شخص کی حرکت جو خدا کی عبادت کرنے سے ایک بندے کو روکتا ہے ؟ تمہارا کیا خیال ہے اگر وہ بندہ راہ راست پر ہو، یا لوگوں کو خدا سے ڈرنے اور برے کاموں سے روکنے کی کوشش کرتا ہو، اور یہ منع کرنے والا حق کو جھٹلاتا اور اس سے منہ موڑتا ہو، تو اس کی یہ حرکت کیسی ہے ؟ کیا یہ شخص یہ روش اختیار کرسکتا تھا اگر اسے یہ معلوم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کو بھی دیکھ رہا ہے جو نیکی کا کام کرتا ہے اور اس کو بھی دیکھ رہا ہے جو حق کو جھٹلانے اور اس سے روگردانی کرنے میں لگا ہوا ہے ؟ ظالم کے ظلم اور مظلوم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–14

ارءیت الذی ینھی عبداً اذا صلی، اس آیت سے آخر سورة تک ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہی کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو نماز پڑھنے کا حکم دیا اور آپ نے نماز پڑھنا شروع کی تو ابوجہل نے آپ کو نماز پڑھنے سے روکا اور دھمکی دی کہ آئندہ نماز پڑھیں گے اور سجدہ کریں گے تو وہ معاذ اللہ آپ کی گردن کو پاؤں سے کچل دے گا، اس کے جواب اور اس کو زجر کرنے کے لئے یہ آیات آئی ہیں ان میں فرمایا الم یعلم بان اللہ یریٰ یعنی کیا وہ یہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے، یہاں یہ ذکر نہیں فرمایا کہ کس کو دیکھ رہا ہے اس لئے عام اور شامل ہے کہ نماز پڑھنے والی بزرگ ہستی کو بھی دیکھ رہا ہے اور اس سے روکنے والے بدبخت کو بھی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی کیا اس نے نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ اس کی یہ ساری تعدیاں دیکھ رہا ہے! اگر وہ دیکھ رہا ہے اور ضرور دیکھ رہا ہے تو اس کا انتقام وہ ضرور لے گا۔ وہ عادل، رحیم، عزیز اور غیور ہے۔ اس کے بندے اگر اس کی بندگی سے روکے جائیں تو وہ کس طرح گوارا کر سکتا ہے کہ وہ تماشائی بن کر اس کا تماشا دیکھتا رہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

3۔ 1 مطلب یہ ہے کہ یہ شخص جو مذکورہ حرکتیں کر رہا ہے کیا نہیں جانتا کہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے وہ اس کو اسکی سزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–17

4: یعنی اپنے مال و دولت اور سرداری کی وجہ سے اپنے آپ کو بےنیاز اور بےپرواہ سمجھتا ہے کہ کوئی مجھے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا، اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ سب کو آخر کار اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹنا ہے، وہاں یہ ساری بےنیازی اور بےپروائی دھری رہ جائے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

الم ........................ یری (14:96) ” کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے “۔ اللہ دیکھ رہا ہے کہ یہ شخص ناحق تکذیب کررہا ہے اور ناحق منہ موڑ رہا ہے اور یہ بندہ مومن نبی ﷺ کو ناحق نماز سے بھی روکتا ہے جبکہ نبی ﷺ ہدایت پر ہیں اور تقویٰ کا حکم دیتے ہیں اور آخرت کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ الم ........................ یری (14:96) ” کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے “۔ یہ ایک منظر ہے جس میں ایک شخص دعوت اسلامی کی راہ رو کھڑا ہے ، ایمان کی راہ رو کے ہوئے ہے۔ اطاعت وتقویٰ کی راہ روکے ہوئے ہے۔ ایسے شخص کو اب آخری دھمکی دی جاتی ہے لیکن اس بات پر کھلی دھمکی ہے بغیر لاگ لپیٹ کے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی اس ملعون کی شرارتوں کو اور اس نیک بندے کے خشوع و خضوع کو اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 13–19

آیت 19{ کَلَّاط لَا تُطِعْہُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ۔ } ”کوئی بات نہیں ! اے نبی ﷺ آپ اس کی بات نہ مانیے ‘ آپ سجدہ کیجیے اور اللہ سے اور قریب ہوجایئے !“ آپ ﷺ اس جھوٹے ‘ غلط کار شخص کی ایک نہ سنیے۔ یہ اگر آپ کو نماز پڑھنے سے منع کرتا ہے تو اس کی پروا نہ کیجیے۔ آپ اپنے پروردگار کی جناب میں سجدے کرتے رہیے اور کثرت سجود سے اس کا قرب حاصل کرتے رہیے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 14–15

10 یعنی ایک طرف تو اللہ کا ایک بندہ اللہ کی عبادت میں مصروف ہے، وہ خود بھی اللہ سے ڈرتا ہے۔ دوسروں کو بھی اللہ سے ڈر کر زندگی بسر کرنے کا حکم دیتا ہے۔ دوسری طرف اللہ کا باغی ہے دعوت حق کو ٹھکراتا ہے اور از راہ تکبر منہ پھیر کر چل دیتا ہے پھر وہ اپنے آپ کو حق پر بھی سمجھتا ہے۔ ذرا سوچو ! اس اللہ کے باغی کی عقل پر پتھر نہیں پڑگئے۔ اسے یہ بھی خیال نہیں آتا کہ کسی کے اعمال خواہ اسے ناپسند ہوں بہرحال اسے اللہ کی عبادت سے کبھی نہ روکنا چاہیے۔ پھر وہ یہ بھی نہیں سوچتا کہ اللہ اس کو بھی دیکھ رہا ہے اور اس اللہ کے باغی کو بھی۔ ان میں سے جو شخص جس سلوک کا مستحق ہوگا اللہ اس سے ویسا ہی سلوک کرے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 6–19

دوسرے حصہ کا شان نزول : کلا ان الانسان لیطغنی اس سورت کا یہ حصہ اس وقت نازل ہوا جب رسول اللہ ﷺ نے حرم میں اسلامی طریقہ پر نماز پڑھنی شروع کی، ابوجہل نے آپ ﷺ کو ڈرا دھمکا کر اس سے روکنا چاہا، حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ ابوجہل نے قریش کے لوگوں سے کہا کہ محمد (ﷺ) تمہارے سامنے زمین پر اپنا منہ ٹیکتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا ہاں، اس نے کہا لات وعزی کی قسم اگر میں نے حرم میں ان کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو ان کی گردن پر پائوں رکھ دوں گا اور ان کا منہ زمین میں رگڑ دوں گا، پھر ایک روز ایسا ہوا کہ آنحضرت ﷺ کو حرم میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر وہ آگے بڑھا، تاکہ آپ ﷺ کی گردن پر پائوں رکھے، مگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الم یعلم بان اللہ یری . استفہام انکاری ہے ‘ نفی کا انکار اثبات ہوتا ہے ‘ استفہام کی غرض زجر اور وعید عذاب ہے۔ الم یعلم کا معنی ہوا قَدْ عَلِمَ اور یَرٰی کا معنی ہے یعلم یعنی وہ جانتا ہے کہ اللہ اس بات سے بھی واقف ہے کہ طاغی ہدایت اور دعوت توحید سے روکتا ہے ‘ حق کی تکذیب کرتا ہے ‘ ایمان سے خود روگرداں ہے اور اس بات سے بھی واقف ہے کہ بندۂ خاص ہدایت پر ہے اور توحید کی دعوت دے رہا ہے اور اللہ کے علم کے مطابق سزا و جزا ملنی لازم ہے پس (علم کا نتیجہ لازمہ چونکہ جزا و سزا ہے اس لیے) لفظ رویت (بمعنی علم) سے لازم رویت یعنی جزا و سزا مراد ہے۔ پس (ہمارے کلام سے معلوم ہوگیا کہ) یہ چار جملے ہیں۔ صاحب بحر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 14–16

(14۔ 16) کیا ابو جہل کو خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی اس بےہودہ حرکت کو دیکھ رہے ہیں ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہیے اگر اب بھی ابوجہل نے حضور ﷺ کو تکلیف پہنچانے سے توبہ نہ کی تو ہم اس کے پیشانی کے بال پکڑ کر جو کہ جھوٹ اور شرک میں آلودہ ہیں جہنم کی طرف گھسیٹیں گے۔ شان نزول : اَرَاَیْتَ الَّذِیْ یَنْھٰہُ الخ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نماز پڑھ رہے تھے تو آپ کے پاس ابو جہل آیا اور آپ کو نماز پڑھنے سے روکا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی۔ ارَایت الَّذِیْ ینھی سے ناصیۃ کاذبۃ خاطئۃ تک۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 9–14

(ارء یت الذی ینھی…: ان آیات میں ابوجلہ کے رویے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ فرمایا اے مخاطب ! بھلا تو نے اس شخص کو دیکھا جو اللہ کے بندے یعنی رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھنے سے منع کرتا ہے ؟ بھلا یہ بھی کوئی جرم ہے جس سے وہ منع کر رہا ہے ؟ پھر تو نے دیکھا، اگر یہ نماز پڑھنے والا راہ راست پر ہو یا امر بالمعروف کر رہا ہو تو کیا اس سے یہ سلوک ہونا چاہیے ؟ پھر کیا تو نے دیکھا کہ اگر یہم نع کرنے والا جھٹلا رہا ہو اور منہ موڑ رہا ہو تو کیا اسے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے ؟ آیت :(ارء یت ان کان علی الھدی ، او ام بالتقویٰ) کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ کیا تو نے دیکھا کہ یہ نماز سے منع کرنے والا نماز سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 13–14

ارء یت ان کذب وتولی۔ الم یعلم بان اللہ یری۔ یعنی ابوجہل نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کو جھٹلایا اور ایمان سے اعراض کیا، فراء نے کہا، معنی ہے جو نماز پڑھتا ہے وہ ہدایت پر ہوتا ہے تقوی کا حکم دینے والاہو جبکہ منع کرنے والاجھٹلانے والا اور ذکر سے اعراض کرنے والا ہوتویہ کتنا ہی عجیب ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اس پر ہلاکت ہو کیا ابوجہل نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھتا ہے اور اس کے فعل کو جانتا ہے تو یہ تقریر وتوبیخ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ ارء یت، پہلے کا بدل ہے اور الم یعلم بان اللہ یری، خبر ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–19

1۔ ابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے قرآن میں سے آیت اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وابن الضریس وابن الانباری فی المصاحف والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ وابو نعیم فی الحلیہ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ آیت اقرا باسم ربک پہلی صورت ہے جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔ 3۔ بیہقی نے الدلائل میں ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو محمد بن عباس بن جعفر المخزومی (رح) نے یہ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنے بعض علماء سے سنا کہ قرآن مجید میں سے سب سے پہلے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر نازل فرمایا وہ آیت اقرا باسم ربک سے مالم یعلم تھا اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَلَمْ يَعْلَمْ : کیا اس نے جانا ہی نہیں ][ بِان اللّٰهَ يَرٰى: کہ اللہ دیکھتا ہے (سب کچھ)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 13–14

﴿اَرَءَيْتَ اِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ0013﴾ (اے مخاطب تو بتادے کہ اگر یہ نماز سے روکنے والا شخص حق کو جھٹلاتا ہو اور حق سے اعراض کرتا ہو تو اس کا کیا انجام ہوگا) ہر شخص غور کرلے، صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں : وتقدیم نظم الایة ارایت الذی ینھی عبدا اذا صلی وھو علی بالھدی وامر بالتقوی والناھی مکذب متول عن الایمان فما اعجب من ھذا، ا ھ عربی میں لفظ ارایت محاورہ کے اعتبار سے اخبرنی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے یہاں تین جگہ لفظ ارایت وارد ہوا ہے جو ہر صاحب فہم و بصیرت کو خطاب ہے، ہر سمجھنے والا بتائے کہ جو شخص نماز پڑھنے والے کو نماز سے روکتا ہے اور یہ نماز پڑھنے والا خود ہدایت پر رہتے ہوئے دوسروں کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–19

آغاز وحی بامر قراۃ باسم رب العالمین ومذمت وتہدید برمخالفت رسول ﷺ خدا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اقراباسم ربک الذی خلق ...... الی ...... واسجد واقترب “۔ یہ بات اجماع امت سے ثابت ہے کہ وحی الہی کا آغاز سورة اقرا کی پہلی پانچ آیات یعنی (آیت) ” اقرا باسم ربک سے علم الانسان مالم یعلم “۔ تک کے نزول سے ہوا جمہور صحابہ اور روایات صحیحہ سے بھی ثابت ہے پھر تعلیم سوال اور نماز میں پڑھنے کے لیے سورة فاتحہ نازل ہوئی تو سورتوں میں نازل ہونے والی یہ پہلی سورت ہوئی، اسی بناء پر حضرت علی ؓ سے ایک روایت میں سورة فاتحہ کی اولیت بیان کی گئی، ان پانچ آیات کے نازل ہونے کے بعد کچھ عرصہ سلسلہ وحی منقطع رہا، اور اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 9–14

7:۔ ” ارایت الذی “ یہ ابو جہل اور دیگر مشرکین کے لیے زجر ہے۔ ” عبدا “ سے رسول اللہ ﷺ مراد ہیں۔ ” ارایت ان کان “ ضمیر غائب رسول اللہ ﷺ سے کنایہ ہے۔ ” ارایت ان کذب یہاں “ ضمیر غائب ابو جہل وغیرہ سے کنایہ ہے۔ ” الم یعلم بان اللہ یری “ یہ گذشتہ سارے مضمون کی جزاء ہے۔ یعنی یہ تو بتاؤ کہ اگر ہمارا بندہ (محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ۔ ہدایت پر بھی ہو اور تقوی و طہارت کا حکم بھی دیتا ہو اور ابو جہل اس کو نماز پڑھنے سے روکتا بھی ہو اور حق کو جھٹلاتا اور اس سے اعراض بھی کرتا ہو تو اسے معلوم نہیں کہ یہ سب اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ فائدہ : ارایت، بمعنی اخبرنی ہے، یعنی اگر تجھے معلوم ہے تو بتا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–19

گزشتہ سے پیوستہ سورۃ کی ابتدائی آیات میں انسان کا ذکر ہوا۔ اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تعلیم حاصل کرنے کا حکم دیا۔ جہالت کی تاریکی کو لفظ اقرا سے دور کیا۔ علم بالقلم سے قلم کی اہمیت واضح کی اور پھر علم الانسان مالم یعلم کے ذریعے انسان پر علم کی فضیلت بیان فرمائی کہ انسان میں کمال تعلیم کے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔ اگر تعلیم نہ ہو ، تو انسان بیکار محض ہے۔ اس کی مثال علقہ یعنی گوشت کے لوتھڑے کی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ بستہ خون کے لوتھڑے کو اپنی صفت تخلیق کے ساتھ اشرف المخلوقات انسان کی شکل میں پیدا فرماتا ہے اسی طرح وہ انسان کو جہالت اور نادانی کی تاریکیوں سے نکال کر علم کی روشنی سے منور کرتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَمْ يَعْلَمْ بِاَنَّ اللہَ يَرٰى۝ 14 الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–14

ترکیب ¦ کلا فیہا اقوال (1) انھا بمعنی حقاد ھو مذہب الکسائی۔ لانہ لیس قبلھا رولا بعدھا شیء تکون کلار دًالہ ذکرہ الجر جانی صاحب النظم (2) روع دزجر لمن کفر الغامہ تعالیٰ بطغیا نہ وان لم یتقدم لہ ذکر (3) مذھب ابی حبان انھا بمعنی اَلَا التنبیہ نحوالا انھم ھم المفسدون فیقف علی ما قبلھا و علی الاول الوقف علیھا ان راہ بالنصب قال الاخفش اصلہ لان راہ فخذفت اللام کما یقال انکم لتطغون أن رایتم غناء کم۔ وقال ابن الصائغ ھو مفعول لہ ای یطغی لذاک۔ والرویۃ ھٰھنا بمعنی العلم ولو کانت بصریۃ لا تمنع الجمع بین الضمیرین فی فعلھا لشیء واحد لان ذلک من خواص علم و مثلہ فالمفعول الاول الضمیر فی رآء والثانی استغنیٰ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰہَ یَرٰی۔ (العلق : 14) (کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ ) بدتمیزی کرنے والے کے عقیدہ کے حوالے سے اسے خود فیصلہ کرنے کی دعوت ایسے شخص کی بدنصیبی کی کیا انتہاء ہے کہ وہ خوب جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت ہر شخص کی حرکات و سکنات کو دیکھتا اور جانتا ہے۔ لیکن اس کی بدنصیبی نے اس کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈال دیا ہے اور دماغ کو ایسا مائوف کردیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عظیم بندے کے ساتھ جو کچھ کر رہا ہے اور حق کے معاملے میں جیسا کچھ اس کا رویہ ہے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں نہیں جانتا کہ وہ جانتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ہمہ گیر آگاہی اشرافِ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–19

فہم القرآن ربط کلام : باغی انسانوں میں ایک باغی کی مثال اور گھناؤنا کردار۔ مفسرین کی اکثریت نے اس آیت کا پہلا مصداق ابوجہل قرار دیا ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک دن ابوجہل قریشی سرداروں کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ جونہی محمد ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو اس کا سر کچل دوں گا۔ وہ یہ بات کررہا تھا کہ اچانک اللہ کے رسول ﷺ بیت اللہ میں داخل ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ اس کے ساتھیوں نے ابوجہل سے کہا کہ اٹھو اور اپنا وعدہ پورا کرو نبی ﷺ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوئے تو ابوجہل پتھر لے کر آگے بڑھا ابھی آپ سے چند قدم دور تھا کہ گھبرا کر اپنے ساتھیوں کی طرف مڑا۔ اس کے ساتھیوں نے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

14 : اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰہَ یَرٰی (کیا اس شخص کو خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھ رہے ہیں) اور ہدایت و ضلالت کے سلسلہ میں اس کے حالات سے باخبر ہیں۔ پس وہ اس کے حالات کے مطابق اس کو بدلہ دیں گے۔ یہ درحقیقت وعید ہے۔ نحو : الذی ینھی جملہ شرطیہ سمیت اور ایت کا مفعول ہے۔ اور جواب شرط محذوف ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے : ان کان علی الھدٰی اوامر بالتقوٰی۔ الم یعلم بان اللہ یری۔ کو حذف کردیا۔ شرط ثانی کے جواب میں اس کے ذکر کی دلالت موجود ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسا تم کہو : ان اکر متک اتکرمنی ؟ ارایتؔ جو دوسری مرتبہ لایا گیا۔ وہ زائدہ ہے تاکید کیلئے لایا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–19

6۔ 19۔ ان آیتوں کے شان نزول حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں جو ہے ان روایتوں کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل نے اپنے بتوں کی قسم کھا کر یہ کہا تھا کہ حرم شریف میں آنحضرت کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھے گا تو پیروں سے روند ڈالے گا ایک دن اس نے آپ ﷺ کو حرم میں نماز پڑھتے دیکھ کر قدم آگے بڑھایا کہ اپنی قسم پوری کرے لیکن پھر پیچھے ہٹ آیا لوگوں نے اس سے پیچھے ہٹ آنے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا مجھ کو ایک آگ کی خندق اور کچھ پر دار بازو نظر آئے۔ آنحضرت ﷺ نے اس کی یہ بات سن کر فرمایا کہ اگر ابوجہل ذرا میرے پاس اور اتا تو فرشتے اس کی بوٹیاں کر ڈالتے۔ اسی قصہ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اس طرح فرمایا کہ پہلے عام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 14–15

(اَلَمْ يَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى) کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھتا ہے جو عمل کرتا ہے وہ اور جو فعل وہ سرانجام دیتا ہے ؟ اگر وہ اپنے حال پر جما رہا تو اس کو وعید سنائی، پس فرمایا (كَلَّا لَىِٕنْ لَّمْ يَنْتَهِ ڏ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ ) جو کچھ وہ کہتا اور کرتا ہے اگر اس سے باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کو بڑی سختی سے پکڑیں گے اور یہ اسی کی مستحق ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 14–15

13 ۔ اصلاح احوال کے لیے ایک انقلاب آفریں درس : سو منکر انسان کو تنبیہ و تذکیر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا یہ شخص جانتا نہیں اس حقیقت کو اللہ دیکھتا ہے سب کچھ ؟ وہ اپنے محبوب کی مظلومیت کو بھی دیکھ رہا ہے، اور ان ظالم و سرکش لوگوں کے ظلم و سرکشی کو بھی اور سی کے مطابق اس کے یہاں سے ہر ایک کو اس کے کیے کرائے کا بدلہ ملے گا، پس اس ظالم و سرکش کو چاہیے کہ وہ خود دیکھ لے کہ میں کدھر جارہا ہوں، اور کس برے انجام کی طرف بڑھ رہا ہوں، والعیاذ باللہ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ سرکشوں اور منکروں کی وہ ساری تعدیاں اور زیادتیاں دیکھ رہا ہے، جو وہ حق اور داعی حق کے بارے میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–19

انسان کی سرکشی اور اس کا انجام تشریح : ان آیات میں انسان کی غلط سوچ عمل اور خراب انجام کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کو دلیل کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے۔ کہ جو بھی ماحول ہو زمانہ ہو یا دنیا کا کوئی بھی علاقہ ہو وہاں یعنی ہمیشہ انسان کا یہی رویہ رہا ہے کہ کچھ تو اللہ کو اس کی رحمتوں سے پہچان کر اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اس کا شکر ادا کرتے ہیں جس کا بہترین طریقہ ہے اللہ کے حضور سجدہ کرنا اور کچھ ایسے خبیث فطرت ' ہٹ دھرم ' خود پسند اور نافرمان بیوقوف ہوتے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ خود ہی اللہ سے لاپرواہ اور نافرمان ہوجاتے ہیں بلکہ جو ان کے سامنے اللہ کی بات کرتے ہیں یا سجدہ کرتے ہیں وہ ان کو بھی برا بھلا کہتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة العلق۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ یہ پہلی پانچ آیات سب سے پہلی وحی ہیں جو غارحرا میں جبرائیل امین لائے تفصیل کتب میں دیکھی جاسکتی ہے مختصرا یہ کہ آپ غار حرا میں خلوت گیر ہوکرذات باری میں تفکر فرماتے اور ظہور کمال کی طلب بڑھتی کہ جبرائیل امین تشریف لائے پڑھنے کا حکم دیا جس پر آپ ﷺ نے فرمایا میں پڑھ نہیں سکتا تو انہوں نے تین بار بازوں میں لے کردبایا اور ہر بار پڑھنے کے لیے کہا اور یہ آیات نازل ہوئیں آپ پرہیبت وحی طاری ہوگئی کلام ذاتی تھا جس کے ساتھ ذاتی تجلیات بھی تھیں۔ حضرت خدیجہ پڑھی لکھی تھیں۔ آپ ﷺ گھرتشریف لائے حضرت خدیجہ سے فرمایا مجھے کمبل اوڑھا دیجئے انہوں نے صورت حال سنی تو عرض…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 8–15

ف 8 مطلب یہ ہے کہ ابوجہل مردود چاہے سیدھے راستہ پر ہو (جیسا کہ وہ اپنے آپ کو سمجھتا تھا اور چاہے دین حق کا منکر دونوں صورتوں میں اسے سمجھنا چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کی ہر حرکت کو دیکھ رہا ہے اور وہ یہ کبھی پسند نہیں کرتا کہ اس کے کسی بندے کو نماز پڑھنے سے روکا جائے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(96:14) الم یعلم بان اللہ یری۔ ہمزہ استفہام انکاری ہے ۔ لم یعلم مضارع منفی جحد بلم ہے۔ کیا تو نے نہیں دیکھا۔ کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے ۔ لم یعلم کی ضمیر فاعل اس شخص کے لئے ہے جو کہ دوسرے کو ہدایت اور تقوی کے کام سے روک رہا ہے۔ یری کی ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے اس کا مفعول محذوف ہے۔ مراد ہر دونوں شخص ہیں اللہ ہدایت پر چلنے والے کو بھی دیکھ رہا ہے اور کاذب سرکش کو بھی دیکھ رہا ہے۔ ہر دو کو اپنے اپنے اعمال کی جزاء و سزا مل کر رہے گی۔ یہ جملہ مستانفہ وعید یہ ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–19

لغات القرآن۔ اقرا۔ پڑھ۔ علق۔ جما ہو اخون۔ الاکرم۔ زیادہ محترم۔ یطغی۔ وہ سرکشی کرتا ہے۔ ینھی۔ وہ روکتا ہے۔ لم ینتہ۔ باز نہ آیا۔ نسفع۔ ہم گھسیٹیں گے۔ الناصیۃ ۔ پیشانی۔ نادیہ۔ اپنی جماعت کو۔ سندع۔ ہم بلائیں گے۔ الزبانیۃ۔ پیادے۔ اقترب۔ تو قریب ہوجا۔ تشریح : شب قدر میں قرآن کریم کی سب سے پہلی وہ آیات جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئیں سورة العلق کی ابتدائی پانچ آیات ہیں۔ اس کے بعد سورة مدثر کی ابتدائی آیتیں اور کافی عرصہ بعد سورة علق کی بقیہ چوہ آیات نازل ہوئی۔ امام بخاری (رح) نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک روایت نقل کی ہے جس کے ذریعہ سب سے پہلی وحی کی کیفیات کی تفصیلات کا علم پوری امت کو حاصل…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–19

(ف 3) یعنی آپ اس کی ہرگز پرواہ نہ کیجئے اور اس کی کسی بات پر کان نہ دھریے جہاں چاہو شوق سے اس کی عبات کرو اس کی بارگاہ میں سجدے کرکے بیش از بیش قرب حاصل کرتے رہو، نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ بندہ سب حالتوں سے زیادہ سجدہ میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–14

[6] ان آیات میں اشارہ ہے ابو جہل کی طرف جو رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھنے سے روکتا تھا اور دھمکی دیتا تھا کہ اگر آپ نماز پڑھیں گے تو وہ (نعوذ باللّٰہ) آپ کی گردن کو پاؤں سے دبا دے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–16

ابوجہل کی گستاخی 1: ان آیتوں میں ایک خاص واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ جب عبدکامل اظہار عبودیت ونیامندی کے لئے اللہ کے حضور میں کھڑے ہوتے ہیں تو ایک بدبخت ازلی مضحکہ اڑاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں ان کو ان کے سامنے جھکنے نہیں دوں گا ۔ اور اگر اب کی جھکیں گے تو ان کی گردن ناپوں گا ۔ گویا نماز سے روکتا ہے ۔ عبادت سے منع کرتا ہے ۔ محض اس جرم میں کہ وہ راہ راست پر گامزن کیوں ہیں اور تقویٰ وپرہیزگاری کی کیوں تلقین کرتے ہیں ۔ یہ محروم وبدنصیب دلائل نبوت کو دیکھتا ہے اور تکذیب و روگردانی کرتا ہے ۔ کیا یہ نہیں جانتا کہ اللہ اس کی ان حرکات کو جانتا ہے ۔ یہ عبد کامل حضور ﷺ ہیں ۔ اور یہ بدبخت ازل ابوجہل ہے ۔ حل…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(14) کیا اس شخص کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھ رہا ہے - یعنی کیا اس کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی شرارت کو اور اس کی سرکشی اور نماز سے روکنے کو دیکھ رہا ہے یہاں بھی بعض حضرات نے دوسرے طور پر معنی کئے ہیں یعنی کیا پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے خشوع اور خضوع اور ابو جہل کی مخالفت کے باوجود نماز پڑھنے کو دیکھ رہا ہے۔ ہم عرض کرچکے ہیں کہ ہم نے تفسیر خازن سے ان آیات کی تفسیر کی ہے اگرچہ یہ واقعہ ہے کہ آیت الم یعلم بان اللہ یریٰ ترغیب اور ترہیب دونوں کو شامل ہے اور یہ گنجائش ہے کہ صاحب مدارک کی تفسیر کے موافق ترجمہ کیا جائے۔ (واللہ اعلم)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–17

ف 4۔ یہ آیت ابوجہل کے متعلق نازل ہوئی تھی جس نے آنحضرت ﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے 14 ؎ یہ بات اس لیے ارشاد فرمائی کہ اہل مکہ اللہ تعالیٰ کو جانتے اور مانتے تھے اور سمجھتے تھے کہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا اور ان کا انتظام کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے ۔ ان کے اس عقیدہ کو قرآن کریم نے بھی بار بار بیان کیا ہے وہ اللہ رب کریم کے منکر نہیں تھے اس لیے اس خسیس انسان کو مخاطب کر کے اس کا طرز اپنانے والوں کے متعلق سوال کیا جا رہا ہے کہ اس کو معلوم نہیں کہ وہ اور اس کے دوسرے ساتھی جو حرکات کر رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں اور وہ ان کی حالت کو اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔ پھر غور کرنے کا مقام ہے کہ جو شخص نماز پڑھتا ہے خواہ وہ کسی بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–14

Verses [ 9-10] أَرَ‌أَيْتَ الَّذِي يَنْهَىٰ عَبْدًا إِذَا صَلَّىٰ أَرَ‌أَيْتَ الَّذِي يَنْهَىٰ (Have you seen him who forbids a slave of Allah when he prays?) From here to the end of the Surah, the verses allude to an incident. When the Holy Prophet was enjoined to perform the salah, he started performing it at first privately, later in public in the Sacred Mosque. Abu Jahl stopped him from performing salah and threatened him that if he were to perform salah and prostrate, he would [ God forbid!] trample his neck. Verse [ 14] أَلَمْ يَعْلَم بِأَنَّ اللَّـهَ يَرَ‌ىٰ (Does he not know that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

11 The audience here apparently is every just man, who is being asked: Have you watched the act of the person who prevents a Servant from God's worship? What do you think: if the Servant be rightly guided, or warning the people to fear God and refrain from evil, and this forbidden be denying the Truth and turning away from it, what will his act be like? Could this man adopt such an attitude had he known that Allah is watching the man who is exhorting others to piety as well as him who is denying the truth and turning away from it? Allah's watching the oppressor and his wrongdoing and the…

Read the full tafseer →