فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْیُسْرٰی ۟ؕفَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰىؕ
اس کو ہم آسان طریقے کی توفیق دیں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
We will ease him toward ease.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz
فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْیُسْرٰی ۟ؕفَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰىؕ
اس کو ہم آسان طریقے کی توفیق دیں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
We will ease him toward ease.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Lail
اس کو ہم آسان راستے کے لیے سہولت دیں گے
اس کو ہم آسان طریقے کی توفیق دیں گے
تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے
تو ہم اس کو آرام کی منزل تک پہنچنے کی تیاری کرا دیں گے۔
تو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیا کردیں گے
تو ہم عنقریب اسے آسانی (یعنی رضائے الٰہی) کے لئے سہولت فراہم کر دیں گے،
تو یقینا ہم اسے آسان راستے کے لیے سہولت دیں گے۔
تو ہم اسے آسان راہ پر چلنے کی سہولت دیں گے
اس کو تو ہم اہل بنائیں گے راحت کی منزل کا
تو اس کے لیے ہم ضرور آسانی مہیا کردیں گے اس بڑے (اور عظیم الشان) آسان راستے کی
سو ہم اس کے لئے راحت کی چیز آسان کردیں گے۔
تو اس کو ہم رفتہ رفتہ آسان منزل (جنت) تک پہنچادیں گے۔
اس کو ہم آسان طریقے کی توفیق دیں گے
We shall facilitate for him the Way to Bliss.
We will facilitate for him the way to extreme ease (i.e. the comforts of Paradise) .
We will facilitate for him the way to extreme ease (i.e. the comforts of Paradise) .
We will make smooth for him the path of ease.
Surely We will ease his way unto the state of ease.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
We will ease him toward ease.
observe piety, and believe in receiving rewards from God.
We will facilitate for him the easy end.
Unto him therefore We shall indeed make easy the path to ease.
We will indeed make smooth for him the path to Bliss.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–11
نیکی کے لیے قصد ضروری ہے : مسند احمد میں ہے حضرت علقمہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جاکر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو حضرت ابو الدرداء سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو حضرت علقمہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے ؟ میں نے کہا والذکر والانثٰی پڑھتے تھے، حضرت ابو الدرداء فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں حضور ﷺ کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو…
Read the full tafseer →سورة الَّیْل 3 یہ ہے مساعی کی اس قسم کا نتیجہ۔ آسان راستہ سے مراد وہ راستہ ہے جو انسان کی فطرت کے مطابق ہے، جو اس خالق کی مرضی کے مطابق ہے جس نے انسان کو اور ساری کائنات کو بنایا ہے، جس میں انسان کو اپنے ضمیر سے لڑ کر نہیں چلنا پڑتا، جس میں انسان اپنے جسم و جان اور عقل و ذہن کی قوتوں پر زبردستی کر کے ان سے وہ کام نہیں لیتا جس کو ہر طرف اس جنگ، مزاحمت اور کشمکش سے سابقہ پیش نہیں آتا جو گناہوں سے بھری ہوئی زندگی میں پیش آتا ہے، بلکہ انسانی معاشرے میں ہر قدم پر اس کو صلح و آتشی اور قدر و منزلت میسر آتی چلی جاتی ہے۔ ظاہر بات ہے کہ جو آدمی اپنا مال خلق خدا کی بھلائی کے لیے استعمال کررہا ہو، جو ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
خلاصہ تفسیر قسم ہے رات کی جبکہ وہ آفتاب کو اور دن کو) چھپالے، اور (قسم ہے) دن کی جبکہ وہ روشن ہوجاوے (اور قسم ہے) اس (ذات) کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا (مراد اللہ تعالیٰ ہے آگے جواب قسم ہے) کہ بیشک تمہاری کوششیں (یعنی اعمال) مختلف ہیں (اور اسی طرح ان کے ثمرات بھی مختلف ہیں) سو جس نے (اللہ کی راہ میں مال) دیا اور اللہ سے ڈرا اور اچھی بات (یعنی ملت اسلام) کو سچا سمجھا تو ہم اس کو راحت کی چیز کے لئے سامان دیدیں گے (راحت کی چیز سے نیک عمل اور بواسطہ نیک عمل کے جنت مراد ہے کہ یسر کا سبب اور محل ہے اسی لئے یسریٰ کہہ دیا گیا ورنہ یسریٰ کے معنی ہیں آسان چیز) اور جس نے (حقوق واجبہ سے) بخل کیا اور…
Read the full tafseer →’فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْیُسْرٰی‘۔ ’یُسْرٰی‘ کا موصوف بھی ’حُسْنٰی‘ کے موصوف کی طرح محذوف ہے۔ یعنی ’العاقبۃ الْیُسْرٰی‘ یہ اس سنت الٰہی کا حوالہ ہے جو قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ جو شخص نیکی کی راہ اختیار کر لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس راہ کی مشکلات آسان کرتا اور اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچنے کی توفیق بخشتا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے: ’وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوۡا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا‘ (العنکبوت ۲۹: ۶۹) (جو لوگ ہماری راہ میں جدوجہد کریں گے ہم ان کو اپنے راستوں کی ہدایت بخشیں گے)۔ یہاں اس کی منزل کو ’یُسْرٰی‘ سے اس لیے تعبیر فرمایا ہے کہ اس کا حساب آسان ہوگا، چنانچہ فرمایا…
Read the full tafseer →7۔ 2 یعنی ہم بھی اس کو اس سے نیکی اور اطاعت کی توفیق دیتے اور ان کو اس کے لیے آسان کردیتے ہیں۔ مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابوبکر کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے چھ غلام آزاد کیے، جنہیں اہل مکہ مسلمان ہونے کی وجہ سے سخت اذیت دیتے تھے۔ (فتح القدیر)
Read the full tafseer →3: آرام کی منزل سے مراد جنت ہے، کیونکہ حقیقی آرام کی جگہ وہی ہے، دنیا میں تو ہر آرام کے ساتھ کوئی نہ کوئی تکلیف لگی رہتی ہے۔ اور تیار کرانے سے مراد یہ ہے کہ ان اعمال کی توفیق دیں گے جو جنت تک پہنچانے والے ہوں۔ واضح رہے کہ قرآن کریم میں جو لفظ ”نیسرہ“ آیا ہے۔ اس کا ترجمہ جو ”تیاری کرا دینے“ سے کیا گیا ہے، وہ اس لفظ کی تشریح میں علامہ آلوسی کی پیروی میں کیا گیا ہے (دیکھئے روح المعانی : 512)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
واما من .................... اذاتردی (8:92 تا 11) ” اور جس نے بخل اختیار کیا اور اللہ سے بےنیازی اختیار کی اور بھلائی کو جھٹلایا ، اس کو ہم سخت راستے کی طرف سہولت دیں گے ، اور اس کا مال آخر اس کے کس کام آئے گا جبکہ وہ ہلاک ہوجائے “۔ وہ شخص جو اپنے نفس اور مال میں بخل اختیار کرتا ہے اور اللہ کریم سے بےنیازی اختیار کرتا ہے ، اور اس کی ہدایات سے غافل ہوتا ہے اور اللہ کے دین اور اس کی دعوت کی تکذیب کرتا ہے ، تو وہ اپنے نفس کو انتہائی شروفساد کے لئے تیار کرتا ہے ، اور پرلے درجے کے بگاڑ سے اس کو دوچار کرتا ہے ، تو وہ اس بات کے مستحق ہوتا ہے کہ اللہ اس کے لئے ہر چیز مشکل کردے اور اسے سخت راستوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
10 یعنی جو شخص نیک راستہ میں مال خرچ کرتا اور دل میں خدا سے ڈرتا ہے اور اسلام کی بھلی باتوں کو سچ جانتا اور بشارات ربانی کو صحیح سمجھتا ہے، اس کے لئے ہم اپنی عادت کے موافق نیکی کا راستہ آسان کردیں گے اور انجام کار انتہائی آسانی اور راحت کے مقام پر پہنچا دیں گے جس کا نام جنت ہے۔
Read the full tafseer →آیت 7{ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی۔ } ”تو اس کو ہم رفتہ رفتہ آسان منزل جنت تک پہنچادیں گے۔“ اس حوالے سے سورة الاعلیٰ کی یہ آیت بھی ذہن میں تازہ کر لیجیے : { وَنُیَسِّرُکَ لِلْیُسْرٰی۔ } ”اور ہم رفتہ رفتہ پہنچائیں گے آپ کو آسان منزل تک“۔ لیکن سورة الاعلیٰ کی نسبت یہاں یہ مضمون زیادہ واضح انداز میں آیا ہے۔ اب اس کے مقابلے میں اگلی آیات میں دوسرے راستے اور اس کے تین سنگ ہائے میل کا ذکر آ رہا ہے :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
2 یعنی لوگوں کے اعمال اور ان کے نتائج جو ایک دوسرے سے متضاد اور مختلف ہیں۔ ان میں سے ایک گروہ کے اعمال یہ ہیں کہ : 1۔ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہا۔ 2۔ اس نے اپنی ساری زندگی اللہ سے ڈرتے ہوئے اور اس کی فرمانبرداری میں گزار دی اور 3۔ ہر بھلی بات کی تصدیق کی۔ بھلی بات سے مراد ایمان بالغیب بھی ہے۔ اللہ کی آیات بھی ہیں۔ اللہ کی توحید بھی، رسول کی تصدیق بھی اور اخلاق فاضلہ کی بجا آوری بھی۔ گویا ان تین مختصر سے الفاظ میں پوری شریعت کا خلاصہ پیش فرما دیا کہ جو شخص یہ اور یہ کام کرے گا اللہ اس کے لیے احکام شریعت پر چلنا اور جنت میں داخلہ کا مستحق ہونا آسان بنا دیتا ہے۔ اسے نیکی کے کاموں کی توفیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
3۔ یعنی جنت تک اسے آسانی سے پہنچا دیں گے، اسے ایسی توفیق دیں گے کہ راہ کی مشکلات وہ آسانی سے طے کرتا چلا جائے گا (آیت) ” من اعطی “۔ یعنی جس نے اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا۔ (آیت) ” صدق بالحسنی “۔ یعنی دین اسلام کی تصدیق کی۔ الحسنی۔ سے مراد دین اسلام ہی ہے۔ اے بالملۃ الحسنی وھی ملۃ الاسلام (روح) اے بالکلمۃ الحسنی وھی کماقال ابوعبدالرحمن اسلمی وغیرہ وروی ذلک عن عبداللہ بن عباس لاالہ الا اللہ (روح) (آیت) ” الیسری، الیسری “۔ سے مراد جنت ہے، جہاں ہر طرح اور ہر طرف سہولتیں اور راحتیں ہی ہوں گی ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے رات کی جب وہ اپنی تاریکی سے آسمان اور زمین کی ہر شئی پر چھا جائے اور قسم ہے دن کی جب وہ روشن ہو (یعنی) جب کہ وہ واضح اور ظاہر ہو اور اذا دونوں جگہ ظریفیت کے لئے ہے اور اس میں عامل فعل قسم ہے اور ما بمعنی من یا مصدریہ ہے اور قسم ہے اس ذات کی جس نے نر و مادہ پیدا کئے (یعنی) آدم و حواء یا مذکر و مئونث کو پیدا کیا اور خنثیٰ مشکل ہمارے نزدیک ہے (مگر) اللہ کے نزدیک وہ مذکر یا مئونث ہے لہٰذا وہ شخص جس نے قسم کھائی کہ وہ مرد اور عورت سیبات نہ کرے گا تو وہ خنثیٰ مشکل سے کلام کرنے سے حانث ہوجائے گا، یقیناً تمہاری کوشش (یعنی)…
Read the full tafseer →فسنیسرہ للیسری . تو ہم اس کے لیے سہولت کردیں گے ‘ اس کو توفیق دیں گے۔ یسرٰی کی یعنی ایسے خصائل کی جو اس کو یسر اور راحت تک پہنچا دیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے عمل کی توفیق دیں گے جو اللہ کی خوشنودگی اور جنت کے حصول کا ذریعہ ہوگا یہ لفظ یسر الفرس کے محاورہ سے ماخوذ ہے۔ یسر الفرس کا معنی ہے گھوڑے کو زین اور لگام لگا دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
سو جس نے اللہ کی راہ میں مال دیا اور نو مسلمانوں کو کفار سے خرید کر اور ان کی تکالیف سے نجاد دلا کر ان کو آزاد کردیا اور کفر و شرک اور فواحش سے بچا، اور اللہ کے وعدے کی، یا یہ کہ جنت کی، یا یہ کہ کلمہ اسلام کی تصدیق کی سو ہم اس پر اطاعت خداوندی کو آسان کردیں گے یا یہ کہ بار بار نیکیوں اور اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی توفیق دیں گے ان آیات سے حضرت ابوبکر صدیق مراد ہیں ان ہی کی فضیلت میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں۔ شان نزول فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَاتَّقٰى الخ حاکم نے بواسطہ عامر بن عبداللہ، حضرت عبداللہ بن زبیر سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابو قحافہ نے حضرت ابوبکر سے فرمایا اے بیٹے تو کمزوروں کو خرید کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
فاما من اعطی …:”الحسنی“”احسن“ کی مونث ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ومن احسن قولاً ممن دعآ الی اللہ و عمل صالحاً وقال اننی من السلمین) (حم السجدۃ : 33)”اور اس شخص سے زیادہ اچھی بات کس کی ہے جو اللہ کی طرف دعوت دے اور نیک عمل کرے اور کہے کہ بیشک میں فرماں بر داروں سے ہوں ؟“ جس شخص میں بھی بھلائی کے یہ تین جامع اوصاف ہیں کہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے فراخ دل ہے، اللہ سے ڈرتا ہے اور اس کی نافرمانی اور ہر حرام کام سے بچتا ہے اور سب سے اچھی بات یعنی اللہ کے ایک ہونے کو اور اس کی نازل کی ہوئی ہر بات کو سچ مان کر اس کا تابع ہوجاتا ہے، تو اس کے اس میلان اور رجحان کے مطابق ہم بھی اس کے لئے نیکی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
تنگی کو آسانی میں بدلنے کی وضاحت۔ مسئلہ نمبر 2۔ فسنیسرہ للعسری۔ ہم اسے خیر اور اصلاح کے اسباب کی طرف ہدایت دیتے ہیں یہاں تک کہ اس کے لیے ان اسباب کو بجالانا آسان ہوجاتا ہے زید بن اسلم نے کہا، یسری سیمراد جنت ہے۔ صحیحین اور ترمذی میں حضرت علی شیر خدا سے مروی ہے، ہم بقیع میں جنازہ میں تھے نبی کریم تشریف لائے آپ بیٹھے اور ہم بھی آپ کے ساتھ بیٹھ گئے آپ کے پاس ایک لکڑی تھی جس کے ساتھ آپ زمین کو کرید رہے تھے رسول اللہ نے اپنا سر آسمان کی طرف بلند کیا، فرمایا، ہر نفس کے داخل ہونے کی جگہ کو لکھ دیا گیا ہے لوگوں نے عرض کی، یارسول اللہ کیا ہم اپنے کیے پر بھروسہ نہ کریں ؟ جو سعادت مند ہوگا تو وہ سعادت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
آیت فسنیسرہ للیسری۔ ہم اس کے لیے خیر کی راہیں آسان کردیں گے۔ آیت وامامن بخل واستغنی اور لیکن جس نے بخل کیا اور بےپرواہ رہا یعنی اپنے مال سے بخل کیا اور اپنے رب سے بےپرواہ رہا۔ آیت وکذب بالحسنی اور نیک بات کو جھٹلایا یعنی اللہ کی طرف سے خلیفہ ہونے کو جھٹلایا آیت فسنیسرہ للعسری۔ تو ہم اس کے لیے جہنم کی راہیں آسان کردیں گے۔ یعنی ہم اس کے لیے شر کی راہ آسان کردیں گے اللہ ی طرف سے 16۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاما من اعطی یعنی اس نے اللہ کا حق ادا کیا اس پر تھا۔ آیت واقتی اور اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے بچتا رہا آیت وصدق بالحسنی اور اللہ کے ان ودعوں کی تصدیق کی جو…
Read the full tafseer →[فَسَنُيَسِّرُهٗ : تو ہم پہنچا دیں گے اس کو ][ لِلْيُسْرٰى: اس بڑی آسانی تک ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
اس کے بعد اعمال صالحہ اور اعمال سیہٴ کا تذکرہ فرمایا، ارشاد فرمایا : ﴿ فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ005 وَ صَدَّقَ بالْحُسْنٰى ۙ006 فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْيُسْرٰى ؕ007﴾ (سو جس نے دیا اور حسنیٰ یعنی کلمہ لا الہ الا اللہ کی تصدیق کی سو ہم اس کے لیے آرام والی خصلت اختیار کرنا آسان کردیں گے) ﴿ وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰىۙ008 وَ كَذَّبَ بالْحُسْنٰى ۙ009 فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰى ؕ0010﴾ (اور جس نے کنجوسی کی اور بےپروائی اختیار کی اور حسنیٰ یعنی کلمہ لا الہ الا اللہ کو جھٹلایا سو ہم اس کے لیے مصیبت والی خصلت اختیار کرنا آسان کردیں گے) ۔ یعنی دنیا میں مصیبتوں میں پڑے گا اور آخرت میں دوزخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
تقسیم جہو عملیہ در حیات انسانی وترتب ثمرات سعادت وشقاوت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والیل اذا یغشی ....... الی ......... ولسوف یرضی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں فوز و فلاح اور شقاوت وبدنصیبی کے اسباب پر کلام تھا اور یہ کہ انسانی نفس اگر طہارت وتزکیہ سے آراستہ ہو تو اس پر دنیا کی عزت وسربلندی اور آخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے اور اگر نفس کو شہوات کی گندگی میں آلودہ کرلیا جائے تو انسانی شرف سے محرومی کے بعد دنیا کی تباہی اور عذاب آخرت میں مبتلا ہونے کے سوا کوئی نتیجہ نہیں ہوتا، اور دنیا میں بڑی سے بڑی طاقت ور قومیں اسی شقاوت وبدنصیبی کا شکار ہو کر ہلاک ہوئیں اور تاریخ عالم اس کی گواہی دیتی ہے، تو اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
3:۔ ” فاما من اعطی “ یہ جواب قسم۔ یعنی سعی عمل کے مختلف ہونے کا ذکر اور نوع عمل کی جزاء وسزا کا بیان ہے جو شخص مال کے حقوق ادا کرے یعنی جہاں اللہ نے خرچ کرنے کا حکم دیا ہے وہاں خرچ کرے اور خدا سے ڈرے اور اس کے محارم و ممنوعات سے اجتناب کرے۔ ” وصدق بالحسنی “ اور ملت اسلام پر ایمان لائے اور اس کی تصدیق کرے۔ ” فسنیسرہ للیسری “ یہ بشارت ہے جس شخص کی سعی عمل مذکورہ بالا اعمال کے لیے ہوگی ہم اس کیلئے آسانی کے اسباب مہیا کردینگے یعنی اسے ایسے کاموں کی مزید توفیق دیں گے جو آخرت میں اس کی راحت و آسانی اور دخول جنت کا باعث ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
پہلی سورة کے ساتھ ربط اس سورة کا مضمون بھی پہلی سورة کے ساتھ ملتا جلتا ہے۔ پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھائی تھی کہ مختلف چیزوں کے اثرات پڑنے سے انسان کے دل میں ارادہ پیدا ہوتا ہے اور یہی ارادہ انسانیت کا خلاصہ اور نچوڑ ہے ارادہ اچھا بھی ہوتا ہے اور برا بھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہر نفس میں فطری طور پر تقویٰ اور فجور کا الہام بھی کیا ہے۔ لہٰذا جو لوگ اچھے کام کا ارادہ کریں گے وہ اصحاب تزکیہ میں شمار ہوں گے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے نفوس کو پاک کیا ، برے اعمال اور برے عقیدے سے انہیں بچائے رکھا۔ برخلاف اس کے جو لوگ اپنے نفوس کو برے اعتقاد اور برے عمل سے آلودہ کریں گے۔ ان کا شمار اصحاب…
Read the full tafseer →فَسَنُيَسِّرُہٗ لِلْيُسْرٰى 7 ۭ يسر اليُسْرُ : ضدّ العسر . قال تعالی: يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْراً [ الطلاق/ 7] ، وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنا يُسْراً [ الكهف/ 88] ، فَالْجارِياتِ يُسْراً [ الذاریات/ 3] وتَيَسَّرَ كذا واسْتَيْسَرَ أي تسهّل، قال : فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ [ البقرة/ 196] ، فَاقْرَؤُا ما تَيَسَّرَ مِنْهُ [ المزمل/ 20] أي : تسهّل وتهيّأ، ومنه : أَيْسَرَتِ المرأةُ ، وتَيَسَّرَتْ في كذا . أي : سهَّلته وهيّأته، قال تعالی: وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
ترکیب ¦ والیل الواو للقسم اذا العامل فیھا معنی القسم والنھار عطف علیہ وما خلق الخ معطوف علی السابق وما مصدریۃ عند مقاتل والمعنی واقسم خلق الذکر والانثیٰ ۔ وعند الجمھور موصولۃ ای والذی خلقھما وما بمعنی من فقدا قسم بنفسہ الکریمۃ ان سعیکم لشتی جواب القسم ای عملکم مختلف فمنہ عمل للجنۃ ومنہ عمل للنارا ومنکم مومن ومنکم کافر السعی العمل وشتی جمع شتیت کمرضی جمع مریض والشتات ھوالافتراق ومعناہ مختلف لتباعد لبعض عن البعض۔ وسعیکم مصدر مضاف فیفید العموم فھو جمع معنی فاما من الخ شرط سنیسرہ الخ جواب والسین فی الموضعین للتسویف وھو من اللہ محقق والحسنی ای الخصلۃ الحسنیٰ اتشتمل کل فعل محمود من التوحید والایمان…
Read the full tafseer →فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی۔ (الیل : 7) (تو ہم اس کو آسان کردیں گے یُسْرٰی کے لیے۔ ) علامہ آلوسی نے فَسَنُیَسِّرُہٗ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تیسیر یسر سے باب تفعیل کا مصدر ہے۔ اس کا اصل معنی آسانی اور سہولت ہے۔ لیکن یہاں اس کا مفہوم یہ ہے کہ کسی کام کے لیے کسی کو مستعد اور تیار کردینا۔ عرب جب گھوڑے پر زین ڈال کر اور اس کے منہ میں لگام دے کر سواری کے لیے بالکل تیار کردیتے ہیں تو کہتے ہیں : یَسَّرَالْفَرَسَ لِلرُّکُوْبِ اِذَا اَسْرَجَہَا وَالْجَمَھَا۔ یُسْرٰی … آسان راستے کو بھی کہتے ہیں اور جنت پر بھی بولا جاتا ہے۔ چونکہ یہ مونث ہے اس لیے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس کا موصوف مقدر ہے۔ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
فہم القرآن ربط کلام : فکروعمل میں فرق اور نیک فکر وعمل کا دنیا میں فائدہ۔ فکرو عمل میں فرق سمجھانے کے لیے مختصر طور پر یہاں دو قسم کی سوچ اور اعمال بیان کیے گئے ہیں ایک وہ خوش قسمت ہے جس نے ” اللہ “ کے دیئے ہوئے مال کو اس کی رضا کے لیے خرچ کیا اور ہمیشہ بخل اور اپنے رب کی نافرمانی سے ڈرتا رہا اور اللہ تعالیٰ کے ارشادات اور احکام کی دل کی گہرائی، زبان کی سچائی اور صالح عمل کے ساتھ اس کی تصدیق کرتا رہا اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکی کرنا مزید آسان کردیتا ہے جس بنا پر اس کے لیے صدقہ اور نیکی کرنا آسان ہوجاتے ہیں اس بات کو یوں بھی بیان کیا گیا ہے۔ ( الَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ…
Read the full tafseer →7 : فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی (تو ہم اس کو راحت کی چیز کیلئے سامان دے دیں گے) پس ہم اس کو آسانی کی خصلت کیلئے سہولت دیں گے اور وہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ عمل اختیار کرنا ہے۔
Read the full tafseer →7 ۔” فسنیسرہ “ پس ہم عنقریب اس کو تیار کریں گے دنیا میں۔ ” للیسریٰ “ یعنی عادت یسریٰ کے لئے اور وہ عمل کرنا اس کے مطابق جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ 11۔ رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے اور حضرت آدم و حوا اسی طرح ان کی اولاد میں مرد و عورت کے پیدا کرنے کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں لوگوں کے عمل مختلف ہیں کوئی عقبیٰ میں نیک کام کا بدلہ پانے کے یقین اور اسی نیت سے اچھے کام کرتا ہے ایسا شخص اپنی نیکی کا پورا ثمرہ عقبیٰ میں بھی پائے گا اور دنیا میں بھی ایسے شخص کو دن بدن نیکی کی توفیق اللہ کی طرف سے دی جاتی ہے اور کوئی عقبیٰ کی جزا کے انکار کے سبب سے نیک کاموں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا بلکہ نیک کاموں کے کرنے سے بےپروائی ظاہر کرتا ہے ایسا شخص اپنا کیا عقبیٰ میں بھگتے گا۔ اور دنیا میں جبراً اللہ تعالیٰ اس کو…
Read the full tafseer →(فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْيُسْرٰى) تو ہم اس کے لیے اس کے کام کو آسان کردیتے ہیں اور اس کے لیے ہر بھلائی پر عمل کرنا اور ہر برائی کو ترک کرنا سہل اور آسان بنادیتے ہیں کیونکہ اس نے آسانی کے اسباب اختیار کیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے آسان کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
8 ۔ سعی محمود و مطلوب کا نتیجہ وثمرہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور سعی محمود و مطلوب کے نتیجہ وثمرہ کے ذکرو بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " جس نے ایسا کیا تو اس کے لیے ہم آسانی مہیا کردیں گے اس بڑے آسان راستے کی "۔ یعنی حق و ہدایت کی اس راہ کو ہم اس کے لیے آسان کردیتے ہیں جو مومن صادق کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و سرفراز رکتی ہے، کہ اس سے اس کو دنیا میں اس سے حیات طیبہ یعنی پاکیزہ زندگی نصیب ہوتی ہے اور آخرت میں جنت کی نعیم مقیم سے سرفرازی، اللہ نصیب فرمائیے آمین۔ سو اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ ہماری اس تیسیر کے بعد انسان کے لیے حق و ہدایت کی راہ پر چلنا ایسا آسان ہوجاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
اچھی بری نیت اعمال اور بدلہ تشریح : اس سورت میں اللہ تعالیٰ قسم کھاتے ہیں کہ دن رات کی نرو مادہ کی اور خود اپنی ' اس بات کے لیے کہ ہر انسان کی فطرت انداز اور ماحول فرق ہوتا ہے اور انہی حالات کے مطابق سب کا رویہ بھی فرق ہوتا ہے یہ حقیقت ہے کہ ہر شخص کے کام کا انداز فرق ہوتا ہے اور پھر یہ اعمال کا انداز دوراہوں میں منقسم ہے۔ یعنی کچھ تو نیک فطرت ہوتے ہیں ان کو شیطان کتنا ہی بہلائے مگر وہ اس کا شکار نہیں ہوتے یعنی ان کی سرشت میں نیکی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ان کو برا راستہ ' برے کام اور برے لوگ بالکل اچھے نہیں لگتے یعنی ان کو کوئی بھی لالچ برائی پر آمادہ نہیں کرسکتا وہ کہتے ہیں کہ کسی کو دیکھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة اللیل۔ آیات 1 تا 21۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے رات کی جب چھاجاتی ہے اور دن کی جب روشن ہوتا ہے اور اس کی جس نے بقائے نسل کے لیے ایک جیسے دو بندوں کو نرومادہ پیدا فرمادیا یعنی یہ سب نظام اس بات پر گواہ ہے کہ تمہاری محنت ومشقت بھی دو طرح سے ہے جس طرح رات کا اثر تاریکی اور دن کا اجالا ہے یانر کا کام الگ اور مادہ کے اوصاف الگ ہیں ایسے ہی تمہارے کردار کے نتائج دو طرح کے ہیں کہ جن لوگوں نے دینے کارویہ اپنایا اور اللہ کی محبت اور قربت کی تلاش میں اپنایا اور ارشادات نبوی کی تصدیق کی دل سے زبان سے اور کردار سے۔ دینے کارویہ۔ زندگی کا مدار دینے پر ہے سورج ، چاند ، ہوا ، بادل ، بارش ، روئیدگی ، پیداوار سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ف 5 یعنی توحید کا قائل ہوا۔6 یعنی اس کی عادت اور خواہش کے مطاب نیک اعمال کو اس پر آسان کر دینگے اور انجام کا وہاں پہنچائیں گے جہاں اسے آرام ملے۔ یعنی جنت میں … کچھ یہی مفہوم ہے جسے ” ہمت مرداں مدد خدا “ کا محاورہ ادا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →(92:7) فسنیسرہ للیسری۔ جملہ جواب شرط ہےجواب شرط کے لئے ہے۔ س بمعنی سوف۔ عنقریب۔ نیسر مضارع جمع متکلم تیسیر (تفعیل) مصدر سے۔ ہم آسان کردیتے ہیں۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع من ہے۔ یسری اسم تفضیل کا صیغہ واحد مؤنث معرف باللام ۔ ایسر واحد مذکر یسر مصدر۔ آسان طریقہ، یعنی وہ عمل جو رضائے الٰہی کا موجب ہو۔ تو ہم اس کے لئے سہولت پیدا کردیں گے۔ اس کو توفیق دیں گے ۔ یسری کی۔ یعنی ایسے خصائل کی جو اس کو یسر اور راحت تک پہنچا دیں گے۔ یہ لفظ یسر الفرس کے محاورہ سے ماخوذ ہے۔ یسر الفرس کا معنی ہے اس نے گھوڑے کو زین اور لگام دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
لغات القرآن۔ شتی۔ مختلف۔ الگ الگ۔ نیسر۔ ہم آسان کردیں گے۔ العسری۔ تنگی۔ تردی۔ وہ نیچے گرا۔ تلظی۔ بھڑک دار۔ یجنب۔ بچ جائے گا۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں رات، دن، نر اور مادہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جس طرح رات دن سے اور نر مادہ سے الگ اور مختلف چیزیں ہیں اسی طرح دنیا میں جتنے بھی انسان، ان کے گروہ اور قومیں ہیں وہ اپنے عمل اور کوششوں میں بہت مختلف ہیں۔ رات کے وقت دن کا تصور اور دن میں رات کا تصور ممکن نہیں ہے۔ نر مادہ ہوسکتا اور مادہ نر نہیں ہوسکتی اسی طرح نیکی اور برائیوں پر چلنے والے بھی اپنے انجام کے اعتبار سے یکساں نہیں ہوسکتے۔ ایک وہ شخص ہے جو نہایت خلوص اور اللہ کی رضا کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
حضرت صدیق اکبر کا ایمان۔ (ف 1) شان نزول۔ روساء مکہ میں سے دو شخص بہت مالدار تھے ایک تو حضرت صدیق اکبرؓ ایک امیہ بن خلف لیکن دونوں کی حالت مختلف تھی ، حضرت ابوبکر صدیق مسلمان اور انبیاء کے بعد سب سے افضل، اور اپنا جان مال راہ خدا میں لٹانے والے تھے اور یہ کم بخت کافر انتہا درجہ کا بخیل اور گستاخ تھا، حضرت بلال اسی کے غلام تھے اور خفیہ ایمان لاچکے تھے ، امیہ بن خلف کو جب اس امر کی اطلاع ہوئی تو غلاموں کو حکم دیا کہ دن چرھے بلال ؓ کے تمام جسم پر ببول کے کانٹے چبھو دیا کرو اور جب دھوپ تیز ہوجائے تو اس کو دھوپ میں چت لٹا کر سرے سے پیر تک گرم پتھر پاٹ دیا کرو کہ ہل نہ سکے، اور گرداگرد آگ سلگادیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
[3] آسانی کے گھر سے مراد ہے جنت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة الیل 1 ۔ یعنی جس طرح تاریک رات اور روشن دن میں اختلاف ہے اور خدا کی اس تقسیم میں اختلاف ہے اللہ تعالیٰ نے مرد کو بھی پیدا کیا اور عورت کو بھی ۔ نر کو بھی اور مادہ کو بھی ۔ اسی طرح کفر و ایمان کی مساعی یکساں نہیں ہیں ۔ نہ فطرت اور ساخت کے اعتبار سے اور نہ نتائج وثمرات کے اعتبار سے ۔ کفر ہمہ تاریکی ہے اور ایمان ہمہ روشنی ۔ کفر انوثیت اور نامرادی ہے اور ایمان جرات وجسارت ۔ نتائج وثمرات کے لحاظ سے بھی دونوں مختلف ہیں ۔ وہ شخص جو دولت ایمان سے بہرہ مندی کی وجہ سے اس کی راہ میں اپنا مال صرف کرتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے اور ہر نیک بات کی عمل سے تصدیق کرتا ہے ۔ اس کے لئے تیسیر کی نعمتیں اس کی طرف…
Read the full tafseer →(7) تو ہم اس کو آسان چیز کے لئے آسانیاں بہم پہنچائیں گے - یعنی ہم ایسے شخص کے لئے آسانی کی راہ یعنی دین کو آسان کردیں گے اور نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں گے اور نیک عمل کے واسطے سے بتدریج اس کو جنت میں پہنچا دیں گے جو حقیقی یسر اور آرام و راحت کا محل ہے جس کو نیک عمل آسان ہو اور جس کو نیکی کی توفیق عطا فرمائی تو اس پر تمام اثرات اچھے اور بہتر مرتب ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اسی کو فرمایا فسنیسرہ للیسریٰ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ف 4۔ تکلیف کی چیز سے بدعمل اور بواسطہ بدعمل کے دوزخ مراد ہے کہ عسر کا سبب اور محل ہے، اس لئے اس عسر کو عسری کہہ دیا گیا۔ اور سامان دینے سے مراد دونوں جگہ یہ ہے کہ اچھے یا برے کام اس سے بےتکلف سرزد ہوں گے اور ویسے ہی اسباب جمع ہوجائیں گے اور پھر نیک اعمال کا سامان جنت ہونا اور اعمال بد کا سامان دوزخ ہونا ظاہر ہی ہے۔ حدیث میں ہے فاما من کان من اھل السعادة فسیسیر لعمل اھل السعادة و کذا فی الشقاوة۔
Read the full tafseer →اسے ہم ضررو ہی آسانی کے لیے مواقع میسر کریں گے 7 ؎ گزشتہ دونوں آیات میں جو تین صفات بیان کی گئی ہیں جن کا اختصار ہم نے اوپر تین نمبروں میں دیا ہے فرمایا یہ تین صفات جن لوگوں میں پائی جاتی ہیں ہم ان کے لیے وہ راہ آسان کردیتے ہیں جو انہیں ابدی فلاح اور حقیقی مسرتوں کی طرف لے جانے والی ہے ۔ اس راہ پر چلنے کی لگن ہم ان کے دل میں پیدا کردیتے ہیں اور ان لوگوں کو اپنی منزل سے والہانہ محبت ہوجاتی ہے اور جو کام دلجمعی اور محبت سے کیا جائے وہ بظاہر کتنا ہی مشکل نظر آئے لیکن وہ بہت آسان ہوجاتا ہے ۔ آپ ذرا غور کریں کہ بندہ عبد الکریم اور تفسیر کا یہ کام اور اس میں کوئی نسبت بھی ہے لیکن یہ اتنا بڑا کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ (We will facilitate for him the way to extreme ease [ i.e. the comforts of Paradise ]....92:7). The word yusra literally denotes 'ease and comfort' or a thing in which there is no difficulty, but here it refers to "Paradise". Likewise, referring to the second group it says: فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ (for him We will facilitate the way to extreme distress...92:10). The opposite of yusra is ` usra which literally denotes 'extreme distress, referring to "Hell". The two statements signify that those who exert their efforts in the first three acts, that is,…
Read the full tafseer →3 This is the result of the first kind of endeavouring and struggling. The easy way implies the way which is in accordance with human nature, which is in accordance with the will of the Creator, Who has created man and the whole _ universe. It is a way in which man has not to fight his conscience, in which he dces not have to force his faculties of mind and energies of body into doing works for which they are not given but to do things for which they have actually been given him. It is a way in which man has not to experience war, resistance and conflict on every side, which he has to…
Read the full tafseer →