Explained with ayahs 1–11
نیکی کے لیے قصد ضروری ہے :
مسند احمد میں ہے حضرت علقمہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جاکر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو حضرت ابو الدرداء سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو حضرت علقمہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے ؟ میں نے کہا والذکر والانثٰی پڑھتے تھے، حضرت ابو الدرداء فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں حضور ﷺ کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو…
Read the full tafseer →سورة الَّیْل 6
دوسرے الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ ایک روز اسے بہرحال مرنا ہے اور وہ سب کچھ دنیا ہی میں چھوڑ جانا ہے جسے اس نے یہاں اپنے عیش کے لیے فراہم کیا تھا۔ اگر اپنی آخرت کے لیے کچھ کما کر وہ ساتھ نہ لے گیا تو یہ مال اس کے کس کام آئے گا ؟ قبر میں تو وہ کوئی کوٹھی، کوئی موٹر، کوئی جائداد اور کوئی جمع پونجی لے کر نہیں جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
خلاصہ تفسیر
قسم ہے رات کی جبکہ وہ آفتاب کو اور دن کو) چھپالے، اور (قسم ہے) دن کی جبکہ وہ روشن ہوجاوے (اور قسم ہے) اس (ذات) کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا (مراد اللہ تعالیٰ ہے آگے جواب قسم ہے) کہ بیشک تمہاری کوششیں (یعنی اعمال) مختلف ہیں (اور اسی طرح ان کے ثمرات بھی مختلف ہیں) سو جس نے (اللہ کی راہ میں مال) دیا اور اللہ سے ڈرا اور اچھی بات (یعنی ملت اسلام) کو سچا سمجھا تو ہم اس کو راحت کی چیز کے لئے سامان دیدیں گے (راحت کی چیز سے نیک عمل اور بواسطہ نیک عمل کے جنت مراد ہے کہ یسر کا سبب اور محل ہے اسی لئے یسریٰ کہہ دیا گیا ورنہ یسریٰ کے معنی ہیں آسان چیز) اور جس نے (حقوق واجبہ سے) بخل کیا اور…
Read the full tafseer →بخیلوں کو تنبیہ:
یہ ’مَا‘ نافیہ بھی ہو سکتا ہے اور سوالیہ بھی۔ دونوں صورتوں میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہو گا لیکن سوالیہ میں زیادہ زور ہے اس وجہ سے میں نے اسی مفہوم کو لیا ہے۔ یہ بانداز سوال ان لوگوں کو تنبیہ اور ملامت ہے جو مال رکھتے ہوئے خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے جی چراتے ہیں۔ فرمایا کہ ایسے شخص کو اس کا مال اس وقت کیا نفع پہنچائے گا جب وہ جہنم کے کھڈ میں گر جائے گا!۔۔۔ مطلب یہ ہوا کہ مال کا اگر کوئی مستقل فائدہ ہے تو یہ ہے کہ آدمی خدا کی راہ میں خرچ کر کے اس کو اپنی ابدی زندگی کے لیے محفوظ کر لے۔ اگر ایسا نہ کیا تو یہ مال اس کے لیے نہ صرف یہ کہ کچھ نافع نہ ہوا بلکہ ہمیشہ کے لیے موجب وبال بنا۔
Read the full tafseer →11۔ 1 یعنی جب جہنم میں گرے گا تو یہ مال جسے وہ خرچ نہیں کرتا تھا، کچھ کام نہ آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
5: لہذا یہ حق ہم کو ہی حاصل ہے کہ دنیا میں رہنے کے لیے انسان کو احکام اور ہدایات عطا فرمائیں اور آخر میں ان احکام و ہدایات کی تعمیل یا خلاف ورزی پر ثواب اور عذاب کا فیصلہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ان علینا .................................... یرضی
اللہ نے محض اپنے فضل وکرم کی وجہ سے اپنے اوپر یہ بات فرض کردی کہ لوگوں کی اس فطرت کے سامنے اور لوگوں کو دی ہوئی قوت مدرکہ کے سامنے ہدایت کا راستہ واضح طور پر بیان فرمادیں۔ اسی طرح تمام رسولوں کا بھی یہ فرض قرار دیا گیا کہ وہ دعوت اسلامی کی تشریح کریں اور تمام دعوتی تحریکات اور تمام کتب سماوی اور معجزات بھی اس غرض کے لئے لائے گئے تاکہ کسی کے پاس کوئی بہانہ نہ رہے اور نہ کسی کے اوپر کوئی ظلم ہو۔
ان علینا للھدی (12:92) ” بیشک راستہ بتانا ہماری ذمہ داری ہے “۔ یہ تو تھی پہلی حقیقت۔
دوسری حقیقت یہ ہے کہ یہاں ایک قوت قاہرہ ہے ، جس نے تمام لوگوں کو…
Read the full tafseer →12 یعنی جس مال و دولت پر گھمنڈ کر کے یہ آخرت کی طرف سے بےپروا ہو رہا تھا وہ ذرا بھی عذاب الہٰی سے نہ بچا سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
آیت 10{ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْعُسْرٰی۔ } ”تو اس کو ہم رفتہ رفتہ مشکل منزل جہنم تک پہنچا دیں گے۔“
یہ ہیں انسانی کوشش اور مشقت کے دو رخ۔ گویا پہلی تین شرائط کو اپنانے کا راستہ صدیقین اور شہداء کا راستہ ہے۔ اگر کسی نے کوشش کی لیکن وہ مذکورہ تینوں شرائط کو کماحقہ پورا نہ کرسکا تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی کوشش اور اخلاص کے مطابق ہوگا۔ لیکن جس بدقسمت شخص کی کوشش اور محنت میں ان تینوں اوصاف کا فقدان ہوا اور وہ ان کے مقابلے میں عمر بھر دوسرے راستے بخل ‘ استغناء اور تکذیب پر گامزن رہا ‘ ظاہر ہے اس کا شمار ان بدترین لوگوں کے گروہ میں ہوگا جس کے سرغنہ ابولہب اور ابوجہل ہیں۔
یہاں ضمنی طور پر…
Read the full tafseer →4 تردّی۔ ردی بمعنی کسی چیز کو بلندی سے زمین پردے مارنا یا زمین سے کسی گڑھے میں پھینک دینا تاکہ وہ ہلاک ہوجائے اور تردی کے معنی خود کنوئیں یا گڑھے میں گرنا اور ہلاکت کو پہنچنا ہے اور یہاں گڑھے سے مراد جہنم کا گڑھا ہے۔ یعنی یہ دوسری قسم کا آدمی جہنم کے گڑھے میں گرپڑے گا تو اس وقت اس کا مال جسے وہ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا تھا کسی کام نہ آسکے گا کیونکہ وہ مال تو دنیا میں ہی رہ گیا ہوگا۔ وہاں کیسے کام آسکتا ہے ؟
Read the full tafseer →5۔ یعنی جب وہ واصل جہنم ہونے لگے گا، تو اسے خود مشاہدہ ہوجائے گا کہ مال و دولت جس پر اسے اتناغرہ تھا اس کے کچھ بھی کام نہیں آرہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
وما یغنی عنہ مالہ اذا تردی یعنی جس مال کی خاطر یہ کمبخت حقوق واجبہ میں بخل کیا کرتا تھا یہ مال ان پر عذاب آنے کے وقت کچھ کام نہ دے گا تردی کے لفظی معنی گڑھے میں گر جانے اور ہلاک ہونے کے ہیں، مطلب یہ ہے کہ موت کے بعد قبر میں اور پھر قیامت میں جب وہ جہنم کے گڑھے میں گرتا ہوگا تو یہ مال اس کو کچھ نفع نہیں دے گا۔ (معارف)
صحابہ کرام ؓ جہنم سے محفوظ ہیں :
اس کی وجہ یہ ہے کہ اول تو ان حضرات سے گناہ کا صدور شاذ و نادر ہی ہوا ہے اور بوجہ خوف آخرت کے ان کے حالات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے توبہ کرلی ہوگی علاوہ ازیں ان کے ایک گناہ کے مقابل ہمیں ان کے اعمال حسنہ اتنے زیادہ ہیں کہ ان کی وجہ سے بھی یہ…
Read the full tafseer →وما یغنی عنہ مالہ اذا تردی . اور جب وہ ہلاک ہوگا تو اس کا مال اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ مَا نفی کے لیے ہے یا استفہام انکاری کے لیے تردّٰی ماضی (باب تفعل) ردیٰ (مادہ) بمعنی ہلاکت اور ہلاکت سے مراد ہے استحقاق عذاب ‘ یا ردی کا معنی ہے ‘ گرنا یعنی جب قبر کے گڑھے میں یا جہنم میں گرے گا۔ قتادہ اور ابو صالح نے دوزخ میں گرنے کا ہی معنی بیان کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
(8۔ 11) اور جس نے اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دینے سے بخل کیا یعنی ولید بن مغیرہ اور حضرت ابو سفیان یہ اس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے اور اللہ سے بےپروائی اختیار کی اور وعدہ خداوندی، یا یہ کہ جنت، یا یہ کہ کلمہ اسلام کو جھٹلایا سو ہم اس کو بارہا نافرمانیوں اور امساک عن الصدقة فی سبیل اللہ میں مبتلا کریں گے اور جو مال اس نے دنیا میں جمع کیا ہے جب وہ مرنے لگے گا یا یہ کہ دوزخ میں گرے گا اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔
Read the full tafseer →وما یغنی عنہ مالہ اذا ترددی : جب جہنم میں گرے گا تو وہ مال جو اس نے بخل کر کے جمع کیا تھا اس کے کسی کام نہ آئے گا۔
Read the full tafseer →ومایغنی عنہ مالہ اذا تردی۔ تردی کا معنی ہے ہلاک ہونا یہ جملہ بولا جاتا ہے، ردی الرجل یردی ردی۔ جب وہ ہلاک ہوجاتا ہے۔ شاعر نے کہا : صرفت الھوی عنھن من خشیۃ الردی۔ میں نے ہلاکت کے خوف سے ان سے محبت کو پھیرلیا۔
ابوصالح اور زید بن اسلم نے کہا، اذا تردی کا معنی ہے جب جہنم میں گرے، اس معنی میں متردیہ ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، ردی فی البر وتردی۔ جب وہ کنویں میں گرگیا یا وہ پہاڑ سے نیچے گرگیا ۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے، ما ادری این ردی ؟ میں نہیں جانتا کہ وہ کہاں گیا۔ ما کے بارے میں احتمال ہے کہ وہ نافیہ ہے یعنی مال اسے کچھ نفع نہ دے گا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ وہ استفہامیہ ہو اس کا معنی توبیخ ہے یعنی جب وہ…
Read the full tafseer →26۔ لطستی نے اپنے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت اذا تردی کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ جب وہ گرے گا اور جہنم میں داخل ہوگا اور یہ ابو جہل کے بارے میں نازل ہوا پھر پوچھا کی عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے عدس بن زید کا قول نہیں سنا
خطفہ منیۃ فتردی وہو فی الملک یا کل التع میرا
ترجمہ : موت نے اس کو اچک لیا پس وہ گرپڑا حالانکہ وہ ملک میں تعمیر اور آبادی کی امید رکھتا تھا۔
27۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذا تردی سے مراد ہے جب وہ آگ میں گرے گا۔
28۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے روایت کیا کہ آتی…
Read the full tafseer →[وَمَا يُغْنِيْ عَنْهُ مَالُهٗٓ: اور کام نہ آئے گا اس کے اس کا سال ][ اِذَا تَرَدّٰى: جب وہ گڑھے میں گرے گا ]
(آیت۔ 11) تَرَدّٰیمیں یا اصلی ہے۔ یعنی یہ مادہ ” ردی “ ‘ سے باب تفعل کا ماضی تَرَدَّیَ ہے جو قاعدے کے مطابق تبدیل ہو کر تَرَدّٰی استعمال ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
﴿وَ مَا يُغْنِيْ عَنْهُ مَالُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰىؕ0011 ﴾ (اور اس کا مال اسے نفع نہیں دے گا جب وہ ہلاک ہوگا) ۔
﴿اِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدٰىٞۖ0012﴾ (بیشک ہمارے ذمہ ہدایت ہے) ۔
بندوں کو عبادت کے لیے پیدا فرمایا۔ عبادت کے طریقے بتا دیئے ہدایت کے راستے بیان فرما دیئے رسولوں کو بھیج دیا کتابیں نازل فرما دیں اس کے بعد جو کوئی شخص راہ ہدایت کو اختیار نہ کرے گا، مجرم ہوگا اور اپنا ہی برا کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
تقسیم جہو عملیہ در حیات انسانی وترتب ثمرات سعادت وشقاوت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والیل اذا یغشی ....... الی ......... ولسوف یرضی “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں فوز و فلاح اور شقاوت وبدنصیبی کے اسباب پر کلام تھا اور یہ کہ انسانی نفس اگر طہارت وتزکیہ سے آراستہ ہو تو اس پر دنیا کی عزت وسربلندی اور آخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے اور اگر نفس کو شہوات کی گندگی میں آلودہ کرلیا جائے تو انسانی شرف سے محرومی کے بعد دنیا کی تباہی اور عذاب آخرت میں مبتلا ہونے کے سوا کوئی نتیجہ نہیں ہوتا، اور دنیا میں بڑی سے بڑی طاقت ور قومیں اسی شقاوت وبدنصیبی کا شکار ہو کر ہلاک ہوئیں اور تاریخ عالم اس کی گواہی دیتی ہے، تو اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
4:۔ ” واما من بخل “ یہ سعی عمل کا دوسرا رخ ہے جو شخص بخل کرے اور راہ حق میں مال خرچ نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب وثواب سے مستغنی ہوجائے اور ملت اسلام کو جھٹلائے اس کے لیے ہم تنگی اور شدت کے اسباب آسان کردیں گے اور اس کی سعی عمل کا نتیجہ جہنم کا دردناک عذاب ہوگا۔ ” وما یغنی عنہ مالہ اذا تردی “ وہ مال کو جمع کرتا رہا لیکن راہ حق میں اس کو خرچ نہ کیا تو جب وہ ہلاکت کے گڑھے (جہنم) میں گرے گا اس وقت یہ دولت کام نہ آئے گی کیونکہ اس وقت اس کے ہاتھ خالی ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
پہلی سورة کے ساتھ ربط
اس سورة کا مضمون بھی پہلی سورة کے ساتھ ملتا جلتا ہے۔ پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھائی تھی کہ مختلف چیزوں کے اثرات پڑنے سے انسان کے دل میں ارادہ پیدا ہوتا ہے اور یہی ارادہ انسانیت کا خلاصہ اور نچوڑ ہے ارادہ اچھا بھی ہوتا ہے اور برا بھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہر نفس میں فطری طور پر تقویٰ اور فجور کا الہام بھی کیا ہے۔ لہٰذا جو لوگ اچھے کام کا ارادہ کریں گے وہ اصحاب تزکیہ میں شمار ہوں گے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے نفوس کو پاک کیا ، برے اعمال اور برے عقیدے سے انہیں بچائے رکھا۔ برخلاف اس کے جو لوگ اپنے نفوس کو برے اعتقاد اور برے عمل سے آلودہ کریں گے۔ ان کا شمار اصحاب…
Read the full tafseer →وَمَا يُغْنِيْ عَنْہُ مَالُہٗٓ اِذَا تَرَدّٰى 11
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] .
الثاني :
نكرة . نحو : نِعِمَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
ترکیب ¦ والیل الواو للقسم اذا العامل فیھا معنی القسم والنھار عطف علیہ وما خلق الخ معطوف علی السابق وما مصدریۃ عند مقاتل والمعنی واقسم خلق الذکر والانثیٰ ۔ وعند الجمھور موصولۃ ای والذی خلقھما وما بمعنی من فقدا قسم بنفسہ الکریمۃ ان سعیکم لشتی جواب القسم ای عملکم مختلف فمنہ عمل للجنۃ ومنہ عمل للنارا ومنکم مومن ومنکم کافر السعی العمل وشتی جمع شتیت کمرضی جمع مریض والشتات ھوالافتراق ومعناہ مختلف لتباعد لبعض عن البعض۔ وسعیکم مصدر مضاف فیفید العموم فھو جمع معنی فاما من الخ شرط سنیسرہ الخ جواب والسین فی الموضعین للتسویف وھو من اللہ محقق والحسنی ای الخصلۃ الحسنیٰ اتشتمل کل فعل محمود من التوحید والایمان…
Read the full tafseer →وَمَا یُغْنِیْ عَنْہُ مَالُـہٗٓ اِذَا تَرَدّٰی۔ (الیل : 11)
(کیا کام آئے گا اس کے اس کا مال جبکہ وہ ہلاکت کے گڑھے میں گرے گا۔ )
حُبِ مال اور بخل کا انجام
گزشتہ آیات میں وہ بدبخت جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے باعث نیکی کے جذبے سے محروم کردیئے جاتے ہیں، ان کا دیگر جرائم کے ساتھ سب سے بڑا جرم یہ بتایا گیا ہے کہ وہ مال و دولت کی محبت میں اتنے اندھے ہوجاتے ہیں کہ جائز اور ناجائز اور حلال اور حرام کے درمیان فرق کرنے کا ذوق ان سے چھین لیا جاتا ہے۔ وہ مال ہی کو اپنا معبود سمجھتے ہیں اور اس کے اسیر ہو کر اخلاق کی ہر قدر سے محروم ہوجاتے ہیں۔ پیش نظر آیت میں ان کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ آخر ایک روز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
فہم القرآن
ربط کلام : اچھے فکر وعمل کا ذکر کرنے کے بعد منفی سوچ اور برے عمل کا بیان اور انجام۔
فہم القرآن کا مطالعہ کرنے والے اصحاب یہ حقیقت بالیقین جانتے ہیں کہ قرآن مجید میں اکثر مقامات پر نیکی اور برائی کے درمیان فرق اور ان کے انجام کا بیک مقام پر ذکر کیا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا موقع پر فیصلہ کرپائے کہ اس نے کون سے کام اختیار کرنے ہیں اور کس راستے پر چلنا ہے۔ اسی اصول کے پیش نظر یہاں بھی قرآن مجید نے ایک ہی مقام پر مثبت فکرو عمل اور اس کے مقابلے میں منفی فکر وعمل کا ذکر اور ان کا انجام بیان کیا ہے۔ چناچہ بتلایا ہے کہ جس نے بخل اختیار کیا اور اپنے رب کے خوف سے…
Read the full tafseer →11 : وَمَا یُغْنِیْ عَنْہُ مَالُہٗ اِذَا تَرَدّٰی (اور اس کا مال اس کے کام نہ آئے گا۔ جب وہ برباد ہونے لگے گا) جب وہ ہلاک ہوگا تو مال اس کو فائدہ نہ دے گا۔ تَردّی۔ یہ تفعل کا وزن ہے اور الردٰی سے نکلا ہے جس کا معنی ہلاکت ہے۔ تردی فی القبرہ : وہ قبر میں گرے گا یا قعر جہنم میں گرے گا۔
Read the full tafseer →11 ۔” وما یغنی عنہ مالہ “ جس کا اس نے بخل کیا۔ ” اذاتردی “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں جب وہ مرجائے گا اور قتادہ اور ابوصالح فرماتے ہیں جہنم میں گرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ 11۔ رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے اور حضرت آدم و حوا اسی طرح ان کی اولاد میں مرد و عورت کے پیدا کرنے کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں لوگوں کے عمل مختلف ہیں کوئی عقبیٰ میں نیک کام کا بدلہ پانے کے یقین اور اسی نیت سے اچھے کام کرتا ہے ایسا شخص اپنی نیکی کا پورا ثمرہ عقبیٰ میں بھی پائے گا اور دنیا میں بھی ایسے شخص کو دن بدن نیکی کی توفیق اللہ کی طرف سے دی جاتی ہے اور کوئی عقبیٰ کی جزا کے انکار کے سبب سے نیک کاموں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا بلکہ نیک کاموں کے کرنے سے بےپروائی ظاہر کرتا ہے ایسا شخص اپنا کیا عقبیٰ میں بھگتے گا۔ اور دنیا میں جبراً اللہ تعالیٰ اس کو…
Read the full tafseer →(وَمَا يُغْنِيْ عَنْهُ مَالُهٗٓ) جس مال نے اسے سرکش بنایا تھا جس کی بنا پر وہ اللہ سے بےنیاز بنا رہا اور اس میں بخل کرتا رہا اس کے کچھ کام نہ آئے گا یعنی جب وہ ہلاک ہوگا اور اسے موت آئے گی تو نیک عمل کے سوا کوئی چیز انسان کے ساتھ نہیں جائے گی رہا اس کا وہ مال جس میں اس نے زکوۃ وغیرہ ادا نہیں کی تو یہ مال اس کے لیے وبال بن جائے گا کیونکہ اس نے اسمیں سے اپنی آخرت کے لیے کچھ آگے نہیں بھیجا۔
Read the full tafseer →11 ۔ بخیلوں اور زر پرستوں کو تنبیہ : سو بخیلوں اور زر پرستوں کو تنبیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور کچھ کام نہیں آسکے گا اس کو اس کا مال جبکہ یہ گرے گا ہلاکت کے گڑھے میں۔ اور اس طرح اس کا وہ مال جس کو کمانے اور جوڑنے میں اور اس کو بڑھانے اور جمع کرنے میں اس نے اپنی عمر کی پوری پونجی لٹا دی تھی، وہ اس کے لیے وہ بھی موجب حسرت بنے گا، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہ اس ارشاد کا ایک مطلب ہوا جس کی بنیاد اس بات پر ہے کہ کلمہ " ما " یہاں پر نافیہ ہے جبکہ دوسرا احتمال اس میں یہ بھی موجود ہے کہ یہ ما استفہامیہ ہو، یعنی اس کے کس کام آئے گا اس کا مال جبکہ وہ اپنے اس ہولناک انجام سے دوچار ہوگا، معنی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
اچھی بری نیت اعمال اور بدلہ
تشریح : اس سورت میں اللہ تعالیٰ قسم کھاتے ہیں کہ دن رات کی نرو مادہ کی اور خود اپنی ' اس بات کے لیے کہ ہر انسان کی فطرت انداز اور ماحول فرق ہوتا ہے اور انہی حالات کے مطابق سب کا رویہ بھی فرق ہوتا ہے یہ حقیقت ہے کہ ہر شخص کے کام کا انداز فرق ہوتا ہے اور پھر یہ اعمال کا انداز دوراہوں میں منقسم ہے۔ یعنی کچھ تو نیک فطرت ہوتے ہیں ان کو شیطان کتنا ہی بہلائے مگر وہ اس کا شکار نہیں ہوتے یعنی ان کی سرشت میں نیکی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ان کو برا راستہ ' برے کام اور برے لوگ بالکل اچھے نہیں لگتے یعنی ان کو کوئی بھی لالچ برائی پر آمادہ نہیں کرسکتا وہ کہتے ہیں کہ کسی کو دیکھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة اللیل۔
آیات 1 تا 21۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے رات کی جب چھاجاتی ہے اور دن کی جب روشن ہوتا ہے اور اس کی جس نے بقائے نسل کے لیے ایک جیسے دو بندوں کو نرومادہ پیدا فرمادیا یعنی یہ سب نظام اس بات پر گواہ ہے کہ تمہاری محنت ومشقت بھی دو طرح سے ہے جس طرح رات کا اثر تاریکی اور دن کا اجالا ہے یانر کا کام الگ اور مادہ کے اوصاف الگ ہیں ایسے ہی تمہارے کردار کے نتائج دو طرح کے ہیں کہ جن لوگوں نے دینے کارویہ اپنایا اور اللہ کی محبت اور قربت کی تلاش میں اپنایا اور ارشادات نبوی کی تصدیق کی دل سے زبان سے اور کردار سے۔
دینے کارویہ۔
زندگی کا مدار دینے پر ہے سورج ، چاند ، ہوا ، بادل ، بارش ، روئیدگی ، پیداوار سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
ف 9 اسی وعدہ کا ایفا اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں خیر کی طرف میلان رزکھ کر اور پھر کتابیں اور انبیاء پر بھیج کر کیا۔
Read the full tafseer →(92:11) وما یغنی : مضارع منفی واحد مذکر غائب اغناء (افعال) مصدر کام نہیں آئے گا۔ فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ دفع نہیں کرے گا۔
اذا ظرف زمان۔ تردی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب تردی (تفعل) مصدر نیچے گرنا۔ گڑھے میں گرنا۔ (ردی مادہ) یہاں مراد قبر کے گڑھے میں گرنا یا جہنم کے گڑھے میں گرنا۔ یعنی جب وہ قبر کے گڑھے میں چلا جائے گا۔ مرنے کے بعد تو اس کا مال اوروں کے کام آئے گا اس کے اپنے کسی کام نہ آئے گا اور اگر جہنم میں پہنچ گیا تو یہ مال اس سے عذاب کو دفع نہ کرسکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
لغات القرآن۔
شتی۔ مختلف۔ الگ الگ۔ نیسر۔ ہم آسان کردیں گے۔ العسری۔ تنگی۔ تردی۔ وہ نیچے گرا۔ تلظی۔ بھڑک دار۔ یجنب۔ بچ جائے گا۔
تشریح : اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں رات، دن، نر اور مادہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جس طرح رات دن سے اور نر مادہ سے الگ اور مختلف چیزیں ہیں اسی طرح دنیا میں جتنے بھی انسان، ان کے گروہ اور قومیں ہیں وہ اپنے عمل اور کوششوں میں بہت مختلف ہیں۔ رات کے وقت دن کا تصور اور دن میں رات کا تصور ممکن نہیں ہے۔ نر مادہ ہوسکتا اور مادہ نر نہیں ہوسکتی اسی طرح نیکی اور برائیوں پر چلنے والے بھی اپنے انجام کے اعتبار سے یکساں نہیں ہوسکتے۔
ایک وہ شخص ہے جو نہایت خلوص اور اللہ کی رضا کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
حضرت صدیق اکبر کا ایمان۔
(ف 1) شان نزول۔ روساء مکہ میں سے دو شخص بہت مالدار تھے ایک تو حضرت صدیق اکبرؓ ایک امیہ بن خلف لیکن دونوں کی حالت مختلف تھی ، حضرت ابوبکر صدیق مسلمان اور انبیاء کے بعد سب سے افضل، اور اپنا جان مال راہ خدا میں لٹانے والے تھے اور یہ کم بخت کافر انتہا درجہ کا بخیل اور گستاخ تھا، حضرت بلال اسی کے غلام تھے اور خفیہ ایمان لاچکے تھے ، امیہ بن خلف کو جب اس امر کی اطلاع ہوئی تو غلاموں کو حکم دیا کہ دن چرھے بلال ؓ کے تمام جسم پر ببول کے کانٹے چبھو دیا کرو اور جب دھوپ تیز ہوجائے تو اس کو دھوپ میں چت لٹا کر سرے سے پیر تک گرم پتھر پاٹ دیا کرو کہ ہل نہ سکے، اور گرداگرد آگ سلگادیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
[5] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سعی اور عمل کے اعتبار سے انسانوں کے دو گروہ بتلائے اور نمونے کے طور پر دونوں کے تین تین اوصاف کا ذکر فرمایا۔ پہلے گروہ کے بارے میں فرمایا کہ ہم ان لوگوں کو جنت کے لئے آسان کردیں گے اور دوسرے گروہ کے بارے میں ارشاد ہوا کہ ہم ایسے لوگوں کو دوزخ کے لئے آسان کردیں گے۔ آسان یا مشکل ہونا اعمال ہی کی حقیقت ہوسکتی ہے، اشخاص نہ تو آسان ہوتے ہیں نہ مشکل۔ مگر قرآن کریم نے اس کی تعبیر اس طرح کی کہ خود ان لوگوں کی ذات اور وجود اعمال جنت یا دوزخ کے لئے آسان کر دئیے جائیں۔ اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ان کی طبیعتوں اور مزاجوں کو ایسا بنادیا جائے گا کہ پہلے گروہ کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة الیل
1 ۔ یعنی جس طرح تاریک رات اور روشن دن میں اختلاف ہے اور خدا کی اس تقسیم میں اختلاف ہے اللہ تعالیٰ نے مرد کو بھی پیدا کیا اور عورت کو بھی ۔ نر کو بھی اور مادہ کو بھی ۔ اسی طرح کفر و ایمان کی مساعی یکساں نہیں ہیں ۔ نہ فطرت اور ساخت کے اعتبار سے اور نہ نتائج وثمرات کے اعتبار سے ۔ کفر ہمہ تاریکی ہے اور ایمان ہمہ روشنی ۔ کفر انوثیت اور نامرادی ہے اور ایمان جرات وجسارت ۔
نتائج وثمرات کے لحاظ سے بھی دونوں مختلف ہیں ۔ وہ شخص جو دولت ایمان سے بہرہ مندی کی وجہ سے اس کی راہ میں اپنا مال صرف کرتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے اور ہر نیک بات کی عمل سے تصدیق کرتا ہے ۔ اس کے لئے تیسیر کی نعمتیں اس کی طرف…
Read the full tafseer →(11) اور جب وہ ہلاک ہونے لگے گا تو اس کا مال اس کے کچھ کام نہ آئے گا - اس کی ہلاکت کے وقت سے مراد یا تو موت ہے یا جہنم میں جانا ہے۔ بہرحال اس کی بربادی کے وقت اس کا مال اس کے لئے مفید ثابت نہ ہوگا یعنی اسی بخیل مذکور کے لئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ف 6۔ تاکہ ایمان وطاعت اختیار کر کے اس سے بچو اور کفر و معصیت اختیار کر کے اس میں نہ جاو کیونکہ اس میں جانے اور نہ جانے کی یہی اسباب ہیں۔
Read the full tafseer →اس کا مال اس کو کبھی فائدہ نہ پہنچائے گا جب وہ ہلاکت میں گرے کا
11 ؎ دنیا کا مال تو دنیا میں رہ گیا اس کے ساتھ جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا نہ کوئی لے کر گیا اور نہ لے جا رہا ہے اور نہ ہی کوئی لے جائے گا ، ہاں ! پیچھے سے بھیجنے والے اور پہنچانے والے اپنا زور لگا رہے ہیں اور شور و غوغا انہوں نے مچا رکھا ہے کہ ہم مرنے والوں کو مال و دولت ، زمینیں ، کپڑے ، مکان اور دوسرے سامان جو ہم کو دیئے جاتے ہیں ہم ان تک پہنچا دیتے ہیں حالانکہ یہ سب جھوٹے ہیں اور جھوٹ بول کر لوگوں کا مال لوٹ رہے ہیں اور اندھے ، بہرے ہیں وہ لوگ جو انکے پھندوں میں پھنس کر اس خوش فہمی کے تحت انکو دے رہے ہیں کہ یہ ہمارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّىٰ (And his wealth will not help him when he will fall down...92:11). The word taradda literally denotes 'to fall into a pit and perish'. The expression 'When he fall' signifies that when Divine decree regarding his destruction comes into operation, nothing - not even his wealth - will save him, whether in grave after his death, or on the Day of Judgment, when he will be falling into the abyss of Hell.
Read the full tafseer →6 In other words it means that he has to die one day and leave behind in the world whatever he had amassed for his ease and enjoyment. If he did not earn and send forward something for the Hereafter, what would this wealth avail him? He will not take his palatial residence, his majestic conveyance, his property and wealth into the grave.
Read the full tafseer →