Explained with ayahs 1–11
نیکی کے لیے قصد ضروری ہے :
مسند احمد میں ہے حضرت علقمہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جاکر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو حضرت ابو الدرداء سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو حضرت علقمہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے ؟ میں نے کہا والذکر والانثٰی پڑھتے تھے، حضرت ابو الدرداء فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں حضور ﷺ کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
سورة الَّیْل 1
یہ وہ بات ہے جس پر رات اور دن اور نر و مادہ کی پیدائش کی قسم کھائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح رات اور دن اور نر اور مادہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اور ان میں سے ہر دو کے آثار و نتائج باہم متضاد ہیں، اسی طرح تم لوگ جن راہوں اور مقاصد میں اپنی کوششیں صرف کر رہے ہو وہ بھی اپنی نوعیت کے لحاظ سے مختلف اور اپنے نتائج کے اعتبار سے متضاد ہیں۔ اس کے بعد کی آیات میں بتایا گیا کہ یہ تمام مختلف کوششیں دو بڑی اقسام میں تقسیم ہوتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
خلاصہ تفسیر
قسم ہے رات کی جبکہ وہ آفتاب کو اور دن کو) چھپالے، اور (قسم ہے) دن کی جبکہ وہ روشن ہوجاوے (اور قسم ہے) اس (ذات) کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا (مراد اللہ تعالیٰ ہے آگے جواب قسم ہے) کہ بیشک تمہاری کوششیں (یعنی اعمال) مختلف ہیں (اور اسی طرح ان کے ثمرات بھی مختلف ہیں) سو جس نے (اللہ کی راہ میں مال) دیا اور اللہ سے ڈرا اور اچھی بات (یعنی ملت اسلام) کو سچا سمجھا تو ہم اس کو راحت کی چیز کے لئے سامان دیدیں گے (راحت کی چیز سے نیک عمل اور بواسطہ نیک عمل کے جنت مراد ہے کہ یسر کا سبب اور محل ہے اسی لئے یسریٰ کہہ دیا گیا ورنہ یسریٰ کے معنی ہیں آسان چیز) اور جس نے (حقوق واجبہ سے) بخل کیا اور…
Read the full tafseer →’وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَالْأُنۡثٰٓی‘ میں ’مَا‘ ہمارے نزدیک مصدریہ ہے۔ سابق سورہ کی آیت ’وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنَاہَا‘ (اشمس ۹۱: ۵) کے تحت ہم اس پر بحث کر چکے ہیں، یہاں اس کے دہرانے میں طوالت ہو گی۔
Read the full tafseer →3۔ 1 یہ اللہ نے اپنی قسم کھائی ہے، کیونکہ مرد و عورت دونوں کا خالق اللہ ہی ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1: کوششوں سے مراد اعمال ہیں اور مطلب یہ ہے کہ انسانوں کے اعمال مختلف قسم کے ہیں، اچھے بھی اور برے بھی، اور ان اعمال کے نتائج بھی مختلف ہیں، جیسا کے آگے آرہا ہے، یہ بات کہنے کے لئے رات اور دن کی قسم کھانے کا شاید یہ مقصد ہے کہ جس طرح رات اور دن کے نتائج مختلف ہیں، اسی طرح نیکی اور بدی کے نتائج بھی مختلف ہیں، اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے نر اور مادہ کی خاصیتیں الگ الگ رکھی ہیں، اسی طری اعمال کی خاصیتیں بھی جدا جدا ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ان سعیکم .................................... تردی
تمہاری مساعی مختلف ہیں ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے بھی تمہاری مساعی مختلف ہیں ، اپنے اسباب اور محرکات کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں ، اپنے رخ اور سمت کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں اور نتائج کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں۔ اس زمین پر بسنے والے انسانوں کے مزاج بھی مختلف ہیں۔ ان کے تصورات و افکار بھی مختلف ہیں ، ان کے ذوق اور مشرب بھی مختلف ہیں ، اس کی ترجیحات بھی مختلف ہیں۔ اور لوگوں کی حالت یوں لگتی ہے کہ گویا ان میں سے ہر شخص شاید ایک علیحدہ سیارے کا باشندہ ہے۔
یہ تو ہے ایک حقیقت ، لیکن ایک دوسری حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے ، وہ یہ کہ ان تمام افراد بشریت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
9 یعنی جس طرح دنیا میں رات اور دن، نر اور مادہ، مختلف و متضاد چیزیں پیدا کی گئی ہیں، تمہارے اعمال اور کوششیں بھی مختلف و متضاد ہیں۔ پھر ان مختلف اعمال و مساعی پر ظاہر ہے ثمرات و نتائج بھی مختلف ہی مرتب ہوں گے جن کا ذکر آگے آتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 3{ وَمَاخَلَقَ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰٓی۔ } ”اور قسم ہے اس کی جو اس نے پیدا کیے نر اور مادہ۔“
ان قسموں سے یہ نکتہ واضح ہوتا ہے کہ کائنات کے اندر نظر آنے والے تضادات دراصل نظام کائنات کا حصہ ہیں ‘ بلکہ کائنات کا نظام انہی تضادات کی وجہ سے چل رہا ہے اور ایک جنس سے تعلق رکھنے والی دو متضاد چیزیں باہم مل کر فطرت کے تقاضوں کی تکمیل کرتی ہیں۔ دنیا کا سارا نظام دن اور رات کے ادلنے بدلنے کی وجہ سے قائم ہے۔ زمین پر حیوانی اور نباتاتی زندگی کا وجود اسی گردش لیل و نہار کا مرہون منت ہے۔ خود نسل انسانی کا تسلسل بھی مرد اور عورت کے جنسی اختلاف و تضاد کی وجہ سے چل رہا ہے۔ چناچہ کائنات کی مختلف تخلیقات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ یعنی حق تعالیٰ نے (آیت) ” اذا یغشی “ یعنی رات دن کو اور آفتاب کی روشنی کو ڈھانپ لے۔ آیت نے اس پہلوکو روشن کردیا کہ رات اور دن، اندھیرا اور اجالا، نر اور مادہ، غرض کائنات کے سارے اضداد کی خالق وہی ایک ذات ہے، (آیت) ” وما “۔ ما یہاں من کے مرادف ہے۔ وما بمعنی من (جلالین)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے رات کی جب وہ اپنی تاریکی سے آسمان اور زمین کی ہر شئی پر چھا جائے اور قسم ہے دن کی جب وہ روشن ہو (یعنی) جب کہ وہ واضح اور ظاہر ہو اور اذا دونوں جگہ ظریفیت کے لئے ہے اور اس میں عامل فعل قسم ہے اور ما بمعنی من یا مصدریہ ہے اور قسم ہے اس ذات کی جس نے نر و مادہ پیدا کئے (یعنی) آدم و حواء یا مذکر و مئونث کو پیدا کیا اور خنثیٰ مشکل ہمارے نزدیک ہے (مگر) اللہ کے نزدیک وہ مذکر یا مئونث ہے لہٰذا وہ شخص جس نے قسم کھائی کہ وہ مرد اور عورت سیبات نہ کرے گا تو وہ خنثیٰ مشکل سے کلام کرنے سے حانث ہوجائے گا، یقیناً تمہاری کوشش (یعنی)…
Read the full tafseer →وما خلق الذکر والانثی . مَا بمعنی مَنْ ہے یعنی قسم ہے اس قدرت والے خدا کی جس نے ہر توالد و تناسل رکھنے والی مخلوق کی دو صنفیں پیدا کیں ‘ نر اور مادہ یا صرف آدم و حوا مراد ہیں ما مصدریہ بھی ہوسکتا ہے یعنی نر و مادہ کو پیدا کرنے کی قسم۔ جواب قسم آئندہ آیت میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(1۔ 3) قسم ہے رات کی جب وہ دن کی روشنی کو چھپا لے، اور قسم ہے دن کی جب وہ رات کی تاریکی کو روشن کردے اور قسم ہے اس ذات کی جس نے نر و مادہ کو پیدا کیا۔
شان نزول : وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى، وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى الخ۔
ابن ابی حاتم نے حکم بن ابان عن عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا درخت تھا اور کھجور کی شاخیں ایک محتاج بال بچوں والے کے مکان پر تھیں چناچہ جب وہ شخص باغ میں آتا اور کھجور کے درخت پر چڑھتا تاکہ اس کا پھل توڑے تو بعض اوقات کوئی کھجور نیچے گر جاتی تھی جس کو اس محتاج کے بچے اٹھا لیتے تو فوراً درخت سے اتر کر کھجور کو ان کے ہاتھوں میں سے لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(والیل اذا یغشی): یعنی ان چیزوں کی قسم جو اس نے پیدا کیں، نر ہیں یا مادہ !”الذکر والانثی“”ماخلق“ سے بدل ہے۔ ایک ترجمہ یہ بھی ہے کہ اس ذات کی قسم جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا ! تیسرا ترجمہ ہے، نر اور مادہ کو پیدا کرنے کی قسم !
Read the full tafseer →(وماخلق الذکر والانثی) حضرت حسن بصری نے کہا، اس کا معنی ہے جس نے مذکر اور مونث کو پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی ذات کی قسم اٹھائی، ایک قول یہ کیا گیا، مذکر اور مونث پیدا کرنے کی قسم۔ یہاں مامصدریہ ہے جس طرح پہلے گزرچکا ہے۔ اہل مکہ رعد (کڑک) کے بارے میں کہتے ہیں، سبحان ماسبحت لہ توما، من کے معنی میں ہے، یہ ابوعبید اور دوسرے علماء کا قول ہے یہ بحث پہلے گزرچکی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی ہے وماخلق من الذکر والانثی تو من مضمر ہوگا تو قسم اہل طاعت یعنی انبیاء واولیاء کی ہوگی تو یہ قسم ان کی تکریم اور تعظیم کے لیے ہوگی، ابوعبید نے کہا، ما، من کے معنی میں ہے اسی طرح ان آیات میں بھی ما، من کے…
Read the full tafseer →11۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے آیت وما خلق الذکر اور فرماتے تھے اس ذات کی قسم جس نے نرومادہ کو پیدا فرمایا۔
Read the full tafseer →[وَمَا : اور قسم ہے اس کی جو ][ خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْانثٰٓى: اس نے پیدا کیے مذکر اور مؤنث ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
یہ سورة اللیل کی تیرہ آیتوں کا ترجمہ ہے پہلی تین آیات میں قسم ہے اور چوتھی آیت میں جواب قسم ہے، اولاً رات کی قسم کھائی جب کہ وہ دن پر چھا جائے پھر دن کی قسم کھائی جب وہ روشن ہوجائے پھر اپنی قسم کھائی اور فرمایا
﴿ وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰۤىۙ003﴾ (اور قسم ہے اس کی جس نے نر کو اور مادہ کو پیدا کیا) ۔ پھر بطور جواب قسم ارشاد فرمایا ﴿اِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتّٰىؕ004﴾ (بیشک تمہاری کوششیں مختلف ہیں) ۔
انسان کی عام طور سے دو ہی صنفیں ہیں ایک مذکر اور مونث (نر اور مادہ) اور عمل کرنے والے انسان ان ہی دو جماعتوں پر منقسم ہیں اور اعمال دن میں ہوتے ہیں یا رات میں زمانہ کے دونوں حصوں کی اور بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
تقسیم جہو عملیہ در حیات انسانی وترتب ثمرات سعادت وشقاوت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والیل اذا یغشی ....... الی ......... ولسوف یرضی “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں فوز و فلاح اور شقاوت وبدنصیبی کے اسباب پر کلام تھا اور یہ کہ انسانی نفس اگر طہارت وتزکیہ سے آراستہ ہو تو اس پر دنیا کی عزت وسربلندی اور آخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے اور اگر نفس کو شہوات کی گندگی میں آلودہ کرلیا جائے تو انسانی شرف سے محرومی کے بعد دنیا کی تباہی اور عذاب آخرت میں مبتلا ہونے کے سوا کوئی نتیجہ نہیں ہوتا، اور دنیا میں بڑی سے بڑی طاقت ور قومیں اسی شقاوت وبدنصیبی کا شکار ہو کر ہلاک ہوئیں اور تاریخ عالم اس کی گواہی دیتی ہے، تو اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
2:۔ ” والیل “ رات جو اپنی تاریکی میں ہر چیز کو چھپا لیتی اور دن جو رات کی تاریکی رخصت ہونے کے بعد روشن ہوجاتا ہے دونوں اس پر شاہد ہیں کہ تمہاری سعی عمل مختلف ہے جس طرح رات اور دن کے آثار جداگانہ ہیں اسی طرح تمہارے اعمال بھی مختلف ہیں۔ وما خلق الذکر والانثی “ اسی طرح اللہ نے جو نر و مادہ پیدا کیا ہے وہ اس پر شاہد ہے جس طرح نر و مادہ کے آثار و خواص مختلف ہیں اسی طرح تمہاری سعی عمل بھی مختلف ہے کوئی فیاض ہے کوئی کنجوس، کوئی ماننے والا ہے کوئی منکر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
پہلی سورة کے ساتھ ربط
اس سورة کا مضمون بھی پہلی سورة کے ساتھ ملتا جلتا ہے۔ پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھائی تھی کہ مختلف چیزوں کے اثرات پڑنے سے انسان کے دل میں ارادہ پیدا ہوتا ہے اور یہی ارادہ انسانیت کا خلاصہ اور نچوڑ ہے ارادہ اچھا بھی ہوتا ہے اور برا بھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہر نفس میں فطری طور پر تقویٰ اور فجور کا الہام بھی کیا ہے۔ لہٰذا جو لوگ اچھے کام کا ارادہ کریں گے وہ اصحاب تزکیہ میں شمار ہوں گے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے نفوس کو پاک کیا ، برے اعمال اور برے عقیدے سے انہیں بچائے رکھا۔ برخلاف اس کے جو لوگ اپنے نفوس کو برے اعتقاد اور برے عمل سے آلودہ کریں گے۔ ان کا شمار اصحاب…
Read the full tafseer →وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْاُنْثٰٓى 3 ۙ
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] .
الثاني :
نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
ترکیب ¦ والیل الواو للقسم اذا العامل فیھا معنی القسم والنھار عطف علیہ وما خلق الخ معطوف علی السابق وما مصدریۃ عند مقاتل والمعنی واقسم خلق الذکر والانثیٰ ۔ وعند الجمھور موصولۃ ای والذی خلقھما وما بمعنی من فقدا قسم بنفسہ الکریمۃ ان سعیکم لشتی جواب القسم ای عملکم مختلف فمنہ عمل للجنۃ ومنہ عمل للنارا ومنکم مومن ومنکم کافر السعی العمل وشتی جمع شتیت کمرضی جمع مریض والشتات ھوالافتراق ومعناہ مختلف لتباعد لبعض عن البعض۔ وسعیکم مصدر مضاف فیفید العموم فھو جمع معنی فاما من الخ شرط سنیسرہ الخ جواب والسین فی الموضعین للتسویف وھو من اللہ محقق والحسنی ای الخصلۃ الحسنیٰ اتشتمل کل فعل محمود من التوحید والایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی۔ وَالنَّھَارِ اِذَا تَجَلّٰی۔ وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰٓی۔ اِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتّٰی۔ (الیل : 1 تا 4)
(اور قسم ہے رات کی جبکہ وہ چھا جائے۔ اور قسم ہے دن کی جبکہ وہ چمک اٹھے۔ اور قسم ہے نر و مادہ کی آفرینش کی۔ بیشک تمہاری کوششیں مختلف نوعیت کی ہیں۔ )
تخالف اور تضاد کے باوجود ان میں قدر مشترک سے استدلال
ہم کئی دفعہ یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ قسم بالعموم قرآن کریم میں دلیل اور گواہ کے طور پر آتی ہے اور اس کے بعد کا جملہ جوابِ قسم اور دعویٰ ہوتا ہے جسے ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اس سورة میں بھی پروردگار نے تین قسمیں کھائی ہیں۔ رات کی جب وہ چھا جائے اور دن کی جب وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
فہم القرآن
ربط سورت : الشمس کا اختتام اس بات پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے فسق وفجور کرنے والوں کو کس طرح پکڑا۔ سورة الّیل کی ابتداء میں تین قسمیں کھانے کے بعد بتلایا کہ ہم نے انسان کو مذکر اور مؤنث کی صورت میں پیدا کیا ہے، جس طرح جنس کے اعتبار سے انسان مختلف ہیں اسی طرح ان کی کوششیں بھی مختلف اور انجام بھی مختلف ہوں گے۔
اس سورت کا آغاز بھی تین قسموں کے ساتھ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوا کہ رات کی قسم ! جب دن کی روشنی کو اپنی تاریکی میں چھپا لیتی ہے، دن کی قسم ! جب وہ رات کی تاریکی کو ختم کرنے کے بعد پوری طرح روشن ہوجاتا ہے اور اس ذات کی قسم ! جس نے نر اور مادہ یعنی مذّکر اور مؤنث پیدا کیے ہیں۔ جس طرح آپس…
Read the full tafseer →3 : وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰٓی (اور اس کی جس نے نر و مادہ کو پیدا کیا) وہ عظیم قدرت والا جس نے مرد و عورت کو ایک پانی سے پیدا فرمایا۔
Read the full tafseer →3 ۔” وما خلق الذکر والا نثیٰ ” یعنی ومن خلق جس نے مذکر ومونث کو پیدا کیا اور کہا گیا ہے کہ یہ (ما) مصدر یہ ہے یعنی مذکر ومونث کو پیدا کرنا۔ مقاتل اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں یعنی آدم وحوا (علیہما السلام) کو اور ابن مسعود اور ابوالدرداء ؓ تعالیٰ عنہما کی قرات میں ” والذکر والا نثیٰ “ جواب قسم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ 11۔ رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے اور حضرت آدم و حوا اسی طرح ان کی اولاد میں مرد و عورت کے پیدا کرنے کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں لوگوں کے عمل مختلف ہیں کوئی عقبیٰ میں نیک کام کا بدلہ پانے کے یقین اور اسی نیت سے اچھے کام کرتا ہے ایسا شخص اپنی نیکی کا پورا ثمرہ عقبیٰ میں بھی پائے گا اور دنیا میں بھی ایسے شخص کو دن بدن نیکی کی توفیق اللہ کی طرف سے دی جاتی ہے اور کوئی عقبیٰ کی جزا کے انکار کے سبب سے نیک کاموں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا بلکہ نیک کاموں کے کرنے سے بےپروائی ظاہر کرتا ہے ایسا شخص اپنا کیا عقبیٰ میں بھگتے گا۔ اور دنیا میں جبراً اللہ تعالیٰ اس کو…
Read the full tafseer →(وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْاُنْثٰٓى) یہاں اگر ماموصولہ ہے تو یہ قسم خود اللہ تعالیٰ کے نفس مقدس کی قسم ہے جو مرد اور عورت کا خالق ہونے سے موصوف ہے اور گر مامصدریہ ہے تو یہ مرد اور عورت کی تخلیق کی قسم ہے اس میں اس کی حکمت کا کمال یہ ہے کہ اس نے حیوانات کی تمام اصناف میں جن کو باقی رکھنے کا ارادہ کرتا ہے نر اور مادہ پیدا کیا ہے تاکہ ان کی نوع باقی رہے اور وہ معدوم نہ ہوجائے اور شہوت کے سلسلے کے ذریعے سے دونوں کو ایک دوسرے کی طرف متوجہ کیا اور دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب بنایا۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین۔
Read the full tafseer →(3) زوجین کی تخلیق کی قسم کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا " اور قسم ہے اس ذات کی جس نے پیدا کیا نر اور مادہ کو " اور اس قدر حکیمانہ انداز میں کہ ان دونوں میں سے ہر ایک کی زندگی دوسرے کے بغیر ناقص و ناتمام ہے اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے تسکین و تسلی کا سبب اور ذریعہ ہے، سو یہ سب کچھ حق تعالیٰ کی عظیم الشان مظاہر قدرت اور اس کے آثار رحمت و عنایت میں سے ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اور ان اضداد کے اندر اس طرح حکمتوں بھرے تو افق کا پایا جانا اس بات کا ایک واضح ثبوت اور کھلی دلیل ہے کہ ان سب پر ایک ہی ارادہ کارفرما ہے، سو یہ سب کچھ حضرت حق جل مجدہ کے وجود یا اس جود اس کی قدرت کاملہ رحمت شاملہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
اچھی بری نیت اعمال اور بدلہ
تشریح : اس سورت میں اللہ تعالیٰ قسم کھاتے ہیں کہ دن رات کی نرو مادہ کی اور خود اپنی ' اس بات کے لیے کہ ہر انسان کی فطرت انداز اور ماحول فرق ہوتا ہے اور انہی حالات کے مطابق سب کا رویہ بھی فرق ہوتا ہے یہ حقیقت ہے کہ ہر شخص کے کام کا انداز فرق ہوتا ہے اور پھر یہ اعمال کا انداز دوراہوں میں منقسم ہے۔ یعنی کچھ تو نیک فطرت ہوتے ہیں ان کو شیطان کتنا ہی بہلائے مگر وہ اس کا شکار نہیں ہوتے یعنی ان کی سرشت میں نیکی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ان کو برا راستہ ' برے کام اور برے لوگ بالکل اچھے نہیں لگتے یعنی ان کو کوئی بھی لالچ برائی پر آمادہ نہیں کرسکتا وہ کہتے ہیں کہ کسی کو دیکھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة اللیل۔
آیات 1 تا 21۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے رات کی جب چھاجاتی ہے اور دن کی جب روشن ہوتا ہے اور اس کی جس نے بقائے نسل کے لیے ایک جیسے دو بندوں کو نرومادہ پیدا فرمادیا یعنی یہ سب نظام اس بات پر گواہ ہے کہ تمہاری محنت ومشقت بھی دو طرح سے ہے جس طرح رات کا اثر تاریکی اور دن کا اجالا ہے یانر کا کام الگ اور مادہ کے اوصاف الگ ہیں ایسے ہی تمہارے کردار کے نتائج دو طرح کے ہیں کہ جن لوگوں نے دینے کارویہ اپنایا اور اللہ کی محبت اور قربت کی تلاش میں اپنایا اور ارشادات نبوی کی تصدیق کی دل سے زبان سے اور کردار سے۔
دینے کارویہ۔
زندگی کا مدار دینے پر ہے سورج ، چاند ، ہوا ، بادل ، بارش ، روئیدگی ، پیداوار سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 4 چناچہ کوئی ایسا کام کرتا ہے جس کا بدلہ جنت ہے اور کوئی ایسا جس کا بدلہ دوزخ ہے۔ کوئی اپنے پیش نظر صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی رکھتا ہے اور صرف اخروی فلاح چاہتا ہے اور کوئی دنیا کا طلب گار ہے۔ کوئی فراخ دلی اور سخاوت سے کام لیتا ہے اور کوئی تنگ دلی اور بخل برتتا ہے۔
Read the full tafseer →(92:3) وما خلق الذکر والانثی۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ واؤ قسمیہ ہے۔ ما کی آیات (91:5-7) کی دو صورتیں ہیں
(1) ما مصدریہ ہے۔
(2) یا موصولہ ہے ۔ پہلی صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ قسم ہے نر و مادہ پیدا کرنے کی اور دوسری صورت میں ترجمہ ہوگا :َ اور قسم ہے اس ذات پاک کی (یعنی اپنی) کہ جس نے نر و مادہ پیدا کئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
لغات القرآن۔
شتی۔ مختلف۔ الگ الگ۔ نیسر۔ ہم آسان کردیں گے۔ العسری۔ تنگی۔ تردی۔ وہ نیچے گرا۔ تلظی۔ بھڑک دار۔ یجنب۔ بچ جائے گا۔
تشریح : اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں رات، دن، نر اور مادہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جس طرح رات دن سے اور نر مادہ سے الگ اور مختلف چیزیں ہیں اسی طرح دنیا میں جتنے بھی انسان، ان کے گروہ اور قومیں ہیں وہ اپنے عمل اور کوششوں میں بہت مختلف ہیں۔ رات کے وقت دن کا تصور اور دن میں رات کا تصور ممکن نہیں ہے۔ نر مادہ ہوسکتا اور مادہ نر نہیں ہوسکتی اسی طرح نیکی اور برائیوں پر چلنے والے بھی اپنے انجام کے اعتبار سے یکساں نہیں ہوسکتے۔
ایک وہ شخص ہے جو نہایت خلوص اور اللہ کی رضا کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
حضرت صدیق اکبر کا ایمان۔
(ف 1) شان نزول۔ روساء مکہ میں سے دو شخص بہت مالدار تھے ایک تو حضرت صدیق اکبرؓ ایک امیہ بن خلف لیکن دونوں کی حالت مختلف تھی ، حضرت ابوبکر صدیق مسلمان اور انبیاء کے بعد سب سے افضل، اور اپنا جان مال راہ خدا میں لٹانے والے تھے اور یہ کم بخت کافر انتہا درجہ کا بخیل اور گستاخ تھا، حضرت بلال اسی کے غلام تھے اور خفیہ ایمان لاچکے تھے ، امیہ بن خلف کو جب اس امر کی اطلاع ہوئی تو غلاموں کو حکم دیا کہ دن چرھے بلال ؓ کے تمام جسم پر ببول کے کانٹے چبھو دیا کرو اور جب دھوپ تیز ہوجائے تو اس کو دھوپ میں چت لٹا کر سرے سے پیر تک گرم پتھر پاٹ دیا کرو کہ ہل نہ سکے، اور گرداگرد آگ سلگادیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة الیل
1 ۔ یعنی جس طرح تاریک رات اور روشن دن میں اختلاف ہے اور خدا کی اس تقسیم میں اختلاف ہے اللہ تعالیٰ نے مرد کو بھی پیدا کیا اور عورت کو بھی ۔ نر کو بھی اور مادہ کو بھی ۔ اسی طرح کفر و ایمان کی مساعی یکساں نہیں ہیں ۔ نہ فطرت اور ساخت کے اعتبار سے اور نہ نتائج وثمرات کے اعتبار سے ۔ کفر ہمہ تاریکی ہے اور ایمان ہمہ روشنی ۔ کفر انوثیت اور نامرادی ہے اور ایمان جرات وجسارت ۔
نتائج وثمرات کے لحاظ سے بھی دونوں مختلف ہیں ۔ وہ شخص جو دولت ایمان سے بہرہ مندی کی وجہ سے اس کی راہ میں اپنا مال صرف کرتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے اور ہر نیک بات کی عمل سے تصدیق کرتا ہے ۔ اس کے لئے تیسیر کی نعمتیں اس کی طرف…
Read the full tafseer →(3) اور اس ذات کی قسم جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا - یعنی حضرت حق تعالیٰ کی ذات مراد ہے نر مادہ سے آدم وحوا مراد ہیں اور ہوسکتا ہے کہ جملہ حیوانات کے نرومادہ مراد ہوں۔ آگے قسم کا جواب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ف 4۔ تکلیف کی چیز سے بدعمل اور بواسطہ بدعمل کے دوزخ مراد ہے کہ عسر کا سبب اور محل ہے، اس لئے اس عسر کو عسری کہہ دیا گیا۔ اور سامان دینے سے مراد دونوں جگہ یہ ہے کہ اچھے یا برے کام اس سے بےتکلف سرزد ہوں گے اور ویسے ہی اسباب جمع ہوجائیں گے اور پھر نیک اعمال کا سامان جنت ہونا اور اعمال بد کا سامان دوزخ ہونا ظاہر ہی ہے۔ حدیث میں ہے فاما من کان من اھل السعادة فسیسیر لعمل اھل السعادة و کذا فی الشقاوة۔
Read the full tafseer →اس ذات کی قسم جس نے نر و مادہ کو پیدا کیا
3 ؎ اب غور کرو گے تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ جس اللہ نے رات بنائی اور دن روشن کیا اس اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے انسان کو پیدا کیا یعنی انسان کی دونوں اصناف کو جن کو مرد و عورت یا نر و مادہ سے موسوم کیا جاتا ہے دونوں ایک جنس ہونے کے باعث ایک دوسرے کی تکملن کرتے ہیں گویا انسانیت کی تکمیل کے لیے دونوں کا وجود لازم و ضروری ہے ۔ ایک کے ہونے سے انسانیت ادھوری رہتی ہے ۔ دونوں میں کچھ کمزوریاں جن کی تکمیل کے لیے یا یوں کہو کہ جن کو دور کرنے کے لیے دونوں کا وجود لازم و ضروری ہے اور جب دونوں کو فطری طو پر ملنے کا موقع ملتا ہے تو دونوں کی کمزوریاں دور ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1 This is that for which an oath has been sworn by the night and the day, and the creation of the male and the female. It means to say: Just as the night and the day, and the male and the female, are different from each other, and their effects and results are mutually contradictory, so are the aims and objects for which men are endeavouring and struggling; different in their nature and contradictory with regard to their results. In the following verses, it has been told that all these divided endeavours are divided into two main kinds.
Read the full tafseer →