Al-Lail 92:5

Al-Lail · from ayah 5

92:5

فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی ۟ۙفَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰى وَاتَّقٰىۙ‏

تو جس نے (خدا کے رستے میں مال) دیا اور پرہیز گاری کی

— Fateh Muhammad Jalandhari

As for he who gives and fears Allah

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Lail

All translations of 92:5

تو جس نے (راہ خدا میں) مال دیا اور (خدا کی نافرمانی سے) پرہیز کیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو جس نے (خدا کے رستے میں مال) دیا اور پرہیز گاری کی

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس نے دیا (اللہ کی راه میں) اور ڈرا (اپنے رب سے)

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب جس کسی نے (اللہ کے راستے میں مال) دیا، اور تقوی اختیار کیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو وہ جس نے دیا اور پرہیزگاری کی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس جس نے (اپنا مال اﷲ کی راہ میں) دیا اور پرہیزگاری اختیار کی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس لیکن وہ جس نے دیا اور (نافرمانی سے) بچا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جس نے (اللہ کی راہ میں) مال دیا اور پرہیزگاری اختیار کی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

سو جس نے انفاق کیا اور پرہیز گاری اختیار کی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو جس نے دیا (اپنے خالق ومالک کی رضا کے لئے) اور وہ ڈرتا (اور بچتا) رہا (اس کی گرفت و پکڑ سے)

— مولانا اسحاق مدنی

سو جس نے دیا اور (اللہ سے) ڈرا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو جس نے عطا کیا اور تقویٰ اختیار کیا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو جس نے اللہ کے رستے میں مال دیا اور پرہیزگاری کی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

As for him who gave out his wealth (for Allah's sake) and abstained (from disobeying Him),

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

As for the one who gives (in charity) and fears Allah,

— Muhammad Taqi Usmani

As for the one who gives (in charity) and fears Allah,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

As for him who gives and has Taqwa,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

As for him who giveth and is dutiful (toward Allah)

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

As for he who gives and fears Allah

— Saheeh International

We shall facilitate the path to bliss

— Muhammad Sarwar

Then as for him who gives away and guards (against evil),

— Muhammad Habib Shakir

Then as for him who giveths and feareth Him.

— Abdul Majid Daryabadi

So he who gives (in charity) and fears (Allah),

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 92:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–11

نیکی کے لیے قصد ضروری ہے : مسند احمد میں ہے حضرت علقمہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جاکر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو حضرت ابو الدرداء سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو حضرت علقمہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے ؟ میں نے کہا والذکر والانثٰی پڑھتے تھے، حضرت ابو الدرداء فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں حضور ﷺ کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 5–6

سورة الَّیْل 2 یہ انسانی مساعی کی ایک قسم ہے جس میں تین چیزیں شمار کی گئی ہیں اور غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام خوبیوں کی جامع ہیں۔ ایک یہ کہ انسان زبردستی میں مبتلا نہ ہو بلکہ کھلے دل سے اپنا مال، جتنا کچھ بھی اللہ نے اسے دیا ہے، اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے، نیکی اور بھلائی کے کاموں میں، اور خلق خدا کی مدد کرنے میں صرف کرے۔ دوسرے یہ کہ اس کے دل میں خدا کا خوف ہو اور وہ اخلاق، اعمال، معاشرت، معیشت، غرض اپنی زندگی کے ہر شعبے میں ان کاموں سے پرہیز کرے جو خدا کی ناراضی کے موجب ہوں۔ تیسرے یہ کہ وہ بھلائی کی تصدیق کرے۔ بھلائی ایک وسیع المعنی لفظ ہے جس میں عقیدے، اخلاق اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–14

خلاصہ تفسیر قسم ہے رات کی جبکہ وہ آفتاب کو اور دن کو) چھپالے، اور (قسم ہے) دن کی جبکہ وہ روشن ہوجاوے (اور قسم ہے) اس (ذات) کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا (مراد اللہ تعالیٰ ہے آگے جواب قسم ہے) کہ بیشک تمہاری کوششیں (یعنی اعمال) مختلف ہیں (اور اسی طرح ان کے ثمرات بھی مختلف ہیں) سو جس نے (اللہ کی راہ میں مال) دیا اور اللہ سے ڈرا اور اچھی بات (یعنی ملت اسلام) کو سچا سمجھا تو ہم اس کو راحت کی چیز کے لئے سامان دیدیں گے (راحت کی چیز سے نیک عمل اور بواسطہ نیک عمل کے جنت مراد ہے کہ یسر کا سبب اور محل ہے اسی لئے یسریٰ کہہ دیا گیا ورنہ یسریٰ کے معنی ہیں آسان چیز) اور جس نے (حقوق واجبہ سے) بخل کیا اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اس فرق کی تفصیل جو نیکوں اور بدوں کی کمائی میں ہو گا: یہ تفصیل ہے اس فرق و اختلاف کی جو لازماً نیکوں اور بدوں کی کمائی میں رونما ہو گا اور جس کو رونما ہونا چاہیے بھی۔ فرمایا کہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا، اپنے رب سے ڈرے گا، اچھے انجام کو سچ مانے گا اس کو تو ہم آسان راہ چلائیں اور آسانی کی منزل تک پہنچائیں گے۔ ’اَعْطٰی‘ کے بعد ’وَاتَّقٰی‘ کے ذکر سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اس انفاق سے مقصود ریاء و نمائش یا کوئی اور دنیوی چیز نہ ہو بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی تمنا اور ایک ایسے دن کا خوف ہو جس دن نیک عمل کے سوا کوئی چیز کام آنے والی نہیں بنے گی۔ اس کی وضاحت سورۂ دہر میں یوں ہوئی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–6

2: سب سے اچھی بات سے مراد دین اسلام اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی جنت ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 5–8

واما من .................... اذاتردی (8:92 تا 11) ” اور جس نے بخل اختیار کیا اور اللہ سے بےنیازی اختیار کی اور بھلائی کو جھٹلایا ، اس کو ہم سخت راستے کی طرف سہولت دیں گے ، اور اس کا مال آخر اس کے کس کام آئے گا جبکہ وہ ہلاک ہوجائے “۔ وہ شخص جو اپنے نفس اور مال میں بخل اختیار کرتا ہے اور اللہ کریم سے بےنیازی اختیار کرتا ہے ، اور اس کی ہدایات سے غافل ہوتا ہے اور اللہ کے دین اور اس کی دعوت کی تکذیب کرتا ہے ، تو وہ اپنے نفس کو انتہائی شروفساد کے لئے تیار کرتا ہے ، اور پرلے درجے کے بگاڑ سے اس کو دوچار کرتا ہے ، تو وہ اس بات کے مستحق ہوتا ہے کہ اللہ اس کے لئے ہر چیز مشکل کردے اور اسے سخت راستوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 5–7

10 یعنی جو شخص نیک راستہ میں مال خرچ کرتا اور دل میں خدا سے ڈرتا ہے اور اسلام کی بھلی باتوں کو سچ جانتا اور بشارات ربانی کو صحیح سمجھتا ہے، اس کے لئے ہم اپنی عادت کے موافق نیکی کا راستہ آسان کردیں گے اور انجام کار انتہائی آسانی اور راحت کے مقام پر پہنچا دیں گے جس کا نام جنت ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5{ فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی۔ } ”تو جس نے عطا کیا اور تقویٰ اختیار کیا۔“ ظاہر ہے یہ خیر کا راستہ ہے اور اس راستے کا پہلا وصف یا پہلا سنگ میل ”اِعطاء“ یا انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ سورة البلد میں اس عمل کو انسان کے لیے ایک بہت مشکل گھاٹی قرار دے کر اس کی وضاحت یوں فرمائی گئی : { فَکُّ رَقَـبَۃٍ - اَوْ اِطْعٰـمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَـبَۃٍ - یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَۃٍ - اَوْ مِسْکِیْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ - ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا…} ”کسی گردن کا چھڑا دینا۔ یا کھانا کھلا دینا بھوک کے دن ‘ اس یتیم کو کہ جو قرابت دار بھی ہے ‘ یا اس محتاج کو جو مٹی میں رُل رہا ہے۔ پھر وہ شامل ہوا ان…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 4–5

1 سورة الشمس کی طرح اس سورت کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے چند متضاد اشیاء مثلاً رات اور دن کی نر اور مادہ کی قسم کھا کر فرمایا کہ جس طرح دن اور رات کی اور نر اور مادہ کی خصوصیات آپس میں متضاد اور مختلف ہیں۔ اسی طرح اے بنی نوع انسان ! تم جو کچھ اس دنیا میں اعمال بجا لا رہے ہو وہ بھی ایک دوسرے سے متضاد اور مختلف ہیں۔ لہذا تمہاری اس سعی عمل کے نتائج مختلف ہیں اور ہونے چاہئیں۔ وہ یکساں کبھی نہیں ہوسکتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 5–7

3۔ یعنی جنت تک اسے آسانی سے پہنچا دیں گے، اسے ایسی توفیق دیں گے کہ راہ کی مشکلات وہ آسانی سے طے کرتا چلا جائے گا (آیت) ” من اعطی “۔ یعنی جس نے اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا۔ (آیت) ” صدق بالحسنی “۔ یعنی دین اسلام کی تصدیق کی۔ الحسنی۔ سے مراد دین اسلام ہی ہے۔ اے بالملۃ الحسنی وھی ملۃ الاسلام (روح) اے بالکلمۃ الحسنی وھی کماقال ابوعبدالرحمن اسلمی وغیرہ وروی ذلک عن عبداللہ بن عباس لاالہ الا اللہ (روح) (آیت) ” الیسری، الیسری “۔ سے مراد جنت ہے، جہاں ہر طرح اور ہر طرف سہولتیں اور راحتیں ہی ہوں گی ،

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–7

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے رات کی جب وہ اپنی تاریکی سے آسمان اور زمین کی ہر شئی پر چھا جائے اور قسم ہے دن کی جب وہ روشن ہو (یعنی) جب کہ وہ واضح اور ظاہر ہو اور اذا دونوں جگہ ظریفیت کے لئے ہے اور اس میں عامل فعل قسم ہے اور ما بمعنی من یا مصدریہ ہے اور قسم ہے اس ذات کی جس نے نر و مادہ پیدا کئے (یعنی) آدم و حواء یا مذکر و مئونث کو پیدا کیا اور خنثیٰ مشکل ہمارے نزدیک ہے (مگر) اللہ کے نزدیک وہ مذکر یا مئونث ہے لہٰذا وہ شخص جس نے قسم کھائی کہ وہ مرد اور عورت سیبات نہ کرے گا تو وہ خنثیٰ مشکل سے کلام کرنے سے حانث ہوجائے گا، یقیناً تمہاری کوشش (یعنی)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاما من اعطی . یعنی جس نے راہ خدا میں مال دیا یا اپنے ہر فرض کو ادا کیا۔ واتقی . اور اللہ کے عذاب سے بچ گیا (جس کا ثبوت یہ ہے) کہ عذاب میں مبتلا کردینے والے گناہوں سے اس نے اجتناب کرلیا۔ حدیث میں آیا ہے دوزخ سے بچو اگرچہ چھوارہ کا نصف حصہ دے کر ہو۔ (بخاری و مسلم عن عدی بن حاتم و احمد عن عائشۃ ؓ والبزار والطبرانی فی الاوسط عن انس ؓ و فی الکبیر عن ابن عباس ؓ و ابی امامۃ والبراء عن نعمان بن بشیر و ابی ہریرۃ ؓ

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 5–7

سو جس نے اللہ کی راہ میں مال دیا اور نو مسلمانوں کو کفار سے خرید کر اور ان کی تکالیف سے نجاد دلا کر ان کو آزاد کردیا اور کفر و شرک اور فواحش سے بچا، اور اللہ کے وعدے کی، یا یہ کہ جنت کی، یا یہ کہ کلمہ اسلام کی تصدیق کی سو ہم اس پر اطاعت خداوندی کو آسان کردیں گے یا یہ کہ بار بار نیکیوں اور اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی توفیق دیں گے ان آیات سے حضرت ابوبکر صدیق مراد ہیں ان ہی کی فضیلت میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں۔ شان نزول فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَاتَّقٰى الخ حاکم نے بواسطہ عامر بن عبداللہ، حضرت عبداللہ بن زبیر سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابو قحافہ نے حضرت ابوبکر سے فرمایا اے بیٹے تو کمزوروں کو خرید کر…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 5–7

فاما من اعطی …:”الحسنی“”احسن“ کی مونث ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ومن احسن قولاً ممن دعآ الی اللہ و عمل صالحاً وقال اننی من السلمین) (حم السجدۃ : 33)”اور اس شخص سے زیادہ اچھی بات کس کی ہے جو اللہ کی طرف دعوت دے اور نیک عمل کرے اور کہے کہ بیشک میں فرماں بر داروں سے ہوں ؟“ جس شخص میں بھی بھلائی کے یہ تین جامع اوصاف ہیں کہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے فراخ دل ہے، اللہ سے ڈرتا ہے اور اس کی نافرمانی اور ہر حرام کام سے بچتا ہے اور سب سے اچھی بات یعنی اللہ کے ایک ہونے کو اور اس کی نازل کی ہوئی ہر بات کو سچ مان کر اس کا تابع ہوجاتا ہے، تو اس کے اس میلان اور رجحان کے مطابق ہم بھی اس کے لئے نیکی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس آیت کا مصداق اور عطا کی فضیلت۔ مسئلہ نمبر 1۔ فاما من اعطی واتقی۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : اس آیت کا مصداق حضرت ابوبکر صدیق ہیں عام مفسرین نے بھی یہی کہا ہے، عامر بن عبداللہ بن زبیر سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق مسلمان بوڑھے مرد اور عورتوں کو آزاد کیا کرتے تھے تو ان کے والد حضرت ابوقحافہ نے ان سے کہا، اے بیٹے کاش تم قوی وطاقتور غلام آزاد کرتے جو تیرا دفاع کرتے اور تیرے ساتھ کھڑے ہوتے ؟ حضرت ابوبکر صدیق نے کہا، اے میرے اباجان، میں ارادہ کرتا ہوں جو ارادہ کرتا ہوں۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ اعطی کا معنی ہے خرچ کیا اور اتقی کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزیں جن سے اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

15۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابیء حاتم وابن جریر وبیہوی نے شعب الایمان میں عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فاما من اعطی یعنی جس نے اپنے فالتو مال میں سے راہ خدا میں دیا۔ آتی وتاقی یعنی اپنے رب سے ڈرتا رہا آیت وصدق بالحسنی۔ اور نیک باتوں کی تصدیق کی یعنی اللہ کی طرف سے خلیفہ ہونے کی تصدیق کی۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَاَمَا مَنْ : پس وہ جو ہے جس نے ][ اَعْطٰى وَاتَّقٰى: خوش دلی سے دیا اور پرہیزگار رہا ] نوٹ۔ 1: آیات۔ 5 ۔ 6 ۔ میں انسانی کوششوں کی ایک قسم میں سے تین کا ذکر کیا گیا ہے غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام خوبیوں کی جامع ہیں۔ ایک یہ کہ انسان ذر پرستی میں مبتلا نہ ہو بلکہ کھلے دل سے اپنا مال، جتنا کچھ اللہ نے دیا ہے، اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے میں صرف کرے۔ دوسرے یہ کہ اس کے دل میں خدا کا خوف ہو۔ وہ زندگی کے ہر شعبہ میں ان کاموں سے پرہیز کرے جو خدا کی ناراضی کے موجب ہوں۔ تیسرے یہ کہ وہ بھلائی کی تصدیق کرے۔ بھلائی ایک وسیع المعانی لفظ ہے جس میں عقیدے، اخلاق اور اعمال، تینوں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 5–10

اس کے بعد اعمال صالحہ اور اعمال سیہٴ کا تذکرہ فرمایا، ارشاد فرمایا : ﴿ فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ005 وَ صَدَّقَ بالْحُسْنٰى ۙ006 فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْيُسْرٰى ؕ007﴾ (سو جس نے دیا اور حسنیٰ یعنی کلمہ لا الہ الا اللہ کی تصدیق کی سو ہم اس کے لیے آرام والی خصلت اختیار کرنا آسان کردیں گے) ﴿ وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰىۙ008 وَ كَذَّبَ بالْحُسْنٰى ۙ009 فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰى ؕ0010﴾ (اور جس نے کنجوسی کی اور بےپروائی اختیار کی اور حسنیٰ یعنی کلمہ لا الہ الا اللہ کو جھٹلایا سو ہم اس کے لیے مصیبت والی خصلت اختیار کرنا آسان کردیں گے) ۔ یعنی دنیا میں مصیبتوں میں پڑے گا اور آخرت میں دوزخ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–21

تقسیم جہو عملیہ در حیات انسانی وترتب ثمرات سعادت وشقاوت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والیل اذا یغشی ....... الی ......... ولسوف یرضی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں فوز و فلاح اور شقاوت وبدنصیبی کے اسباب پر کلام تھا اور یہ کہ انسانی نفس اگر طہارت وتزکیہ سے آراستہ ہو تو اس پر دنیا کی عزت وسربلندی اور آخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے اور اگر نفس کو شہوات کی گندگی میں آلودہ کرلیا جائے تو انسانی شرف سے محرومی کے بعد دنیا کی تباہی اور عذاب آخرت میں مبتلا ہونے کے سوا کوئی نتیجہ نہیں ہوتا، اور دنیا میں بڑی سے بڑی طاقت ور قومیں اسی شقاوت وبدنصیبی کا شکار ہو کر ہلاک ہوئیں اور تاریخ عالم اس کی گواہی دیتی ہے، تو اب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 5–7

3:۔ ” فاما من اعطی “ یہ جواب قسم۔ یعنی سعی عمل کے مختلف ہونے کا ذکر اور نوع عمل کی جزاء وسزا کا بیان ہے جو شخص مال کے حقوق ادا کرے یعنی جہاں اللہ نے خرچ کرنے کا حکم دیا ہے وہاں خرچ کرے اور خدا سے ڈرے اور اس کے محارم و ممنوعات سے اجتناب کرے۔ ” وصدق بالحسنی “ اور ملت اسلام پر ایمان لائے اور اس کی تصدیق کرے۔ ” فسنیسرہ للیسری “ یہ بشارت ہے جس شخص کی سعی عمل مذکورہ بالا اعمال کے لیے ہوگی ہم اس کیلئے آسانی کے اسباب مہیا کردینگے یعنی اسے ایسے کاموں کی مزید توفیق دیں گے جو آخرت میں اس کی راحت و آسانی اور دخول جنت کا باعث ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–11

پہلی سورة کے ساتھ ربط اس سورة کا مضمون بھی پہلی سورة کے ساتھ ملتا جلتا ہے۔ پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھائی تھی کہ مختلف چیزوں کے اثرات پڑنے سے انسان کے دل میں ارادہ پیدا ہوتا ہے اور یہی ارادہ انسانیت کا خلاصہ اور نچوڑ ہے ارادہ اچھا بھی ہوتا ہے اور برا بھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہر نفس میں فطری طور پر تقویٰ اور فجور کا الہام بھی کیا ہے۔ لہٰذا جو لوگ اچھے کام کا ارادہ کریں گے وہ اصحاب تزکیہ میں شمار ہوں گے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے نفوس کو پاک کیا ، برے اعمال اور برے عقیدے سے انہیں بچائے رکھا۔ برخلاف اس کے جو لوگ اپنے نفوس کو برے اعتقاد اور برے عمل سے آلودہ کریں گے۔ ان کا شمار اصحاب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَاتَّقٰى۝ 5 ۙ «أمَّا» و «أمَّا» حرف يقتضي معنی أحد الشيئين، ويكرّر نحو : أَمَّا أَحَدُكُما فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْراً وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ [يوسف/ 41] ، ويبتدأ بها الکلام نحو : أمّا بعد فإنه كذا . ( ا ما حرف ) اما ۔ یہ کبھی حرف تفصیل ہوتا ہے ) اور احد اشیئین کے معنی دیتا ہے اور کلام میں مکرر استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ } ( سورة يوسف 41) تم میں سے ایک ( جو پہلا خواب بیان کرنے ولا ہے وہ ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کریگا اور جو دوسرا ہے وہ سونی دیا جائے گا ۔ اور کبھی ابتداء کلام کے لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–11

ترکیب ¦ والیل الواو للقسم اذا العامل فیھا معنی القسم والنھار عطف علیہ وما خلق الخ معطوف علی السابق وما مصدریۃ عند مقاتل والمعنی واقسم خلق الذکر والانثیٰ ۔ وعند الجمھور موصولۃ ای والذی خلقھما وما بمعنی من فقدا قسم بنفسہ الکریمۃ ان سعیکم لشتی جواب القسم ای عملکم مختلف فمنہ عمل للجنۃ ومنہ عمل للنارا ومنکم مومن ومنکم کافر السعی العمل وشتی جمع شتیت کمرضی جمع مریض والشتات ھوالافتراق ومعناہ مختلف لتباعد لبعض عن البعض۔ وسعیکم مصدر مضاف فیفید العموم فھو جمع معنی فاما من الخ شرط سنیسرہ الخ جواب والسین فی الموضعین للتسویف وھو من اللہ محقق والحسنی ای الخصلۃ الحسنیٰ اتشتمل کل فعل محمود من التوحید والایمان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 5–6

فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی۔ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی۔ (الیل : 5، 6) (تو جس نے (راہِ خدا میں) مال دیا اور اللہ کی نافرمانی سے پرہیز کیا۔ اور اس نے بھلائی کی تصدیق کی۔ ) نیکوں کی صفات اوپر جن دو گروہوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے پہلے گروہ کی مساعی اور جدوجہد کی تفصیلات کو سمیٹتے ہوئے تین چیزوں کا ذکر فرمایا گیا اور یہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ جو تمام خوبیوں کی جامع ہیں۔ جن میں پہلی چیز یہ ہے کہ حُبِ مال اور زرپرستی جو انسان کی بہت بڑی کمزوری ہے یہ لوگ اس میں مبتلا ہونے کی بجائے کھلے دل سے اپنا مال اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، بندوں کے حقوق ادا کرتے ہیں، بھلائی کے کاموں میں اور خلق…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–7

فہم القرآن ربط کلام : فکروعمل میں فرق اور نیک فکر وعمل کا دنیا میں فائدہ۔ فکرو عمل میں فرق سمجھانے کے لیے مختصر طور پر یہاں دو قسم کی سوچ اور اعمال بیان کیے گئے ہیں ایک وہ خوش قسمت ہے جس نے ” اللہ “ کے دیئے ہوئے مال کو اس کی رضا کے لیے خرچ کیا اور ہمیشہ بخل اور اپنے رب کی نافرمانی سے ڈرتا رہا اور اللہ تعالیٰ کے ارشادات اور احکام کی دل کی گہرائی، زبان کی سچائی اور صالح عمل کے ساتھ اس کی تصدیق کرتا رہا اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکی کرنا مزید آسان کردیتا ہے جس بنا پر اس کے لیے صدقہ اور نیکی کرنا آسان ہوجاتے ہیں اس بات کو یوں بھی بیان کیا گیا ہے۔ ( الَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

5 : فَاَمَّامَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی (پس جس نے دیا اور اللہ سے ڈرا) اعطیٰ : مال کے حقوق ادا کیے۔ اتقی : اپنے رب سے ڈرا اور اس کے محرمات سے پرہیز کیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–11

1۔ 11۔ رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے اور حضرت آدم و حوا اسی طرح ان کی اولاد میں مرد و عورت کے پیدا کرنے کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں لوگوں کے عمل مختلف ہیں کوئی عقبیٰ میں نیک کام کا بدلہ پانے کے یقین اور اسی نیت سے اچھے کام کرتا ہے ایسا شخص اپنی نیکی کا پورا ثمرہ عقبیٰ میں بھی پائے گا اور دنیا میں بھی ایسے شخص کو دن بدن نیکی کی توفیق اللہ کی طرف سے دی جاتی ہے اور کوئی عقبیٰ کی جزا کے انکار کے سبب سے نیک کاموں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا بلکہ نیک کاموں کے کرنے سے بےپروائی ظاہر کرتا ہے ایسا شخص اپنا کیا عقبیٰ میں بھگتے گا۔ اور دنیا میں جبراً اللہ تعالیٰ اس کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

بنا بریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کو فضیلت دی اور ان کے اعمال کا وصف بیان فرمایا (فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَاتَّقٰى) تو جس نے اللہ کے راستے میں مال دیا۔ یعنی اسے جن مالی عبادات کا حکم دیا گیا تھا مثلا، زکوۃ، نفقات، کفارات، صدقات اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا اور بدنی عبادات، مثلا، نماز روز وغیرہ اور وہ عبادات جو مالی اور بدنی عبادات کی مرکب ہیں مثلا حج اور عمرہ وغیرہ انہیں ادا کیا۔ (واتقی) ۔ اور وہ ان امور محرمہ اور مختلف قسم کے گناہوں سے بچتا رہا جن سے اسے روکا گیا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(5) سعی محمود اور فائز المرامی کی پہلی اصل کا ذکرو بیان : سو سعی محمود و مطلوب کے اصولوں کے ذکر وبیان کے سلسلے میں پہلی اصل کے بیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " جس نے دیا یعنی ( اپنے رب کی رضا کے لیے) کہ اس وحدہ لا شریک کی رضا و خوشنودی ہی اصل مقصود ہے کہ بندے کے پاس جو بھی کچھ ہے وہ اسی واہب مطلق سبحانہ و تعالیٰ کا دیا بخشا ہے جس کا طبعی اور فطری تقاضا یہی ہے کہ یہ سب کچھ اسی کی راہ میں اور اسی کی رضا کے لیے خرچ ہو، سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس سے اس فرق و اختلاف کو واضح فرمایا گیا جو نیکوں بدوں کی کمائی اور اچھوں بروں کی سعی و محنت کے درمیان پایا جاتا ہے اور پایا جانا چاہے، اس ضمن میں پہلی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–21

اچھی بری نیت اعمال اور بدلہ تشریح : اس سورت میں اللہ تعالیٰ قسم کھاتے ہیں کہ دن رات کی نرو مادہ کی اور خود اپنی ' اس بات کے لیے کہ ہر انسان کی فطرت انداز اور ماحول فرق ہوتا ہے اور انہی حالات کے مطابق سب کا رویہ بھی فرق ہوتا ہے یہ حقیقت ہے کہ ہر شخص کے کام کا انداز فرق ہوتا ہے اور پھر یہ اعمال کا انداز دوراہوں میں منقسم ہے۔ یعنی کچھ تو نیک فطرت ہوتے ہیں ان کو شیطان کتنا ہی بہلائے مگر وہ اس کا شکار نہیں ہوتے یعنی ان کی سرشت میں نیکی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ان کو برا راستہ ' برے کام اور برے لوگ بالکل اچھے نہیں لگتے یعنی ان کو کوئی بھی لالچ برائی پر آمادہ نہیں کرسکتا وہ کہتے ہیں کہ کسی کو دیکھ کر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–21

سورة اللیل۔ آیات 1 تا 21۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے رات کی جب چھاجاتی ہے اور دن کی جب روشن ہوتا ہے اور اس کی جس نے بقائے نسل کے لیے ایک جیسے دو بندوں کو نرومادہ پیدا فرمادیا یعنی یہ سب نظام اس بات پر گواہ ہے کہ تمہاری محنت ومشقت بھی دو طرح سے ہے جس طرح رات کا اثر تاریکی اور دن کا اجالا ہے یانر کا کام الگ اور مادہ کے اوصاف الگ ہیں ایسے ہی تمہارے کردار کے نتائج دو طرح کے ہیں کہ جن لوگوں نے دینے کارویہ اپنایا اور اللہ کی محبت اور قربت کی تلاش میں اپنایا اور ارشادات نبوی کی تصدیق کی دل سے زبان سے اور کردار سے۔ دینے کارویہ۔ زندگی کا مدار دینے پر ہے سورج ، چاند ، ہوا ، بادل ، بارش ، روئیدگی ، پیداوار سب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 5–7

ف 5 یعنی توحید کا قائل ہوا۔6 یعنی اس کی عادت اور خواہش کے مطاب نیک اعمال کو اس پر آسان کر دینگے اور انجام کا وہاں پہنچائیں گے جہاں اسے آرام ملے۔ یعنی جنت میں … کچھ یہی مفہوم ہے جسے ” ہمت مرداں مدد خدا “ کا محاورہ ادا کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(92:5) فاما من اعطی واتقی وصدق بالحسنی : (یہ اختلاف سعی کی صورتیں بیان ہو رہی ہیں) ۔ جملہ شرطیہ ہے۔ اما حرف شرط۔ بمعنی سو۔ پھر۔ من شرطیہ جس نے اعطی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اعطاء (افعال) مصدر۔ اس نے دیا۔ اس نے عطا کیا۔ واؤ عاطفہ، اتقی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اتقاء (افتعال) مصدر وہ ڈرا۔ اس نے پرہیز کیا۔ اور اس نے پرہیزگاری اختیار کی۔ اتقی کا عطف اعطی پر ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ پھر جس نے (اللہ کی راہ میں) دیا۔ اور پرہیزگاری اختیار کی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–21

لغات القرآن۔ شتی۔ مختلف۔ الگ الگ۔ نیسر۔ ہم آسان کردیں گے۔ العسری۔ تنگی۔ تردی۔ وہ نیچے گرا۔ تلظی۔ بھڑک دار۔ یجنب۔ بچ جائے گا۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں رات، دن، نر اور مادہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جس طرح رات دن سے اور نر مادہ سے الگ اور مختلف چیزیں ہیں اسی طرح دنیا میں جتنے بھی انسان، ان کے گروہ اور قومیں ہیں وہ اپنے عمل اور کوششوں میں بہت مختلف ہیں۔ رات کے وقت دن کا تصور اور دن میں رات کا تصور ممکن نہیں ہے۔ نر مادہ ہوسکتا اور مادہ نر نہیں ہوسکتی اسی طرح نیکی اور برائیوں پر چلنے والے بھی اپنے انجام کے اعتبار سے یکساں نہیں ہوسکتے۔ ایک وہ شخص ہے جو نہایت خلوص اور اللہ کی رضا کے لئے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–11

حضرت صدیق اکبر کا ایمان۔ (ف 1) شان نزول۔ روساء مکہ میں سے دو شخص بہت مالدار تھے ایک تو حضرت صدیق اکبرؓ ایک امیہ بن خلف لیکن دونوں کی حالت مختلف تھی ، حضرت ابوبکر صدیق مسلمان اور انبیاء کے بعد سب سے افضل، اور اپنا جان مال راہ خدا میں لٹانے والے تھے اور یہ کم بخت کافر انتہا درجہ کا بخیل اور گستاخ تھا، حضرت بلال اسی کے غلام تھے اور خفیہ ایمان لاچکے تھے ، امیہ بن خلف کو جب اس امر کی اطلاع ہوئی تو غلاموں کو حکم دیا کہ دن چرھے بلال ؓ کے تمام جسم پر ببول کے کانٹے چبھو دیا کرو اور جب دھوپ تیز ہوجائے تو اس کو دھوپ میں چت لٹا کر سرے سے پیر تک گرم پتھر پاٹ دیا کرو کہ ہل نہ سکے، اور گرداگرد آگ سلگادیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 4–5

[1] یہ ہے وہ بات جس پر رات اور دن اور نرومادہ کی پیدائش کی قسمیں کھائی گئی ہیں۔ یعنی جس طرح رات اور دن، نر اور مادہ مختلف اور متضاد چیزیں ہیں اسی طرح تمہارے اعمال اور کوششیں بھی مختلف اور متضاد ہیں لہذا ان اعمال و مساعی کے ثمرات و نتائج بھی مختلف ہوں گے جن کا ذکر آگے آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–21

سورة الیل 1 ۔ یعنی جس طرح تاریک رات اور روشن دن میں اختلاف ہے اور خدا کی اس تقسیم میں اختلاف ہے اللہ تعالیٰ نے مرد کو بھی پیدا کیا اور عورت کو بھی ۔ نر کو بھی اور مادہ کو بھی ۔ اسی طرح کفر و ایمان کی مساعی یکساں نہیں ہیں ۔ نہ فطرت اور ساخت کے اعتبار سے اور نہ نتائج وثمرات کے اعتبار سے ۔ کفر ہمہ تاریکی ہے اور ایمان ہمہ روشنی ۔ کفر انوثیت اور نامرادی ہے اور ایمان جرات وجسارت ۔ نتائج وثمرات کے لحاظ سے بھی دونوں مختلف ہیں ۔ وہ شخص جو دولت ایمان سے بہرہ مندی کی وجہ سے اس کی راہ میں اپنا مال صرف کرتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے اور ہر نیک بات کی عمل سے تصدیق کرتا ہے ۔ اس کے لئے تیسیر کی نعمتیں اس کی طرف…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–7

ف 4۔ تکلیف کی چیز سے بدعمل اور بواسطہ بدعمل کے دوزخ مراد ہے کہ عسر کا سبب اور محل ہے، اس لئے اس عسر کو عسری کہہ دیا گیا۔ اور سامان دینے سے مراد دونوں جگہ یہ ہے کہ اچھے یا برے کام اس سے بےتکلف سرزد ہوں گے اور ویسے ہی اسباب جمع ہوجائیں گے اور پھر نیک اعمال کا سامان جنت ہونا اور اعمال بد کا سامان دوزخ ہونا ظاہر ہی ہے۔ حدیث میں ہے فاما من کان من اھل السعادة فسیسیر لعمل اھل السعادة و کذا فی الشقاوة۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پس جس نے اللہ کی راہ میں دیا اور تقویٰ اختیار کیا 5 ؎ گزشتہ آیات میں دو گروہوں کا ذکر کیا گیا ہے جو آپس میں متضاد ہیں باوجود اس کے کہ دونوں کا تعلق ایک جنس انسان سے ہے لیکن ان کے اعمال نے ان کو دو گروہوں میں تقسیم کردیا ہے ۔ زیر نظر آیت میں اس گروہ کا ذکر ہے جس کو سعادت مند گروہ ، نیک لوگوں کا گروہ ، اصحاب الیمین کا گرہو ، مخلصین کا گروہ ، پاک سیرت و کردار لوگوں کا اور نام کچھ بھی آپ رکھیں بہر حال یہ وہ گروہ ہے جس گروہ نے جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو سچے دل سے قبول کیا ہے اور وہ ہر نیکی کے کام کو دوڑ کر کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ضرورت ہو تو وہ پیش پیش ہیں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–6

Commentary إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّىٰ (your efforts are diverse....92:4). This statement is like the statement in Surah Inshiqaq, verse [ 6]: إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَ‌بِّكَ كَدْحًا '0 man, you have to work hard constantly to reach your Lord. [ 84:6] ' which has already been explained in that Surah. The sense is that man, by his nature, is used to making efforts for one objective or another. But the nature and the results of these efforts are different. Some people work hard for an objective that brings eternal happiness to them, and others work hard for an objective that makes them suffer…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–6

2 This is the first kind of endeavours, which includes three things, and a little consideration shows that they comprehend all virtues: (1) That Tnan should refrain from wealth-worship, but should spend whatever Allah has given him generously in rendering Allah's and His servants' rights, for good works and for helping others; (2) that he should fear God and refrain from things which cause His displeasure in his moral, social, economic and other dealings with the people; (3) that he should believe in goodness. Goodness is a comprehensive word, which includes goodness of belief, morals and…

Read the full tafseer →