Explained with ayahs 1–11
نیکی کے لیے قصد ضروری ہے :
مسند احمد میں ہے حضرت علقمہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جاکر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو حضرت ابو الدرداء سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو حضرت علقمہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے ؟ میں نے کہا والذکر والانثٰی پڑھتے تھے، حضرت ابو الدرداء فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں حضور ﷺ کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
سورة الَّیْل 4
یہ انسانی مساعی کی دوسری قسم ہے جو اپنے ہر جز میں پہلی قسم کے ہر جز سے مختلف ہے۔ بخل سے مراد محض وہ بخل نہیں ہے، جس کے لحاظ سے عام طور پر لوگ اس آدمی کو بخیل کہتے ہیں جو روپیہ جوڑ جوڑ کر رکھتا ہے اور اسے نہ اپنے اوپر خرچ کرتا ہے نہ اپنے بال بچوں پر، بلکہ اس جگہ بخل سے مراد راہ خدا میں اور نیکی اور بھلائی کے کاموں میں مال صرف نہ کرنا ہے اور اس لحاظ سے وہ شخص بھی بخیل ہے جو اپنی ذات پر، اپنے عیش و آرام پر، اپنی دلچسپیوں اور تفریحوں پر تو خوب دل کھول کر مال لٹاتا ہے، مگر کسی نیک کام کے لیے اس کی جیب سے کچھ نہیں نکلتا، یا اگر نکلتا بھی ہے تو یہ دیکھ کر نکلتا ہے کہ اس کے بدلے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
خلاصہ تفسیر
قسم ہے رات کی جبکہ وہ آفتاب کو اور دن کو) چھپالے، اور (قسم ہے) دن کی جبکہ وہ روشن ہوجاوے (اور قسم ہے) اس (ذات) کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا (مراد اللہ تعالیٰ ہے آگے جواب قسم ہے) کہ بیشک تمہاری کوششیں (یعنی اعمال) مختلف ہیں (اور اسی طرح ان کے ثمرات بھی مختلف ہیں) سو جس نے (اللہ کی راہ میں مال) دیا اور اللہ سے ڈرا اور اچھی بات (یعنی ملت اسلام) کو سچا سمجھا تو ہم اس کو راحت کی چیز کے لئے سامان دیدیں گے (راحت کی چیز سے نیک عمل اور بواسطہ نیک عمل کے جنت مراد ہے کہ یسر کا سبب اور محل ہے اسی لئے یسریٰ کہہ دیا گیا ورنہ یسریٰ کے معنی ہیں آسان چیز) اور جس نے (حقوق واجبہ سے) بخل کیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
مقابل گروہ کے انجام کا بیان:
یہ مقابل گروہ یعنی ان لوگوں کا بیان ہے جو اسی دنیا کی زندگی کو کل زندگی سمجھتے ہیں۔ جو اپنے مال پر مارگنج بن کر بیٹھے اور آخرت سے بالکل نچنت ہیں، جو نہ کسی جزا و انعام کے قائل اور نہ اس کے لیے کوئی بازی کھیلنے کا حوصلہ رکھتے۔ فرمایا کہ ان کا حشر مذکورہ بالا گروہ سے بالکل مختلف ہو گا۔ ان کو اللہ تعالیٰ اس راہ پر چلنے کے لیے ڈھیل دے دے گا جو ان کو نہایت کٹھن منزل پر لے جا چھوڑے گی۔ یہاں بھی’عُسْرٰی‘ کا موصوف محذوف ہے اور ’تیسیر‘ امہال یعنی ڈھیل دینے کے مفہوم میں ہے۔
قرآن میں یہ سنت الٰہی جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ جو لوگ نیکی کی راہ اختیار کرنے کا حوصلہ نہیں کرتے اللہ…
Read the full tafseer →8۔ 1 یعنی اللہ کے راہ میں خرچ نہیں کرے گا اور اللہ کے حکم سے بےپرواہی کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
4: تکلیف کی منزل سے مراد دوزخ ہے، کیونکہ حقیقی تکلیف وہیں کی ہے، اور تیاری کرانے سے مراد یہ ہے کہ وہ جس جس گناہ میں مبتلا ہونا چاہے گا، اسے مبتلا ہونے دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے نیکی کی توفیق نہیں ہوگی، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس ہولناک وعید سے محفوظ رکھیں۔ آمین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
واما من .................... اذاتردی (8:92 تا 11) ” اور جس نے بخل اختیار کیا اور اللہ سے بےنیازی اختیار کی اور بھلائی کو جھٹلایا ، اس کو ہم سخت راستے کی طرف سہولت دیں گے ، اور اس کا مال آخر اس کے کس کام آئے گا جبکہ وہ ہلاک ہوجائے “۔
وہ شخص جو اپنے نفس اور مال میں بخل اختیار کرتا ہے اور اللہ کریم سے بےنیازی اختیار کرتا ہے ، اور اس کی ہدایات سے غافل ہوتا ہے اور اللہ کے دین اور اس کی دعوت کی تکذیب کرتا ہے ، تو وہ اپنے نفس کو انتہائی شروفساد کے لئے تیار کرتا ہے ، اور پرلے درجے کے بگاڑ سے اس کو دوچار کرتا ہے ، تو وہ اس بات کے مستحق ہوتا ہے کہ اللہ اس کے لئے ہر چیز مشکل کردے اور اسے سخت راستوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
11 یعنی جس نے خدا کی راہ میں خرچ نہ کیا، اس کی خوشنودی اور آخرت کے ثواب کی پروانہ کی اور اسلام کی باتوں اور اللہ کے وعدوں کو جھوٹ جانا، اس کا دل روز بروز تنگ اور سخت ہوتا چلا جائے گا۔ نیکی کی توفیق سلب ہوتی جائے گی اور آخرکار آہستہ آہستہ عذاب الہٰی کی انتہائی سختی میں پہنچ جائے گا۔ یہی اللہ کی عادت ہے کہ سعداء جب نیک عمل اختیار کرتے ہیں اور اشقیاء جب بد عمل کی طرف چلتے ہیں تو دونوں کے لئے وہی راستہ آسان کردیا جاتا ہے جو انہوں نے تقدیر الہٰی کے موافق اپنے ارادہ اور اختیار سے پسند کرلیا ہے۔ (كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ مِنْ عَطَاۗءِ رَبِّكَ ۭ وَمَا كَانَ عَطَاۗءُ رَبِّكَ…
Read the full tafseer →آیت 8{ وَاَمَّا مَنْم بَخِلَ } ”اور جس نے بخل کیا“
پہلی تین خصوصیات کی ترتیب ذہن میں رکھیے اور نوٹ کیجیے کہ ”اِعطاء“ کے مقابلے میں یہاں بخل آگیا ہے۔
{ وَاسْتَغْنٰی۔ } ”اور بےپروائی اختیار کی۔“
بھلائی اور خیر کے راستے کی تین خصوصیات میں اعطاء کے بعد تقویٰ یعنی پھونک پھونک کر قدم رکھنے اور ذمہ داری کے احساس کا بیان تھا۔ اس کے مقابلے یہاں لاابالی پن ‘ لاپرواہی اور بےنیازی استغناء کا تذکرہ ہے۔ گویا ایک شخص حلال و حرام کی تمیز سے ناآشنا اور نیکی و بدی کے تصور سے بیگانہ اپنی دھن میں مست چلا جا رہا ہے۔ کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے تو اس کی بلا سے ‘ کسی کی عزت پر حرف آتا ہے تو آتا رہے ‘ کسی کے جان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
2 یعنی لوگوں کے اعمال اور ان کے نتائج جو ایک دوسرے سے متضاد اور مختلف ہیں۔ ان میں سے ایک گروہ کے اعمال یہ ہیں کہ :
1۔ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہا۔
2۔ اس نے اپنی ساری زندگی اللہ سے ڈرتے ہوئے اور اس کی فرمانبرداری میں گزار دی اور
3۔ ہر بھلی بات کی تصدیق کی۔ بھلی بات سے مراد ایمان بالغیب بھی ہے۔ اللہ کی آیات بھی ہیں۔ اللہ کی توحید بھی، رسول کی تصدیق بھی اور اخلاق فاضلہ کی بجا آوری بھی۔
گویا ان تین مختصر سے الفاظ میں پوری شریعت کا خلاصہ پیش فرما دیا کہ جو شخص یہ اور یہ کام کرے گا اللہ اس کے لیے احکام شریعت پر چلنا اور جنت میں داخلہ کا مستحق ہونا آسان بنا دیتا ہے۔ اسے نیکی کے کاموں کی توفیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
4۔ یعنی ایسے منکر معاند کو دوزخ ہی کا راستہ آسان معلوم ہونے لگے گا۔ (آیت) ’ ’ من بخل “۔ یعنی جس نے (آیت) ” من اعطی “۔ کے مقابلہ میں ادائے حقوق واجب میں بخل سے کام لیا۔ (آیت) ” واستغنی “۔ یعنی جس نے (آیت) ” من اتقی “۔ کے مقابلہ میں اللہ کی طرف سے بےپروائی کی راہ اختیار کی، اور اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا۔ (آیت) ” للعسری “۔ العسری سے مراد دوزخ ہے، جہاں ہر طرح اور ہر طرف سختیاں ہی سختیاں ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
واما من بخل الخ اس میں دوسرے گروہ کے تین اوصاف کا ذکر فرمایا، (1) راہ خدا میں مال خرچ کرنے سے بخل کرنا (2) خدا سے بےنیازی اختیار کرنا اور (3) اچھی بات یعنی کلمہ ایمان کی تکذیب کرنا، مذکورہ دونوں گروہوں میں سے پہلے گروہ کے بارے میں فرمایا فستنیسرہ للیسریٰ ، یسر کے لفظی معین ہیں آرام دہ چیز جس میں مشقت نہ ہو اور مراد اس سے جنت ہے، اسی طرح اس کے مقابل دوسرے گروہ کے متعلق فرمایا فسنیسرہ للعسری، عسر کے معنی ہیں مشکل اور تکلیف دہ چیز مراد اس سے جہنم ہے، اور معنی دونوں جملوں کے یہ ہیں کہ جو لوگ اپنی سعی اور محنت پہلے تین کاموں میں لگاتے ہیں یعنی اللہ کی راہ میں خرچ اور اللہ سے ڈرنا اور ایمان کی…
Read the full tafseer →واما من بخل . اور جس نے راہ خیر میں خرچ کرنے میں بخل کیا یا امر خدا کی تعمیل میں بخل کیا۔ حدیث میں آیا ہے بخیل وہ شخص ہے جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے۔ (ترمذی و نسائی از علی و حاکم و ابن حبان از انس) واستغنی . اور دنیوی خواہشات میں مشغول ہو کر آخرت کے ثواب اور ثواب دینے پر قدرت رکھنے والے خدا سے لاپروا ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
(8۔ 11) اور جس نے اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دینے سے بخل کیا یعنی ولید بن مغیرہ اور حضرت ابو سفیان یہ اس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے اور اللہ سے بےپروائی اختیار کی اور وعدہ خداوندی، یا یہ کہ جنت، یا یہ کہ کلمہ اسلام کو جھٹلایا سو ہم اس کو بارہا نافرمانیوں اور امساک عن الصدقة فی سبیل اللہ میں مبتلا کریں گے اور جو مال اس نے دنیا میں جمع کیا ہے جب وہ مرنے لگے گا یا یہ کہ دوزخ میں گرے گا اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
واما من بخل واستغنی …: یعنی جس میں شر کے یہ تین جامع اوصاف ہیں کہ وہ بخل کرتا ہے، اخروی انجام اور حلال و حرام کی پروا ہی نہیں کرتا اور سب سے اچھی بات یعنی اللہ کے ایک ہونے اور اس کی نازل کردہ باتوں کو جھٹلاتا ہے، تو ہم بھی اسے اس کی خواہش کے مطابق اس راستے پر چلنے دیتے ہیں جو مشکلات و مصائب کا راستہ ہے اور جہنم کی طرف لے جانے والا ہے، یعنی اس کے لئے نیکی کرنا مشکل اور گناہ کرنا آسان ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
تنگی کو آسانی میں بدلنے کی وضاحت۔
مسئلہ نمبر 2۔ فسنیسرہ للعسری۔ ہم اسے خیر اور اصلاح کے اسباب کی طرف ہدایت دیتے ہیں یہاں تک کہ اس کے لیے ان اسباب کو بجالانا آسان ہوجاتا ہے زید بن اسلم نے کہا، یسری سیمراد جنت ہے۔ صحیحین اور ترمذی میں حضرت علی شیر خدا سے مروی ہے، ہم بقیع میں جنازہ میں تھے نبی کریم تشریف لائے آپ بیٹھے اور ہم بھی آپ کے ساتھ بیٹھ گئے آپ کے پاس ایک لکڑی تھی جس کے ساتھ آپ زمین کو کرید رہے تھے رسول اللہ نے اپنا سر آسمان کی طرف بلند کیا، فرمایا، ہر نفس کے داخل ہونے کی جگہ کو لکھ دیا گیا ہے لوگوں نے عرض کی، یارسول اللہ کیا ہم اپنے کیے پر بھروسہ نہ کریں ؟ جو سعادت مند ہوگا تو وہ سعادت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
آیت فسنیسرہ للیسری۔ ہم اس کے لیے خیر کی راہیں آسان کردیں گے۔ آیت وامامن بخل واستغنی اور لیکن جس نے بخل کیا اور بےپرواہ رہا یعنی اپنے مال سے بخل کیا اور اپنے رب سے بےپرواہ رہا۔ آیت وکذب بالحسنی اور نیک بات کو جھٹلایا یعنی اللہ کی طرف سے خلیفہ ہونے کو جھٹلایا آیت فسنیسرہ للعسری۔ تو ہم اس کے لیے جہنم کی راہیں آسان کردیں گے۔ یعنی ہم اس کے لیے شر کی راہ آسان کردیں گے اللہ ی طرف سے
16۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاما من اعطی یعنی اس نے اللہ کا حق ادا کیا اس پر تھا۔ آیت واقتی اور اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے بچتا رہا آیت وصدق بالحسنی اور اللہ کے ان ودعوں کی تصدیق کی جو…
Read the full tafseer →[وَاَمَا مَنْۢ: اور وہ جو ہے جس نے ][ بَخِلَ وَاسْتَغْنٰى: کنجوسی کی اور بےپرواہ ہوا ]
نوٹ۔ 2: آیات۔ 8 ۔ 9 ۔ میں انسانی کوششوں میں سے دوسری قسم کا بیان ہے جو اپنے ہر جز میں پہلی قسم کے ہر جز سے مختلف ہے۔ عام طور پر لوگ اس آدمی کو کنجوس کہتے ہیں جو روپیہ پیسہ جوڑ کر رکھتا ہے اور اسے اپنے اور اپنے بال بچوں پر خرچ نہیں کرتا۔ لیکن اس جگہ بخل سے مراد راہ خدا میں اور نیکی کے کاموں میں خرچ نہ کرنا ہے۔ اس لحاظ سے وہ شخص بھی بخیل ہے جو اپنی ذات پر، اپنے عیش و آرام اور تفریحات پر تو دل کھول کر خرچ کرنا ہے، مگر کسی نیک کام کے لیے اس کی جیب سے کچھ نہیں نکلتا۔ بےنیازی برتنے سے مراد یہ ہے کہ آدمی دنیا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
اس کے بعد اعمال صالحہ اور اعمال سیہٴ کا تذکرہ فرمایا، ارشاد فرمایا : ﴿ فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ005 وَ صَدَّقَ بالْحُسْنٰى ۙ006 فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْيُسْرٰى ؕ007﴾ (سو جس نے دیا اور حسنیٰ یعنی کلمہ لا الہ الا اللہ کی تصدیق کی سو ہم اس کے لیے آرام والی خصلت اختیار کرنا آسان کردیں گے) ﴿ وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰىۙ008 وَ كَذَّبَ بالْحُسْنٰى ۙ009 فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰى ؕ0010﴾ (اور جس نے کنجوسی کی اور بےپروائی اختیار کی اور حسنیٰ یعنی کلمہ لا الہ الا اللہ کو جھٹلایا سو ہم اس کے لیے مصیبت والی خصلت اختیار کرنا آسان کردیں گے) ۔
یعنی دنیا میں مصیبتوں میں پڑے گا اور آخرت میں دوزخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
تقسیم جہو عملیہ در حیات انسانی وترتب ثمرات سعادت وشقاوت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والیل اذا یغشی ....... الی ......... ولسوف یرضی “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں فوز و فلاح اور شقاوت وبدنصیبی کے اسباب پر کلام تھا اور یہ کہ انسانی نفس اگر طہارت وتزکیہ سے آراستہ ہو تو اس پر دنیا کی عزت وسربلندی اور آخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے اور اگر نفس کو شہوات کی گندگی میں آلودہ کرلیا جائے تو انسانی شرف سے محرومی کے بعد دنیا کی تباہی اور عذاب آخرت میں مبتلا ہونے کے سوا کوئی نتیجہ نہیں ہوتا، اور دنیا میں بڑی سے بڑی طاقت ور قومیں اسی شقاوت وبدنصیبی کا شکار ہو کر ہلاک ہوئیں اور تاریخ عالم اس کی گواہی دیتی ہے، تو اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
4:۔ ” واما من بخل “ یہ سعی عمل کا دوسرا رخ ہے جو شخص بخل کرے اور راہ حق میں مال خرچ نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب وثواب سے مستغنی ہوجائے اور ملت اسلام کو جھٹلائے اس کے لیے ہم تنگی اور شدت کے اسباب آسان کردیں گے اور اس کی سعی عمل کا نتیجہ جہنم کا دردناک عذاب ہوگا۔ ” وما یغنی عنہ مالہ اذا تردی “ وہ مال کو جمع کرتا رہا لیکن راہ حق میں اس کو خرچ نہ کیا تو جب وہ ہلاکت کے گڑھے (جہنم) میں گرے گا اس وقت یہ دولت کام نہ آئے گی کیونکہ اس وقت اس کے ہاتھ خالی ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
پہلی سورة کے ساتھ ربط
اس سورة کا مضمون بھی پہلی سورة کے ساتھ ملتا جلتا ہے۔ پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھائی تھی کہ مختلف چیزوں کے اثرات پڑنے سے انسان کے دل میں ارادہ پیدا ہوتا ہے اور یہی ارادہ انسانیت کا خلاصہ اور نچوڑ ہے ارادہ اچھا بھی ہوتا ہے اور برا بھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہر نفس میں فطری طور پر تقویٰ اور فجور کا الہام بھی کیا ہے۔ لہٰذا جو لوگ اچھے کام کا ارادہ کریں گے وہ اصحاب تزکیہ میں شمار ہوں گے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے نفوس کو پاک کیا ، برے اعمال اور برے عقیدے سے انہیں بچائے رکھا۔ برخلاف اس کے جو لوگ اپنے نفوس کو برے اعتقاد اور برے عمل سے آلودہ کریں گے۔ ان کا شمار اصحاب…
Read the full tafseer →وَاَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَاسْتَغْنٰى 8 ۙ
بخل
البُخْلُ : إمساک المقتنیات عمّا لا يحق حبسها عنه، ويقابله الجود، يقال : بَخِلَ فهو بَاخِلٌ ، وأمّا البَخِيل فالذي يكثر منه البخل، کالرحیم من الراحم .
والبُخْلُ ضربان : بخل بقنیات نفسه، وبخل بقنیات غيره، وهو أكثرها ذمّا، دلیلنا علی ذلک قوله تعالی: الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ [ النساء/ 37] .
( ب خ ل ) البخل ( دس ) اپنے جمع کردہ ذخائر کو ان جگہوں سے روک لینا جہاں پر خرچ کرنے سے اسے روکنا نہیں چاہیئے ۔ اس کے بالمقابل الجواد ہے بخل اس نے بخیل کیا باخل ۔ بخل کرنے والا ۔ البخیل ( صیغہ مبالغہ ) جو بہت زیادہ بخل سے کام لیتا ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
ترکیب ¦ والیل الواو للقسم اذا العامل فیھا معنی القسم والنھار عطف علیہ وما خلق الخ معطوف علی السابق وما مصدریۃ عند مقاتل والمعنی واقسم خلق الذکر والانثیٰ ۔ وعند الجمھور موصولۃ ای والذی خلقھما وما بمعنی من فقدا قسم بنفسہ الکریمۃ ان سعیکم لشتی جواب القسم ای عملکم مختلف فمنہ عمل للجنۃ ومنہ عمل للنارا ومنکم مومن ومنکم کافر السعی العمل وشتی جمع شتیت کمرضی جمع مریض والشتات ھوالافتراق ومعناہ مختلف لتباعد لبعض عن البعض۔ وسعیکم مصدر مضاف فیفید العموم فھو جمع معنی فاما من الخ شرط سنیسرہ الخ جواب والسین فی الموضعین للتسویف وھو من اللہ محقق والحسنی ای الخصلۃ الحسنیٰ اتشتمل کل فعل محمود من التوحید والایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
وَاَمَّا مَنْ م بَخِلَ وَاسْتَغْنٰی۔ وَکَذَّبَ بِالْحُسْنٰی۔ (الیل : 8، 9)
(اور جس نے بخل کیا اور بےنیاز بنا رہا۔ اور بھلائی کو جھٹلایا۔ )
بروں یعنی اہل شقاوت کی خصوصیات
اس سے پہلے کی آیات میں انسانی مساعی کی پہلی قسم کو بیان فرمایا گیا ہے جو درحقیقت اہل سعادت کی خصوصیات ہیں۔ اور اب اس کے مقابل اور اس کے بالکل برعکس انسانی مساعی کی دوسری قسم بیان کی گئی ہے جو درحقیقت اہل شقاوت کی خصوصیات یا ان کی قبیح عادات ہیں۔ ان میں سے سب سے پہلی خصوصیت یہ ہے کہ وہ مال و دولت کو اپنی ذاتی کاوشوں کا نتیجہ اور اپنی ملکیت سمجھنے کی وجہ سے کسی ایسی جگہ خرچ کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے جہاں ان کے نزدیک کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
فہم القرآن
ربط کلام : اچھے فکر وعمل کا ذکر کرنے کے بعد منفی سوچ اور برے عمل کا بیان اور انجام۔
فہم القرآن کا مطالعہ کرنے والے اصحاب یہ حقیقت بالیقین جانتے ہیں کہ قرآن مجید میں اکثر مقامات پر نیکی اور برائی کے درمیان فرق اور ان کے انجام کا بیک مقام پر ذکر کیا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا موقع پر فیصلہ کرپائے کہ اس نے کون سے کام اختیار کرنے ہیں اور کس راستے پر چلنا ہے۔ اسی اصول کے پیش نظر یہاں بھی قرآن مجید نے ایک ہی مقام پر مثبت فکرو عمل اور اس کے مقابلے میں منفی فکر وعمل کا ذکر اور ان کا انجام بیان کیا ہے۔ چناچہ بتلایا ہے کہ جس نے بخل اختیار کیا اور اپنے رب کے خوف سے…
Read the full tafseer →8 : وَاَمَّا مَنْم بَخِلَ (اور جس نے بخل کیا) اپنے مال کے سلسلہ میں وَاسْتَغْنٰی (اور بےپرواہی اختیار کی) اپنے رب سے اور تقویٰ اختیار نہ کیا۔ نمبر 2۔ آخرت کی نعمتوں سے دنیا کی شہوات کے ذریعہ بےنیازی اختیار کی۔
Read the full tafseer →8 ۔” وامامن بخل “ خیر میں خرچ کرنے سے۔ ” واستغنیٰ “ اللہ کے ثواب سے۔ پس اس میں رغبت نہ کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ 11۔ رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے اور حضرت آدم و حوا اسی طرح ان کی اولاد میں مرد و عورت کے پیدا کرنے کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں لوگوں کے عمل مختلف ہیں کوئی عقبیٰ میں نیک کام کا بدلہ پانے کے یقین اور اسی نیت سے اچھے کام کرتا ہے ایسا شخص اپنی نیکی کا پورا ثمرہ عقبیٰ میں بھی پائے گا اور دنیا میں بھی ایسے شخص کو دن بدن نیکی کی توفیق اللہ کی طرف سے دی جاتی ہے اور کوئی عقبیٰ کی جزا کے انکار کے سبب سے نیک کاموں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا بلکہ نیک کاموں کے کرنے سے بےپروائی ظاہر کرتا ہے ایسا شخص اپنا کیا عقبیٰ میں بھگتے گا۔ اور دنیا میں جبراً اللہ تعالیٰ اس کو…
Read the full tafseer →(وَاَمَّا مَنْۢ بَخِلَ ) اور جس نے ان امور کے بارے میں بخل سے کام لیا جن کا اسے حکم دیا گیا انفاق واجب ومستحب کو ترک کردیا اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا تھا اس کا نفس اسے ادا کرنے پر راضی نہ ہوا (وَاسْتَغْنٰى) اور اللہ تعالیٰ سے بےنیاز بنارہا اور نافرمانی سے اس کی عبودیت کو ترک کردیا۔ نیز اس نے یہ نہ دیکھا کہ اس کا نفس غایت حد تک اپنے رب کا محتاج ہے جس کے لیے کوئی نجات ہے نہ کوئی فوزوفلاح، سوائے اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا محبوب و معبود ہو جس وہ قصد کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
8 ۔ سعی محمود و مطلوب کا نتیجہ وثمرہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور سعی محمود و مطلوب کے نتیجہ وثمرہ کے ذکرو بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " جس نے ایسا کیا تو اس کے لیے ہم آسانی مہیا کردیں گے اس بڑے آسان راستے کی "۔ یعنی حق و ہدایت کی اس راہ کو ہم اس کے لیے آسان کردیتے ہیں جو مومن صادق کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و سرفراز رکتی ہے، کہ اس سے اس کو دنیا میں اس سے حیات طیبہ یعنی پاکیزہ زندگی نصیب ہوتی ہے اور آخرت میں جنت کی نعیم مقیم سے سرفرازی، اللہ نصیب فرمائیے آمین۔ سو اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ ہماری اس تیسیر کے بعد انسان کے لیے حق و ہدایت کی راہ پر چلنا ایسا آسان ہوجاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
اچھی بری نیت اعمال اور بدلہ
تشریح : اس سورت میں اللہ تعالیٰ قسم کھاتے ہیں کہ دن رات کی نرو مادہ کی اور خود اپنی ' اس بات کے لیے کہ ہر انسان کی فطرت انداز اور ماحول فرق ہوتا ہے اور انہی حالات کے مطابق سب کا رویہ بھی فرق ہوتا ہے یہ حقیقت ہے کہ ہر شخص کے کام کا انداز فرق ہوتا ہے اور پھر یہ اعمال کا انداز دوراہوں میں منقسم ہے۔ یعنی کچھ تو نیک فطرت ہوتے ہیں ان کو شیطان کتنا ہی بہلائے مگر وہ اس کا شکار نہیں ہوتے یعنی ان کی سرشت میں نیکی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ان کو برا راستہ ' برے کام اور برے لوگ بالکل اچھے نہیں لگتے یعنی ان کو کوئی بھی لالچ برائی پر آمادہ نہیں کرسکتا وہ کہتے ہیں کہ کسی کو دیکھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة اللیل۔
آیات 1 تا 21۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے رات کی جب چھاجاتی ہے اور دن کی جب روشن ہوتا ہے اور اس کی جس نے بقائے نسل کے لیے ایک جیسے دو بندوں کو نرومادہ پیدا فرمادیا یعنی یہ سب نظام اس بات پر گواہ ہے کہ تمہاری محنت ومشقت بھی دو طرح سے ہے جس طرح رات کا اثر تاریکی اور دن کا اجالا ہے یانر کا کام الگ اور مادہ کے اوصاف الگ ہیں ایسے ہی تمہارے کردار کے نتائج دو طرح کے ہیں کہ جن لوگوں نے دینے کارویہ اپنایا اور اللہ کی محبت اور قربت کی تلاش میں اپنایا اور ارشادات نبوی کی تصدیق کی دل سے زبان سے اور کردار سے۔
دینے کارویہ۔
زندگی کا مدار دینے پر ہے سورج ، چاند ، ہوا ، بادل ، بارش ، روئیدگی ، پیداوار سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ف 7 یعنی توحید کو جھٹلایا اور کفر و شرک کا قائل ہوا۔
Read the full tafseer →(92:8) واما من بخل واستغنی۔ جملہ عاطفہ اور شرطیہ ہےعاطفہ اور من شرطیہ ہے۔ بخل ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب بخل (باب سمع) مصدر۔ اس نے بخل کیا۔ اس نے کنجوسی کی۔
واؤ عاطفہ استغنی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب استغناء (استفعال) مصدر اس نے بےپروائی کی۔ اس کا عطف بخل پر ہے۔ اور جس نے کنجوسی کی اور (آخرت کی) پرواہ نہ کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
لغات القرآن۔
شتی۔ مختلف۔ الگ الگ۔ نیسر۔ ہم آسان کردیں گے۔ العسری۔ تنگی۔ تردی۔ وہ نیچے گرا۔ تلظی۔ بھڑک دار۔ یجنب۔ بچ جائے گا۔
تشریح : اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں رات، دن، نر اور مادہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جس طرح رات دن سے اور نر مادہ سے الگ اور مختلف چیزیں ہیں اسی طرح دنیا میں جتنے بھی انسان، ان کے گروہ اور قومیں ہیں وہ اپنے عمل اور کوششوں میں بہت مختلف ہیں۔ رات کے وقت دن کا تصور اور دن میں رات کا تصور ممکن نہیں ہے۔ نر مادہ ہوسکتا اور مادہ نر نہیں ہوسکتی اسی طرح نیکی اور برائیوں پر چلنے والے بھی اپنے انجام کے اعتبار سے یکساں نہیں ہوسکتے۔
ایک وہ شخص ہے جو نہایت خلوص اور اللہ کی رضا کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
حضرت صدیق اکبر کا ایمان۔
(ف 1) شان نزول۔ روساء مکہ میں سے دو شخص بہت مالدار تھے ایک تو حضرت صدیق اکبرؓ ایک امیہ بن خلف لیکن دونوں کی حالت مختلف تھی ، حضرت ابوبکر صدیق مسلمان اور انبیاء کے بعد سب سے افضل، اور اپنا جان مال راہ خدا میں لٹانے والے تھے اور یہ کم بخت کافر انتہا درجہ کا بخیل اور گستاخ تھا، حضرت بلال اسی کے غلام تھے اور خفیہ ایمان لاچکے تھے ، امیہ بن خلف کو جب اس امر کی اطلاع ہوئی تو غلاموں کو حکم دیا کہ دن چرھے بلال ؓ کے تمام جسم پر ببول کے کانٹے چبھو دیا کرو اور جب دھوپ تیز ہوجائے تو اس کو دھوپ میں چت لٹا کر سرے سے پیر تک گرم پتھر پاٹ دیا کرو کہ ہل نہ سکے، اور گرداگرد آگ سلگادیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
[3] آسانی کے گھر سے مراد ہے جنت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة الیل
1 ۔ یعنی جس طرح تاریک رات اور روشن دن میں اختلاف ہے اور خدا کی اس تقسیم میں اختلاف ہے اللہ تعالیٰ نے مرد کو بھی پیدا کیا اور عورت کو بھی ۔ نر کو بھی اور مادہ کو بھی ۔ اسی طرح کفر و ایمان کی مساعی یکساں نہیں ہیں ۔ نہ فطرت اور ساخت کے اعتبار سے اور نہ نتائج وثمرات کے اعتبار سے ۔ کفر ہمہ تاریکی ہے اور ایمان ہمہ روشنی ۔ کفر انوثیت اور نامرادی ہے اور ایمان جرات وجسارت ۔
نتائج وثمرات کے لحاظ سے بھی دونوں مختلف ہیں ۔ وہ شخص جو دولت ایمان سے بہرہ مندی کی وجہ سے اس کی راہ میں اپنا مال صرف کرتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے اور ہر نیک بات کی عمل سے تصدیق کرتا ہے ۔ اس کے لئے تیسیر کی نعمتیں اس کی طرف…
Read the full tafseer →(8) اور جب شخص نے مال خرچ کرنے میں بخل کیا اور بےپروائی برتی - یعنی خدا تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری اور طاعت الٰہی سے بےپروائی برتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
5۔ یعنی دونوں میں ہماری ہی حکومت ہے، اس لئے دنیا میں ہم نے احکام مقرر کئے اور آخرت میں ان کی مخالفت و موافقت پر سزا و جزا دیں گے جس کا بیان دو جگہ فسنیسرہ میں ہوا ہے۔
Read the full tafseer →اور جس نے بخل کیا اور بےپروائی کا اظہار کیا
8 ؎ یہ بات پیچھے بھی بہت دفعہ بیان کی جا چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہاں بھی اہل سعادت کا ذکر کیا وہاں اہل شقاوت کے بیان کو بھی ساتھ رکھا اور جہاں اہل شقاوت کو بیان کیا وہاں اہل سعادت کے ذکر کو بھی ساتھ رکھا۔ زیر نظر آیت میں بھی اہل شقاوت کا باون ہے اور ظاہر ہے کہ اس جگہ بھی وہ اہل سعادت کے ذکر کے بعد آ رہا ہے گویا اصل مقصد تو ذکر اہل سعادت ہی کا تھا لیکن اس کی تکمیل اہل شقاوت کے بیان کے علاوہ ممکن نہ تھی اس لیے اس کے ساتھ ہی اہل شقاوت کا بیان بھی دے دیا گیا ۔ اہل شقاوت کون لوگ ہیں ؟ وہی جو اہل سعادت کی ضد ہیں اور قبیح عادات اور خصائل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ (We will facilitate for him the way to extreme ease [ i.e. the comforts of Paradise ]....92:7). The word yusra literally denotes 'ease and comfort' or a thing in which there is no difficulty, but here it refers to "Paradise". Likewise, referring to the second group it says:
فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ (for him We will facilitate the way to extreme distress...92:10). The opposite of yusra is ` usra which literally denotes 'extreme distress, referring to "Hell". The two statements signify that those who exert their efforts in the first three acts, that is,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
4 This is the second kind of human endeavouring, which in every part of it is different from the corresponding part of the first kind. Niggardliness (bukhl) is not merely the niggardliness because of which people generally regard a person as niggardly if he hoards money: neither spends it on himself nor on his children, but bukhl here implies to refrain from spending in the cause of Allah and public welfare. According to this, niggardly is every person who spends generously, rather squanders money, on his self, for his own ease and comfort, interests and enjoyments, but, as. for a good cause,…
Read the full tafseer →