اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدٰی ۟ؗۖاِنَّ عَلَيۡنَا لَـلۡهُدٰى
ہمیں تو راہ دکھا دینا ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Indeed, [incumbent] upon Us is guidance.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz
اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدٰی ۟ؗۖاِنَّ عَلَيۡنَا لَـلۡهُدٰى
ہمیں تو راہ دکھا دینا ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Indeed, [incumbent] upon Us is guidance.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Lail
بے شک راستہ بتانا ہمارے ذمہ ہے
ہمیں تو راہ دکھا دینا ہے
بیشک راه دکھا دینا ہمارے ذمہ ہے
یہ سچ ہے کہ راستہ بتلا دینا ہمارے ذمے ہے۔
بیشک ہدایت فرمانا ہمارے ذمہ ہے،
بیشک راہِ (حق) دکھانا ہمارے ذمہ ہے،
بلاشبہ ہمارے ہی ذمے یقینا راستہ بتانا ہے۔
بلاشبہ راہ دکھانا ہمارے ذمہ ہے
ہمارا کام سمجھا دینا ہے !
بلاشبہ ہمارے ذمہ (کرم پر) ہے راستہ بتانا (حق و ہدایت کا اپنے بندوں کو)
بیشک ہمارے ہی ذمہ راہ بتانا ہے
(دیکھو انسانو !) یقینا ہمارے ذمے ہے ہدایت پہنچا دینا۔
ہمیں تو راہ دکھا دینا ہے۔
Surely it is for Us to show the Right Way,
Of course, it is undertaken by Us to guide,
Of course, it is undertaken by Us to guide,
Truly, on Us is (to give) guidance.
Lo! Ours it is (to give) the guidance
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Indeed, [incumbent] upon Us is guidance.
Surely, in Our hands is guidance,
Surely Ours is it to show the way,
Verify on us is the guidance
Verily We take upon Ourselves to guide,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 12–21
مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا : یعنی حلال و حرام کا ظاہر کردینا ہمارے ذمے ہے، یہ بھی معنی ہیں کہ جو ہدایت پر چلا وہ یقینا ہم تک پہنچ جائیگاجی سے فرمایا وعلی اللہ قصد السبیل آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے۔ میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کردیا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور بار بار فرماتے جاتے تھے لوگو ! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو ! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں، بار بار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ…
Read the full tafseer →سورة الَّیْل 7 یعنی انسان کا خالق ہونے کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حکمت، اپنے عدل اور اپنی رحمت کی بنا پر اس بات کا ذمہ لیا ہے کہ اس کو دنیا میں بیخبر نہ چھوڑے بلکہ اسے یہ بتادے کہ راہ راست کون سی ہے اور غلط راہیں کونسی، نیکی کیا ہے اور بدی کیا، حلال کیا ہے اور حرام کیا، کونسی روش اختیار کر کے وہ فرمانبردار بندہ بنے گا اور کونسا رویہ اختیار کر کے بندہ نافرمان بن جائے گا۔ یہی بات ہے جسے سورة نحل میں یوں بیان فرمایا گیا ہے کہ " وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ وَمِنْهَا جَائِرٌ " (آیت 9) " اور اللہ ہی کے ذمہ ہے سیدھا راستہ بتانا جبکہ راستے ٹیڑھے بھی موجود ہیں "۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
خلاصہ تفسیر قسم ہے رات کی جبکہ وہ آفتاب کو اور دن کو) چھپالے، اور (قسم ہے) دن کی جبکہ وہ روشن ہوجاوے (اور قسم ہے) اس (ذات) کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا (مراد اللہ تعالیٰ ہے آگے جواب قسم ہے) کہ بیشک تمہاری کوششیں (یعنی اعمال) مختلف ہیں (اور اسی طرح ان کے ثمرات بھی مختلف ہیں) سو جس نے (اللہ کی راہ میں مال) دیا اور اللہ سے ڈرا اور اچھی بات (یعنی ملت اسلام) کو سچا سمجھا تو ہم اس کو راحت کی چیز کے لئے سامان دیدیں گے (راحت کی چیز سے نیک عمل اور بواسطہ نیک عمل کے جنت مراد ہے کہ یسر کا سبب اور محل ہے اسی لئے یسریٰ کہہ دیا گیا ورنہ یسریٰ کے معنی ہیں آسان چیز) اور جس نے (حقوق واجبہ سے) بخل کیا اور…
Read the full tafseer →یہ وہی تنبیہ نسبۃً زوردار لفظوں میں ہے کہ ہمارا کلام لوگوں کو راہ دکھانا ہے سو یہ کام ہم نے اپنا رسول بھیج کر اور اپنی کتاب نازل کر کے کر دیا۔ یہ ذمہ داری ہماری نہیں ہے کہ ہم لوگوں کو اس راہ پر چلا بھی دیں۔ یہ لوگوں کی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ راہ اختیار کریں۔ جو یہ راہ اختیار کریں گے وہ فلاح پائیں گے، جو گریز کریں گے وہ اس کا انجام دیکھیں گے۔
Read the full tafseer →12۔ 1 یعنی حلال اور حرام، خیر و شر، ہدایت و ضلالت کو واضح اور بیان کرنا ہمارے ذمے ہے۔ (جو کہ ہم نے کردیا)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
5: لہذا یہ حق ہم کو ہی حاصل ہے کہ دنیا میں رہنے کے لیے انسان کو احکام اور ہدایات عطا فرمائیں اور آخر میں ان احکام و ہدایات کی تعمیل یا خلاف ورزی پر ثواب اور عذاب کا فیصلہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ان علینا .................................... یرضی اللہ نے محض اپنے فضل وکرم کی وجہ سے اپنے اوپر یہ بات فرض کردی کہ لوگوں کی اس فطرت کے سامنے اور لوگوں کو دی ہوئی قوت مدرکہ کے سامنے ہدایت کا راستہ واضح طور پر بیان فرمادیں۔ اسی طرح تمام رسولوں کا بھی یہ فرض قرار دیا گیا کہ وہ دعوت اسلامی کی تشریح کریں اور تمام دعوتی تحریکات اور تمام کتب سماوی اور معجزات بھی اس غرض کے لئے لائے گئے تاکہ کسی کے پاس کوئی بہانہ نہ رہے اور نہ کسی کے اوپر کوئی ظلم ہو۔ ان علینا للھدی (12:92) ” بیشک راستہ بتانا ہماری ذمہ داری ہے “۔ یہ تو تھی پہلی حقیقت۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ یہاں ایک قوت قاہرہ ہے ، جس نے تمام لوگوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
1 یعنی ہماری حکمت اس کو مقتضی نہیں کہ کسی آدمی کو زبردستی نیک یا بد بننے پر مجبور کریں۔ ہاں یہ ہم نے اپنے ذمہ لیا ہے کہ سب کو نیکی بدی کی راہ سجھا دیں۔ اور بھلائی برائی کو خوب کھول کر بیان کردیں۔ پھر جو شخص جو راہ اختیار کرلے دنیا اور آخرت میں اسی کے موافق اس سے برتاؤ کریں گے۔
Read the full tafseer →آیت 12{ اِنَّ عَلَیْنَا لَلْہُدٰی۔ } ”دیکھو انسانو ! یقینا ہمارے ذمے ہے ہدایت پہنچا دینا۔“ اپنے مضمون کے اعتبار سے یہ بہت اہم آیت ہے۔ اس میں واضح طور پر بتادیا گیا ہے کہ انسان کو سیدھا راستہ دکھانا اور ”ہدایت“ اس تک پہنچانا اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو جبلی ہدایت بھی عطا کی ہے ‘ اس کے نفس کے اندراخلاقی حس بھی الہام کردی ہے۔ اس کے اندر اپنی روح بھی پھونکی ہے جو اللہ تعالیٰ کی معرفت اور محبت کی امین ہے اور پھر اس ہدایت و معرفت کی تکمیل کے لیے اس نے دنیا میں پیغمبر بھی بھیجے اور کتابیں بھی نازل کیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے کئی ذرائع سے انسان کو راہ ہدایت دکھانے کا اہتمام…
Read the full tafseer →5 یعنی ہم نے خیرو شر کی تمیز کو انسان کی فطرت میں داخل کردینے پر ہی اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ اس کی پوری رہنمائی کرنا بھی ہمارے ذمے ہے اور یہ ذمہ داری ہم نے رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کرکے پوری کردی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
6۔ یعنی دونوں میں ہماری ہی حکومت ہے چناچہ دنیا میں ہم نے احکام مقرر کردیئے، اور آخرت میں انہیں کی مخالفت یا موافقت پر ثمرات کا ظہور ہوگا۔ (آیت) ” ان علینا للھدی “ یعنی خیر وشر، نجات و عقاب دونوں کے راستوں کو کھول کر بتادینا ہمارے ذمہ تھا چناچہ اسے ہم نے خوب واضح کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
وما یغنی عنہ مالہ اذا تردی یعنی جس مال کی خاطر یہ کمبخت حقوق واجبہ میں بخل کیا کرتا تھا یہ مال ان پر عذاب آنے کے وقت کچھ کام نہ دے گا تردی کے لفظی معنی گڑھے میں گر جانے اور ہلاک ہونے کے ہیں، مطلب یہ ہے کہ موت کے بعد قبر میں اور پھر قیامت میں جب وہ جہنم کے گڑھے میں گرتا ہوگا تو یہ مال اس کو کچھ نفع نہیں دے گا۔ (معارف) صحابہ کرام ؓ جہنم سے محفوظ ہیں : اس کی وجہ یہ ہے کہ اول تو ان حضرات سے گناہ کا صدور شاذ و نادر ہی ہوا ہے اور بوجہ خوف آخرت کے ان کے حالات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے توبہ کرلی ہوگی علاوہ ازیں ان کے ایک گناہ کے مقابل ہمیں ان کے اعمال حسنہ اتنے زیادہ ہیں کہ ان کی وجہ سے بھی یہ…
Read the full tafseer →ان علینا . علیٰ کا لفظ تاکید کا معنی ظاہر کر رہا ہے۔ بیشک ہم پر لازم ہے یعنی ہم نے اپنی قضاء سابق کی وجہ سے یا اپنے حکم کے مقتضا کے بموجب خود ہدایت کا ذمہ لے لیا ہے (یعنی فی نفسہٖ خدا پر کوئی چیز لازم نہیں لیکن چونکہ اس نے ازل میں خود فیصلہ قضائی کردیا ہے یا وعدہ کرلیا ہے اس لیے وہ خود ذمہ دار بن گیا ہے) ۔ للھدی . حق کا راستہ بتادینا یعنی دلائل آفاقی (جو عقلی ہیں) اور آسمانی شریعتوں کا بیان اللہ کی طرف سے راہ حق دکھانے والا ہے۔ یہ قول زجاج اور قتادہ کا ہے۔ فراء نے (علیٰ کو بمعنی الیٰ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو شخص راہ ہدایت پر چلتا ہے اس کا راستہ خدا پر ہی (یعنی خدا تک ہی) پہنچتا ہے۔ جیسا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
(12۔ 16) واقعی خیر و شر کا بیان کردینا ہمارے ذمہ ہے اور دنیا و آخرت کا ثواب ہمارے قبضہ میں ہے، یا یہ کہ آخرت میں ثواب و سرفرازی عطا کرنا اور دنیا میں معرفت و توفیق دینا ہمارے قبضہ میں ہے سو مکہ والو میں تمہیں بذریعہ قرآن کریم ایک بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرا چکا ہوں دوزخ میں وہی بدبخت داخل ہوگا جس نے توحید کو جھٹلایا یا یہ کہ اطاعت خداوندی میں کوتاہی کی اور ایمان، یا یہ کہ توبہ سے روگردانی کی۔
Read the full tafseer →ان علینا للھدی : دوسری جگہ فرمایا :(قل ان ھدی اللہ ھو الھدی) (البقرہ : 120)”کہہ دے اللہ کی ہدایت ہی اصل ہدیات ہے۔“ یعنی جو راستے لوگوں نے اپنی مرضی سے یا آباد و اجداد کو دیکھ کر یا غری قوموں کی نقل کرتے ہوئے اختیار کئے ہیں وہ چونکہ اللہ کی طرف سے نہیں ہیں، اس لئے کتنے بھی خوش نما ہوں ہدایت نہیں، ضلالت ہیں۔ اللہ کی ہدیات وہ ہے جو خود اس کی طرف سے آئی ہو اور وہ صرف قرآن مجید ہے ہے یا حدیث رسول ﷺ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ان علینا للھدی۔ یعنی ہمارے ذمہ کرم پر ہے کہ ہم گمراہی کے راستہ سے ہدایت کے راستہ کو جدا کردیں پس ہدایت سے مراد و احکام کا بیان ہوگا یہ زجاج کا نقطہ نظر ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے حلال و حرام اور اطاعت ومعصیت کا بیان۔ یہ قتادہ کا قول ہے فراء نے کہا، جو ہدایت کی راہ پر چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ پر ہے اس کا راستہ دکھانا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے وعلی اللہ قصدالسبیل۔ (النحل 9) وہ کہتا ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کا ارادہ کیا وہ سیدھے راستے پر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا اس کا معنی ہے ہمارے قبضہ قدرت میں ہے ہدایت دینا اور گمراہ کرنا۔ اور اضلال کو ترک کردیا گیا ذکر نہیں کیا گیا جس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
30۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان علینا للہدی۔ بیشک ہمارے ذمہ ہدایت دینا ہے یعنی اللہ کے ذمے ہے یہاں اور وضاحت یعنی اپنے حلال و حرام اور طاعت و معصیت کا بیان اللہ کے ذمہ ہے۔
Read the full tafseer →[ان عَلَيْنَا لَلْهُدٰى: بیشک ہم پر یقینا ہے راہ سجھا دینا ] (آیت ۔ 12) اِنَّ کا اسم اَلْھُدٰی ہے اور اس کی خبر محذوف ہے جو وَاجِبٌ ہوسکتی ہے۔ خبر محذوف ہونے کی وجہ سے اِنَّ کی خبر پر آنے والا لام تاکید اس کے اسم پر آگیا ہے، جس نے اَلْھُدیٰ کے ہمزۃ الوصل کو لکھنے میں بھی ساقط کردیا۔ عَلَیْنَا قائم مقام خبر مقدم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
﴿وَ مَا يُغْنِيْ عَنْهُ مَالُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰىؕ0011 ﴾ (اور اس کا مال اسے نفع نہیں دے گا جب وہ ہلاک ہوگا) ۔ ﴿اِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدٰىٞۖ0012﴾ (بیشک ہمارے ذمہ ہدایت ہے) ۔ بندوں کو عبادت کے لیے پیدا فرمایا۔ عبادت کے طریقے بتا دیئے ہدایت کے راستے بیان فرما دیئے رسولوں کو بھیج دیا کتابیں نازل فرما دیں اس کے بعد جو کوئی شخص راہ ہدایت کو اختیار نہ کرے گا، مجرم ہوگا اور اپنا ہی برا کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
تقسیم جہو عملیہ در حیات انسانی وترتب ثمرات سعادت وشقاوت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والیل اذا یغشی ....... الی ......... ولسوف یرضی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں فوز و فلاح اور شقاوت وبدنصیبی کے اسباب پر کلام تھا اور یہ کہ انسانی نفس اگر طہارت وتزکیہ سے آراستہ ہو تو اس پر دنیا کی عزت وسربلندی اور آخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے اور اگر نفس کو شہوات کی گندگی میں آلودہ کرلیا جائے تو انسانی شرف سے محرومی کے بعد دنیا کی تباہی اور عذاب آخرت میں مبتلا ہونے کے سوا کوئی نتیجہ نہیں ہوتا، اور دنیا میں بڑی سے بڑی طاقت ور قومیں اسی شقاوت وبدنصیبی کا شکار ہو کر ہلاک ہوئیں اور تاریخ عالم اس کی گواہی دیتی ہے، تو اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ٖ 5:۔ ” ان علینا “ حق کی طرف رہنمائی کرنا، حق کو دلائل سے واضح اور مدلل کرنا ہمارا کام ہے جو ہم ہمیشہ کرتے رہے ہیں اب حق کو کوئی قبول کرے یا رد کرے، یہ اس کی مرضی ہے، جیسا کرے گا ویسا بھرے گا۔ ” وان لنا للاخرۃ والاولی “ دنیا اور آخرت کے ہم مالک ہیں اسلیے اگر کوئی ہدایت قبول کرلے تو اس سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں اور اگر کوئی گمراہی اختیار کرے تو اس سے ہمارا کوئی نقصان نہیں، یا مطلب یہ ہے کہ دنیا اور عقبی کے مالک ہم ہیں اس لیے دونوں جہانوں کی دولت ہم سے طلب کرو۔ فلا یضرنا ضلال من ضل ولا ینفعنا اھتداء من اھتدی او انھما لنا فمن طلبھما من غیرنا فقد اخطا الطریق (مدارک) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
گزشتہ سے پیوستہ گزشتہ درس میں یہ بیان ہوا تھا کہ جس طرح رات اور دن میں اختلاف ہے اور جس طرح نر اور مادہ میں اختلاف ہے اسی طرح انسانوں کی سعی اور کوشش میں بھی اختلاف ہے۔ جس کی کوشش اس طرح کی ہے کہ اس نے مال اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور خدا تعالیٰ سے ڈرتا رہا برائیں سے بچتا رہا پھر اچھی بات یعنی کلمہ توحید اور کلمہ ایمان کی تصدیق کی ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم اس کو آہستہ آہستہ آسانی تک پہنچائیں گے اور جس نے بخل کیا ، مال کو راہ خدا میں صرف نہ کیا۔ کنجوسی سے اکم لیا اور اپنی جگہ مستغنی یعنی بےپرواہ رہا ، آخرت کی فکر نہ کی آخرت کی تکذیب کی۔ کلمہ توحید کی تکذیب کی۔ تو ہم اس کو آہستہ آہستہ…
Read the full tafseer →اِنَّ عَلَيْنَا لَلْہُدٰى 12 ۡ ۖ إِنَّ وأَنَ إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه عمّا عداه، نحو : إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ [ التوبة/ 28] تنبيها علی أنّ النجاسة التامة هي حاصلة للمختص بالشرک، وقوله عزّ وجل : إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ [ البقرة/ 173] أي : ما حرّم ذلك إلا تنبيها علی أنّ أعظم المحرمات من المطعومات في…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
ترکیب ¦ للھدٰی اسم ان علینا خبرھا۔ ای علینا ان نبی ن طریق الھدٰی من طریق الضلال وقدفعلنا ذلک حیث بینا طریق کلا الفریقین ترغیبًا و ترہیبًا۔ قالہ الزجاج للآخرۃ معطوف علیہ والاولیٰ معطوف وکلاھما ان اسم ان لنا خبرھا والجملۃ معطوفتہ علی الجملۃ السابقۃ ومعناہ لنا کل ما فی الآخرۃ وکل ما فی الدنیا فمن ارادھما فلیطلب منا تلظٰی صفۃ نار و اصلہ تتلظی فحذفت احدی التاء ین تخفیفاً وقری علی الاصل ومعناہ تتوقد وتتلھب یقال تلظت النار تلظیا ومنہ سمیت جہنم لظٰی لا یصلاھا الجملۃ صفۃ ناروھوبیان لمنھی الا الاشقٰی استثناء متصل ای لا ید خلھا دخولا موبدا احد الا الاشقیٰ وھو الکافر والمشرک الذی کذب وتولیٰ وصف للاشقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
اِنَّ عَلَیْنَا لَلْھُدٰی۔ وَاِنَّ لَنَا لِلْاٰخِرَۃَ وَالْاُوْلٰی۔ (الیل : 12، 13) (بیشک راستہ بتانا ہمارے ذمہ ہے۔ اور یقینا آخرت اور دنیا کے ہم ہی مالک ہیں۔ ) انسانوں کی ہدایت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے ہم چونکہ جن و انس کے خالق ہیں تو جس طرح تخلیق کے بعد ہم نے ان کی جسمانی ضرورتوں کو اپنی ذمہ داری بنا لیا ہے اور ہماری ربوبیت کا فیضان اسی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے ہمیشہ ان کو سیراب کرتا رہتا ہے۔ اسی طرح ان کی معنوی اور روحانی ضرورتوں کے لیے ہم نے ان کی رہنمائی کو اپنی حکمت، اپنے عدل اور اپنی رحمت کی بنا پر اپنی ذمہ داری بنا لیا ہے۔ جن چیزوں کی رہنمائی حواس اور عقل سے ممکن نہیں وحی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
فہم القرآن ربط کلام : بخل سے بچانا اور الحسنٰی کی راہنمائی کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے تاہم اس نے نیکی اور برائی کی راہ دکھلا کر لوگوں کو اختیار دیا ہے کہ وہ نیکی کرتے ہیں یا برائی کی طرف جاتے ہیں۔ قرآن مجید میں کئی مقامات پر ہدایت اور گمراہی، نیکی اور برائی کی نشاندہی کرنے کے بعد ارشاد ہوا ہے کہ ہمارا کام نیکی اور ربرائی کی نشاندہی کرنا ہے۔ اب انسان کا اپنا اختیار ہے کہ وہ ان میں سے کس کو اختیار کرتا ہے اگر وہ نیکی اختیار کرے گا تو ہم اس کے لیے نیکی کرنا آسان کردیں گے اگر وہ برائی پسند کرتا ہے تو ہم اسے کھلا چھوڑ دیں گے، ہمارا کام ہدایت اور گمراہی کو واضح کرنا ہے۔ ہدایت اور گمراہی…
Read the full tafseer →12 : اِنَّ عَلَیْنَالَلْھُدٰی (واقعی ہمارے ذمہ راستہ کا بتلا دینا ہے) حق کی طرف راہنمائی ہمارے ذمہ ہے کہ ہم اس کے لئے دلائل قائم کردیتے اور دیے ہیں۔ اور شرائع کے ذریعہ وضاحت کردی ہے۔
Read the full tafseer →12 ۔” ان علینا للھدیٰ “ یعنی بیان کرنا۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں ہم پر لازم ہے کہ ہم ہدایت کے راستہ کو گمراہی کے راستہ سے جدا کرکے بیان کردیں اور یہی قتادہ (رح) کا قول ہے۔ فرمایا اللہ پر اس کے حلال و حرام کا بیان ہے۔ فراء (رح) فرماتے ہیں یعنی جو ہدایت کا راستہ چلا پس اللہ پر اس کا راستہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” وعلی اللہ قصد السبیل “ فرماتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کا ارادہ کرتا ہے پس وہ درمیانہ راستہ پر ہے اور کہا گیا ہے اس کا معنیٰ بیشک ہم پر البتہ ہدایت دینا اور گمراہ کرنا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ” بیدک الخیر “ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
12۔ 21۔ مستدرک حاکم 2 ؎ مسند بزار تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ حضرت بلال ؓ اور عامر بن فہیرہ اور زنیرہ وغیرہ میں یہ سات شخص لونڈی غلام ایسے تھے جو اسلام لے آئے تھے اور وہ مشرک لوگ جن کے یہ لونڈی غلام تھے ان پر روز طرح طرح کی سختی اور مار پیٹ کیا کرتے تھے حضرت ابوبکر صدیق نے ان ساتوں مرد و عورتوں کو ان کے مشرک آقاؤں سے خرید کیا اور ساتوں شخصوں کو آزاد کردیا۔ حضرت ابوبکر صدیق کے باپ ابوقحافہ نے ایک روز حضرت ابوبکر صدیق سے کہا کہ تم کو اگر غلام آزاد کرنے منظور تھے ایسے قوی لوگ آزاد کئے ہوتے جو وقت پڑے پر تمہاری کچھ مدد کرسکتے۔ ان عورتوں کے آزاد کرنے سے کیا…
Read the full tafseer →(اِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدٰى) بیشک ہمارے ذمے تو راہ دکھادینا ہے یعنی وہ ہدایت جس کا راستہ سیدھا ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچتا اور اس کی رضا کے قریب کرتا ہے رہی گمراہی تو اس کے تمام راستے اللہ تک پہنچنے کے لیے مسدود ہیں گمراہی کے راستے، ان پر چلنے والے کو صرف سخت عذاب ہی میں پہنچاتے ہیں۔
Read the full tafseer →12 ۔ منکرین کو ایک خاص تنبیہ : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور منکرین کو تنبیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ ہمارے ذمہ کرم پر ہے راست بنانا اور حق و ہدایت کی راہنمائی کرنا، تاکہ اس راہ حق و ہدایت پر چل کر لوگ اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی اور حقیقی فوز و فلاح کا سامان کرسکیں اور شقاوت و بدبختی کی طرف لے جانے والی ٹیڑھی ترچھی راہوں اور ہلاکت و تباہی کی پگ ڈنڈیوں سے بچ سکیں کہ حق کی راہ بہرحال ایک ہی راہ ہے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا وَعَلَي اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِيْلِ وَمِنْهَا جَاۗىِٕرٌ ۭ وَلَوْ شَاۗءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ (النحل 9 پ 14) سو راہ حق و ہدایت سے آگہی بخشنا ہمارا ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
اچھی بری نیت اعمال اور بدلہ تشریح : اس سورت میں اللہ تعالیٰ قسم کھاتے ہیں کہ دن رات کی نرو مادہ کی اور خود اپنی ' اس بات کے لیے کہ ہر انسان کی فطرت انداز اور ماحول فرق ہوتا ہے اور انہی حالات کے مطابق سب کا رویہ بھی فرق ہوتا ہے یہ حقیقت ہے کہ ہر شخص کے کام کا انداز فرق ہوتا ہے اور پھر یہ اعمال کا انداز دوراہوں میں منقسم ہے۔ یعنی کچھ تو نیک فطرت ہوتے ہیں ان کو شیطان کتنا ہی بہلائے مگر وہ اس کا شکار نہیں ہوتے یعنی ان کی سرشت میں نیکی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ان کو برا راستہ ' برے کام اور برے لوگ بالکل اچھے نہیں لگتے یعنی ان کو کوئی بھی لالچ برائی پر آمادہ نہیں کرسکتا وہ کہتے ہیں کہ کسی کو دیکھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة اللیل۔ آیات 1 تا 21۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے رات کی جب چھاجاتی ہے اور دن کی جب روشن ہوتا ہے اور اس کی جس نے بقائے نسل کے لیے ایک جیسے دو بندوں کو نرومادہ پیدا فرمادیا یعنی یہ سب نظام اس بات پر گواہ ہے کہ تمہاری محنت ومشقت بھی دو طرح سے ہے جس طرح رات کا اثر تاریکی اور دن کا اجالا ہے یانر کا کام الگ اور مادہ کے اوصاف الگ ہیں ایسے ہی تمہارے کردار کے نتائج دو طرح کے ہیں کہ جن لوگوں نے دینے کارویہ اپنایا اور اللہ کی محبت اور قربت کی تلاش میں اپنایا اور ارشادات نبوی کی تصدیق کی دل سے زبان سے اور کردار سے۔ دینے کارویہ۔ زندگی کا مدار دینے پر ہے سورج ، چاند ، ہوا ، بادل ، بارش ، روئیدگی ، پیداوار سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
ف 9 اسی وعدہ کا ایفا اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں خیر کی طرف میلان رزکھ کر اور پھر کتابیں اور انبیاء پر بھیج کر کیا۔
Read the full tafseer →(92:12) ان علینا للھدی : ان حرف تحقیق مشبہ بالفعل الھدی اسم ان علینا اس کی خبر۔ تحقیق ہم پر (صرف) رہنمائی کردینا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
لغات القرآن۔ شتی۔ مختلف۔ الگ الگ۔ نیسر۔ ہم آسان کردیں گے۔ العسری۔ تنگی۔ تردی۔ وہ نیچے گرا۔ تلظی۔ بھڑک دار۔ یجنب۔ بچ جائے گا۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں رات، دن، نر اور مادہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جس طرح رات دن سے اور نر مادہ سے الگ اور مختلف چیزیں ہیں اسی طرح دنیا میں جتنے بھی انسان، ان کے گروہ اور قومیں ہیں وہ اپنے عمل اور کوششوں میں بہت مختلف ہیں۔ رات کے وقت دن کا تصور اور دن میں رات کا تصور ممکن نہیں ہے۔ نر مادہ ہوسکتا اور مادہ نر نہیں ہوسکتی اسی طرح نیکی اور برائیوں پر چلنے والے بھی اپنے انجام کے اعتبار سے یکساں نہیں ہوسکتے۔ ایک وہ شخص ہے جو نہایت خلوص اور اللہ کی رضا کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ اس میں کوئی شک نہیں راستہ باتنا ہمارا ہی کام ہے برائی کا ہو یا بھلائی کا سب دنیا کا انتظام ہماری ہاتھ میں ہے اور آخرت کا اختیار بھی ہے جب راستہ بتانا ہمارا کام ہے اس لیے تم کو بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈراتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس آگ میں وہی شخص جائے جو خدا اور خدا کے رسول کی تکذیب کرتا ہے اور تقوی اور دین داری سے منہ پھیرتا ہے تقوی اہل شریعت کی اصطلاح میں یہ ہے کہ کفر سے اور گناہ کبیرہ اور صغیرہ سے بچتا رہے، اگر کبھی کوئی گناہ بھی ہوجائے تو سچی توبہ جھٹ پٹ کرلے، سچی توبہ کے معنی یہ ہیں کہ اس گناہ سے متنفر ہوجائے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پرہیز رکھے آگے فرمایا کہ جب راستہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
[5] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سعی اور عمل کے اعتبار سے انسانوں کے دو گروہ بتلائے اور نمونے کے طور پر دونوں کے تین تین اوصاف کا ذکر فرمایا۔ پہلے گروہ کے بارے میں فرمایا کہ ہم ان لوگوں کو جنت کے لئے آسان کردیں گے اور دوسرے گروہ کے بارے میں ارشاد ہوا کہ ہم ایسے لوگوں کو دوزخ کے لئے آسان کردیں گے۔ آسان یا مشکل ہونا اعمال ہی کی حقیقت ہوسکتی ہے، اشخاص نہ تو آسان ہوتے ہیں نہ مشکل۔ مگر قرآن کریم نے اس کی تعبیر اس طرح کی کہ خود ان لوگوں کی ذات اور وجود اعمال جنت یا دوزخ کے لئے آسان کر دئیے جائیں۔ اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ان کی طبیعتوں اور مزاجوں کو ایسا بنادیا جائے گا کہ پہلے گروہ کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة الیل 1 ۔ یعنی جس طرح تاریک رات اور روشن دن میں اختلاف ہے اور خدا کی اس تقسیم میں اختلاف ہے اللہ تعالیٰ نے مرد کو بھی پیدا کیا اور عورت کو بھی ۔ نر کو بھی اور مادہ کو بھی ۔ اسی طرح کفر و ایمان کی مساعی یکساں نہیں ہیں ۔ نہ فطرت اور ساخت کے اعتبار سے اور نہ نتائج وثمرات کے اعتبار سے ۔ کفر ہمہ تاریکی ہے اور ایمان ہمہ روشنی ۔ کفر انوثیت اور نامرادی ہے اور ایمان جرات وجسارت ۔ نتائج وثمرات کے لحاظ سے بھی دونوں مختلف ہیں ۔ وہ شخص جو دولت ایمان سے بہرہ مندی کی وجہ سے اس کی راہ میں اپنا مال صرف کرتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے اور ہر نیک بات کی عمل سے تصدیق کرتا ہے ۔ اس کے لئے تیسیر کی نعمتیں اس کی طرف…
Read the full tafseer →(12) بلا شبہ ہمارے ذمے راہ کا بتادینا - یعنی ہم نے اپنے فضل اور اپنے احسان سے یہ بات اپنے ذمے پر لے لی ہے کہ نیک اور بدراہ تم کو سمجھا دیں اور بھلائی اور برائی کا فرق بیان کردیں اور جو شخص دنیا میں جو راہ اختیار کرے اس کے موافق اس سے برتائو کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ف 6۔ تاکہ ایمان وطاعت اختیار کر کے اس سے بچو اور کفر و معصیت اختیار کر کے اس میں نہ جاو کیونکہ اس میں جانے اور نہ جانے کی یہی اسباب ہیں۔
Read the full tafseer →بلا شبہ ہدایت دینا ہمارے ہی اختیار میں ہے 12 ؎ ہدایت دینا اللہ کے اختیار میں ہے پھر وہ دیتا کیوں نہیں ، دیتا ہے اور ضرور دیتا ہے لیکن اس کو جو لینا چاہیے جو خود ہدایت لینا نہ چاہے اس کو وہ بزورہدایت دے دے یہ نہ تو اس نے کہا اور نہ ہی وہ کبھی ایسا کرتا ہے۔ اس نے ہدایت حاصل کرنے کے لیے ایک قانون بنا دیا ہے اب جو شخص بھی اس قانون کے مطابق ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہے اس کو ہدایت دی جاتی ہے اور جو اس قانون کے مطابق ہدایت کے لیے کوشاں نہیں ہوتا اس کو ہدایت نہیں دی جاتی اور یہی اصول ہر معاملہ میں اس نے بنارکھا ہے۔ اس کی وضاحت ہم عروۃ الوثقیٰ ، جلد ہشتم سورة الواقعہ آیت 58 کی تفسیر میں آئے ہیں ۔ غور کرو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّىٰ (And his wealth will not help him when he will fall down...92:11). The word taradda literally denotes 'to fall into a pit and perish'. The expression 'When he fall' signifies that when Divine decree regarding his destruction comes into operation, nothing - not even his wealth - will save him, whether in grave after his death, or on the Day of Judgment, when he will be falling into the abyss of Hell.
Read the full tafseer →7 That is, Allah as the Creator of man has on the basis of His wisdom, His justice and His mercy, taken of Himself the responsibility not to leave him uninformed in the world, but to tell him what is the right way and what are the wrong ways, what is good and what is evil , what is lawful and what is unlawful, what attitude and conduct will make him an obedient servant and what attitude and conduct will make him a disobedient servant. This same thing has been expressed in Surah An-Nahl; thus: "Allah has taken upon Himself to show the Right Way, when there are also crooked ways." (v.9) (For…
Read the full tafseer →