Al-Lail 92:15

Al-Lail · from ayah 15

92:15

لَا یَصْلٰىهَاۤ اِلَّا الْاَشْقَی ۟ۙلَا يَصۡلٰٮهَاۤ اِلَّا الۡاَشۡقَىۙ

اس میں وہی داخل ہو گا جو بڑا بدبخت ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

None will [enter to] burn therein except the most wretched one.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Lail

All translations of 92:15

اُس میں نہیں جھلسے گا مگر وہ انتہائی بد بخت

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس میں وہی داخل ہو گا جو بڑا بدبخت ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس میں صرف وہی بدبخت داخل ہوگا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس آگ میں کوئی اور نہیں، وہی بدبخت داخل ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

نہ جائے گا اس میں مگر بڑا بدبخت،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس میں انتہائی بدبخت کے سوا کوئی داخل نہیں ہوگا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جس میں اس بڑے بدبخت کے سوا کوئی داخل نہیں ہوگا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس میں وہی گرے گا جو بڑا بدبخت ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس میں وہی پڑے گا جو نہایت بد بخت ہو گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس میں داخل نہیں ہوگا مگر وہ سب سے بڑا بدبخت انسان

— مولانا اسحاق مدنی

اس میں وہی بدبخت داخل ہوگا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

نہیں پڑے گا اس میں مگر وہ جو انتہائی بدبخت ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

where none shall burn except the most wicked,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

None will enter it but the wretched one,

— Muhammad Taqi Usmani

None will enter it but the wretched one,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

None shall enter it save the most wretched.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Which only the most wretched must endure,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

None will [enter to] burn therein except the most wretched one.

— Saheeh International

in which no one will suffer forever

— Muhammad Sarwar

None shall enter it but the most unhappy,

— Muhammad Habib Shakir

None shall roast therein but the most wretched,

— Abdul Majid Daryabadi

None shall reach it but those most unfortunate ones

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 92:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 12–21

مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا : یعنی حلال و حرام کا ظاہر کردینا ہمارے ذمے ہے، یہ بھی معنی ہیں کہ جو ہدایت پر چلا وہ یقینا ہم تک پہنچ جائیگاجی سے فرمایا وعلی اللہ قصد السبیل آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے۔ میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کردیا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور بار بار فرماتے جاتے تھے لوگو ! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو ! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں، بار بار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 14–18

سورة الَّیْل 9 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نہایت شقی کے سوا کوئی آگ میں نہ جائے گا اور نہایت متقی کے سوا کوئی اس سے نہ بچے گا۔ بلکہ یہاں مقصود انتہائی متضاد کرداروں کو ایک دوسرے کے مقابلے میں پیش کر کے ان کا انتہائی متضاد انجام بیان کرنا ہے۔ ایک وہ شخص ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات کو جھٹلا دے اور اطاعت کی راہ سے منہ پھیر لے۔ دوسرا وہ شخص ہے جو نہ صرف ایمان لائے بلکہ انتہائی خلوص کے ساتھ کسی ریاکاری اور نام نمود کی طلب کے بغیر صرف اس لیے اپنا مال راہ خدا میں صرف کرے کہ وہ اللہ کے ہاں پاکیزہ انسان قرار پانے کا خواہاں ہے۔ یہ دونوں کردار اس وقت مکہ کے معاشرے میں سب کے سامنے موجود تھے۔ اس لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–16

لایصلھآ الا الاشقی الذی کذب وتولی، یہ نار جہنم کے حال کا بیان ہے کہ اس میں داخل نہیں ہوگا مگر وہ ہی شخص جو بدنصیب ہے اور جس نے اللہ رسول کی تکذیب کی اور ان کی اطاعت سے روگردانی کی اور یہ ظاہر ہے کہ اللہ و رسول کی تکذیب کرنیوالا صرف کافر ہی ہوسکتا ہے۔ اس سے بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مومن گناہگار جو تکذیب کا مجرم نہیں جہنم میں نہیں جائے گا، حالانکہ قرآن و حدیث کی بیشمار نصوص اس سے بھری ہوئی ہیں کہ مومن بھی جو گناہ کرتا ہے اگر اس نے توبہ نہ کرلی یا کسی کی شفاعت سے یا خالص رحمت سے اس کو معاف نہ کردیا گیا تو وہ بھی جہنم میں جائے گا اور اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے تک جہنم میں رہے گا، البتہ سزا بھگتنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 14–18

قریش کی طرف التفات: اصولی طور پر حقیقت بیان کر دینے کے بعد یہ خاص طور پر بھی قریش کو مخاطب کر کے واضح فرما دیا کہ ضروری تھا کہ تمہیں پہلے سے آگاہ کر دیا جائے اس وجہ سے میں نے تمہیں اس بھڑکنے والی آگ سے آگاہ کر دیا ہے جس میں وہی لوگ پڑیں گے جو نہات بدبخت، تکذیب کرنے والے اور منہ موڑنے والے ہوں گے۔ اور وہ اس سے محفوظ رکھے جائیں گے جو اپنا مال پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے خرچ کریں گے۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ: یہ امر یہاں واضح رہے کہ مقابلہ یہاں کم شقی اور زیادہ شقی یا زیادہ متقی اور کم متقی میں نہیں ہے بلکہ رسول کی تکذیب کرنے والوں اور اس کی تصدیق کرنے والوں سے ہے۔ رسول اتمام حجت کا کامل ذریعہ ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 13–16

13۔ 1 یعنی دونوں کے مالک ہم ہی ہیں، ان میں جس طرح چاہیں تصرف کریں اس لئے ان دونوں کے یا ان میں سے کسی ایک کے طالب ہم سے ہی مانگیں کیونکہ ہر طالب کو ہم اپنی مشیت کے مطابق دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–18

6: یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جو کچھ خرچ کرتا ہے اس میں دکھاوا مقصود نہیں ہوتا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصود ہوتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایسے خرچ کرنے سے انسان کو اخلاقی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیتیں حضرت ابوبکر صدیق کی تعریف میں نازل ہوئی ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں بہت خرچ کرتے تھے، تاہم الفاظ عام ہیں، اور ہر اس شخص کے لئے خوشخبری پر مشتمل ہیں جو ان صفات کا حامل ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

لا یصلھا الا الا شقی (15:92) ” اس میں نہیں جھلسے گا مگر وہ انتہائی بدبخت “۔ اور یہ انتہائی بدبخت وہ ہوگا جس کا نصیبہ تمام انسانوں میں برا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ آگ میں جھلس جانے کے بعد پھر وہ کہاں جائے گا اور اس بدبخت کی مزید تشریح۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 15–16

3 یعنی ہمیشہ کے لئے وہی گرے گا کہ پھر کبھی نکلنا نصیب نہ ہوگا۔ کما تدل علیہ النصوص۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 15–16

آیت 15{ لَا یَصْلٰـٹہَآ اِلَّا الْاَشْقَی۔ } ”نہیں پڑے گا اس میں مگر وہ جو انتہائی بدبخت ہے۔“ ظاہر ہے جس انسان کو آخری رسول ﷺ کے آجانے کے بعد بھی حقیقت نظر نہ آئی اس سے بڑا بدبخت اور کون ہوسکتا ہے اور اس سے زیادہ جہنم کے گڑھے میں گرنے کا مستحق کون ہوسکتا ہے ؟ کیونکہ اگر کوئی شخص اندھیرے میں یا کم روشنی میں ٹھوکر کھاجائے تو اس کی ٹھوکر کا پھر بھی کچھ نہ کچھ جواز بنتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص دن کی روشنی میں اس وقت راستہ پہچاننے سے انکار کر دے جب سورج نصف النہار پر چمک رہا ہو تو ظاہر ہے اس کے لیے وہ خود ہی قصور وار ہوگا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 13–15

6 یعنی آخرت کے مالک بھی ہم ہیں اور دنیا کے بھی۔ اب جو شخص ہم سے دنیا ہی طلب کرتا ہے اسے ہم دنیا ہی دیتے ہیں وہ بھی اتنی جتنی ہم چاہتے ہیں اور جو ہم سے آخرت کا طلبگار ہوتا ہے اسے آخرت تو ضرور دیتے ہیں اور دنیا بھی اتنی ضرور دے دیتے ہیں جتنی اس کے مقدر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 14–16

7۔ یہاں یہ صاف صاف بتادیا کہ جہنم اصل ٹھکانا صرف کافروں منکروں ہی کا ہے۔ مومن عاصی کا قیام اگر اس میں ہوگا بھی تو محض عارضی وہنگامی۔ ومعنی لایصلھا لایلزمھا فی حقیقۃ اللغۃ یقال صلے الکافر النار اذا لزمھا مقاسیا شد تھا وحرھا وعندنا ان ھذہ الملا زمۃ لاتبثت الا للکافر اما الفاسق فاما ان لایدخلھا او ان دخلھا تخلص منھا (کبیر) وھو لایدخلھا للخلود فیھا (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–16

وما یغنی عنہ مالہ اذا تردی یعنی جس مال کی خاطر یہ کمبخت حقوق واجبہ میں بخل کیا کرتا تھا یہ مال ان پر عذاب آنے کے وقت کچھ کام نہ دے گا تردی کے لفظی معنی گڑھے میں گر جانے اور ہلاک ہونے کے ہیں، مطلب یہ ہے کہ موت کے بعد قبر میں اور پھر قیامت میں جب وہ جہنم کے گڑھے میں گرتا ہوگا تو یہ مال اس کو کچھ نفع نہیں دے گا۔ (معارف) صحابہ کرام ؓ جہنم سے محفوظ ہیں : اس کی وجہ یہ ہے کہ اول تو ان حضرات سے گناہ کا صدور شاذ و نادر ہی ہوا ہے اور بوجہ خوف آخرت کے ان کے حالات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے توبہ کرلی ہوگی علاوہ ازیں ان کے ایک گناہ کے مقابل ہمیں ان کے اعمال حسنہ اتنے زیادہ ہیں کہ ان کی وجہ سے بھی یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا یصلھا الا الاشقی . بدنصیب ہی داخل ہوگا۔ اس جگہ اشقٰی (اسم تفضیل) بمعنی شقی (صفت مشبہ) کے ہے۔ اس لیے کافر بھی اس میں داخل ہے اور وہ مسلم فاسق بھی جس کی مغفرت نہ کی جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 12–16

(12۔ 16) واقعی خیر و شر کا بیان کردینا ہمارے ذمہ ہے اور دنیا و آخرت کا ثواب ہمارے قبضہ میں ہے، یا یہ کہ آخرت میں ثواب و سرفرازی عطا کرنا اور دنیا میں معرفت و توفیق دینا ہمارے قبضہ میں ہے سو مکہ والو میں تمہیں بذریعہ قرآن کریم ایک بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرا چکا ہوں دوزخ میں وہی بدبخت داخل ہوگا جس نے توحید کو جھٹلایا یا یہ کہ اطاعت خداوندی میں کوتاہی کی اور ایمان، یا یہ کہ توبہ سے روگردانی کی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 15–16

لا یصلھا الا الاشقی…: اسی آیت سے مرجیہ (ایک باطل فرقہ جس کے نزدیک ایمان صرف دل کی تصدیق کا نام ہے) نے استدلال کیا ہے کہ جہنم میں صرف کافر ہی جائیں گے، کوئی مسلمان خواہ کتنا ہی گناہ گار ہو وہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ کلیکن یہ عقیدہ ان صریح آیات و احادیث کے خلاف ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے مسلمان بھی جن کو اللہ تعالیٰ کچھ سزا دینا چاہے گا، کچھ عرصہ کے لئے جہنم میں جائیں گے، پھر وہ نبی ﷺ ، ملائکہ اور یدگر صالحین کی شفاعت یا محض اللہ کی رحمت سے نکال لئے جائیں گے۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے :(ان اللہ لایغفران یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآئ) (النسائ : 116)”بیشک اللہ یہ بات معاف نہیں کرے گا کہ اس کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 14–16

میں نے تمہیں ڈرایا ایک ایسی آگ سے جو شعلہ زن ہے اور روشن ہے، تلظی اصل میں تتلظی تھا، یہ عبید بن عمیر، یحییٰ بن یعمر اور طلحہ بن مصرف کی قرات ہے اس کی گرمی کو نہیں پائے گا مگر ایسا بدبخت جس نے نبی کریم ﷺ کو جھٹلایا اور ایمان سے اعراض کیا، مکحول نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ ہر کوئی جنت میں داخل ہوگا مگر جس نے اس کا انکار کیا، مکحول نے پوچھا، اے ابوہریرہ کون ہے جو جنت میں داخل ہونے سے انکار کرتا ہے ؟ فرمایا، جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی۔ امام مالک نے کہا، ہمیں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے مغرب کی نماز پڑھائی تو والیل اذا یغشٰی۔ کی قرات کی جب وہ فانذرتکم نارا تلظی۔ تک پہنچے تورونے لگے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–15

31۔ سعید بن منصور والفراء والبیہقی نے اپنی سنن میں صحیح سند کے ساتھ عبید بن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت فانذرتکم نارا تتلظی یعنی دو تاء کے ساتھ۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لَا يَصْلٰىهَآ اِلَّا الْاَشْقَى: نہیں گرے گا اس میں مگر بڑا بدبخت ] (آیت۔ 15) یَصْلٰھَا میں ھَا کی ضمیر نَارًا تَلَظّٰی کے لیے ہے اور یَصْلٰی کا فاعل اَلْاَشْقَی ہے۔ یہ افعل تفضیل کے مذکر کے وزن اَفْعَلُ پر حالت رفع میں اَشْقَیَ تھا جو قاعدے کے مطابق تبدیل ہو کر اَشْقٰی آیا ہے۔ آگے ملانے کے لیے کھڑی زبر کو ہٹا کر اس پر پڑی زبر ڈالی ہے۔ نوٹ۔ 3: آیت۔ 15 ۔ میں ہے کہ اس میں یعنی بھڑکتی آگ میں وہی گرے گا جو زیادہ شقی ہے۔ یہاں بھڑکتی آگ سے شاید دوزخ کا وہ طبقہ مراد ہوگا جو بڑے بھاری مجرموں اور بدبختوں کے لیے مخصوص ہے۔ (ترجمہ شیخ الہند) ۔ اس لحاظ سے آیت۔ 17 ۔ کا مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ جو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 14–18

گزشتہ آیات میں ایمان اور کفر اور اعمال صالحہ اور اعمال سیہٴ کے نتائج کا فرق بیان فرمایا جس میں یہ بھی تھا کہ کفر عذاب میں مبتلا کرنے والی چیز ہے چونکہ یہ جلنے کا عذاب ہوگا کافر دوزخ میں داخل ہوں گے ان پر آگ مسلط ہوگی اس لیے دوزخ کے عذاب کی حقیقت بتادی اور فرما دیا کہ میں تمہیں ایسی آگ سے ڈراتا ہوں جو خوب اچھی طرح جلتی ہوگی۔ مزید فرمایا کہ اس میں صرف وہی داخل ہوگا جو سب سے بڑا بدبخت تھا جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی، آیت کے الفاظ سے جو حصر معلوم ہوتا ہے اس سے بظاہر فاسق مسلمانوں کے دوزخ میں داخلے کی نفی ہوتی ہے، صاحب روح المعانی نے یہ اشکال کیا ہے پھر یوں جواب دیا ہے کہ سخت ترین عذاب سب سے بڑے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–21

تقسیم جہو عملیہ در حیات انسانی وترتب ثمرات سعادت وشقاوت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والیل اذا یغشی ....... الی ......... ولسوف یرضی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں فوز و فلاح اور شقاوت وبدنصیبی کے اسباب پر کلام تھا اور یہ کہ انسانی نفس اگر طہارت وتزکیہ سے آراستہ ہو تو اس پر دنیا کی عزت وسربلندی اور آخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے اور اگر نفس کو شہوات کی گندگی میں آلودہ کرلیا جائے تو انسانی شرف سے محرومی کے بعد دنیا کی تباہی اور عذاب آخرت میں مبتلا ہونے کے سوا کوئی نتیجہ نہیں ہوتا، اور دنیا میں بڑی سے بڑی طاقت ور قومیں اسی شقاوت وبدنصیبی کا شکار ہو کر ہلاک ہوئیں اور تاریخ عالم اس کی گواہی دیتی ہے، تو اب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 14–16

ٖف 6:۔ ” فانذرتکم “ یہ تخویف اخروی ہے۔ میں نے تمہیں بھڑکتی اور شعلے مارتی آگ سے ڈرایا ہے اس سے بچو اور حق کو قبول کرو۔ اس میں صرف وہ داخل ہوگا جو نہایت بدبخت ہوگا جس نے خدا کی آیتوں کو جھٹلایا اور دین حق سے اعراض کیا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 12–21

گزشتہ سے پیوستہ گزشتہ درس میں یہ بیان ہوا تھا کہ جس طرح رات اور دن میں اختلاف ہے اور جس طرح نر اور مادہ میں اختلاف ہے اسی طرح انسانوں کی سعی اور کوشش میں بھی اختلاف ہے۔ جس کی کوشش اس طرح کی ہے کہ اس نے مال اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور خدا تعالیٰ سے ڈرتا رہا برائیں سے بچتا رہا پھر اچھی بات یعنی کلمہ توحید اور کلمہ ایمان کی تصدیق کی ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم اس کو آہستہ آہستہ آسانی تک پہنچائیں گے اور جس نے بخل کیا ، مال کو راہ خدا میں صرف نہ کیا۔ کنجوسی سے اکم لیا اور اپنی جگہ مستغنی یعنی بےپرواہ رہا ، آخرت کی فکر نہ کی آخرت کی تکذیب کی۔ کلمہ توحید کی تکذیب کی۔ تو ہم اس کو آہستہ آہستہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَا يَصْلٰىہَآ اِلَّا الْاَشْقَى۝ 15 ۙ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ عَنْهُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 12–21

ترکیب ¦ للھدٰی اسم ان علینا خبرھا۔ ای علینا ان نبی ن طریق الھدٰی من طریق الضلال وقدفعلنا ذلک حیث بینا طریق کلا الفریقین ترغیبًا و ترہیبًا۔ قالہ الزجاج للآخرۃ معطوف علیہ والاولیٰ معطوف وکلاھما ان اسم ان لنا خبرھا والجملۃ معطوفتہ علی الجملۃ السابقۃ ومعناہ لنا کل ما فی الآخرۃ وکل ما فی الدنیا فمن ارادھما فلیطلب منا تلظٰی صفۃ نار و اصلہ تتلظی فحذفت احدی التاء ین تخفیفاً وقری علی الاصل ومعناہ تتوقد وتتلھب یقال تلظت النار تلظیا ومنہ سمیت جہنم لظٰی لا یصلاھا الجملۃ صفۃ ناروھوبیان لمنھی الا الاشقٰی استثناء متصل ای لا ید خلھا دخولا موبدا احد الا الاشقیٰ وھو الکافر والمشرک الذی کذب وتولیٰ وصف للاشقی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–16

لاَ یَصْلٰـھَـآ اِلَّا الْاَشْقَی۔ الَّذِیْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی۔ (الیل : 15، 16) (اس میں نہیں جلے گا مگر وہ انتہائی بدبخت۔ جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی۔ ) قریش اور دیگر آنحضرت ﷺ کے مخالفین بدترین انجام سے دوچار ہوں گے قریش اور آنحضرت ﷺ کے دیگر مخاطبین کو چونکہ بروقت خبردار کردیا گیا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان نہیں لائو گے اور اس کی تکذیب کرو گے تو تمہیں ایک بھڑکتی ہوئی آگ سے واسطہ پڑے گا۔ اور آنحضرت ﷺ کی تبلیغ و دعوت کی وجہ سے ان پر اتمامِ حجت بھی کردیا گیا ہے، تو اب ان کی حیثیت عام کافروں جیسی نہ رہی بلکہ معاند اور بدترین کافروں جیسی ہوگئی۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کے رسول کو دیکھنے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–16

فہم القرآن ربط کلام : بخل سے بچانا اور الحسنٰی کی راہنمائی کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے تاہم اس نے نیکی اور برائی کی راہ دکھلا کر لوگوں کو اختیار دیا ہے کہ وہ نیکی کرتے ہیں یا برائی کی طرف جاتے ہیں۔ قرآن مجید میں کئی مقامات پر ہدایت اور گمراہی، نیکی اور برائی کی نشاندہی کرنے کے بعد ارشاد ہوا ہے کہ ہمارا کام نیکی اور ربرائی کی نشاندہی کرنا ہے۔ اب انسان کا اپنا اختیار ہے کہ وہ ان میں سے کس کو اختیار کرتا ہے اگر وہ نیکی اختیار کرے گا تو ہم اس کے لیے نیکی کرنا آسان کردیں گے اگر وہ برائی پسند کرتا ہے تو ہم اسے کھلا چھوڑ دیں گے، ہمارا کام ہدایت اور گمراہی کو واضح کرنا ہے۔ ہدایت اور گمراہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

15 : لَایَصْلٰھَآ اِلَّا الْاَشْقَی (اس میں وہی بدبخت داخل ہوگا) لایصلٰی سے یہاں ہمیشہ رہنے کیلئے داخل ہونا مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–21

12۔ 21۔ مستدرک حاکم 2 ؎ مسند بزار تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ حضرت بلال ؓ اور عامر بن فہیرہ اور زنیرہ وغیرہ میں یہ سات شخص لونڈی غلام ایسے تھے جو اسلام لے آئے تھے اور وہ مشرک لوگ جن کے یہ لونڈی غلام تھے ان پر روز طرح طرح کی سختی اور مار پیٹ کیا کرتے تھے حضرت ابوبکر صدیق نے ان ساتوں مرد و عورتوں کو ان کے مشرک آقاؤں سے خرید کیا اور ساتوں شخصوں کو آزاد کردیا۔ حضرت ابوبکر صدیق کے باپ ابوقحافہ نے ایک روز حضرت ابوبکر صدیق سے کہا کہ تم کو اگر غلام آزاد کرنے منظور تھے ایسے قوی لوگ آزاد کئے ہوتے جو وقت پڑے پر تمہاری کچھ مدد کرسکتے۔ ان عورتوں کے آزاد کرنے سے کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–16

(لَا يَصْلٰىهَآ اِلَّا الْاَشْقَى۔ الَّذِيْ كَذَّبَ وَتَوَلّٰى) اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑابد بخت ہے اور جس نے رسول کی خبر کو جھٹلایا اور حکم سے منہ موڑا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 13–15

13 ۔ دنیا وآخرت دونوں اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں : سو تنبیہ مزید کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یقینا ہمارے ہی لیے ہے آخرت بھی اور اس سے پہلے یہ دنیا بھی، کہ ان دونوں کے خالق بھی ہم ہیں اور مالک بھی ہم، اور حاکم و متصرف بھی ہم جس کو جو چاہیں اور جب جیسے چاہیں عطا کریں اور جو چاہیں حکم دیں اور قانون بنائیں، کیونکہ ہی ہم جانتے ہیں کہ کس کے لیے کیا بہتر و مفید ہے، اور کیا مضر و نقصان دہ ہے، سو انسان کے لیے بہتری اور بھلائی اور دارین کی سعادت و سرخروئی اسی میں اور صرف اسی میں ہے کہ وہ صدق دل سے ہمارے اوامرو احکام کی پیروی کرے، بہرکیف دنیا و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–21

اچھی بری نیت اعمال اور بدلہ تشریح : اس سورت میں اللہ تعالیٰ قسم کھاتے ہیں کہ دن رات کی نرو مادہ کی اور خود اپنی ' اس بات کے لیے کہ ہر انسان کی فطرت انداز اور ماحول فرق ہوتا ہے اور انہی حالات کے مطابق سب کا رویہ بھی فرق ہوتا ہے یہ حقیقت ہے کہ ہر شخص کے کام کا انداز فرق ہوتا ہے اور پھر یہ اعمال کا انداز دوراہوں میں منقسم ہے۔ یعنی کچھ تو نیک فطرت ہوتے ہیں ان کو شیطان کتنا ہی بہلائے مگر وہ اس کا شکار نہیں ہوتے یعنی ان کی سرشت میں نیکی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ان کو برا راستہ ' برے کام اور برے لوگ بالکل اچھے نہیں لگتے یعنی ان کو کوئی بھی لالچ برائی پر آمادہ نہیں کرسکتا وہ کہتے ہیں کہ کسی کو دیکھ کر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–21

سورة اللیل۔ آیات 1 تا 21۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے رات کی جب چھاجاتی ہے اور دن کی جب روشن ہوتا ہے اور اس کی جس نے بقائے نسل کے لیے ایک جیسے دو بندوں کو نرومادہ پیدا فرمادیا یعنی یہ سب نظام اس بات پر گواہ ہے کہ تمہاری محنت ومشقت بھی دو طرح سے ہے جس طرح رات کا اثر تاریکی اور دن کا اجالا ہے یانر کا کام الگ اور مادہ کے اوصاف الگ ہیں ایسے ہی تمہارے کردار کے نتائج دو طرح کے ہیں کہ جن لوگوں نے دینے کارویہ اپنایا اور اللہ کی محبت اور قربت کی تلاش میں اپنایا اور ارشادات نبوی کی تصدیق کی دل سے زبان سے اور کردار سے۔ دینے کارویہ۔ زندگی کا مدار دینے پر ہے سورج ، چاند ، ہوا ، بادل ، بارش ، روئیدگی ، پیداوار سب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 14–16

ف 11 یعنی کافر یہاں آگ میں جانے سے مراد اس میں ہمیشہ کے لئے جانا ہے کہ پھر کبھی نکلنا نصیب نہ ہو۔ گناہگار مسلمان اگرچہ اس میں جائیں گے لیکن ان کا جانا ہمیشہ کیلئے نہیں ہوگا بلکہ وہ اپنی مقررہ سزا بھگت کر اس سے نکال لئے جائیں گے جیسا کہ دوسری متعدد آیات و احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(92:15) لایصلھا الا الاشقی : لا یصلی مضارع منفی واحد مذکر غائب صلی (باب سمع) مصدر۔ وہ داخل ہوگا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع نارا ہے۔ اس آگ میں نہیں کوئی داخل ہوگا۔ الا الاشقی۔ استثناء متصل۔ یعنی سوائے اشقی (بدبخت) کے کوئی دوامی طور پر اس میں داخل نہیں ہوگا۔ اور اشقی وہ کافر اور مشرک ہے الذی کذب وتولی (اگلی آیت) اس جگہ اشقی (اسم تفضیل) بمعنی شقی (صفت مشبہ) کے ہے۔ اس لئے کافر بھی اس میں داخل ہے اور وہ مسلم فاسق بھی جس کی مغفرت نہ کی جائے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–21

لغات القرآن۔ شتی۔ مختلف۔ الگ الگ۔ نیسر۔ ہم آسان کردیں گے۔ العسری۔ تنگی۔ تردی۔ وہ نیچے گرا۔ تلظی۔ بھڑک دار۔ یجنب۔ بچ جائے گا۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں رات، دن، نر اور مادہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جس طرح رات دن سے اور نر مادہ سے الگ اور مختلف چیزیں ہیں اسی طرح دنیا میں جتنے بھی انسان، ان کے گروہ اور قومیں ہیں وہ اپنے عمل اور کوششوں میں بہت مختلف ہیں۔ رات کے وقت دن کا تصور اور دن میں رات کا تصور ممکن نہیں ہے۔ نر مادہ ہوسکتا اور مادہ نر نہیں ہوسکتی اسی طرح نیکی اور برائیوں پر چلنے والے بھی اپنے انجام کے اعتبار سے یکساں نہیں ہوسکتے۔ ایک وہ شخص ہے جو نہایت خلوص اور اللہ کی رضا کے لئے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–18

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ اس میں کوئی شک نہیں راستہ باتنا ہمارا ہی کام ہے برائی کا ہو یا بھلائی کا سب دنیا کا انتظام ہماری ہاتھ میں ہے اور آخرت کا اختیار بھی ہے جب راستہ بتانا ہمارا کام ہے اس لیے تم کو بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈراتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس آگ میں وہی شخص جائے جو خدا اور خدا کے رسول کی تکذیب کرتا ہے اور تقوی اور دین داری سے منہ پھیرتا ہے تقوی اہل شریعت کی اصطلاح میں یہ ہے کہ کفر سے اور گناہ کبیرہ اور صغیرہ سے بچتا رہے، اگر کبھی کوئی گناہ بھی ہوجائے تو سچی توبہ جھٹ پٹ کرلے، سچی توبہ کے معنی یہ ہیں کہ اس گناہ سے متنفر ہوجائے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پرہیز رکھے آگے فرمایا کہ جب راستہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–21

[6] یعنی ہماری حکمت اس کی مقتضی نہیں کہ کسی آدمی کو زبردستی نیک یا بد بننے پر مجبور کردیں۔ ہاں یہ ہم نے اپنے ذمے لیا ہے کہ لوگوں کو نیکی اور بدی کی راہ سمجھا دیں۔ پھر جو شخص جو راہ اختیار کرے دنیا اور آخرت میں اسی کے موافق ہم اس سے برتاؤ کریں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–21

سورة الیل 1 ۔ یعنی جس طرح تاریک رات اور روشن دن میں اختلاف ہے اور خدا کی اس تقسیم میں اختلاف ہے اللہ تعالیٰ نے مرد کو بھی پیدا کیا اور عورت کو بھی ۔ نر کو بھی اور مادہ کو بھی ۔ اسی طرح کفر و ایمان کی مساعی یکساں نہیں ہیں ۔ نہ فطرت اور ساخت کے اعتبار سے اور نہ نتائج وثمرات کے اعتبار سے ۔ کفر ہمہ تاریکی ہے اور ایمان ہمہ روشنی ۔ کفر انوثیت اور نامرادی ہے اور ایمان جرات وجسارت ۔ نتائج وثمرات کے لحاظ سے بھی دونوں مختلف ہیں ۔ وہ شخص جو دولت ایمان سے بہرہ مندی کی وجہ سے اس کی راہ میں اپنا مال صرف کرتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے اور ہر نیک بات کی عمل سے تصدیق کرتا ہے ۔ اس کے لئے تیسیر کی نعمتیں اس کی طرف…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 15–20

ف 8۔ ہرچند کہ آیت کے الفاظ عام ہیں مگر اس کا سبب حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے حضرت بلال ؓ کو کافروں سے خرید کر للہ آزاد کردیا تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس میں سوائے بد بخت کے کوئی داخل نہ ہو گا 15 ؎ میری جلائی ہوئی اس شعلوں والی آگ میں کون داخل ہوتا ہے ؟ فرمایا وہی جو نہایت بد بخت ہے اور اپنی بد بختی اور بد نصیبی کے باعث وہی کام کرتا ہے جن کاموں کے نتائج میں میں اپنے قانون کے مطابق وہ شعلوں والی آگ ہی دیتا ہوں ۔ ہاں ! آج تک میں نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ کسی کی طلب کے خلاف دے دیا ہو ، ہاں ! یہ میری رحمت کا تقاضا ہو سکتا ہے کہ مانگنے والا تو اپنی بد بختی کے باعث شعلوں والی آگ ہی مانگ رہا ہے لیکن میرے قانون رحمت نے اس کو ٹال دیا اور اس کو دینے میں جلدی نہیں کی اس لیے اس کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ اس آگ میں نہیں جلتا مگر وہی بد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–16

لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ (None will enter it but the wretched one who rejected [ the truth ] and turned away....92:16). This describes the fire of Hell. It is quite clear that only a kafir will reject Allah and His Messenger. Apparently, it seems that a sinful believer who does not reject the truth will not enter Hell, whereas the Qur'an and Hadith are replete with clear texts that a sinful believer will enter Hell, unless he had repented, or someone interceded for him, or was forgiven out of pure Grace. He will abide in Hell until he has received…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–18

9 This dces not mean that no one will enter the fire except the most wretched one, and no one will be saved from it except the most pious one but the object is to describe the extremely contradictory fate of the two extremely contradictory' characters. One of them is the person who belies the teachings of Allah and His Messenger and turns away from obedience; the other one is the person, who not only believes but also spends his wealth in the cause of Allah sincerely, without any desire for display and reputation, only in order to be regarded as a pure man in His eyes. Both these types of…

Read the full tafseer →