Explained with ayahs 6–19
طالب علم اور طالب دنیا :
فرماتا ہے کہ انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اسکے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیے اور خیال رکھنا چاہیے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہوگا کہ لایا کہاں سے خرچ کہاں کیا ؟ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑافرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضامندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیاکا لالچی سرکشی اور خود پسندی میں بڑھتا رہتا ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
سورة العلق 10
بندے سے مراد خود رسول اللہ ﷺ ہیں۔ اس طریقے سے حضور کا ذکر قرآن مجید میں متعدد مقامات پر کیا گیا ہے، مثلا سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا (بنی اسرائیل 1) " پاک ہے وہ جو لے گیا اپنے بندے کو ایک رات مسجد حرام سے مسجد اقصی تک "۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلٰي عَبْدِهِ الْكِتٰبَ (الکہف۔ 1) " تعریف ہے اس خدا کے لیے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی " وَّاَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِ لِبَدًا (الجن 19) " اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
ارءیت الذی ینھی عبداً اذا صلی، اس آیت سے آخر سورة تک ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہی کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو نماز پڑھنے کا حکم دیا اور آپ نے نماز پڑھنا شروع کی تو ابوجہل نے آپ کو نماز پڑھنے سے روکا اور دھمکی دی کہ آئندہ نماز پڑھیں گے اور سجدہ کریں گے تو وہ معاذ اللہ آپ کی گردن کو پاؤں سے کچل دے گا، اس کے جواب اور اس کو زجر کرنے کے لئے یہ آیات آئی ہیں ان میں فرمایا الم یعلم بان اللہ یریٰ یعنی کیا وہ یہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے، یہاں یہ ذکر نہیں فرمایا کہ کس کو دیکھ رہا ہے اس لئے عام اور شامل ہے کہ نماز پڑھنے والی بزرگ ہستی کو بھی دیکھ رہا ہے اور اس سے روکنے والے بدبخت کو بھی…
Read the full tafseer →دوسرے امکان کا حوالہ: یہ اس دوسرے امکان کا حوالہ ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا۔ یعنی کوئی بتائے کہ اگر یہی تکذیب کرنے والا اور حق سے منہ موڑنے والا ہوا تب۔۔۔۔۔۔! یعنی تب تو اس نے اپنے لیے جہنم کا دروازہ خود اپنے ہی ہاتھوں کھولا! یہاں عربیت کا وہ قاعدہ ملحوظ رہے جس کی طرف ہم جگہ جگہ اشارہ کر چکے ہیں کہ بعض مرتبہ شرط کا جواب اس وجہ سے حذف کر دیا جاتا ہے کہ اس کی سنگینی احاطۂ بیان سے باہر ہوتی ہے۔ یہاں اسی وجہ سے جواب محذوف ہے۔ اس کی ایک مثال سورۂ یونس میں بھی موجود ہے۔
رسول کی تکذیب کرنے اور اس کی دعوت سے منہ موڑنے والوں کا انجام سورۂ لیل میں یوں بیان ہوا ہے:
لَا یَصْلَاہَا إِلَّا…
Read the full tafseer →13۔ 1 یعنی یہ ابو جہل اللہ کے پیغمبر کو جھٹلاتا ہو اور ایمان منہ سے پھیرتا ہو (مجھے بتلاؤ)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
4: یعنی اپنے مال و دولت اور سرداری کی وجہ سے اپنے آپ کو بےنیاز اور بےپرواہ سمجھتا ہے کہ کوئی مجھے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا، اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ سب کو آخر کار اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹنا ہے، وہاں یہ ساری بےنیازی اور بےپروائی دھری رہ جائے گی۔
Read the full tafseer →ارءیت .................... وتولی (13:96) ” تمہارا کیا خیال ہے اگر (یہ منع کرنے والا شخص حق کو) جھٹلاتا اور منہ موڑتا ہو “۔ یہاں بھی ایک بالواسطہ اور درپردہ دھمکی دی جاتی ہے جس طرح سابقہ پیرگراف کے آخر میں دی گئی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
1 یعنی نیک راہ پر ہوتا بھلے کام سکھاتا تو کیا اچھا آدمی ہوتا۔ اب جو منہ موڑا تو ہمارا کیا بگاڑا۔ کذا فی موضح القرآن وللمفسرین اقوال فی تفسیر ھا من شاء الاطلاع علیھا فلیراجع، روح المعانی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
آیت 19{ کَلَّاط لَا تُطِعْہُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ۔ } ”کوئی بات نہیں ! اے نبی ﷺ آپ اس کی بات نہ مانیے ‘ آپ سجدہ کیجیے اور اللہ سے اور قریب ہوجایئے !“
آپ ﷺ اس جھوٹے ‘ غلط کار شخص کی ایک نہ سنیے۔ یہ اگر آپ کو نماز پڑھنے سے منع کرتا ہے تو اس کی پروا نہ کیجیے۔ آپ اپنے پروردگار کی جناب میں سجدے کرتے رہیے اور کثرت سجود سے اس کا قرب حاصل کرتے رہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
9 آپ کے بیت اللہ میں نماز پڑھنے پر ابوجہل کا سیخ پا ہونا اور متعدد بار حملے کرنا :۔ ایک دفعہ ابو جہل نے قریشی سرداروں سے کہا : محمد ﷺ تم لوگوں کے سامنے اپنا چہرہ خاک آلود کرتا ہے۔ (یعنی بیت اللہ میں نماز ادا کرنے کے دوران سجدہ کرتا ہے) لوگوں نے کہا : ہاں کہنے لگا : لات و عزیٰ کی قسم ! اگر میں نے اسے اب اس حال میں دیکھ لیا تو اس کی گردن روند ڈالوں گا اور اس کا چہرہ مٹی پر رگڑ دوں گا۔ اس کے بعد جب اس نے آپ کو کعبہ میں نماز پڑھتے دیکھا تو اس برے ارادے سے آپ کی طرف بڑھا۔ پھر اچانک پیچھے ہٹنے لگا۔ سرداران قریش نے جب اپنے رئیس کو اس حال میں دیکھا تو حیرانی سے پوچھا : ابوالحکم کیا ہوا ؟ وہ گھبرایا…
Read the full tafseer →9۔ (تو اس کی یہ روک تھام کس درجہ شقاوت وخباثت پر دال ہوگی ! ) ان کذب وتولی “۔ کذب کا تعلق اعتقاد سے ہے، اور ” تولی “۔ کا عمل سے۔ یعنی عقیدہ وعمل دونوں کے اعتبار سے وہ ضال کا مل ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
دوسرے حصہ کا شان نزول :
کلا ان الانسان لیطغنی اس سورت کا یہ حصہ اس وقت نازل ہوا جب رسول اللہ ﷺ نے حرم میں اسلامی طریقہ پر نماز پڑھنی شروع کی، ابوجہل نے آپ ﷺ کو ڈرا دھمکا کر اس سے روکنا چاہا، حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ ابوجہل نے قریش کے لوگوں سے کہا کہ محمد (ﷺ) تمہارے سامنے زمین پر اپنا منہ ٹیکتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا ہاں، اس نے کہا لات وعزی کی قسم اگر میں نے حرم میں ان کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو ان کی گردن پر پائوں رکھ دوں گا اور ان کا منہ زمین میں رگڑ دوں گا، پھر ایک روز ایسا ہوا کہ آنحضرت ﷺ کو حرم میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر وہ آگے بڑھا، تاکہ آپ ﷺ کی گردن پر پائوں رکھے، مگر…
Read the full tafseer →ارء یت ان کذب و تولی . یعنی اے محمد ﷺ ! بتاؤ تو کہ اگر یہ حق سے روکنے والا تمہاری تکذیب کر رہا ہے اور
ایمان سے منہ موڑ رہا ہے تو اللہ کے عذاب سے کیسے بچے گا ‘ یقیناً ہلاک ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
(9۔ 13) اگلی آیات ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اس نے حالت نماز میں رسول اکرم ﷺ کی گردن مبارک پر پیر رکھنے کا ارادہ کیا تھا تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں بھلا اس شخص کا حال تو بتلا جو محمد کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے اور وہ ہدایت یعنی نبوت واسلام پر ہیں اور دوسروں کو توحید کا حکم دیتے ہیں اور بوجہل توحید کو جھٹلاتا اور ایمان سے اعراض کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
(ارء یت الذی ینھی…: ان آیات میں ابوجلہ کے رویے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ فرمایا اے مخاطب ! بھلا تو نے اس شخص کو دیکھا جو اللہ کے بندے یعنی رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھنے سے منع کرتا ہے ؟ بھلا یہ بھی کوئی جرم ہے جس سے وہ منع کر رہا ہے ؟ پھر تو نے دیکھا، اگر یہ نماز پڑھنے والا راہ راست پر ہو یا امر بالمعروف کر رہا ہو تو کیا اس سے یہ سلوک ہونا چاہیے ؟ پھر کیا تو نے دیکھا کہ اگر یہم نع کرنے والا جھٹلا رہا ہو اور منہ موڑ رہا ہو تو کیا اسے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے ؟ آیت :(ارء یت ان کان علی الھدی ، او ام بالتقویٰ) کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ کیا تو نے دیکھا کہ یہ نماز سے منع کرنے والا نماز سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ارء یت ان کذب وتولی۔ الم یعلم بان اللہ یری۔
یعنی ابوجہل نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کو جھٹلایا اور ایمان سے اعراض کیا، فراء نے کہا، معنی ہے جو نماز پڑھتا ہے وہ ہدایت پر ہوتا ہے تقوی کا حکم دینے والاہو جبکہ منع کرنے والاجھٹلانے والا اور ذکر سے اعراض کرنے والا ہوتویہ کتنا ہی عجیب ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اس پر ہلاکت ہو کیا ابوجہل نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھتا ہے اور اس کے فعل کو جانتا ہے تو یہ تقریر وتوبیخ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ ارء یت، پہلے کا بدل ہے اور الم یعلم بان اللہ یری، خبر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
1۔ ابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے قرآن میں سے آیت اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی۔
2۔ ابن ابی شیبہ وابن الضریس وابن الانباری فی المصاحف والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ وابو نعیم فی الحلیہ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ آیت اقرا باسم ربک پہلی صورت ہے جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔
3۔ بیہقی نے الدلائل میں ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو محمد بن عباس بن جعفر المخزومی (رح) نے یہ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنے بعض علماء سے سنا کہ قرآن مجید میں سے سب سے پہلے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر نازل فرمایا وہ آیت اقرا باسم ربک سے مالم یعلم تھا اور…
Read the full tafseer →[اَرَءَيْتَ : کیا آپ ﷺ نے غور کیا ][ ان كَذَّبَ وَتَوَلّٰى: اگر اس نے جھٹلایا اور اعراض کیا (تو اپنا ہی نقصان کیا)]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
﴿اَرَءَيْتَ اِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ0013﴾ (اے مخاطب تو بتادے کہ اگر یہ نماز سے روکنے والا شخص حق کو جھٹلاتا ہو اور حق سے اعراض کرتا ہو تو اس کا کیا انجام ہوگا) ہر شخص غور کرلے، صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں : وتقدیم نظم الایة ارایت الذی ینھی عبدا اذا صلی وھو علی بالھدی وامر بالتقوی والناھی مکذب متول عن الایمان فما اعجب من ھذا، ا ھ
عربی میں لفظ ارایت محاورہ کے اعتبار سے اخبرنی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے یہاں تین جگہ لفظ ارایت وارد ہوا ہے جو ہر صاحب فہم و بصیرت کو خطاب ہے، ہر سمجھنے والا بتائے کہ جو شخص نماز پڑھنے والے کو نماز سے روکتا ہے اور یہ نماز پڑھنے والا خود ہدایت پر رہتے ہوئے دوسروں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
آغاز وحی بامر قراۃ باسم رب العالمین ومذمت وتہدید برمخالفت رسول ﷺ خدا :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اقراباسم ربک الذی خلق ...... الی ...... واسجد واقترب “۔
یہ بات اجماع امت سے ثابت ہے کہ وحی الہی کا آغاز سورة اقرا کی پہلی پانچ آیات یعنی (آیت) ” اقرا باسم ربک سے علم الانسان مالم یعلم “۔ تک کے نزول سے ہوا جمہور صحابہ اور روایات صحیحہ سے بھی ثابت ہے پھر تعلیم سوال اور نماز میں پڑھنے کے لیے سورة فاتحہ نازل ہوئی تو سورتوں میں نازل ہونے والی یہ پہلی سورت ہوئی، اسی بناء پر حضرت علی ؓ سے ایک روایت میں سورة فاتحہ کی اولیت بیان کی گئی، ان پانچ آیات کے نازل ہونے کے بعد کچھ عرصہ سلسلہ وحی منقطع رہا، اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
7:۔ ” ارایت الذی “ یہ ابو جہل اور دیگر مشرکین کے لیے زجر ہے۔ ” عبدا “ سے رسول اللہ ﷺ مراد ہیں۔ ” ارایت ان کان “ ضمیر غائب رسول اللہ ﷺ سے کنایہ ہے۔ ” ارایت ان کذب یہاں “ ضمیر غائب ابو جہل وغیرہ سے کنایہ ہے۔ ” الم یعلم بان اللہ یری “ یہ گذشتہ سارے مضمون کی جزاء ہے۔ یعنی یہ تو بتاؤ کہ اگر ہمارا بندہ (محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ۔ ہدایت پر بھی ہو اور تقوی و طہارت کا حکم بھی دیتا ہو اور ابو جہل اس کو نماز پڑھنے سے روکتا بھی ہو اور حق کو جھٹلاتا اور اس سے اعراض بھی کرتا ہو تو اسے معلوم نہیں کہ یہ سب اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔
فائدہ : ارایت، بمعنی اخبرنی ہے، یعنی اگر تجھے معلوم ہے تو بتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
گزشتہ سے پیوستہ
سورۃ کی ابتدائی آیات میں انسان کا ذکر ہوا۔ اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تعلیم حاصل کرنے کا حکم دیا۔ جہالت کی تاریکی کو لفظ اقرا سے دور کیا۔ علم بالقلم سے قلم کی اہمیت واضح کی اور پھر علم الانسان مالم یعلم کے ذریعے انسان پر علم کی فضیلت بیان فرمائی کہ انسان میں کمال تعلیم کے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔ اگر تعلیم نہ ہو ، تو انسان بیکار محض ہے۔ اس کی مثال علقہ یعنی گوشت کے لوتھڑے کی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ بستہ خون کے لوتھڑے کو اپنی صفت تخلیق کے ساتھ اشرف المخلوقات انسان کی شکل میں پیدا فرماتا ہے اسی طرح وہ انسان کو جہالت اور نادانی کی تاریکیوں سے نکال کر علم کی روشنی سے منور کرتا ہے۔…
Read the full tafseer →اَرَءَيْتَ اِنْ كَذَّبَ وَتَوَلّٰى 13 ۭ
كذب
وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی:
إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ،
( ک ذ ب ) الکذب
قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے
ولي
وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه .
فمن الأوّل قوله :
وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] .
ومن الثاني…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
ترکیب ¦ کلا فیہا اقوال (1) انھا بمعنی حقاد ھو مذہب الکسائی۔ لانہ لیس قبلھا رولا بعدھا شیء تکون کلار دًالہ ذکرہ الجر جانی صاحب النظم (2) روع دزجر لمن کفر الغامہ تعالیٰ بطغیا نہ وان لم یتقدم لہ ذکر (3) مذھب ابی حبان انھا بمعنی اَلَا التنبیہ نحوالا انھم ھم المفسدون فیقف علی ما قبلھا و علی الاول الوقف علیھا ان راہ بالنصب قال الاخفش اصلہ لان راہ فخذفت اللام کما یقال انکم لتطغون أن رایتم غناء کم۔ وقال ابن الصائغ ھو مفعول لہ ای یطغی لذاک۔ والرویۃ ھٰھنا بمعنی العلم ولو کانت بصریۃ لا تمنع الجمع بین الضمیرین فی فعلھا لشیء واحد لان ذلک من خواص علم و مثلہ فالمفعول الاول الضمیر فی رآء والثانی استغنیٰ…
Read the full tafseer →اَرَئَ یْتَ اِنْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی۔ (العلق : 13)
(تمھارا کیا خیال ہے اگر (یہ منع کرنے والا شخص حق کو) جھٹلاتا اور منہ موڑتا ہو۔ )
کوئی ہوش و خرد رکھنے والا تعصب سے دور اور غیرجانبدار شخص اس صورتحال پر غور کرے اور پھر بتائے کہ جو شخص ایسی عظیم شخصیت کو جو تقویٰ کا حکم دیتی اور اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہے کو روکتا اور سجدے سے منع کرتا ہے اگر خود اس کا اپنا یہ حال ہو کہ وہ حق کی تکذیب کرتا اور حق سے منہ موڑنے والا ہو تو ایسے شخص کا انجام کیا ہونا چاہیے۔ یقینا ایسا شخص اس قابل ہے کہ اسے جہنم کا ایندھن بنایا جائے کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے عظیم بندے کو نماز سے روکا اور خود تکذیب کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
فہم القرآن
ربط کلام : باغی انسانوں میں ایک باغی کی مثال اور گھناؤنا کردار۔
مفسرین کی اکثریت نے اس آیت کا پہلا مصداق ابوجہل قرار دیا ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک دن ابوجہل قریشی سرداروں کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ جونہی محمد ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو اس کا سر کچل دوں گا۔ وہ یہ بات کررہا تھا کہ اچانک اللہ کے رسول ﷺ بیت اللہ میں داخل ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ اس کے ساتھیوں نے ابوجہل سے کہا کہ اٹھو اور اپنا وعدہ پورا کرو نبی ﷺ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوئے تو ابوجہل پتھر لے کر آگے بڑھا ابھی آپ سے چند قدم دور تھا کہ گھبرا کر اپنے ساتھیوں کی طرف مڑا۔ اس کے ساتھیوں نے…
Read the full tafseer →13 : اَرَ ئَ یْتَ اِنْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی (اے مخاطب بھلا یہ تو بتلا اگر وہ شخص جھٹلاتا ہو۔ اور روگردانی کرتا ہو) یہ تو بتلا اگر وہ منع کرنے والا حق کی تکذیب کرنے والا اور اس سے منہ موڑنے والا ہو۔ جیسا کہ ہم کہہ رہے ہیں۔
Read the full tafseer →13 ۔” ارایت ان کذب “ یعنی ابوجہل ” وتولی “ ایمان سے اور آیت کے الفاظ کی تقدیر یہ ہے ” اریت الذی ینھیٰ عبدا اذا صلی۔ وھو علی الھدیٰ امر بالتقویٰ “ اور روکنے والا جھٹلانے والا ایمان سے پیٹھ پھیرنے والا ہے۔ پس اس سے زیادہ تعجب خیز بات کون سی ہے ؟۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
6۔ 19۔ ان آیتوں کے شان نزول حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں جو ہے ان روایتوں کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل نے اپنے بتوں کی قسم کھا کر یہ کہا تھا کہ حرم شریف میں آنحضرت کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھے گا تو پیروں سے روند ڈالے گا ایک دن اس نے آپ ﷺ کو حرم میں نماز پڑھتے دیکھ کر قدم آگے بڑھایا کہ اپنی قسم پوری کرے لیکن پھر پیچھے ہٹ آیا لوگوں نے اس سے پیچھے ہٹ آنے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا مجھ کو ایک آگ کی خندق اور کچھ پر دار بازو نظر آئے۔ آنحضرت ﷺ نے اس کی یہ بات سن کر فرمایا کہ اگر ابوجہل ذرا میرے پاس اور اتا تو فرشتے اس کی بوٹیاں کر ڈالتے۔ اسی قصہ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اس طرح فرمایا کہ پہلے عام…
Read the full tafseer →(اَرَءَيْتَ اِنْ كَذَّبَ وَتَوَلّٰى) بھلا بتاؤحق سے روکنے والے نے اگر جھٹلایا ہو۔ اور حکم سے منہ موڑا ہو کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے نہیں ڈرتا۔ ؟
Read the full tafseer →12 ۔ منکر انسان کے قلب و ضمیر پر ایک دستک کا ذکر وبیان : سو منکر انسان کے قلب و ضمیر پر ایک اور دستک کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بھلا دیکھو تو سہی کہ اگر یہ شخص جھٹلاتا اور منہ موڑتا ہی گیا ( تو اس کا کیا بنے گا ؟ ) سو ان دونوں شرطوں کا جواب محذوف ہے اور اس کے حذف میں بلاغت کا یہ پہلو اور اسلوب کار فرما ہے کہ اس شرط کا جواب اس قدر عظیم الشان اور تنا ہولناک ہے کہ احاطہ بیان سے باہر ہے، تو کیا ایسا شخص پھر بھی اپنے اس عمل و کردار سے باز نہیں آتا ؟ اسی بناء پر اس شخص کے حال اور اس کے انجام و مآل کے بارے میں دعوت غور و فکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بھلا تم دیکھو تو سہی اور حقیقت امر کے بارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
انسان کی سرکشی اور اس کا انجام
تشریح : ان آیات میں انسان کی غلط سوچ عمل اور خراب انجام کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کو دلیل کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے۔ کہ جو بھی ماحول ہو زمانہ ہو یا دنیا کا کوئی بھی علاقہ ہو وہاں یعنی ہمیشہ انسان کا یہی رویہ رہا ہے کہ کچھ تو اللہ کو اس کی رحمتوں سے پہچان کر اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اس کا شکر ادا کرتے ہیں جس کا بہترین طریقہ ہے اللہ کے حضور سجدہ کرنا اور کچھ ایسے خبیث فطرت ' ہٹ دھرم ' خود پسند اور نافرمان بیوقوف ہوتے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ خود ہی اللہ سے لاپرواہ اور نافرمان ہوجاتے ہیں بلکہ جو ان کے سامنے اللہ کی بات کرتے ہیں یا سجدہ کرتے ہیں وہ ان کو بھی برا بھلا کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة العلق۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
یہ پہلی پانچ آیات سب سے پہلی وحی ہیں جو غارحرا میں جبرائیل امین لائے تفصیل کتب میں دیکھی جاسکتی ہے مختصرا یہ کہ آپ غار حرا میں خلوت گیر ہوکرذات باری میں تفکر فرماتے اور ظہور کمال کی طلب بڑھتی کہ جبرائیل امین تشریف لائے پڑھنے کا حکم دیا جس پر آپ ﷺ نے فرمایا میں پڑھ نہیں سکتا تو انہوں نے تین بار بازوں میں لے کردبایا اور ہر بار پڑھنے کے لیے کہا اور یہ آیات نازل ہوئیں آپ پرہیبت وحی طاری ہوگئی کلام ذاتی تھا جس کے ساتھ ذاتی تجلیات بھی تھیں۔
حضرت خدیجہ پڑھی لکھی تھیں۔
آپ ﷺ گھرتشریف لائے حضرت خدیجہ سے فرمایا مجھے کمبل اوڑھا دیجئے انہوں نے صورت حال سنی تو عرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
ف 8 مطلب یہ ہے کہ ابوجہل مردود چاہے سیدھے راستہ پر ہو (جیسا کہ وہ اپنے آپ کو سمجھتا تھا اور چاہے دین حق کا منکر دونوں صورتوں میں اسے سمجھنا چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کی ہر حرکت کو دیکھ رہا ہے اور وہ یہ کبھی پسند نہیں کرتا کہ اس کے کسی بندے کو نماز پڑھنے سے روکا جائے۔
Read the full tafseer →(96:13) ارایت ان کذب وتولی۔ یہ جملہ بھی شرطیہ ہے جس کا جواب شرط محذوف ہے۔
مطلب یہ ہے کہ بھلا بتاؤ تو اگر یہ شخص (جو اللہ کے بندے کو اس نیک کام سے روک رہا ہے) حق کو جھٹلائے یا منہ موڑے (تو کیا اپنے اس فعل کی پاداش سے بچ سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔
اقرا۔ پڑھ۔ علق۔ جما ہو اخون۔ الاکرم۔ زیادہ محترم۔ یطغی۔ وہ سرکشی کرتا ہے۔ ینھی۔ وہ روکتا ہے۔ لم ینتہ۔ باز نہ آیا۔ نسفع۔ ہم گھسیٹیں گے۔ الناصیۃ ۔ پیشانی۔ نادیہ۔ اپنی جماعت کو۔ سندع۔ ہم بلائیں گے۔ الزبانیۃ۔ پیادے۔ اقترب۔ تو قریب ہوجا۔
تشریح : شب قدر میں قرآن کریم کی سب سے پہلی وہ آیات جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئیں سورة العلق کی ابتدائی پانچ آیات ہیں۔ اس کے بعد سورة مدثر کی ابتدائی آیتیں اور کافی عرصہ بعد سورة علق کی بقیہ چوہ آیات نازل ہوئی۔ امام بخاری (رح) نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک روایت نقل کی ہے جس کے ذریعہ سب سے پہلی وحی کی کیفیات کی تفصیلات کا علم پوری امت کو حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
(ف 3) یعنی آپ اس کی ہرگز پرواہ نہ کیجئے اور اس کی کسی بات پر کان نہ دھریے جہاں چاہو شوق سے اس کی عبات کرو اس کی بارگاہ میں سجدے کرکے بیش از بیش قرب حاصل کرتے رہو، نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ بندہ سب حالتوں سے زیادہ سجدہ میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
[6] ان آیات میں اشارہ ہے ابو جہل کی طرف جو رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھنے سے روکتا تھا اور دھمکی دیتا تھا کہ اگر آپ نماز پڑھیں گے تو وہ (نعوذ باللّٰہ) آپ کی گردن کو پاؤں سے دبا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
ابوجہل کی گستاخی
1: ان آیتوں میں ایک خاص واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ جب عبدکامل اظہار عبودیت ونیامندی کے لئے اللہ کے حضور میں کھڑے ہوتے ہیں تو ایک بدبخت ازلی مضحکہ اڑاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں ان کو ان کے سامنے جھکنے نہیں دوں گا ۔ اور اگر اب کی جھکیں گے تو ان کی گردن ناپوں گا ۔ گویا نماز سے روکتا ہے ۔ عبادت سے منع کرتا ہے ۔ محض اس جرم میں کہ وہ راہ راست پر گامزن کیوں ہیں اور تقویٰ وپرہیزگاری کی کیوں تلقین کرتے ہیں ۔ یہ محروم وبدنصیب دلائل نبوت کو دیکھتا ہے اور تکذیب و روگردانی کرتا ہے ۔ کیا یہ نہیں جانتا کہ اللہ اس کی ان حرکات کو جانتا ہے ۔ یہ عبد کامل حضور ﷺ ہیں ۔ اور یہ بدبخت ازل ابوجہل ہے ۔
حل…
Read the full tafseer →(13) اے مخاطب بھلا یہ تو بتا اگر یہ نماز سے روکنے والا دین حق کی تکذیب کرتا ہو اور اس دین حق کو قبول کرنے سے روگردانی کرتا ہو - تو پھر جو شخص کس قدر قابل نفرت ومذمت اور مستحق وعید ہے یعنی اپنی تو یہ حالت ہے کہ دین کا مکذب اور دین سے منہ موڑنے والا اور اس پر خبیث نماز پڑھنے سے اس شخص کو روکتا ہے جو ہدایت پر بھی ہے اور تقویٰ کا حکم بھی دیتا ہے بعض حضرات نے دوسری طرح ترجمہ اور تفسیر کی ہے۔ ارئیت ان کان علی الھدیٰ سے وتونی تک پوری آیت سے ابوجہل ہی کو مراد لیا ہے یعنی اگر یہ نماز سے روکنے والا ہدایت پر ہوتا اور پرہیزگاری کی باتوں کا مشورہو دیا کرتا تو کیا اچھا ہوتا اور اس نے تکذیب اور روگردانی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–17
ف 4۔ یہ آیت ابوجہل کے متعلق نازل ہوئی تھی جس نے آنحضرت ﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا تھا۔
Read the full tafseer →کیا دیکھا تو نے اگر منع کرنے والا حق کو جھٹلاتا اور حق سے منہ موڑتا ہو ؟
13 ؎ جیسا کہ قبل ازیں ہم نے اوپر ذکر کیا ہے اس آیت میں بھی ان لوگوں ہی کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے لیکن انداز ایسا اختیار کیا ہے جو مخالفین کو مزید مخالفت پر نہ ابھارے بلکہ غور و فکر کرنے پر مجبور کرے لیکن افسوس کہ آج ہم نے یہ انداز بیان بھی بھلا دیا کہ جو کسی کانے کو کانا کہے ، کسی گناہ گار کو سیدھا گناہ گار کہے ، کسی برے کو براہ راست برا کہنے سے منع کرتا ہے بلکہ وہ ایسا انداز اختیار کرتا ہے کہ کانا اپنے کانا ہونے کو خود بیان کر دے کہ مجھے کیا ہوا ، گناہ گار اپنے گناہ کو محسوس کرے اور اصلاح کی کوشش کرے ۔ فرمایا جا رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
Verses [ 9-10] أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَىٰ عَبْدًا إِذَا صَلَّىٰ أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَىٰ (Have you seen him who forbids a slave of Allah when he prays?) From here to the end of the Surah, the verses allude to an incident. When the Holy Prophet was enjoined to perform the salah, he started performing it at first privately, later in public in the Sacred Mosque. Abu Jahl stopped him from performing salah and threatened him that if he were to perform salah and prostrate, he would [ God forbid!] trample his neck. Verse [ 14] أَلَمْ يَعْلَم بِأَنَّ اللَّـهَ يَرَىٰ (Does he not know that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
10 "A Servant" : the Holy Messenger of Allah himself. The Holy Prophet has been mentioned by this epithet at several places in the Qur'an. For example, "Glory be to Him Who transported His servant one night from the Masjid alHaram to the distant Temple." (Bani Isra'il: 1) ; "All praise is for Allah Who has sent down this Book to His servant." (AI-Kahf: 1) ; "And that when the servant of Allah stood up to pray, the people got ready to assault him." (Al-Jinn: 19) . This shows that it is a special style of love by which Allah makes mention of His Messenger Muhammad (upon whom be His peace and…
Read the full tafseer →