Al-Lail 92:14

Al-Lail · from ayah 14

92:14

فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰی ۟ۚفَاَنۡذَرۡتُكُمۡ نَارًا تَلَظّٰى‌ۚ

سو میں نے تم کو بھڑکتی آگ سے متنبہ کر دیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

So I have warned you of a Fire which is blazing.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Lail

All translations of 92:14

پس میں نے تم کو خبردار کر دیا ہے بھڑکتی ہوئی آگ سے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

سو میں نے تم کو بھڑکتی آگ سے متنبہ کر دیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

میں نے تو تمہیں شعلے مارتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

لہذا میں نے تمہیں ایک بھڑکتی ہوئی آگ سے خبردار کردیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو میں تمہیں ڈراتا ہوں اس آگ سے جو بھڑک رہی ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو میں نے تمہیں (دوزخ کی) آگ سے ڈرا دیا ہے جو بھڑک رہی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس میں نے تمہیں ایک ایسی آگ سے ڈرا دیا ہے جو شعلے مارتی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لہذا میں نے تمہیں بھڑکتی آگ سے ڈرا دیا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

سو میں نے تم کو آگاہ کردیا دہکتی آگ سے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو میں نے خبردار کردیا ہے تم سب کو (اے لوگو ! دوزخ کی اس) دہکتی بھڑکتی ہولناک آگ سے

— مولانا اسحاق مدنی

تو میں تو تم لوگوں کو ایک بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرا چکا ہوں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

دیکھو ! میں نے تمہیں خبردار کردیا ہے بھڑکتی ہوئی آگ سے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

سو میں نے تم کو بھڑکتی آگ سے خبردار کردیا

— محترمہ رفعت اعجاز

I have now warned you of a Blazing Fire,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So I have warned you of a blazing fire.

— Muhammad Taqi Usmani

So I have warned you of a blazing fire.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Therefore I have warned you of a Fire Talazza.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Therefor have I warned you of the flaming Fire

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So I have warned you of a Fire which is blazing.

— Saheeh International

I have warned you about the fierce blazing fire

— Muhammad Sarwar

Therefore I warn you of the fire that flames:

— Muhammad Habib Shakir

Wherefore have warned you of Fire flaming,

— Abdul Majid Daryabadi

Therefore do I warn you of a Fire blazing fiercely;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 92:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 12–21

مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا : یعنی حلال و حرام کا ظاہر کردینا ہمارے ذمے ہے، یہ بھی معنی ہیں کہ جو ہدایت پر چلا وہ یقینا ہم تک پہنچ جائیگاجی سے فرمایا وعلی اللہ قصد السبیل آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے۔ میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کردیا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور بار بار فرماتے جاتے تھے لوگو ! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو ! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں، بار بار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 14–18

سورة الَّیْل 9 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نہایت شقی کے سوا کوئی آگ میں نہ جائے گا اور نہایت متقی کے سوا کوئی اس سے نہ بچے گا۔ بلکہ یہاں مقصود انتہائی متضاد کرداروں کو ایک دوسرے کے مقابلے میں پیش کر کے ان کا انتہائی متضاد انجام بیان کرنا ہے۔ ایک وہ شخص ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات کو جھٹلا دے اور اطاعت کی راہ سے منہ پھیر لے۔ دوسرا وہ شخص ہے جو نہ صرف ایمان لائے بلکہ انتہائی خلوص کے ساتھ کسی ریاکاری اور نام نمود کی طلب کے بغیر صرف اس لیے اپنا مال راہ خدا میں صرف کرے کہ وہ اللہ کے ہاں پاکیزہ انسان قرار پانے کا خواہاں ہے۔ یہ دونوں کردار اس وقت مکہ کے معاشرے میں سب کے سامنے موجود تھے۔ اس لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–14

خلاصہ تفسیر قسم ہے رات کی جبکہ وہ آفتاب کو اور دن کو) چھپالے، اور (قسم ہے) دن کی جبکہ وہ روشن ہوجاوے (اور قسم ہے) اس (ذات) کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا (مراد اللہ تعالیٰ ہے آگے جواب قسم ہے) کہ بیشک تمہاری کوششیں (یعنی اعمال) مختلف ہیں (اور اسی طرح ان کے ثمرات بھی مختلف ہیں) سو جس نے (اللہ کی راہ میں مال) دیا اور اللہ سے ڈرا اور اچھی بات (یعنی ملت اسلام) کو سچا سمجھا تو ہم اس کو راحت کی چیز کے لئے سامان دیدیں گے (راحت کی چیز سے نیک عمل اور بواسطہ نیک عمل کے جنت مراد ہے کہ یسر کا سبب اور محل ہے اسی لئے یسریٰ کہہ دیا گیا ورنہ یسریٰ کے معنی ہیں آسان چیز) اور جس نے (حقوق واجبہ سے) بخل کیا اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 14–18

قریش کی طرف التفات: اصولی طور پر حقیقت بیان کر دینے کے بعد یہ خاص طور پر بھی قریش کو مخاطب کر کے واضح فرما دیا کہ ضروری تھا کہ تمہیں پہلے سے آگاہ کر دیا جائے اس وجہ سے میں نے تمہیں اس بھڑکنے والی آگ سے آگاہ کر دیا ہے جس میں وہی لوگ پڑیں گے جو نہات بدبخت، تکذیب کرنے والے اور منہ موڑنے والے ہوں گے۔ اور وہ اس سے محفوظ رکھے جائیں گے جو اپنا مال پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے خرچ کریں گے۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ: یہ امر یہاں واضح رہے کہ مقابلہ یہاں کم شقی اور زیادہ شقی یا زیادہ متقی اور کم متقی میں نہیں ہے بلکہ رسول کی تکذیب کرنے والوں اور اس کی تصدیق کرنے والوں سے ہے۔ رسول اتمام حجت کا کامل ذریعہ ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 13–16

13۔ 1 یعنی دونوں کے مالک ہم ہی ہیں، ان میں جس طرح چاہیں تصرف کریں اس لئے ان دونوں کے یا ان میں سے کسی ایک کے طالب ہم سے ہی مانگیں کیونکہ ہر طالب کو ہم اپنی مشیت کے مطابق دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–18

6: یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جو کچھ خرچ کرتا ہے اس میں دکھاوا مقصود نہیں ہوتا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصود ہوتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایسے خرچ کرنے سے انسان کو اخلاقی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیتیں حضرت ابوبکر صدیق کی تعریف میں نازل ہوئی ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں بہت خرچ کرتے تھے، تاہم الفاظ عام ہیں، اور ہر اس شخص کے لئے خوشخبری پر مشتمل ہیں جو ان صفات کا حامل ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فانذرتکم نارا تلظی (14:92) ” پس میں نے تم کو خبردار کردیا ہے بھڑکتی ہوئی آگ سے “۔ اور یہ بھڑکتی ہوئی آگ ہر کسی کے لئے نہیں ہے ، بلکہ یہ تو بھڑکائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 اس ایک بھڑکتی ہوئی آگ سے شاید دوزخ کا وہ طبقہ مراد ہوگا۔ جو بڑے بھاری مجرموں اور بدبختوں کے لئے مخصوص ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 14{ فَاَنْذَرْتُکُمْ نَارًا تَلَظّٰی۔ } ”دیکھو ! میں نے تمہیں خبردار کردیا ہے بھڑکتی ہوئی آگ سے۔“ جہنم تو بھوکے شیر کی طرح اپنے شکار کی تاک میں ہے : { نَزَّاعَۃً لِّلشَّوٰی - تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَتَوَلّٰی۔ } المعارج ”وہ کلیجوں کو کھینچ لے گی۔ وہ پکارے گی ہر اس شخص کو جس نے پیٹھ موڑ لی تھی اور رخ پھیرلیا تھا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 13–15

6 یعنی آخرت کے مالک بھی ہم ہیں اور دنیا کے بھی۔ اب جو شخص ہم سے دنیا ہی طلب کرتا ہے اسے ہم دنیا ہی دیتے ہیں وہ بھی اتنی جتنی ہم چاہتے ہیں اور جو ہم سے آخرت کا طلبگار ہوتا ہے اسے آخرت تو ضرور دیتے ہیں اور دنیا بھی اتنی ضرور دے دیتے ہیں جتنی اس کے مقدر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 14–16

7۔ یہاں یہ صاف صاف بتادیا کہ جہنم اصل ٹھکانا صرف کافروں منکروں ہی کا ہے۔ مومن عاصی کا قیام اگر اس میں ہوگا بھی تو محض عارضی وہنگامی۔ ومعنی لایصلھا لایلزمھا فی حقیقۃ اللغۃ یقال صلے الکافر النار اذا لزمھا مقاسیا شد تھا وحرھا وعندنا ان ھذہ الملا زمۃ لاتبثت الا للکافر اما الفاسق فاما ان لایدخلھا او ان دخلھا تخلص منھا (کبیر) وھو لایدخلھا للخلود فیھا (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–16

وما یغنی عنہ مالہ اذا تردی یعنی جس مال کی خاطر یہ کمبخت حقوق واجبہ میں بخل کیا کرتا تھا یہ مال ان پر عذاب آنے کے وقت کچھ کام نہ دے گا تردی کے لفظی معنی گڑھے میں گر جانے اور ہلاک ہونے کے ہیں، مطلب یہ ہے کہ موت کے بعد قبر میں اور پھر قیامت میں جب وہ جہنم کے گڑھے میں گرتا ہوگا تو یہ مال اس کو کچھ نفع نہیں دے گا۔ (معارف) صحابہ کرام ؓ جہنم سے محفوظ ہیں : اس کی وجہ یہ ہے کہ اول تو ان حضرات سے گناہ کا صدور شاذ و نادر ہی ہوا ہے اور بوجہ خوف آخرت کے ان کے حالات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے توبہ کرلی ہوگی علاوہ ازیں ان کے ایک گناہ کے مقابل ہمیں ان کے اعمال حسنہ اتنے زیادہ ہیں کہ ان کی وجہ سے بھی یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فانذرتکم نارا تلظی . فاء سببی ہے اللہ کا مالک دارین اور خالق کونین ہونا ‘ سبب تخویف ہے پس میں تم کو بھڑکتی آگ سے ڈراتا ہوں ‘ جس میں صرف

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 12–16

(12۔ 16) واقعی خیر و شر کا بیان کردینا ہمارے ذمہ ہے اور دنیا و آخرت کا ثواب ہمارے قبضہ میں ہے، یا یہ کہ آخرت میں ثواب و سرفرازی عطا کرنا اور دنیا میں معرفت و توفیق دینا ہمارے قبضہ میں ہے سو مکہ والو میں تمہیں بذریعہ قرآن کریم ایک بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرا چکا ہوں دوزخ میں وہی بدبخت داخل ہوگا جس نے توحید کو جھٹلایا یا یہ کہ اطاعت خداوندی میں کوتاہی کی اور ایمان، یا یہ کہ توبہ سے روگردانی کی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(فانذر تکم نارا تلظی :”تلظی“ اصل میں ”تلظی“ ہے جو ”لظی“ سے باب تفعل کا مضارع ہے۔ شعلے ماتری ہے۔ میرا کام راستہ بتانا ہے، وہ میں نے بتادیا اور نہ ماننے والوں کو زبردست شعلے ماتری ہوئی آگ سے ڈرا دیا، اب ماننا یا نہ ماننا تمہارا کام ہے، سب کو زبردستی مسلمان بنادینا میری حکمت کے خلاف ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 14–16

میں نے تمہیں ڈرایا ایک ایسی آگ سے جو شعلہ زن ہے اور روشن ہے، تلظی اصل میں تتلظی تھا، یہ عبید بن عمیر، یحییٰ بن یعمر اور طلحہ بن مصرف کی قرات ہے اس کی گرمی کو نہیں پائے گا مگر ایسا بدبخت جس نے نبی کریم ﷺ کو جھٹلایا اور ایمان سے اعراض کیا، مکحول نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ ہر کوئی جنت میں داخل ہوگا مگر جس نے اس کا انکار کیا، مکحول نے پوچھا، اے ابوہریرہ کون ہے جو جنت میں داخل ہونے سے انکار کرتا ہے ؟ فرمایا، جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی۔ امام مالک نے کہا، ہمیں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے مغرب کی نماز پڑھائی تو والیل اذا یغشٰی۔ کی قرات کی جب وہ فانذرتکم نارا تلظی۔ تک پہنچے تورونے لگے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–15

31۔ سعید بن منصور والفراء والبیہقی نے اپنی سنن میں صحیح سند کے ساتھ عبید بن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت فانذرتکم نارا تتلظی یعنی دو تاء کے ساتھ۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَانذَرْتُكُمْ نَارًا : پس میں نے خبردار کردیا تم لوگوں کو ایک ایسی آگ سے ][ تَلَظّٰى: جو غصّہ سے بھڑک اٹھتی ہے ] آیت نمبر 14 میں تَلَظّٰی باب تفعّل کا صیغہ واحد مونث غائب ہے۔ جو اصل میں تَتَلَظّٰی تھا۔ ایک تا کو گرا دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 14–18

گزشتہ آیات میں ایمان اور کفر اور اعمال صالحہ اور اعمال سیہٴ کے نتائج کا فرق بیان فرمایا جس میں یہ بھی تھا کہ کفر عذاب میں مبتلا کرنے والی چیز ہے چونکہ یہ جلنے کا عذاب ہوگا کافر دوزخ میں داخل ہوں گے ان پر آگ مسلط ہوگی اس لیے دوزخ کے عذاب کی حقیقت بتادی اور فرما دیا کہ میں تمہیں ایسی آگ سے ڈراتا ہوں جو خوب اچھی طرح جلتی ہوگی۔ مزید فرمایا کہ اس میں صرف وہی داخل ہوگا جو سب سے بڑا بدبخت تھا جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی، آیت کے الفاظ سے جو حصر معلوم ہوتا ہے اس سے بظاہر فاسق مسلمانوں کے دوزخ میں داخلے کی نفی ہوتی ہے، صاحب روح المعانی نے یہ اشکال کیا ہے پھر یوں جواب دیا ہے کہ سخت ترین عذاب سب سے بڑے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–21

تقسیم جہو عملیہ در حیات انسانی وترتب ثمرات سعادت وشقاوت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والیل اذا یغشی ....... الی ......... ولسوف یرضی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں فوز و فلاح اور شقاوت وبدنصیبی کے اسباب پر کلام تھا اور یہ کہ انسانی نفس اگر طہارت وتزکیہ سے آراستہ ہو تو اس پر دنیا کی عزت وسربلندی اور آخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے اور اگر نفس کو شہوات کی گندگی میں آلودہ کرلیا جائے تو انسانی شرف سے محرومی کے بعد دنیا کی تباہی اور عذاب آخرت میں مبتلا ہونے کے سوا کوئی نتیجہ نہیں ہوتا، اور دنیا میں بڑی سے بڑی طاقت ور قومیں اسی شقاوت وبدنصیبی کا شکار ہو کر ہلاک ہوئیں اور تاریخ عالم اس کی گواہی دیتی ہے، تو اب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 14–16

ٖف 6:۔ ” فانذرتکم “ یہ تخویف اخروی ہے۔ میں نے تمہیں بھڑکتی اور شعلے مارتی آگ سے ڈرایا ہے اس سے بچو اور حق کو قبول کرو۔ اس میں صرف وہ داخل ہوگا جو نہایت بدبخت ہوگا جس نے خدا کی آیتوں کو جھٹلایا اور دین حق سے اعراض کیا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 12–21

گزشتہ سے پیوستہ گزشتہ درس میں یہ بیان ہوا تھا کہ جس طرح رات اور دن میں اختلاف ہے اور جس طرح نر اور مادہ میں اختلاف ہے اسی طرح انسانوں کی سعی اور کوشش میں بھی اختلاف ہے۔ جس کی کوشش اس طرح کی ہے کہ اس نے مال اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور خدا تعالیٰ سے ڈرتا رہا برائیں سے بچتا رہا پھر اچھی بات یعنی کلمہ توحید اور کلمہ ایمان کی تصدیق کی ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم اس کو آہستہ آہستہ آسانی تک پہنچائیں گے اور جس نے بخل کیا ، مال کو راہ خدا میں صرف نہ کیا۔ کنجوسی سے اکم لیا اور اپنی جگہ مستغنی یعنی بےپرواہ رہا ، آخرت کی فکر نہ کی آخرت کی تکذیب کی۔ کلمہ توحید کی تکذیب کی۔ تو ہم اس کو آہستہ آہستہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰى۝ 14 ۚ نذر وَالإِنْذارُ : إخبارٌ فيه تخویف، كما أنّ التّبشیر إخبار فيه سرور . قال تعالی: فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] والنَّذِيرُ : المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2] ( ن ذ ر ) النذر الا نذار کے معنی کسی خوفناک چیز سے آگاہ کرنے کے ہیں ۔ اور اس کے بالمقابل تبشیر کے معنی کسی اچھی بات کی خوشخبری سنا نیکے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] سو میں نے تم کو بھڑکتی آگ سے متنبہ کردیا ۔ النذ یر کے معنی منذر یعنی ڈرانے والا ہیں ۔ اور اس کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 12–21

ترکیب ¦ للھدٰی اسم ان علینا خبرھا۔ ای علینا ان نبی ن طریق الھدٰی من طریق الضلال وقدفعلنا ذلک حیث بینا طریق کلا الفریقین ترغیبًا و ترہیبًا۔ قالہ الزجاج للآخرۃ معطوف علیہ والاولیٰ معطوف وکلاھما ان اسم ان لنا خبرھا والجملۃ معطوفتہ علی الجملۃ السابقۃ ومعناہ لنا کل ما فی الآخرۃ وکل ما فی الدنیا فمن ارادھما فلیطلب منا تلظٰی صفۃ نار و اصلہ تتلظی فحذفت احدی التاء ین تخفیفاً وقری علی الاصل ومعناہ تتوقد وتتلھب یقال تلظت النار تلظیا ومنہ سمیت جہنم لظٰی لا یصلاھا الجملۃ صفۃ ناروھوبیان لمنھی الا الاشقٰی استثناء متصل ای لا ید خلھا دخولا موبدا احد الا الاشقیٰ وھو الکافر والمشرک الذی کذب وتولیٰ وصف للاشقی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاَنْذَرْتُـکُمْ نَارًا تَلَظّٰی۔ (الیل : 14) (پس میں نے خبردار کردیا ہے تمہیں بھڑکتی آگ سے۔ ) قریش کو تنبیہ معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کریمہ میں براہ راست خطاب قریش سے ہے۔ ان سے فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے ہدایت کی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے اپنی آخری کتاب نازل کردی ہے اور اپنا آخری رسول مبعوث کردیا ہے۔ اس طرح سے تم پر اتمامِ حجت کردی گئی ہے۔ اب تم میں سے جو شخص بھی اس سے فائدہ اٹھانے کی بجائے تکذیب کرتا اور منہ پھیرتا ہے وہ نہایت خطرناک صورتحال کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس لیے میں نے تمہیں بروقت خبردار کردیا ہے کہ ایسے شخص کا انجام ایک بھڑکتی ہوئی آگ ہے جس کی شدت اور ہلاکت کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–16

فہم القرآن ربط کلام : بخل سے بچانا اور الحسنٰی کی راہنمائی کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے تاہم اس نے نیکی اور برائی کی راہ دکھلا کر لوگوں کو اختیار دیا ہے کہ وہ نیکی کرتے ہیں یا برائی کی طرف جاتے ہیں۔ قرآن مجید میں کئی مقامات پر ہدایت اور گمراہی، نیکی اور برائی کی نشاندہی کرنے کے بعد ارشاد ہوا ہے کہ ہمارا کام نیکی اور ربرائی کی نشاندہی کرنا ہے۔ اب انسان کا اپنا اختیار ہے کہ وہ ان میں سے کس کو اختیار کرتا ہے اگر وہ نیکی اختیار کرے گا تو ہم اس کے لیے نیکی کرنا آسان کردیں گے اگر وہ برائی پسند کرتا ہے تو ہم اسے کھلا چھوڑ دیں گے، ہمارا کام ہدایت اور گمراہی کو واضح کرنا ہے۔ ہدایت اور گمراہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

14 : فَاَنْذَرْتُکُمْ نَارًا تَلَظّٰی (تو میں تم کو ایک بھڑکتی آگ سے ڈرا چکا ہوں) انذرت۔ ڈرانے کے معنی میں اور تلظٰی شعلہ زن۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–21

12۔ 21۔ مستدرک حاکم 2 ؎ مسند بزار تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ حضرت بلال ؓ اور عامر بن فہیرہ اور زنیرہ وغیرہ میں یہ سات شخص لونڈی غلام ایسے تھے جو اسلام لے آئے تھے اور وہ مشرک لوگ جن کے یہ لونڈی غلام تھے ان پر روز طرح طرح کی سختی اور مار پیٹ کیا کرتے تھے حضرت ابوبکر صدیق نے ان ساتوں مرد و عورتوں کو ان کے مشرک آقاؤں سے خرید کیا اور ساتوں شخصوں کو آزاد کردیا۔ حضرت ابوبکر صدیق کے باپ ابوقحافہ نے ایک روز حضرت ابوبکر صدیق سے کہا کہ تم کو اگر غلام آزاد کرنے منظور تھے ایسے قوی لوگ آزاد کئے ہوتے جو وقت پڑے پر تمہاری کچھ مدد کرسکتے۔ ان عورتوں کے آزاد کرنے سے کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰى) میں نے تمہیں بھڑکتی ہوئی اور جلتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 13–15

13 ۔ دنیا وآخرت دونوں اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں : سو تنبیہ مزید کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یقینا ہمارے ہی لیے ہے آخرت بھی اور اس سے پہلے یہ دنیا بھی، کہ ان دونوں کے خالق بھی ہم ہیں اور مالک بھی ہم، اور حاکم و متصرف بھی ہم جس کو جو چاہیں اور جب جیسے چاہیں عطا کریں اور جو چاہیں حکم دیں اور قانون بنائیں، کیونکہ ہی ہم جانتے ہیں کہ کس کے لیے کیا بہتر و مفید ہے، اور کیا مضر و نقصان دہ ہے، سو انسان کے لیے بہتری اور بھلائی اور دارین کی سعادت و سرخروئی اسی میں اور صرف اسی میں ہے کہ وہ صدق دل سے ہمارے اوامرو احکام کی پیروی کرے، بہرکیف دنیا و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–21

اچھی بری نیت اعمال اور بدلہ تشریح : اس سورت میں اللہ تعالیٰ قسم کھاتے ہیں کہ دن رات کی نرو مادہ کی اور خود اپنی ' اس بات کے لیے کہ ہر انسان کی فطرت انداز اور ماحول فرق ہوتا ہے اور انہی حالات کے مطابق سب کا رویہ بھی فرق ہوتا ہے یہ حقیقت ہے کہ ہر شخص کے کام کا انداز فرق ہوتا ہے اور پھر یہ اعمال کا انداز دوراہوں میں منقسم ہے۔ یعنی کچھ تو نیک فطرت ہوتے ہیں ان کو شیطان کتنا ہی بہلائے مگر وہ اس کا شکار نہیں ہوتے یعنی ان کی سرشت میں نیکی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ان کو برا راستہ ' برے کام اور برے لوگ بالکل اچھے نہیں لگتے یعنی ان کو کوئی بھی لالچ برائی پر آمادہ نہیں کرسکتا وہ کہتے ہیں کہ کسی کو دیکھ کر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–21

سورة اللیل۔ آیات 1 تا 21۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے رات کی جب چھاجاتی ہے اور دن کی جب روشن ہوتا ہے اور اس کی جس نے بقائے نسل کے لیے ایک جیسے دو بندوں کو نرومادہ پیدا فرمادیا یعنی یہ سب نظام اس بات پر گواہ ہے کہ تمہاری محنت ومشقت بھی دو طرح سے ہے جس طرح رات کا اثر تاریکی اور دن کا اجالا ہے یانر کا کام الگ اور مادہ کے اوصاف الگ ہیں ایسے ہی تمہارے کردار کے نتائج دو طرح کے ہیں کہ جن لوگوں نے دینے کارویہ اپنایا اور اللہ کی محبت اور قربت کی تلاش میں اپنایا اور ارشادات نبوی کی تصدیق کی دل سے زبان سے اور کردار سے۔ دینے کارویہ۔ زندگی کا مدار دینے پر ہے سورج ، چاند ، ہوا ، بادل ، بارش ، روئیدگی ، پیداوار سب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 14–16

ف 11 یعنی کافر یہاں آگ میں جانے سے مراد اس میں ہمیشہ کے لئے جانا ہے کہ پھر کبھی نکلنا نصیب نہ ہو۔ گناہگار مسلمان اگرچہ اس میں جائیں گے لیکن ان کا جانا ہمیشہ کیلئے نہیں ہوگا بلکہ وہ اپنی مقررہ سزا بھگت کر اس سے نکال لئے جائیں گے جیسا کہ دوسری متعدد آیات و احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(92:14) فانذرتکم نارا تلظی :سببیہ ہے اللہ کا مالک دارین اور خالق کونین ہونا سبب تحویف ہے۔ نارا متعلق انذرتکم ہے اور موصوف ہے۔ تلظی اس کی صفت ہے۔ صیغہ واحد مؤنث غائب۔ وہ بھڑکتی ہے۔ وہ شعلہ مارتی ہے۔ تلظی (تفعل) مصدر سے۔ جس کے معنی آگ کے لپیٹیں مارنے، شعلے بلند کرنے اور بھڑکنے کے ہیں۔ یہ اصل میں تتلظی تھا۔ تخفیفاً ایک تاء کو حذف کردیا گیا۔ ترجمہ :۔ پس میں تم کو بھڑکتی آگ سے ڈراتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–21

لغات القرآن۔ شتی۔ مختلف۔ الگ الگ۔ نیسر۔ ہم آسان کردیں گے۔ العسری۔ تنگی۔ تردی۔ وہ نیچے گرا۔ تلظی۔ بھڑک دار۔ یجنب۔ بچ جائے گا۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں رات، دن، نر اور مادہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جس طرح رات دن سے اور نر مادہ سے الگ اور مختلف چیزیں ہیں اسی طرح دنیا میں جتنے بھی انسان، ان کے گروہ اور قومیں ہیں وہ اپنے عمل اور کوششوں میں بہت مختلف ہیں۔ رات کے وقت دن کا تصور اور دن میں رات کا تصور ممکن نہیں ہے۔ نر مادہ ہوسکتا اور مادہ نر نہیں ہوسکتی اسی طرح نیکی اور برائیوں پر چلنے والے بھی اپنے انجام کے اعتبار سے یکساں نہیں ہوسکتے۔ ایک وہ شخص ہے جو نہایت خلوص اور اللہ کی رضا کے لئے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–18

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ اس میں کوئی شک نہیں راستہ باتنا ہمارا ہی کام ہے برائی کا ہو یا بھلائی کا سب دنیا کا انتظام ہماری ہاتھ میں ہے اور آخرت کا اختیار بھی ہے جب راستہ بتانا ہمارا کام ہے اس لیے تم کو بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈراتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس آگ میں وہی شخص جائے جو خدا اور خدا کے رسول کی تکذیب کرتا ہے اور تقوی اور دین داری سے منہ پھیرتا ہے تقوی اہل شریعت کی اصطلاح میں یہ ہے کہ کفر سے اور گناہ کبیرہ اور صغیرہ سے بچتا رہے، اگر کبھی کوئی گناہ بھی ہوجائے تو سچی توبہ جھٹ پٹ کرلے، سچی توبہ کے معنی یہ ہیں کہ اس گناہ سے متنفر ہوجائے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پرہیز رکھے آگے فرمایا کہ جب راستہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–21

[6] یعنی ہماری حکمت اس کی مقتضی نہیں کہ کسی آدمی کو زبردستی نیک یا بد بننے پر مجبور کردیں۔ ہاں یہ ہم نے اپنے ذمے لیا ہے کہ لوگوں کو نیکی اور بدی کی راہ سمجھا دیں۔ پھر جو شخص جو راہ اختیار کرے دنیا اور آخرت میں اسی کے موافق ہم اس سے برتاؤ کریں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–21

سورة الیل 1 ۔ یعنی جس طرح تاریک رات اور روشن دن میں اختلاف ہے اور خدا کی اس تقسیم میں اختلاف ہے اللہ تعالیٰ نے مرد کو بھی پیدا کیا اور عورت کو بھی ۔ نر کو بھی اور مادہ کو بھی ۔ اسی طرح کفر و ایمان کی مساعی یکساں نہیں ہیں ۔ نہ فطرت اور ساخت کے اعتبار سے اور نہ نتائج وثمرات کے اعتبار سے ۔ کفر ہمہ تاریکی ہے اور ایمان ہمہ روشنی ۔ کفر انوثیت اور نامرادی ہے اور ایمان جرات وجسارت ۔ نتائج وثمرات کے لحاظ سے بھی دونوں مختلف ہیں ۔ وہ شخص جو دولت ایمان سے بہرہ مندی کی وجہ سے اس کی راہ میں اپنا مال صرف کرتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے اور ہر نیک بات کی عمل سے تصدیق کرتا ہے ۔ اس کے لئے تیسیر کی نعمتیں اس کی طرف…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 7۔ اس میں نہایت ہی مبالغہ ہے اخلاص میں کیونکہ کسی کے احسان کا بدلہ اتارنا بھی فی نفسہ انفاق مندوب و مطلوب ہے، مگر فضیلت میں احساب ابتدائی کی برابر نہیں، پس جب اس شخص کا انفاق اس سے بھی مبرا ہے تو ریا وغیرہ معاصی کی آمیزش سے تو بدرجہ اولی بری ہوگا اور یہ کمال اخلاص ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پس میں تم کو ایک بھڑکتی ہوئی آگ سے خبردار کرتا ہوں 14 ؎ ( تلظی) وہ بھڑکتی ہے۔ وہ شعلہ مارتی ہے ۔ ” تلظی “ سے جس کے معنی آگ کے لپیٹیں مارنے ، شعلے بلند کرنے اور بھڑکنے کے ہیں۔ مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب ہے ۔ اصل میں تتلظی تھا ایک تاء حذف ہوگئی ہے اور یہ قاعدہ کے مطابق ہے۔ قاعدہ سے ہماری مراد اہل زبان سے ہے یعنی اہل زبان ایسا کرلیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ میں تم کو متنبہ کرتا ہوں ان کاموں سے جن کا نتیجہ بھڑکتی ہوئی آگ ہوتا ہے اگر تم وہ کام کرو گے جن کا نتیجہ میں بھڑکتی ہوئی آگ ہی دی جاسکتی ہے تو لاریب میں تم کو وہی دوں گا یعنی بھڑکتی ہوئی آگ ہی دوں گا اور یہ میری رحمت کا تقاضا ہے کہ میں تم کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–14

وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَ‌دَّىٰ (And his wealth will not help him when he will fall down...92:11). The word taradda literally denotes 'to fall into a pit and perish'. The expression 'When he fall' signifies that when Divine decree regarding his destruction comes into operation, nothing - not even his wealth - will save him, whether in grave after his death, or on the Day of Judgment, when he will be falling into the abyss of Hell.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–18

9 This dces not mean that no one will enter the fire except the most wretched one, and no one will be saved from it except the most pious one but the object is to describe the extremely contradictory fate of the two extremely contradictory' characters. One of them is the person who belies the teachings of Allah and His Messenger and turns away from obedience; the other one is the person, who not only believes but also spends his wealth in the cause of Allah sincerely, without any desire for display and reputation, only in order to be regarded as a pure man in His eyes. Both these types of…

Read the full tafseer →