وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی ۟ۙوَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰىۙ
اور نیک بات کو سچ جانا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And believes in the best [reward],
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz
وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی ۟ۙوَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰىۙ
اور نیک بات کو سچ جانا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And believes in the best [reward],
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Lail
اور بھلائی کو سچ مانا
اور نیک بات کو سچ جانا
اور نیک بات کی تصدیق کرتا رہے گا
اور سب سے اچھی بات کو دل سے مانا۔
اور سب سے اچھی کو سچ مانا
اور اس نے (اِنفاق و تقوٰی کے ذریعے) اچھائی (یعنی دینِ حق اور آخرت) کی تصدیق کی،
اور اس نے سب سے اچھی بات کو سچ مانا۔
اور بھلی باتوں کی تصدیق کی
اور اچھے انجام کو سچ مانا
اور اس نے تصدیق کی (دین و ایمان کی) اس بڑائی بھلائی کی
اور اچھی بات کو سچا سمجھا
اور اس نے تصدیق کی اچھی بات کی۔
اور نیک بات کو سچ جانا
and affirmed the Truth of goodness:
and believes in the best (religion) ,
and believes in the best (religion) ,
And believes in Al-Husna.
And believeth in goodness;
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And believes in the best [reward],
for those who spend for the cause of God,
And accepts the best,
And testifieth to the Good,
And (in all sincerity) testifies to the best,-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–11
نیکی کے لیے قصد ضروری ہے : مسند احمد میں ہے حضرت علقمہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جاکر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو حضرت ابو الدرداء سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو حضرت علقمہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے ؟ میں نے کہا والذکر والانثٰی پڑھتے تھے، حضرت ابو الدرداء فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں حضور ﷺ کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
سورة الَّیْل 2 یہ انسانی مساعی کی ایک قسم ہے جس میں تین چیزیں شمار کی گئی ہیں اور غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام خوبیوں کی جامع ہیں۔ ایک یہ کہ انسان زبردستی میں مبتلا نہ ہو بلکہ کھلے دل سے اپنا مال، جتنا کچھ بھی اللہ نے اسے دیا ہے، اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے، نیکی اور بھلائی کے کاموں میں، اور خلق خدا کی مدد کرنے میں صرف کرے۔ دوسرے یہ کہ اس کے دل میں خدا کا خوف ہو اور وہ اخلاق، اعمال، معاشرت، معیشت، غرض اپنی زندگی کے ہر شعبے میں ان کاموں سے پرہیز کرے جو خدا کی ناراضی کے موجب ہوں۔ تیسرے یہ کہ وہ بھلائی کی تصدیق کرے۔ بھلائی ایک وسیع المعنی لفظ ہے جس میں عقیدے، اخلاق اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
خلاصہ تفسیر قسم ہے رات کی جبکہ وہ آفتاب کو اور دن کو) چھپالے، اور (قسم ہے) دن کی جبکہ وہ روشن ہوجاوے (اور قسم ہے) اس (ذات) کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا (مراد اللہ تعالیٰ ہے آگے جواب قسم ہے) کہ بیشک تمہاری کوششیں (یعنی اعمال) مختلف ہیں (اور اسی طرح ان کے ثمرات بھی مختلف ہیں) سو جس نے (اللہ کی راہ میں مال) دیا اور اللہ سے ڈرا اور اچھی بات (یعنی ملت اسلام) کو سچا سمجھا تو ہم اس کو راحت کی چیز کے لئے سامان دیدیں گے (راحت کی چیز سے نیک عمل اور بواسطہ نیک عمل کے جنت مراد ہے کہ یسر کا سبب اور محل ہے اسی لئے یسریٰ کہہ دیا گیا ورنہ یسریٰ کے معنی ہیں آسان چیز) اور جس نے (حقوق واجبہ سے) بخل کیا اور…
Read the full tafseer →’وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی‘۔ ’حُسْنٰی‘ کا موصوف لفظ ’عاقبۃ‘ یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہے یعنی وہ انفاق اور نیکی کے اچھے انجام پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ ان کی نیکی کے اصل محرک کا پتہ دیا ہے کہ آخرت کے خوف کے ساتھ ان کے اندر یہ ایمان بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی ہر نیکی کا بھرپور صلہ ہے۔ جس شخص کے اندر نہ آخرت کا خوف ہو نہ وہ یہ ایمان رکھتا ہو کہ آخرت میں اس کی رائی کے برابر کی نیکی کا بھی صلہ ملنے والا ہے، وہ اول تو کچھ خرچ کرنے کا حوصلہ کر سکتا ہی نہیں اور کرے گا بھی تو لازماً اپنے کسی دنیوی مفاد کو سامنے رکھ کر کرے گا۔ یہ انفاق اللہ تعالیٰ کے نزدیک بالکل بے برکت ہے۔ سورۂ ماعون میں…
Read the full tafseer →6۔ 1 یا اچھے صلے کی تصدیق کرے گا، یعنی اس بات پر یقین رکھے گا کہ انفاق اور تقوی اللہ کی طرف سے عمدہ صلہ ملے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
2: سب سے اچھی بات سے مراد دین اسلام اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی جنت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
واما من .................... اذاتردی (8:92 تا 11) ” اور جس نے بخل اختیار کیا اور اللہ سے بےنیازی اختیار کی اور بھلائی کو جھٹلایا ، اس کو ہم سخت راستے کی طرف سہولت دیں گے ، اور اس کا مال آخر اس کے کس کام آئے گا جبکہ وہ ہلاک ہوجائے “۔ وہ شخص جو اپنے نفس اور مال میں بخل اختیار کرتا ہے اور اللہ کریم سے بےنیازی اختیار کرتا ہے ، اور اس کی ہدایات سے غافل ہوتا ہے اور اللہ کے دین اور اس کی دعوت کی تکذیب کرتا ہے ، تو وہ اپنے نفس کو انتہائی شروفساد کے لئے تیار کرتا ہے ، اور پرلے درجے کے بگاڑ سے اس کو دوچار کرتا ہے ، تو وہ اس بات کے مستحق ہوتا ہے کہ اللہ اس کے لئے ہر چیز مشکل کردے اور اسے سخت راستوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
10 یعنی جو شخص نیک راستہ میں مال خرچ کرتا اور دل میں خدا سے ڈرتا ہے اور اسلام کی بھلی باتوں کو سچ جانتا اور بشارات ربانی کو صحیح سمجھتا ہے، اس کے لئے ہم اپنی عادت کے موافق نیکی کا راستہ آسان کردیں گے اور انجام کار انتہائی آسانی اور راحت کے مقام پر پہنچا دیں گے جس کا نام جنت ہے۔
Read the full tafseer →آیت 6{ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی۔ } ”اور اس نے تصدیق کی اچھی بات کی۔“ یہ خیر کے راستے کی تیسری شرط یا اس کا تیسرا وصف ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ جب بھلائی اور حق کی کوئی بات انسان کے سامنے آئے اور اس کا دل گواہی دے دے کہ ہاں یہ بات حق ہے تو وہ بلاتردّد اس کی تصدیق کردے۔ یعنی وہ بھلائی ‘ سچائی اور حق کی تصدیق کرنے کے لیے عواقب و نتائج کی پروا نہ کرے۔ حق کو حق جان کر اس کی تصدیق و توثیق کے لیے سود و زیاں کا ترازو نصب کر کے نہ بیٹھ جائے اور نہ ہی اس حوالے سے اپنی انا کو آڑے آنے دے۔ جیسے کہ ہماری روز مرہ کی زندگی میں اکثر ہوتا ہے کہ دو آدمیوں کی بحث کے دوران ایک آدمی پر واضح ہوجاتا ہے کہ دوسرے کی بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
2 یعنی لوگوں کے اعمال اور ان کے نتائج جو ایک دوسرے سے متضاد اور مختلف ہیں۔ ان میں سے ایک گروہ کے اعمال یہ ہیں کہ : 1۔ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہا۔ 2۔ اس نے اپنی ساری زندگی اللہ سے ڈرتے ہوئے اور اس کی فرمانبرداری میں گزار دی اور 3۔ ہر بھلی بات کی تصدیق کی۔ بھلی بات سے مراد ایمان بالغیب بھی ہے۔ اللہ کی آیات بھی ہیں۔ اللہ کی توحید بھی، رسول کی تصدیق بھی اور اخلاق فاضلہ کی بجا آوری بھی۔ گویا ان تین مختصر سے الفاظ میں پوری شریعت کا خلاصہ پیش فرما دیا کہ جو شخص یہ اور یہ کام کرے گا اللہ اس کے لیے احکام شریعت پر چلنا اور جنت میں داخلہ کا مستحق ہونا آسان بنا دیتا ہے۔ اسے نیکی کے کاموں کی توفیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
3۔ یعنی جنت تک اسے آسانی سے پہنچا دیں گے، اسے ایسی توفیق دیں گے کہ راہ کی مشکلات وہ آسانی سے طے کرتا چلا جائے گا (آیت) ” من اعطی “۔ یعنی جس نے اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا۔ (آیت) ” صدق بالحسنی “۔ یعنی دین اسلام کی تصدیق کی۔ الحسنی۔ سے مراد دین اسلام ہی ہے۔ اے بالملۃ الحسنی وھی ملۃ الاسلام (روح) اے بالکلمۃ الحسنی وھی کماقال ابوعبدالرحمن اسلمی وغیرہ وروی ذلک عن عبداللہ بن عباس لاالہ الا اللہ (روح) (آیت) ” الیسری، الیسری “۔ سے مراد جنت ہے، جہاں ہر طرح اور ہر طرف سہولتیں اور راحتیں ہی ہوں گی ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے رات کی جب وہ اپنی تاریکی سے آسمان اور زمین کی ہر شئی پر چھا جائے اور قسم ہے دن کی جب وہ روشن ہو (یعنی) جب کہ وہ واضح اور ظاہر ہو اور اذا دونوں جگہ ظریفیت کے لئے ہے اور اس میں عامل فعل قسم ہے اور ما بمعنی من یا مصدریہ ہے اور قسم ہے اس ذات کی جس نے نر و مادہ پیدا کئے (یعنی) آدم و حواء یا مذکر و مئونث کو پیدا کیا اور خنثیٰ مشکل ہمارے نزدیک ہے (مگر) اللہ کے نزدیک وہ مذکر یا مئونث ہے لہٰذا وہ شخص جس نے قسم کھائی کہ وہ مرد اور عورت سیبات نہ کرے گا تو وہ خنثیٰ مشکل سے کلام کرنے سے حانث ہوجائے گا، یقیناً تمہاری کوشش (یعنی)…
Read the full tafseer →و صدق بالحسنی . ابو عبدالرحمن سلمیٰ اور ضحاک نے کہا : الحسنٰی یعنی لا الٰہ الاّ اللہ بروایت عطیہ حضرت ابن عباس کا بھی یہ قول آیا ہے اور مجاہد کے نزدیک جنت مراد ہے۔ اللہ نے فرمایا : للذین احسنوا الحسنٰی۔ نیک اعمال کرنے والے کے لیے الحسنیٰ ہے۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ اس کو یقین ہوگیا کہ اللہ اس کو جنت میں جگہ دے گا۔ عکرمہ کی روایت سے حضرت ابن عباس کا یہی قول آیا ہے۔ قتادہ ‘ مقاتل اور کلبی نے کہا اللہ کا وعدہ مراد ہے یعنی جس نے تصدیق کی کہ اللہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
سو جس نے اللہ کی راہ میں مال دیا اور نو مسلمانوں کو کفار سے خرید کر اور ان کی تکالیف سے نجاد دلا کر ان کو آزاد کردیا اور کفر و شرک اور فواحش سے بچا، اور اللہ کے وعدے کی، یا یہ کہ جنت کی، یا یہ کہ کلمہ اسلام کی تصدیق کی سو ہم اس پر اطاعت خداوندی کو آسان کردیں گے یا یہ کہ بار بار نیکیوں اور اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی توفیق دیں گے ان آیات سے حضرت ابوبکر صدیق مراد ہیں ان ہی کی فضیلت میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں۔ شان نزول فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَاتَّقٰى الخ حاکم نے بواسطہ عامر بن عبداللہ، حضرت عبداللہ بن زبیر سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابو قحافہ نے حضرت ابوبکر سے فرمایا اے بیٹے تو کمزوروں کو خرید کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
فاما من اعطی …:”الحسنی“”احسن“ کی مونث ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ومن احسن قولاً ممن دعآ الی اللہ و عمل صالحاً وقال اننی من السلمین) (حم السجدۃ : 33)”اور اس شخص سے زیادہ اچھی بات کس کی ہے جو اللہ کی طرف دعوت دے اور نیک عمل کرے اور کہے کہ بیشک میں فرماں بر داروں سے ہوں ؟“ جس شخص میں بھی بھلائی کے یہ تین جامع اوصاف ہیں کہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے فراخ دل ہے، اللہ سے ڈرتا ہے اور اس کی نافرمانی اور ہر حرام کام سے بچتا ہے اور سب سے اچھی بات یعنی اللہ کے ایک ہونے کو اور اس کی نازل کی ہوئی ہر بات کو سچ مان کر اس کا تابع ہوجاتا ہے، تو اس کے اس میلان اور رجحان کے مطابق ہم بھی اس کے لئے نیکی…
Read the full tafseer →وصدق بالحسنی۔ حسنی سے مراد ہے کہ بندہ جو عطا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر بدلہ عطا کرتا ہے اس کی تصدیق کی۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ سے مروی ہے، مامن یوم یصبح العباد فیہ الا وملکان ینزلان فیقول احدھما، اللھم اعط منفقا خلفا ویقول الاخر اللھم اعط ممسکا تلفا۔ کوئی دن نہیں ہوتا جس میں لوگ صبح کرتے ہیں مگر دو فرشتے اترتے ہیں ان میں سے ایک کہتا ہے، اے اللہ خرچ کرنے والے کو بدل عطا فرمادوسرا کہتا ہے اے اللہ روکنے والے کو بربادی دے۔ حضرت ابودرداء سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، کسی دن کا سورج غروب نہیں ہوتا مگر اس کے پہلو دو فرشتے اعلان کرتے ہیں جس اعلان کو اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
آیت فسنیسرہ للیسری۔ ہم اس کے لیے خیر کی راہیں آسان کردیں گے۔ آیت وامامن بخل واستغنی اور لیکن جس نے بخل کیا اور بےپرواہ رہا یعنی اپنے مال سے بخل کیا اور اپنے رب سے بےپرواہ رہا۔ آیت وکذب بالحسنی اور نیک بات کو جھٹلایا یعنی اللہ کی طرف سے خلیفہ ہونے کو جھٹلایا آیت فسنیسرہ للعسری۔ تو ہم اس کے لیے جہنم کی راہیں آسان کردیں گے۔ یعنی ہم اس کے لیے شر کی راہ آسان کردیں گے اللہ ی طرف سے 16۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاما من اعطی یعنی اس نے اللہ کا حق ادا کیا اس پر تھا۔ آیت واقتی اور اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے بچتا رہا آیت وصدق بالحسنی اور اللہ کے ان ودعوں کی تصدیق کی جو…
Read the full tafseer →[وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰى: اور اس نے تصدیق کی اس بڑی بھلائی کی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
اس کے بعد اعمال صالحہ اور اعمال سیہٴ کا تذکرہ فرمایا، ارشاد فرمایا : ﴿ فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ005 وَ صَدَّقَ بالْحُسْنٰى ۙ006 فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْيُسْرٰى ؕ007﴾ (سو جس نے دیا اور حسنیٰ یعنی کلمہ لا الہ الا اللہ کی تصدیق کی سو ہم اس کے لیے آرام والی خصلت اختیار کرنا آسان کردیں گے) ﴿ وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰىۙ008 وَ كَذَّبَ بالْحُسْنٰى ۙ009 فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰى ؕ0010﴾ (اور جس نے کنجوسی کی اور بےپروائی اختیار کی اور حسنیٰ یعنی کلمہ لا الہ الا اللہ کو جھٹلایا سو ہم اس کے لیے مصیبت والی خصلت اختیار کرنا آسان کردیں گے) ۔ یعنی دنیا میں مصیبتوں میں پڑے گا اور آخرت میں دوزخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
تقسیم جہو عملیہ در حیات انسانی وترتب ثمرات سعادت وشقاوت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والیل اذا یغشی ....... الی ......... ولسوف یرضی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں فوز و فلاح اور شقاوت وبدنصیبی کے اسباب پر کلام تھا اور یہ کہ انسانی نفس اگر طہارت وتزکیہ سے آراستہ ہو تو اس پر دنیا کی عزت وسربلندی اور آخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے اور اگر نفس کو شہوات کی گندگی میں آلودہ کرلیا جائے تو انسانی شرف سے محرومی کے بعد دنیا کی تباہی اور عذاب آخرت میں مبتلا ہونے کے سوا کوئی نتیجہ نہیں ہوتا، اور دنیا میں بڑی سے بڑی طاقت ور قومیں اسی شقاوت وبدنصیبی کا شکار ہو کر ہلاک ہوئیں اور تاریخ عالم اس کی گواہی دیتی ہے، تو اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
3:۔ ” فاما من اعطی “ یہ جواب قسم۔ یعنی سعی عمل کے مختلف ہونے کا ذکر اور نوع عمل کی جزاء وسزا کا بیان ہے جو شخص مال کے حقوق ادا کرے یعنی جہاں اللہ نے خرچ کرنے کا حکم دیا ہے وہاں خرچ کرے اور خدا سے ڈرے اور اس کے محارم و ممنوعات سے اجتناب کرے۔ ” وصدق بالحسنی “ اور ملت اسلام پر ایمان لائے اور اس کی تصدیق کرے۔ ” فسنیسرہ للیسری “ یہ بشارت ہے جس شخص کی سعی عمل مذکورہ بالا اعمال کے لیے ہوگی ہم اس کیلئے آسانی کے اسباب مہیا کردینگے یعنی اسے ایسے کاموں کی مزید توفیق دیں گے جو آخرت میں اس کی راحت و آسانی اور دخول جنت کا باعث ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
پہلی سورة کے ساتھ ربط اس سورة کا مضمون بھی پہلی سورة کے ساتھ ملتا جلتا ہے۔ پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھائی تھی کہ مختلف چیزوں کے اثرات پڑنے سے انسان کے دل میں ارادہ پیدا ہوتا ہے اور یہی ارادہ انسانیت کا خلاصہ اور نچوڑ ہے ارادہ اچھا بھی ہوتا ہے اور برا بھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہر نفس میں فطری طور پر تقویٰ اور فجور کا الہام بھی کیا ہے۔ لہٰذا جو لوگ اچھے کام کا ارادہ کریں گے وہ اصحاب تزکیہ میں شمار ہوں گے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے نفوس کو پاک کیا ، برے اعمال اور برے عقیدے سے انہیں بچائے رکھا۔ برخلاف اس کے جو لوگ اپنے نفوس کو برے اعتقاد اور برے عمل سے آلودہ کریں گے۔ ان کا شمار اصحاب…
Read the full tafseer →وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰى 6 ۙ صدق وکذب الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ الکذب یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے لئے آتے ہیں اور اس کے ماسوا دیگر اصناف کلام میں استعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
ترکیب ¦ والیل الواو للقسم اذا العامل فیھا معنی القسم والنھار عطف علیہ وما خلق الخ معطوف علی السابق وما مصدریۃ عند مقاتل والمعنی واقسم خلق الذکر والانثیٰ ۔ وعند الجمھور موصولۃ ای والذی خلقھما وما بمعنی من فقدا قسم بنفسہ الکریمۃ ان سعیکم لشتی جواب القسم ای عملکم مختلف فمنہ عمل للجنۃ ومنہ عمل للنارا ومنکم مومن ومنکم کافر السعی العمل وشتی جمع شتیت کمرضی جمع مریض والشتات ھوالافتراق ومعناہ مختلف لتباعد لبعض عن البعض۔ وسعیکم مصدر مضاف فیفید العموم فھو جمع معنی فاما من الخ شرط سنیسرہ الخ جواب والسین فی الموضعین للتسویف وھو من اللہ محقق والحسنی ای الخصلۃ الحسنیٰ اتشتمل کل فعل محمود من التوحید والایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی۔ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی۔ (الیل : 5، 6) (تو جس نے (راہِ خدا میں) مال دیا اور اللہ کی نافرمانی سے پرہیز کیا۔ اور اس نے بھلائی کی تصدیق کی۔ ) نیکوں کی صفات اوپر جن دو گروہوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے پہلے گروہ کی مساعی اور جدوجہد کی تفصیلات کو سمیٹتے ہوئے تین چیزوں کا ذکر فرمایا گیا اور یہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ جو تمام خوبیوں کی جامع ہیں۔ جن میں پہلی چیز یہ ہے کہ حُبِ مال اور زرپرستی جو انسان کی بہت بڑی کمزوری ہے یہ لوگ اس میں مبتلا ہونے کی بجائے کھلے دل سے اپنا مال اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، بندوں کے حقوق ادا کرتے ہیں، بھلائی کے کاموں میں اور خلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
فہم القرآن ربط کلام : فکروعمل میں فرق اور نیک فکر وعمل کا دنیا میں فائدہ۔ فکرو عمل میں فرق سمجھانے کے لیے مختصر طور پر یہاں دو قسم کی سوچ اور اعمال بیان کیے گئے ہیں ایک وہ خوش قسمت ہے جس نے ” اللہ “ کے دیئے ہوئے مال کو اس کی رضا کے لیے خرچ کیا اور ہمیشہ بخل اور اپنے رب کی نافرمانی سے ڈرتا رہا اور اللہ تعالیٰ کے ارشادات اور احکام کی دل کی گہرائی، زبان کی سچائی اور صالح عمل کے ساتھ اس کی تصدیق کرتا رہا اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکی کرنا مزید آسان کردیتا ہے جس بنا پر اس کے لیے صدقہ اور نیکی کرنا آسان ہوجاتے ہیں اس بات کو یوں بھی بیان کیا گیا ہے۔ ( الَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ…
Read the full tafseer →الحسنیٰ اسلام ہے : 6 : وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی (اور اچھی بات کو اچھا سمجھا) ملت حسنی یعنی ملت اسلام کو اختیار کیا۔ نمبر 2۔ اچھے ثواب کو مانا۔ وہ اچھا ثواب جنت یا کلمہ لا الٰہ الا اللہ ہے۔
Read the full tafseer →6 ۔” وصدق بالحسنیٰ “ ابو عبدالرحمن سلمی اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں اور تصدیق لا الہ الاالہ کے ساتھ اور یہی عطیہ کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں جنت کی۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا قول ” للذین احسنوا الحسنیٰ “ یعنی جنت ہے اور کہا گیا ہے ” صدق بالحسنیٰ “ یعنی ” بالخلف “ یعنی یقین کیا کہ اللہ تعالیٰ عنقریب اس کو خلیفہ بنائیں گے اور یہ عکرمہ کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور قتادہ ، مقاتل اور کلبی رحمہم اللہ فرماتے ہیں اللہ کے وعدہ کی جو اس نے وعدہ کیا ہے وہ وعدہ کیا ہے وہ پورا کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ 11۔ رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے اور حضرت آدم و حوا اسی طرح ان کی اولاد میں مرد و عورت کے پیدا کرنے کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں لوگوں کے عمل مختلف ہیں کوئی عقبیٰ میں نیک کام کا بدلہ پانے کے یقین اور اسی نیت سے اچھے کام کرتا ہے ایسا شخص اپنی نیکی کا پورا ثمرہ عقبیٰ میں بھی پائے گا اور دنیا میں بھی ایسے شخص کو دن بدن نیکی کی توفیق اللہ کی طرف سے دی جاتی ہے اور کوئی عقبیٰ کی جزا کے انکار کے سبب سے نیک کاموں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا بلکہ نیک کاموں کے کرنے سے بےپروائی ظاہر کرتا ہے ایسا شخص اپنا کیا عقبیٰ میں بھگتے گا۔ اور دنیا میں جبراً اللہ تعالیٰ اس کو…
Read the full tafseer →(وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰى) اور اس نے نیک بات کی تصدیق کی۔ یعنی اس نے لا الہ الا اللہ اور ان عقائد دینیہ اور ان پر مرتب ہونے والی جزا کی تصدیق کی، جو اس لا الہ الا اللہ کی تائید کرتی ہیں۔
Read the full tafseer →(7) سعی محمود و مطلوب کا تیسرا رکن تصدیق بالحسنی : سو سعی محمود و مطلوب کے تیسرے رکن یعنی تصدیق بالحسنی کے ذکرو بیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور اس نے تصدیق کی اس بھلائی کی، جو کہ منبع ومصدر ہے ہر خوبی و بھلائی کا، الحسنی صفت ہے اور اس کا موصوف ہے " العاقبہ " یعنی انجام، سو جو شخص عاقبہ حسنی یعنی اچھے انجام اور جنت و آخرت کی تصدیق کرتا ہے اور اس پر ایمان رکھتا ہے اسی کا راستہ صحیح ہوتا ہے، اور وہی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوتا ہے، کیونکہ دین و ایمان کے بغیر کسی بھی عمل کا اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی وزن اور اعتبار نہیں، کسی بھی عمل اور نیکی کی قبولیت کے لیے اولین شرط و اساس عقیدہ و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
اچھی بری نیت اعمال اور بدلہ تشریح : اس سورت میں اللہ تعالیٰ قسم کھاتے ہیں کہ دن رات کی نرو مادہ کی اور خود اپنی ' اس بات کے لیے کہ ہر انسان کی فطرت انداز اور ماحول فرق ہوتا ہے اور انہی حالات کے مطابق سب کا رویہ بھی فرق ہوتا ہے یہ حقیقت ہے کہ ہر شخص کے کام کا انداز فرق ہوتا ہے اور پھر یہ اعمال کا انداز دوراہوں میں منقسم ہے۔ یعنی کچھ تو نیک فطرت ہوتے ہیں ان کو شیطان کتنا ہی بہلائے مگر وہ اس کا شکار نہیں ہوتے یعنی ان کی سرشت میں نیکی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ان کو برا راستہ ' برے کام اور برے لوگ بالکل اچھے نہیں لگتے یعنی ان کو کوئی بھی لالچ برائی پر آمادہ نہیں کرسکتا وہ کہتے ہیں کہ کسی کو دیکھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة اللیل۔ آیات 1 تا 21۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے رات کی جب چھاجاتی ہے اور دن کی جب روشن ہوتا ہے اور اس کی جس نے بقائے نسل کے لیے ایک جیسے دو بندوں کو نرومادہ پیدا فرمادیا یعنی یہ سب نظام اس بات پر گواہ ہے کہ تمہاری محنت ومشقت بھی دو طرح سے ہے جس طرح رات کا اثر تاریکی اور دن کا اجالا ہے یانر کا کام الگ اور مادہ کے اوصاف الگ ہیں ایسے ہی تمہارے کردار کے نتائج دو طرح کے ہیں کہ جن لوگوں نے دینے کارویہ اپنایا اور اللہ کی محبت اور قربت کی تلاش میں اپنایا اور ارشادات نبوی کی تصدیق کی دل سے زبان سے اور کردار سے۔ دینے کارویہ۔ زندگی کا مدار دینے پر ہے سورج ، چاند ، ہوا ، بادل ، بارش ، روئیدگی ، پیداوار سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ف 5 یعنی توحید کا قائل ہوا۔6 یعنی اس کی عادت اور خواہش کے مطاب نیک اعمال کو اس پر آسان کر دینگے اور انجام کا وہاں پہنچائیں گے جہاں اسے آرام ملے۔ یعنی جنت میں … کچھ یہی مفہوم ہے جسے ” ہمت مرداں مدد خدا “ کا محاورہ ادا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →(92:6) وصدق بالحسنی۔ واؤ عاطفہ۔ اس کا عطف فاما من اعطی پر ہے۔ صدق ماضی واحد مذکر غائب تصدیق (تفعیل) مصدر اس نے سچ مانا۔ اس نے تصدیق کی۔ وہ یقین لایا۔ الحسنی : حسن سے بروزن فعلی افعل التفضیل کا صیغہ واحد مؤنث ہے ۔ اچھی۔ عمدہ بات۔ (یعنی کلمہ توحید) اور اس نے نیک بات (کلمہ توحید) کو سچ جانا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
لغات القرآن۔ شتی۔ مختلف۔ الگ الگ۔ نیسر۔ ہم آسان کردیں گے۔ العسری۔ تنگی۔ تردی۔ وہ نیچے گرا۔ تلظی۔ بھڑک دار۔ یجنب۔ بچ جائے گا۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں رات، دن، نر اور مادہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جس طرح رات دن سے اور نر مادہ سے الگ اور مختلف چیزیں ہیں اسی طرح دنیا میں جتنے بھی انسان، ان کے گروہ اور قومیں ہیں وہ اپنے عمل اور کوششوں میں بہت مختلف ہیں۔ رات کے وقت دن کا تصور اور دن میں رات کا تصور ممکن نہیں ہے۔ نر مادہ ہوسکتا اور مادہ نر نہیں ہوسکتی اسی طرح نیکی اور برائیوں پر چلنے والے بھی اپنے انجام کے اعتبار سے یکساں نہیں ہوسکتے۔ ایک وہ شخص ہے جو نہایت خلوص اور اللہ کی رضا کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
حضرت صدیق اکبر کا ایمان۔ (ف 1) شان نزول۔ روساء مکہ میں سے دو شخص بہت مالدار تھے ایک تو حضرت صدیق اکبرؓ ایک امیہ بن خلف لیکن دونوں کی حالت مختلف تھی ، حضرت ابوبکر صدیق مسلمان اور انبیاء کے بعد سب سے افضل، اور اپنا جان مال راہ خدا میں لٹانے والے تھے اور یہ کم بخت کافر انتہا درجہ کا بخیل اور گستاخ تھا، حضرت بلال اسی کے غلام تھے اور خفیہ ایمان لاچکے تھے ، امیہ بن خلف کو جب اس امر کی اطلاع ہوئی تو غلاموں کو حکم دیا کہ دن چرھے بلال ؓ کے تمام جسم پر ببول کے کانٹے چبھو دیا کرو اور جب دھوپ تیز ہوجائے تو اس کو دھوپ میں چت لٹا کر سرے سے پیر تک گرم پتھر پاٹ دیا کرو کہ ہل نہ سکے، اور گرداگرد آگ سلگادیا…
Read the full tafseer →[2] یعنی کلمہ توحید لا الہ الا اللہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة الیل 1 ۔ یعنی جس طرح تاریک رات اور روشن دن میں اختلاف ہے اور خدا کی اس تقسیم میں اختلاف ہے اللہ تعالیٰ نے مرد کو بھی پیدا کیا اور عورت کو بھی ۔ نر کو بھی اور مادہ کو بھی ۔ اسی طرح کفر و ایمان کی مساعی یکساں نہیں ہیں ۔ نہ فطرت اور ساخت کے اعتبار سے اور نہ نتائج وثمرات کے اعتبار سے ۔ کفر ہمہ تاریکی ہے اور ایمان ہمہ روشنی ۔ کفر انوثیت اور نامرادی ہے اور ایمان جرات وجسارت ۔ نتائج وثمرات کے لحاظ سے بھی دونوں مختلف ہیں ۔ وہ شخص جو دولت ایمان سے بہرہ مندی کی وجہ سے اس کی راہ میں اپنا مال صرف کرتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے اور ہر نیک بات کی عمل سے تصدیق کرتا ہے ۔ اس کے لئے تیسیر کی نعمتیں اس کی طرف…
Read the full tafseer →(6) اور بھلی بات کی یعنی ملت اسلام کی تصدیق کی - یعنی جس شخص نے اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہا یعنی ہرنامناسب بات سے بچتا رہا اور بھلی بات کی تصدیق کی یعنی ملت اسلام کی عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا ، لا الہ الا اللہ کی تصدیق کی یا اس امر کی تصدیق کی کہ خیرات کرنے والے کو اللہ تعالیٰ اس کے مال کا بدل اور خلیفہ عطا فرماتا ہے یعنی اس کا یقین رکھتا ہے کہ جو مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا ثواب عطا فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ف 4۔ تکلیف کی چیز سے بدعمل اور بواسطہ بدعمل کے دوزخ مراد ہے کہ عسر کا سبب اور محل ہے، اس لئے اس عسر کو عسری کہہ دیا گیا۔ اور سامان دینے سے مراد دونوں جگہ یہ ہے کہ اچھے یا برے کام اس سے بےتکلف سرزد ہوں گے اور ویسے ہی اسباب جمع ہوجائیں گے اور پھر نیک اعمال کا سامان جنت ہونا اور اعمال بد کا سامان دوزخ ہونا ظاہر ہی ہے۔ حدیث میں ہے فاما من کان من اھل السعادة فسیسیر لعمل اھل السعادة و کذا فی الشقاوة۔
Read the full tafseer →اور ہر نیک بات کی وہ تصدیق کرتے ہیں 6 ؎ گزشتہ آیت میں ان کے تقویٰ اور پرہیز گاری کا ذکر فرمایا اور ان کی خوبیوں کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے ٰتقویٰ کو اپنا شعار بنا رکھا ہے ۔ فرائض و واجبات کی ادائیگی میں سرگرم عمل ہیں اور منہیات ، محرمات بلکہ مکروہات کے بھی قریب تک نہیں جاتے ۔ ان کا ظاہر و باطن تقویٰ اور پرہیز گاری کی حالت پر کوئی شخص بھی انگشت زنی نہیں کرسکتا ۔ ان کا نام آئے گا تو تمہاری شہادتیں شروع ہوجائیں گی اور بحمد اللہ مخالفین بھی یہاں تک کہہ دیں گے کہ فلاں کے تقویٰ اور پرہیز گاری اور اخلاق و کردار پر کلام نہیں کیا جاسکتا اگرچہ وہ وہابی ہے ، نیچری ہے ، معتزلہ ہے اور یہ الزام رکھنے والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
Commentary إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّىٰ (your efforts are diverse....92:4). This statement is like the statement in Surah Inshiqaq, verse [ 6]: إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًا '0 man, you have to work hard constantly to reach your Lord. [ 84:6] ' which has already been explained in that Surah. The sense is that man, by his nature, is used to making efforts for one objective or another. But the nature and the results of these efforts are different. Some people work hard for an objective that brings eternal happiness to them, and others work hard for an objective that makes them suffer…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
2 This is the first kind of endeavours, which includes three things, and a little consideration shows that they comprehend all virtues: (1) That Tnan should refrain from wealth-worship, but should spend whatever Allah has given him generously in rendering Allah's and His servants' rights, for good works and for helping others; (2) that he should fear God and refrain from things which cause His displeasure in his moral, social, economic and other dealings with the people; (3) that he should believe in goodness. Goodness is a comprehensive word, which includes goodness of belief, morals and…
Read the full tafseer →