Al-Lail 92:13

Al-Lail · from ayah 13

92:13

وَاِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَالْاُوْلٰی ۟وَاِنَّ لَـنَا لَـلۡاٰخِرَةَ وَالۡاُوۡلٰى‏

اور آخرت او ردنیا ہماری ہی چیزیں ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And indeed, to Us belongs the Hereafter and the first [life].

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Lail

All translations of 92:13

اور درحقیقت آخرت اور دنیا، دونوں کے ہم ہی مالک ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور آخرت او ردنیا ہماری ہی چیزیں ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہمارے ہی ہاتھ آخرت اور دنیا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ بھی سچ ہے کہ آخرت اور دنیا دونوں ہمارے قبضے میں ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک آخرت اور دنیا دونوں کے ہمیں مالک ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم ہی آخرت اور دنیا کے مالک ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ ہمارے ہی اختیار میں یقینا آخرت اور دنیا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور آخرت اور دنیا (دونوں کے) ہم ہی مالک ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہمارے ہی اختیار میں ہے آخرت بھی اور دنیا بھی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یقینا ہمار ہی لئے (اور ہمارے ہی قبضہ قدرت میں) ہے آخرت بھی اور اس سے پہلے کی یہ دنیا بھی

— مولانا اسحاق مدنی

اور بیشک ہمارے قبضہ میں ہے آخرت اور دنیا بھی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہمارے ہی لیے ہے اختیار آخرت کا بھی اور دنیا کا بھی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

آخرت اور دنیا ہماری ہی چیز ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

and to Us belong the Next Life and the present.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and in Our control is the Hereafter and the worldly life.

— Muhammad Taqi Usmani

and in Our control is the Hereafter and the worldly life.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And truly, unto Us (belong) the last (Hereafter) and the first (this world).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And lo! unto Us belong the latter portion and the former.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And indeed, to Us belongs the Hereafter and the first [life].

— Saheeh International

and to Us belong the hereafter and the worldly life.

— Muhammad Sarwar

And most surely Ours is the hereafter and the former.

— Muhammad Habib Shakir

And verify Ours is both the Hereafter and the life present.

— Abdul Majid Daryabadi

And verily unto Us (belong) the End and the Beginning.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 92:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 12–21

مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا : یعنی حلال و حرام کا ظاہر کردینا ہمارے ذمے ہے، یہ بھی معنی ہیں کہ جو ہدایت پر چلا وہ یقینا ہم تک پہنچ جائیگاجی سے فرمایا وعلی اللہ قصد السبیل آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے۔ میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کردیا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور بار بار فرماتے جاتے تھے لوگو ! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو ! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں، بار بار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الَّیْل 8 اس ارشاد کے کئی مفہوم ہیں اور وہ سب صحیح ہیں۔ ایک یہ کہ دنیا سے آخر تک تم کہیں بھی ہماری گرفت سے باہر نہیں ہو، کیونکہ دونوں جہانوں کے ہم ہی مالک ہیں، دوسرے یہ کہ ہماری ملکیت دنیا اور آخرت دونوں پر بہرحال قائم ہے خواہ تم ہماری بتائی ہوئی راہ پر چلو یا نہ چلو۔ گمراہی اختیار کرو گے تو ہمارا کچھ نہ بگاڑو گے، اپنا ہی نقصان کرلو گے، اور راہ راست اختیار کرو گے تو ہمیں کوئی نفع نہ پہنچاؤ گے، خود ہی اس کا نفع اٹھاؤ گے۔ تمہاری نافرمانی سے ہماری ملک میں کوئی کمی نہیں ہوسکی اور تمہاری فرمانبرداری سے اس میں کوئی اضافہ نہیں ہو سکتا۔ تیسرے یہ کہ دونوں جہانوں کے مالک ہم ہی ہیں۔ دنیا چاہو گے تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–14

خلاصہ تفسیر قسم ہے رات کی جبکہ وہ آفتاب کو اور دن کو) چھپالے، اور (قسم ہے) دن کی جبکہ وہ روشن ہوجاوے (اور قسم ہے) اس (ذات) کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا (مراد اللہ تعالیٰ ہے آگے جواب قسم ہے) کہ بیشک تمہاری کوششیں (یعنی اعمال) مختلف ہیں (اور اسی طرح ان کے ثمرات بھی مختلف ہیں) سو جس نے (اللہ کی راہ میں مال) دیا اور اللہ سے ڈرا اور اچھی بات (یعنی ملت اسلام) کو سچا سمجھا تو ہم اس کو راحت کی چیز کے لئے سامان دیدیں گے (راحت کی چیز سے نیک عمل اور بواسطہ نیک عمل کے جنت مراد ہے کہ یسر کا سبب اور محل ہے اسی لئے یسریٰ کہہ دیا گیا ورنہ یسریٰ کے معنی ہیں آسان چیز) اور جس نے (حقوق واجبہ سے) بخل کیا اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’وَإِنَّ لَنَا لَلْآخِرَۃَ وَالْأُوۡلٰی‘۔ یہ مذکورہ بالا تنبیہ پر مزید اضافہ ہے کہ لوگ یہ بات بھی اچھی طرح یاد رکھیں کہ آخرت ہو یا دنیا دونوں کے معاملات ہمارے ہی اختیار میں ہیں۔ نہ کوئی اپنی تدبیر اور اپنے زور سے اس دنیا میں کچھ بنا سکتا اور نہ آخرت میں کچھ بنا سکے گا۔ اگر کسی کو اپنے خاندانی شرف یا اپنے خیالی معبودوں پر ناز ہے تو وہ یاد رکھے کہ آخرت میں اس طرح کی مزعومہ چیزوں کا کوئی وجود نہیں ہو گا۔ ہر شخص کو صرف اللہ وحدہٗ لاشریک سے سابقہ پیش آئے گا۔ سورۂ نجم آیت ۲۵ میں یہ مضمون گزر چکا ہے۔ مال دار بخیلوں کے ذہن کا خناس: اوپر آیت ۸ میں ’وَأَمَّا مَنۡ بَخِلَ وَاسْتَغْنٰی‘ کے الفاظ جو آئے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 13–16

13۔ 1 یعنی دونوں کے مالک ہم ہی ہیں، ان میں جس طرح چاہیں تصرف کریں اس لئے ان دونوں کے یا ان میں سے کسی ایک کے طالب ہم سے ہی مانگیں کیونکہ ہر طالب کو ہم اپنی مشیت کے مطابق دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–13

5: لہذا یہ حق ہم کو ہی حاصل ہے کہ دنیا میں رہنے کے لیے انسان کو احکام اور ہدایات عطا فرمائیں اور آخر میں ان احکام و ہدایات کی تعمیل یا خلاف ورزی پر ثواب اور عذاب کا فیصلہ کریں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وان ................ والاولی (13:92) ” اور بیشک آخرت اور دنیا ، دونوں کے ہم مالک ہیں “۔ لہٰذا جو شخص اللہ سے دور ہونا چاہتا ہے وہ کہاں جاسکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں تو کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ ان دونوں حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ راستہ بتانا اللہ نے اپنے ذمہ فرض قرار دیا ہے اور پھر سب لوگوں کو اللہ کے سامنے آنا ہے اور اللہ کے مقابلے میں ان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ آغاز و انجام کا مالک اللہ ہے ، تو اللہ نے انسانوں کو خبردار کردیا کہ تم بھڑکتی ہوئی آگ کے سامنے کھڑے ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 12–13

1 یعنی ہماری حکمت اس کو مقتضی نہیں کہ کسی آدمی کو زبردستی نیک یا بد بننے پر مجبور کریں۔ ہاں یہ ہم نے اپنے ذمہ لیا ہے کہ سب کو نیکی بدی کی راہ سجھا دیں۔ اور بھلائی برائی کو خوب کھول کر بیان کردیں۔ پھر جو شخص جو راہ اختیار کرلے دنیا اور آخرت میں اسی کے موافق اس سے برتاؤ کریں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 13{ وَاِنَّ لَـنَا لَلْاٰخِرَۃَ وَالْاُوْلٰی۔ } ”اور ہمارے ہی لیے ہے اختیار آخرت کا بھی اور دنیا کا بھی۔“ ظاہر ہے آخرت میں اللہ تعالیٰ ہی یہ فیصلہ کرے گا کہ کون انسان کامیاب ہوا ہے اور کون ناکام رہا ہے۔ اور دنیا میں بھی وہی فیصلہ کرتا ہے کہ کون سی قوم اب اس کی زمین پر بوجھ بننے جا رہی ہے اور اس طرح کے کس بوجھ سے کس وقت اس نے زمین کو آزاد کرنا ہے۔ گزشتہ سورت سورۃ الشمس میں قوم ثمود کے بارے میں اللہ کے ایسے ہی ایک فیصلے کا ذکر ہم بایں الفاظ پڑھ آئے ہیں : { فَدَمْدَمَ عَلَیْہِمْ رَبُّہُمْ بِذَنْبِہِمْ فَسَوّٰٹہَا۔ } ”تو الٹ دیا ان پر عذاب ان کے رب نے ان کے گناہ کی پاداش میں اور سب کو برابر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 13–15

6 یعنی آخرت کے مالک بھی ہم ہیں اور دنیا کے بھی۔ اب جو شخص ہم سے دنیا ہی طلب کرتا ہے اسے ہم دنیا ہی دیتے ہیں وہ بھی اتنی جتنی ہم چاہتے ہیں اور جو ہم سے آخرت کا طلبگار ہوتا ہے اسے آخرت تو ضرور دیتے ہیں اور دنیا بھی اتنی ضرور دے دیتے ہیں جتنی اس کے مقدر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 12–13

6۔ یعنی دونوں میں ہماری ہی حکومت ہے چناچہ دنیا میں ہم نے احکام مقرر کردیئے، اور آخرت میں انہیں کی مخالفت یا موافقت پر ثمرات کا ظہور ہوگا۔ (آیت) ” ان علینا للھدی “ یعنی خیر وشر، نجات و عقاب دونوں کے راستوں کو کھول کر بتادینا ہمارے ذمہ تھا چناچہ اسے ہم نے خوب واضح کردیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–16

وما یغنی عنہ مالہ اذا تردی یعنی جس مال کی خاطر یہ کمبخت حقوق واجبہ میں بخل کیا کرتا تھا یہ مال ان پر عذاب آنے کے وقت کچھ کام نہ دے گا تردی کے لفظی معنی گڑھے میں گر جانے اور ہلاک ہونے کے ہیں، مطلب یہ ہے کہ موت کے بعد قبر میں اور پھر قیامت میں جب وہ جہنم کے گڑھے میں گرتا ہوگا تو یہ مال اس کو کچھ نفع نہیں دے گا۔ (معارف) صحابہ کرام ؓ جہنم سے محفوظ ہیں : اس کی وجہ یہ ہے کہ اول تو ان حضرات سے گناہ کا صدور شاذ و نادر ہی ہوا ہے اور بوجہ خوف آخرت کے ان کے حالات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے توبہ کرلی ہوگی علاوہ ازیں ان کے ایک گناہ کے مقابل ہمیں ان کے اعمال حسنہ اتنے زیادہ ہیں کہ ان کی وجہ سے بھی یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان لنا للاخرۃ والاولی . آخرت اور دنیا ہماری ہی ہے ‘ یعنی ہماری ہی ملک ہے اور ہماری ہی مخلوق ہے۔ پس جو شخص مالک کو چھوڑ کر دوسرے سے مانگے گا وہ مانگنے میں غلطی کرے گا ‘ یا یہ مراد ہے کہ چونکہ ہم ہی مالک اور خالق ہیں اس لیے ہدایت یافتہ لوگوں کو ہم ہی ثواب دیں گے۔ تمہارے ہدایت یافتہ نہ ہونے سے ہمارا کچھ نقصان نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 12–16

(12۔ 16) واقعی خیر و شر کا بیان کردینا ہمارے ذمہ ہے اور دنیا و آخرت کا ثواب ہمارے قبضہ میں ہے، یا یہ کہ آخرت میں ثواب و سرفرازی عطا کرنا اور دنیا میں معرفت و توفیق دینا ہمارے قبضہ میں ہے سو مکہ والو میں تمہیں بذریعہ قرآن کریم ایک بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرا چکا ہوں دوزخ میں وہی بدبخت داخل ہوگا جس نے توحید کو جھٹلایا یا یہ کہ اطاعت خداوندی میں کوتاہی کی اور ایمان، یا یہ کہ توبہ سے روگردانی کی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وان لنا للاخرۃ و الاولی : راستہ بتانا صرف ہمارے ذمے کیوں ہے ؟ اس لئے کہ دنیا اور آخرت دونوں کے بنانے والے اور ان کے مالک ہمیں ہیں، تو ان کا راستہ بھی ہم ہی جانتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 12–13

ان علینا للھدی۔ یعنی ہمارے ذمہ کرم پر ہے کہ ہم گمراہی کے راستہ سے ہدایت کے راستہ کو جدا کردیں پس ہدایت سے مراد و احکام کا بیان ہوگا یہ زجاج کا نقطہ نظر ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے حلال و حرام اور اطاعت ومعصیت کا بیان۔ یہ قتادہ کا قول ہے فراء نے کہا، جو ہدایت کی راہ پر چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ پر ہے اس کا راستہ دکھانا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے وعلی اللہ قصدالسبیل۔ (النحل 9) وہ کہتا ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کا ارادہ کیا وہ سیدھے راستے پر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا اس کا معنی ہے ہمارے قبضہ قدرت میں ہے ہدایت دینا اور گمراہ کرنا۔ اور اضلال کو ترک کردیا گیا ذکر نہیں کیا گیا جس طرح…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 12–13

30۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان علینا للہدی۔ بیشک ہمارے ذمہ ہدایت دینا ہے یعنی اللہ کے ذمے ہے یہاں اور وضاحت یعنی اپنے حلال و حرام اور طاعت و معصیت کا بیان اللہ کے ذمہ ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَان لَنَا : اور بیشک ہمارے لیے ہی (قبضۂ قدرت میں)][ لَـلْاٰخِرَةَ : آخرت (بھی) ہے ][ وَالْاُوْلٰى: اور یہ پہلی (دنیا) بھی ہے ] (آیت۔ 13) اِنَّ کا اسم ہونے کی وجہ سے اَلْاٰخِرَۃَ حالت نصب میں آیا ہے۔ اس کی بھی خبر محذوف ہے اس لیے لام تاکید اَلْاٰخِرَۃَ پر داخل ہوا تولَلْاَخِرَۃ استعمال ہوا۔ اَلْاُوْلٰی بھی اِنَّ کا اسم ہے لیکن فُعْلٰی کے وزن پر رفع۔ نصب۔ جر ظاہر نہیں ہوتی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰى 0013﴾ (اور بلاشبہ ہمارے ہی لیے آخرت اور اولیٰ ہے) ۔ دنیا کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ کو ہر طرح کا اختیار ہے جیسا چاہے اپنی مخلوق میں تصرف فرمائے اور آخرت میں بھی اسی کا اختیار ہوگا وہ اپنے اختیار سے اہل ہدایت کو انعام دے گا اور اہل ضلالت کو عذاب میں مبتلا فرمائے گا۔ کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ میں خود مختار ہوں اور آخرت میں میرا کچھ نہ بگڑے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–21

تقسیم جہو عملیہ در حیات انسانی وترتب ثمرات سعادت وشقاوت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والیل اذا یغشی ....... الی ......... ولسوف یرضی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں فوز و فلاح اور شقاوت وبدنصیبی کے اسباب پر کلام تھا اور یہ کہ انسانی نفس اگر طہارت وتزکیہ سے آراستہ ہو تو اس پر دنیا کی عزت وسربلندی اور آخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے اور اگر نفس کو شہوات کی گندگی میں آلودہ کرلیا جائے تو انسانی شرف سے محرومی کے بعد دنیا کی تباہی اور عذاب آخرت میں مبتلا ہونے کے سوا کوئی نتیجہ نہیں ہوتا، اور دنیا میں بڑی سے بڑی طاقت ور قومیں اسی شقاوت وبدنصیبی کا شکار ہو کر ہلاک ہوئیں اور تاریخ عالم اس کی گواہی دیتی ہے، تو اب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 12–13

ٖ 5:۔ ” ان علینا “ حق کی طرف رہنمائی کرنا، حق کو دلائل سے واضح اور مدلل کرنا ہمارا کام ہے جو ہم ہمیشہ کرتے رہے ہیں اب حق کو کوئی قبول کرے یا رد کرے، یہ اس کی مرضی ہے، جیسا کرے گا ویسا بھرے گا۔ ” وان لنا للاخرۃ والاولی “ دنیا اور آخرت کے ہم مالک ہیں اسلیے اگر کوئی ہدایت قبول کرلے تو اس سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں اور اگر کوئی گمراہی اختیار کرے تو اس سے ہمارا کوئی نقصان نہیں، یا مطلب یہ ہے کہ دنیا اور عقبی کے مالک ہم ہیں اس لیے دونوں جہانوں کی دولت ہم سے طلب کرو۔ فلا یضرنا ضلال من ضل ولا ینفعنا اھتداء من اھتدی او انھما لنا فمن طلبھما من غیرنا فقد اخطا الطریق (مدارک) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 12–21

گزشتہ سے پیوستہ گزشتہ درس میں یہ بیان ہوا تھا کہ جس طرح رات اور دن میں اختلاف ہے اور جس طرح نر اور مادہ میں اختلاف ہے اسی طرح انسانوں کی سعی اور کوشش میں بھی اختلاف ہے۔ جس کی کوشش اس طرح کی ہے کہ اس نے مال اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور خدا تعالیٰ سے ڈرتا رہا برائیں سے بچتا رہا پھر اچھی بات یعنی کلمہ توحید اور کلمہ ایمان کی تصدیق کی ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم اس کو آہستہ آہستہ آسانی تک پہنچائیں گے اور جس نے بخل کیا ، مال کو راہ خدا میں صرف نہ کیا۔ کنجوسی سے اکم لیا اور اپنی جگہ مستغنی یعنی بےپرواہ رہا ، آخرت کی فکر نہ کی آخرت کی تکذیب کی۔ کلمہ توحید کی تکذیب کی۔ تو ہم اس کو آہستہ آہستہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنَّ لَنَا لَـلْاٰخِرَۃَ وَالْاُوْلٰى۝ 13 آخرت آخِر يقابل به الأوّل، وآخَر يقابل به الواحد، ويعبّر بالدار الآخرة عن النشأة الثانية، كما يعبّر بالدار الدنیا عن النشأة الأولی نحو : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ، وربما ترک ذکر الدار نحو قوله تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ [هود/ 16] . وقد توصف الدار بالآخرة تارةً ، وتضاف إليها تارةً نحو قوله تعالی: وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأنعام/ 32] ، وَلَدارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا «1» [يوسف/ 109] . وتقدیر الإضافة : دار الحیاة الآخرة . و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 12–21

ترکیب ¦ للھدٰی اسم ان علینا خبرھا۔ ای علینا ان نبی ن طریق الھدٰی من طریق الضلال وقدفعلنا ذلک حیث بینا طریق کلا الفریقین ترغیبًا و ترہیبًا۔ قالہ الزجاج للآخرۃ معطوف علیہ والاولیٰ معطوف وکلاھما ان اسم ان لنا خبرھا والجملۃ معطوفتہ علی الجملۃ السابقۃ ومعناہ لنا کل ما فی الآخرۃ وکل ما فی الدنیا فمن ارادھما فلیطلب منا تلظٰی صفۃ نار و اصلہ تتلظی فحذفت احدی التاء ین تخفیفاً وقری علی الاصل ومعناہ تتوقد وتتلھب یقال تلظت النار تلظیا ومنہ سمیت جہنم لظٰی لا یصلاھا الجملۃ صفۃ ناروھوبیان لمنھی الا الاشقٰی استثناء متصل ای لا ید خلھا دخولا موبدا احد الا الاشقیٰ وھو الکافر والمشرک الذی کذب وتولیٰ وصف للاشقی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 12–13

اِنَّ عَلَیْنَا لَلْھُدٰی۔ وَاِنَّ لَنَا لِلْاٰخِرَۃَ وَالْاُوْلٰی۔ (الیل : 12، 13) (بیشک راستہ بتانا ہمارے ذمہ ہے۔ اور یقینا آخرت اور دنیا کے ہم ہی مالک ہیں۔ ) انسانوں کی ہدایت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے ہم چونکہ جن و انس کے خالق ہیں تو جس طرح تخلیق کے بعد ہم نے ان کی جسمانی ضرورتوں کو اپنی ذمہ داری بنا لیا ہے اور ہماری ربوبیت کا فیضان اسی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے ہمیشہ ان کو سیراب کرتا رہتا ہے۔ اسی طرح ان کی معنوی اور روحانی ضرورتوں کے لیے ہم نے ان کی رہنمائی کو اپنی حکمت، اپنے عدل اور اپنی رحمت کی بنا پر اپنی ذمہ داری بنا لیا ہے۔ جن چیزوں کی رہنمائی حواس اور عقل سے ممکن نہیں وحی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–16

فہم القرآن ربط کلام : بخل سے بچانا اور الحسنٰی کی راہنمائی کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے تاہم اس نے نیکی اور برائی کی راہ دکھلا کر لوگوں کو اختیار دیا ہے کہ وہ نیکی کرتے ہیں یا برائی کی طرف جاتے ہیں۔ قرآن مجید میں کئی مقامات پر ہدایت اور گمراہی، نیکی اور برائی کی نشاندہی کرنے کے بعد ارشاد ہوا ہے کہ ہمارا کام نیکی اور ربرائی کی نشاندہی کرنا ہے۔ اب انسان کا اپنا اختیار ہے کہ وہ ان میں سے کس کو اختیار کرتا ہے اگر وہ نیکی اختیار کرے گا تو ہم اس کے لیے نیکی کرنا آسان کردیں گے اگر وہ برائی پسند کرتا ہے تو ہم اسے کھلا چھوڑ دیں گے، ہمارا کام ہدایت اور گمراہی کو واضح کرنا ہے۔ ہدایت اور گمراہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

13 : وَاِنَّ لَنَالَلْاٰخِرَۃَ وَالْاُوْلٰی (اور ہمارے ہی قبضہ میں آخرت اور دنیا ہے) پس گمراہ ہونے والے کی گمراہی ہمیں نقصان نہ دے گی اور ہدایت پانے والے کی ہدایت سے ہمیں فائدہ نہ ہوگا۔ یا دنیا و آخرت دونوں ہماری ہیں۔ جس نے دونوں کو ہمارے سوا اور سے طلب کیا اس نے غلط راستہ اپنا لیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

13 ۔” وان لنا للآخرۃ والاولیٰ “ پس جو ان دونوں کو ان کے مالک کے علاوہ کے پاس، تلاش کرے گا تو اس نے غلط راستہ اختیار کیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–21

12۔ 21۔ مستدرک حاکم 2 ؎ مسند بزار تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ حضرت بلال ؓ اور عامر بن فہیرہ اور زنیرہ وغیرہ میں یہ سات شخص لونڈی غلام ایسے تھے جو اسلام لے آئے تھے اور وہ مشرک لوگ جن کے یہ لونڈی غلام تھے ان پر روز طرح طرح کی سختی اور مار پیٹ کیا کرتے تھے حضرت ابوبکر صدیق نے ان ساتوں مرد و عورتوں کو ان کے مشرک آقاؤں سے خرید کیا اور ساتوں شخصوں کو آزاد کردیا۔ حضرت ابوبکر صدیق کے باپ ابوقحافہ نے ایک روز حضرت ابوبکر صدیق سے کہا کہ تم کو اگر غلام آزاد کرنے منظور تھے ایسے قوی لوگ آزاد کئے ہوتے جو وقت پڑے پر تمہاری کچھ مدد کرسکتے۔ ان عورتوں کے آزاد کرنے سے کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَاِنَّ لَنَا لَـلْاٰخِرَةَ وَالْاُوْلٰى) یعنی آخرت اور دنیا ہماری ملکیت اور ہمارے تصرف میں ہے اور اس بارے میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ پس رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کی طلب کی طرف راغب ہوں اور مخلوق سے ان کی تمام امیدیں منقطع ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 13–15

13 ۔ دنیا وآخرت دونوں اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں : سو تنبیہ مزید کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یقینا ہمارے ہی لیے ہے آخرت بھی اور اس سے پہلے یہ دنیا بھی، کہ ان دونوں کے خالق بھی ہم ہیں اور مالک بھی ہم، اور حاکم و متصرف بھی ہم جس کو جو چاہیں اور جب جیسے چاہیں عطا کریں اور جو چاہیں حکم دیں اور قانون بنائیں، کیونکہ ہی ہم جانتے ہیں کہ کس کے لیے کیا بہتر و مفید ہے، اور کیا مضر و نقصان دہ ہے، سو انسان کے لیے بہتری اور بھلائی اور دارین کی سعادت و سرخروئی اسی میں اور صرف اسی میں ہے کہ وہ صدق دل سے ہمارے اوامرو احکام کی پیروی کرے، بہرکیف دنیا و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–21

اچھی بری نیت اعمال اور بدلہ تشریح : اس سورت میں اللہ تعالیٰ قسم کھاتے ہیں کہ دن رات کی نرو مادہ کی اور خود اپنی ' اس بات کے لیے کہ ہر انسان کی فطرت انداز اور ماحول فرق ہوتا ہے اور انہی حالات کے مطابق سب کا رویہ بھی فرق ہوتا ہے یہ حقیقت ہے کہ ہر شخص کے کام کا انداز فرق ہوتا ہے اور پھر یہ اعمال کا انداز دوراہوں میں منقسم ہے۔ یعنی کچھ تو نیک فطرت ہوتے ہیں ان کو شیطان کتنا ہی بہلائے مگر وہ اس کا شکار نہیں ہوتے یعنی ان کی سرشت میں نیکی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ان کو برا راستہ ' برے کام اور برے لوگ بالکل اچھے نہیں لگتے یعنی ان کو کوئی بھی لالچ برائی پر آمادہ نہیں کرسکتا وہ کہتے ہیں کہ کسی کو دیکھ کر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–21

سورة اللیل۔ آیات 1 تا 21۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے رات کی جب چھاجاتی ہے اور دن کی جب روشن ہوتا ہے اور اس کی جس نے بقائے نسل کے لیے ایک جیسے دو بندوں کو نرومادہ پیدا فرمادیا یعنی یہ سب نظام اس بات پر گواہ ہے کہ تمہاری محنت ومشقت بھی دو طرح سے ہے جس طرح رات کا اثر تاریکی اور دن کا اجالا ہے یانر کا کام الگ اور مادہ کے اوصاف الگ ہیں ایسے ہی تمہارے کردار کے نتائج دو طرح کے ہیں کہ جن لوگوں نے دینے کارویہ اپنایا اور اللہ کی محبت اور قربت کی تلاش میں اپنایا اور ارشادات نبوی کی تصدیق کی دل سے زبان سے اور کردار سے۔ دینے کارویہ۔ زندگی کا مدار دینے پر ہے سورج ، چاند ، ہوا ، بادل ، بارش ، روئیدگی ، پیداوار سب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 یعنی دونوں ہمارے اختیار و تصرف میں ہیں لہٰذا جو شخص ان دونوں کا یاد دونوں میں سے کسی ایک کا طالب ہو، اسے ہمیں سے مطالبہ کرنا چاہیے، یا یہ مطلب ہے کہ دنیا اور آخرت دونوں کا ثواب ہمیں دینے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(92:13) وان لنا للاخرۃ والاولی ۔ للاخرۃ معطوف علیہ والاولی معطوف۔ دونوں مل کر اسم ان ۔ لنا خبر ان۔ مجموعا جملہ عطف جملہ سابقہ پر ہے اور آخرت و دنیا (دونوں) ہمارے ہی بس میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–21

لغات القرآن۔ شتی۔ مختلف۔ الگ الگ۔ نیسر۔ ہم آسان کردیں گے۔ العسری۔ تنگی۔ تردی۔ وہ نیچے گرا۔ تلظی۔ بھڑک دار۔ یجنب۔ بچ جائے گا۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں رات، دن، نر اور مادہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جس طرح رات دن سے اور نر مادہ سے الگ اور مختلف چیزیں ہیں اسی طرح دنیا میں جتنے بھی انسان، ان کے گروہ اور قومیں ہیں وہ اپنے عمل اور کوششوں میں بہت مختلف ہیں۔ رات کے وقت دن کا تصور اور دن میں رات کا تصور ممکن نہیں ہے۔ نر مادہ ہوسکتا اور مادہ نر نہیں ہوسکتی اسی طرح نیکی اور برائیوں پر چلنے والے بھی اپنے انجام کے اعتبار سے یکساں نہیں ہوسکتے۔ ایک وہ شخص ہے جو نہایت خلوص اور اللہ کی رضا کے لئے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–18

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ اس میں کوئی شک نہیں راستہ باتنا ہمارا ہی کام ہے برائی کا ہو یا بھلائی کا سب دنیا کا انتظام ہماری ہاتھ میں ہے اور آخرت کا اختیار بھی ہے جب راستہ بتانا ہمارا کام ہے اس لیے تم کو بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈراتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس آگ میں وہی شخص جائے جو خدا اور خدا کے رسول کی تکذیب کرتا ہے اور تقوی اور دین داری سے منہ پھیرتا ہے تقوی اہل شریعت کی اصطلاح میں یہ ہے کہ کفر سے اور گناہ کبیرہ اور صغیرہ سے بچتا رہے، اگر کبھی کوئی گناہ بھی ہوجائے تو سچی توبہ جھٹ پٹ کرلے، سچی توبہ کے معنی یہ ہیں کہ اس گناہ سے متنفر ہوجائے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پرہیز رکھے آگے فرمایا کہ جب راستہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–21

[6] یعنی ہماری حکمت اس کی مقتضی نہیں کہ کسی آدمی کو زبردستی نیک یا بد بننے پر مجبور کردیں۔ ہاں یہ ہم نے اپنے ذمے لیا ہے کہ لوگوں کو نیکی اور بدی کی راہ سمجھا دیں۔ پھر جو شخص جو راہ اختیار کرے دنیا اور آخرت میں اسی کے موافق ہم اس سے برتاؤ کریں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–21

سورة الیل 1 ۔ یعنی جس طرح تاریک رات اور روشن دن میں اختلاف ہے اور خدا کی اس تقسیم میں اختلاف ہے اللہ تعالیٰ نے مرد کو بھی پیدا کیا اور عورت کو بھی ۔ نر کو بھی اور مادہ کو بھی ۔ اسی طرح کفر و ایمان کی مساعی یکساں نہیں ہیں ۔ نہ فطرت اور ساخت کے اعتبار سے اور نہ نتائج وثمرات کے اعتبار سے ۔ کفر ہمہ تاریکی ہے اور ایمان ہمہ روشنی ۔ کفر انوثیت اور نامرادی ہے اور ایمان جرات وجسارت ۔ نتائج وثمرات کے لحاظ سے بھی دونوں مختلف ہیں ۔ وہ شخص جو دولت ایمان سے بہرہ مندی کی وجہ سے اس کی راہ میں اپنا مال صرف کرتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے اور ہر نیک بات کی عمل سے تصدیق کرتا ہے ۔ اس کے لئے تیسیر کی نعمتیں اس کی طرف…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(13) اور ہمارے ہی قبضے میں ہے وہ عالم اور یہ عالم - یعنی آخرت اور دنیا مطلب یہ ہے کہ وہاں ہماری حکومت ہے اور یہاں بھی ہماری بادشاہی ہے اسی حکومت کی بنا پر اس عالم میں احکام جاری فرماتے ہیں اور اسی بادشاہت کی بنا پر اس عالم میں احکام بجا لانے والوں کو صلہ اور نافرمانی کرنیوالوں کو سزا دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 11–13

ف 6۔ تاکہ ایمان وطاعت اختیار کر کے اس سے بچو اور کفر و معصیت اختیار کر کے اس میں نہ جاو کیونکہ اس میں جانے اور نہ جانے کی یہی اسباب ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور بلا شبہ آخرت اور دنیا ہمارے ہی ہاتھ میں ہے 13 ؎ گزشتہ آیت کے مضمون کو سمجھنا زیر نظر آیت کے مضمون نے نہایت آسان کردیا ہے کہ تم صرف یہ نہ سمجھو کہ ہدایت میرے پاس ہے اور میں جس کو چاہتا ہوں اس کو دیتا ہوں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میرے ہاتھ میں ہے میں دیتا ہوں جس کو چاہتا ہوں ۔ اب غور کرو کہ دناا کن کے پاس ہے اور جن کے پاس جتنی وہ زیادہ ہے آپ دیکھیں گے کہ اتنے ہی وہ زیادہ طالب ہوں گے جن کو اس نے دنیاوی ہے اب ظاہر ہے کہ طلب کرنے والا تو دنیا طلب کرے اور دینے والا اس کو آخرت دے دے ، یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ بلکہ ہوگا تو وہی جس کے ہونے کا حق ہے اور حق یہ ہے کہ جو مانگنے والا مانگتا ہے اور دینے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–14

وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَ‌دَّىٰ (And his wealth will not help him when he will fall down...92:11). The word taradda literally denotes 'to fall into a pit and perish'. The expression 'When he fall' signifies that when Divine decree regarding his destruction comes into operation, nothing - not even his wealth - will save him, whether in grave after his death, or on the Day of Judgment, when he will be falling into the abyss of Hell.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

8 This statement has several meanings and all are correct: (1) ' "That from the world till the Hereafter, you are nowhere beyond Our grasp, for Ours are both this and the next world;" (2) "that both this world and the Hereafter are in any case under Our sovereignty, whether you follow the way shown by Us or not. If you adopt error, you will not harm Us but only yourselves; and if you adopt the right way, you will not do any good to Us, but will do good only to yourselves. Your disobedience cannot cause any decrease in Our sovereignty and your obedience cannot cause any increase in it;" (3)…

Read the full tafseer →