Al-Lail 92:4

Al-Lail · from ayah 4

92:4

اِنَّ سَعْیَكُمْ لَشَتّٰی ۟ؕاِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتّٰىؕ

کہ تم لوگوں کی کوششں طرح طرح کی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, your efforts are diverse.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Lail

All translations of 92:4

درحقیقت تم لوگوں کی کوششیں مختلف قسم کی ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہ تم لوگوں کی کوششں طرح طرح کی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً تمہاری کوشش مختلف قسم کی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہ حقیقت میں تم لوگوں کی کوششیں الگ الگ قسم کی ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک تمہاری کوشش مختلف ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک تمہاری کوشش مختلف (اور جداگانہ) ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک تمہاری کوشش یقینا مختلف ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کہ تمہاری کوشش یقینا مختلف قسم کی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہ تمہاری کمائی الگ الگ ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک تمہاری کوششیں (اے لوگو !) یکسر مختلف ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

کہ بیشک تمہاری کوششیں مختلف ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بیشک تمہاری کوشش الگ الگ ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہ تم لوگوں کی کوشش مختلف کی ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

surely your strivings are divergent.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

your efforts are diverse:

— Muhammad Taqi Usmani

your efforts are diverse:

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Certainly, your efforts and deeds are diverse.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! your effort is dispersed (toward divers ends).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, your efforts are diverse.

— Saheeh International

you strive in various ways.

— Muhammad Sarwar

Your striving is most surely (directed to) various (ends).

— Muhammad Habib Shakir

Verily your endeavour is diverse.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily, (the ends) ye strive for are diverse.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 92:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–11

نیکی کے لیے قصد ضروری ہے : مسند احمد میں ہے حضرت علقمہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جاکر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو حضرت ابو الدرداء سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو حضرت علقمہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے ؟ میں نے کہا والذکر والانثٰی پڑھتے تھے، حضرت ابو الدرداء فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں حضور ﷺ کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–4

سورة الَّیْل 1 یہ وہ بات ہے جس پر رات اور دن اور نر و مادہ کی پیدائش کی قسم کھائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح رات اور دن اور نر اور مادہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اور ان میں سے ہر دو کے آثار و نتائج باہم متضاد ہیں، اسی طرح تم لوگ جن راہوں اور مقاصد میں اپنی کوششیں صرف کر رہے ہو وہ بھی اپنی نوعیت کے لحاظ سے مختلف اور اپنے نتائج کے اعتبار سے متضاد ہیں۔ اس کے بعد کی آیات میں بتایا گیا کہ یہ تمام مختلف کوششیں دو بڑی اقسام میں تقسیم ہوتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–14

خلاصہ تفسیر قسم ہے رات کی جبکہ وہ آفتاب کو اور دن کو) چھپالے، اور (قسم ہے) دن کی جبکہ وہ روشن ہوجاوے (اور قسم ہے) اس (ذات) کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا (مراد اللہ تعالیٰ ہے آگے جواب قسم ہے) کہ بیشک تمہاری کوششیں (یعنی اعمال) مختلف ہیں (اور اسی طرح ان کے ثمرات بھی مختلف ہیں) سو جس نے (اللہ کی راہ میں مال) دیا اور اللہ سے ڈرا اور اچھی بات (یعنی ملت اسلام) کو سچا سمجھا تو ہم اس کو راحت کی چیز کے لئے سامان دیدیں گے (راحت کی چیز سے نیک عمل اور بواسطہ نیک عمل کے جنت مراد ہے کہ یسر کا سبب اور محل ہے اسی لئے یسریٰ کہہ دیا گیا ورنہ یسریٰ کے معنی ہیں آسان چیز) اور جس نے (حقوق واجبہ سے) بخل کیا اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

نیک اور بد دونوں کی کمائی یکساں نہیں ہو گی: یہ وہ اصل دعویٰ ہے جو اوپر کی شہادتوں سے ثابت کیا گیا ہے۔ یعنی کائنات میں ہر چیز کا جوڑا جوڑا ہونا اور اپنے جوڑے ہی کے ذریعہ سے ہر چیز کا اپنی غایت اور مقصد کو پہنچنا چاہتا ہے کہ اس دنیا کا بھی جوڑا ہے اور وہ ہے آخرت جو لازماً ظہور میں آئے گی تاکہ یہ دنیا اپنی غایت اور اپنے مقصود کو پہنچے ورنہ یہ بالکل عبث اور بے غایت بن کے رہ جائے گی۔ اگر آخرت نہیں ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ خالق کے نزدیک نیکی کرنے والے اور بدی کرنے والے دونوں یکساں ہیں۔ ایک حکیم خالق کی شان کے یہ بالکل خلاف ہے کہ وہ نیک اور بد دونوں کی جدوجہد اور کمائی کو یکساں کر دے۔ لفظ ’سعی‘…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

4۔ 1 یعنی کوئی اچھے عمل کرتا ہے، جس کا صلہ جنت ہے اور کوئی برے عمل کرتا ہے جس کا بدلہ جہنم ہے۔ یہ جواب قسم ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–4

1: کوششوں سے مراد اعمال ہیں اور مطلب یہ ہے کہ انسانوں کے اعمال مختلف قسم کے ہیں، اچھے بھی اور برے بھی، اور ان اعمال کے نتائج بھی مختلف ہیں، جیسا کے آگے آرہا ہے، یہ بات کہنے کے لئے رات اور دن کی قسم کھانے کا شاید یہ مقصد ہے کہ جس طرح رات اور دن کے نتائج مختلف ہیں، اسی طرح نیکی اور بدی کے نتائج بھی مختلف ہیں، اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے نر اور مادہ کی خاصیتیں الگ الگ رکھی ہیں، اسی طری اعمال کی خاصیتیں بھی جدا جدا ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–4

ان سعیکم .................................... تردی تمہاری مساعی مختلف ہیں ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے بھی تمہاری مساعی مختلف ہیں ، اپنے اسباب اور محرکات کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں ، اپنے رخ اور سمت کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں اور نتائج کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں۔ اس زمین پر بسنے والے انسانوں کے مزاج بھی مختلف ہیں۔ ان کے تصورات و افکار بھی مختلف ہیں ، ان کے ذوق اور مشرب بھی مختلف ہیں ، اس کی ترجیحات بھی مختلف ہیں۔ اور لوگوں کی حالت یوں لگتی ہے کہ گویا ان میں سے ہر شخص شاید ایک علیحدہ سیارے کا باشندہ ہے۔ یہ تو ہے ایک حقیقت ، لیکن ایک دوسری حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے ، وہ یہ کہ ان تمام افراد بشریت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–4

9 یعنی جس طرح دنیا میں رات اور دن، نر اور مادہ، مختلف و متضاد چیزیں پیدا کی گئی ہیں، تمہارے اعمال اور کوششیں بھی مختلف و متضاد ہیں۔ پھر ان مختلف اعمال و مساعی پر ظاہر ہے ثمرات و نتائج بھی مختلف ہی مرتب ہوں گے جن کا ذکر آگے آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4{ اِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتّٰی۔ } ”بیشک تمہاری کوشش الگ الگ ہے۔“ یعنی جس طرح کائنات کی باقی چیزوں میں اختلاف و تضاد پایا جاتا ہے اسی طرح تمہارے مختلف افراد کی کوششوں اور محنتوں کی نوعیت بھی مختلف ہے۔ ظاہر ہے زندگی کے شب و روز میں محنت ‘ مشقت اور بھاگ دوڑ کرنا تو انسان کا مقدر ہے : { لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ۔ } البلد ”بیشک ہم نے انسان کو پیدا ہی محنت اور مشقت میں کیا ہے“۔ ہر انسان اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ پالنے کے لیے بھی مشقت کرتا ہے۔ پھر اگر وہ کسی نظریے کا پیروکار ہے تو اس نظریے کی اشاعت اور سربلندی کے لیے بھی تگ و دو کرتا ہے اور اس نظریے کے تحت ایک نظام کے قیام کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 4–5

1 سورة الشمس کی طرح اس سورت کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے چند متضاد اشیاء مثلاً رات اور دن کی نر اور مادہ کی قسم کھا کر فرمایا کہ جس طرح دن اور رات کی اور نر اور مادہ کی خصوصیات آپس میں متضاد اور مختلف ہیں۔ اسی طرح اے بنی نوع انسان ! تم جو کچھ اس دنیا میں اعمال بجا لا رہے ہو وہ بھی ایک دوسرے سے متضاد اور مختلف ہیں۔ لہذا تمہاری اس سعی عمل کے نتائج مختلف ہیں اور ہونے چاہئیں۔ وہ یکساں کبھی نہیں ہوسکتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ مطلب یہ ہوا کہ جس طرح رات اور دن، تاریکی اور روشنی، نر اور مادہ باہم مختلف آثار رکھتے ہیں، انسان کی جدوجہد بھی جو صدور اعمال میں ہوتی رہتی ہے، اپنے آثار وثمرات کے لحاظ سے الگ الگ حیثیت رکھتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–7

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے رات کی جب وہ اپنی تاریکی سے آسمان اور زمین کی ہر شئی پر چھا جائے اور قسم ہے دن کی جب وہ روشن ہو (یعنی) جب کہ وہ واضح اور ظاہر ہو اور اذا دونوں جگہ ظریفیت کے لئے ہے اور اس میں عامل فعل قسم ہے اور ما بمعنی من یا مصدریہ ہے اور قسم ہے اس ذات کی جس نے نر و مادہ پیدا کئے (یعنی) آدم و حواء یا مذکر و مئونث کو پیدا کیا اور خنثیٰ مشکل ہمارے نزدیک ہے (مگر) اللہ کے نزدیک وہ مذکر یا مئونث ہے لہٰذا وہ شخص جس نے قسم کھائی کہ وہ مرد اور عورت سیبات نہ کرے گا تو وہ خنثیٰ مشکل سے کلام کرنے سے حانث ہوجائے گا، یقیناً تمہاری کوشش (یعنی)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان سعیکم الشتی . کہ تمہارے اعمال مختلف ہیں ‘ کوئی دوزخ سے گلو خلاصی اور مراتب جنت و مدارج قرب کے حصول کی کوشش کرتا ہے اور کوئی اپنے نفس کو ہلاک کرنے کی۔ بغوی نے حضرت ابو مالک اشعری کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سب لوگ صبح کو نکلتے ہیں اور اپنے نفوس کو بیچتے ہیں۔ کچھ (دوزخ سے) نفس کو آزاد کرتے ہیں اور کچھ ہلاک کرتے ہیں۔ اس سے آگے اللہ نے اختلاف سعی (اور ہر سعی کے نتیجہ) کی تفصیل بیان کی اور فرمایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

کہ تمہارے اعمال مختلف ہیں کہ بعض رسول اکرم صلی اللہ اور قرآن کریم کو جھٹلانے والے ہیں اور بعض تصدیق کرنے والے ہیں یا یہ کہ بعض جنت کے لیے کوشاں اور بعض دوزخ کے لیے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ان سعیکم لشتی : یعنی جس طرح رات دن اور نر و مادہ مخلوقات میں باہمی اختلاف اور تضاد ہے اسی طرح تمہاری کوششوں اور تمہارے اعملا میں بھی اختلاف ہے، پھر ان کا نتیجہ اور جزا و سزا بھی الگ الگ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

(ان سعیکم لشتی) ۔ یہ جواب قسم ہے معنی ہے تمہارا عمل مختلف ہے عکرمہ اور دوسرے مفسرین نے کہا، سعی کا معنی عمل ہے کوئی اپنے نفس کو بچانے میں لگا ہوا ہے اور کوئی اسے ہلاک کرنے میں مصروف ہے اس پر نبی کریم کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے، الناس غادیان فمبتاع نفسہ فمعتقھا وبائع نفسہ فموبقھا۔ لوگ دو طرح کے ہو کر صبح کرتے ہیں اپنے نفس کو خریدنے والا اور اسے آزاد کرنے والا ہوتا ہے، اپنے نفس کو بیچنے والا اسے ہلاک کرنے والا ہوتا ہے، شتی، شتیت کی جمع ہے جس طرح مریض کی جمع مرض آتی ہے مختلف کو بھی شتی کہہ دیتے ہیں کیونکہ اس کا بعض بعض سے دور ہوتا ہے یعنی تیرا عمل ایک دوسرے سے دور ہے کیونکہ اس کا بعض گمراہی ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

12۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان سعیکم بےش تمہاری کوشش میں السعی سے مراد ہے عمل۔ 13۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا یہاں قسم واقع ہوئی کہ آیت ان سعیکم لشتی یعنی تمہارے کوششیں مختلف ہیں۔ 14۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن عساکر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے ابوبکر صدیق ؓ نے بلال ؓ کو ابی بن خلف سے دھاری دار کپڑے اور دس اوقیہ کے بدلے میں خریدا پھر اس کو اللہ کے لیے آزاد کردیا تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا آیت واللیل اذا یغشی ان سعیکم لشتی سے لے کر یعنی کوشش کی ابوبکر ؓ نے اور امیہ نے اور ابی نے لیکن ان کی کوشش کی نوعیت مختلف ہے۔ آیت وکذب بالحسنی تک۔ اور حسنی سے مراد لا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان سَعْيَكُمْ لَشَتّٰى: بیشک تم لوگوں کی سعی و جہد متفرق ہے ] ترکیب : (آیت۔ 4) شَتّٰی۔ یہ مادہ ” ش ت ت “ سے باب تفعیل کا ماضی کا صیغہ نہیں ہے کیونکہ اس پر اِنَّ کی خبر پر آنے والا لام تاکید لگا ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دراصل فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت شَتِیْتٌ کی جمع ہے، جیسے مَرِیْضٌ کی جمع مَرْضٰی ہے اس حوالے سے یہاں پر یہ بھی نوٹ کرلیں کہ فُعْلٰی کا وزن افعل تفضیل کی مؤنث کے لیے ہے۔ جبکہ فَعْلٰی جمع مکسر کے اوزان میں سے ایک وزن ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–4

یہ سورة اللیل کی تیرہ آیتوں کا ترجمہ ہے پہلی تین آیات میں قسم ہے اور چوتھی آیت میں جواب قسم ہے، اولاً رات کی قسم کھائی جب کہ وہ دن پر چھا جائے پھر دن کی قسم کھائی جب وہ روشن ہوجائے پھر اپنی قسم کھائی اور فرمایا ﴿ وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰۤىۙ003﴾ (اور قسم ہے اس کی جس نے نر کو اور مادہ کو پیدا کیا) ۔ پھر بطور جواب قسم ارشاد فرمایا ﴿اِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتّٰىؕ004﴾ (بیشک تمہاری کوششیں مختلف ہیں) ۔ انسان کی عام طور سے دو ہی صنفیں ہیں ایک مذکر اور مونث (نر اور مادہ) اور عمل کرنے والے انسان ان ہی دو جماعتوں پر منقسم ہیں اور اعمال دن میں ہوتے ہیں یا رات میں زمانہ کے دونوں حصوں کی اور بنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–21

تقسیم جہو عملیہ در حیات انسانی وترتب ثمرات سعادت وشقاوت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والیل اذا یغشی ....... الی ......... ولسوف یرضی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں فوز و فلاح اور شقاوت وبدنصیبی کے اسباب پر کلام تھا اور یہ کہ انسانی نفس اگر طہارت وتزکیہ سے آراستہ ہو تو اس پر دنیا کی عزت وسربلندی اور آخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے اور اگر نفس کو شہوات کی گندگی میں آلودہ کرلیا جائے تو انسانی شرف سے محرومی کے بعد دنیا کی تباہی اور عذاب آخرت میں مبتلا ہونے کے سوا کوئی نتیجہ نہیں ہوتا، اور دنیا میں بڑی سے بڑی طاقت ور قومیں اسی شقاوت وبدنصیبی کا شکار ہو کر ہلاک ہوئیں اور تاریخ عالم اس کی گواہی دیتی ہے، تو اب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–4

2:۔ ” والیل “ رات جو اپنی تاریکی میں ہر چیز کو چھپا لیتی اور دن جو رات کی تاریکی رخصت ہونے کے بعد روشن ہوجاتا ہے دونوں اس پر شاہد ہیں کہ تمہاری سعی عمل مختلف ہے جس طرح رات اور دن کے آثار جداگانہ ہیں اسی طرح تمہارے اعمال بھی مختلف ہیں۔ وما خلق الذکر والانثی “ اسی طرح اللہ نے جو نر و مادہ پیدا کیا ہے وہ اس پر شاہد ہے جس طرح نر و مادہ کے آثار و خواص مختلف ہیں اسی طرح تمہاری سعی عمل بھی مختلف ہے کوئی فیاض ہے کوئی کنجوس، کوئی ماننے والا ہے کوئی منکر۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–11

پہلی سورة کے ساتھ ربط اس سورة کا مضمون بھی پہلی سورة کے ساتھ ملتا جلتا ہے۔ پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھائی تھی کہ مختلف چیزوں کے اثرات پڑنے سے انسان کے دل میں ارادہ پیدا ہوتا ہے اور یہی ارادہ انسانیت کا خلاصہ اور نچوڑ ہے ارادہ اچھا بھی ہوتا ہے اور برا بھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہر نفس میں فطری طور پر تقویٰ اور فجور کا الہام بھی کیا ہے۔ لہٰذا جو لوگ اچھے کام کا ارادہ کریں گے وہ اصحاب تزکیہ میں شمار ہوں گے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے نفوس کو پاک کیا ، برے اعمال اور برے عقیدے سے انہیں بچائے رکھا۔ برخلاف اس کے جو لوگ اپنے نفوس کو برے اعتقاد اور برے عمل سے آلودہ کریں گے۔ ان کا شمار اصحاب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتّٰى۝ 4 ۭ سعی السَّعْيُ : المشي السّريع، وهو دون العدو، ويستعمل للجدّ في الأمر، خيرا کان أو شرّا، قال تعالی: وَسَعى فِي خَرابِها[ البقرة/ 114] ، وقال : نُورُهُمْ يَسْعى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ [ التحریم/ 8] ، وقال : وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَساداً [ المائدة/ 64] ، وَإِذا تَوَلَّى سَعى فِي الْأَرْضِ [ البقرة/ 205] ، وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسانِ إِلَّا ما سَعى وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرى [ النجم/ 39- 40] ، إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى [ اللیل/ 4] ، وقال تعالی: وَسَعى لَها سَعْيَها [ الإسراء/ 19] ، كانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُوراً [ الإسراء/ 19] ، وقال تعالی: فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–11

ترکیب ¦ والیل الواو للقسم اذا العامل فیھا معنی القسم والنھار عطف علیہ وما خلق الخ معطوف علی السابق وما مصدریۃ عند مقاتل والمعنی واقسم خلق الذکر والانثیٰ ۔ وعند الجمھور موصولۃ ای والذی خلقھما وما بمعنی من فقدا قسم بنفسہ الکریمۃ ان سعیکم لشتی جواب القسم ای عملکم مختلف فمنہ عمل للجنۃ ومنہ عمل للنارا ومنکم مومن ومنکم کافر السعی العمل وشتی جمع شتیت کمرضی جمع مریض والشتات ھوالافتراق ومعناہ مختلف لتباعد لبعض عن البعض۔ وسعیکم مصدر مضاف فیفید العموم فھو جمع معنی فاما من الخ شرط سنیسرہ الخ جواب والسین فی الموضعین للتسویف وھو من اللہ محقق والحسنی ای الخصلۃ الحسنیٰ اتشتمل کل فعل محمود من التوحید والایمان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–4

وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی۔ وَالنَّھَارِ اِذَا تَجَلّٰی۔ وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰٓی۔ اِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتّٰی۔ (الیل : 1 تا 4) (اور قسم ہے رات کی جبکہ وہ چھا جائے۔ اور قسم ہے دن کی جبکہ وہ چمک اٹھے۔ اور قسم ہے نر و مادہ کی آفرینش کی۔ بیشک تمہاری کوششیں مختلف نوعیت کی ہیں۔ ) تخالف اور تضاد کے باوجود ان میں قدر مشترک سے استدلال ہم کئی دفعہ یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ قسم بالعموم قرآن کریم میں دلیل اور گواہ کے طور پر آتی ہے اور اس کے بعد کا جملہ جوابِ قسم اور دعویٰ ہوتا ہے جسے ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اس سورة میں بھی پروردگار نے تین قسمیں کھائی ہیں۔ رات کی جب وہ چھا جائے اور دن کی جب وہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–4

فہم القرآن ربط سورت : الشمس کا اختتام اس بات پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے فسق وفجور کرنے والوں کو کس طرح پکڑا۔ سورة الّیل کی ابتداء میں تین قسمیں کھانے کے بعد بتلایا کہ ہم نے انسان کو مذکر اور مؤنث کی صورت میں پیدا کیا ہے، جس طرح جنس کے اعتبار سے انسان مختلف ہیں اسی طرح ان کی کوششیں بھی مختلف اور انجام بھی مختلف ہوں گے۔ اس سورت کا آغاز بھی تین قسموں کے ساتھ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوا کہ رات کی قسم ! جب دن کی روشنی کو اپنی تاریکی میں چھپا لیتی ہے، دن کی قسم ! جب وہ رات کی تاریکی کو ختم کرنے کے بعد پوری طرح روشن ہوجاتا ہے اور اس ذات کی قسم ! جس نے نر اور مادہ یعنی مذّکر اور مؤنث پیدا کیے ہیں۔ جس طرح آپس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

4 : اِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتّٰی (بیشک تمہاری کوششیں مختلف ہیں) نحو : یہ جواب قسم ہے۔ بلا شبہ تمہاری کوششیں مختلف ہیں۔ اس اختلاف کی وضاحت اگلی آیات میں آرہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4 ۔” ان سعیکم لشتی “ بیشک تمہارا اعمال مختلف ہیں۔ پس اپنے نفس کو چھڑانے کے لئے کوشش کرنے والے بھی ہیں اور اپنے نفس کو ہلاک کرنے میں کوشش کرنے والے بھی۔ ابو مالک اشعری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمام لوگ صبح کرتے ہیں۔ پس اپنے آپ کو بیچنے والے ہیں یا تو اس کو آزاد کرنے والے یا اس کو ہلاک کرنے والے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–11

1۔ 11۔ رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے اور حضرت آدم و حوا اسی طرح ان کی اولاد میں مرد و عورت کے پیدا کرنے کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں لوگوں کے عمل مختلف ہیں کوئی عقبیٰ میں نیک کام کا بدلہ پانے کے یقین اور اسی نیت سے اچھے کام کرتا ہے ایسا شخص اپنی نیکی کا پورا ثمرہ عقبیٰ میں بھی پائے گا اور دنیا میں بھی ایسے شخص کو دن بدن نیکی کی توفیق اللہ کی طرف سے دی جاتی ہے اور کوئی عقبیٰ کی جزا کے انکار کے سبب سے نیک کاموں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا بلکہ نیک کاموں کے کرنے سے بےپروائی ظاہر کرتا ہے ایسا شخص اپنا کیا عقبیٰ میں بھگتے گا۔ اور دنیا میں جبراً اللہ تعالیٰ اس کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتّٰى) اور یہی وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے یعنی اے مکلفوا۔ تمہاری کوششوں میں بہت تفاوت ہے۔ یہ تفاوت نفس اعمال، ان کی مقدار اور ان میں نشاط میں تفاوت کی بنا پر ہے اور یہ تفاوت ان اعمال کی غایت مقصود کے مطابق ہے کہ آیا یہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے جو بلند اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے تو اس کی بقا کے ساتھ یہ عمل بھی باقی رہے گا اور صاحب عمل اس سے منتفع ہوگا ؟ یا یہ عمل کسی زائل ہونے والے فانی غایت و مقصود کے لیے ہے کہ اس کے بطلان کے ساتھ اس کی کوشش باطل اور اس کے اضمحلال کے ساتھ مضحمل ہوجائے گی ؟ ہر وہ عمل جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود نہ ہو اسی وصف سے موصوف ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(4) مقصود قسم کی تصریح و توضیح : سو ان قسموں سے مقصود اور جواب قسم کی تصریح و توضیح کے لیے ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ تم سب کی کوششیں ( اے لوگو) یکسر مختلف ہیں۔ پس جس اندھیری رات اور روشن دن آپس میں برابر نہیں ہوسکتے اور نر و مادہ باہم یکساں نہیں ہوسکتے، اسی طرح تمہاری سعی و کوشش بھی اے لوگو، ایک برابر نہیں ہوسکتی، نہ اپنی اصل اور حقیقت کے اعتبار سے اور نہ اپنے انجام اور نتیجہ و مآل کے لحاظ سے، بلکہ دونوں کے نتائج وثمرات باہم مختلف اور متضاد ہیں اور ہوں گے، کسی کی سعی و کوشش اس کو ابدی خسران اور تباہی سے دوچار کرے گی، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–21

اچھی بری نیت اعمال اور بدلہ تشریح : اس سورت میں اللہ تعالیٰ قسم کھاتے ہیں کہ دن رات کی نرو مادہ کی اور خود اپنی ' اس بات کے لیے کہ ہر انسان کی فطرت انداز اور ماحول فرق ہوتا ہے اور انہی حالات کے مطابق سب کا رویہ بھی فرق ہوتا ہے یہ حقیقت ہے کہ ہر شخص کے کام کا انداز فرق ہوتا ہے اور پھر یہ اعمال کا انداز دوراہوں میں منقسم ہے۔ یعنی کچھ تو نیک فطرت ہوتے ہیں ان کو شیطان کتنا ہی بہلائے مگر وہ اس کا شکار نہیں ہوتے یعنی ان کی سرشت میں نیکی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ان کو برا راستہ ' برے کام اور برے لوگ بالکل اچھے نہیں لگتے یعنی ان کو کوئی بھی لالچ برائی پر آمادہ نہیں کرسکتا وہ کہتے ہیں کہ کسی کو دیکھ کر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–21

سورة اللیل۔ آیات 1 تا 21۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے رات کی جب چھاجاتی ہے اور دن کی جب روشن ہوتا ہے اور اس کی جس نے بقائے نسل کے لیے ایک جیسے دو بندوں کو نرومادہ پیدا فرمادیا یعنی یہ سب نظام اس بات پر گواہ ہے کہ تمہاری محنت ومشقت بھی دو طرح سے ہے جس طرح رات کا اثر تاریکی اور دن کا اجالا ہے یانر کا کام الگ اور مادہ کے اوصاف الگ ہیں ایسے ہی تمہارے کردار کے نتائج دو طرح کے ہیں کہ جن لوگوں نے دینے کارویہ اپنایا اور اللہ کی محبت اور قربت کی تلاش میں اپنایا اور ارشادات نبوی کی تصدیق کی دل سے زبان سے اور کردار سے۔ دینے کارویہ۔ زندگی کا مدار دینے پر ہے سورج ، چاند ، ہوا ، بادل ، بارش ، روئیدگی ، پیداوار سب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 3–4

ف 4 چناچہ کوئی ایسا کام کرتا ہے جس کا بدلہ جنت ہے اور کوئی ایسا جس کا بدلہ دوزخ ہے۔ کوئی اپنے پیش نظر صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی رکھتا ہے اور صرف اخروی فلاح چاہتا ہے اور کوئی دنیا کا طلب گار ہے۔ کوئی فراخ دلی اور سخاوت سے کام لیتا ہے اور کوئی تنگ دلی اور بخل برتتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(92:4) ان سعیکم لشتی۔ جواب قسم ہے۔ ان حرف تحقیق۔ بیشک تحقیق، حرف مشبہ بالفعل۔ سعیکم مضاف مضاف الیہ۔ تمہاری کوشش۔ اسم ان لشتی اس کی خبر۔ لام تاکید کا۔ شتی۔ طرح طرح ۔ جدا جدا۔ متفرق، مختلف، پراگندہ۔ بعض کے نزدیک یہ لفظ مفرد ہے اور بعض نے اس کو شتیت کی جمع بیان کیا ہے جیسے مریض کی جمع مرضی۔ ان سعیکم لشتی۔ بیشک تمہارے اعمال ، تمہاری کوششیں مختلف ہیں کوئی دوزخ سے گلو خلاصی اور مراتب جنت و مدارج قرب کے حصول کی کوشش کرتا ہے۔ اور کوئی اپنے نفس کو ہلاک کرنے کی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–21

لغات القرآن۔ شتی۔ مختلف۔ الگ الگ۔ نیسر۔ ہم آسان کردیں گے۔ العسری۔ تنگی۔ تردی۔ وہ نیچے گرا۔ تلظی۔ بھڑک دار۔ یجنب۔ بچ جائے گا۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں رات، دن، نر اور مادہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جس طرح رات دن سے اور نر مادہ سے الگ اور مختلف چیزیں ہیں اسی طرح دنیا میں جتنے بھی انسان، ان کے گروہ اور قومیں ہیں وہ اپنے عمل اور کوششوں میں بہت مختلف ہیں۔ رات کے وقت دن کا تصور اور دن میں رات کا تصور ممکن نہیں ہے۔ نر مادہ ہوسکتا اور مادہ نر نہیں ہوسکتی اسی طرح نیکی اور برائیوں پر چلنے والے بھی اپنے انجام کے اعتبار سے یکساں نہیں ہوسکتے۔ ایک وہ شخص ہے جو نہایت خلوص اور اللہ کی رضا کے لئے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–11

حضرت صدیق اکبر کا ایمان۔ (ف 1) شان نزول۔ روساء مکہ میں سے دو شخص بہت مالدار تھے ایک تو حضرت صدیق اکبرؓ ایک امیہ بن خلف لیکن دونوں کی حالت مختلف تھی ، حضرت ابوبکر صدیق مسلمان اور انبیاء کے بعد سب سے افضل، اور اپنا جان مال راہ خدا میں لٹانے والے تھے اور یہ کم بخت کافر انتہا درجہ کا بخیل اور گستاخ تھا، حضرت بلال اسی کے غلام تھے اور خفیہ ایمان لاچکے تھے ، امیہ بن خلف کو جب اس امر کی اطلاع ہوئی تو غلاموں کو حکم دیا کہ دن چرھے بلال ؓ کے تمام جسم پر ببول کے کانٹے چبھو دیا کرو اور جب دھوپ تیز ہوجائے تو اس کو دھوپ میں چت لٹا کر سرے سے پیر تک گرم پتھر پاٹ دیا کرو کہ ہل نہ سکے، اور گرداگرد آگ سلگادیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 4–5

[1] یہ ہے وہ بات جس پر رات اور دن اور نرومادہ کی پیدائش کی قسمیں کھائی گئی ہیں۔ یعنی جس طرح رات اور دن، نر اور مادہ مختلف اور متضاد چیزیں ہیں اسی طرح تمہارے اعمال اور کوششیں بھی مختلف اور متضاد ہیں لہذا ان اعمال و مساعی کے ثمرات و نتائج بھی مختلف ہوں گے جن کا ذکر آگے آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–21

سورة الیل 1 ۔ یعنی جس طرح تاریک رات اور روشن دن میں اختلاف ہے اور خدا کی اس تقسیم میں اختلاف ہے اللہ تعالیٰ نے مرد کو بھی پیدا کیا اور عورت کو بھی ۔ نر کو بھی اور مادہ کو بھی ۔ اسی طرح کفر و ایمان کی مساعی یکساں نہیں ہیں ۔ نہ فطرت اور ساخت کے اعتبار سے اور نہ نتائج وثمرات کے اعتبار سے ۔ کفر ہمہ تاریکی ہے اور ایمان ہمہ روشنی ۔ کفر انوثیت اور نامرادی ہے اور ایمان جرات وجسارت ۔ نتائج وثمرات کے لحاظ سے بھی دونوں مختلف ہیں ۔ وہ شخص جو دولت ایمان سے بہرہ مندی کی وجہ سے اس کی راہ میں اپنا مال صرف کرتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے اور ہر نیک بات کی عمل سے تصدیق کرتا ہے ۔ اس کے لئے تیسیر کی نعمتیں اس کی طرف…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) کہ بلا شبہ تمہاری مساعی اور کوششیں مختلف ہیں - یعنی تمہارے اعمال اور نیز ان کے ثمرات مختلف ہیں کوئی دائمی عذاب کا مستحق ہوتا ہے کوئی ان اعمال سے دائمی راحت و آرام حاصل کرتا ہے ۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا، کل الناس یغدوانبائع نفس فمعتقھا او مربقھا ، یعنی ہر انسان صبح کرتا ہے اس حال میں کہ اپنے نفس کو خرچ کرتا ہے پھر یا تو اس کو آزاد کرالیتا ہے یا اس کو ہلاک کردیتا ہے، یعنی مختلف اعمال کی وجہ سے کوئی تو عذاب سے اپنی جان کو آزاد کرالیتا ہے اور کوئی برے عمل کرکے اس جان کو ہلاکت میں ڈال دیتا ہے ، آگے تفصیل ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–7

ف 4۔ تکلیف کی چیز سے بدعمل اور بواسطہ بدعمل کے دوزخ مراد ہے کہ عسر کا سبب اور محل ہے، اس لئے اس عسر کو عسری کہہ دیا گیا۔ اور سامان دینے سے مراد دونوں جگہ یہ ہے کہ اچھے یا برے کام اس سے بےتکلف سرزد ہوں گے اور ویسے ہی اسباب جمع ہوجائیں گے اور پھر نیک اعمال کا سامان جنت ہونا اور اعمال بد کا سامان دوزخ ہونا ظاہر ہی ہے۔ حدیث میں ہے فاما من کان من اھل السعادة فسیسیر لعمل اھل السعادة و کذا فی الشقاوة۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلا شبہ تمہاری کوششیں مختلف قسم کی ہیں 4 ؎ یہ وہ چیز بیان کی گئی ہے جس کے باعث انسان دوسرے سارے حیوانوں سے امتیاز حاصل کرتا ہے اور اس کو انسان کہا جاتا ہے یہی وہ مختلف کوشش ہے کیونکہ اس اختلاف کے لیے ضروری ہے کہ انسان کو اختیار و ارادہ دیا جائے تاکہ وہ جو کوشش کرنا چاہے کرے۔ وہ چاہتا ہے تو نیک بن جائے اور وہ چاہتا ہے تو بدبن جائے گویا اس میں دونوں قسم کے مادے رکھ دیئے گئے ہیں اور اس کی فطرت میں جس طرح برائی کی طاقت موجود ہے اسی طرح نیکی کی طاقت بھی موجود ہے اور پھر اس طاقت کو استعمال کرنے کے لیے اس کے پاس اختیار و ارادہ بھی ہے جو دوسری کسی مخلوق میں بھی موجود نہیں ہے ۔ تم غور کرتے جائو کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–6

Commentary إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّىٰ (your efforts are diverse....92:4). This statement is like the statement in Surah Inshiqaq, verse [ 6]: إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَ‌بِّكَ كَدْحًا '0 man, you have to work hard constantly to reach your Lord. [ 84:6] ' which has already been explained in that Surah. The sense is that man, by his nature, is used to making efforts for one objective or another. But the nature and the results of these efforts are different. Some people work hard for an objective that brings eternal happiness to them, and others work hard for an objective that makes them suffer…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–4

1 This is that for which an oath has been sworn by the night and the day, and the creation of the male and the female. It means to say: Just as the night and the day, and the male and the female, are different from each other, and their effects and results are mutually contradictory, so are the aims and objects for which men are endeavouring and struggling; different in their nature and contradictory with regard to their results. In the following verses, it has been told that all these divided endeavours are divided into two main kinds.

Read the full tafseer →